Ayahs 33:49–52ذکر بعض احکام نکاح و طلاق وبعض خصائص نبوی دوبارہ نکاح
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذا نکحتم ال مومن ات۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء رقیبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت زینب ؓ کے نکاح اور طلاق کا قصہ مذکور تھا۔ اس لئے آئندہ آیات میں نکاح اور طلاق وغیرہ کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں۔ بعض احکام تو وہ ہیں جو عام مومنین سے متعلق ہیں اور بعض احکام وہ ہیں جو خاص آنحضرت ﷺ کے نکاح سے متعلق ہیں اور آپ ﷺ کی ذات بابرکات کے ساتھ مخصوص ہیں جو آپ ﷺ کی فضیلت اور شرف اور کرامت کی دلیل ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ نبی کی ایک خاص شان امتیازی ہے جس کی بنا پر نبی کے حق میں بعض احکام امت کے احکام سے جدا ہیں اور نکاح کے بارے میں جو وسعت اور سہولت آپ ﷺ کو عطا کی گئی ہے وہ دوسروں کو نہیں دی گئی اور اسی طرح ازواج مطہرات بعض احکام میں عام مسلمان عورتوں سے جدا اور ممتاز ہیں اور ازواج مطہرات بعض احکام میں عام مسلمان عورتوں سے جدا اور ممتاز ہیں اور ازواج مطہرات عام مسلمان عورتوں کی طرح نہیں جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔
حضور پر نور ﷺ کی وفات کے بعد ازواج مطہرات سے نکاح حرام ہے کیونکہ وہ بھی آپ ﷺ کی ایذا کا سبب ہے آنحضرت ﷺ مسلمانوں کے روحانی باپ ہیں اور ازواج مطہرات مسلمانوں کی روحانی مائیں ہیں ان کا ادب اور احترام ہر مسلمان پر فرض ہے اور ان میں کوتاہی نبی کی ایذا کا سبب ہے جو بلاشبہ حرام اور موجب لعنت ہے اور اسی سلسلہ میں حضرت زینب ؓ کے نکاح کے بارے میں دعوت ولیمہ کے وقت بعض لوگوں کے کھانا کھا کر دیر تک بیٹھے رہنے اور باتیں کرتے رہنے سے حضور پر نور ﷺ کو جو گرانی پیش آئے ان آیات میں اس کا ذکر فرمایا۔ اور اس کے بارے میں حکم نازل فرمایا۔ بعض لوگوں کا دعوت ولیمہ میں دیر تک بیٹھے باتیں رہنا اگرچہ بطور موانست اور تفریح طبع تھا معاذ اللہ معاذ اللہ حضور پر نور ﷺ کے ایذا اور تکلیف کے ارادہ سے نہ تھا لیکن بہرحال دیر تک اس طرح بیٹھے باتیں کرتے رہنا آنحضرت ﷺ کی خاطر عاطر کے لئے باعث گرانی ہوا اس لئے حکم نازل ہوگیا کہ کھانے سے فراغت کے بعد اپنے گھروں کو واپس ہونا چاہئے۔
غرض یہ کہ ان آیات میں جس قدر احکام ذکر کئے گئے ان سب سے آپ ﷺ کی جلالت شان کا اظہار مقصود ہے اور یہ بتلانا ہے کہ اہل ایمان پر یہ لازم ہے کہ غیر اختیاری طور پر بھی نبی کی ایذا اور تکلیف کا سبب نہ بنیں کہ دعوت میں کھانا کھا کر بےفکری سے بیٹھے باتیں کرتے رہیں دور تک یہی سلسلہ کلام چلا گیا ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول نے نکاح اور طلاق کے بارے میں تم کو جو احکام دئیے ہیں ان کی تعمیل کرو منجملہ ان احکام کے ایک حکم یہ ہے کہ اے اہل ایمان جب تم ایمان والیوں کو اپنے نکاح میں لاؤ پھر کسی وجہ سے تم ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو ۔ یعنی مباشرت یا خلوت صحیحہ سے پہلے ہی ان کو طلاق دے دو تو تمہارے لئے ان عورتوں پر کوئی عدت واجب نہیں جس کے دنوں کو شمار کرو۔ طلاق قبل الدخول میں کسی قسم کی عدت نہیں اس کو اختیار ہے کہ جہاں چاہے چلی جائے اور جس سے چاہے نکاح کرے ایسی عورت پر تمہارا کوئی حق نہیں رہا پس طلاق کے بعد تم ان کو کچھ مالی فائدہ پہنچا دو اور ان کو متعہ یعنی ایک جوڑا پوشاک دے کر خوبی کے ساتھ رخصت کر دو جس میں ان کو کسی قسم کا ضرر نہ ہو۔ ” متعہ “ اس عطیہ کو کہتے ہیں جو خاوند کی طرف سے طلاق دینے کے بعدبیوی کو دیا جاتا ہے۔
: ازواج مطہرات کے سلسلہ میں اس مسئلہ کا بیان کرنا شاید اس بنا پر ہو کہ سرور عالم ﷺ نے ایک عورت سے نکاح کیا جب آپ ﷺ اس کے پاس گئے تو وہ بولی اللہ تم سے پناہ دے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے بڑی ذات کی پناہ مانگی ہے اور آپ ﷺ الگ ہوگئے اور باہر آگئے اور اس عورت کو جوڑا پوشاک دے کر رخصت کردیا۔
ان آیات میں نکاح اور طلاق کے متعلق جو حکم بیان کیا گیا وہ عام مسلمانوں سے متعلق ہے اب آئندہ آیات میں نکاح کے ان احکام کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات کے ساتھ مخصوص ہے۔
حکم اول
اے پیغمبر تحقیق ہم نے حلال رکھا تیرے لئے تیری ان بیبیوں کو جو اس وقت تیرے نکاح میں ہیں جنہوں نے دنیا کے مقابلہ میں دار آخرت کو اختیار کیا اور باوجود فقروفاقہ کے نبی ﷺ کی زوجیت کو بصد ہزار رغبت قبول کیا اور جن کا مہر بھی ادا کرچکے ہیں۔ اگرچہ ان کا عدد چار سے زیادہ ہے مگر ہم نے خاص آپ ﷺ کے لئے ان کی زوجیت کو برقرار رکھا اور یہ حکم آپ ﷺ کے لئے مخصوص ہے آپ ﷺ کے سوا کسی اور کے لئے چار سے زیادہ بیبیاں رکھنا حلال نہیں آیت کی یہ تفسیر ابی بن کعب ؓ سے منقول ہے دیکھو تفسیر ابن جریر ص 16 ج 22۔
امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں۔ جمہور علماء کے نزدیک آیت کے یہی معنی مختار اور راجح ہیں کہ آیت میں ازواجک سے موجودہ ازواج مطہرات مراد ہیں جنہوں نے دنیا کے مقابلہ میں دار آخرت اور اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا کیونکہ آیت میں اتیت اجورہن بصیغہ ماضی آیا ہے جو صراحۃً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ازواجک سے وہی بیبیاں مراد ہیں جن کا مہر آپ ﷺ زمانہ گزشتہ میں ادا کرچکے ہیں۔ تفسیر قرطبی (ف 1) ص 206 ج 14
1 قال الامام القرطبی (رح) اختلف الناس فی تاویل قولہ تعالیٰ انا احللنا لک ازواجک فقیل المراد بھا ان اللہ تعالیٰ احل لہ ان یتزوج کل امراۃ یوتیھا مہرھا۔ وقیل المراد احللنا لک ازواجک ای الکائنات عندک لانھن قد اخترنک علی الدنیا والاخرۃ قالہ الجمہور من العلماء وھو الظاہر لان قولہ اتیت اجورھن ماض ولا یکون الفعل الماضی بمعضی الاستقبال الا بشروط۔۔۔ ویوید ھذا التاویل ماروی عن ابن عباس ؓ کان رسول اللہ ﷺ یتزوج فی ای الناس شاء وکان یشق ذلک علی نساہ فلما نزلت ھذہ الایۃ وحرم علیہ بھا النساء الامن سمی، سر نساء ہ بذلک۔ (تفسیر قرطبی ص 206 ج 14 ) ۔
حکم دوم
اور ہم نے آپ ﷺ کے لئے وہ لونڈیاں اور باندیاں حلال کیں جو اللہ نے آپ کو مال غنیمت میں عطا کیں خواہ وہ کسی قوم کی ہوں وہ سب آپ ﷺ کے لئے حلال ہیں ان میں سے جس عورت کو آپ ﷺ چاہیں بطور ملک یمین اپنے تصرف میں لاسکتے ہیں اس لئے کہ جو باندی مال غنیمت سے ملی ہے وہ بلاشبہ حلال ہے۔ خریدی ہوئی چیز میں شبہ ہوسکتا ہے مگر مال غنیمت کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔ دنیا کے مالوں میں سے کوئی مال غنیمت سے بڑھ کر حلال اور طیب نہیں۔
باندیوں کے بارے میں آپ ﷺ کی خصوصیت یہ تھی کہ غنیمت کی تقسیم سے پہلے آپ ﷺ کو اختیار تھا کہ جو چیز آپ ﷺ کو پسند آئے وہ لے لیں چناچہ غزوہ خیبر میں آپ ﷺ نے حضرت صفیہ ؓ کو اسی طرح لیا تھا اور یہ حق آپ ﷺ کے سوا دوسرے کو نہیں نیز اس بارے میں ایک خصوصیت آپ ﷺ کی یہ تھی کہ اہل حرب کی جانب سے جو ہدایا آپ ﷺ کے پاس آتے تھے وہ سب آپ کی ملک ہوتے تھے اور آپ ﷺ کے بعد اگر کسی خلیفہ یا بادشاہ کو اہل حرب کوئی ہدیہ دیں تو وہ عام مسلمانوں اور بیت المال کا حق ہے اور ایک خصوصیت آپ ﷺ کی یہ تھی کہ جو باندی وفات تک آپ ﷺ کے پاس رہی ہو جیسے ماریہ قبطیہ۔ وہ دوسروں کے لئے حرام تھیں ممکن ہے کہ اس کے علاوہ اور بھی کچھ خصوصیتیں ہوں جو اسی زمانہ کے لوگوں کو معلوم ہوں اور انہی کو اس کی ضرورت بھی تھی۔
حکم سوم
اور ہم نے حلال کیا تیرے واسطے تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں۔ جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت بھی کی ہو یعنی جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت نہیں کی وہ آپ ﷺ کے لئے حلال نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن عورتوں سے آپ ﷺ کو ماں باپ کی جانب سے قرابت ہو آپ ﷺ کے لئے ان سے نکاح حلال ہے مگر بشرط ہجرت اور اسی وجہ سے آپ ﷺ اپنی چچا زاد بہن ام ہانی ؓ بنت ابی طالب سے نکاح نہیں کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔ وقال تعالی۔ والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولایتہم من شیء حتی یھاجروا۔
: اور ساتھ ہجرت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس عمل میں آپ ﷺ کی شریک اور موافق ہو یعنی انہوں نے بھی آپ ﷺ کی طرح ہجرت کی ہو۔ معیت سے معیت زمانیہ مراد نہیں بلکہ عمل میں موافقت مراد ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بلقیس کا قول منقول ہے۔ واسلمت مع سبحان للہ رب العلمین۔
حکم چہارم
اور مزید برآن ہم نے حلال کردیا آپ ﷺ کے لئے اس عورت کو کہ جو مسلمان ہو اگر وہ اپنے نفس اور ذات کو بلا کسی عوض کے اور بلا مہر (ف 1) کے پیغمبر کو ہبہ کر دے تاکہ اس کو نبی کی زوجیت اور خدمت کا شرف حاصل ہوجائے تو اگر نبی اس کو اپنے نکاح میں لینا چاہیں تو ان کے لئے جائز اور درست ہے کہ وہ اس کو قبول کر کے اپنے نکاح میں لے لیں اور مومنہ کی قید اس لئے لگائی کہ کافرہ عورت کسی حال میں آپ ﷺ کے لئے حلال نہیں اگرچہ وہ کتابیہ ہو اور اگرچہ وہ آزاد ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جو عورت اپنی جان کو نبی کے لئے ہبہ کر دے اور بلا مہر آپ ﷺ کے نکاح میں آنا چاہے اور اس کا مقصود مال اور مہر نہ ہو بلکہ محض آپ ﷺ کی زوجیت کا شرف اس کا مطمح نظر ہو تو وہ بھی آپ ﷺ کے لئے حلال ہے بشرطیکہ آپ ﷺ اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہیں اور یہ حلت اور یہ اجازت خالص آپ ﷺ کے لئے ہے سب مسلمانوں کے لئے نہیں۔ آپ کے سوا کسی مسلمان کے لئے نہیں آپ ﷺ کے سوا کسی اور مسلمان کے لئے بدون مہر کے کسی عورت کو اپنے نکاح میں لے لینا حلال نہیں اور یہ اجازت صرف آپ ﷺ کے لئے ہے لہٰذا جو عورت اپنی جان کو بلا مہر آپ ﷺ کو ہبہ کر دے تو اس کے لئے کسی حالت میں مہر کا مطالبہ جائز نہیں بلا مہر نکاح کی حلت آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے آپ کے سوا اگر کوئی بلا مہر نکاح کرے تو اس پر مہر مثل واجب ہوگا۔ ہمیں خوب معلوم ہے جو ہم نے عام مسلمانوں پر ان کی بیبیوں اور باندیوں کے بارے میں جو حقوق (ف 2) اور فرائض اور شرائط عقد مقرر کئے ہیں جیسے مہر اور گواہ اور نان ونفقہ اور سکنی وغیرہ۔ اور اس بارے میں جو احکام ان کو دئیے ہیں وہ آیات اور احادیث میں مذکور ہیں اور سب کو معلوم ہیں نکاح میں مہر کا ہونا ضروری ہے۔ کما قال تعالیٰ ان تبتغوا باموالکم وغیرہ وغیرہ اور نکاح کے بارے میں جو قیود اور شرائط ہم نے عام مومنین پر لگائے ہیں وہ ہم نے آپ ﷺ پر نہیں لگائے تاکہ آپ پر تنگی نہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے جو حقوق اور فرائض اور شرائط عقد۔ عورتوں کے بارے میں عام مسلمانوں پر لازم کئے ہیں۔ آپ پر فرض اور لازم نہیں کئے تاکہ آپ ﷺ پر وسعت اور سہولت ہو۔ اور لوگوں پر آپ ﷺ کی شان امتیازی ظاہر ہو۔ اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا مہربان جس چیز سے بچنا مشکل ہوتا ہے اسے معاف کردیتا ہے اور اپنی رحمت اور مہربانی سے جس پر چاہے وسعت کردیتا ہے۔
1 کما روی عن ابن عباس ؓ تفسیر قرطبی ج 14 ص 208۔
2 قال القرطبی قولہ تعالیٰ قد علمنا ما فرضنا علیہم فی ازواجہم ای ما اجبنا علی المومنین وھو ان لا یتزوجوا الا اربع نسوۃ بمھر وبینۃ وولی قال معناہ ابی بن کعب وقتادۃ وغیرہما۔ تفسیر قرطبی ص 214 ج 14۔
حکم پنجم
منجملہ احکام مخصوصہ کے ایک حکم یہ ہے کہ جس مرد کے پاس کئی عورتیں ہوں اس پر یہ واجب ہے کہ وہ تمام بیبیوں کے پاس باری باری سے رہے مگر آنحضرت ﷺ پر تقسیم یعنی باری باری سے بیبیوں کے پاس رہنا واجب نہ تھا۔ شب باشی میں آپ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ جس کے پاس چاہیں رات کو رہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ کو اختیار ہے کہ اپنی عورتوں میں سے جس کو چاہیں پیچھے کریں۔ اور جس کو چاہیں اپنے پاس جگہ دیں یعنی آپ کو اختیار ہے کہ باری ہے میں جس کو چاہیں آگے کریں اور جس کو چاہیں پیچھے کریں مطلب یہ ہے کہ جس کو چاہیں باری دیں اور جس کو چاہیں اس کو باری نہ دیں اور جن عورتوں کو آپ نے علیحدہ کردیا ہے اور ان سے کنارہ کشی کی ہے ان میں سے اگر کسی کو بلانا چاہیں اور اس کی خواہش کریں تو اس میں آپ پر کوئی گناہ اور تنگی نہیں یعنی جس بی بی سے آپ ﷺ نے کنارہ کیا ہو تو آپ ﷺ کو اس کے دوبارہ بلانے کا بھی اختیار ہے حق جل شانہ نے آپ ( ﷺ ) کو یہ حقوق اور اختیارات دئیے مگر آپ ﷺ نے مدت العمر کبھی اس سے کام نہیں لیا باری میں ہمیشہ برابری اور عدل اور مساوات کو ملحوظ رکھا جیسا کہ احادیث میں ہے کہ اگر آپ ﷺ کسی کی باری کے دن دوسری بیوی کے پاس رہنا چاہتے تو اس سے اجازت لیتے۔ اب اگلی آیت میں اس اختیار اور تفویض کی حکمت اور مصلحت بیان فرماتے ہیں کہ یہ اختیار جو آپ ﷺ کو دیا گیا اس میں مصلحت یہ ہے کہ یہ اختیار اس امر کے بہت زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور رنجیدہ خاطر نہ ہوں اور اس پر راضی رہیں جو آپ ان کو دے دیں۔ سب کی سب یعنی آپ ﷺ کو یہ اختیار اس لئے دیا گیا کہ عورتیں اپنا حق نہ سمجھیں اور جان لیں کہ شب باشی میں ہمارا کوئی حق مقرر نہیں آپ جو ان کو دے دیں خوش ہو کر اور آپ ﷺ کا احسان سمجھ کر اسے قبول کریں اگر پاس بلائیں تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور اگر نہ بلائیں تو رنجیدہ نہ ہوں اور نہ شکوہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ فضل فرمایا کہ ازواج کو آپ ﷺ کی رضا مندی کا پابند بنایا اور آپ ﷺ کو ان کی رضا اور خواہش کا پابند نہیں کیا مگر بایں ہمہ آپ ﷺ نے ہمیشہ ان کے ساتھ منصفانہ سلوک رکھا۔ جس پر آپ مجبور نہ تھے سب کی باری برابر رکھی۔ صرف ایک حضرت سودہ ؓ جب ان کی عمر بڑی ہوگئی تو انہوں نے از خود اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کو ہبہ کردی تھی۔
خلاصہ کلام یہ کہ جب عورتوں کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ باری دینا آپ ﷺ پر واجب نہیں تو اس کے بعد جو بھی آپ ﷺ ان کے ساتھ سلوک کریں اور عدل اور احسان کا معاملہ فرمائیں گے تو وہ خوش اور راضی رہیں گی۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اس کو خوب جانتا ہے کہ تمہارے دل میں کس بیوی کی محبت اور رغبت زیادہ ہے اگر تمہارے دل میں کسی زوجہ کی طرف زیادہ میلان ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ نہیں کرتا کیونکہ وہ تمہارے اختیار میں نہیں اور اللہ جاننے والا اور بردبار ہے جو لوگ اس قسم کے احکام میں نبی پر نکتہ چینی یا بدگمانی کرتے ہیں اللہ کو اس کا علم ہے مگر بردباری کی وجہ سے ان کو جلدی سزا نہیں دیتا۔
حکم ششم
آیت تخییر کے نزول کے بعد اجب ازواج مطہرات نے رسول اللہ ﷺ کو اختیار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے صلہ میں یہ حکم نازل کیا کہ اے پیغمبر اب اس کے بعد یعنی (ف 1) ان نوبیبیوں کے جو اس وقت آپ ﷺ کے عقد نکاح میں ہیں جنہوں نے دنیا کے مقابلہ میں دار آخرت اور اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا تو اب اس کے بعد آپ کے لئے اور عورتیں حلال نہیں یعنی اب کسی حال میں آپ ﷺ کے لئے مزید کسی عورت سے نکاح حلال نہیں بلکہ انہی ازواج کو باقی رکھو جو موجودہ بیبیاں دنیا اور آخرت دونوں ہی میں آپ ﷺ کی ازواج ہیں یہ نو بیبیاں آپ ﷺ کے حق میں ایسی ہیں جیسے امت کے حق میں چار بیبیاں اور آیت کی یہ تفسیر ابن عباس ؓ بنہ سے منقول ہے دیکھو تفسیر ابن جریر ص 21 ج 22 اور ابن عباس ؓ کے علاوہ مجاہد اور ضحاک اور قتادہ وغیرہم سے منقول ہے دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 501 ج 3 اور اسی تفسیر کو امام بغوی نے اختیار کیا۔ تفسیر مظہری ص 401 ج 7 اس آیت کی تفیسر میں اور بھی اقوال ہیں مگر امام رازی نے اپنی تفسیر میں اسی تفسیر کو اختیار کیا۔ جو ہم نے ذکر کی حضرت اہل علم تفسیر کبیر (ف 2) ص 622 ج 6 دیکھیں وحاشیہ شیخ زادہ دیکھیں ص 72 ج 4
حکم ہفتم
اور نہ آپ ﷺ کے لئے یہ حلال ہے کہ موجودہ بیبیوں کے بدلہ میں دوسری بیبیاں کرلیں کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے دیں اور اس کے بدلہ میں دوسری بیوی کرلیں اور اس طرح نو کا عدد پورا کرلیں اگرچہ آپ کو ان کا حسن پسند آئے تب بھی آپ ﷺ کے لئے ان سے نکاح حلال نہیں چونکہ اکثر وبیشتر نکاح کی رغبت حسن و جمال ہی کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے یہ فرمایا ولو اعجبک حسنھن خلاصہ کلام یہ ہے کہ اے نبی ان موجودہ نو بیبیوں کے علاوہ آپ کے لئے نہ کسی عورت سے نکاح حلال ہے اور نہ ان نو میں میں کوئی تغیر وتبدل جائز ہے مگر وہ باندیاں جن کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں ان میں کمی اور زیادتی اور تغیر وتبدل کا آپ ﷺ کو اختیار ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے کوئی چیز اس پر مخفی نہیں۔
چو دانستی کہ حق دانا وبیناست نہان وآشکار خویش کن راست
جمہور صحابہ وتابعین کے قول کے مطابق آیت کی تفسیر کردی گئی لیکن حضرت عائشہ ؓ اور ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ ممانعت بعد میں منسوخ ہوگئی۔ (رواہ احمد والترمذی والنسائی) یعنی بعد میں آپ ﷺ کو نکاح کی بھی اجازت ہوگئی اور تغیر وتبدل کی بھی اجازت ہوگئی۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے بعد نہ کسی عورت سے نکاح کیا اور نہ ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ دوسری بیوی کی۔
مگر ظاہر آیت سے یہی معلوم اور مفہوم ہوتا ہے کہ یہ حکم محکم ہے منسوخ نہیں ہوا اور صحابہ وتابعین کی ایک جماعت سے اسی طرح منقول ہے اور اسی کو امام بن جریر طبری (رح) نے اختیار کیا۔ (دیکھو تفسیر البحر المحیط لابی حیان ص 244 ج 7)
1 کما قال النیشا بوری قال اکثر المفسرین (فی تفسیر قولہ تعالیٰ لا یحل لک النساء من بعد) ای من بعد التسع المذکورۃ فالتسع نصاب رسول اللہ ﷺ من الازواج کما ان الاربع نصاب امتہ (تفسیر غرائب القران ص 26 ج 22 ) ۔
2 قال الامام الرازی الاولی (فی تفسیر الایۃ) ان یقال لا تحل لک النساء من بعد اختیارہن اللہ ورسولہ ورضاہن بما یوتیھن من الوصل والہجران والنقص والحرمان فلما اخترن اللہ ورسولہ ذکر اللہ لہن ما جازا ھن بہ من تحریم غیرہن علی النبی ﷺ ومنعہ من طلاقہن بقولہ ولا ان تبدل بھن کذا فی التفسیر الکبیر ص 622 ج 6 وقال ابن الشیخ بعد نقل کلام الامام انما حرم اللہ تعالیٰ علیہ النساء سواہن ونھاہ عن تطلیقہن وعن الاستبدال بھن شکرا لہن علی حسن ضیعہن۔ (حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 72 ج 4) ۔
Ayahs 33:53–55نداء اہل ایمان ونزول حکم حجاب برائے خواتین اسلام واحتراز
از ایذاء رسول عالی مقام وتحریم نکاح ازواج مطہرات
بعد وفات سید البریات علیہ افضل الصلوات والتحیات
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا۔
(ربط) گذشتہ آیات میں نکاح کے بارے میں آنحضرت ﷺ کے خصائص کو بیان فرمایا اور ان امور کی ممانعت فرمائی جو نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے لئے باعث ایذا اور موجب تکلیف ہوں۔ اس سے پہلے بھی ایذا نبوی کے انواع و اقسام اور ان کے احکام کا بیان ہوچکا تھا اس لئے اب آئندہ آیات میں ایک خفیف اور معمولی ایذا نبوی کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو بعض لوگوں کی جانب سے بلا قصد اور بلا ارادہ ایسی چیز ظہور میں آئی کہ جو حضور پر نور ﷺ کی ایذاء کا سبب بنی۔
قصہ یہ پیش آیا کہ جب بحکم خداوندی حضرت زینب ؓ سے آنحضرت ﷺ کا نکاح ہوگیا تو آپ ﷺ نے اس کا ولیمہ کیا اور خاص اہتمام کیا اور گوشت روٹی پکوائی اور تقریبا تین سو آدمیوں کو مدعو کیا۔ اکثر لوگ تو کھانا کھا کر چلے گئے بعض لوگ کھانا کھانے کے بعد گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے آنحضرت ﷺ پر ان کی یہ حرکت شاق اور گراں گزری مگر آپ ﷺ نے شرم کے مارے کچھ نہ کہا آپ ﷺ کئی بار اٹھے تاکہ لوگ بھی اتھ جائیں چناچہ بہت سے لوگ اٹھ گئے مگر تین آدمی پھر بھی باتوں میں مصروف رہے اور آپ کے اشارہ کو نہ سمجھے اور حضرت زینب ؓ اسی حجرہ میں پشت پھیرے دیوار کی طرف منہ کر کے ایک طرف بیٹھی رہیں بالآخر جب وہ تین آدمی چلے گئے تو آپ ﷺ حجرہ مبارکہ میں تشریف لے گئے اس وقت یہ آیتیں یعنی یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی سے لے کر ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا تک نازل ہوئیں۔
ان آیات کو آیات حجاب کہتے ہیں جن میں عورتوں پر پردہ فرض ہونے کا حکم نازل ہوا اور مسلمانوں کو آداب طعام اور حقوق معاشرۃ بتلائے گئے اور یہ حکم دیا گیا کہ کوئی کام ایسا نہ کریں کہ جو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی تکلیف اور گرانی کا باعث ہو اور تمام مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے یہ حکم دے دیا گیا کہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں اور اگر گھر والوں سے کوئی چیز مانگنا ہو تو باہر سے پس پردہ کھڑے ہو کر مانگ لیں اس حکم سے قلب کی صفائی اور ستھرائی کا پورا پورا انتظام ہوگیا اور فتنہ کا سد باب ہوگیا پھر ان سب باتوں کے بعد اسی مقام پر یہ حکم نازل ہوا کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی بیبیوں سے نکاح حرام ہے آپ ﷺ کی ازواج مطہرات امہات المومنین ہیں سب مسلمانوں کی مائیں ہیں اس لئے آپ ﷺ کی وفات کے بعد ان سے نکاح نہیں ہوسکتا جس کا سبب نزول یہ ہے کہ جب آیات بالا میں حجاب (پردہ) کا حکم نازل ہوا تو کسی کی زبان سے یہ لفظ نکلا کہ ہم سے ہماری چچا زاد بہنوں کو چھپایا جاتا ہے اگر آپ ﷺ کی وفات ہوجائے تو ہم آپ ﷺ کی بیبیوں سے نکاح کرلیں گے ان پر یہ حکم نازل ہوا۔ وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا ان ذلکم کان عند اللہ عظیما۔
خلاصہ کلام یہ کہ یہ آیتیں حضرت زینب ؓ کے ولیمہ میں نازل ہوئی جو احکام طعام اور آداب معاشرت اور اس بات پر بھی مشتمل ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو زندگی میں بھی ایذا دینا حرام ہے اور وفات کے بعد بھی آپ ﷺ کو ایذا دینا حرام ہے۔ ان آیات میں جن تعلیمات اور ہدایات کا ذکر ہے ان کا آغاز اہل ایمان کی نداء سے ہوا یعنی یایھا الذین امنوا سے ہوا جو خاص تلطف اور عنایت پر دلالت کرتا ہے اور یہ سورت از اول تا آخر خطابات سراپا عنایات سے بھری پڑی ہے چناچہ اس سورت کا آغاز نبی اکرم ﷺ کی نداء سے ہوا۔ یایھا النبی اتق اللہ فرمایا پھر یایھا الذین امنوا امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم سے اہل ایمان کو اس ندا خاص سے عزت بخشی پھر نبی کریم (علیہ السلام) کو یایھا النبی قل لا ازواجک ان کنتن تردن تردت الحیاۃ الدنیا سے خطاب فرمایا پھر دو مرتبہ ازواج مطہرات کو ینساء النبی سے خطاب فرمایا اور اس سلسلہ خطاب میں ان کی فضیلت اور کرامت کو بیان فرمایا پھر یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا سے اہل ایمان کو خطاب فرمایا۔ اور ذکر کثیر اور تسبیح کا ان کو حکم دیا۔ پھر یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشرا سے نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے فضائل اور شمائل بیان کئے پھر الذین امنوا اذا انکحتم المومنات سے اہل ایمان کو نکاح اور طلاق کے احکام بتلائے پھر یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوت النبی میں اہل ایمان کو مخاطب فرما کر مختلف احکام کی تعلیم دیتے ہیں جن میں سے بعض احکام ازواج اور عام مسلمان عورتوں سے متعلق ہیں اور بعض احکام خاص آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات سے متعلق ہیں اس کے بعد اخیر سورت تک چار خطاب اور آئیں گے جن میں سے ایک خطاب نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کو ہے اور باقی تین خطاب اہل ایمان کو ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوؤ مگر اس وقت کہ تم کو کھانا کھانے کے لئے یا کسی اور ضرورت کے لئے بلایا جائے یعنی بغیر اجازت اور بغیر دعوت کے داخل نہ ہو ہوں اگر تم کو دعوت دی جائے تو اس کا ادب یہ ہے کہ ایسے حال میں جاؤ کہ کھانا پکنے کے انتظار کرنے والے نہ ہو و لیکن جب تم کو بلایا جائے تب داخل ہو۔ ابن عطیہ ؓ کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی دعوت ولیمہ ہوتی تو سویرے سے آجاتے اور کھانا پکنے کا انتظار کرتے اور جب کھانے سے فارغ ہوجاتے تو بیٹھے باتیں کرتے اللہ تعالیٰ نے ان کو ادب سکھایا کہ ایسا نہ کیا کریں اول تو بغیر دعوت کے نہ جایا کریں اور اگر دعوت بھی ہو تو پہلے سے جا کر نہ بیٹھ جایا کریں ایک ادب تو یہ ہوا پھر دوسرا ادب یہ ہے کہ جب کھانا کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ۔ اور وہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ اور پھر کھانا پکنے سے پہلے آ کر بیٹھ جانا اور پھر کھانا سے فارغ ہو کر بیٹھے باتیں کرتے رہنا پیغمبر خدا کو تکلیف دیتا ہے پس وہ شرماتا ہے اور لحاظ اور شرم کی وجہ سے یہ نہیں کہتا کہ تم چلے جاؤ اور اللہ جو تمہارا رب ہے وہ حق کے بیان کرنے سے اور ادب کے سکھانے سے شرما نہیں تمہاری اصلاح اور تادیب کے لئے حق بات کو صاف صاف بتلا دیتا ہے اور اللہ تم کو ایک ادب یہ سکھاتا ہے کہ جب تم پیغمبر کی بیبیوں سے یا اور مسلمان عورتوں سے کام کی کوئی مانگنا چاہو تو پردہ کے پیچھے باہر سے کھڑے ہو کر ان سے مانگ لو اس مانگنے کے وقت تمہارے اور گھر والوں کے درمیان حجاب (پردہ) حاجب (حائل) ہونا چاہئے۔ رو در رو گھر والوں سے بات کرنا منع ہے ضرورت کی بنا پر پردہ کے پیچھے کھڑے ہو کر مانگنا بہت پاک رکھنے والا ہے تمہارے دلوں کو اور عورتوں کے دلوں کو یعنی یہ پردہ دلوں کو شیطانی اور نفسانی خیالات سے پاک رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ پردہ متعارفہ جو قدیم اہل اسلام میں رائج ہے وہ غایت درجہ ضروری ہے اور نہایت قابل اہتمام ہے نفسانی وسوسوں اور خطروں سے حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ آیت بھی اگرچہ ازواج مطہرات کے حق میں ہے لیکن اس حکم کی جو علت بیان کی گئی ہے وہ عام ہے۔ ذلکم اطھر لقلوبکم وقلوبہن یعنی یہ حجاب طہارت قلوب کا بہترین ذریعہ ہے اور بلا شبہ حق اور درست ہے۔ اور یہ علت صراحۃ دلالت النص سے ثابت ہے جس میں شک اور شبہ کی گنجائش نہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بےحجابی اور بےپردگی قلب کی نجاست اور گندگی کا سبب ہے اور حجاب اور پردہ قلب کی طہارت اور پاکیزگی کا سبب ہے اور ازواج مطہرات تو بوجہ امہات المومنین ہونے کے ان کی عظمت اور حرمت دلوں میں ایسی راسخ ہے کہ جہاں فتنہ کا احتمال نہیں ہوتا لہٰذاجہاں فتنہ کا احتمال غالب بلکہ فتنہ یقینی ہو وہاں حجاب قطعی طور پر فرض اور لازم ہوگا۔
اور ازواج مطہرات سے بلا حجاب باتیں کرنا یہ تو ایذاء رسول کا بھی موجب ہے اور تمہارے لئے یہ بات کسی طرح جائز نہیں کہ تم کسی چیز میں اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاؤ ہر طرح رسول کے ادب کا لحاظ رکھو ایسا نہ ہو کہ تم سے کوئی ایسا امر سر زد ہوجائے جو مزاج نبوی کو ناگوار گذرے اور نہ تمہارے لئے یہ جائز ہے کہ تم آپ ﷺ کی وفات کے بعد کبھی بھی آپ کی بیبیوں کو نکاح میں لاؤ۔ البتہ تمہارا یہ فعل یعنی اس طرح سے نبی کریم ﷺ کو ایذا دینا کہ ہم آپ ﷺ کی بیبیوں سے نکاح کرلیں گے اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ عظیم ہے یعنی آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی بیبیوں سے نکاح اللہ کے نزدیک جرم عظیم ہے جس طرح آپ ﷺ کی حیات میں آپ کی تعظیم اور احترام فرض اور لازم ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی فرض اور لازم ہے۔ بالجملہ نبی کریم ﷺ کو ظاہرا اور باطنا ایذا پہنچانا حرام ہے حتی کہ ایذا کا تصور اور خیال بھی حرام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اگر تم اس قسم کی کوئی چیز ظاہر کرو اور بعض ازواج نبی سے نکاح کرلینے کا لفظ زبان پر لاؤ یا اس بات کو دل میں چھپائے رکھو اور زبان پر نہ لاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو چھپی ہو یا کھلی خوب جانتا ہے اور تم کو اس پر سزا دے گا مطلب یہ ہے کہ ازواج مطہرات دنیا اور آخرت میں آپ ﷺ کی بیبیاں ہیں اور تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں آپ ﷺ کی وفات کے بعد ان سے نکاح کا تصور اور خیال بھی گناہ عظیم ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں سے نکاح حرام قرار دیا جو حکمتوں اور مصلحتوں پر مشتمل ہے۔
اول : یہ کہ آنحضرت ﷺ کے شرف اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے یہ حکم دیا گیا۔ ہر انسان پر طبعی طور پر یہ گراں ہوتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے بعد دوسرے کے نکاح میں جائے اس لئے آنحضرت ﷺ کی فضیلت اور بزرگی ظاہر کرنے کے لئے یہ رعایت خاص، آنحضرت ﷺ کے ساتھ کی گئی کہ آپ ﷺ کے بعد آپ کی ازواج کا دوسروں سے نکاح کرنا حرام ہوا۔
دوم : یہ کہ تاکہ فتنہ کا انسداد ہوجائے کیونکہ بالفرض اگر آپ ﷺ کے بعد ازواج مطہرات سے نکاح کی اجازت ہوجاتی تو ہر شخص کو آپ ﷺ کی جانشینی کے دعوے کی گنجائش مل جاتی اور اندیشہ تھا کہ وہ شخص اس ذریعہ سے لوگوں کو اپنی خلافت کی طرف بلاتا۔
سوم : یہ کہ باہم تنانس اور تحاسد کا دروازہ کھل جاتا ہر شخص یہ چاہتا کہ میں زوجہ رسول ﷺ سے نکاح کروں تاکہ مجھے لوگوں میں خاص عزت اور امتیاز حاصل ہو اس امر کے انسداد کے لئے شریعت نے آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ازواج سے نکاح کو قطعی حرام قرار دیا۔
چہارم : یہ کہ اگر ازواج مطہرات کے لئے شریعت میں آپ ﷺ کے بعد کسی سے نکاح جائز ہوتا تو ازواج مطہرات کا وہ عالی مرتبہ جو زوجیت رسول کی بنا پر حاصل تھا وہ ختم ہوجاتا اور آنحضرت ﷺ کے بعد کسی سے نکاح کرنا بلندی سے پستی میں جا گرنے کے مترادف ہے۔
پنجم : یہ کہ دوسروں کے نکاح میں جانے کے بعد ان کی روایات لوگوں کی نظر میں مشکوک ہوجائیں ممکن ہے کہ لوگ یہ خیال کرتے کہ یہ عورت اپنے جدید شوہر کے خیال سے ان امور کو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کر رہی ہے۔ اس صورت میں امت ان علوم سے محروم ہوجاتی جو ازواج مطہرات کے ذریعہ سے پہنچے ہیں۔
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اجنبی مردوں سے پردہ کا حکم دیا اب آئندہ آیات میں ان رشتہ داروں کا ذکر کرتے ہیں جن سے پردہ واجب نہیں اور وہ اس پردہ کے حکم سے مستثنیٰ ہیں جیسا کہ سورة نور کی اس آیت ولا یبدین زینہن الا لبعولتہن الخ میں تفصیل کے ساتھ گذرا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ ان عورتوں پر اپنے باپوں کے سامنے آنے میں کوئی گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں کے سامنے اور نہ اپنے بھائیوں کے سامنے اور نہ اپنے بھتیجوں کے سامنے اور نہ اپنے بھانجوں کے سامنے اور نہ اپنی مسلمان عورتوں کے سامنے اور نہ اپنے باندیوں اور لونڈیوں کے سامنے یعنی ان سب کے سامنے آنا جائز ہے۔
بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ما ملکت ایمانہن کے لفظ سے لونڈی اور غلام دونوں مراد ہیں یہ لفظ عام ہے دونوں کو شامل ہے لیکن غلام قبل از بلوغ مراد ہے بعد از بلوغ مراد نہیں اور بعض کہتے ہیں کہ صرف کنیز مراد ہے۔ جیسا کہ سورة نور میں گذرا۔
: ولا نساء ہن سے مسلمان عورتیں مراد ہیں کیونکہ ازواج مطہرات کی ساتھ کی ساتھ والی عورتیں مسلمان عورتیں ہی ہوسکتی ہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ کافر عورتوں سے پردہ چاہئے۔ اور اے عورتوں خدا سے ڈرتی رہو اور حیا کا پردہ سامنے سے نہ اٹھاؤ۔ بیشک اللہ ہر چیز پر حاضر وناظر ہے۔ جو چیز تمہارے خیال میں گذرتی ہے خدا اس سے بھی باخبر ہے۔
فائدہ جلیلہ
ان آیات کو جن میں واذا سألتموہن متاعا فسئلوہن من ورواء حجاب بھی ہے ان آیات کو آیات حجاب کہتے ہیں اس آیت کا نزول وقرن فی بیوتکن کے نزول سے مقدم ہے کیونکہ اس آیت کا نزول حضرت زینب ؓ کے ولیمہ سے ہوا اور وقرن فی بیوتکن کا نزول آیت تخییر کے نزول کے وقت ہوا اور آیت تخییر کا نزول حضرت زینب ؓ کے نکاح کے بہت بعد ہوا اس لئے کہ مخیرات میں حضرت زینب ؓ بھی تھیں اور ظاہر ہے کہ نفقہ کا مطالبہ نکاح کے بعد ہی ہوتا ہے پس آیت حجاب کے نزول سے پردہ فرض ہوا اور بعد میں وقرن فی بیوتکن کے نزول سے اس کی تاکید ہوگئی (ماخوذ از بیان القرآن )
Ayahs 33:56–58حکم وجوب صلاۃ وسلام وتحریم ایذاء خدا و رسول وایذاء عامہء اھل اسلام
قال اللہ تعالیٰ ان اللہ وملئکۃ یصلون علی النبی۔۔۔ الی۔۔۔ فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی جلالت شان اور علو مقام کو بیان کیا اور ازواج مطہرات کے ادب اور احترام کو بیان کیا۔ اور شروع سورت میں بھی یہی مضمون تھا۔ النبی اولی بال مومنین من انفسہم وازواجہ امھاتہم۔ اب ان آیات میں پھر نبی کریم ﷺ کی جلالت شان ظاہر کرنے کے لئے صلاۃ وسلام کا حکم دیتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا حق یہ ہے کہ آپ ﷺ پر صلاۃ وسلام پڑھا جائے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ وجود باجود حق جل شانہ کی رحمتوں اور عنایتوں کا ذریعہ ہے اور ملا اعلیٰ میں آپ ﷺ کی خاص شان ہے اور آپ کا ادب اور احترام قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت کا وسیلہ ہے لہٰذا آپ پر صلاۃ وسلام اور آپ کا ادب واحترام اور آپ کی تعظیم ہر مسلمان پر فرض اور لازم ہے اور آپ ﷺ کو کسی قسم کی ایذا پہنچانا حرام ہے حتی کہ مومنین اور مومنات یعنی آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کو اور آپ ﷺ کی متابعت اور محبت کرنے والوں کو بھی ایذا پہنچانا حرام ہے اور موجب لعنت ہے اور مومنین اور مومن ات کے اولین مصداق تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تمام ازواج مطہرات اور تمام بنات طاہرات اور تمام اہل بیت اطہار ہیں۔
خلاصہ یہ کہ گزشتہ آیات میں جو احکام بیان کئے گئے مثلاً حضور پر نور ﷺ کی وفات کے بعد امہات المومنین سے نکاح کا حرام ہونا وغیرہ وغیرہ۔ وہ سب آپ ﷺ کے شرف اور کرامت اور جلالت قدر پر دلالت کرتے ہیں اب آئندہ آیات میں دوسرے عنوان سے آپ ﷺ کی جلالت قدر اور علو شان کو بیان کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ گزشتہ آیت میں جو استیذان وغیرہ کا حکم تھا وہ بیشک آپ ﷺ کے ادب اور احترام کے وجوب اور لزوم ظاہر کرنے کے لئے تھا۔ لیکن یاد رکھو کہ نبی کا احترام ہر حال میں فرض ہے خواہ نبی اپنے گھر میں ہو یا گھر سے باہر ہو۔ ملا اعلیٰ میں ہو یا ملا سافل میں ہو۔ ملا اعلیٰ کے فرشتے بھی آپ ﷺ کا احترام کرتے ہیں لہٰذا تم کو بھی انہی کے طریقہ پر چلنا چاہئے۔ دیکھو شیخ زادہ حاشیہ بیضاوی ص 74 ج 4۔ تاکہ ملا اعلیٰ اور عالم علوی کے ساتھ ملا سافل اور عالم سفلی کا ادب اور احترام بھی ساتھ مل جائے دیکھو شرح کتاب الاذکار لابن علان مکی ص 300 ج 3۔
چناچہ فرماتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پیغمبر پر دمبدم (ف 1) اپنی رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔ ایک رحمت کے بعد دوسری رحمت اور ایک برکت کے بعد دوسری برکت وعلیٰ ہذا۔ یہاں اللہ کی صلاۃ سے اللہ تعالیٰ کی عام رحمت مراد نہیں بلکہ خاص الخاص رحمت مراد ہے جو اس کی شان الوہیت اور شان ارحم الراحمینی کے مناسب ہے۔
اور فرشتوں کی صلاۃ اور رحمت سے ان کی خاص الخاص دعائیں مراد ہیں جن سے حضور پر نور ﷺ کے مراتب میں ترقی ہوتی رہتی ہے ملائکہ کرام کا حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنا بلاشبہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی شرف اور فضیلت کی دلیل تھی لیکن تا قیام قیامت فرشتوں کا نبی اکرم ﷺ کے لئے دعا کرتے رہنا اس سے بڑھ کر ہے اس کہ سجدہ ایک وقت امر تھا۔ اور یہ دعا دائمی اور مسلسل ہے۔ اے مسلمانو ! اللہ نے تم کو یہ خبر اس لئے دی ہے کہ تم کو اس پیغمبر کا مرتبہ معلوم ہوجائے کہ یہ پیغمبر اس قدر جلیل القدر اور عظیم الشان ہے کہ ہر لمحہ اور ہر لحظہ وہ اللہ جل شانہ کی خاص الخاص رحمتوں اور عنایتوں کا اور ملائکہ مقربین اور ملا اعلیٰ کی توجہات اور عنایات کا مورد اور محل بنا ہوا ہے۔ لہٰذا تم کو بھی چاہئے کہ ملائکہ کی اقتدا کرو اور فرشتوں کی طرح اس نبی پر صلاۃ وسلام بھیجو اور ظاہرا اور باطنا اس کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھو اور اس کا خیال رکھو کہ تم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہوجائے کہ جو آپ ﷺ کی تعظیم اور احترام میں مخل ہو دیکھو الدار المنصور لا بن حجر المکی ص 11 وشرح کتاب الاذکار لابن علان ص 399 ج 3۔
پس سے میرے خاص بندو جو اس نبی پر ایمان لائے ہو تم پر بحق ایمان یہ لازم ہے کہ تم بھی اس نبی پر صلاۃ وسلام بھیجا کرو۔ جیسا کہ صلاۃ وسلام بھیجنا چاہے تاکہ بحق ایمان تم پر نبی کا جو حق ہے وہ کچھ ادا ہو۔ اور جہاں تک ممکن ہو تم اس کے ادب اور احترام کو پورا پورا ملحوظ رکھو اہل ایمان پر رسول کی تعظیم فرض ہے حتی کہ جو مومنین اور مومنات یعنی جو مرد اور عورت اس نبی کے پیرو ہیں ان کو بھی کوئی ایذا نہ پہنچاؤ جیسا کہ آئندہ آیت میں آتا ہے۔ ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ اور والذین یؤذون ال مومنین وال مومن ات الایۃ۔
1 اشارۃ الی ان المضارع ای یصلون للاستمرار التجددی والمعنی علی ما قال الزمحشری علیہم راحۃ بعد راحۃ بعد رحمۃ (الدار المنصور ص 19 والقول البدیع ص 20 ) ۔
اس لئے کہ ہم کو نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ہی خدا تک پہنچنے کا راستہ معلوم ہوا ہے۔ شقاوت سے بچنے اور سعادت کے حاصل کرنے کے طریقے ہم کو معلوم ہوئے اس نعمت کا شکر ہم پر واجب ہے اس حق نعمت کی ادائیگی کے لئے بطور شکر ہم پر صلاۃ وسلام واجب ہے پس صلاۃ کا طریقہ تو یہ ہے کہ اللہم صلی علی محمد کہو کہ اے اللہ اپنے پیغمبر پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرما اور سلام کا طریقہ یہ ہے السلام علیک ایھا النبی کہو جیسا کہ تم نماز میں پڑھتے ہو یا اللہم سلم وبارک علی محمد کہو جس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ہم تیرے نبی کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں آپ ﷺ اپنی رحمت خاصہ سے اس نبی پر اپنی خاص الخاص الطاف اور عنایات مبذول فرما اور تمام اولین اور آخرین پر آپ ﷺ کی فضیلت ظاہر فرما اور اس آیت میں جو صلاۃ وسلام کا حکم دیا گیا ہے وہ فرضیت کے لئے ہے اس لئے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ درود بھیجنا تو فرض ہے جیسا کہ کلمہ توحید عمر بھر میں ایک بار کہنا فرض ہے اور جس مجلس میں آنحضرت ﷺ کا ذکر مبارک ہو تو وہاں ایک بار واجب اور اس سے زیادہ مستحب ہے۔
فائدہ : امت کی طرف سے جو صلاۃ وسلام پڑھا جاتا ہے وہ حضور پر نور ﷺ کے احسان کی مکافات نہیں بلکہ ایک فقیرانہ ہدیہ ہے جو شاہ رسالت کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے۔ دیکھو شرح کتاب الاذکار لابن علان ص 315 ج 3۔
خلاصہ کلام یہ کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو صلاۃ وسلام کا حکم دیا اور ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ کمال محبت کے ساتھ نبی کی کمال متابعت کرے اور کوئی کام آپ ﷺ کی سنت اور شریعت کے خلاف نہ کرے اس میں اندیشہ ہے کہ اس کی یہ بےراہی نبی کی ایذا کا سبب نہ بنے اس لئے ارشاد فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو قصدا ایذا دیتے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے۔ یعنی ان کو اپنی رحمت سے اتنا دور کردیا کہ ان میں اور کافروں میں کوئی فرق نہیں رہا۔ اور ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کیا اللہ کو ایذا پہنچانے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی شان میں نازیبا الفاظ زبان سے نکالنا جیسے یہود کہتے تھے ید اللہ مغلولۃ۔ ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء اور نصاری کہتے تھے کہ مسیح اللہ کے فرزند ہیں اور مشرکین کہتے تھے کہ فرشتے اللہ بیٹیاں ہیں اور بتوں کو معبود اور خدا کا شریک کہتے تھے اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آدمی زادہ مجھ کو ایذا دیتا ہے بایں طور پر کہ دہر (زمانہ) کو گالیاں دیتا ہے اور برا بھلا کہتا ہے کہ زمانہ نے میرے ساتھ یہ ظلم کیا۔ زمانہ جاہلیت کا یہ طریقہ تھا کہ جب کوئی گردش پیش آتی تو اس کو زمانہ کی طرف نسبت کر کے زمانہ کو برا بھلا کہتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ حالانکہ ان گردشوں اور حالات کا پیدا کرنے والا تو میں ہی ہوں (یا یہ معنی ہیں) کہ جس نے اللہ کے پیغمبر کو ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ جیسے قرآن میں دوسری جگہ ہے۔ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ حاصل کلام یہ کہ رسول خدا کو ایذاء دینے والا دنیا اور آخرت میں ملعون ہے اور جو لوگ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے برا کام کیا ہو ایذا پہنچاتے ہیں تو ان موذبوں نے بہتان کا اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے اوپر اٹھایا حالانکہ مومنین اور مومنات معصوم نہیں ہوتے ان سے گناہ کا سرزد ہوجانا ممکن ہے پس عام مومنین اور مومنات کو ایذا پہنچانا صریح گناہ ہوا تو رسول معصوم کو ایذا پہنچا تو بلاشبہ دنیا اور آخرت کی لعنت اور عذاب مہین کا سبب ہوگا اور نبی کے بعد درجہ صحابہ کا ہے ان کو نشانہ طعن بنانا نبی کو نشانہ طعن بنانا ہے اس وعید میں فرقہ روافض داخل ہے جو صحابہ کرام میں نقص اور عیب نکالنا ہے مگر قرآن نے اعلان کردیا۔ رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اب صحابہ کی بلا سے کہ کوئی رافضی ان سے راضی ہو یا ناراض ہو۔
Ayahs 33:59–62ذکر بعض انواع ایذاء منافقین ومرجفین
بتعرض نسواں و تخویف اھل ایمان
وقال اللہ تعالی۔ یایھا النبی قل لازواجک۔۔۔ الی۔۔۔ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مطلق اور عام ایذاء رسول اور ایذا مومنین پر وعید کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں منافقین اور مرجفین کی خاص خاص ایذاؤں کا ذکر کر کے ان کی بابت ہدایات دیتے ہیں تاکہ ان ایذاؤں کا سدباب ہوجائے اور یہ ایذاء دو طرح سے تھی ایک تو یہ کہ سر راہ چلتی عورتوں کو چھیڑتے۔ پردہ کے حکم سے تو اس ایذاء رسانی کا علاج ہوا۔ اور دوسری ایذا رسانی اس طرح سے تھی کہ ایسی جھوٹی خبریں اڑاتے کہ جس سے مسلمان پریشان ہوجائیں اور گھبرا جائیں جسے آج کل کی اصطلاح میں پروپیگنڈا کہتے ہیں۔ ان ایذاؤں کے سدباب کے لئے یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
چناچہ فرماتے ہیں اے نبی ﷺ اپنی عورتوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ جب ضرورت کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے اوپر کچھ اپنی فراخ چادریں لٹکالیں تاکہ ان کا سر اور چہرہ اور بدن کسی کو نظر نہ آئے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت کے لے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں اور چہروں کو بڑی چادروں سے ڈھانک لیں۔ البتہ ایک آنکھ کسی طرح کھول لیں جس سے ان کو راستہ نظر آسکے اس طرح سے سر اور چہرہ اور بدن کا چھپانا بہت قریب ہے اس بات کے کہ پہچان لی جاویں کہ یہ پردہ والی اور پاکباز عورتیں ہیں اور اس پردہ سے لوگوں کو ان کی عفت اور پاکدامنی عیاں ہوجائے اور کوئی ان سے تعرض نہ کرے۔ لوگوں کا طریقہ ہے کہ لباس دیکھ کر معاملہ کرتے ہیں جیسا لباس دیکھتے ہیں ویسا ہی معاملہ کرتے ہیں۔ پس اس حالت اور ہیئت میں دیکھ کر ان کو ایذا نہ دی جائے اور بدکار ان سے تعرض نہ کریں ان کے پردہ کی اس وضع اور ہیئت کو دیکھ کر کسی کی ہمت نہ ہو کہ وہ ان کو چھیڑ سکے۔ شریر لوگ راہ چلتی عورتوں کو چھیڑتے ہیں اللہ نے اس کا یہ انتظام فرمایا کہ عورتیں گھر سے نکلتے وقت اپنی چادریں اپنے اوپر ڈال لیں اور اپنا منہ اور بدن اس سے چھپا لیں کہ لوگ اس وضع اور ہیئت کو دیکھ کر دیکھ کر پہچان لیں کہ یہ شریف زادیاں اور غیرت اور حیا والی عورتیں ہیں اور یہ بھی جان لیں کہ یہ باندیاں نہیں تو کوئی شخص ان سے لونڈیوں اور باندیوں کی طرح بات نہ کرسکے اور نہ ان سے کسی خدمتی کام کے لئے کچھ کہہ سکے پر دہ تو باندیوں پر بھی ہے مگر وہ ذرا خفیف ہے۔ آزاد عورتوں کی طرح ان پر سختی نہیں اس لئے کہ اس سے خدمت اور کاروبار میں تنگی لاحق ہوتی ہے۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ گھر سے نکلتے وقت عورت کو اپنا سر اور چہرہ اور بدن چھپانا فرض ہے کہ کسی کو اس کا چہرہ نظر نہ آئے اور یہی پردہ مروجہ ہے جو شروع اسلام سے اب تک مسلمانوں میں رائج ہے جس کو اس زمانہ کے شہوت پرست ختم کرنا چاہتے ہیں اللہ ان کو ہدایت دے اور مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے بچائے۔ آمین۔
اور اگر سر اور چہرہ چھپانے میں بلا قصد اور بلا ارادہ کوئی کوتاہی یا بےاحتیاطی ہوجائے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے ایسے گناہ اور کوتاہی کو بخش دیتا ہے جو بربنائے غفلت صادر ہوجائے اور قصد اور ارادہ کو اس میں دخل نہ ہو۔ مدینہ کے منافق اور فساق اور اوباش راہ چلتی عورتوں کو چھیڑتے تھے خصوصا رات کے وقت جب عورتیں قضا حاجت کے لئے نکلتیں پھر جب عورت کو چادر اوڑھے ہوئے دیکھتے تو یہ کہتے کہ یہ آزاد عورت ہے اور اسے نہ چھیڑتے اور اگر دیکھتے کہ اس پر چادر نہیں تو کہتے کہ یہ باندی ہے اور اسے چھیڑنے کی فکر کرتے۔ منافقین کا ایک فتنہ تو یہ تھا اور ایک فتنہ یہ تھا کہ منافقین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹی خبریں اڑایا کرتے تھے اس آیت میں پہلے فتنہ کا یعنی آزاد عورتوں کی حفاظت کا انتظام فرما دیا۔ اب آئندہ آیت میں عام چھیڑ چھاڑ کی نسبت دھمکی دیتے ہیں تاکہ وہ اس تہدید اور دھمکی کو سن کر بی بی ہو یا لونڈی ہو سب کی چھیڑ چھاڑ سے باز آجائیں۔
چناچہ فرماتے ہیں البتہ اگر یہ منافقین اور ان میں کے وہ لوگ جو شہوت پرست ہیں اور جن کے دلوں میں عورتوں کے دیکھنے کا روگ لگا ہوا ہے یہ لوگ اگر اپنی شرارتوں سے اور اپنی بدنظری سے اور عورتوں کے چھیڑنے سے باز نہ آئے اور علی ہذا وہ لوگ بھی جو مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑانے والے ہیں یہ لوگ جھوٹی خبریں اڑانے سے باز نہ آئے تو البتہ ہم آپ ﷺ کو ان سب پر مسلط کردیں گے آپ ﷺ ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیں۔ پھر وہ لوگ آپ کے ساتھ مدینہ میں رہنے نہیں پائیں گے مگر بہت تھوڑی مدت جلدی ہی شہر بدر کر دئیے جائیں گے۔ لعنت کے مارے پھٹکارے ہوئے ہوں گے مگر کہیں بچ نہیں سکیں گے اور ایسے ذلیل و خوار ہوں گے کہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے یعنی کہیں بھی بھاگ کر جائیں گے وہیں گرفتار ہوں گے اور قید کے جائیں گے اور سب قتل کئے جائیں گے کہیں ان کو پناہ نہیں ملے گی۔
اللہ کا یہی طریقہ اور دستور رہا ہے گزشتہ لوگوں کے بارے میں جنہوں نے نفاق پر کمر باندھی اور شرارتیں کیں اول اللہ نے ان کو مہلت دی بالآخر جب ان کے نفاق کا پردہ چاک ہوگیا تو ان کو گرفتار کر کے خوب قتل کیا اور آپ ﷺ اللہ کے اس طریقہ اور دستور میں ہرگز کوئی تغیر وتبدل نہ پائیں گے مدینہ کے منافقین اگر عورتوں کو چھیڑنے سے اور جھوٹی خبریں اڑانے سے باز نہ آئے تو ان کا بھی یہی انجام ہوگا۔
چناچہ جس وقت سورة توبہ نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے منافقین کو مسجد میں جمع کر کے خطبہ دیا اور خطبہ کے بعد نام بنام فرمایا اے فلانے تو کھڑا ہو اور نکل جا۔ تو منافق ہے پھر ان منافقوں کے قرابت دار جو مومنین صالحین تھے اٹھے اور اٹھ کر ان منافقین کو ذلت و خواری کے ساتھ مسجد سے نکال دیا۔ (تفسیر قرطبی ص 247 ج 14)
: اس آیت میں جو لفظ بنتک آیا ہے وہ صراحۃً اس پر دلالت کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی متعدد صاحبزادیاں تھیں مگر روافض خوافض۔ حضرت رقیہ ؓ اور حضرت ام کلثوم ؓ کو اولاد رسول سے خارج سمجھتے ہیں اس لئے کہ ان کا نکاح حضرت عثمان ؓ سے ہوا تھا۔ ان کا یہ خیال سراپا اختلال صریح نص قرآنی کے خلاف ہے۔
Ayahs 33:63–68تہدید ووعید منافقین ومنکرین قیامت
مقرون بہ لعنت عذاب آخرت
قال اللہ تعالی۔ یسئلک الناس عن الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ والعنہم لعنا کبیرا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت کی تہدید تھی آپ ﷺ جب کبھی منکرین حق کو آئندہ آنے والے عذاب اور قیامت سے ڈراتے تو وہ بطور تمسخر یہ سوال کرتے کہ قیامت کب ہوگی اور اس قسم کے معاندانہ سوال سے محض آپ ﷺ کو تنگ کرنا اور ایذا دینا مقصود ہوتا تھا تو اس کا جواب دیا گیا کہ قیامت کا اصل وقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن سمجھ لو کہ شاید وہ قریب ہی نہ ہو اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں جیسے یہ دو انگلیاں اور دو انگلیاں ملا کر دکھلایا کہ جس طرح یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں اسی طرح قیامت کبری اور میری بعثت ملی ہوئی ہے۔ جب ان لوگوں پر کوئی ناگہانی عذاب آئے گا تو اس وقت پچھتائیں گے مگر اس وقت پچھتانا کچھ فائدہ مند ہوگا۔
یا یوں کہو : کہ گزشتہ آیت میں منافقین اور مرجفین کی دنیاوی ذلت اور لعنت کو بیان کیا اور اس آیت میں ان کی اخروی ذلت کو بیان کرتے ہیں (شیخزادہ حاشیہ بیضاوی ص 76 ج 4) چناچہ فرماتے ہیں کہ یہ منافق لوگ جو منافقین اور معاندین کے بارے میں اللہ کی سنت سے غافل ہیں وہ آپ ﷺ سے معاندانہ طور پر سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت کے وقت کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اللہ نے کسی ملک مقرب اور نبی مرسل کو بھی اس کی اطلاع نہیں دی اور آپ کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہو جب سارے نبی گذر چکے اور نبی آخرالزمان ﷺ بھی آچکے تو سمجھ لو کہ قیامت قریب ہی ہے اس فکر میں مت پڑو کہ قیامت کب آئے گی اس کا سامان کرو اور اس کی تیاری کرو تم سارے جہان کی قیامت کو کیا پوچھتے ہو تمہاری قیامت یعنی تمہاری موت کہیں سر پر نہ کھڑی ہو بیشک اللہ نے دور پھینک دیا ہے کافروں کو اپنی رحمت سے جو نبی کریم ﷺ کی نبوت اور قیامت کے منکر ہیں اور دہکتی ہوئی آگ کا عذاب ان کے لئے تیار کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور نہ پائیں گے کوئی دوست اور نہ مددگار جو ان سے عذاب کو ہٹا سکے جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے یعنی سوختہ کباب کی طرح بنادئیے جائیں گے کباب کے گوشت کی طرح با ربار ان کو آگ پر رکھا جائے گا اور وہ اس وقت یہ تمنا کریں کہ کاش ہم دنیا میں اللہ اور رسول کی تابعداری کرتے پھر جن کافروں نے ان کو گمراہ کیا تھا ان کی شکایت کریں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں کی اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی پس ان لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا اے ہمارے پروردگار ان کو ہم سے دو چند عذاب دے اور ان پر بہت ہی بڑی لعنت کیجئے خود بھی گمراہ رہے اور ہم کو بھی گمراہ کیا ان پر دو چند عذاب نازل کیجئے اور سخت لعنت کیجئے اب آئندہ آیت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ادب سکھاتا ہے کہ تم کافروں کی طرح یا قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح اپنے نبی کو کسی قسم کی ایذاء نہ پہنچاؤ۔