Ayahs 21:78–82(5) قصہ داؤد و سلیمان (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ وداود وسلیمن اذ یحکمن فی الحرث .... الیٰ .... وکنالہم حفظین۔
یہ پانچواں قصہ حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں اور باوجود بادشاہت اور فرمانروائی کے خدا پرست تھے اور غایت درجہ کے عادل اور مصنف تھے۔ امیری اور فقیری اور شاہی اور درویشی دونون کے جامع تھے۔ ابوبکر و عمر کی خلافت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کی بادشاہت کا نمونہ تھی داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) نبی تھے اور اللہ کے خلیفہ تھے اور ابوبکر و عمر نبی نہ تھے، مگر اعلیٰ درجہ کے ولی تھے اور خاتم الانبیاء کے خلیفہ تھے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کا قصہ بیان کیجئے جبکہ وہ دونوں کھیتی کے مقدمہ میں فیصلہ کر رہے تھے۔ جبکہ رات کے وقت اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں چرگئی تھی اور ہم اس کے فیصلہ کے وقت موجود تھے، ہمارے روبرو یہ فیصلہ ہوا۔ صورت یہ ہوئی کہ ایک شخص کی بکریوں نے ایک شخص کا کھیت بالکل چر لیا۔ فریقین اپنا مقدرمہ لیکر فیصلہ کرانے کے لیے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ کھیت والے نے کہا کہ اس شخص کی بکریاں رات کو میرا سارا کھیت چر گئیں اور اس میں نال تک نہ چھوڑی، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے حال سن کر حساب کیا تو معلوم ہوا کہ کل بکریوں کی قیمت کھیت کی قیمت کے برابر ہے لہٰذا آپ (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ یہ بکریاں سب کھیت والے کو دے دی جائیں کیونکہ کھیت کے نقصان اور بکریوں کی قیمت برابر تھی، وہ یہ فیصلہ سن کر وہاں سے چل دئیے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جب اس فیصلہ کا علم ہوا تو کہا کہ اگر میں فیصلہ کرتا تو یہ فیصلہ نہ کرتا۔ میں دوسری طرح فیصلہ کرتا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا میرے نزدیک فیصلہ کی بہتر صورت یہ ہے کہ بکریاں تو کھیت والے کو دے دی جائیں کہ وہ ان کے دودھ اور نسل سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں والے کھیت کی آبپاشی اور تردو کریں یہاں تک کہ جب سال آئندہ اس کا کھیت پھر اس حالت پر آجائے کہ جس دن وہ کھایا گیا تھا تو بکریوں والا اس کا کھیت اس کے حوالے کر دے اور اپنی بکریاں اس سے واپس لے لے۔ اس میں دونوں کا فائدہ ہے نقصان کسی کا نہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو جب اس فیصلہ کا علم ہوا تو اس فیصلے کو بہت پسند کیا اور اپنے فیصلہ سے رجوع فرمایا۔ چناچہ فرماتے ہیں پس ہم نے فیصلہ کا یہ طریقہ سلیمان (علیہ السلام) کو سمجھا دیا کہ جو دونوں فریق کے حق میں مفید ہوگیا اور ہر ایک کو یعنی باپ اور بیٹے کو ہم نے علم و حکمت عطا کیا ہر ایک نے اپنے علم کے مطابق فیصلہ کیا دونوں فیصلے حق تھے دونوں کا مقصد یہ تھا کہ اس نقصان کا تاوان اور ضمان دلایا جائے۔ داؤد (علیہ السلام) نے ضمان کی یہ صورت اختیار فرمائی کہ بکریوں کی ملک ان کے مالک سے زائل کرکے کھیت والے کی ملک کردیں اور سلیمان (علیہ السلام) نے کسی کی ملک زائل نہیں کہ بلکہ بکریوں کے منفعت سے اس کے نقصان کی تلافی کردی کہ اتنی مدت تک بکریوں کی منفعت کھیت والے کے لیے حلال کردی جب تک وہ کھیت اپنی اصلی حالت پر نہ آجائے کھیت والا بکریوں کے چرجانے کی وجہ سے اپنے کھیت کی منفعت سے محروم ہوگیا تھا۔ اس کی تلافی کے لیے ایک مدت تک بکریاں اس کے حوالہ کردی گئیں کہ اس سے منتفع ہوتا ہے بدون اس کے کہ بکریوں کی ملک ان کے مالک سے زائل ہو نقصان کی تلافی منفعت سے فرما دی۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بکریاں کھیت والے کو دینے کا فیصلہ اس لیے فرمایا کہ ان کی شریعت میں یہ حکم تھا کہ جو چوری کرے تو اس کو غلام بنا لیا جائے، اس کے مطابق یہ حکم دیا۔ قالوا جزاؤہ من وجد فی رجلہ فہم جزاؤہ کذالک نجزی الظلمین۔ اور سلیمان (علیہ السلام) نے دوسرا فیصلہ کیا۔ جس میں دونوں کا نقصان نہ ہو حضرت داؤد کا یہ فیصلہ ظاہری قیاس کے مطابق تھا کہ رات کا وقت تھا بکریوں کی حفاظت اور ان کو بند رکھنا بکریوں کے مالک کا ذمہ تھا اگر وہ بکریوں کی پوری نگرانی رکھتا تو بکریاں باہر نکل کر کسی کا کھیت خراب نہ کرتیں پس جب بکریوں کے مالک نے بکریوں کی نگہداشت میں کوتاہی کی اور اس کوتاہی کی وجہ سے دوسرے کا کھیت خراب ہوا۔ تو داؤد (علیہ السلام) نے اس نقصان کے ضمان اور تاوان میں بکریاں کھیت والے کو دے دیں اور کھیت والے کو ان بکریوں کا مالک بنا دیا۔ کیونکہ کھیت کے نقصان اور بکریوں کی قیمت برابر تھی اس قسم کے فیصلہ کو اصطلاح فقہاء میں قیاس جلی کہتے ہیں اور سلیمان (علیہ السلام) نے جو فیصلہ فرمایا اس میں ملکیت ہر ایک کی بحالہٖ برقرار رکھی۔ کھیتی کے نقصان کی تلافی بکریوں کے منافع سے کردی اس قسم کے قیاس کو اصطلاح فقہاء میں استحسان کہتے ہیں۔ پس جس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) نے سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ سن کر اپنے فیصلہ سے رجوع کیا اسی طرح فقہاء حنفیہ فرماتے ہیں کہ قیاس جلی کے مقابلہ میں قیاس استحسان کی طرف رجوع کرنا اولیٰ اور احسن ہے فیصلہ دونوں ہی حق تھے مگر سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ زیادہ بہتر تھا وہ ایک قسم کی صلح تھی اور فریقین اس پر راضی تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں کے علم و حکمت کی تعریف کی اور اس مسئلہ اور اس فیصلہ میں سلیمان (علیہ السلام) کی خاص طور پر مدح فرمائی کہ ہم نے ان کو اس مسئلہ میں اپنی خاص تفہیم غیبی سے نوازا۔ سلیمان (علیہ السلام) اس وقت کمسن تھے۔ دس گیارہ سال کی عمر تھی۔ بوڑھے باپ کی موجودگی میں کمسن لڑکے کی زبان سے ایسے علم کا ظاہر ہونا وہ درحقیقت منجانب اللہ باپ کے لیے بشارت تھی کہ یہ سمجھ دار بیٹا جب تمہارے بعد تمہارا خلیفہ اور جانشین ہوگا تو ایسے فیصلے کرے گا۔
زکریا (علیہ السلام) کو یہی خوف تھا کہ میرے بعد نہ معلوم میرا جانشین کیسا ہوگا اس لیے دعا مانگی وانی خفت الموالی من ورائی وکانت امرتی عاقر فھب لی من الدنک ولیا یرثنی ویرث من ال یعقوب واجعلہ رب رضیا۔ اور عجب نہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کا یہ حکیمانہ فیصلہ باپ کی فیض صحبت اور ان کے نور نبوت اور نور خلافت کا عکس اور ہر تو ہو لخت جگر باپ کا جزء ہوتا ہے اور جزء کل کے مغایر نہیں ہوتا۔ پہلا فیصلہ کل کی زبان سے صادر ہوا۔ دوسرا فیصلہ جز کی زبان سے ظاہر ہوا۔ بظاہر صورت مختلف ہے مگر حقیقت ایک ہے۔
ذکر بعض معجزات و کرامات حضرت داؤد و حضرت سلیمان (علیہما السلام)
حق جل شانہ نے ان آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو علم و حکمت کے عطاء کرنے کا ذکر فرمایا۔ اور یہ نعمت اور کرامت دونوں میں مشترک تھی اب آئندہ آیات میں ان بعض معجزات اور کرامات خاصہ کا ذکر فرماتے ہیں۔ کہ جو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو پیغمبروں کو عطاء کیے چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے علم و حکمت کے علاوہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا کہ وہ بھی داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے اور پرندوں کو بھی مسخر کردیا تھا کہ وہ بھی ان کے ساتھ آواز سے تسبیح کرتے تھے داؤد (علیہ السلام) بےانتہاء خوش آواز تھے اور یہ خوش آوازی بھی ان کا ایک معجزہ تھا۔ داؤد (علیہ السلام) جب زبور پڑھتے تھے تو ان کے ساتھ شجر اور حجر اور پہاڑ اور پرند سب آواز کے ساتھ تسبیح کرنے لگتے اور یہ ان کا معجزہ تھا۔ اور یہ کوئی تعجب کی بات نہ تھی ہم ہی یہ کام کرنے والے تھے پہاڑوں اور پرندوں کی تسخیر اور تسبیح یہ سب ہمارا ہی کام ہے ہماری قدرت کے اعتبار سے کوئی عجیب چیز نہیں اس سے معلوم ہوا کہ معجزہ نبی کا فعل نہیں بلکہ اللہ کا فعل ہے اور وہی اس کا فاعل ہے اللہ اپنے کسی مقبول بندے کے ہاتھ پر پیدا کردیتا ہے اور ہم نے داؤد کو تمہارے لیے ایک قسم کا لباس یعنی ذرہ بنانے کی صنعت سکھلائی تاکہ وہ لباس لڑائی میں تمہارا بچاؤ اور حفاظت کرسکے وجہ سے تم دشمن کی زد اور اس کے وار سے محفوظ رہ سکو۔
داؤد (علیہ السلام) سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے زرہ کو لقہ اور کڑیوں کے ساتھ بنایا۔ خدا تعالیٰ نے لوہے کو ان کے لیے نرم کردیا۔ بغیر آگ کے لوہا ان کے ہاتھ میں موم کی طرح نرم ہوجاتا تھا۔ اور وہ اس سے زرہ بنا لیا کرتے تھے کما قال اللہ تعالیٰ والنا لہ الحدید۔ داؤد (علیہ السلام) سے پہلے زرہ تختیوں کی شکل میں ہوتی تھی، حلقے اور کڑیاں اس میں نہ تھیں تسبیح جبال و طیر کی طرح یہ بھی داؤد (علیہ السلام) کا معجزہ تھا پس کیا تم اس نعمت کا شکر کرو گے۔ اسی طرح زرہ سازی کی یہ صنعت اللہ کی نعمت ہے اور پھر اس کے نبی کا فیض ہے جو آج تک جاری ہے۔ تم کو چاہئے کہ اس کا شکر کرو۔ اب آگے سلیمان (علیہ السلام) کے معجزات کا ذکر فرماتے ہیں اور ہم نے زور سے چلنے والی ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا کہ وہ ان کے حکم کے مطابق اس زمین کی طرف جاتی تھی جہاں ہم نے برکت رکھی تھی یعنی ملک شام کی طرف۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا۔ ہوا ان کے تابع تھی۔ زور سے چلنے کا حکم دیتے تو زور سے چلتی اور تیز ہوجاتی اور نرم چلنے کا حکم دیتے تو نرم ہوجاتی وہ ہوا سلیمان (علیہ السلام) کو اور ان کے اصحاب کریمن سے شام اور شام سے یمن پہنچا دیتی جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔ تجری بامرہ رخاء حیث اصاب اور برکت والی زمین سے سرزمین شام مراد ہے اور یہ سلیمان (علیہ السلام) کا معجزہ ہے اگر بندہ اپنی طاقت سے ہوائی جہاز بنا سکتا ہے تو کیا خدا کو یہ قدرت نہیں کہ وہ اپنے مقبول بندہ کے لیے اس کے تخت ہی کو ہوائی جہاز بنا دے اور بلا سبب ظاہری کے ہوا کو اس کے لئے مسخر کر دے کہ اس کے حکم کے تابع ہوجائے اور ہم ہر چیز کے جاننے والے ہیں یعنی ہم کو یہ معلوم تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس نعمت و کرامت کے اہل ہیں اور یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اس نعمت و کرامت کے ملنے کے بعد مغرور نہ ہونگے بلکہ ان کی تواضع اور فرتنی میں اور اضافہ ہوگا۔
غرض یہ کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کا ایک معجزہ یعنی معجزہ تسخیر ہوا۔ ذکر فرمایا اب آئندہ آیت میں ان کے دوسرے معجزہ یعنی تسخیر جن کے معجزہ کا ذکر فرماتے ہیں اور ہم نے جنات کی جماعت میں سے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان شیاطین کو مسخر کردیا کہ جو ان کے واسطے دریا میں غوطہ لگاتے ہیں اور اس کی تہ سے جواہرات نکال کر لاتے ہیں اور اس غواصی کے علاوہ بھی ان کے بہت سے کام کرتے ہیں اور کاموں سے مراد نفیس عمارتیں بنانا اور عجیب عجیب صنعتوں کا ایجاد کرنا یہ سب کام جنات کیا کرتے تھے۔ اور ہم ان کے نگہبان اور نگران تھے۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے باہر ہو سکے نہ کوئی مطالبہ تھا اور نہ کوئی پڑتال تھی اور نہ کسی کی تنخواہ تھی۔ ملک کے تمام کارخانے انہی جنات اور شیاطین کی محنت اور خدمت سے چل رہے تھے حکم سلیمان (علیہ السلام) کا چل رہا تھا اور یہ سب کے سب ان کے فرمانبردار اور غلام تھے اور بلا تنخواہ کے کام کر رہے تھے۔ یہ خدا تعالیٰ کی عطا فرمودہ شخصی بادشاہت تھی کوئی جمہوری اور قومی حکمت نہ تھی۔ سارے ملک میں سلیمان (علیہ السلام) کی آمریت تھی۔ تجری بامرہ۔ لیکن سلیمان (علیہ السلام) کی یہ آمریت خداوند احکم الحاکمین کی شہنشاہی کا آئینہ تھی۔
حافظ ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کا تخت لکڑی کا تھا اور اس کے گرد ایک تختہ تھا جس پر ضروری اشیاء رکھی جاتی تھیں۔ سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ دیگر ارکان دولت بھی بیٹھتے اور ضروری سامان مثلاً گھوڑے اور خیمے اور فرش بھی جس قدر چاہتے ساتھ رکھ لیتے اور پرند اوپر سے آکر سایہ کرلیتے اور ہوا کو حکم ہوتا کہ چلے جدھر چاہتے۔ وہاں لیکر رواں ہوجاتی اور جہاں چاہتے وہاں اترتے کما قال تعالیٰ فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخاء حیث اصاب اور فرمایا غدوھا شھر و رواحھا شھر۔
یہ معجزہ ہوا کا تھا اور دوسرا معجزہ شیاطین کا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے شیاطین اور جنات کو سلیمان (علیہ السلام) کے قبضہ میں مسخر اور مقہور کردیا تھا جس سے وہ چاہتے کام لیتے۔ نہ کوئی بھاگ سکتا تھا اور نہ سرکشی کرسکتا تھا۔ کما قال تعالیٰ مقرنین فی الاصفاد۔ (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 187 ج 3)
Ayahs 21:83–84(6) قصہ ایوب (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الضر وانت ارحم الرحمین .... الیٰ .... وذکری للعبدین۔
یہ چھٹا قصہ ایوب (علیہ السلام) کا ہے جو طرح طرح کی مسائب سے آزمائے گئے اور بےمثال صبر فرمایا۔ ان کا صبر خود ایک مستقل معجزہ تھا حضرت ایوب (علیہ السلام) بڑے خوسحال پیغمبر تھے اللہ تعالیٰ نے طرح طرح سے آسودہ کر رکھا تھا۔ باغ اور کھیت اور مویشی اور مال و دولت اور اولاد صالح اور مرضی کے مطابق عورت وغیرہ وغیرہ دے رکھی تھیں۔ اس خوشحال میں وہ خدا کے شکر گزار بندے تھے پھر خدا تعالیٰ نے ان کو مصیبت سے آزمانا چاہا۔ مال اور اولاد اور باغ اور کھیت سب فنا ہوگئے اولاد مرگئی اور دوست آشنا سب الگ ہوگئے۔ صرف ایک بیوی رفیق رہ گئی اور اخیر میں وہ بھی کچھ گھبرا سی گئی ایوب (علیہ السلام) جس طرح نعمت میں خدا کے شکر گزار رہے اسی طرح وہ بلا میں بھی صابر رہے نہ زبان سے کوئی حرف شکایت اور نہ دل میں شکایت کا کوئی خطرہ گزرا، جب بیماری حد دے گزر گئی تب اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ نے ان کی دعا قبول کی۔ اور ان کو صحت اور عافیت عطاء کی۔ اور جو اولاد دب کر مرگئی تھی اس کو بھی دوبارہ زندہ کردیا اور اتنی ہی اولاد اور عطا کردی اور اپنے فضل سے ان کی پھر وہی خوشحالی کی حالت کردی بلکہ اس سے بہتر۔
ان اب آیات میں ایوب (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ صابروں اور شاکروں کے لیے عبرت ہو چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ہمارے صابر بندوں ایوب کا قصہ ذکر کرو جبکہ ان کو اللہ کی طرف سے جان اور مال اور اولاد میں ہر طرف سے بلا پہنچی، حتیٰ کہ جسم کو کوئی حصہ بھی زخموں سے محفوظ نہ رہا۔ بقول بعض اٹھا رہ برس اسی تکلیف میں گزارے اور حیاوشرم کے مارے حق تعالیٰ سے اپنی عافیت اور تندرستی کی دعا بھی نہ کی کہ سالہا سال حق تعالیٰ کی نعمتوں میں گزارے ہیں جب تک اتنی مدت تک اس کی بلاؤں پر صبر نہ کرلوں اس وقت تک کس منہ سے مانگوں حتیٰ کہ اگر بدن کے زخم سے کسی وقت کوئی کیڑا گر جاتا تو اس کو اٹھا کر پھر اسی جگہ رکھ دیتے اور کہتے کہ یہ میرے پر ورگار کی بھیجی ہوئی بلا ہے اے بلا تو میرے بدن کو اچھی طرح کھا۔ یہ کمال رضاء بقضاء اور صبر بہ بلاء ہے کہ یہ تکلیف انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے مگر حال یہ ہے کہ ” ایلام دوست بہ از انعما دوست “ بالآخر ایوب نے اپنے رب کو پکارا اور یہ دعا کی کہ اے پروردگار تحقیق مجھ کو تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم رکنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے جو تیری شان ارحم الراحمینی کا اقتضاء ہو وہ کر گزرایوب (علیہ السلام) نے اپنا سوال تو پیش کردیا لیکن درخواست کو ظاہر نہ کیا۔ حق تعالیٰ کی غایت رحمت کا ذکر کیا اور اپنی عاجزی اور لاچاری ظاہر کی اور خاموش ہوگئے مطلب یہ تھا کہ میں تیری بارگاہ رحمت میں کیا عرض کروں۔ عرض کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے آپ ارحم الراحمین ہیں اور یہ میری بیماری اور لاچای آپ کے سامنے ہے جو چاہیں کریں میں آپ کا بندہ ہوں لیکن آپ کی رحمت کا محتاج ہوں پس انکا یہ کہنا تھا کہ ان کی دعا قبول کی سو جو تکلیف اور بیماری ان کو لاحق تھی وہ یک لخت ہمے دور کردی اور ہم نے ان کو بعینہٖ ان کے اہل و عیال عطاء کر دئیے یعنی ان کو زندہ کردیا اور اتنے ہی اور ان کے ساتھ دے دئیے، یعنی جو اولاد مرگئی تھی اس کو ہم نے زندہ کردیا۔ اور اتنی ہی اولاد اس کے بعد پیدا کردی جو گزشتہ اولاد کے برابر تھی، ایوب (علیہ السلام) نے جب اپنے رب کو پکارا تو دریائے رحمت جوش میں آگیا اور آواز آئی۔ اے ایوب (علیہ السلام) اپنا پاؤں زمین پر مار۔ ایک چشمہ نمودار ہوا۔ اس سے ایوب (علیہ السلام) نے غسل کیا۔ اس سے ان کی تمام بیماری یک لخت جاتی رہی اور خوبصورت بدن نکل آیا۔ بیوی یہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ایوب (علیہ السلام) نے کہا میں وہی ایوب ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رحم کیا۔ اور مجھ پر میرا مال اور اہل و عیئال سب واپس کردیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم نے ایوب کے ساتھ کیا وہ اپنی خاص رحمت اور مہربانی سے کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ارحم الراحمین کی رحمت اور عنایت ایسی ہوتی ہے اور تاکہ عبادت خاص رحمت اور مہربانی سے کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ارحم الراحمین کی رحمت اور عنایت ایسی ہوتی ہے اور تاکہ عبادت گزاروں کے لیے نصیحت اور عبرت ہو کر صبر ایسا ہوتا ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ صبر اور شکر میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی اقتداء کریں۔
اس واقعہ میں ایوب (علیہ السلام) کو چارا بتلاء پیش آئے (1) مال جاتا رہا (2) اولاد مرگئی (3) بدن بیماری سے پھٹ گیا (4) سوائے بیوی کے سب نے چھوڑ دیا اور شماتت کرنے لگے کہ ایوب (علیہ السلام) نے کوئی ایسا سخت گناہ کیا ہے جس کی سزا ایسی سخت ملی ہے۔ ایوب (علیہ السلام) نے اس ابتلاء اور بلا پر صبر کیا۔ اول تو دعا پر بھی راضی نہ تھے حیا اور شرم کی وجہ سے صحت کی دعا بھی نہ کرتے تھے بالآخر بیوی کے اصرار سے اپنی صحت کے لیے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے قبول کی۔ اللہ تعالیٰ نے صحت اور تندرستی بھی عطاء کی اور جو اولاد مرگئی تھی اس کو دوبارہ زندہ کردیا چونکہ جو اولاد اکٹھی ہی دب کر مرگئی بظاہر وہ موت اجل نہ تھی۔ بلکہ موت ابتلاء و آزمائش تھی اس لیے ان بنی اسرائیل کی طرح دوبارہ زندہ کردی گئی جن کو طاعون سے بھاگنے کی وجہ سے ہلاک کردیا گیا جیسا کہ سورة بقرہ میں گزرا۔ الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت فقال لہم اللہ موتوا ثم احیاھم۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو پہلے کی طرح مال و دولت بھی عطاء کردیا جس قدر مال انکا جاتا رہا تھا اسی قدر اللہ نے پھر ان کو دے دیا بلکہ اس سے زائد۔
صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایوب (علیہ السلام) ایک دن غسل فرما رہے تھے کہ اوپر سے سونے کی ٹڈیاں برسنے لگیں۔ ایوب (علیہ السلام) ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ایوب کیا میں نے تجھ کو اس چیز سے غنی نہیں کیا کہ جس کو تو دیکھتا ہے۔ عرض کیا کیوں نہیں تیری برکت سے غناء نہیں۔ مطلب یہ تھا کہ میرا سونے کی ٹڈیوں کی طرف رغبت کرنا دنیاوی غنا حاصل کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ اس لیے ہے کہ سونے کی ٹڈیاں تیری طرف سے بلا سبب ظاہری کے برس رہی ہیں اور یہ تیری طرف سے بلاشبہ برکت ہیں اور بندہ کتنا ہی مالدار ہوجائے مگر خدا کی برکت سے غنی اور بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ خدا تعالیٰ سے طلب زیادت قناعت کے منافی نہیں البتہ غیر اللہ سے سوال قناعت کے منافی ہے۔
Ayahs 21:85–86(7) قصہ حضرت اسمعیل و ادریس و ذوالکفل (علیہم السلام)
قال اللہ تعالیٰ واسمعیل وادریس و ذالکفل .... الیٰ .... انھم من الصلحین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے صبر کا قصہ بیان فرمایا۔ اب یہ ساتواں قصہ ان تین حضرات کا ہے جو اپنے زمانہ میں صبر اور تحمل میں بےمثال تھے اس قصہ سے اور گزشتہ قصہ سے آنحضرت ﷺ کی تسلی مقصود ہے اور اے نبی ﷺ اسمعیل اور ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام) کا ذکر کیجئے۔ ان میں سے ہر ایک صابرین میں سے تھا اور ہم نے ان کو اپنی خاص الخاص رحمت میں داخل کرلیا تھا اور یہ لوگ بلاشبہ صلاح میں کامل تھے ان کی صلاحیت میں کسی قسم کا نقص اور کدوت کا شائبہ نہ تھا۔
ان تینوں پیغمبروں نے بڑی بڑی تکالیف اور آزمائشوں پر صبر کیا۔ اسمعیل (علیہ السلام) نے ذبح کی تکلیف پر صبر کیا اور خدا کے لیے جان دینے پر راضی ہوگئے اور ابتداء جو مکہ میں قیام کیا۔ اس میں بھی بڑی مشقتیں برداشت کیں۔ اور ادریس (علیہ السلام) کی عبادت کا قصہ سورة مریم میں گزر چکا ہے کہ وہ ترک طعام و شراب کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ ملحق ہوگئے تھے اور ذوالکفل (علیہ السلام) بقول اکثر محققین نبی تھے اور ظاہر قرآن سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی تھے اور ان کو ذوالکفل (علیہ السلام) کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ قوم میں عدل و انصاف کے کفیل تھے اور دن میں روزہ رکھتے اور شب میں تہجد کے کفیل تھے اور بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے فقیروں اور مسکینوں کی پرورش کی کفالت اپنے ذمہ لی تھی۔ (واللہ اعلم)
بہرحال جمہور علماء کے نزدیک ذوالکفل (علیہ السلام) نبی صالح تھے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ نبی نہ تھے بلکہ ایک مرد صالح تھے علماء محققین کے نزدیک پہلا ہی قول صحیح ہے۔
Ayahs 21:87–88(8) قصہ یونس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وذالنون اذھب مغاضبا .... الیٰ .... وکذلک نجی ال مومن ین۔
یہ آٹھواں قصہ یونس (علیہ السلام) کا ہے جن کو ذوالنون کہا جاتا ہے۔ ” نون “ کے معنی مچھلی کے ہیں کیونکہ مچھلی نے ان کو لقمہ کرلیا تھا اس لیے انکا لقب ذوالنون ہوا یعنی مچھلی والے۔ وہ اپنی قوم سے خفا ہو کر چلے گئے تھے، جب دیکھا کہ قوم کفر اور سرکشی پر تلی ہوئی ہے تو یونس (علیہ السلام) سے صبر نہ ہوسکا اس لیے ناخوش ہو کر ان کے درمیان سے نکل گئے اور یہ ایک قسم کی ہجرت تھی کہ کافروں کے ایمان سے ناامید ہوئے تو ناراض ہو کر ان کے درمیان سے نکل گئے اور انکا یہ غصہ اپنی وجہ سے نہ تھا۔ بلکہ خدائے عزوجل کی نافرمانی کی وجہ سے تھا اور یہ غصہ اگرچہ حق اور درست تھا، مگر چونکہ ان کا بستی سے نکل جانا بدون حکم الٰہی کے تھا اس لیے ان پر عتاب آیا کہ ان کو چاہئے تھا کہ اس بارے میں وحی اور حکم الٰہی کا انتظار کرتے اس طرح سے گھبرا کر ایک دم سے نکل کھڑا ہونا ان کی شایان شان نہ تھا بمقتضائے بشریت گھبرا کر نکل گئے یہ ان کی اجتہادی خطا تھی جو امت کے حق میں معاف ہے جب یونس (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا۔ لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظمین۔ اور اپنی خطا کا اعتراف کیا تو مچھلی کو حکم ہوا کہ کنارہ پر آکر اگل دے۔ اس نے کنارے پر آکر اگل دیا۔ صحیح سالم پھر اپنی سابق بستی کی طرف واپس آگئے جس سے ناراض ہو کر نکلے تھے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور بیان کیجئے آپ ﷺ ان سے مچھلی والے نبی کا قصہ جب کہ وہ اپنی قوم سے ایمان نہ لانے کی وجہ سے ناخوش اور غضب ناک ہو کر بستی سے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے یونس بن متی (علیہ السلام) کو شہر نینویٰ کے لوگوں کی طرف بھیجا جو موصل کے شہروں میں سے ایک شہر ہے، یونس (علیہ السلام) نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی اور سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا اور اپنے کفر پر اڑے رہے۔ یونس (علیہ السلام) غصہ میں آکر ان کے درمیان سے نکل گئے اور اس نکلنے میں وحی خداوندی اور حکم الٰہی کا انتظار نہ کیا اور ان سے یہ وعدہ کرکے چلے گئے کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آئے گا۔ نبی جھوٹ نہیں بولتا۔ جب آثار عذاب کے شروع ہوئے تو گھبرا کر سب بستی سے باہر چلے گئے اور گریہ زاری کی۔ اور سچے سل سے توبہ کی۔ عذاب ٹل گیا۔ بعد ازاں حضرت یونس (علیہ السلام) کی تلاش میں نکلے۔ ادھر یونس (علیہ السلام) کی موجوں نے کشتی کو آگھیرا۔ سب کو غرق کا خوف لاحق ہوا۔ کشتی والوں نے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ارادہ کیا کہ ایک آدمی کو نیچے پھینک دیا جائے اس آدمی کے تعین کے لیے قرعہ اندازی ہوئی اور دو تین مرتبہ ہوئی ہر مرتبہ قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر نکلتا رہا۔ کما قال تعالیٰ فکان من المحضین۔ یونس (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ وہ بھاگا ہوا غلام میں ہی ہوں جو اپنے آقائے برحق کے بغیر اجازت کے بستی سے نکل آیا۔ یہ دیکھ کر یونس (علیہ السلام) خود دریا میں کود پڑے۔ فورا ایک بڑی مچھلی نے آپ (علیہ السلام) کا لقمہ بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ ہمارے اس بندہ کی اپنے پیٹ میں حفاظت کرنا۔ یہ بندہ تیری روزی اور تیرا رزق نہیں بلکہ تیرے پیٹ کو ہم نے چند روز کے لیے اس کا قید خانہ یا حفاظت خانہ یا عبادت خانہ بنایا ہے۔ فقط چند روز کے لیے اس کو نظر بند کرنا مقصود ہے اس کے گوشت و پوست میں سے کھانے کی تجھ کو اجازت نہیں ہمارا بندہ بغیر ہمارے حکم کے اپنی قوم سے ناراض ہو کر نکل گیا ہے اگرچہ اس کا یہ غصہ ہماری ہی وجہ سے ہے لیکن اس کو چاہئے تھا کہ ہمارے حکم کا انتظار کرتا۔ بہرحال پونس (علیہ السلام) ان کو چھوڑ کر نکل گئے، ابن عباس (رح) اور مجاہد (رح) اور ضحاک (رح) اور قتادہ (رح) اور حسن بصری (رح) سے مروی ہے کہ اس آیت میں لن تقدر علیہ کے معنی لن نضیق علیہ۔ کے ہیں یعنی یونس (علیہ السلام) نے یہ گمان کیا کہ ہم ان کی تنگی اور آزمائش میں نہیں ڈالیں گے اور ان پر کوئی سختی نہیں کریں گے معاذ اللہ یہ معنی نہیں کہ یونس (علیہ السلام) نے یہ گمان کیا کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ ان پر قادر نہ ہوگا اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے اور اسی کو امام ابن جریر (رح) نے اختیار فرمایا۔
یونس (علیہ السلام) کا یہ گمان اللہ کی رحمت اور عنایت کی بنا پر بطور ناز تھا جیسے کوئی غلام اپنے ؤقا کے لطف و کرم کی بنا پر نبور ناز کوئی کام بغیر حکم کے بھی کر گزرتا ہے اور قدر بمعنی ضیق لغت عرب میں اور قرآن کریم میں بکثرت آیا ہے۔ کما قال تعالیٰ ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر (ای یوسع ویضیق) واما اذا ما ابتلاہ فقدر علیہ رزقہ (یعنی ضیق) ۔
اور بعض مفسرین نے لن نقدر کو قدرت سے مشتق مانا ہے اور مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ گمان کیا کہ ہم ان کے پکڑنے پر قادر نہ ہوں گے۔ اس تفسیر پر اشکال یہ ہے کہ ایسا عقیدہ اور گمان تو اونیٰ مسلمان بھی نہیں کرسکتا چہ جائیکہ خدا تعالیٰ کا نبی یہ گمان کرے جواب یہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) نے حقیقۃً یہ گمان نہیں کیا تھا کہ خدا تعالیٰ ان کے پکڑنے پر قادر نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا اس طرح بل انتظار وحی کے نکل کر چلا جانا گویا اس شخص کے حال کے مشابہ ہے کہ جس کا یہ گمان ہو کہ گویا اب ہم اس کو دوبارہ پکڑ کر واپس نہیں لاسکیں گے۔ چونکہ یونس (علیہ السلام) حق تعالیٰ کے پیغمبر تھے ان کی شان رفیع کے مناسب نہ تھا کہ اس طرح چلے جائیں اس لیے بطور شکوہ محبت حق تعالیٰ نے اپنے مجسانہ عتاب کو ان لفظوں کے ساتھ تعبیر کیا تاکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوشیار ہوجائیں۔
پس جب خدا کے حکم سے ان کو ایک مچھلی نکل گئی اور وہ اس کے شکم کی تاریکیوں میں گھر گئے تو یونس (علیہ السلام) نے ان تاریکیوں میں اللہ کو اس طرح پکارا۔ اے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو پناہ دے سکے تو ہر عیب سے پاک ہے میں بیشک تیرے قصور والوں میں سے ہوں کہ بغیر تیرے حکم کے اپنی قوم سے نکل گیا۔ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور اس غم سے ان کو نجات دی۔ چناچہ مچھلی نے سمندر کے کنارہ پر آکر ان کو اگل دیا۔ اور اللہ کی امانت صحیح سالم واپس کردی۔ یونس (علیہ السلام) صحیح سالم اپنی سابق بستی کی طرف واپس آئے۔ بعض کہتے ہیں کہ یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن رہے اور بعض کہتے ہیں کہ سات روز رہے اور حضرت یونس (علیہ السلام) کا شکم ماہی سے نکلنا ایسا ہوا جیسا کہ معصوم بچہ شکم مادر سے صحیح سالم نکلتا ہے اور جس طرح شکم مادر بچہ کی تربیت گاہ اور حفاظت گاہ ہوتا ہے، اسی طرح وہ شکم ماہی حکم الٰہی یونس (علیہ السلام) کی حفاظت گاہ اور تربیت گاہ تھی۔ یونس (علیہ السلام) جب شکم ماہی سے نکلے تو گویا ایسے تھے کہ جیسا بچہ ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے تو وہ فطرتاً معصوم اور گناہوں کے دھبوں سے بھی پاک و صاف ہوتا ہے اور جس طرح ہم نے یونس (علیہ السلام) کو اس غم سے نجات دی اسی طرح ہم ایمان والوں کو غم سے نجات دیتے ہیں کہ جو مومن بندہ اپنی کرب اور تکلیف میں ہماری طرف رجوع کرے اور ہم سے استغاثہ کرے ہم اس کو یوں ہی نجات دیتے ہیں۔ جیسے ہم نے یونس (علیہ السلام) کو غم سے نجات دی۔ حدیث میں ہے کہ جو بندہ پریشانی کے وقت میں لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین۔ پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو پریشانی سے نجات دیتا ہے۔
فائدہ (1): حضرت یونس (علیہ السلام) کا انی کنت من الظالمین۔ فرمانا اور اپنی طرف ظلم کی نسبت کرنا ایسا ہی تھا جیسا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصہ میں ہے ربنا ظلمنا انفسنا۔ اور ” ظلم “ کے معنی نقصان اور کمی کے ہیں جس کے مراتب اور درجات ہیں میں ایک ظلم عظیم ہوتا ہے اور ایک ظلم ذرہ برابر بھی ہوتا ہے۔
فائدہ (2): اور حدیث میں جو آیا ہے کہ مجھ کو یونس بن ستی (علیہ السلام) پر فضیلت نہ دو سو اس کی مراد یہ ہے کہ ایسی فضیلت نہ دو کہ جو ان کی تنقیص کا باعث بنے کیونکہ ان کے حق میں التقام حوت کا جو واقعہ پیش آیا وہ ظاہر میں اگرچہ عتاب تھا مگر درحقیقت وہ معراج نزولی تھی۔ مچھلی کے پیٹ میں اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت اور جلال کا ان کو مشاہدہ کرا دیا لیکن یہ مشاہدہ باطنی تھا اور برنگ تنبیہ و عتاب تھا اور شب معراج میں آنحضرت ﷺ کو جو مشاہدہ ہوا وہ مشاہدہ دیدار ظاہری طور پر تھا اور مکالمہ الٰہی کے ساتھ مقرون تھا۔ اور قرب کا اعلیٰ ترین مقام تھا۔ اور واقعہ معراج از اول تا آخر معراج عروجی تھا جس سے مقصود اعزازو اکرام تھا وہ مقام سید الانبیاء والمرسلین اور اکرم الاولین والآخرین کے لیے مخصوص تھا وہاں تک کسی کی رسائی نہیں۔
Ayahs 21:89–90(9) قصہ زکریا (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وزکریا اذ نادی ربہ .... الیٰ .... وکانوا لنا خشعین۔
(ربط) ان آیات میں نواں قصہ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کی خاطر عاطر کی تشفی مقصود ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی زکریا (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ اس نے اپنے پروردگار کا پکارا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو تنہا یعنی لاوارث اور بےاولا دنہ چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر وارث ہے یعنی ظاہری وارث سب فنا ہوجائیں گے صرف ایک تو ہی باقی رہے گا۔ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو یحییٰ بیٹا بخشا اور ان کی بی بی کی جو کہ بانجھ تھیں ان کی اصلاح کردی یعنی ان کے بانجھ پن کو دور کرکے بچہ چننے کے قابل بنا دیا یا یہ معنی ہیں کہ ان کی بیوی کی بدخلق کو خوش خلقی سے بدل دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی بیوی بد زبان تھیں۔ مفصل قصہ سورة مریم اور سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔
یہ تمام انبیاء جن کا اس سورت میں ذکر ہوا نیک کاموں میں دوڑتے تھے اور امید و بیم اور خوف ورجاء اور رغبت اور خوف سے ہم کو پکارتے تھے اور ہمارے سامنے نیاز مندی اور عاجزی کرنے والے تھے۔ پس جس کو اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کی طمع ہو تو اس کو چاہیے کہ رغبت اور رہبت کے ساتھ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرے نیاز مندی کو اختیار کرے ناز کو چھوڑ دے۔
Ayah 21:91(10) قصہ حضرت عیسیٰ و مریم (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ والتی احصنت فرجھا .... الیٰ .... وجعلنھا وانبھا ایۃ للعلمین۔
یہ دسواں قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے جس پر انبیاء کے قصوں کو ختم فرمایا اور اس سے پہلے حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ مذکور ہوا۔ ان دونوں قصوں میں غایت درجہ مناسبت ہے کہ وہاں بوڑھے مرد اور بوڑھی اور نابجھ عورت سے بچہ پیدا ہونے کا ذکر ہے اور یہاں کنواری سے بغیر شوہر کے لڑکا پیدا ہونے کا ذکر ہے جو اس سے زیادہ عجیب ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی اس عورت کا واقعہ ذکر کیجئے جس نے اپنی ناموس کی پوری اور کامل طور پر حفاظت کی تو ہم نے اس عورت کے گریبان میں جبرائیل (علیہ السلام) کے واسطہ سے اپنی ایک خاص روح پھونک دی جس سے اس کو بغیر شوہر ہی کے حمل رہ گیا اور اس حمل سے خدا کا ایک برگزیدہ نبی جناب مسیح (علیہ السلام) پیدا ہوا اور ہم نے مریم کو اور اس کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو جہان والوں کے لیے اپنے کمال قدرت کی ایک نشانی بنایا جس سے سب عقل والوں کو معلوم ہوگیا کہ خدا تعالیٰ بغیر باپ کے صرف عورت کے بطن سے لڑکا پیدا کرنے پر قادر ہے۔ مفصل قصہ سورة مریم اور سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 21:92–94بیان اجماع انبیاء کرام بر توحید خداوند انام
قال اللہ تعالیٰ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ .... الیٰ .... وانا لہ کتبون۔
(ربط) یہاں تک حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے قصص کا بیان ہوا چونکہ یہ سب حضرات توحید کے داعی تھے اس لیے اخیر میں بطور نتیجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام توحید پر متفق رہے اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ توحید کے بارے میں اختلاف نہ کرو اور صرف خدائے وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرو چناچہ فرماتے ہیں اے مخاطبین یہی توحید تمہاری ملت ہے درآنحالیکہ وہ ملت واحدہ ہے جس پر تمام انبیاء گزرے اس میں کسی کا کچھ اختلاف نہیں توحید پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ لوگوں کو چاہئے تھا کہ سب طریقہ توحید پر چلتے جو تمام انبیاء (علیہ السلام) کا طریقہ ہے و لیکن یہود و نصاری اپنے دین کے بارے میں متفرق و مختلف ہوگئے اور انہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگے اور آخرت سے منہ موڑ کر دنیا کی زندگی پر بھروسہ کر بیٹھے۔ سب ہماری طرف لوٹنے والے ہیں ہم ان کو ان کے اعمال کی سزا دیں گے پس جو شخص نیک عمل کرے بشرطیکہ وہ ایمان اور یقین رکھتا ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی بلکہ اس کی سعی مشکور ہوگی اور البتہ تحقیق ہم اس کے اعمال کو لکھتے جاتے ہیں۔ ہمارے حکم سے کراماً کاتبین اس کے اعمال کو صحیفہ اعمال میں ثبت کرتے ہیں۔