Ayahs 35:27–28تہدید برغفلت از عدم نظر در آثار قدرت
قال اللہ تعالی۔ الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ عزیز غفور۔
(ربط) اوپر سے توحید کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں منکرین توحید کی تہدید ہے کہ آثار قدرت ان کی نظروں کے سامنے ہیں اگر ذرا نظر اٹھا کر دیکھیں تو فورا سمجھ میں آجائے کہ توحید حق ہے اور شرک باطل ہے اور مخلوقات میں جو اختلاف اور تفاوت ہے وہ سب اسی کی قدرت اور مشیت کا کرشمہ ہے کسی بےشعور مادہ ایتھر اور نیچر کا اثر نہیں اس لئے آئندہ آیات میں پھر اپنی انواع قدرت کو ذکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک شے سے مختلف قسم کی چیزیں پیدا کرتا ہے کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اسی ایک پانی سے زمین سے قسم قسم کے پھل نکالے جن کی رنگتیں مختلف ہیں اور ہر ایک کا مزہ اور اس کی خوشبو دوسرے سے جدا ہے۔ باعتبار کمیت کے اور باعتبار کیفیت کے اور باعتبار صورت کے اور باعتبار لذت کے ہر پھل دوسرے پھل سے مختلف ہے حالانکہ مادہ سب کا ایک ہے۔ اور اسی طرح پہاڑوں میں مختلف قسم کی اور مختلف رنگتوں کی راہیں اور گھاٹیاں ہیں بعضی سفید اور بعضی سرخ اور طرح طرح ان کے رنگ ہیں اور بعضے بہت سخت سیاہ ہیں اور ہر ٹکڑے کی تاثیر مختلف ہے اسی طرح دلوں کے رنگ بھی مختلف ہیں۔ اور اسی طرح لوگوں میں سے اور حیوانات میں سے اور چوپایوں میں سے مختلف رنگ والے ہیں۔ جس طرح لوگوں کی السنہ اور انوان یعنی ان کی زبانیں اور رنگیں مختلف ہیں اسی طرح دو اب اور انعام کی ایک جنس بلکہ ایک نوع کی رنگتیں مختلف ہیں یہ سب خدا کی قدرت کے کرشمے ہیں کہ اصل مادہ سب کا ایک ہے مگر صفات اور کیفیات مختلف ہیں ظاہر ہے کہ یہ اختلافات خود بخود تو پیدا نہیں ہوگئے حالانکہ مادہ سب کا ایک ہے تو یہ بو قلمونی کہاں سے آئی اور علیٰ ہذا زمین کے ٹکڑوں میں اختلاف کہ کسی زمین سے زعفران پیدا ہوتا ہے اور کسی سے انار اور انگور اور جھڑ بیر۔ یہ اختلاف بھی اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے ورنہ طبیعت اور مادہ میں سب یکساں ہیں اور علت فاعلیہ بھی سب کی ایک ہے معلوم ہوا کہ یہ رنگ برنگ کا اختلاف اس کی قدرت کی گلکاری ہے۔
اسی طرح بندوں کے احوال (ف 1) مختلف ہیں کوئی خدا سے ڈرتا ہے اور کوئی نہیں ڈرتا جز ایں نیست کہ اللہ کے بندوں میں سے بن دیکھے اللہ سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو صاحب علم اور صاحب فہم ہیں جو اللہ کی شان عظمت کو جانتے اور پہچانتے ہیں وہی خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں جس درجہ کا علم اور معرفت ہے اسی درجہ کی خشیت ہے۔
حق تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقکم۔ پس عند اللہ کرامت اور فضیلت بقدر تقویٰ ہے اور تقویٰ بقدر علم ہوتا ہے نہ بقدر عمل۔ پس جس کا علم اور اس کی معرفت زیادہ ہوگی اسی کو اللہ کا خوف زیادہ ہوگا اور جس علم کمتر ہوگا اس کا خوف بھی کمتر ہوگا حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سب سے بڑھ کر اللہ کا علم رکھتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کا خوف رکھتا ہوں۔ (رواہ البخاری) اور جو عالم اپنے علم پر عمل نہ کرے تو اس کا علم بھی کم ہوجاتا ہے۔
علم چند آنکہ بیشتر خوانی چوں عمل در تونیست نادانی
امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ علم کثرت روایت کا نام نہیں بلکہ علم تو ایک نور ہے جس کو اللہ تعالیٰ بندہ کے قلب پر ڈال دیتا ہے۔
امام مالک (رح) ” نور “ سے مراد نور فہم اور نور معرفت ہے۔ کما قال تعالیٰ وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العلمون معلوم ہوا کہ عالم وہ ہے جو عاقل اور فاہم ہو بغیر عقل اور فہم کے محض الفاظ قرآنی اور الفاظ نبوی کو یاد کرلینے کا نام علم نہیں اللہ کے نزدیک عالم وہ ہے جو اللہ کی عظمت شان اور جلالت قدر کو جانتا ہو اور اس سے ڈرتا ہو اور اس کے احکام پر چلتا ہو باقی جو شخص رسمی طور پر عالم اور فاضل کہلاتا ہو مگر خدا سے نہ ڈرتا ہو تو وہ اللہ کے نزدیک عالم کہلانے کا مستحق نہیں۔
آیت میں ” خشیت “ سے خوف تعظیم مراد ہے یعنی دل پر خدا کی عظمت اور جلال کا خوف اس قدر غالب ہو کہ ہر وقت اس بات سے ڈرتا رہتا ہو کہ حقوق ربوبیت میں کوئی تقصیر نہ ہوجائے اور کوئی بات خلاف ادب نہ سر زد ہوجائے اور حدود فرائض سے قدم باہر نہ ہوجائے۔
بیشک اللہ بڑی عزت والا ہے جو اس سے نہ ڈرے اسے پکڑنے والا ہے اور جو بندہ اس سے ڈرے اور اپنی تقصیر پر توبہ کرے تو اسے معاف کرنے والا ہے پس جس ذات کی یہ شان ہے اس سے خوف اور خشیت فرض اور لازم ہے۔
1 قال الامام القرطبی فی تفسیر قولہ تعالیٰ کذلک انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا قولہ ” کذالک “ ھناتم الکلام ای کذلک تختلف احوال العباد فی الخشیۃ ثم استسانف فقال انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا (تفسیر قرطبی ص 343 ج 14) ۔
لطائف ومعارف
قال اللہ تعالی۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا جز ایں نیست کہ خدا کے بندوں میں سے صرف علماء اللہ سے درتے ہیں اس آیت میں علما سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو اللہ کی عظمت اور جلال کا اور اس کے احکام اور اوامر اور نواہی کا علم ہو۔ اور پھر وہ اللہ کے حکموں پر چلتے ہوں جس درجہ کا علم ہو اسی درجہ کا اس کو خوف ہوگا۔ خشیت خداوندی علم اور معرفت پر موقوف ہے۔ علم خشیت کے لئے شرط ہے مگر علت تامہ نہیں جیسے طہارت نماز کے لئے شرط ہے مگر نماز کے لئے علت تامہ نہیں جیسے طہارت نماز کے لئے شرط ہے مگر نماز کے لئے علت تامہ نہیں اور جس علم کے بعد خوف خداوندی حاصل نہ ہو تو سمجھ لو کہ وہ علم اللہ کے نزدیک معتبر نہیں اور ایسے عالم جو خدا سے نہ ڈرتے ہوں وہ اللہ کے نزدیک عالم نہیں اگرچہ دنیا ان کو علامہ کہتی ہو۔
علم چند آنکہ بیشتر خوانی چوں عمل در تونیست نادانی
نیز علم سے وہ علم مراد نہیں جو محض قال کے درجہ میں ہو بلکہ وہ علم مراد ہے جو حال کے درجہ میں ہو اور ظاہروباطن اس کے رنگ میں رنگیں ہوگیا ومن احسن من اللہ صبغۃ۔
علمے کہ راہ حق ننماید جہالتست
علم رابردل زنی یارے بود علم را برتن زنی مارے بود
جان جملہ علمہا این است ایں کہ بدانی من کیستم در یوم دیں
علم دین سے مقصود تزکیہء نفس اور اصلاح عمل ہے ورنہ ہیچ ہے۔ جیسے علم طب سے مقصود جسمانی صحت کی حفاظت ہے محض دواؤں کے نام اور ان کے خواص یاد کرلینا مقصود نہیں یہ ناممکن ہے کہ واقع میں کوئی شراب پئے اور اس کو نشہ نہ ہو۔ اسی طرح یہ ناممکن ہے کہ کوئی حقیقۃً علم دین کا ایک جام پئے اور اس پر دین کا نشہ اور سکر نہ آئے۔ عالم دین خدا کے نزدیک وہ ہے کہ علم اس کے دل میں گھر کر گیا ہو محض باتیں بنانے اور لمبی تقریر کرنے سے اللہ کے نزدیک عالم نہیں ہوجاتا اگر واقع میں دل میں خشیت اور خوف خداوندی ہوتا تو معاصی پر جرات نہ کرنا۔ حدیث میں ہے اللہ انی اسالک من خشیتک ما تحول بینی وبین معاصیک۔
معلوم ہوا کہ ” خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جس سے بندہ اور معصیت کے درمیان حیلولت واقع ہوجائے اور اگر اسے یہ خشیت حاصل نہیں کہ جو عاصی اور معاصی کے درمیان حائل ہو تو سمجھ لو کہ اسے صحیح علم بھی حاصل نہیں عالم کا چاہئے کہ رسمی طور پر تحصیل علم کو مقصود نہ جانے بلکہ خشیت کو مقسود جانے۔ اور تحصیل خشیت کا اہتمام کرے اور خشیت مقصودہ اور مطلوبہ وہ ہے جو نفس اور شیطان اور معصیت سے حجاب بن جائے۔
نکتہ : اس آیت میں لفظ انما آیا ہے جو قصر اور حصر کے لئے ہے بظاہر انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا کا مطلب یہ ہے کہ خشیت الٰہیہ صرف علماء میں منحصر ہے یعنی جہلاء کو خشیت نہیں ہوتی۔ سو جاننا چاہئے کہ اس آیت میں کلمہ انما ایسا ہے۔ جیسے انما یتذکر اولوا الالباب میں لفظ انما آیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خشیت خداوندی کے حصول کے لئے خدا کی عظمت اور جلال کا علم ضروری ہے خواہ وہ علم تعلم سے حاصل ہوجائے یا کسی کی فیض صحبت سے یا حق تعالیٰ کی توفیق سے یا اس کی عنایت سے یا کسی باطنی جذبہ سے
نکتہ دیگر : ان اللہ عزیز غفور یعنی اللہ بڑی عزت والا اور غلبہ والا اور بڑا زبردست ہے لہٰذا اس سے ڈرنا چاہئے۔ اور وہ بڑا بخشنے والا ہے وہ اپنے سے ڈرنے والوں کو بخش دیتا ہے عزیز کے لفظ سے خشیت کی ضرورت کو بیان کیا اور غفور کے لفظ سے خشیت کے ثمرہ کو بیان فرمایا۔
نکتہ دیگر : عزیز کے بعد غفور کا لفظ اس لئے فرمایا تاکہ غلبہ خوف سے ناامیدی کی کیفیت نہ پیدا ہوجائے۔ نا امیدی سے بچانے کے لئے اپنی مغفرت اور رحمت کی امید دلائی۔ اشارہ اس طرف ہے کہ شان عزت و حکومت کی بنا پر اول کچھ باز پرس ہوگی مگر بعد میں انتہا رحمت پر ہوگی۔ لہٰذا تم مایوس نہ ہونا۔ اپنے ایمان کو خوف اور رجاء کے درمیان رکھو اس کی عزت و جلال پر نظر کر کے ڈرتے رہو بےفکر نہ ہوجاؤ اور اس کی مغفرت اور رحمت پر نظر رکھو اور اس سے ناامید نہ ہوجاؤ۔
نکتہ دیگر : انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا وجہ اس قصر اور عصر کی یہ ہے کہ علماء انبیا کے وارث ہوتے ہیں۔ اور انبیا سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوتے ہیں پس جس عالم میں خوف خداوندی نہ ہو وہ انبیاء کا وارث ہوں محض رسمی علماء مراد نہیں۔ خوب سمجھ لو کہ خوف خداوندی سے دین بھی درست ہوتا ہے اور دنیا بھی۔ لہٰذا اگر ایسی پاکیزہ زندگی حاصل کرنا چاہتے ہو تو علم دین حاصل کرو اور اس پر عمل کرو یہاں تک کہ وہ عمل تمہارا حال ہوجائے۔
Ayahs 35:29–37مدح وثنا علما وصلحا امت و توصیف وشان علم نبوت
وترغیب برتجارت آخرت
قال اللہ تعالی۔ ان الذین یتلون کتب اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ فما للظلمین من نصیر۔
(ربط) گزشتہ آیت یعنی انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا میں علما کا ذکر تھا اب ان آیات میں علما کی اور ان مومن بندوں کی مدح فرماتے ہیں جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ انبیاء کے وارث وہی علماء ہیں جو نبی کے علم پر عمل بھی کرتے ہیں اور ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ امت کے طبقات مختلف ہیں بعض نہایت پسندیدہ اور سابق بالخیر ہیں اور بعض ظالم ہیں اور بعض درمیان ہیں۔ منزل مقصود سب کی آخرت ہے اور یہ دنیا دار تجارت ہے اور پہلا گروہ اس تجارت میں سب سے زیادہ کامیاب ہے اور یہ سابق بالخیرات کا گروہ ہے جو فضیلت اور مرتبہ میں سب سے فائق ہے اور دوسرا گروہ مقتصد (درمیانہ) ہے اللہ ان کی کوتاہیوں کو معاف کرے گا۔
اس لئے اب آئندہ آیات میں آخرت کی تجارت اور اس کی کامیابی کا طریقہ بتلاتے ہیں۔ تحقیق جن بندوں کی یہ صفت ہے کہ وہ یہ سمجھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں کہ یہ ہمارے پروردگار کی نازل کردہ کتاب ہے اور اس کے موافق عمل بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے پیچھے پیچھے (ف 1) چلتے ہیں۔ اور نماز بھی درست رکھتے ہیں یعنی اس کی پابندی کرتے ہیں اور اس کے حقوق ادا کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے ظاہر اور پوشیدہ طور پر ہماری راہ میں خرچ کرنے کا موقعہ ہے تو اعلانیہ خرچ کرتے ہیں جس طرح بھی میسر ہو اگرچہ عام طور پر افضل صدقہ وہی ہے جو پوشیدہ ہو ایسے ہی لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کوئی خسارہ نہ ہوگا اس سے آخرت کی تجارت مراد ہے اور اس تجارت کا انجام اور نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان تاجران آخرت کو پورا پورا اجر دیں گے بلکہ اپنے فضل سے اور زیادہ دیں گے جتنے کا استحقاق ہے اس سے زیادہ ملے گا تحقیق اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت فرمانے والے ہیں۔ کوتاہیوں سے در گذر فرماتے ہیں اور بڑے قدر دان ہیں کہ وہم و گمان سے بڑھ کردیتے ہیں لہٰذا جو تم کو ملے اس کو خدا کا فضل سمجھو اپنا استحقاق نہ سمجھو۔
1 اشارہ اس طرف ہے کہ یتلون کا مادہ تلاوت بھی ہے جس کے معنی قرات کے ہیں اور تلو بھی ہے جس کے معنی اتباع اور پیروی اور پیچھے پیچھے چلنے کے ہیں اور آیت میں جو لفظ یتلون آیا ہے وہ دونوں معنی کو شامل ہے اس لئے کہ محض تلاوت اور محض قرات بدون عمل اور اتباع کے چنداں مفید نہیں۔ واللہ اعلم۔
اس آیت میں آخرت کی تجارت کے نفع اور کامیابی کی امید کا طریقہ بتلایا کہ ان تین کاموں کے کرنے سے آخرت کی تجارت میں کامیابی کی امید اور توقع ہے۔ ایک تلاوت قرآن پاک جو تمام اذکار اور عبادات نافلہ کی جڑ ہے اور قرب خداوندی کا ذریعہ ہے اور خدا تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف ہے۔ دوسرے نماز کی درستی اور پابندی جو تمام فرائض اور جسمانی عبادتوں کی جڑ ہے اور دین کا ستون ہے اور تیسرے ظاہر اور پوشیدہ طور پر خیرات وصدقات کرنا جس میں تمام مالی عبادتیں آگئیں سو جو لوگ یہ تین کام کرتے ہیں وہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی تجارت میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا معلوم ہوا کہ توقع اور امید کے توقع نہیں بلکہ محض تمنا اور آرزو ہے بغیر زراعت کے پیداوار کی توقع رکھنا اس کا نام امید نہیں بلکہ ایک خیال خام ہے اسی طرح بغیر اعمال صالحہ کے رحمت اور مغفرت کی امید رکھنا یہ امید نہیں بلکہ ایک خیال خام ہے۔ (ماخوذ از رجاء الغیوب ملقب بہ صبح امید وعظ نمبر 147۔ از مواعظ حضرت حکیم الامت تھانوی (رح) از سلسلہ تبلیغ) ۔
حکایت : امام احمد بن حنبل (رح) نے حق جل شانہ کو خواب میں دیکھا۔ عرض کیا کہ آپ تک پہنچنے کا سب سے زیادہ قریبی راستہ کون سا ہے فرمایا تلاوت قرآن یعنی قرآن کا اور میرے کلام کا پڑھنا۔ عرض کیا۔ بفہم او بلافہم۔ سمجھ کر یا بلا سمجھ کر۔ ارشاد ہوا بفہم او بلافہم۔ یعنی سمجھ کر ہو یا بلا سمجھ کر ہو۔ دونوں طرح موجب قرب ہے یہاں تک توحید کا مضمون بیان ہوا۔ اب نبوت و رسالت کا مضمون بیان کرتے ہیں۔ اور اے پیغمبر جو کتاب ہم نے وحی کے ذریعہ تجھ پر نازل کی ہے وہی حق ہے اور اپنے سے پہلی نازل کردہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ بلاشہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا حال جاننے والا اور دیکھنے والا ہے کہ کون اس کی تصدیق کرتا ہے اور کون تکذیب کرتا ہے اور کون اس کا اتباع کرتا ہے اور کون اس سے انحراف کرتا ہے پھر پیغمبر کے بعد ہم نے اپنے بندوں میں سے اس آخری کتاب ہدایت کا یعنی قرآن کا ان لوگوں کو وارث بنایا جن کو ہم نے دنیا میں سے اسی میراث کے لئے منتخب کیا یعنی ہم نے اپنے برگزیدہ بندوں کو یعنی اہل ایمان کو اس قرآن کا وارث بنایا یعنی ہم نے ایسی امت کو اس کتاب ہدایت وسراپا خیر و برکت کا وارث بنایا جو مجموعی ہیئت سے تمام امتوں سے بہتر اور برتر ہے اور ایمان لانے والے کافروں کے لحاظ سے برگزیدہ ہوتے ہیں لیکن اس کے سب افراد یکساں نہیں ان کی تین قسمیں ہیں پس ان میں سے بعض تو ظالم ہیں کہ فرائض اور واجبات کے بھی تارک ہیں باوجود ایسی کتاب کے وارث ہونے کے پھر بھی برائیوں اور گناہوں سے دستکش نہیں ایمان کے ساتھ گناہ بھی کرتے ہیں اور اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اور گناہوں کے بعد توبہ بھی کرلیتے ہیں۔ کما قال تعالیٰ واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبہم واما یتوب علیہم۔ وقال تعالیٰ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ھو الغفور الرحیم۔
اور بعض ان میں سے متوسط اور میانہ رو ہیں نہ تو پورے اطاعت گذار اور نہ بالکل گناہوں میں غرق کما قال تعالی۔ واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا صالحا واخر سیئا۔ اور بعض ان میں سے نیکیوں میں سبقت کرنے والے اور آگے بڑھنے والے ہیں جو میدان اطاعت میں سب سے آگے نکل گئے یہ اللہ کے کامل بندے ہیں جو اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں اوروں سے سبقت لے گئے یہ گروہ جنت میں بلا حساب و کتاب داخل ہوگا۔ اور مقتصد یعنی میانہ رو سے محاسبہ ہوگا اور ظالم اپنے ظلم اور بدعملی کی وجہ سے حزن اور غم کو پہنچے گا۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنص صریح امت مرحومہ کو تین گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے جن میں اعلیٰ گروہ سابقین اولین کا تھا۔ اور وہ صدیقین اور شہداء اور صالحین کے ساتھ مخصوص تھا اور اس گروہ کو مقربین بھی کہا گیا ہے اور دوسرا گروہ اوسط اور میانہ رو ہے وہ اصحاب الیمین اور ابرار کے نام سے پکارا گیا ہے اور سب سے کم تیسرا گروہ ہے جو اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور یہ وہ گروہ ہے جو ایمان اور اعتقاد صحیح رکھتا ہے مگر اعمال میں اس سے کوتاہی واقع ہوتی ہے اور بالآخر بذریعہ توبہ و استغفار اور بذریعہ ندامت اس کا تدارک کرتا ہے۔ اور خلیفہ راشد کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سابقین اور مقربین میں سے ہو۔ (ازالۃ الخفاء )
اور یہ خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے کہ ساری دنیا میں سے اس امت کو اس نعمت اور کرامت کے لئے منتخب فرمایا۔ کہ میراث کی طرح بلامشقت و محنت ان کو ایسی کامل کتاب عطا کی پس اللہ تعالیٰ کا اس امت کو اپنے اس عظیم عطیہ کے لئے منتخب کرنا یہ خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے یا یہ معنی ہیں کہ بعض بندوں کا خیرات اور نیکیوں میں سب سے سبقت لے جانا اور آگے بڑھ جانا یہ اللہ کا بڑا ہی فضل ہے اگر خدا تعالیٰ کی توفیق نہ ہوتی تو خیرات میں سبقت نہ کرسکتے۔
جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ آیت میں جن تین قسموں کا ذکر ہے وہ سب اہل ایمان کی قسمیں ہیں اور بعض علماء نے (آیت میں جو ظالم لنفسہ کا ذکر ہے) اس کو کافر پر محمول کیا ہے اور اہل نجات صرف دو فریق ہیں۔ مقتصد اور سابق بالخیرات۔ یہ دو گروہ تو جنت میں داخل ہوں گے اور اس قول کی بنا پر پہلا فریق یعنی ظالم لنفسہ جنت میں داخل نہ ہوگا اور یہ قول احادیث صریحہ وصحیحہ کے خلاف ہے۔
محققین کے نزدیک صحیح اور راجح قول پہلا قول ہے اور اسی کو امام ابن جریر (رح) اور ابن کثیر (رح) نے اختیار کیا ہے اور آیات کا سیاق وسباق بھی اسی کو مقتضی ہے کہ آیت میں جن تین اقسام کا بیان ہوا ہے وہ سب اہل اصطفا اور اہل ایمان ہی کی اقسام کا بیان ہے جو اس کتاب ہدایت پر ایمان لائے اور اس کے وارث بنے اور وارث وہ ہے جس کا نسب صحیح ہو اور وہ صحیح النسب اہل ایمان کا گروہ ہے مگر سب ورثاء ایک رتبہ کے نہیں ہوتا ان کی تین قسمیں ہیں۔ ذوی الفروض۔ اور عصبات اور ذوی الارحام۔ ابتداء آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان برگزیدہ بندوں کا ذکر فرمایا جن کو اس نے اپنی رحمت سے اس کتاب کا وارث بنایا پھر ان برگزیدہ بندوں کی تین قسمیں بیان کیں سب سے اول فمنہم ظالم لنفسہ کو ذکر کیا اور پھر مقتصد کو اور پھر سابق بالخیرات کو۔ معلوم ہوا کہ ظلام اور مقتصد اور سابق بالخیرات یہ تینوں قسمیں اہل ایمان کی ہیں جو خدا تعالیٰ کے نزدیک من حیث الایمان والاسلام پسندیدہ اور برگزیدہ ہیں اور ظاہر ہے کہ کافر اور منافق کسی صورت میں خدا کے نزدیک پسندیدہ اور برگزیدہ نہیں ہوسکتا اور نہ کافر اور منافق کا دین خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے معلوم ہوا کہ ظالم لنفسہ (ف 1) سے کافر مراد نہیں بلکہ گنہگار مسلمان مراد ہے جس نے گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کیا۔ قرآن کریم میں ظالم کا اطلاق کافر پر بھی آیا ہے اور گنہگار پر بھی۔ اس لئے کہ ظلم کے درجات ہیں۔ شرک ظلم عظیم اور معصیت اور گناہ اس سے کم کا ظلم ہے بلکہ قرآن کریم میں ظلم کا اطلاق خلاف اولیٰ پر بھی آیا ہے۔ جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کی دعا میں ربنا ظلمنا انفسنا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا میں رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی۔
بہرحال شروع آیت میں ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا سے امت محمدیہ کے تمام مسلمان مراد ہیں جو علی اختلاف المراتب اس کتاب ہدایت کے وارث بنے اور یہ سب اہل نجات ہیں۔ اور بالآخر سب جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ اخیر آیت میں ہے۔ ابتدا آیت میں اجمالا اہل ایمان اور اہل اسلام کو ذکر کیا جو اس کتاب ہدایت کے وارث بنے۔
بعد ازاں اہل ایمان کی اقسام کا بیان فرمایا کہ وہ تین قسمیں ہیں۔ ظالم اور مقتصد اور سابق بالخیرات۔ اور یہ تینوں گروہ بالآخر جنت میں داخل ہوں گے پھر جب اہل اسلام کی اقسام کے بیان سے فارغ ہوئے تو اس کے بالمقابل اہل کفر اور دوزخیوں کا بیان شروع فرمایا۔
خلاصہء کلام یہ کہ آیت میں جن اقسام ثلاثہ کا ذکر ہے وہ سب اہل اصطفاء یعنی اہل اسلام کے اقسام ہیں اب اخیر میں ان اقسام ثلاثہ کی نجات اور دخول جنت کا ذکر کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ جنات عدن یدخلونھا الخ یہ تینوں گروہ بالآخر ایسے باغوں میں داخل ہوں گے جن میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اس آیت میں یدخلونھا کی ضمیر اصناف ثلاثہ کی طرف راجع ہے لہٰذا یدخلونھا کی ضمیر کو صنف اخیر یعنی سابق بالخیرات کے ساتھ مخصوص کرنا تخصیص بلا دلیل ہے۔
امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان اور ابو الدرداء اور ابن مسعود اور عقبہ بن عمرو اور عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی یہی مروی ہے کہ یدخلونھا کی ضمیر اصناف ثلاثہ کی طرف راجع ہے۔ (تفسیر قرطبی ص 346 ج 14)
1 جن علما نے اس آیت میں ” ظالم “ سے کافر مراد لیا ہے ان کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں جن اقسام ثلاثہ کا ذکر ہے یہ وہی اقسام ثلاثہ ہیں جو سورة واقعہ میں مذکور ہیں وکنتم ازواجا ثلاثۃ۔ مگر احادیث صحیحہ اور صریحہ سے یہی معلوم ہوا ہے کہ سورة فاطر کی آیت میں ظالم سے گنہگار مسلمان مراد ہیں۔ آیات کی تفصیل کے لئے تفسیر ابن جریر وابن کثیر و تفسیر قرطبی دیکھیں۔
گزشتہ آیت میں یہ فرمایا تھا ذلک ھو الفضل الکبیر یعنی اسی امت کو کتاب ہدایت کا وارث بنانا یہ اللہ کا بڑا ہی فضل ہے اب اس آیت میں اس فضل کبیر کے نیتجہ کو بیان فرمایا کہ ان تینوں گروہوں کا انجام بخیر ہوگا اور یہ سب علی حسب المراتب ضرور جنت میں داخل ہوں گے اور یہ وارثان قرآن جنت کے وارث ہوں گے اور داخل ہونے کے بعد ان کو بادشاہوں کی طرح خالص سونے اور صاف موتیوں کے زیور پہنائے جائیں گے۔ اور جنات عدن میں ان کا لباس حریری ہوگا اور یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو دیکھ کر یہ کہیں گے حمد ہے اس خدا کی جس نے ہم سے غم کو دور کیا یہاں آنے کے بعد کوئی فکر اور غم نہیں بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا اور بڑا قدر دان ہے کہ اس نے ہمارے گناہوں کو تو معاف کردیا اور معمولی حسنات پر وہم و گمان سے بڑھ کر اجر عطا کیا ایسا پروردگار جس نے اپنے فضل سے ہم کو دار قیام اور دوام میں اتارا جہاں ہم کو نہ کوئی مشقت پہنچی ہے اور نہ تکان۔ اس گھر میں نہ کوئی رنج وغم ہے اور نہ کوئی محنت ومشقت ہے اور نہ کوئی کام سے تھکنا ہے اور نہ کسی قسم کا فکر اور اندیشہ ہے۔ یہاں تک تو اہل ایمان اور اہل سعادت کی تینوں قسموں کی جزاء کا بیان ہوا۔ اب آگے ان کے بر خلاف اہل کفر اور اہل شقاوت کی جزاء وسزا کو بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر کر کے برگزیدہ افراد سے یعنی اہل ایمان اور اہل سعادت کی تینوں قسموں سے بالکلیہ خارج ہوئے اور قرآن کی وراثت سے محروم ہوئے ان کے لئے آتش دوزخ ہے ان کا کام کبھی تمام نہ ہوگا۔ جو مر ہی جائیں اور نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی۔ ہم ہر کفر کرنے والے کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں اور یہ کفار جو دوزخ میں پڑے ہوئے ہوں گے فریاد کے لئے دوزخ میں چیخیں ماریں گے اور شوروغل مچائیں گے اور کہیں گے کہ اے پروردگار اب ہم کو جہنم سے نکال دے اور دوبارہ ہم کو دنیا میں بھیج دے وہاں پہنچ کر ہم نیک کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو پہلے دنیا میں کیا کرتے تھے اب ہم دوبارہ واپسی کے بعد پہلے جیسے عمل نہ کریں گے۔
جواب خداوندی
جواب ملے گا کیا ہم نے اس دنیا میں تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرسکے چناچہ جن لوگوں نے دنیا میں ہدایت پائی ان کو بھی تو اتنی ہی عمر ملی تھی جتنی تم کو ملی تھی مگر تم نے اس کو غفلت میں کھو دیا اور پھر ہم نے صرف عمر اور وقت ہی دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تمہارے پاس ہماری طرف سے ڈرانے والا بھی آیا جس نے تم کو خواب غفلت سے خوب جھنجھوڑا مگر تم پھر بھی ہوش میں نہ آئے سو اب اس نہ ماننے کا مزہ چکھو اس لئے کہ یہاں ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں جو ان کو عذاب سے چھڑائے کیونکہ اس مدت میں تم پر اللہ کی حجت پوری ہوگئی اور تم نے نہ کوئی عبرت پکڑی اور نہ کسی کی نصیحت پر کان دھرا ایسی حالت میں کون تمہاری مدد کرسکتا ہے ایسے سرکشوں کا کوئی مددگار نہیں لہٰذا اب دنیا میں دوبارہ واپسی ممکن نہیں جو خود ہی اپنی جان پر ظلم کرے اس کا کون مددگار ہوسکتا ہے۔
لطائف ومعارف
اولم نعمرکم ما یتذکر فیہ من تذکر وجاء کم النذیر اس آیت میں دو جملے مذکور ہیں ایک اولم نعمرکم ما یتذکر فیہ من تذکر اور دوسرا وجاء کم النذیر اور یہ عطف من قبیل عطف الخاص علی العام ہے۔
اور آیات میں ” نذیر “ سے مراد نبی اور اس کے نائبین ہیں جنہوں نے احکام الٰہی کی تبلیغ کی اور راہ حق کی دعوت دی اور بعض کہتے ہیں کہ نذیر سے بڑھاپا اور ہم عمروں کی موت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے میں اور ہم عمروں کی موت سے بھی تمہاری غفلت نہ گئی اور آنکھ نہ کھلی کہ کچھ آخرت کا سامان کرتے بڑھاپا آجانے کے بعد کس چیز کا انتظار رہ گیا۔ اللہ کی حجت تو بلوغ سے بھی پوری ہوجاتی ہے کیونکہ تذکر اور نصیحت کے لئے بلوغ کا زمانہ بھی کافی ہے لیکن اگر بڑھاپے کو پہنچ جائے تو مزید الزام کا مستوجب ہے اس لئے کہ تذکر کی مدت انتہا کو پہنچ گئی اور حجت پوری ہوگئی جوانی میں جب معاش کو سمجھ سکتا ہے تو معاد کو کیوں نہیں سمجھ سکتا۔
اور اولم نعمرکم میں خطاب اگرچہ کفار کو ہے مگر مقصود سب کو سنانا ہے اس لئے کہ اصل علت غفلت ہے جس میں سب شریک ہیں اگرچہ مراتب غفلت میں فرق ہے تاکہ سب سن لیں اور متنبہ ہوجائیں۔ دیکھئے عدالت میں جب مجرم کو سزا دی جاتی ہے تو اس کا اعلان کیا جاتا ہے جس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ مجرم نہیں وہ بھی سن لیں اور متنبہ ہوجائیں اور غفلت میں نہ رہیں غرض یہ کہ اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ عمر کے ہر جز کو عمر کا جرء اخیر سمجھو۔ غفلت سے تنبہ کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ آیت میں اجمالاً اس طریق کی طرف اشارہ فرمایا کہ غفلت سے تنبۃ کا طریقہ تذکر ہے اور حدیث میں اس کا صراحۃً حکم دیا۔ چناچہ فرمایا۔ اذا قمت فی صلاتک فصل صلاۃ مودع یعنی جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو ایسی طرح نماز پڑھو جیسے دنیا کو رخصت کر رہے ہو یعنی یہ سمجھو کہ یہ عمر کا جز اخیر ہے حدیث میں اگرچہ نماز کا ذکر ہے مگر یہ علت ہر عمل میں پائی جاتی ہے اس لئے زکوٰۃ اور حج اور روزہ وغیرہ سب میں یہی مضمون پیش نظر رہنا چاہئے اس تنبہ اور استحضار کا فائدہ یہ ہوگا کہ طول آئل کے مفاسد سے محفوظ ہوجائے گا یا کم از کم کمی ہی آجائے گی بیمہ کمپنی کی بناہی تمام تر طول امل پر ہے جس کی حقیقت قمار یعنی جوا ہے۔ آپ خود دیکھ لیجئے کہ جو شخص بیمہ کراتا ہے کمپنی والے کیسی کیسی شرطیں لگاتے ہیں اور ڈاکٹروں سے اس کے قویٰ کا معائنہ کراتے ہیں اور ایک حدیث میں ہے۔ اذا اصبحت فلا تحدث نفسک بالمساء واذا امسیت فلا تحدث نفسک بالصباح یعنی جب تو صبح کرے تو اپنے نفس سے شام کے منصوبوں کی باتیں نہ کرنا اور جب تو شام کرے تو صبح کے منصوبوں کی باتیں نہ کرنا
خلاصہء کلام یہ کہ موت کو یاد رکھو اور موت کے تذکر اور تفکر کو اپنا حرز جان بناؤ جس درجہ کا تذکر ہوگا اسی درجہ تقلیل معاصی میں مفید اور معین ہوگا۔ محض از وعظ نمبر 148 مسمی بہ دواء العیوب ملقب بہ شام خورشید۔
فائدہ دوبارہ تقویٰ : معاصی دو قسم کے ہیں یک وہ ہیں کہ جن کے چھوڑنے میں تکلیف ہے دوم وہ کہ جن کے چھوڑنے میں کوئی تکلیف نہیں جیسے ڈاڑھی مندانا۔ جھوٹ بولنا۔ غیبت کرنا۔ شیخی مارنا۔ ٹخنوں سے نیچا پاجامہ پہننا۔ اس قسم کے گناہوں کو یکلخت ترک کردینا چاہئے اور پہلی قسم کے گناہوں کو بتدریج۔ کذا فی شام خورشید ص 34 وعظ نمبر 148 از مواعظ تبلیغ۔
نکتہ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تین قسموں کو بیان کیا اور سب سے پہلے ظالم کو ذکر کیا۔ اس کی یا تو یہ وجہ ہے کہ دنیا میں ظالموں کی کثرت ہے یا یہ اشارہ ہے کہ ظالم ظلم اور معصیت کی وجہ سے اہل اصطفا سے خارج نہیں ہوا بلکہ ایمان کی وجہ سے وہ خدا کا برگزیدہ بندہ ہے جس درجہ کا ایمان ہے اسی درجہ کا وارث ہے جب تک ایمان ہے جنت کی وراثت سے محروم نہیں۔
Ayahs 35:38–41بیان علم وحلم خداوندی
قال اللہ تعالی۔ ان اللہ عالم غیب السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ انہ کان حلیما غفورا۔
(ربط) اوپر اکثر آیات میں اثبات توحید اور ابطال شرک اور دلائل قدرت اور صفات کمال کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اور اپنے حکم بیان کرتے ہیں کہ وہ باوجود علیم وقدیر ہونے کے حلیم و غفور بھی ہے مجرمین کے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔
کما قال تعالی۔ لقد جئتم شیئا ادا تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا ان دعوا للرحمن ولدا۔ ان کے شرک کا مقتضی تو یہ تھا کہ آسمان و زمین پھٹ جائیں لیکن اللہ کے حلم کی وجہ سے تھمے ہوئے ہیں جیسا کہ ان آیات کے اخیر میں ہے۔ انہ کان حلیما غفورا بیشک اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی تمام پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کو پہلے ہی سے معلوم ہے کہ دنیا میں واپس جانے کے بعد بھی وہی کرو گے جو پہلے کرتے تھے اور تمہارا یہ وعدہ کہ ہم دنیا میں واپسی کے بعد نیک عمل کریں گے۔ سیاسی لوگوں کی طرح جھوٹا وعدہ ہے جس سے مقصود وقتی طور پر جان خلاصی کرنی ہے سو وہ اگر تم کو پھر دنیا کی طرف واپس کر دے تو اسے معلوم ہے کہ تم دنیا کی واپسی کے بعد بھی عمل صالح نہ کرو گے۔ کما قال تعالیٰ ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ وانہم لکاذبون اس لئے کہ وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے اس کو معلوم ہے کہ ان کے سینوں میں کفر اور مکر اور جھوٹ چھپا ہوا ہے۔
اسی خدا نے تم کو زمین میں پہلی امتوں کا قائم مقام بنایا اور تصرف اور اختیار اور اقتدار کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں دیں اور یہ حق تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت تھی مگر ایمان نہ لائے۔ پس جو شخص کفر کرے تو اس کے کفر کا ضرر اسی پر پڑے اور نہیں زیادہ کرتا کفر اور شرک کافروں کے حق میں مگر آخرت کے خسارہ اور نقصان کو اور بسا اوقات کفر کا نقصان دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے پس آپ ﷺ ان نادانوں کی توبیخ اور سرزنش کے لئے ذرا ان سے یہ کہیے کہ بھلا بتلاؤ تو سہی کہ جن کو تم شریک ٹھہرائے ہوئے ہو اور اللہ کے سوا ان کو اپنی حاجتوں کے لئے پکارتے ہو ذرا مجھے ان کے حال سے آگاہ کرو اور مجھے دکھلاؤ کہ وہ کیا چیز ہے جو انہوں نے زمین میں سے پیدا کی ہے اور زمین کا وہ کون سا حصہ اور جزء ہے جو ان کا بنایا ہوا ہے یا آسمانوں کی پیدائش میں ان کا کوئی حصہ ہے کہ انہوں نے بھی کوئی آسمان بنایا ہے بہرحال شرک کے لئے ان کے پاس نہ کوئی دلیل عقلی ہے اور نہ نقلی۔ کیا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے جس میں شرک کا صحیح ہونا لکھا ہو۔ اور اس میں شرک کی تعلیم وتلقین مذکور ہو پس وہ اس کتاب سے کسی روشن دلیل پر ہوں جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ یہ کفر اور شرک ٹھیک اور درست ہے مگر ان میں کوئی بات بھی نہیں مگر کافر اور ظالم آپس میں مکروفریب کی رو سے ایک دوسرے سے وعدہ کرتے ہیں کہ یہ بت تمہاری شفاعت کریں گے یہ سب خیال خام ہے اللہ کے حلم سے دھوکہ میں پڑگئے ہیں اس کی قدرت پر نظر نہیں کرتے کیا اس قدرت عظیم میں غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کو روکے ہوئے اور تھامے ہوئے ہے کہ اپنی جگہ سے ٹل نہ جائیں۔ یعنی اللہ کی قدرت عظیم کا ایک کرشمہ ہے کہ آسمان و زمین باوجود بڑے بڑے اجسام ہونے کے اپنی اپنی جگہ پر قائم ہیں کسی کی یہ مجال نہیں کہ ذرہ برابر اپنی جگہ سے جنبش کرسکے اگر آسمان و زمین اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کی مجال نہیں کہ ان کو روک سکے۔ اور تھام سکے۔ کما قال تعالیٰ ویمسک السماء ان تقع علی الارض الا باذنہ ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ۔
خلاصہ یہ کہ شرک پر کوئی دلیل نہیں بلکہ شرک تو فساد عالم اور اس کی تباہی اور بربادی کا سبب ہے ان کے کفر کا مقتضی تو یہ تھا کہ غضب الٰہی جوش میں آتا اور ان پر قہر خداوندی نازل ہوتا لیکن حلم الٰہی کی وجہ سے قہر خداوندی کا نزول رکا ہوا ہے اس لئے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ بڑا ہی بردبار ہے مجرمین کے پکڑے میں جلدی نہیں کرتا اور آمرزگار ہے کفر اور معصیت کو دیکھتا ہے مگر عذاب میں جلدی نہیں کرتا ورنہ اگر چاہتا تو ایک دم سے ان پر آسمان گرا دیتا یا زمین میں ان کو دھنسا دیتا۔ نافرمانوں کو چاہیے کہ عذاب نہ آنے کو اللہ کے حلم اور بردباری کی دلیل سمجھیں اس کے عفو کلی کی دلیل نہ سمجھیں۔
جب تک دنیا قائم ہے اس وقت تک آسمان اور زمین اپنی جگہ قائم ہیں جب قیامت ہوگی تو اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔
فائدہ جلیلہ دربارہ حرکت آسمان و زمین : جمہور علماء اسلام کا یہ مذہب ہے کہ نہ آسمان حرکت کرتا ہے اور نہ زمین (روح المعانی (ف 1) ص 188) قدیم فلاسفہ آسمان کو متحرک اور زمین کو ساکن کہتے ہیں اور جدید فلاسفہ آسمان کے وجود کے تو قائل نہیں اور زمین کو آفتاب کے گرد متحرک مانتے ہیں جس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
فائدہ دیگر : حق جل شانہ کے اس قول ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا میں اس بات کی دلیل ہے کہ آسمان اور زمین کا قیام اور بقا سب اللہ کے ارادہ اور مشیت سے ہے اس میں فلاسفہ کے اس قول کے رد کی طرف اشارہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمان و زمین کے حدوث کی تو علت ہے مگر بقاء کی علت نہیں (تفسیر عزیزی ص 243) عمارت کو اپنے وجود اور حدوث میں بانی کی ضرورت ہے اپنے بقا میں عمارت کو بانی کی ضرورت نہیں۔
حکماء اسلام یہ کہتے ہیں کہ جو علت حدوث کی ہے وہی علت بقا کی ہے۔ عالم کو اپنے وجود اور بقاء میں باری تعالیٰ کے ساتھ وہی نسبت ہے جو زمین کو اپنے روشن ہونے اور روشن رہنے میں آفتاب کی شعاعوں سے نسبت ہے زمین میں اپنی روشنی کے وجود اور حدوث میں بھی آفتاب کی تجلی اور اس کے طلوع کی محتاج اور اپنی روشنی کی بقاء میں بھی آفتاب کی محتاج ہے آفتاب اپنی حرکت طلوعی میں زمین کو روشنی عطا کرتا ہے اور حرکت غروبی میں اپنے عطیہ کو زمین میں سے واپس لے لیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ جس طرح زمین ابتداء اپنے روشن ہونے میں آفتاب کی محتاج ہے اسی طرح زمین اپنی روشنی کی بقاء میں بھی آفتاب کی محتاج ہے۔
1 قال الالوسی المشھور عند السلف ان السموت لا تدورو انھا غیر الافک وکثیر من الاسلامیین ذھبوا الی انھا تدورو انھا لیست غیر الا فلاک واما الارض فلا خلاف بین المسلمین فی سکونھا والفلاسفۃ مختلفون والمعظم علی السکون ومنہم من ذھب الی انھا متحرکۃ وان الطلوع والغروب بحرک تھا ورد ذلک فی موضعہ کذا فی روح المعانی ص 188 ج 22۔
فائدہ : ایک روایت میں ہے کہ منجانب اللہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دو شیشے دئیے گئے کہ ان کو ہاتھ میں تھامے رکھیں اور جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو سونے نہ دو ۔ تین راتیں تو اس طرح گذار دیں بالآخر نیند کا غلبہ ہو اور شیشے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! بالفرض اگر مجھ پر نیند اور اونگھ آتی تو شیشہ کی طرح یہ آسمان و زمین ٹوٹ پھوٹ جاتے۔ (تفسیر عزیزی ص 243)
Ayahs 35:42–45تشنیع و تقریع برکفر ومکر
قال اللہ تعالیٰ واقسموا باللہ جھد ایمانہم۔۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ کان بعبادہ بصیرا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ مشرکین کفروشرک کی وجہ سے بھی قہر الٰہی کے مستحق ہیں لیکن اللہ کے حلم سے بچے ہوئے ہیں اب آئندہ آیات میں ان کے مکروفریب اور ان کی بدعہدی کو بیان کرتے ہیں کہ یہ لوگ بدعہدی کی وجہ سے مستحق قہرو غضب ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ مشرکین عرب آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے بڑی تاکید کے ساتھ قسمیں کھایا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے مجھے اگر خدا کی طرف سے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آتا تو ہم ہدایت اختیار کرنے میں پہلی امتوں سے بڑھ کر ہوتے یعنی یہودونصاری کی طرح تکذیب نہ کرے بلکہ ان سے بہتر ہوئے کما قال تعالیٰ وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین۔
یعنی اگر ہمارے پاس اولین جیس کوئی ہدایت اور نصیحت ہوتی تو بیشک ہم اللہ کے مخلص بندوں میں سے ہوجاتے۔ پس جب خدا تعالیٰ کی طرف اے ان کے پاس کامل ترین نذیر آگیا اور اپنے ساتھ ایک کتاب ہدایت بھی لے کر آیا تو ساری قسمیں اور سارے وعدے بھلا دئیے اور اس نذیر کے آٹے سے بجائے ہدایت اور رغبت کے ان کی نفرت میں اور زیادتی ہوگئی۔ اور اس کی دشمنی پر کمر بستہ ہوگئے اور زمین میں سرکشی کرنے لگے اور اس نذیر کے ہلاک کرنے کے برے برے مکر کرنے لگے اور لوگوں کو راہ ھق سے روکنے کے لئے طرح طرح کے حیلے بہانے کرنے لگے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ کافر کفر بھی کرتے ہیں اور عہد شکنی بھی کرتے ہیں اور استکبار کا شکار ہیں اور مسکار اور مسخر سے ہیں کہ قہر خداوندی کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں اور دین کے خلاف سازشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اور نہیں گھیرتا برا مکر مگر خود مکاروں کی جان کو۔ الٹی چالیں الٹی چال کرنے والوں ہی پر پڑا کرتی ہیں۔ حق اور صواب کو چالوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ وقتی طور پر اپنی چالاکیوں پر خوش ہو لیں گے مگر انجام کا ردیکھ کہ مکر کا نقصان مکار ہی پر پڑتا ہے۔ پس کیا یہ مکار اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے کافروں اور مکاروں کے ساتھ برتا گیا پس اے نبی آپ اللہ کے دستور میں نہ کوئی تبدیلی پائیں گے یعنی کسی میں یہ قدرت نہیں کہ اللہ کے دستور کو بدل دے اور نہ پاوے گا تو اللہ کے دستور کو ٹلتا ہوا۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اللہ کے دستور کو اور قانون عذاب کو کافروں اور مکاروں سے پھیر کر دوسری طرف لے جائے اور ان سے دفع کر کے غیروں پر رکھ دے بلکہ وہ عذاب اسی قوم پر واقع ہوگا جس کے لئے مقرر ہوچکا ہے یہ ناممکن ہے کہ عذاب مستحق سے ہٹ کر غیر مستحق پر واقع ہوجائے ” تبدیل “ سے مراد عذاب کو رحمت سے بدل دینے کے ہیں اور ” تحویل “ سے عذاب کو مجرمین سے غیر مجرمین کی طرف منتقل کردینے کے ہیں۔
کیا یہ کفر کرنے والے زمین میں پھرے نہیں کہ دیکھیں کہ آخر کیا انجام ہوا ان سے پہلے کفر کرنے والوں اور مکر کرنے والوں کا اور وہ لوگ ان سے قوت اور جسامت اور مال و دولت میں بہت زیادہ تھے مگر باوجود اس کے اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکے اور خدا کے مقابلہ میں ان کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی اور کوئی چیز آسمانوں اور زمین میں ایسی نہیں کہ خدا تعالیٰ کو پکڑنے سے عاجز کرسکے بیشک وہ دانا اور توانا ہے نہ کوئی چیز اس کے علم سے باہر ہے اور نہ اس کی قدرت سے خارج ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے پکڑنے لگے اور اپنے علم کے موافق ان کو کفر اور معصیت پر مہلت نہ دے تو زمین کی پشت پر کسی جاندار کو زندہ باقی نہ چھوڑے لیکن وہ اپنے حلم کی وجہ سے ان کو ایک میعاد معین تک مہلت دے رہا ہے اگر کفر اور معصیت کی نحوست سے انسان ہلاک ہوتے تو حیوانات بھی ہلاک ہوجاتے۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کفر کی نحوست سے جانور بھی ہلاک ہوئے تو اس وقت بھی اگر کفر اور معصیت کے وبال میں پکڑیں تو سب نیست ونابود ہوجائیں۔ بارش اللہ تعالیٰ کا انعام ہے جو تمام حیوانات کے لئے سامان حیات ہے پس اگر خدا تعالیٰ بندوں کی بد اعمالی کی وجہ سے آسمان سے بارش روک لے تو سب حیوانات مرجائیں پس جب ان کے ہلاک ہونے کا وقت آئے گا تو پھر ایک دم کی مہلت نہ ملے گی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کو دیکھنے والا ہے اور جاننے والا ہے کہ کون ہلاکت کا مستحق ہے اور کن نجات کا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا دے گا۔
الحمد للہ کہ آج بتاریخ 17 جمادی الثانیہ 1393 ھ یوم چہار شنبہ بوقت 4 بجے سورة الملائکہ کی تفسیر سے فراغت نصیب ہوئی فللہ الحمد اولاو آخر۔ اے اللہ اپنی رحمت سے باقی تفسیر کے اتمام کی بھی توفیق دے اور ایمان پر قائم رکھ اور اعمال صالح اور اپنی مرضیات پر چلنے کی بھی توفیق دے آمین۔
رنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ و سیدنا ومولانا محمد وعلی الہ و اصحابہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین۔