Ayah 13:1546۔ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتے ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں اور زمین کے اندر ہیں۔ سو اس سے تصریح فرما دی کہ پوری کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ ریز ہے خواہ یہ خوشی سے ہو یا مجبوری سے کہ معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کا سجدہ اور عبادت اسی کا حق ہے۔ جیسا کہ ایمان والے کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اس کے قرب اور اس کی رضاء و رحمت سے مشرف ہوتے ہیں۔ اور فوز و فلاح کی راہ اپناتے ہیں۔ وباللہ التوفیق۔ سو آسمان و زمین کی ہر چیز تکوینی طور پر اور اپنے اصل وجود میں اللہ تعالیٰ ہی کی مطیع ومنقاد اور اطاعت گزارو فرمانبردار ہے۔ اور جس مقصد کے لیے اس کو قدرت نے پیدا فرمایا ہے وہ بلاچون وچرا کے اس کو پورا کررہی ہے کہ ان کو اس میں کوئی اختیار ہی نہیں۔ اور جس کو ارادہ واختیار کی آزادی ملی ہوئی ہے اپنے تکوینی دائرے میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرمانبردار ہیں۔ سو انسان کے وجود کے اندر اس بات کی شہادت موجود ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک ہی کی اطاعت و بندگی کرے کہ یہی تقاضائے عقل و فطرت ہے اور اسی میں انسان کا بھلا اور فائدہ ہے دنیا اور آخرت دونوں میں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
47۔ اللہ پاک کے لئے اضطراری سجدے کا ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ خواہ یہ سجدہ خوشی سے ہو یا مجبوری سے، خوشی سے : جیسا کہ اہل ایمان کرتے ہیں، اور مجبوری سے : جیسا کہ کفار و منکرین کرتے ہیں حالت اضطرار میں۔ (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) یا جیسا کہ ساری مخلوق بحکم تکوین و تخلیق بہرحال اس کے حضور سجدے ریز ہے۔ یعنی جس کو جس مقصد کے لئے پیدا فرمایا گیا ہے وہ اسی کی تعمیل و تکمیل میں مشغول ومنہمک ہے۔ جیسا کہ سورج وچاند اور زمین و آسمان وغیرہ ہر چیز اس کے حکم کی پابند ہے۔ اور ایسی پابند کہ ذرہ برابر اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ سو دیگر مخلوق کی یہ اطاعت وسجدہ ریزی اختیاری نہیں بلکہ تکوینی اور اجباری ہے۔ اس لیے اس پر ان کو کوئی اجروثواب نہیں ملے گا کہ اجر وثواب اس کی تشریعی اطاعت و فرماں برداری پر ملتا ہے۔ جو کہ اپنے ارادہ واختیار سے کی جاتی ہے۔ جیسا کہ مومن صادق کرتا ہے۔ جبکہ باقی سب مخلوق کا سجدہ اضطراری ہے۔ وہ سب بہرحال اس وحدہ لاشریک کے حکم کے پابند ہیں۔ یہاں تک کہ کافر ومنکر بھی اپنے دائرہ اختیار کے علاوہ اسی وحدہ لاشریک کے حکم کا پابند اور اسی کا فرمانبردار ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا (کل لہ قانتون) الایۃ (البقرۃ : 116) ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 13:1648۔ مخلوق کے سائے بھی اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ ریز ہیں :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور ان سب کے سائے بھی صبح وشام، سو مخلوق ساری کے سائے اللہ تعالیٰ کے حضور ہی سجدہ ریز ہیں اور اپنی زبان حال سے اللہ تعالیٰ کے حضور ہی سجدہ ریز ہونے کا درس دیتے ہیں۔ اور وہ بھی اس طرح کہ سورج کے بالمقابل دوسری جانب جھک کر۔ چناچہ صبح کو جب کہ سورج مشرق میں ہوتا ہے سائے مغرب کی طرف جھکتے ہیں۔ اور شام کو جب کہ سورج مغرب میں ہوتا ہے یہ مشرق کی جانب دراز ہوتے ہیں تاکہ سورج کی طرف جھک کر اس کے لیے پجاریوں سے مشابہت بھی لازم نہ آنے پائے۔ فسبحان اللہ وتعالیٰ عما یصفون۔ اور صبح وشام کے دو وقتوں کو خاص اس لیے فرمایا گیا کہ ان دونوں وقتوں میں سایوں کا یہ طول وپھیلاؤخوب ظاہر وباہر ہوتا ہے اور ان کے سائے اللہ کے حکم کے مطابق گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں۔ اور یہ اپنی زبان حال سے اس حقیقت کا اظہار وبیان کرتے اور دنیا کو اپنے خالق ومالک کے لیے عاجزی کرنے اور اس کے آگے جھکنے کا درس دیتے ہیں۔ اور اس کے لیے یہ ان کی آنکھوں کے سامنے زمین پر پڑے رہتے ہیں۔ اور زجاج کہتے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ کافر اور مشرک تو خود غیر اللہ کے آگے جھکنے سے اکڑتا اور انکار کرتا ہے تو یہ درحقیقت اس کی اپنی فطرت وجبلت سے بغاوت ہے۔ العیاذ باللہ العظیم۔ سو ہر چیز کا سایہ اپنے خالق ومالک کے آگے بچھا رہتا ہے۔ اور وہ رات بھر اپنے اس تکوینی سجدے سے سر نہیں اٹھاتا۔ صبح کو وہ آہستہ آہستہ سراٹھاتا ہے اور پھر سورج کے زوال کے ساتھ اس پر رکوع وسجود کی وہی حالت دوبارہ طاری ہوجاتی ہے۔ اس طرح وہ ایک طرف تو دن رات کے اس پورے دورانیے میں لگاتار مصروف سجدہ رہتا ہے۔ اور دوسری طرف اپنی زبان حال سے لگاتار دنیا کو درس و بصیرت دیتا ہے۔ مگر غفلت کی ماری دنیا اس سے کوئی سبق نہیں لیتی۔ الا ماشاء اللہ۔
49۔ معبودان باطلہ نہ کسی کے نفع کا اختیار رکھتے ہیں نہ نقصان کا :
چنانچہ مشرکین کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ان سے سوال کیا گیا کہ تم لوگ اس سب کے باوجود اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ ایسوں کو اپنا سرپرست اور کارساز مانتے ہوجوخوداپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ نقصان کا ؟ یعنی ایسے میں ان کو اپنا سرپرست اور کارساز بنانا عقل ونقل سب کے تقاضوں کے خلاف ہے، کیوں کہ جب وہ خود اپنے لئے بھی کسی نفع و نقصان کا کوئی اختیار نہیں رکھتے تو پھر وہ دوسروں کے لیے کیا کرسکتے ہیں ؟ اور جو اتنے عاجز اور اس قدر بےبس ہوں ان کو معبود ماننا اور ان کے آگے جھکنا اور سجدہ ریز ہونا کتنی بڑی حماقت اور کس قدر ظلم ہے۔ العیاذ باللہ العظیم۔ اور جب تم لوگ خود اس بات کو جانتے مانتے اور اس کا اعتراف و اقرار کرتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے تو پھر اوروں کو حاجت روا اور مشکل کشا کیوں مانتے ہو ؟
50۔ اندھا اور آنکھوں والا کبھی باہم برا بر نہیں ہوسکتے :
چنانچہ ان کے دلوں پر دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ جب نہیں اور یقینا وہرگز نہیں تو پھر ایمان کی روشنی اور کفر کی ظلمت والے لوگ آپس میں کس طرح برابر ہوسکتے ہیں ؟ سو کافرو مشرک اندھا ہے جس کو نہ کچھ نظر آتا ہے نہ سوجھتا ہے۔ اور مومن آنکھوں والا اور بینا ہے جو نور ایمان کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ اور راہ حق و ہدایت پر گامزن رہتا ہے۔ سو یہ دونوں آپس میں کبھی اور کسی طور برابر نہیں ہوسکتے۔ نہ حال کے اعتبار سے اور نہ انجام ومآل کے اعتبار سے۔ مومن وموحد اپنے ایمان و یقین کی روشنی میں حق و ہدایت کی راہ پر اور اس صراط مستقیم پر گامزن ہے جو سعادت دارین سے سرفراز کرنے والی اور جنت تک پہنچانے والی راہ ہے۔ سو مومن صادق اپنے خالق ومالک کے فضل وکرم سے حق و ہدایت کی اس راہ پر چلتا ہے جو دوزخ کو جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں آخرکار وہ دوزخ کے ہاویے میں جاگرے گا اور وہاں کے عذاب مقیم میں مبتلا ہوگا۔
51۔ روشنی اور اندھیرا کبھی باہم برابر نہیں ہوسکتے :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کیا روشنی اور اندھیرے باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور جب نہیں اور ہرگز ویقینا نہیں تو پھر ایمان کی روشنی اور کفر کا اندھیرا کس طرح ایک برابرہوسکتے ہیں ؟ سو ان دونوں میں بھی اسی طرح تضاد اور منافات ہے۔ اور دونوں کا نتیجہ وانجام ایک دوسرے سے یکسر مختلف اور دگرگوں ہے۔ ایمان کی روشنی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی ہے۔ اور کفر کا اندھیرا دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ العیاذ باللہ العظیم۔ سو پہلی مثال مومن و کافر کی تھی کہ کافر و مشرک اندھا اور اس کے مقابلے میں مومن وموحد بصیر اور آنکھوں والا ہے۔ اور اب یہ مثال ایمان وکفر کی ہے کہ ایمان اور توحید نور ہے اور اس کے مقابلے میں کفر و شرک ظلمات اور اندھیرا ہے۔
52۔ معبودان باطلہ کی نفی و تردید صفت خلق کے اعتبار سے :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ ایسے شریک ٹھہرا رکھے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے طرح کچھ پیدا کیا ہو جس سے ان کو شبہ ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ بھی خالق ہے اور فلاں ہستی بھی خالق ہے ؟ پھر اس اشتباہ کی بناء پر انہوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرالیا ہو ؟ اور اس طرح یہ کسی حد تک معذورقرار پاتے ہوں ؟ اور جب ایسا نہیں اور یقینا اور ہرگز نہیں۔ تو پھر ان کیلئے کسی طرح کے اس اشتباہ یا عذر کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو اللہ کے سوا اور کسی معبود کے لیے کوئی دلیل وبرہان ممکن ہی نہیں (ومن یدع مع اللہ الہا آخرلابرھان لہ بہ فانما حسابہ عندربہ انہ لایفلح الکافرون) (المومنون : 117) یعنی جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارا جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو یقینا اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہی ہے بلاشبہ کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔
53۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہے یکتا اور سب پر غالب سو جب خلق و ایجاد میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس طرح کے کسی اشتباہ اور عذرومعذوری کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ تو پھر یہ لوگ اس وحدہ لاشریک کے لیے طرح طرح کے شریک اور ساجھی آخر کیوں اور کیسے ٹھہراتے ہیں ؟ فسبحان اللہ الخالق المالک الذی لاشریک لہ۔ تبارک اسمہ وتعالیٰ جدہ ولا الہ غیرہ۔ سو معبود برحق بہرحال اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے سوا اور کسی بھی معبود کے لیے کوئی دلیل ممکن ہی نہیں کہ ایسا کوئی معبود ہے ہی نہیں سو اللہ ہی معبود برحق ہے جو ہر چیز کا خالق، سب پر غالب اور ان پر کنڑول رکھنے والا ہے۔ ساری مخلوق اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے اور سب نے آخر کار اسی کے حضور حاضر ہو کر اپنی زندگی کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ وبدلہ پانا۔
Ayah 13:1754۔ فطرت کائنات کی ایک اہم شہادت :
یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر بہ پڑیں مختلف ندیاں اور نالے اپنے اپنے ظرف کے مطابق، بڑے نالوں نے زیادہ پانی اٹھایا اور چھوٹوں نے تھوڑا، سو اسی طرح قرآن حکیم اور وحی خداوندی کی یہ معنوی اور روحانی بارش بھی آسمان سے اتری جو دلوں کی زمین کو سیراب کرتی ہے تو دلوں نے اپنی اپنی وسعت کے مطابق اس سے حصہ پایا۔ جس سے ان کے دلوں کی دنیا زندگی نعمت سے سرفراز ہو کر گل و گلزار بن گئی۔ یہ تو حال ہوا ماننے والوں کا۔ جبکہ نہ ماننے والے حق سے ٹکرا کر جھاگ کی مٹ گئے۔ سوا دونوں مثالوں سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق فرمودہ اس کائنات کے مزاج کو واضح فرمادیا گیا کہ یہ نافع اور سود مند چیز کو باقی رکھتی ہے اور غیر نافع کو چھانٹ پھٹک کر ختم کردیتی ہے۔ سو اسی سنت الہی کے مطابق اللہ تعالیٰ حق اور باطل کو ٹکراتا ہے۔ تو اس ٹکراؤسے باطل کا تو جھاگ حق کے اوپر ابھر آتا ہے وہ یونہی خس و خاشاک کی طرح اڑ جاتا ہے۔ اور حق جو لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیز ہے وہ باقی رہتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (بل نقذف بالحق عل الباطل فیدمغہ فاذا ھو زاق) (الانبیاء : 18) بلکہ ہم اسی طرح حق کو پھینک مارتے ہیں باطل کے اوپر جس سے اس کا بھیجا نکل جاتا ہے۔ پھر وہ یکایک جاتارہتا ہے۔ " سو بقا اور ثبات وقرار حق ہی کے لیے باطل نے بہرحال بٹ کر ہی رہنا ہے اس کے ثبات وقرار ہے نہ ہوسکتا ہے۔
55۔ جھاگ مٹ کر رہنے والی چیز ہے :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور جھاگ یونہی جاتی رہتی ہے، سو یہی مثال باطل اور اس کے اس شور وغوغا کی ہے جو وہ حق کے مقابلے میں کھڑا کرتا ہے۔ مگر آخرکار باطل اور اس کا شوروغوغا تو جھاگ کی طرح مٹ جاتا ہے اور دائمی بقاء حق ہی کے لیے ہوتی ہے۔ سو باطل کی شوراشوری اس جھاگ کی مانند ہوتی ہے جو پانی کے اوپر چھا جاتی ہے لیکن جلد ہی یہ جھاگ خشک ہو کر اڑ جاتی ہے اور مٹ مٹا کر ختم ہوجاتی ہے۔ اور پانی کا وہ حیات آفرین جوہر جو اس کے نیچے چھپا ہوتا ہے سامنے آجاتا ہے۔ اور باقی رہتا ہے کہ وہ لوگ کو نفع دینے والی چیز ہے۔ اور اللہ پاک کی اس کائنات کا مزاج اور اس کی طبیعت یہ ہے کہ یہ کارآمد اور نفع بخش چیز کو باقی رکھتی ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا۔ والحمد للہ جل وعلا۔
56۔ مفید اور نفع بخش چیز باقی رہنے والی ہوتی ہے :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو چیز لوگوں کے لیے مفید اور نفع بخش ہوتی ہے وہ باقی رہتی ہے، پس حق کی مثال سیلاب کے اس صاف ستھرے پانی کی ہے جس نے آسمان سے اتر کر دلوں کی زمین کی زندگی اور اس کی تروتازگی کا سامان کیا اور وہ دائمی فائدے کے لیے جھاگ کے مقابلے میں زمین کے اندر ٹھہر گیا۔ جبکہ باطل اس جھاگ کی طرح ہے جس میں نفع رسانی تو کچھ نہیں مگر وقتی طور پر وہ پانی اور پگھلی ہوئی دھات کے اوپر چھاجاتی ہے۔ اور پھر جلد ہی مٹ مٹا کر ہمیشہ کے لیے نیست ونابود ہوجاتی ہے۔ سو ایسے ہی باطل مٹنے والی چیز ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وقل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا) (بنی اسرائیل : 81) یعنی کہو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل یقینی طور پر ہے ہی مٹ کر رہنے والی چیز۔
57۔ ضرب الامثال کی اہمیت و ضرورت کی وضاحت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح بیان فرماتا ہے قسما قسم کی مثالیں حق وباطل کی توضیح اور صحیح وغلط کی تمیز کے لیے، تاکہ حق وباطل دونوں کی اصل حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے اور لوگ باطل کے عارضی اور وقتی ابھار کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑیں اور وہ لوگ جو باطل کے کل پرزے اور اس کے کارندے بنے ہوئے ہیں وہ ان مثالوں کے اندر اپنا انجام اور اپنا مستقبل دیکھ لیں۔ سوضرب الامثال کی بلاغت کلام میں خاص اہمیت ہے، خاص کر غیبی اور پس پردہ حقائق کی توضیح و تشریح کے سلسلے میں، اسی لیے حضرت خالق حکیم جل جلالہ، نے اپنے کلام حکمت نظام میں طرح طرح کی وہ عظیم الشان امثال کو ذکر فرمایا ہے، تاکہ اس طرح راہ حق و ہدایت کی پوری طرح وضاحت ہوجائے۔
Ayah 13:1858۔ قبول حق سعادت دارین سے سرفرازی کی اساس و بنیاد :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے صدق دل سے اللہ کا حکم مانا اور حق کو قبول کیا ان کے لیے بڑی عظیم الشان اچھائی اور نہایت عمدہ انجام ہے، یعنی انہوں نے حق کو اپنایا، اس پر سچا پکا ایمان لاکر اور دل وجان سے اس کی بےچون وچرا اطاعت کرکے اور اس کے اوامرو ارشادات پر عمل پیرا ہو کر اور اس کے نواہی اور محذورات سے اجتناب کرکے۔ سو انہی کے لیے اچھائی اور کامیابی ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی۔ سو جس بات کو اوپر تمثیلوں کی شکل اور کنائی انداز میں بیان فرمایا گیا اسی کو اب سادہ لفظوں اور صریح انداز میں ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ سو کامیابی اور فوزوفلاح اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر صدق دل سے لبیک کہنے اور اس کو سچے دل سے اپنانے میں ہے۔
59۔ دعوت حق کو اپنا نے والوں کے لیے نہایت عمدہ انجام کی بشارت :
الحسنی کا موصوف یہاں پر محذوف ہے، یعنی العاقبۃ، سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم پر لبیک کہا، اور اس کی دعوت کو قبول کیا، ان کے لیے بڑا عمدہ انجام ہے۔ سو دعوت حق کو قبول کرنے اور اللہ کے حکم کو صدق دل سے ماننے میں دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ اور ایسی حقیقی اور سچی بھلائی جو ان کو دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی صورت میں نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی سدابہار نعمتوں کی شکل میں ملے گی۔ اللہم شرفنا بھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ سو دنیا وآخرت کی خیروبھلائی اور دارین کی سعادت و سرخروئی صدق دل سے رب کا حکم ماننے میں ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گا (للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ) الایۃ (یونس : 26) ۔ اللہ توفیق بخشے اور بدرجہ تمام و کمال توفیق بخشے۔
Ayahs 13:19–2060۔ اللہ کے حکم سے اعراض و سرتابی باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔
سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ سو جن لوگوں نے اللہ کا حکم نہیں مانا۔ ایمان واطاعت کے ذریعے بلکہ انہوں نے اعراض وروکردانی سے کام لیا۔ والعیاذ باللہ۔ تو وہ بہرحال ناکام ونامراد ہیں اس دنیا میں بھی کہ یہاں پر ایسے لوگ سکون دل اور اطمینان قلب کی دولت سے محروم ہوں گے۔ اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیامۃ اعمی، یعنی جس نے ذکر اور میری یاد سے منہ موڑا اس کے لیے بڑی تنگ گذران ہے الایۃ (طہ : 124) سو اللہ پاک کے حکم سے اعراض و سرتابی میں سراسر ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یوں بندے کے بندہ ہونے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کا بندہ بن کررہے اور ہمیشہ دل وجان سے اسی کے حضور جھکا رہے۔
61۔ حیات دنیا کی عظمت و اہمیت کا ایک خاص پہلو :
آخرت کے اس ہولناک عذاب سے بچنے کے لیے جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ اس سے بچاؤ کا سامان اسی دنیا میں کیا جاسکتا ہے پس ان منکروں کو وہاں پر روئے زمین کی تمام دولت اور اسی کے برابر اور دولت بھی اگر بالفرض مل جائے اور وہ اس کو دے بھی دیں تو بھی وہ ان سے قبول ہونے والی نہیں۔ کیونکہ وہ جہان " دارالجزاء " ہے " دارالعمل " نہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت عمل جو آج ہمیں حضرت حق، جل مجدہ۔ کے کرم اور اس کی عنایت سے ملی ہوئی ہے کتنی بڑی اور کس قدر عظیم الشان دولت ہے کہ یہاں تھوڑی سی محنت اور معمولی سی پونچی سے جو کمائی کی جاسکتی ہے وہ وہاں پر اتنی بڑی دولت خرچ کرکے بھی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ پس کتنے زیاں کار ہیں وہ لوگ جو دنیاوی زندگی کی اس فرصت اور ایسی انمول دولت کو لایعنی کاموں اور بےکار مشاغل میں ضائع کرتے ہیں۔ فایاک نسال یاربنا التوفیق والسداد لماتحب وترضی من القول والعمل فی کل لحظۃ من لحظات ھذہ الحیوۃ الدنیویۃ۔ فانک انت الموفق لکل خیروسعادۃ وانت المستعان فی کل حین وان۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے حیات دنیا کی اہمیت کا یہ خاص پہلو پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک لمحے کو اس کے صحیح مصرف میں لگائے اور اس سے پورا استفادہ کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
62۔ علم حق و ہدایت سے محروم انسان اندھا ہوتا ہے :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور بطوراستفہام ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا جو شخص یہ جانتا ہو کہ جو کچھ آپ کی طرف اتارا گیا آپ کے رب کی طرف سے وہ اس کی طرح ہوسکتا ہے جو کہ اندھا ہو ؟ اور استفہام ظاہر ہے کہ انکاری ہے۔ یعنی نہیں یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ ظاہر وباہر ہے۔ تو پھر مومن اور کافر کیونکر باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ سو مومن جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہونے والا ہے۔ اور کافر نے دوزخ کی آگ میں جلنا ہے۔ تو یہ دونوں برابر کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (لایستوی اصحاب النار واصحاب الجنۃ) الایۃ (الحشر : 20) کہ دوزخی اور جنتی آپس میں برابر نہیں ہوسکتے۔ سو اس ارشاد میں پیغمبر اور آپ کے سچے پیروکاروں کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ جو لوگ دعوت حق کو قبول نہیں کرتے تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں کہ اس دعوت کو وہی لوگ قبول کرتے ہیں کن کی عقلیں خالص ہیں اور نہ ان کے دل صاف اور پاکیزہ ہوتے ہیں۔ پس جو لوگ اس دعوت پر لبیک نہیں کہتے قصور خود ان کا اپنا ہے۔ نہ ان کی عقلیں خالص ہیں اور نہ ان کے دل پاکیزہ۔ سو اس میں تہدیدو وعید بھی ہے اور تبشیر و تذکیر بھی یعنی منکرین کے لئے تہدیدو وعید ہے۔ کہ تم لوگوں کو انکار حق کا خمیازہ بہرحال بھگتنا ہوگا، جبکہ اہل حق کے لیے بشارت و خوشخبری ہے کہ تم لوگ راہ حق اور نور حق سے سرفراز ہو۔
63۔ اولو الالباب سے مقصودومراد ؟ :
سو اولوالالباب سے مراد عقل خالص رکھنے والے لوگ ہیں۔ اور ان کی پہلی صفت اللہ کے عہد کو پورا کرنا ہے۔ اس میں اللہ پاک کی وحدانیت کا وہ بنیادی عہد بھی داخل ہے جو عالم ارواح میں ان سے لیا گیا تھا۔ اور جو ان کی فطرت و طبیعت میں پیوست ہے اور جس کی تجدید انہوں نے کلمہ شہادت کے اقرار کے ذریعے باختیارخود کی۔ اور اسی کی تذکیر و یاددہانی کے لیے حضرات انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا گیا۔ نیز اس میں اللہ پاک کے جملہ اوامرونواہی اور سب احکام خداوندی بھی داخل ہیں کہ اہل ایمان اپنے ایمان و عقیدہ کی بناء پر ان سب کی بجاآوری کا عہد کرتے ہیں۔ (قرطبی، فتح القدیر، روح المعانی، اور مدارک وغیرہ) ۔ سو " اولو الالباب " کی ان خاص صفات کے ذکر سے ایک طرف تو ان خوش نصیب اور پاکیزہ لوگوں کو نمایاں اور معین فرما دیا گیا کہ وہ ایسے اور ایسے لوگ ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف اس سے دنیا کے سامنے آئینہ رکھ دیا گیا کہ اس میں ہر کوئی اپنا چہرہ دیکھ لے اور اپنے بارے میں خود فیصلہ کرلے کہ وہ کس گروہ میں ہے اور کہاں کھڑا ہے ؟ اور یہ کہ اس کو کیا کرنا چاہئے ؟ اور کس سے سمجھنا اور ڈرنا چاہئے ؟
Ayah 13:2164۔ اولوالالباب کی دوسری صفت ان روابط کو جوڑنا جن کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے :
جن میں رشتہ و قرابت کے روابط بھی داخل ہیں اور وہ تمام روابط و تعلقات بھی جو کہ اہل ایمان کے درمیان عقیدہ و ایمان کے رشتہ کی بناء پر قائم ہوتے ہیں کہ ان سب ہی کو قائم رکھنا مامورومطلوب ہے۔ (محاسن، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو وہ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرتے ہیں۔ یعنی یہ لوگ جس طرح اپنے خالق ومالک کے حقوق کا دل وجان سے احترام کرتے ہیں اسی طرح رشتہ رحم کا پورا پاس ولحاظ کرتے ہیں۔ اور رحم کے رشتوں کو کاٹتے نہیں۔ بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے اوامرو ارشادات کے مطابق جوڑتے اور قائم رکھتے ہیں۔ کہ یہی تقاضا ہے راہ حق و ہدایت کا۔
65۔ اولوالالباب کی تیسری صفت، خوف وخشیت خداوندی :
سووہ اس طرح کے تمام کام کسی نمودونمائش اور ریاکاری کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور وہ ایسے امور سے بچنے کی فکر و کوشش میں رہتے ہیں جو اس کی ناراضگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ والعیاذ بہ جل وعلا۔ کہ اپنے رب کی رضا کا حصول ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور سب سے اہم مقصود ہوتا ہے۔ اور اس کی عظمت ان کے دلوں میں رچی بسی ہوتی ہے۔ کیونکہ خشیت اصل میں اسی خوف کو کہا جاتا ہے جو کسی کی عظمت کی بناء پر دل میں قائم ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کو علماء کی ایک اہم اور امتیازی صفت کے طور پر بیان فرمایا گیا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء الایۃ (فاطر : 28)
66۔ اولوالالباب کی چوتھی صفت برے حساب سے ڈرنا :
جس کا انجام دوزخ کی ہولناک آگ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لئے وہ اس کے اوامر کی اطاعت و اتباع کرتے اور اس کے نواہی سے بچتے رہتے ہیں۔ (مراغی، صفوۃ وغیرہ) سوا سکے نتیجے میں وہ اپنے اس رب رحمن ورحیم کے فضل وکرم اور اس کی رحم و عنایت سے دوزخ کی آگ سے بچ جائیں گے۔ اللہم ربنا قنا عذاب النار یاعزیز یاغفار۔ بہرکیف وہ حساب کے مناقشہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور ان کے عفو و درگزر کی امید رکھتے ہیں۔ کیونکہ جس کے حساب سے مناقشہ ہوا وہ تو مارا گیا۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم نے فرمایا " من نوقش فی الحساب فقدہلک "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے راہ حق پر قائم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 13:22–2367۔ اولوالالباب کی پانچویں صفت صبرواستقامت :
سووہ ہمیشہ صبر واستقامت سے کام لیتے ہیں راہ حق وصواب پر جم کر۔ اور مصائب وآلام پر ثابت قدم رہ کر۔ سو یہ اولوالالباب " کی پانچویں بڑی صفت ہے کہ وہ راہ حق وصبر واستقامت سے کام لیتے ہیں اور ان کے سامنے اپنے رب کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ کہ رب کی رضا کا حصول دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق۔ سو وہ راہ حق میں پیش آنے والے مصائب ومشاکل پر جزع وفزع کی بجائے صبر وضبط اور استقلال واستقامت سے کام لیتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔
68۔ اولوالالباب کی چھٹی صفت اقامت صلوۃ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ نماز کو قائم رکھتے ہیں پس نماز کے سلسلے میں صرف پڑھنا اور ادا کرنا ہی مقصود نہیں بلکہ اس کی اقامت مطلوب ہے یعنی نماز کو علی وجہ المطلوب قائم کرنا، جس میں سب سے اہم اور اصل مقصد پڑھنا اس کے لئے قصد و ارادہ کو درست رکھنا ہے، کیونکہ اقامت کا اصل معنی و مفہوم کسی چیز کو اس کے اصل مقصد کے اعتبار سے سیدھا رکھنا ہوتا ہے اور کسی چیز سے اس مطلوبہ نتائج وثمرات کے حصول کے اعتبار سے اصل مدارو انحصار اسی چیز پر ہوتا ہے، پس نماز کی اقامت کے سلسلے میں اصل چیز یہی ہے کہ اس کی ادائیگی کے سلسلے میں انسان کی نیت اور اس کا ارادہ درست ہو اس میں کوئی شائبہ شرک نہ پایا جاتا ہوں کیوں کہ نماز دین حنیف کا ستون ہے اور ستون کے لیے ضروری ہے کہ وہ بالکل سیدھا ہو، ورنہ اس کے سہارے پر قائم ہونے والی چھت برقرار نہیں رہ سکتی، اور یہ مضمون اس حدیث نبوی ﷺ سے مستفاد ہوتا ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا الصلوۃ عماد الدین فمن اقامھا اقام الدین ومن ھدمھا فقد ھدم الدین۔ یعنی نماز دین کا ستون ہے، پس جس نے اس کو قائم رکھا، اس نے پورے دین کو قائم رکھا اور جس نے اس کو گرادیا، اس نے پورے دین کو گرا دیا، اور نیت و ارادہ کی صحت و درستگی کے بعد اقامت صلوۃ میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کو اس کے آداب وشروط اور احکام کی رعایت کے ساتھ ادا کیا جائے۔ بہرکیف اس کے اولو الالباب کی پانچویں صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ نماز کو قائم رکھتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
69۔ اولوالالباب کی ساتویں صفت انفاق فی سبیل اللہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ خرچ کرتے ہیں ان چیزوں میں سے جو ہم نے ان کو دی اور بخشی ہوئی ہیں۔ پوشیدہ طور پر بھی اور اعلانیہ طور پر بھی، سو انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ایک اہم مطلب اور اولوالالباب کی ایک خاص صفت ہے خواہ پوشیدہ طور پر ہو یا اعلانیہ طور پر، ان دونوں میں سے ہر صورت کی اپنے طور پر خاص اہمیت ہے، پوشیدہ اور خفیہ طور پر خرچ کرنے میں خیریت اور بہتری کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس سے دوسروں کو بھی انفاق کی ترغیب ہوتی ہے اور وہ بھی خیر میں شریک ہونے کے لیے آمادہ اور تیار ہوتے ہیں۔ اور دوسراپہلو اس میں خیریت کا یہ ہے کہ اس میں دوسروں کے لیے بدظنی اور بدگمانی کا سد باب ہوتا ہے سو اس طرح پوشیدہ اور اعلانیہ طور پر خرچ کرنے کے دونوں درست اور جائز ہیں۔ انفاق بہرحال اللہ ہی کے لئے اور اسی کی رضا کے لیے ہونا چاہئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
70۔ اولوالالباب کی آٹھویں صفت برائی کا بدلہ اچھائی سے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں، یعنی ان کا طریقہ یہ نہیں ہوتا ہے کہ ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوں یا اینٹ کا جواب پتھر سے دیں، بلکہ وہ صبر و برداشت سے کام لیتے ہیں اور حسن معاملہ کے اعلی پیمانے پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور برائی کے بدلے میں اچھائی کا معاملہ کرتے ہیں اور وہ برائی کو برائی سے نہیں بلکہ اچھائی سے دفع کرتے ہیں۔ سو برائی کے بدلے میں اچھائی سے کام لینا ایک عظیم الشان اور انقلاب آفرین تعلیم ہے۔ جس سے معاشرے سے برائی کا قلع قمع ہوتا ہے اور نیکی اور حسن اخلاق کو فروغ ملتا ہے۔ اسی لیے دوسرے مقام پر ارشاد ہے فرمایا فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم، یعنی اس سلوک کے نتیجے میں تمہارے دشمن بھی تمہارے گہرے دوست بن جائینگے ،۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا کہ غلطی اور خطا کو نیکی سے مٹاؤ یعنی غلطی اور خطا کے بعد نیکی کرو کہ اس سے برائی خود بخود مٹ جائے گی، پس اگر کوئی تمہارے ساتھ بداخلاقی سے پیش آتا ہے اور گالم گلوچ سے کام لیتا ہے یا کسی طرح کی اذیت پہنچاتا ہے تو تم اس کے جواب میں اسی طرح کا برتاؤکرنے کی بجائے صبر و برداشت اور حسن سلوک کا معاملہ کرو اس سے برائی خود بخود مٹ جائے گی اور خوبی اور اچھائی فروغ پائے گی، لیکن اس کے برعکس اگر کوئی برائی کے بدلے میں برائی سے کام لے گا اور ایک کے بدلے میں دو گالیاں دے۔ گا پھر برائی مٹنے کے بجائے بڑھے گی اور پھیلے گی۔ سو اولوالالباب یعنی عقل خالص رکھنے والوں کی ایک خاص صفت یہ ہے کہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے کی بجائے اچھائی سے دیتے ہیں، جس سے ایک طرف تو نیکی کو فروغ ملتا اور صالح معاشرہ نشوونما پاتا ہے اور دوسری طرف ان کے باطن کو جلا ملتی ہے اور اس میں نکھارپیدا ہوتا ہے۔ اور وہ پاکیزہ سے پاکیزہ تر انسان بنتے جاتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayah 13:2471۔ اولوالالباب کے اجروانعام کا ذکر وبیان :
سواولوالالباب یعنی عقل خالص رکھنے والے ان بندگان صدق وصفا کے انعام اور ان کے اجروثواب کے ذکر وبیان کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کے اس گھر اور انجام کی کامیابی ہے، اور یہ کامیابی ہے جو کہ کامیابیوں کی کامیابی اور اصل و حقیقی کامیابی ہے، اور پھر اس انجام خیر کی تفصیل مزید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے ہمیشہ کی اقامت گاہ کے طور پر وہ عظیم الشان جنتیں ہوں گی، جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور ان کی مسرت کی تکمیل کے لیے مزید یہ عنایت بھی ہوگی کہ ان کے باپ دادوں اور ان کی اولاد و ازواج میں سے ان کو بھی ان کے ساتھ جمع کردیا جائے گا، جو اپنے ایمان وعمل کی بناء پر اس کے اہل ہوں گے، اور یہ اس لئے کہ انسان کی فطرت ہے کہ جب اس کو کوئی نعمت نصیب ہوتی ہے تو اس کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے خاص عزیز واقارب بھی اس میں اس کے شریک ہوں، سو انسانی فطرت کے اسی تقاضے کا لحاظ کرکے اللہ تعالیٰ اپنے کرم لامتناہی کی بناء پر ان عزیزوں اور قریبوں کو بھی ان کے ساتھ جمع فرمادیے گا، لیکن اس کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ وہ اس کے اہل ہوں، اور اس اہلیت کا مدارو انحصار اس پر ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہوں اور یہ شرط لازمی تقاضا ہے اس کے نظام عدل وحکمت کا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اہل ایمان کے جو رشتہ دار ایمان و عقیدہ میں ان کے شریک ہوں گے، وہ اگرچہ عمل و کردار کے اعتبار سے ان کے درجے میں نہیں ہوں گے، ان کو ان کے رشتہ ایمان و عقیدہ کی بناء پر ان کے ساتھ شامل کردیا جائے گا، اور ان کو بلند مرتبہ سے نوازا جائے تاکہ اہل جنت کی لذت نعمت میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔ اور یہ بھی اس وحدہ لاشریک کی شان کرم واحسان کا ایک نمونہ ومظہر ہے کہ وہ ان دونوں کا باہم ملانے میں اعلیٰ درجے والوں کو ان کے درجہ بلند سے اتار کر نچلے درجے والوں سے نہیں ملائے گا، بلکہ نچلے درجے والوں کو بلندی مرتبہ سے نواز کر اونچے درجہ والوں کے ساتھ ملادے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کی مضمون کی تصریح دوسرے مقام پر اس طرح فرمائی گئی ہے۔ والذین امنوا واتبعتہم ذریتہم بایمان الحقنا بہم ذریتہم وما التنہم من عملہم من شیء الآیۃ (الطور : 21) یعنی جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہوگی، ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملادیں گے، اور ان کے عمل میں بھی کوئی کمی نہ کریں۔ والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ وھو العزیز الوھاب۔ ملہم الصدق والصواب جل و علا۔
Ayah 13:2572۔ منکرین و مکذبین کے حال ومآل کا ذکر وبیان :
سونیک بخت اور سعادت مند لوگوں کی صفات وخصال حمیدہ اور ان کے مآل وانجام کے ذکر کے بعداس آیت کریمہ میں منکرین و مکذبین کے حال ومآل اور ان کے ہولناک انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ (جو لوگ اللہ کے عہد کو جو عیدفطرت ہے اور جس سے بندے کا اپنے خالق ومالک سے ربط وتعلق قائم ہوتا ہے یہ اس عہد کو اس کے) پختہ باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور رحم کے اس رشتہ کو کاٹتے ہیں جس کو جوڑنے اور قائم رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جس کو توڑنا اور کاٹنا تمام فی الارض کی جڑ اور بنیاد ہے، سو ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار ہے جس کے نتیجے میں یہ اس کی رحمت و عنایت سے محروم ہوجاتے ہیں اور انہی کے لیے آخرت کے اس ابدی گھر کی ذلت و رسوائی اور ابدی ناکامی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور یہ اس کے لیے ان کا جرم بہت سنگین ہے، اور اسلام کا نظام حق وعدل دوبنیادوں پر قائم ہے ایک وحدت الہیہ اور دوسری وحدت آدم، وحدت الہیہ عبارت ہے عقیدہ توحید سے اور وحدت آدم اس کی اساس ہے رشتہ رحم، اور اگر ان دونوں بنیادوں کو ڈھا دیا جائے تو پھر صالح معاشرہ اور صالح تمدن کا وجود میں آنا ممکن نہیں ہوسکتا سو ایسے میں ان لوگوں کے جرم کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو اللہ کے عہد کو اس کے پختہ باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور رشتہ رحم کو کاٹتے ہیں اور اس طرح وہ فساد فی الارض کے انتہائی ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی سزا بھی بہت سخت ہے، یعنی دنیا وآخرت کی ذلت و رسوائی اور محرومی۔ والعیاذ باللہ۔ جل وعلا بکل حال من الا حوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 13:26–2773۔ منکرین کے سبب انکاروتکذیب کی نشاندہی :
سو اس ارشاد سے منکرین کے کفر وانکار اور ان کی تکذیب حق کے اصل سبب کی نشاندہی فرمائی گئی کہ یہ لوگ دنیاوی زندگی اور اس کے متاع قلیل پر ریجھے ہوئے اور اسی پر مست ومگن ہیں اور ان کے ساری تگ ودو اور دوڑ دھوپ کا محورومدار یہی دنیاوی زندگی اور اس کمی وقتی لذات اور عیش کوشیاں ہیں یہ اس سے آگے کچھ دیکھنے اور ماننے کے لیے تیارہی نہیں اور دنیاوی مال و متاع کے حصول کو ہی سب کچھ سمجھ رہے ہیں حالانکہ دنیاوی مال و متاع کی حق کے مقابلے میں نہ کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی اس کا حصول انسان کے اپنے بس میں ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ کی اپنی مشیت مطلقہ کے ماتحت اور اسی کے تابع ہے، اس کی بست وکشاداسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت اور اختیار میں ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق وروزی کو کشادہ فرماتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے جس میں اس کی حکمت مطلقہ کے مختلف پہلوملحوظ و مقصود ہوتے ہیں جس میں سب سے اہم پہلوتقاضاء وابتلاء و آزمائش کا ہوتا ہے وہ جس کو بنیادی مال و متاع میں بسط و کشادہ اور وسعت و کشائش سے نوازتا ہے اس سے مقصود اس کے جزبہ شکروسپاس کی آزمائش ہوتی ہے، اور جس کے لیے روزی کو تنگ کرتا ہے اس کے لیے صبر کی آزمائش مقصودہوتی ہے اور صبروشکر اسی اصل اور خلاصہ ہے تمام صفات وخصال کا۔ دوسرا اہم پہلواس امر بسط و کشاد اور تنگی وتضیق کا یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات بلکہ بسا اوقات روزی کی کشائش کیوجہ سے تنگ ظرف انسان بغاوت و سرکشی پر اترآتا ہے، جس سے فساد پھیلتا اور امن عامہ تباہ ہوجاتا ہے، اسی لیے حضرت واھب مطلق سرکشوں کو ایک خاص حدتک ڈھیل تو دیتا ہے لیکن روزی کی بسط و کشاد اور اس کی تنگی کا معاملہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ ولوبسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض و لیکن ینزل بقدرمایشاء الایۃ (الشوری) یعنی اللہ اگر اپنے بندوں کے لیے وروزی کشادہ کردیتا ہے تو یہ سب بغاوت و سرکشی پر اترآتے لیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ اتارتا ہے جو چاہتا ہے سو یہ تو رزق وروزی کشادہ ہونا کسی کے محبوب عند اللہ کی دلیل ہوسکتا ہے اور نہ اس کی تنگی کسی کے لیے اس کے یہاں مبغوض ہونے کی نشانی قرار پاسکتا ہے، بلکہ یہ سب کچھ اس وحدہ لاشریک کی حکمت مطلقہ کے تقاضوں پر مبنی ہوتا ہے۔ جس کا احاطہ و ادراک اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 13:28–2975۔ فائز المرام لوگوں کی نشاندہی :
سو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے خوش نصیبوں کی صفت کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اطمینان ملتا ہے اللہ کے ذکر سے، اور پھر ذکر اللہ کی عظمت شان کے ذکر وبیان کے سلسلہ میں الا کے حرف تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آگاہ رہو کہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے، پس اللہ کے ذکر کے بغیر دلوں کو حقیقی سکون واطمینان نہیں مل سکتا، اور ذکر یعنی اللہ کی یاد دلشاد سے سرفرازی کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اس حکمتوں بھری کائنات اور اس میں موجود دلائل قدرت وحکمت اور آفاق وانفس کی نشانیوں میں غور و فکر سے کام لیا جائے، اس لیے اس وحدہ لاشریک کی عظمت شان کا نقش دلوں پر گہرا ہوتا جائے گا اور دل کے اندر موجود اس واہب مطلق جل جلالہ کی عظمت کا اظہار بندہ اپنی سے بھی کرتا چناچہ وہ دل کے قوی احساس وشعور کے ساتھ زبان سے کہتا ہے " سبحان اللہ " یعنی اللہ پاک ہے ہر نقص وعیب اور ہر شائبہ و شرک واشتراک سے، اور کہتا ہے " الحمد للہ " یعنی ہر تعریف اور حمد وثنا کا مستحق وہی وحدہ لاشریک ہے، اور اسی عظمت شان کے احساس وشعور کی بنا پر بندہ کہتا ہے " اللہ اکبر " یعنی اللہ ہی سب سے بڑا ہے، کیونکہ جب ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا خالق ومالک اللہ ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے اور یہ شان اس کے سوا نہ کسی کی ہے اور نہ کسی کی ہوسکتی ہے اس لیے سب سے بڑا وہی ہے اور جب یہ ساری صفات اسی وحدہ لاشریک کی ہیں تو پھر معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے، اس لیے سب سے بڑا وہی ہے اور جب یہ ساری صفات اسی وحدہ لاشریک کی ہیں تو پھر معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اس لیے بندہ مومن اپنے رکوع وسجود اور عبادات واطاعت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا ظاہری اور بدنی ذکر بھی کرتا ہے، اسی لیے حصن حصین کی روایت میں وارد ہے کل مطیع ذاکر اللہ عزوجل یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کرنے والا ہر شخص اللہ تعالیٰ کا ذاکر ہوتا ہے اور ایسے ذاکربن کے انعام واحسان کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے بہت بڑی خوشخبری بھی ہے اور بڑا عمدہ انجام بھی۔ سو ذکر خداوندی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ فالحمد للہ عزوجل۔
Ayah 13:3076۔ پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان اور منکرین کے لیے تہدید ووعید کا پیغام :
سو اس ارشاد میں ایک طرف تو پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے اور دوسری طرف منکرین کے لیے تہدید وعید کا پیغام، کہ نہ آپ اے پیغمبر ! کوئی نئے اور انوکھے رسول ہیں اور نہ ہی یہ امت کوئی نئی اور انوکھی امت ہے، آپ ﷺ سے پہلے بھی کتنے ہی رسول آچکے ہیں اور انہوں نے بھی حق و ہدایت کا وہی پیغام پہنچایا جو آپ پہنچا رہے ہیں اور اسی طرح اس امت سے پہلے بھی بہت سی ایسی امتیں گزرچکی ہیں جنہوں کے پیغام حق و ہدایت کا انکار کیا، اور انہوں نے خدائے رحمن کے ساتھ کفر کیا، سو آپ کے لیے پہلے انبیاء ورسل اسوہ نمونہ ہیں اور ان کے لیے ان پہلی امتوں کا اسوہ و نمونہ ہے، پس آپ اس پیغام حق و ہدایت کو ان کے سامنے پڑھ کر سناتے رہیں، جو وحی کے ذریعے آپ کے پاس بھیجا گیا ہے اور اسی طرح صبر ثبات اور استقامت سے کام لیتے رہیں، جس طرح کہ آپ سے پہلے کے اولو العزم رسولوں نے لیا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل ولاتستعجل لہم الآیۃ، یعنی آپ بھی ویسے صبرواستقامت سے کام لیں جیسا کہ آپ سے پہلے اولوالعزم رسولوں نے لیا اور ان (بدبختوں) کے لئے جلد بازی سے کام نہ لیں، اور اس میں ان منکرین کے لیے تہدید وعید کا پیغام ہے کہ اگر یہ لوگ حق کی تکذیب وانکار سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان سے پہلی کی منکر قوموں کا ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون عدل وانصاف بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے، اس کے بعد ایک تو اس حقیقت کا ذکر فرمایا گیا کہ یہ لوگ خدائے واحد کے ساتھ کفر کرتے ہیں یعنی جس ذات اقدس واعلی کی رحمتوں میں یہ سرتاپا اور ظاہر وباطن پر اعتبار سے ڈوبے ہوئے ہیں یہ اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں، جو ظلم بالائے ظلم ہے اور دوسری حقیقت یہ بیان فرمائی گئی کہ یہ مانیں یا نہ مانیں حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ میرا رب وہی وحد لاشریک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے کہ کہ بھروسہ کے لائق وہی ہے اور میں نے بہرحال اسی کی طرف جانا ہے، پس ہر ایک کو بھروسہ بھی اللہ وحدہ لاشریک ہی پر کرنا چاہئے اور اس حقیقت کو بھی ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ہر ایک نے آخر کار اسی کے حضور حاضر ہونا ہے، پس وہ خود دیکھے اور جائزہ لے کہ اس نے وہاں کے لئے کیا سامان کیا ہے۔ ولتنظرنفس ماقدمت لغد واتقوا اللہ یعنی ہر شخص خود دیکھ لے کہ اس نے آنے ولے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے ؟ اور وہ ہمیشہ اللہ سے ڈرتا رہے۔
Ayah 13:3177۔ منکرین کی ہٹ دھرمی اور انکے حال ومآل کا ذکر وبیان :
یہاں پر ولوان قرآنا الخ سے جس شرط کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے اس کا جواب محذوف ہے اس جواب شرط کو بعض اہل علم نے لما امنوا جیسے کسی جملے کی صورت میں محذوف ومقدر مانا ہے، جیسا کہ ظاہر ومتبادر ہے اور ترجمہ کے اندر ہم نے اسی قوم و احتمال کو اختیار کیا ہے، اور دوسرا قول و احتمال اس میں یہ ہے کہ اس کو فکان ھذا القرآن کے جملے کی صورت میں مقدر مانا جائے، یعنی ایسا کوئی کلام ہوتا تو وہ یہی قرآن ہوتا کہ اس سے بہتر کلام ممکن و متصور ہی نہیں، علامہ زمحشری نے اسی کو اختیار کیا ہے، سو ایسا کوئی اثرونتیجہ اگر کسی کلام کے لئے ظاہر ہوتا تو وہ یہی کلام حکیم یعنی قرآن مجید ہوتا، کہ یہ بلاغت کلام کا وہ اعلی نمونہ ہے جو اس کلام حکیم کے سوا اور کسی صورت میں ممکن ہی نہیں، مگر اللہ پاک کی مشیت کے تقاضے کی بنا پر اس میں اس طرح کی کوئی تاثیر نہیں رکھی گئی تاکہ اعجوبہ پرست لوگ اس طرح کے ظاہری اثرات پر تکیہ کرنے کی بجائے اس کے ان اصل حقائق پر نظر رکھیں جو چشم کشا اور حقیقت رسا ہیں اور جبری ایمان چونکہ نہ مطلوب ہے اور نہ مفید، اس لئے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ارادہ واختیار کی آزادی دی، ورنہ وہ اگر ایسا چاہتا تو سب لوگوں کو چشم زون میں راہ حق و ہدایت پر ڈال دیتا اس لئے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کی اس سنت پر مطمئن رہنا چاہئے اور یوں کافروں کی تنبیہ کے لئے براہ راست ان پر یا ان کے قریب پر کسی نہ کسی پر کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہے گی، تاکہ یہ آنکھیں کھولیں، یہاں تک کہ ان پر وہ عذاب آکر رہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ بہرحال پورا ہو کر رہے گا، کیونکہ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، سبحانہ تعالیٰ ۔
Ayahs 13:32–3378۔ پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان اور منکرین کے لئے تہدید ووعید :
سو اس آیت کریمہ میں ایک طرف تو پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا بیان ہے کہ آج جو منکرین و مکذبین کی طرف سے آپ کا انکار کیا اور مذاق اڑایا جارہا ہے تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں، بلکہ آپ سے پہلے آنے والے رسولوں کو بھی اسی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا مزاق اڑایا گیا، سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا مایقال لک الا ماقد قیل للرسل من قبلک یعنی آپ کو بھی وہی کچھ کہا جارہا ہے جو کہ آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا، مطلب یہ ہے کے اس سے پہلے کہ انبیاء ورسل سے بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے، پس آپ بھی اسی طرح صبر و برداشت سے کام لیں جس طرح کہ ان سب نے لیا اور دوسری طرف اس میں کافروں کے لیے تہدید ووعید ہے کہ تم لوگوں کو انکار و تکذیب حق کے اس جرم پر مل رہی ہے اس سے تمہیں غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و عنایت اور اپنی شان کریمی ورحیمی کی بنا پر ایسے منکروں کو ڈھیل تو دیتا ہے لیکن آخر کار وہ ان کو پکڑ لیتا ہے، اور جب پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی ہی سخت ہوتی ہے، چناچہ گزشتہ دور کے کفار و منکرین کی تاریخ اس کی شاہد عدل ہے، پس تم لوگوں کو تاریخ کے اس درس سے سبق لینا اور عبرت پکڑنی چاہئے اور اپنی روش کفر و شرک اور انکار و تکذیب سے باز آنا چاہئے، ورنہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو گزشتہ دور کے کفار و منکرین کے جرم کفر و تکذیب کا ہوچکا کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے اور کفر وانکار اور تکذیب حق کا نتیجہ وانجام بہرحال بڑا سنگین ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 13:34–3979۔ شرک کی بےحقیقتی اور مشرکوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ ذات جوہر شخص کے سر پر قائم اور اس سے اس کے کئے کرائے کا حساب کرنے والی ہے، بھلا وہ ذات اور وہ جو اس میں سے کچھ بھی نہ کرسکتی ہو، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر تم لوگ اپنے ایسے بےحقیقت معبودوں کی کس طرح پوجا کرتے ہو ؟ تمہاری مت کیسے ماری دی گئی ؟ ایک طرف وہ ذات ہے جو خود قائم و موجود اور تمہاری تمام چیزوں کو قائم رکھنے والی، ان کی نگرانی کرنے والی اور ان کے تمام حالات سے پوری طرح آگاہ ہے، جب کہ دوسری طرف تمہارے ان خودساختہ شریکوں کے اندراس طرح کی کوئی بات بھی نہیں، سو ایسے مشرکوں کے لیے ان کے شرک کے نتیجے میں دنیا میں بھی عذاب ہے کہ ان کے باطن دل سکون واطمینان سے محروم اور طرح طرح کے مصائب وآلام میں مبتلا رہتے ہیں اور صرف اسی دنیاوی عذاب پر بس نہیں بلکہ اصل عذاب ان کو آخرت میں بھگتنا ہوگا، جس سے بچانے اور چھڑانے کے لیے ان کے ان خود ساختہ معبودوں میں سے کوئی بھی کام نہیں آسکے گا، اور ان کو ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں مبتلا رہنا ہوگا، سو شرک دنیا وآخرت دونوں کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے، اس کے برعکس ایمان و توحید اور تقوی و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سروخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ وھو العزیز الوھاب جل وعلا۔