21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 21:30–33

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان کو جدا جدا کردیا ؟ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے ؟

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں

بیان دلائل قدرت برائے اثبات وحدانیت قال اللہ تعالیٰ اولم یر الذین کفروا ان السموت والارض کانتا رتقا .... الیٰ .... کل فی فلک یسبحون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں تخلیل عالم اور دلیل توحید کا ذکر تھا اور اس سے پہلے اس بات کا ذکر تھا کہ ہم نے اس عالم کو عبث اور باطل اور بیکار اور بےفائدہ نہیں بنایا بلکہ انواع اقسام کے صنائع اور بدائع سے مملو پیدا کیا تاکہ نظر کرنے والوں کے لیے تبصرہ اور عبرت پکڑنے والوں کے لیے تذکرہ ہوجائیں اور جس سے بندوں کے امور معاش اور معاد منتظم ہوں اور ان کو دیکھ کر ان کے خالق اور تدبر کو پہچائیں اور اس کے واحد قہار ہونے پر استدلال کریں۔ اب آئندہ آیات میں کچھ اور دلائل قدرت و حکمت بیان کرتے ہیں جو وجود صانع پر بھی دلالت کرتے ہیں اور اس کی وحدانیت پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ تمام کائنات اس کے دست قدرت میں مقہور اور مجبور اور مسخر ہیں، عرش سے فرش تک سارا کارخانہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور اس کے ارادے اور مشیت سے چل رہا ہے مشرکین کو چاہئے کہ خدا کی ان نشانیوں میں غور و فکر کریں اور دیکھیں کہ ان کی تخلیق و تدبیر میں کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر عقلاً یہ کیسے روا ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کو پوجا جاوے اور اس کے ساتھ دوسرے کو عبادت میں شریک کیا جائے اس ذیل میں حق تعالیٰ نے چھ قسم کے دلائل ذکر فرمائے۔ قسم اول کیا ان کافروں نے جو اللہ کی وحدانیت کے منکر ہیں اور غیروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے ہیں۔ چشم بصیرت و نظر عبرت سے یہ نہیں دیکھا اور یہ نہیں سمجھا کہ تحقیق آسمان و زمین ابتداء میں دونوں باہم متصل اور متلاصق تھے یعنی ایک دوسرے سے چپٹے ہوئے اور چپکے ہوئے ایک ہی بند چیز تھے پھر ہم نے ان کو کھولا اور ایک کو دوسرے سے جدا کیا جس سے آسمان الگ ہوگیا اور زمین الگ ہوئی۔ آسمان کو بلند کیا اور زمین کو پست کیا اور ہوا کے ذریعے دونوں میں فصل کردیا۔ ؤھر آسمان کو سات اور زمین کو سات کردیا۔ دونوں کے منہ بند تھے اللہ نے اپنی قدرت سے دونوں کے منہ کھول دئیے آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے بناتات اگائے اور نہریں اور چشمے جاری کیے ابتداء میں آسمان اور زمین کے منہ بند تھے نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی اور نہ زمین سے روئیدگی، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے بندوں کے فائدے کے لیے دونوں کے منہ کھول دئیے۔ آسمان سے پانی برسنے لگا اور زمین سے قسم قسم کی غذائیں اور پھل اگنے لگے اور نہریں اور چشمے جاری ہوگئے کیا کافروں نے خدا تعالیٰ کے اس کرشمہ قدرت میں غور نہیں کیا کہ کرشمہ قدرت میں کوئی اس کا شریک اور سہیم نہیں پھر اس کی عبادت اور بندگی میں دوسروں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ آیت کی یہ تفسیر ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر (رح) اور حسن بصری (رح) اور قتادہ (رح) سے منقول ہے اور اسی کو امام رازی (رح) نے اختیار کیا ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 114 ج 6) ابو مسلم اصفہانی (رح) سے یہ منقول ہے کہ ” رتق “ سے حالت عدم مراد ہے اور فتق سے حالت ایجاد مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ کیا مشرکین کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان و زمین ایک وقت میں معدوم تھے جن میں باہم کوئی امتیاز نہ تھا پھر ہم نے ان کو پیدا کرکے ان میں امتیاز قائم کیا جب سب حالت عدم میں تھے اس وقت ان میں باہم کوئی امتیاز نہ تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کو وجود عطاء کردیا تب ایک چیز دوسری چیز سے متمیز ہوئی (دیکھو تفسیر کبیر ص 114 ج 6 و روح المعانی ص 32 ج 17) اب اس قول کی بنا پر آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ کیا ان کافروں کو معلوم نہیں کہ آسمان و زمین پہلے معدوم تھے ہم نے اپنی قدرت سے ان کو وجود عطاء کیا تو جب مشرکین خدا کو خالق اور موجد مانتے ہیں تو پھر اس کے ساتھ دوسروں کو عبادت میں کیوں شریک کرتے ہیں۔ مگر محققین اور جمہور علماء تفسیر کے نزدیک صحیح قول وہی ہے جو ہم نے ابن عباس ؓ اور سعید ابن جبیر (رح) اور حسن بصری (رح) اور قتادہ (رح) سے نقل کیا۔ سوال : رہا یہ سوال کہ مشرکین نے آسمان و زمین کی رتق اور فتق کو کب دیکھا جس پر ان کو ملامت کی گئی اور کہا گیا اولم یرالذین الخ کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں اور خود حق تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ما اشھدتھم خلق السموت والارض۔ جواب : یہ ہے کہ آیت میں چشم سر سے دیکھنا مراد نہیں بلہ چشم بصیرت اور نظر عبرت سے دیکھنا مراد ہے کہ اگر یہ لوگ غوروفکر کریں تو معلوم ہوجائیگا کہ آسمان و زمین کے منہ پہلے بند تھے بعد میں کھولے گئے کیونکہ بہ دلالت عقل یہ بات واضح ہے کہ یہ تمام اجسام علویہ اور مفلیہ سب حادث ہیں اور ان کے احوال اور کیفیات بھی سب حادث ہیں۔ آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین سے وقتا فوقتا قسم قسم کے نباتات کا اگنا یہ بھی حادث ہے ان چیزوں کا حدوث آنکھوں کے مشاہدہ سے ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ ہر حادث کے لیے کوئی مبدا اور منتہا چاہئے جس پر تمام اسباب و علل کی انتہا ہوتی ہو اور ہر حادث کی منتہا واجب الوجود ہے جو ان محدثات کا محدث اور موجد ہے (دیکھو تفسیر کبیر للامام الرازی (رح) ص 114 جلد 6 و حاشیہ تتوی علیٰ التفسیر البیضاوی ص 217 ج 5) یہ ناچیز عرض کرتا ہے کہ آسمان و زمین کا جسم متصل ہونا ظاہر ہے اور وقتاً فوقتاً آسمان سے پانی کا برسنا اور زمین سے وقتاً فوقتاً روئیدگی کا ہونا یہ بھی سب کی نظروں کے سامنے ہے اور عقل و فطرت کا تقاضہ یہ ہے کہ جب کسی جسم متصل سے کوئی چیز کبھی کبھی نکلتی دکھائی دے تو دیکھنے والا سمجھ لیتا ہے کہ اس جسم متصل کا منہ اب بند تھا جب منہ کھلا تو مشک میں سے یا ٹنکی میں سے پانی نکلنے لگا اور صندوق کا منہ بند تھا۔ جب منہ کھلا تو اس میں سے قسم قسم کے کپڑے نکلنے لگے یہی حال آسمان اور زمین کا سمجھو، کفار نے اگرچہ آسمان و زمین کے رتق اور فتق کو نہیں دیکھا مگر آسمان سے بارش کا ہونا اور زمین سے نباتات کا اگنا تو دیکھا ہے اسی کو دیکھ کر سمجھ سکتے ہیں کہ آسمان سے بارش کا ہونا اور زمین سے نباتات کا اگنا خود بخود نہیں بلکہ در پردہ کوئی دست قدرت کار فرما ہے کہ وہ جب اور جتنا اور جس وقت چاہتا ہے اس وقت اتنا ہی پانی آسمان سے برستا ہے اور یہی حال روئیدگی کا ہے بلکہ ہر سال موسم سرما و گرما میں جب بارش کے آنے میں دیر ہوتی ہے تو یہ کافر آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ تو دیکھتے ہیں کہ آسمان کا منہ بند ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے آسمان کا منہ کھولتا اور بارش برساتا ہے تو زمین کا بھی منہ کھل جاتا ہے اور قسم قسم کا سبزہ اگنے لگتا ہے، ہر سال اس منظر کا مشاہدہ ہوتا ہے پھر بھی یہ کافر خدا کی قدرت پر ایمان نہیں لاتے۔ قسم دوم اور کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اس رتق اور فتق کے بعد اس جہان کی ہر زندہ چیز ہم نے پانی سے پیدا کی ہر جاندار چیز بلاواسطہ پانی سے پیدا ہوئی اور زندگی اور حیات کے لیے پانی کی محتاج ہے گویا کہ ہر چیز کا مادہ حیات پانی ہی ہے جیسا کہ دوسری آیات میں ہے۔ واللہ خلق کل دابۃ من ماء۔ اور وما انزل اللہ من السماء من ماء فاحیا بہ الارض بعد موتھا وبث فیہا من کل دابۃ۔ اور مسند احمد میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ کل شیء خلق من ماء ہر شئے پانی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ فرشتے اگرچہ نور سے پیدا ہوئے اور جن نار سے اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے لیکن اصل مادہ حیات سب کا پانی ہے اور کان عرشہ علی الماء۔ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی عرش سے پہلے پیدا ہوا۔ واللہ اعلم۔ فائدہ : گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا تھا کہ آسمان و زمین کے منہ بند تھے اور دونوں ایک چیز تھے، ہم نے آسمان کا منہ کھولا تو اس سے پانی برسا اور زمین کا منہ کھولا تو اس سے نہریں اور چشمے جاری ہوئے اور قسم قسم کے نباتات اگے اس لیے اس آیت میں حق تعالیٰ نے پانی کے متعلق اپنی قدرت کی نشانی کو بیان کیا کہ ہر جاندار کی اصل پانی ہے اور تمام کرہ زمین پانی سے گھرا ہوا ہے اور پانی ہی تمام زمین کے اندر بھرا ہوا ہے۔ عرش بھی پانی پر قائم ہے اور زمین بھی پانی پر قائم ہے اس لیے فرمایا کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ قسم سوم اور بنائے ہم نے زمین میں محکم اور مضبوط پہاڑ بھاری بوجھ والے جو زمین پر خوب جمے ہوئے ہیں تاکہ زمین لوگوں کو لیکر ہلنے نہ لگے یعنی ہم نے اپنی قدرت سے زمین پر مضبوط پہاڑ قائم کر دئیے تاکہ زمین جم جائے اور ٹھہر جائے اور لوگ اس پر قرار پکڑ سکیں۔ پوری زمین پانی میں ڈوبی ہوئی ہے، صرف چوتھائی زمین کھلی ہوئی ہے اس ربع مسکون کے باشندے آسمان اور چاند سورج کا مشاہدہ کرسکتے ہیں قسم چہارم اور ہم نے اپنی قدرت سے زمین میں یا پہاڑوں میں کشادہ راستے بنا دئیے تاکہ لوگ اپنی معاشی ضروریات کے لیے منزل مقصود تک راہ پا سکیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکیں جیسا کہ سورة نوح میں ہے لتسلکوا منھا سبلا فجاجا۔ یا یہ معنی ہے کہ نظر و فکر کرکے اللہ کی وحدانیت تک پہنچ سکیں اور ہدایت حاصل کرسکیں۔ قسم پنجم اور ہم نے اپنی قدرت سے زمین کو اس عالم کے لیے فرش بنایا اور پھر آسمان کو اس زمین پر ایک محفوظ چھت بنایا جو باوجود بےستون ہونے کے گرنے سے اور خراب ہونے سے محفوظ ہے کما قال تعالیٰ ویمسک السماء ان تقع علی الارض الا باذنہ۔ وقال تعالیٰ ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا۔ خدا کی بنائی ہوئی چھت ٹوٹنے اور پھوٹنے اور گرنے سے محفوظ اور شیاطین کے استراق سے بھی محفوظ ہے وہاں تک شیاطین کی رسائی نہیں۔ کما قال تعالیٰ وحفظا من کل شیطان مارد۔ وحفظناھا من کل شیطان رجیم۔ اور مشرکین اس آسمانی چھت کی نشانیوں سے بھی منہ موڑے ہوئے ہیں جیسے شمس و قمر اور کواکب اور نجوم اور ان کی حرکات اور ان کے طلوع و غروب میں یہ لوگ نظر نہیں کرتے۔ قسم ششم اور اسی خدا نے پیدا کیا رات کو اور دن کو تاکہ رات میں سکون اور راحت پاویں اور دن میں روزی کماویں اور پیدا کیا آفتاب کو جو دن کی نشانی ہے اور پیدا کیا چاند کو جو رات کی نشانی ہے ہر ایک ان میں سے اپنے اپنے فلک میں تیرتے اور سیر کرتے ہیں اور ان میں سے ہر چیز کا وجود اور اس کی ہیئت اور اس کی حرکت اور سکون سب خدا کی قدرت اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنی وحدانیت کی چھ دلیلیں ذکر کی ہیں اور ہر دلیل کے تحت صدہا دلیلیں مستور ہیں۔ کفار اگر ذرا غور کریں تو ان پر اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت روز روشن کی طرح روشن ہوجائے۔ ایک شبہ : اس زمانہ کے ملاحدہ کا اعتقاد یہ ہے کہ آسمان کوئی چیز نہیں بلکہ یہ خلاء بےانتہا ہے جس کی دوری کی کوئی حد نہیں اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ ہم کو دوربین سے کچھ نظر نہیں آتا۔ جواب : یہ دلیل بالکل مہمل ہے۔ کسی چیز کا دوربین وغیرہ سے نظر نہ آنا یہ اس چیز کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتا۔ نیز ازروئے نصوص شریعت آسمان و زمین سے پانچ سو سال کی مسافت پر ہے اور وہ بالکل صاف شفاف جسم ہے اور وہ دوربین میں تو یہ قوت نہیں کہ اتنی دور کی چیز کو دریافت کرسکیں۔ البتہ آسمان کا پانی میں عکس نہیں ہوتا اور تمام کتب سماویہ اور تمام انبیاء آسمانوں کے وجود پر متفق ہیں۔ اور ان لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ خلاء بےانتہا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا غیر متناہی چیز کا وجود عقلاً ممکن بھی ہے یا نہیں اور سطح زمین سے بےانتہاء دوری موجود بھی ہے یا نہیں کیا عقلاً یہ ممکن نہیں کہ جس بعد اور دوری کو آپ نے اپنے قصور فکر کی وجہ سے غیر محدود سمجھ رکھا ہے وہ محددود اور متناہی ہو اور اس کے بعد کوئی جسم صاف شفاف موجود ہو جو آپ کو اب تک نظر نہیں آسکا۔ جیسا کہ دور بین کی ایجاد سے پہلے بہت سی چیزیں لوگوں کو نظر نہیں آتی تھیں جو اب نظر آنے لگی ہیں غرض یہ کہ کسی چیز کا کسی وقت کسی کو نظر نہ آنا یہ اس چیز کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 21:34–35

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں اور تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

بیان فناء عالم و رجوع ہمہ بسوئے خلاق عالم و جواب از شماتت اعداء بموت سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد .... الیٰ .... والینا ترجعون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت کے ذیل میں چھ قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ جو تمام دنیوی نعمتوں کی اصل اور جڑ ہیں اب ان آیات میں یہ بتاتے ہیں کہ یہ دنیا دار فنا ہے دار البقاء نہیں یہ پوری دنیا اور اس کی تمام چیزیں فانی ہیں اس دنیا کے عجائب وغرائب اور اس کی آرائش و زیبائش پر مفتون نہ ہوجانا۔ حق تعالیٰ نے ان چیزوں کو آزمائش اور امتحان کے لیے پیدا کیا ہے فنا اور موت ہر چیز کے لیے لازم ہے مرنے کے بعد تم کو خیر و شر کا بدلہ دیا جائے گا کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس کو موت نہ آوے۔ ہر شخص کو مرنا ہے اور اپنے خالق کی طرف لوٹنا ہے، اپنے انجام کو سوچ لو۔ شان نزول : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کفار یہ کہتے تھے۔ نتربص بہ ریب المنون۔ یعنی ہم محمد ﷺ کے لیے حادثہ موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ کفار حضور پر نور ﷺ کی باتیں سن کر یہ کہتے تھے کہ یہ ساری دھوم دھام اس شخص کے دم تک ہے جب یہ مرجائیں گے تو یہ دھوم دھام سب جاتی رہے گی گویا کہ آپ کی موت پر خوش تھے ان کی شماتت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی گویا دلائل قدرت بیان کرنے کے بعد روئے سخن مسئلہ نبوت کی طرف پھیر دیا گیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ہم نے آپ ﷺ سے پہلے دنیا میں کسی بشر کو ہمیشگی نہیں دی۔ خواہ ولی ہو یا نبی دنیا میں بقاء اور دوام کسی کے لیے نہیں۔ پس اگر تو مرجائے تو کیا یہ لوگ آپ کے بعد ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ کافر آپ کی موت کے منتظر تھے اور خوشیاں منا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں دوام اور بقاء ہم نے کسی کو بھی نہیں دیا جو پیدا ہوا ہے وہ ضرور مرے گا۔ ہر شخص اپنے اپنے وقت پر موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ خضر (علیہ السلام) ہوں یا عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں قیامت سے پہلے وہ بھی مرنے والے ہیں۔ ہر کہ آمد بجہاں اہل فنا خواہد بود آنکہ پائندہ باقی است خدا خواہد بود اور اے لوگو ہم تم کو اس دنیا میں بڑائی اور بھلائی کے ساتھ بطریق امتحان تم کو آزما رہے ہیں بھلائی سے مراد میری اور عزت و راحت اور صحت و عافیت اور ہر قسم کا عیش و آرام ہے اور برائی سے مراد سختی اور بیماری اور افلاس ہمارے پاس لوٹائے جاؤ گے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دیں گے۔ لہٰذا تم کو ثاہئے کہ اس چند روزہ زندگی کی بجائے مرنے کے بعد کی زندگی کی زیادہ فکر کرو۔
Ayahs 21:36–47

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے ؟ حالانکہ وہ خود رحمن کے نام سے منکر ہیں

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان (کچھ جلدباز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھلاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب آئے گا

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے من ہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھ پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ (قیامت) ان پر ناگہاں آواقع ہوگی اور انکے ہوش کھو دے گی پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں تمسخر کیا کرتے تھے، ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اڑاتے تھے آگھیرا

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے ؟ بات یہ ہے کہ یہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچا سکیں ؟ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ میں دئیے جائیں گے

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں ؟

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

کہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں اور بہروں کو جب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کو سنتے ہی نہیں

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کمبختی ہم بیشک ستمگار تھے

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں

بیان انجام استہزاء ببارگاہ رسالت و تہدید عذاب آخرت وال اللہ تعالیٰ واذاراک الذین کفروا .... الیٰ .... وکفی بنا حسنین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کے انتقال پر شماتت کرنے والوں کا جواب تھا اب ان آیات میں ان لوگوں کے انجام بد کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتے تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دفعتا آجائے گی اور اس وقت ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا مزہ معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ان عاشقان دنیا اور منکرین آخرت کی حالت یہ ہے کہ یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ ﷺ کو ٹھٹھا اور مذاق ہی بنا لیتے ہیں، یہ بھی ابتلاء الٰہی ہے کہ رسول کو دیکھ کر جو کہ عین رحمت ہے تمسخر کرتے ہیں اور بعض بعض سے یہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا برائی کے ساتھ نام لیتا ہے اور ان کو اندھا اور بہرہ اور گونگا بتلاتا ہے اپنے فرضی معبودوں کے ساتھ تو ان نادانوں کا یہ حال ہے اور معبود برحق کے ساتھ انکا یہ حال ہے کہ رحمن کے نام سے منکر ہیں۔ کفار رحمن کے نام سے چڑتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو سوائے مسیلمہ یمامہ کے کسی کو رحمن نہیں جانتے غرض یہ کہ ان نادانوں کا عجیب حال تھا کہ رسول خدا کو دیکھتے تو انکا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ کیا خدا نے اسی شخص کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور یہ شخص تو ہمارے معبودوں کا برائی کے ساتھ نام لیتا ہے ہمیں ڈر ہے کہ اس شخص کی باتیں ہماری قوم کو گمراہ نہ کردیں۔ اپنے بتوں پر ناز کرتے اور رحمن کے نام سے چڑتے ہیں جن کی حالت یہ ہو وہ قابل تمسخر اور استہزاء ہیں نہ کہ رسول برحق اور انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے یعنی یہ عجلت اور جلد بازی اس کی فطرت میں داخل ہے اس لیے وہ ہر بات کو جلد چاہتا ہے اور انجام پر غور نہیں کرتا اس لیے یہ مسخرے عذاب الٰہی میں بھی جلدی ہی چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں۔ عنقریب میں تم کو اپنے قہر کی نشانیاں دکھلاؤں گا سو تم جلدی مت کرو۔ مشرکین آنحضرت ﷺ سے جلدی عذاب مانگتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ اپنے نافرمانوں کو فوراً عذاب میں نہیں پکڑتا بلکہ ان کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ عذاب وقت سے پہلے آتا نہیں اور آنے کے بعد ٹلتا نہیں اور یہ لوگ جب عذاب الٰہی کی دھمکی سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ عذاب کا یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم اس عذاب کے وعدے میں سچے ہو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں اگر یہ جلد باز کافر اس ہولناک وقت کو جان لیں کہ جب وہ نہ اپنے چہروں سے عذاب کو روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھ کی طرف سے آنے والے عذاب کو دفع کرسکیں گے اور نہ ان کو اس وقت کوئی مدد پہنچ سکے گی۔ سو یہ کافر اگر ایسے عذاب کو جان لیں تو اس کے مانگنے میں جلدی نہ کریں اور نہ کہیں متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین۔ لیکن خوب سمجھ لیں کہ اللہ کا قہر اور عذاب ان سے پوشیدہ رکھا گیا ہے ان کی فرمائش کے مطابق اطلاع کرکے نازل نہ ہوگا۔ بلکہ اس عذاب اور مصیبت کی ساعت اور وہ قیامت جس کو وہ پوچھتے رہتے ہیں کہ کب آئے گی۔ اچانک ان پر آپہنچے گی۔ اور پھر ان کو مبہوت اور حیران بنا دے گی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر اس کے دفع کرنے کی طاقت نہ رکھیں گے اور نہ مہلت دئیے جائیں۔ کیونکہ وقت مہلت کا بھی گزر چکا ہے اور اے نبی ﷺ ان کے استہزاء اور تمسخر سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں آپ سے پہلے کتنے ہی رسولوں کے ساتھ تمسخر کیا گیا پس بالآخر ان لوگوں کو جو رسولوں کے ساتھ تمسخر کرتے تھے اس عذاب نے آگھیرا جس کے ساتھ وہ ٹھٹھا کرتے تھے۔ ان کافروں کا یہی ہوتا ہے پس اے نبی آپ تسلی رکھئے گزشتہ پیغمبروں کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کرنے والوں پر اللہ کا عذاب اچانک آیا پہلے سے ان کو وقت نہیں بتلایا گیا۔ ان آیات میں کفار کی عجلت اور جہالت کو بیان کیا کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال سے ناواقف ہیں۔ اب آئندہ آیات میں پھر اللہ تعالیٰ اپنی کمال قدرت اور کمال رحمت کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ ارحم الراحمین دن رات اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان کافروں سے جو رحمن کے اور اس کی رحمت کے منکر ہیں اور آپ ﷺ کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ یہ کہہ دیجئے کہ وہ کون ہے جو رات اور دن میں خدا کی عقوبت اور مصیبت اور طرح طرح کی بلاؤں سے تمہاری حفاظت کرتا ہے سوائے رحمن کے کوئی نہیں اس کی رحمت کی بناء پر تم اس کے ناگہانی عذاب سے بچے ہوئے ہو۔ حق تو یہ تھا کہ اس رحمن و رحیم کی رحمت کے قائل ہوجاتے مگر اب بھی قائل نہ ہوئے بلکہ اب بھی بدستور اپنے پروردگار کی یاد سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ شکر گزار بنتے۔ شکرت و کیا کرتے الٹے اس کی یاد سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ اب آگے ان سے دریافت کرتے ہیں کیا ان کے پاس ہمارے سوا اور معبود ہیں جو ان کو ہمارے عذاب سے مقابلہ میں کوئی انکا ساتھ دے سکتا ہے یعنی ان کا کوئی ساتھی نہیں جو مصیبت کے وقت میں انکا ساتھ دے اور اب تک جو لوگ عذاب سے بچے ہوئے ہیں، اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے معبود ان کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے آباؤ و اجداد کو دنیا سے خوب بہرہ مند کیا اور ان کو نعمت اور مہلت دی یہاں تک کہ ان کی عمریں دراز ہوگئیں سو وہ مغرور ہوگئے اور سمجھ بیٹھے کہ ہم ہمیشہ اسی عیش و عشرت میں رہیں گے اور یہ نہ سمجھے کہ دنیا کی عیش و عشرت کر دوام اور بقا نہیں ہے۔ مغرور مشو کہ و مبدم دست اجل برہم زند ایں بنا کزافزاشتہ اند اللہ کی حلیمی اور مہلت سے یہ لوگ دھوکے میں پڑگئے اور عذاب کا انکار کر بیٹھے۔ کیا انکا گمان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایسی حالت میں رہیں گے اور شتر بےمہار کی طرح چھٹے پھریں گے اور خدا کی طرف سے کوئی پکڑ نہ ہوگی۔ پس کیا مغرور پن دیکھ نہیں رہے کہ ہم زمین کفر کو یعنی دار الحرب کو ہر چہار طرف سے گھٹاتے اور کم کرتے چلے آرہے ہیں۔ پس کیا یہ لوگ اس توقع اور گمان میں ہیں کہ یہ اسلام پر غالب آجائیں گے یعنی دن بدن کافروں کا روز گھٹتا جا رہا ہے اور ان کے ملک اور شہر مسلمانوں کے قبضے میں آرہے ہیں اور مسلمانوں کا ملک دن بدنبڑھتا چلا جا رہا ہے کیا ان لوگوں کو اس بات سے عبرت اور تنبیہ نہیں ہوتی کہ اپنے کفر سے رجوع کریں اور سمجھیں کہ یہ سب غیبی امداد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بےسروسامان بندوں کی یعنی اہل ایمان کی غیب سے مدد کر رہا ہے پس جب کفار مسلمانوں کے ساتھ یہ تائید غیبی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں تو ان کو چاہئے کہ اپنے دل سے اپنے غلبہ کا خیال نکال دیں۔ یا یہ معنی ہیں کہ دن بدن اسلام پھیلتا جاتا ہے اور مسلمان بڑھتے جاتے ہیں اور کفر گھٹتا جا رہا ہے کیا اس مشاہدہ کے بعد بھی انکا گمان ہے کہ وہ غالب آجائیں گے۔ پہلی تفسیر پر یہ شبہ وارد ہوسکتا ہے کہ یہ سورت بالاتفاق مکی ہے اور مسلمانوں کا غلبہ اور فتوحات وہ جہاد کے بعد کا واقعہ ہے۔ اور جہاد مدینہ منورہ میں شروع ہوا اسلئے کہ زمین کا کفار کے قبضہ سے نکل کر تھوڑا تھوڑا مسلمانوں کے ہاتھ میں آنا یہ بات مکہ مکرمہ میں نہ تھی اس لیے بعض علماء نے یہ جواب دیا ہے کہ اس سورت میں سے یہ آیت مکی ہونے سے مستثنیٰ ہے جیسا کہ جلال الدین سیوطی (رح) نے اتقان میں ذکر کیا ہے اور بعض علماء نے یہ کہا کہ یہ سورت مکی ہے اور اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ دن بدن لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور زمین سے کفر کم ہوتا جا رہا ہے اور یہ بات ہجرت اور جہاد سے پہلے ہی ظہور میں آچکی تھی ہجرت سے پہلے مکہ اور مدینہ کے اطراف اور نواحی میں اسلام پھیل چکا تھا۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ تم اپنے مال و دولت کے غرہ میں نہ رہو۔ جزایں نیست کہ میں اللہ کے حکم کے موافق تم کو عذاب سے ڈراتا ہوں۔ عذاب کا نازل کرنا میرے اختیار میں نہیں۔ میرا کام تو ڈرانے کا ہے تم اپنے انجام کو سوچ لو لیکن یہ بہرے ڈرانے والے کی پکار کو سنتے نہیں جب کبھی بھی یہ بہرے عذاب الٰہی سے ڈرائے جاتے ہیں یعنی یہ کافر حق کی طرف سے ایسے بہرے ہوگئے کہ کتنا ہی ان کو ڈرایا جائے سنتے ہی نہیں بڑے بہادر اور دلیر بنے ہوئے ہیں اور ان کی بہادری کا یہ حال ہے کہ اگر ان کو تیرے پروردگار کے عذاب کی ایک ادنیٰ سی بھاپ بھی پہنچ جائے اور عذاب کی ذرا سی ہوا بھی لھ جائے تو ضرور بالضرور یہی کہیں گے کہ ہائے ہماری کمبختی بلاشبہ ہم ظالم تھے۔ یعنی پہلے تو بڑے بہادر بنے ہوئے تھے اور عذاب کی جلدی مچا رہے تھے مگر جب عذاب کا ذرا سا جھونکا بھی لگے گا تو ساری بہادری ختم ہوجائے گی اور اپنے قصور کا اعتراف کریں گے اور یہ اگرچہ ظالم ہیں مگر ہماری طرف سے ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ ہم قیامت کے دن عدل و انصاف کی ترازو قائم کریں گے اور عدل و انصاف کے ساتھ لوگوں کے اعمال کا فیصلہ کریں گے جس کی نیکیاں بدیوں پر غالب ہونگی وہ نجات پائے گا۔ اور جس کی بدیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی اسے ذلیل و خوار کرکے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ سو کسی جان پر ذرا برابر ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی کا کوئی عمل نیکی یا بدی رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا۔ اگرچہ وہ پتھر کے اندر ہو یا آسمان و زمین میں ہو تو ہم اسکو وہاں لاکر سب کے سامنے حاضر کردیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے کو ہمیں کسی ترازو کی حاجت نہیں ہم سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ شبلی (رح) کو ایک شخص نے خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا تو یہ فرمایا حاسبونا دفد ققوا ثم منوا فاعتقوا ھکذا سمۃ الملوک بالممالیک یرفقوا یعنی انہوں نے ہم سے حساب لیا پس ذرہ ذرہ کا حساب لیا۔ پھر احسان کرکے آزاد کردیا۔ اسی طرح بادشاہوں کی عادت ایسی ہی ہوتی ہے کہ اپنے غلاموں پر نرمی کیا کرتے ہیں۔ تفصیل احوال انبیاء سابقین صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین برائے اثبات توحید و رسالت و قیامت یہاں تک اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر توحید اور رسالت کے متعلق اور پھر منکرین نبوت و آخرت کے دنیاوی اور اخروی عذاب کے متعلق مضامین بیان فرمائے اب انہی مضامین کی تائید کے لیے چند انبیاء سابقین کے احوال کی کچھ تفصیل بیان فرماتے ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے دس قصے بیان فرمائے۔
Ayahs 21:48–50

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت و گمراہی میں) فرق کردینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیزگاروں کے لئے

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو ؟

(1) قصہ موسیٰ و ہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ و ھرون الفرقان .... الیٰ .... افانتم لہ منکرون۔ اور البتہ تحقیق ہم نے آپ ﷺ سے قبل موسیٰ اور ہارون کو ایسی چیز عطاء کی جو حق اور باطل میں فرق کرنے والی اور ایک کو دوسرے سے جدا کرنے والی وھی، مراد اس سے توریت ہے جو حق اور باطل اور حلال و حرام کے فرق کو واضح کرنے والی تھی اور ان کو روشنی عطاء کی۔ یعنی ان کو ایک روشن کتاب عطاء کی جس سے تاریکیوں میں راستہ نظر آئے اور پرہیزگاروں کے لیے وعظ و نصیحت کی چیز عطاء کی۔ یہ تینوں صفتیں توریت کی ہیں جو حق اور باطل کا فیصلہ کرتی تھی۔ اور مشعل ہدایت تھی جس سے دل میں نور پیدا ہوتا تھا اور وعظ و نصیحت تھی۔ ایسے پرہیزگاروں کے لیے جن کا وصف یہ ہے کہ جو اپنے پروردگار سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں اور خاص طور پر وہ قیامت سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں اور توریت کے بعد یہ قرآن جو تمہارے پاس ہے یہ بھی ایک عظیم برکت والی نصیحت ہے جس کو ہم نے مقام عظمت و جلال سے اتارا ہے اور جو انور و برکات میں تمام کتب سماویہ سے بڑھ کر ہے۔ سو کیا اے اہل مکہ تم اس مشعل ہدایت سراپا نور و برکت کی نورانیت اس کے دل میں پہنچتی ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہو اور قیامت سے لرزتا ہو۔