33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 33:9–27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

مومنو ! خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جو (اس نے) تم پر (اس وقت کی) جب فوجیں تم پر حملہ کرنے کو) آئیں تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل) کئے جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان کو دیکھ رہا ہے

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ خدا اور اس کے رسول نے تو ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی کہ اے اہل مدینہ (یہاں) تمہارے لئے (ٹھہرنے کا) مقام نہیں تو لوٹ چلو اور ایک گروہ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگنے اور کہنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر ان سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً ) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کرچکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اس) کی ضرور پرسش ہوگی

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے جانے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے (تو کون اس کو ہٹا سکتا ہے ؟ ) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو اپنا نہ دوست پائیں گے اور نہ مددگار

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

خدا تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو (لوگوں کو) منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کم

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) انکی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دئیے اور یہ خدا کو آسان تھا

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

(خوف کے سبب سے) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں رہیں (اور) تمہاری خبریں پوچھا کریں اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار انہوں نے خدا سے کیا تھا اسکو سچ کر دکھایا تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا (چاہے) تو ان پر مہربانی کرے بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور جو کافر تھے ان کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو انکے قلعوں سے اتار دیا اور انکے دلوں میں دہشت ڈال دی تو کتنوں کو تم قتل کردیتے تھے اور کتنوں کو قید کرلیتے تھے

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور انکی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنادیا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

ذکر قصہ غزوۂ احزاب وغزوۂ بنی قریظہ قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ علی کل شیء قدیرا۔ (ربط) اس قصہ کے ذکر کرنے سے منافقین اور مخالفین کی ایذا رسانیوں اور دلخراش زبان درازیوں کا جواب دینا مقصود ہے اور یہ بتلانا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کس درجہ اللہ کے محبوب ہیں اور منصور اور موید من اللہ ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں کس طرح مدد فرماتے ہیں اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے اس سے آپ کی نبوت و رسالت بھی ثابت ہوئی اور منافقین اور مخلصین کا امتیاز ظاہر ہوا منافقین جو کاذبین کا گروہ تھا ان کا کذب اور نفاق ظاہر ہوا اور آپ ﷺ کے محبین (ف 1) صادقین کی صداقت اور استقامت ظاہرہوئی اور خبیث اور طیب کی تمیز قرآن کریم کے اعظم مقاصد میں سے ہے۔ نیز اس غزوہ میں جو واقعات پیش آئے ان سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ جو خدا سے ڈرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا دو رکوع تک یہی مضمون چلا گیا ہے جو قصہ ان آیات میں مذکور ہے وہ اللہ کی عجیب و غریب نعمتوں اور کرامتوں پر مشتمل ہے ان دونوں غزو وں میں اللہ تعالیٰ نے غیبی طور پر آپ ﷺ کو کامیابی عطا فرمائی جس سے آپ کی اور مسلمانوں کی پریشانی دور فرمائی اور احزاب کثیرہ جو مدینہ پر چڑھ کر آئے تھے خدا تعالیٰ نے اپنے قہر سے بغیر قتال کے سب کو بھگا دیا اور گذشتہ سورت کے اخیر میں کافروں کا قول نقل کیا تھا ویقولون متی ھذا الفتح ان کنتم صادقین اس کا جواب ہوگیا اور اس فتح میں جن معجزات بدیعہ کا ظہور ہوا وہ کتب حدیث میں مفصل مذکور ہیں۔ اس غزوہ کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ ہجرت کے چوتھے یا پانچویں سال جب یہود بنی نضیر مدینہ سے نکالے گئے (جن کا ذکر سورة حشر میں آئے گا) تو یہ لوگ خیبر میں چلے گئے اور خیبر اس وقت یہود سے بھرا ہوا تھا اور وہاں ان کے بڑے قلعے اور باغات اور عمارتیں تھیں جس کو آنحضرت ﷺ نے سنہ سات ہجری میں فتح کیا ان لوگوں نے قبائل عرب میں پھر کر مشرکین کو مدینہ پر چڑھائی کے لئے آمادہ کیا تاکہ جب سب متحدہ قوت اور طاقت سے مدینہ پر حملہ کریں گے تو ضرور کامیاب ہوں گے اور مسلمانوں کا یکلخت خاتمہ ہوجائے گا اور یہود مدینہ نے بھی باوجود آپ ﷺ سے معاہدہ کے یہود بنی نضیر کا ساتھ دیا ان سب یہودیوں نے قریش کو اور دیگر قبائل عرب کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر اکسایا اور کہا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں یہاں تک کہ اس مدعی نبوت کا قضیہ پاک ہوجائے چناچہ نبی نضیر اور دیگر سرداران یہود کے بہکانے سے قریش مکہ اور دیگر قبائل عرب بسر داری ابوسفیان بن حرب تقریبا دس بارہ ہزار کی تعداد میں لشکر جرار لے کر اچانک مدینہ پر حملہ آور ہوئے اور چاروں طرف سے مدینہ کا محاصرہ کرلیا مسلمانوں نے جب اس کثیر تعداد فوج کو دیکھا تو پریشان ہوئے یہود نبی قریظہ جن کا ایک قلعہ مدینہ منورہ کے شرقی جانب میں تھا وہ پہلے سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ معاہدہ کئے ہوئے بنو نضیر کی ترغیب وترہیب سے بنی قریظہ نے اپنے سابق معاہدہ کو بالائے طاق رکھ دیا اور حملہ آوروں کی مدد کے لئے کھڑے منافقین اس حالت کو دیکھ کر طرح طرح کی بولیاں بولنے لگے اور کہنے لگے کہ نبی ﷺ جو یہ کہتے تھے کہ اللہ نے ان سے فتح اور نصرت کا وعدہ کیا تھا اور ہم کو کہتے تھے کہ فتح کا انتظار کرو کما قال تعالیٰ وانتظر انہم منتظرون وہ جھوٹا ہوتا نظر آتا ہے اب مشرکین عرب مدینہ کو فتح کر کے ہم کو پامال کریں گے اور جو مخلص ایماندار تھے اور ایمان میں صادق اور سچے تھے وہ یہ کہتے تھے کہ اللہ نے جو اپنے رسول سے وعدہ نصرت کیا ہے وہ حق اور صدق ہے یہ ظاہری حالت من جانب اللہ آزمائش ہے تاکہ کھرا اور کھوٹا معلوم ہوجائے۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے بالآخر سلمان فارسی ؓ کے مشورہ سے آپ ﷺ نے مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا اس لئے یہ غزوہ، غزوۂ خندق کہلایا سلمان فارسی ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ جب ہم فارس میں محصور ہوجایا کرتے تھے تو اپنے گردا گرد خندق کھود لیا کرتے تھے تاکہ دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوجائیں رسول اللہ ﷺ نے اس رائے کو پسند فرمایا۔ اور تمام مسلمانوں نے اور خود رسول اللہ ﷺ نے ان کے شریک حال ہو کر خندق کھودی تقریبا ایک مہینہ تک مدینہ کا محاصرہ رہا دشمنوں کا لشکر دونوں طرف سے مدینہ کو گھیرے ہوئے تھا دونوں فوجیں آمنے سامنے پڑی تھیں اور درمیان میں خندقیں حائل تھیں درمیان میں خندق حائل ہونے کی وجہ سے کھل کر حملہ نہ ہوسکا اور باضابطہ قتل و قتال کی نوبت نہیں آئی دور سے تیر اندازی ہوتی رہتی تھی اور کبھی قریب سے بھی دو دو چار چار آدمیوں کا مقابلہ ہوجاتا تھا مسلمان سخت ابتلا میں تھے کہ دشمن ہر طرف سے چھایا ہوا تھا بیس پچیس روز تک یہی کیفیت رہی اور بنی قریظہ جن کا آنحضرت ﷺ سے عہدوپیمان تھا وہ آپ ﷺ سے کنارہ کش ہو کر اپنے قلعہ میں محفوظ ہوگئے اور قلعہ کا دروازہ بند کرلیا۔ بالآخر حسب وعدہ الٰہی غیبی مدد پہنچی اور خدا نے رات کے وقت ایسی شدت کی آندھی بھیجی کہ کافروں کے تمام ڈیرے اکھڑگئے اور ریت اور سنگریزے اڑ اڑ کر کافروں کے منہ پر لگنے لگے اور ان کے تمام چولہے بجھ گئے سواروں اور گھوڑوں کے بھی پیر اکھڑ گئے اور لشکر میں بھگڈر پڑگئی اور ہر طرف سے یہ آواز آنے لگی اٹھو اور چلو سردی اور ٹھنڈی اور تیز ہوا اور رات کی تاریکی کی وجہ سے ٹھہرنا مشکل ہوگیا اور بدحواس ہو کر کہنے لگے کہ واللہ محمد ﷺ نے تم پر جادو کردیا ہے بالآخر ابو سفیان جس کے ہاتھ میں لشکر کی کمان تھی اس نے کوچ کا طبل بجا دیا جب صبح ہوئی تو وہی مدینہ جو شروع رات میں دشمنوں کے نرغہ میں تھا دشمنوں سے خالی ہوگیا اور جو بڑے دم خم اور دعوؤں سے آئے تھے سب بےنیل مرام واپس گئے اور ذلیل و خوار ہو کر کوچ کر گئے اور اس غیبی مدد سے مسلمانوں کی پریشانی دور ہوئی اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ تم جو کہتے تھے متی ھذا الفتح ان کنتم صادقین دیکھو کہ اللہ تعالیٰ صادقین کو اس طرح فتح دیتا ہے اور کاذبین کو ذلیل و خوار کر کے اس طرح بھگاتا ہے اس لئے تذکیر نعمت سے اس قصہ کا آغاز فرماتے ہیں اے ایمان والو ! تم اس نازک وقت میں اپنے اوپر اللہ کا انعام یاد کرو کہ اس نے بغیر قتال ہی کے تم کو کافروں پر غلبہ دیا اور کافروں کو باوجود پورے سازوسامان کے ذلت و خواری کے ساتھ میدان جنگ سے بھگایا اللہ تعالیٰ کا ایسا انعام ایسے ہی لوگوں پر ہوتا ہے جو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوں اور اپنے وعدوں پر سچے ہوں اور منافقین کے کہنے پر نہ چلتے ہوں اور صرف اللہ سے ڈرتے ہوں اور اسی کے حکم پر چلتے ہوں جس وقت کہ دشمنوں کے لشکر اور ان کی فوجیں تمہارے سر پر آپہنچیں قریش مکہ اور غطفان اور کنانہ اور بنو قریظہ اور بنو نضیر یہ تمام جماعتیں متفقہ طور پر تم پر آچڑھیں تو ہم نے دشمنان اسلام پر ایک تیز ہوا بھیجی جس نے ان کے تمام خیمے اکھاڑ دئیے اور ان کے گھوڑے چھوٹ گئے اور آگیں بجھ گئیں اور مٹی ان کے منہ میں آکر لگنے لگی اور کافروں کی فوجیں گھبرا کر بھاگ کھڑی ہوئیں اور وہ آندھی (ف 1) باوجود اس زور اور شدت باوجود اس زور اور شدت کے ان سے متجاوز نہیں ہوئی صرف کفار کے لشکر تک محدود رہی جیسا کہ فارسلنا علیہم ریحا کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آندھی صر کافروں پر بھیجی گئی تھی اور مسلمانوں پر نہیں بھیجی گئی تھی اور اہل اسلام کی مدد کے لئے ہم نے فرشتوں کے لشکر بھیجے جن کو تم نے نہیں دیکھا فرشتوں کے لشکروں نے اگرچہ جنگ بدر کی طرح کافروں سے قتال نہیں کیا مگر ان کے دل میں رعب ڈالتے تھے اور لشکر کے اطراف و جوانب میں بآواز بلند اللہ اکبر کہتے تھے دیکھو روح المعانی ص 139 ج 21۔ 1 کما فی روایۃ حذیفۃ عند ابن کثیر واذا الریح فی عسکرہم ما تجاوز عسکرہم شبرا الخ تفسیر ابن کثیر ص 472 ج 3۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار کے لشکر میں یکلخت سراسیمگی پھیل گئی اور سراسیمگی اور پریشانی سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر قبیلہ کا سردار اپنے لوگوں سے کہنے لگا چلو چلو بھاگو بھاگو اور بعض بدحواس ہو کر یہ کہنے لگے کہ واللہ محمد ﷺ نے تم پر جادو کردیا ہے اب تم یہاں نہیں ٹھہر سکتے لہٰذا کوچ کر جاؤ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھنے والا تھا کہ آندھی سے دشمنوں کو ہلاک کیا اور اپنے دوستوں اور وفاداروں یعنی صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو محفوظ رکھا لہٰذا اے مسلمانو ! تم کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی اس تازہ نعمت کا شکر کرو اور یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا کہ جب وہ احزاب یعنی کافروں کی مختلف جماعتیں ہر طرف سے تم پر چڑھ کر آئیں تمہارے اوپر کی جانب سے بھی اور تمہاری نیچی جانب سے بھی یعنی کوئی قبیلہ مدینہ منورہ کی اونچی جانب سے آیا اور کوئی نیچی جانب سے اور دونوں جانب سے تم کو محاصرہ میں لے لیا ہے اور جب کہ ان کی کثرت اور ہیبت دیکھ کر دہشت کے مارے نظریں خیرہ ہوگئیں اور خوف کے مارے دل حلقوم تک آلگے اور نکلنے کے قریب ہوگئے اور تم لوگ اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کرنے لگے اہل ایمان کا گمان یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ لشکر اسلام کو ضرور فتح دے گا اور منافقوں کا گمان یہ تھا کہ اب اسلام اور مسلمان ختم ہوئے ایسے ہی شدید وقت میں اہل ایمان کا امتحان کیا گیا تاکہ ثابت قدم اور متزلزل اور صادق اور منافق ایک دوسرے سے ممتاز ہوجائے سو الحمد للہ مسلمان امتحان میں پورے اترے اور منافقین کا نفاق ظاہر ہوگیا اور اس موقع پر اہل ایمان خوف اور دہشت کے ساتھ خوب ہلائے گئے اور جھڑ جھڑائے گئے اور اس شدت اور دہشت کو دیکھ کر منافقین اور جن کے دلوں میں ضعف ایمان کی بیماری تھی یہ کہہ رہے تھے کہ نہیں وعدہ کیا ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے اسلام اور مسلمانوں کے غلبہ کا مگر محض دھوکہ اور فریب کے طور پر یعنی یہ کہنا کہ اللہ نے مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے محض دھوکہ اور فریب ہے اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب اس واقعہ میں منافقین میں سے ایک گروہ نے دوسرے حاضرین معرکہ سے کہا اے اہل یثرب یعنی اے اہل مدینہ یہ تمہارے رہنے اور ٹھہرنے کی جگہ نہیں پس تم اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹ جاؤ یا اپنے سابق آبائی دین کی طرف لوٹ جاؤ یہ قول اوس بن قبطی کا تھا جس میں کچھ اور لوگ بھی اس کے ہمنوا تھے اور ان میں کا ایک فریق اللہ کے نبی سے گھر جانے کی اجازت مانگتا تھا یہ لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارے گھر بےپردہ اور غیر محفوظ ہیں حالانکہ ان کے گھر ان کے خیال میں بھی خالی اور غیر محفوظ نہ تھے ان کا ارادہ اور نیت محض لڑائی سے بھاگنے کی تھی اور ان کا اندرونی حال تو یہ ہے کہ اگر مدینہ میں لشکر کفار دفعتہ تمام اطراف اور جوانب سے داخل ہوجائے اور یہ لوگ اپنے گھروں میں محفوظ ہوں پھر ان سے فتنہ فساد یعنی مسلمانوں سے لڑنے کی درخواست کی جائے تو فورا اس فتنہ اور فساد میں شرکت کو منظور کریں گے اور نہیں دیر کریں گے مگر بہت تھوڑی یعنی یہ سنتے ہی مسلمانوں سے مقابلہ اور مقاتلہ کے لئے تیار ہوجائیں گے اور دیر نہ کریں گے مگر صرف اتنی جتنی کہ سوال واجواب اور ہتھیار لگانے اور گھر سے نکلنے میں دیر لگتی ہے معلوم ہوا کہ ان کا دل اسلام اور مسلمانوں کی عداوت سے بھرا ہوا ہے یہ لوگ مسلمانوں کی فتح ونصرت ہرگز نہیں چاہتے اور البتہ تحقیق ان لوگوں نے اس واقعہ سے قبل جنگ احد میں اللہ سے پختہ اور مضبوط عہد کیا تھا کہ آئندہ ہم کافروں سے جہاد میں پشت نہیں پھیریں گے بتلائیں کہ وہ عہد کہاں گیا اور اللہ کے عہد ضرور باز پرس ہوگی اور اگر یہ کہیں کہ ہم نے موت کے ڈر سے ایسا کیا تو کہہ دیجئے کہ اگر تم موت یا قتل سے بھاگنا چاہتے ہو تو یہ بھاگنا تم کو ہرگز نفع نہیں دے گا موت کا وقت مقرر ہے پھر اگر بھاگ کر موت یا قتل سے فی الحال بچ بھی گئے تو نہ فائدہ پہنچائے جاؤ گے مگر تھوڑا زمانہ یعنی بقیہ عمر مقدر اس واسطے کہ آخر فنا ہے اور اگر ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے قلعے اور محلات ان کے محافظ اور نگہبان ہیں تو اے نبی آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ بتلاؤ کہ کون ہے جو تم کو اللہ کی گرفت سے بچائے اگر اللہ تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے یعنی وہ قادر مختار اگر تمہارے قتل کا یا شکست اور خواری کا ارادہ فرمادے تو کون ہے جو اس کو روک دے اور سن لیں کہ نہیں پائیں گے یہ لوگ اپنے لئے اللہ کے سوا کوئی دوست جو ان کو نفع پہنچائے اور نہ کوئی یارومدد گار جو ان سے ضرر کو دفع کرسکے اثنا کلام میں مسئلہ قضا وقدر کو ذکر فرما دیا اب آئندہ آیات میں پھر منافقین کے وساوس اور بزدلی کو ذکر کر کے ان کی تشنیع فرماتے ہیں تحقیق اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو دوسروں کو لڑائی میں جانے سے روکتے ہیں جو اپنے نسبی یا وطنی بھائیوں سے یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی طرف نہ جاؤ بلکہ ہماری طرف آجاؤ سلامت رہو گے مسلمانوں کی طرف جا کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور ان کی بزدلی کا حال یہ ہے کہ نہیں آتے یہ منافق لڑائی میں مگر بہت تھوڑا کبھی کبھی دکھانے اور سنانے کے لئے آجاتے ہیں درآنحالیکہ یہ منافقین تمہاری جانی اور مالی مدد کرنے میں بڑے بخیل ہیں ان کے دل حرص اور طمع سے بھرے ہوئے ہیں کسی وقت اگر لڑائی میں شرکت کرتے ہیں تو اس طمع کی بنا پر شرکت کرتے ہیں کہ مال غنیمت کا ہم کو استحقاق ہوجائے پھر جب کبھی خوف کا موقع پیش آئے تو آپ ان کو اس حالت میں دیکھیں گے کہ یہ لوگ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں ان کے گڑھوں میں حیرت اور دہشت سے ایسی چکراتی ہیں جیسے وہ شخص کہ جس پر موت کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی ہو تو اس کے ہوش و حواس جاتے رہتے ہیں اور اس کی نگاہ اوپر کو چڑھ جاتی ہے پھر وہ پلک نہیں مار سکتا اسی طرح لڑائی کے وقت نامردوں کا حال ہوتا ہے کہ خوف کی وجہ سے ان کی آنکھیں اوپر کو چڑھ جاتی ہیں پھر جب وہ خوف چلا جاتا ہے اور ڈر کا وقت نکل جاتا ہے اور امن ہوجاتا ہے تو تیز زبانوں سے تم پر زبان درازی کرتے ہیں درآنحالیکہ مال غنیمت کے بارے میں سخت حریص ہوتے ہیں یعنی فتح کے بعد اپنی بہادری جتلاتے ہیں اور چڑھ چڑھ کے باتیں کرتے ہیں کہ ہماری پشت پناہی سے تم کو فتح حاصل ہوئی لہٰذا مال غنیمت سے ہم کو بھی حصہ دو ان لوگوں کو اللہ کی باتوں پر یقین نہیں پس اللہ نے ان کے اعمال کو ملیامیٹ کردیا اور ان کا جہاد اور ان کا کوئی عمل اللہ کے یہاں مقبول نہیں اور یہ بات اللہ پر بہت آسان ہے جس کو چاہے توفیق دے اور جس کو چاہے محروم کرے ان آیات میں منافقین کی تیز زبانی کو بیان کیا اب آئندہ آیات میں مزید ان کی بزدلی اور نامردی کو بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ ان کی بزدلی کا حال یہ ہے کہ احزاب (کفار کی فوجیں) ناکام اور واپس جا چکی ہیں مگر یہ منافقین خوف اور دہشت کے مارے ابھی یہی گمان کئے ہوئے ہیں کہ وہ احزاب یعنی کافروں کی جماعتیں اور ان کی فوجیں واپس نہیں گئیں اور اگر بالفرض کافروں کی یہ فوجیں دوبارہ چڑھ آئیں تو یہ منافقین خوف کے مارے یہ تمنا کریں گے کہ کاش ہم مدینہ میں نہ رہیں بلکہ جنگل میں جا کر بدویوں کی طرح صحرا نشین ہوجائیں اور وہاں بیٹھے بیٹھے تمہاری خبریں پوچھتے رہیں اور بغیر اس کے کہ لڑائی اپنی آنکھوں سے دیکھیں دور بیٹھے بیٹھے ہی آنے جانے والوں سے مسلمانوں کا اور لڑائی کا حال پوچھ لیا کریں کہ کیسا ہے اور وہاں کیا ماجرا گذرا ہے اور اگر اتفاق سے یہ لوگ دیہات میں نہ جائیں بلکہ تمہارے ہی درمیان یعنی مدینہ ہی میں رہیں اور دشمنوں سے مقابلہ ہو تو نہ قتال کریں مگر بہت تھوڑا سا یعنی برائے نام جس سے یہ کہہ سکیں کہ ہم نے بھی شرکت کی۔ اب ان آیات میں منافقین کی بزدلی کو بیان کیا آگے بتلاتے ہیں کہ ہمت اور شجاعت رسول خدا کے اتباع سے حاصل ہوتی ہے چناچہ فرماتے ہیں البتہ تحقیق تمہارے لئے رسول خدا کے اندر عمدہ نمونہ ہے کہ دیکھو رسول خدا ان سختیوں اور مصیبتوں میں ثابت قدم رہے اہل ایمان کو چاہئے کہ آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلیں پس رسول خدا ﷺ ہی کی چال چلنی بہتر ہے اس شخص کے لئے کہ جو اللہ کے ثواب کی امید رکھتا ہو اور روز آخرت سے ڈرتا ہو اور اللہ کو بہت یاد رکھتا ہو یعنی اپنے خدا سے غافل نہ ہو تو ایسے شخص کو چاہئے کہ ہر معاملہ میں حضور پر نور ﷺ کی ذات با برکات کی پیروی کرے اور شدائد اور مصائب میں صبر اور استقامت سے کام لے تو انشاء اللہ ضرور اس کو کامیابی ہوگی آخر دیکھو کہ آنحضرت ﷺ نے پیغام الٰہی کے پہنچانے میں مشرکین کی ایذاؤں پر کتنا صبر کیا اور پھر ہجرت کی خویش و اقارب اور وطن سب کو چھوڑا اور پھر دشمنان خدا سے جہاد کیا اور طرح طرح کی ایذائیں برداشت کیں۔ اب آگے ان منافقین کے مقابلہ میں مومنین مخلصین کے صدق اور اخلاص کا ذکر ہے آنحضرت ﷺ نے اہل اسلام کو یہ خبر دی تھی کہ احزاب یعنی کفار کے لشکر تم پر چڑھ کر آئیں گے جس سے تم پر کام سخت ہوجائے گا لیکن بالآخر تم ہی ان پر فتح پاؤ گے چناچہ فرماتے ہیں اور جب مومنین مخلصین نے احزاب یعنی کفار کے لشکروں کو آتے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ وہی شے ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور ان احزاب کے دیکھنے سے ان کے ایمان اور تسلیم میں اور ترقی ہوگئی یعنی ان کا یقین بڑھ گیا اور فرمانبرداری اور جاں نثاری اور زیادہ ہوگئی اور کہنے لگے کہ یہ تو وہی بات ہے جس کی ہم کو اللہ اور اس کے رسول نے پہلے ہی سے خبر دے دی تھی آج ہم نے اس کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا یہ حال دیکھ کر ان کا ایمان استدلال ایمان شہودی اور عیانی بن گیا یہ تو عام مومنین مخلصین کا حال تھا اب آئندہ آیت میں بعض خاص الخاص مومنین صادقین کا حال ذکر کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں منجملہ ان مومنین مخلصین سے کچھ ایسے مردان خدا بھی ہیں کہ جنہوں نے سچ کر دکھایا اس بات کو جس کا انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا جیسے انس بن النضر ؓ اور ان کے رفقا جو اتفاق سے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے تو ان کو اس کا بہت افسوس ہوا کہ میں پہلے غزوہ میں لڑائی سے غائب رہا اور کہنے لگے کہ اگر خدا تعالیٰ نے پھر کافروں سے جہاد کا موقعہ دیا تو خدا دیکھ لے گا کہ میں اس کی راہ میں کیا کرتا ہوں پھر ان معاندین کی دو قسمیں ہوگئیں بعضے تو وہ ہیں کہ جو اپنی نذر کو پوری کرچکے اور خدا کی راہ میں ایسی جانبازی اور سرفروشی دکھلا کر شہید ہوگئے جیسے انس بن النضر ؓ اور مصعب بن عمیر ؓ اور حمزہ ؓ یہ لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی وفا کی اور اپنی نذر سے فارغ ہوئے اور بعضے ان میں سے دو ہیں کہ جو وقت کے منتظر ہیں جیسے عثمان ؓ اور طلحہ ؓ کہ ابھی شہید نہیں ہوئے مگر شہادت کے مشتاق ہیں اور انہوں نے ذرہ برابر اپنا عہد بدلا نہیں اپنے عہد پر قائم ہیں اپنی بات سے پھرے نہیں ان لوگوں نے اپنے عہد کو نہ توڑا اور نہ بدلا اہل صدق اور اہل وفا کا یہی حال ہوتا ہے بخلاف منافقین کے کہ وہ اپنے عہد پر قائم نہیں رہتے جیسا کہ منافقین کے بیان میں گذر چکا ہے ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل لا یولون الادبار۔ اب آئندہ آیت میں اس غزوہ کی حکمت بیان کرتے ہیں کہ یہ غزوہ منجانب اللہ ابتلا اور امتحان تھا جس سے مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ محبین صادقین کو ان کے صدق اور اخلاص کی جزا دے اور منافقوں اور جھوٹوں کو عذاب دے اگر چاہے کہ وہ نفاق پر مریں یا ان کو توبہ کی توفیق دے اگر چاہے کہ ان کی مغفرت کرے یہ سب لوگ اللہ کی زیر مشیت ہیں بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے کہ جس کو چاہتا ہے تو بہ کی توفیق عطا کر کے اس کی مغفرت کردیتا ہے۔ اب آگے اس غزوہ کے انجام اور آخرت حالت کو بیان کرتے ہیں اور اس لڑائی کا انجام یہ ہوا کہ بیس پچیس روز بعد ان تمام کافر جماعتوں کو جو مدینہ پر چڑھ کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے غیظ سمیت بےنیل مرام واپس کردیا یعنی جس طرح غصہ میں بھرے ہوئے آئے تھے اسی طرح غصہ میں بھرے ہوئے ناکام واپس ہو اور دل کی بھڑاس نہ نکال سکے اور کسی بھلائی کو نہیں پہنچ سکے اور اللہ تعالیٰ نے بادصبا عطا کی اور بلا جنگ وجدال کے دشمنوں کو ان کے بلاد سے نکال باہر کیا اور اس آیت وکفی اللہ ال مومنین القتال میں اشارہ اس طرف ہے کہ اب مسلمانوں اور قریش کے درمیان لڑائی ختم ہوئی جیسا کہ حدیث میں ہے کہ احزاب کی واپسی کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا الان نغزوہم ولا یغزوننا (بخاری) اب ہم مشرکین عرب پر چڑھ کر جائیں گے اور ان پر حملہ آور ہوں گے اب آئندہ ان میں اتنی طاقت اور ہمت نہیں رہی کہ وہ ہم پر حملہ آور ہوں چناچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ ان پر چڑھ کر گئے اور مکہ فتح کیا اور اس طرح کافروں کی جماعتوں کو ہٹا دینے اور بھگا دینے کو عجیب نہ سمجھو کیونکہ اللہ تعالیٰ زور آور زبردست ہے اسے یہ کام کوئی دشوار نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی حول اور قوت سے ان کو اس طرح غائب دخاسر پھیر دیا۔ ذکر غزوہ بنی قریظہ یہاں تک احزاب مشرکین کا حال بیان ہوا اب آئندہ آیات میں دشمنان اسلام کے دوسرے گروہ یعنی یہود بنی قریظہ کا حال بیان کرتے ہیں جس کا مختصر حال یہ ہے کہ یہود بنی قریظہ مدینہ کے قریب آباد تھے اور ان کا ایک مضبوط قلعہ تھا اور پہلے سے مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کئے ہوئے تھے جنگ احزاب کے موقعہ پر جب مشرکین عرب کے مختلف قبائل مدینہ پر چڑھ کر آئے تو یہود بنی قریظہ نے مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی کی اور احزاب کی معاونت کی اور ان کی ساتھ مل گئے جب اللہ تعالیٰ نے بادصبا اور فرشتوں سے اہل اسلام کی مدد کی اور احزاب کفار سراسیمہ ہو کر بھاگ گئے تو یہود بنی قریظہ جو احزاب کی مدد کر رہے تھے وہ اپنے مضبوط قلعوں میں جا گھسے ان کے بارے میں اللہ کا حکم نازل ہوا کہ احزاب کے چلے جانے کے بعد ان کا محاصرہ کیا جائے آنحضرت ﷺ جنگ احزاب سے فارغ ہو کر غسل وغیرہ میں مشغول تھے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) تشریف لے آئے اور ان کے چہرہ پر غبار کا اثر تھا فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے ہتھیار اتار دئیے اور فرشتوں نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے اللہ کا حکم ہے کہ آپ ﷺ بنی قریظہ پر حملہ کریں اور مجھ کو یہ حکم ہے کہ میں جا کر ان کو متزلزل کروں اور ان کے دلوں میں رعب ڈالوں حضور پر نور ﷺ کی طرف سے فورا منادی ہوگئی اسلامی لشکر نے پہنچ کر ان بدعہدوں کے قلعہ کا محاصرہ کیا چوبیس یا پچیس دن تک محاصرہ جاری رہا جب محاصرہ کی تاب نہ لاسکے تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیام بھیجنے شروع کئے آخر میں بات یہ ٹھہری کہ سعد بن معاذ ؓ (جو جاہلیت میں ان کے حلیف تھے) ہمارے حق میں جو فیصلہ کریں وہ ہمیں منظور ہے سعد بن معاذ ؓ (جو جاہلیت میں ان کے حلیف تھے) ہمارے حق میں جو فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے مرد قتل کئے جائیں اور زن و فرزند کنیز و غلام بنائے جائیں اور ان کے اموال اور جائیداد کے مسلمان مالک بنا دئیے جائیں اور کہا کہ وقت آگیا ہے کہ میں اللہ کے حق میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کروں یہاں تک احزاب کفار کا حال اور مآل بیان کیا جو بالذات مدینہ پر حملہ آور ہوئے اس کے بعد بنی قریظہ کا حال بیان کرتے ہیں کہ جو حملہ آوروں کے معین اور مددگار بنے چناچہ فرماتے ہیں کہ جن اہل کتاب نے احزاب کی مدد کی اور ان کی پشت پناہ بنے اور مسلمانوں سے جو عہد کیا تھا اس کو توڑا پچیس دن کے محاصرہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قلعوں سے نیچے اتارا اور ان کے دلوں میں پیغمبر خدا اور لشکر اسلام کا خوف ڈال دیا باجودیکہ ان کے لڑنے والے جوان آٹھ سو اور نو سو کے درمیان ہر طرح سے مسلح تھے مگر سعد بن معاذ ؓ کے فیصلہ کے بعد جب ان کی مشکیں باندھی گئیں اور ان کی گردن زدنی کے کے لئے کھائیاں اور گڑھے کھودے گئے تو اللہ نے ان کے دلوں میں ایسا رعب بھر دیا کہ سر کشی کی مجال نہ ہوئی حالانکہ یہ مسلح جماعت ایک بڑا لشکر تھا لیکن رعب کی وجہ سے اپنے آپ کو اہل ایمان کے سپرد کرتے تھے پس اے مسلمانو ! اللہ نے ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈالا کہ تم ان میں سے ایک فریق کو قتل کرتے تھے اور ایک فریق کو قید کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو ان غداروں کی زمین کا اور ان کے مالوں کا وارث بنا دیا جس طرح چاہو ان میں تصرف کرو چناچہ ان میں کے سات سو جوان قتل کئے گئے اور بچے اور عورتیں قید کر کے غلام بنا لئے گئے اور ان کے کھیت اور باغات اور زمینیں اور قلعے سب مسلمانوں پر تقسیم کر دئیے گئے جس سے مسلمان آسودہ حال ہوگئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں تم کو ایسی زمین کا وارث بنا رکھا ہے جس کو تمہارے قدموں نے ابھی نہیں روندا ہے اس سے آئندہ فتوحات کی طرف اشارہ ہے کہ سر زمین قریظہ کے بعد اور زمینیں بھی فتح ہوں گی بعض سلف کے نزدیک اس دوسری زمین سے خیبر کی زمین مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ فارس اور روم کی زمین مراد ہے اور امام ابن جریر (رح) وسلم فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو صدق اور اخلاص کے صلہ میں روئے زمین کا خلیفہ بنائے گا جیسا کہ دوسری جگہ صراحۃً اس کا ذکر ہے وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض مفصل تفسیر سورة نور میں گذرچ کی ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ وہ اپنے بےسروسامان محبین باوفا کو اپنے دشمنوں کی زمین کا وارث بنا دے۔
Ayahs 33:28–29

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواستگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح رخصت کردوں

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں ان کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

خطاب نصیحت مآب دربارہ مطالبہء ازواج مطہرات از زینت دنیا کہ ایں ھم نوع از ایذاء بود قال اللہ تعالیٰ یایھا النبی قل لازواجک۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ایذا رسول ﷺ کی ممانعت اور مذمت کا ذکر تھا اور منافقوں کی ایذاؤں اور مطاعن کا ذکر اور جواب تھا اب آئندہ آیات میں ازواج مطہرات کی طرف سے جو ایک غیر اختیاری طور پر آنحضرت ﷺ کو ایک قسم کی ایذا اور تکلیف پہنچی اس کا ذکر فرماتے ہیں جو اس سورت کے اعظم مقاصد میں سے ہے اور وہ تکلیف یہ تھی کہ ازواج مطہرات نے کچھ مزید نان ونفقہ کا مطالبہ کیا سو یہ مطالبہ بھی ایک قسم کی ایذا تھا اگرچہ ارادہ ایذا کا نہ تھا مگر بہرحال آپ ﷺ کی ناخوشی اور ناگواری کا باعث بنا اور یہ مطالبہ اگرچہ حقیقۃ ایذا نہ تھا مگر بظاہر من وجہ ایذا کے مشابہ تھا ماخوذ از تفسیر (ف 1) قرطبی ص 162 ص ج 14۔ قصہ یہ پیش آیا کہ غزوہ بنی قریظہ وبنی النضیر کے بعد جب ازواج مطہرات نے دیکھا کہ لوگ آسودہ ہوگئے تو چاہا کہ ہم بھی آسودہ ہوں اور عیش و آرام کی زندگی بسر کریں اس لئے ازواج مطہرات نے اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے گفتگو کی اور بمقتضائے محبت وناز مزید نان ونفقہ اور زینت دنیا کا کچھ مطالبہ کیا اور فی الجملہ متاع دنیا کی خواہش کی اور اپنے نفقات میں کچھ زیادتی چاہی آنحضرت ﷺ کو بات ناگوار گذری ازواج مطہرات نے جو سامان دنیا کا تقاضا کیا اگرچہ وہ ضرورت اور جواز کی حد میں تھا لیکن وہ بمقتضائے بشریت تھا اور ان کا دل آنحضرت ﷺ کی محبت سے لبریز تھا اور ذرہ برابر اس میں آپ ﷺ کی ایذا کا تصور بھی نہ تھا اور جس دنیاوی زینت کا مطالبہ کیا تھا وہ قدر ضرورت و راحت تھی معاذ اللہ امیرانہ عیش و عشرت نہ تھی مگر آنحضرت ﷺ کو یہ بھی ناگوار گذرا اور قسم کھالی کہ ایک مہینہ گھر میں نہیں جاؤں گا اور مسجد کے قریب ایک بالاخانہ میں فروکش ہوگئے صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) سخت مضطرب تھے خاص کر ابوبکر اور عمر ؓ ان دونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں کو دھمکایا اور سمجھایا اور ان کو نصیحت کی کہ آنحضرت ﷺ سے کوئی مطالبہ نہ کریں پھر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض معروض کی اور انس اور بےتکلفی کی باتیں کیں جس سے آپ ﷺ کا انقباض رفع ہوا اور آپ ﷺ قدرے منشرح اور منبسط ہوئے دیکھ تفسیر قرطبی (ف 2) ص 162 ج 14 م ص 163 ج 14 و تفسیر ابن کثیر ص 481 ج 3 و تفسیر روح المعانی ص 162 ج 21۔ 1 قال الامام القرطبی قال علماء نا ھذہ الایۃ متصلۃ بمعنی ماتقدم من المنع من ایذاء النبی ﷺ وکان قد تاذی ببعض الزوجات قیل سالنہ شیئا من عرض الدنیا وقیل زیادۃ فی النفقۃ وقیل اذینہ بغیرۃ بعضھن علی بعض۔ تفسیر قرطبی ص 162 ج 14۔ 2 قال الامام القرطبی عن جابر بن عبد اللہ قال دخل ابوبکر یستاذن علی رسول اللہ ﷺ فوجد الناس جلوسا ببابہ لم یوذن لاحد منہم قال فاذن لابی بکر فدخل ثم جاء عمر فاستاذن فاذن لہ فوجد النبی ﷺ جالسا حولہ نساء ہ واجما ساکتا قال واللہ لا قولن شیئا اضحک رسول اللہ ﷺ فقال یا رسول اللہ لودایت بنت خارجۃ سالتنی النفقۃ فقمت الیھا فوجات عنقھا فضحک رسول اللہ ﷺ وقال ھن حولی کما تری یسالننی النفقۃ فقام ابوبکر الی عائشۃ بجا عنقھا وقال عمر الی حفصۃ یجاعنقھا کلاھما یقول تسالن رسول اللہ ﷺ ما لیس عندہ فقلن واللہ لانسال رسول اللہ ﷺ شیئا ابدا لیس عندہ ثم اعتزلھن شھرا او تسعا وعشرین ثم نزلت علیہ ھذۃ الایۃ یایھا النبی قل لازواجک حتی بلغ للمحسنات منکن اجرا عظیما۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 163 و تفسیر ابن کثیر ص 481 ج 3 ) وقال الالوسی اخرجہ احمد ومسلم والنسائی وابن مردویہ عن طریق الی الزبیر عن جابر قال اقبل ابوبکر رجی اللہ عنہ والناس ببایہ جلوس فلم یؤذن لہ ثم اذن لابی بکرو عمر ؓ الی اخرہ روح المعانی ص 162 ج 21۔ اسی حال میں ایک ماہ گذرا ایک ماہ کے بعد یہ آیت یعنی یایھا النبی قل لازواجک سے لے کر فان اللہ اعد للمحسنات منکن اجرا عظیما : نازل ہوئی جو آیت تخییر کے نام سے موسوم اور معروف ہے اسی آیت میں ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا کہ دو راستوں میں سے ایک راستہ اختیار کرلیں اگر دنیا کی زیب وزینت مرغوب ہے تو آپ ﷺ صاف طور پر کہہ دیجئے کہ میرا تمہارے ساتھ نباہ نہیں ہوسکتا آؤ میں تم کو کپڑا جوڑا دے کر (جو مطلقہ کو دیا جاتا ہے) خوب صورتی سے رخصت کردوں اور اگر تم کو دار آخرت اور اللہ اور اس کے رسول کی معیت اور فقروفاقہ کی زندگی محبوب ہے تو ایسی صورت میں تم رسول کے ساتھ رہ سکتی ہو اور تم میں سے جو اس کے لئے تیار ہو اس کے لئے اللہ کے یہاں بڑا اجر عظیم تیار ہے۔ مقصود یہ تھا کہ جو عورتیں نبی کی زوجیت میں ہیں ان کا دل دنیاوی زینت کی طرف توجہ اور التفات سے پاک ہوجائے نبی کا جوڑا وہی عورت ہوسکتی ہے جس کا دل دنیائے فانی کی محبت اور رغبت سے پاک ہو دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ ہے اس لئے نبی کے گھر کے مناسب نہیں کہ جس کے دل میں دنیا کی محبت کا کوئی جز لا یتجزی بھی موجود ہو وہ نبی کے ساتھ رہے دنیا کی زینت سے محبت اور اللہ اور اس کے رسول سے بعد کا سبب ہے۔ سورت کے ابتدائی تین رکوع میں منافقین کی ایذاؤں کا ذکر تھا اور ان آیات میں محبین مخلصین کی طرف سے غیر اختیار اور غیر شعوری پیش آمدہ ایذا اور تکلیف کا ذکر ہے کہ ازواج مطہرات نے جو زینت دنیا کا کچھ مطالبہ کیا اگرچہ وہ حد ضرورت اور حد جواز میں تھا لیکن نبی اطہر کے خاطر عاطر کے تکدر کا سبب بنا اس لئے ازواج مطہرات کی فہمائش کے لئے یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ نبی کی بیبیوں کے لئے دنیائے حلال کا تصور بھی حلال نہیں دار آخرت کے تصور کو آب طہور اور آب زلال جانیں اور زینت دنیا کے تصور اور خیال سے آب زلال کو مکدر نہ کریں ان آیات کے نازل کرنے سے مقصود یہ تھا کہ ازواج مطہرات کا دل زینت دنیا کی محبت سے بالکلیہ پاک اور مہر ہوجائے اور فقروفاقہ کی محبت سے ان کا دل معطر ہوجائے۔ جب یہ آیت تخییر نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا اور یہ آیتیں پڑھ کر ان کو سنائیں انہوں نے بلا کسی تردد اور تامل کے اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کیا جس سے آپ ﷺ کا ملال جاتا رہا اور چہرہ پر بشاشت آگئی اس کے بعد باقی ازواج نے بھی ایسا ہی کیا اور ایسا ہی کہا اور سب نے دنیا کی رغبت کا تصور دل سے نکال ڈالا۔ نکتہ : دنیا اور آخرت یہ دو سوکنیں ہیں اور ایک دوسرے کی ضد ہیں ایک سوکن اگر راضی ہوتی ہے تو دوسری سوکن ناراض ہوجاتی ہے ایک دل میں دونوں کی محبت اور رغبت جمع نہیں ہوسکتی ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ : اور ایمان جب ہی کامل ہوتا ہے کہ جب دل دنیا کی محبت سے بالکلیہ پاک ہوجائے اور آخرت کی محبت سے لبریز ہوجائے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ جن عورتوں کو امہات المومنین کا لقب عظیم عطا کیا جا رہا ہے ان کے دل زینت دنیا کی محبت اور رغبت سے بالکل پاک اور صاف ہونے چاہئیں تاکہ وہ علی وجہ الکمال والتمام مومنین کاملین کی امہات اور نبی اطہر ﷺ کی ازواج مطہرات کہلا سکیں۔ : ظاہر یہ ہے کہ یہ قصہ فتح خیبر کے بعد پیش آیا غالبا جس کی وجہ یہ ہے کہ فتح خیبر کے بعد مسلمانوں کو ایک قسم کی مالی وسعت حاصل ہوگئی چناچہ حضرت صفیہ ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھیں جو فتح خیبر میں آپ ﷺ کو حاصل ہوئی تھیں اور اس کے بعد آیت ارضا لم تطؤھا میں فتح خیبر کی طرف اشارہ غایت درجہ لطف اور حسن رکھتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ اپنی بیبیوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیاوی زندگی یعنی دنیا کا عیش و آرام اور اس کی آرائش چاہتی ہو جیسے لباس فاخرہ اور زیورات جو اللہ کے نبی کے پاس نہیں ہیں کیونکہ اللہ نے اپنے نبی کو دنیائے فانی کی زینت سے دور رکھا ہے ایسی حالت میں تمہارا اللہ کے نبی کے ساتھ نباہ نہیں ہوسکتا تو آؤ میں تم کو کپڑوں کا جوڑا دے دوں جو مطلقہ کو دیا جاتا ہے اور حسن اسلوب کے ساتھ تم کو رخصت کردوں پھر جہاں چاہو جا کر دنیا حاصل کرسکو میں تم کو ترک دنیا کے صبر پر مجبور نہیں کرتا اور اگر تم اللہ کا قرب اور اس کی رضا مندی اور دنیا اور آخرت میں اس کے رسول کی معیت اور زوجیت اور دار آخرت کی نعمت اور کرامت چاہو تو یہ جب ہی ممکن ہے کہ رسول خدا کے ساتھ ترک دنیا پر صبر کرو زبان پر کوئی حرف شکوہ اور مطالبہ کا نہ آنے پائے پس تحقیق اللہ تعالیٰ تم میں سے نیک کام کرنے والی عورتوں کے لئے اجر عظیم مہیا فرماتا ہے اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ آخرت میں بھی حضور پر نور ﷺ کی معیت اور مرافقت کی عزت و کرامت حاصل ہوگی نزول آیت کے بعد آنحضرت ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ کو اللہ کا حکم سنایا انہوں نے سنتے ہی اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کیا اور ان کے بعد تمام ازواج نے ایسا ہی کیا اور دل سے دنیا کا خیال ہی نکال دیا اور ہمیشہ کے لئے فقروفاق کو اپنا شعار بنا لیا اور اسی حالت میں آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنا قبول کیا اور اس اختیار کے بعد ازواج مطہرات سب ہی محسنات ہیں جیسا کہ حسب ارشا باری الطیبات للطیبین تمام ازواج مطہرات طیبات ہیں مگر اللہ تعالیٰ صاف خوشخبری کسی کو نہیں دیتا تاکہ نڈر نہ ہوجائیں اور خاتمہ سے ڈرتے رہیں پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ازواج نبی کو محسنہ رہنے کی ترغیب دی تاکہ طاعت الٰہی میں بتمام و کمال کوشاں رہیں جیسا کہ آیت میں ان کو معصیت سے خوف دلایا ہے تاکہ معصیت سے اجتناب میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ فائدہ : ان کنتن تردن اللہ ورسولہ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے جو اجر عظیم کا ارادہ کر رکھا ہے اس کا ظہور اور وقوع تمہارے ارادہ اور نیت پر موقوف ہے کہ اگر تم دل سے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کا ارادہ اور نیت کرلو اور بجائے دنیا کے آخرت کو اپنا مطلوب بنا لو تو ہم نے تمہارے لئے بڑی بڑی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول اللہ کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی اس کو دونی سزا دی جائے گی اور یہ بات خدا کو آسان ہے

خطاب تکریم وتشریف بہ ضمن تنبیہ وتخویف قال اللہ تعالیٰ ینساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین وکان ذلک علی اللہ یسیرا۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حضور پر نور ﷺ کے واسطہ سے ازواج مطہرات کو یہ حکم دیا گیا کہ نبی کی بیبیوں کے لئے مناسب نہیں کہ وہ زینت دنیا کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں اور جو عورتیں اللہ اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو اختیار کریں ان کے لئے اجر عظیم اور درجات عالیہ اور مراتب فائقہ کا وعدہ فرمایا اب آئندہ آیات میں حق جل شانہ خود ازواج مطہرات سے خطاب فرماتے ہیں اور آئندہ معصیت پر تنبیہ اور تخویف فرماتے ہیں کہ جس قدر مراتب بلند ہوتے ہیں اسی قدر خطر بھی عظیم ہوتا ہے جیسا کہ مکہ معظمہ میں نیکی کا اجر زیادہ ہے اسی قدر بدی کا گناہ بھی زیادہ ہے اس لئے (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کی بزرگی ظاہر کرنے کے لئے اور تمام جہان کی عورتوں پر ان کی فضیلت اور خصوصیت ظاہر کرنے کے لئے یہ آیتیں ان کی کرامت میں نازل فرمائیں اور براہ راست ان کو مخاطب بنایا اور فرمایا اے نبی کی عورتو ! تمہارا مقام جہان کی سب عورتوں سے بڑھ کر ہے اس لئے کہ تم ایسے نبی کی عورتیں ہو جو تمام اولین اور آخرین سے افضل اور اکمل ہے لہٰذا تم میں سے بالفرض اگر کوئی عورت معصیت ظاہرہ اور کھلی بےحیائی کو عمل میں لاوے گی جو رسول کی ایذا کا خاص طور پر باعث بنے تو اس عورت کو بہ نسبت دوسری عورتوں کے دو چند اور دوہرا عذاب دیا جائے گا کیونکہ نبی کی بیبیوں سے گناہ کا سرزد ہونا بہت ہی برا ہے اور دوہرا گناہ ہے ایک خدا کا گناہ دوسرے نبی کی دل آزاری اور حق صحبت میں کو تاہی۔ فائدہ : ” فاحشہ مبینہ “ کے معنی صریح بدکاری کے ہیں صریح کی قید اس لئے لگائی کہ بعض کام بظاہر برے ہوتے ہیں مگر ان کی برائی صریح اور ظاہر نہیں ہوتی تو ان کے ارتکاب پر یہ سزا نہ ہوگی۔ صریح نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں اس کی برائی مذکور نہ ہو اور نہ صریح عقل سے اس کا برا ہونا ثابت ہو اور یہ دوہری سزا دینا اللہ پر بہت آسان ہے تمہاری عزت و کرامت اور نسبت زوجیت اور نساء نبی ہونا اللہ کو سزا دینے سے روک نہیں سکتی بلکہ یہ شرافت اور کرامت مزید سزا کا سبب ہے جیسے عالم بوجہ علم کے معصیت پر دوہری سزا کا مستحق ہے۔ 1 دیکھو صاوی حاشیہ جلالین ص 276 ج 3۔ فائدۂ اولی : ازواج مطہرات کو یہ خطاب بطور شرط ہے جس کے لئے وقوع ضروری نہیں اور شرط کا مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض والتقدیر تم سے کوئی معصیت سرزد ہوجائے تو جو سزا اوروں کو ملتی تم کو اس سے دوگنی سزا ملے گی جس سے مقصود محض تخویف اور تنبیہ ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے متعلق آیا ہے۔ لئن اشرکت لیحبطن عملک یعنی اگر بالفرض والتقدیر آپ ﷺ سے شرک سرزد ہوجائے تو آپ ﷺ کے اعمال حبط کر لئے جائیں گے اگرچہ پیغمبر خدا سے شرک کا سرزد ہونا محال ہے مقصود دوسروں کو سنانا ہے تاکہ شرک کی قباحت اور شناعت ان پر ظاہر ہوجائے۔ فائدہ دوم : ان تمام آیات سے ازواج مطہرات کی فضیلت اور بزرگی کو بیان کرنا مقصود ہے اور یہ بتلانا ہے کہ ان سے کبھی کوئی معصیت قبیحہ سرزد نہیں ہوگی اور یہ عورتیں محسنات اور مخلصات ہیں اور امہات المومنین ہیں اور نبی کی وفات کے بعد ان سے کوئی نکاح نہیں کرسکتا۔ فائدہ سوم : ازواج مطہرات باجماع صحابہ وتابعین دنیا اور آخرت میں آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں خصوصا حضرت علی ؓ اور حضرت عمار ؓ اور ابو موسیٰ اشعری ؓ وغیرہم نے صحابہ وتابعین کے ہزاروں اور لاکھوں کے مجمع میں بآواز بلند یہ اعلان کیا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیہ ؓ دنیا اور آخرت میں نبی اکرم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں لہٰذا کسی اور گمراہ فرقہ کا یہ کہنا کہ ازواج مطہرات کا زوجہ رسول ہونا فقط دنیا تک محدود ہے صریح گمراہی ہے اور کسی رافضی کا یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت علی ؓ نے حضرت عائشہ ؓ کو طلاق دے دی تھی یہ کفر بھی ہے اور صریح جھوٹ بھی ہے۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ الحمد للہ آج بتاریخ 8 شوال المکرم 1392 یوم چہار شنبہ ظہر اور عصر کے درمیان اکیسویں پارہ کی تفسیر سے فراغت ہوئی وللہ الحمد اولا واخرا۔