17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 17:90–100

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (عجیب و غریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو) ہمارے لئے زمین میں سے چشمہ جاری کردو۔

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو۔

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا لاؤ یا خدا اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے لے آؤ۔

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے۔ میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کیا خدا نے آدمی کو پیغمبر کر کے بھیجا ہے ؟

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم ان کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے وہی اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا ان کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم ان کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب اس کی آگ بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو عذاب دینے کے لیے اور بھڑکا دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا کیے جائیں گے ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے اور انسان دل کا بہت تنگ ہے۔

معاندین کے سوالات اور ان کے جوابات قال اللہ تعالیٰ وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر .... الیٰ .... وکان الانسان قتورا۔ (ربط) گزشتہ آیت میں قرآن کے اعجاز کا ذکر تھا جب مشرکین جواب سے عاجز اور لاچار ہوگئے تو انہوں نے ازراہ عناد آپ ﷺ سے بیشمار بےسروپا فرمائشیں شروع کیں اور کہا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو یہ نشانات دکھلائیے جن کا آئندہ آیت میں ذکر ہے ان کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ان آیات میں کفار کے ان شبہات کا جواب دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کی رسالت سے متعلق تھے چناچہ فرماتے ہیں۔ اور یہ لوگ باوجود یکہ قرآن کا اعجاز ان پر ظاہر ہوگیا اور آپ کی نبوت و رسالت اس سے ثابت ہوگئی پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ (1) یہاں تک کہ تو ہمارے لیے مکہ کی زمین سے چشمہ جاری کر دے جس سے تمام اہل مکہ سیراب ہوں۔ (2) یا خاص تیرے لیے کھجوروں یا انگوروں کا کوئی باغ ہو پھر تو ان کے درمیان میں نہریں جاری کر دے اور اس قسم کا باغ تیری سرداری اور برتری کا نشان ہو۔ (3) یا ہم پر کوئی بلا نازل کر جیسا کہ تو کہا کرتا ہے اور ہم کو ڈرانا رہتا ہے کہ ہم پر آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرا دے جس سے تیرے نہ ماننے والے مرجائیں۔ (4) یا لے آ تو اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے کہ ہم اپنی آنکھوں سے سب کو دیکھ لیں اور ہمارے سامنے یہ شہادت دیں کہ یہ خدا کا رسول ہے۔ (5) یا تیرے پاس سونے کا گھر ہو جس سے دنیا میں تیری کوئی شان ظاہر ہو۔ (6) اور یا تو آسمان میں چڑھ جائے اور ہم تجھے چڑھتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ (7) اور پھر ہم تیرے چڑھنے پر بھی تیری نبوت پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تو ہم پر ایک کتاب اتار کر لائے جس کو ہم آپ پڑھ لیں اور اس میں یہ لکھا ہوا ہوا کہ یہ ہمارا رسول ہے تم اس کا اتباع کرو اگر تم ہماری ان باتوں کو پورا کر دو گے تو ہم تم کو سچا مان لیں گے اور جان لیں گے کہ اللہ کے یہاں تیرا بڑا مرتبہ ہے اور تم اس کے ایلچی ہو اس نے تم کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے آپ ان سب خرافات کے جواب میں کہہ دیجئے کہ یہ فرمائشیں اس شخص سے ہوسکتی ہیں جو اپنے لیے کمال قدرت کا مدعی ہو میرا پروردگار پاک ہے اس سے کہ اس کی قدرت کاملہ میں کوئی اس کا شریک ہو بشر میں یہ قدرت نہیں کہ وہ اس قسم کے نشانات دکھلا سکے میں نہیں ہوں مگر ایک بشر جس کو خدائے تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے مجھ کو اسی قدر قدرت حاصل ہے جو ایک بشر کو دی گئی ہے مگر میں اللہ کا رسول اور اس کافرستادہ ہوں اس کا پیغام اور اس کے احکام پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہوں ایسی باتیں کرنے کی مجھ میں قدرت نہیں جیسے پہلے رسول گزرے ہیں ایسا ہی میں بھی رسول ہوں اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں پیغمبروں کو مناسب حال معجزات عطا کئے اور ان معجزات کا ظہور اللہ کی قدرت اور مشیت سے تھا۔ رسولوں کے اختیار اور مشیت سے نہ تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ کو رسول بنا کر بھیجا اور میری تصدیق کے لیے بہت سے معجزات دئیے جو تمہارے ان فرمائشی معجزات سے ہرگز کم نہیں مثلا شق القمر اور انگلیوں سے پانی کا جاری ہوجانا وغیرہ وغیرہ اس قسم کے معجزات آپ ﷺ سے ظاہر ہوتے کہ جو آپ ﷺ کی صداقت ثابت کرنے کے لیے کافی اور شافی تھے اور مشرکین کے اس قول سے کہ ہم تیرے آسمان پر چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے۔ الیٰ آخرہ ان کا عناد اور ہٹ دھرمی صاف ظاہر ہے اور ضدی اور پیجی آدمی کا منہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔ جواب استعجاب کفار بر رسالت بشر اب آگے کافروں کے اس استعجاب کو ذکر کرکے اس کا رد فرماتے ہیں کافروں کا استعجاب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بشر کو ہی رسول بنا کر بھیجا ملائکہ کو رسول کیوں نہیں بنایا چناچہ فرماتے ہیں۔ اور جب لوگوں کے پاس ہدایت یعنی قرآن آگئی تو ان کو ایمان لانے سے سوائے اس بات کے اور کسی امر نے نہیں روکا کہ انہوں نے کہا کہ کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے یعنی لوگوں کے پاس قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے کے متعلق سوائے اس کے اور کوئی عذر نہیں ہے کہ وہ بشر کے رسول ہونے کو مستبعد جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمد بشر ہیں اور بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ اگر اللہ رسول بھیجنا چاہتا تو اس کے یہاں فرشتوں کی کیا کمی تھی۔ یہ لوگ بشریت کو رسالت کے منافی سمجھتے تھے۔ حالانکہ پہلے جتنے بھی نبی گزرے وہ سب کے سب بشر ہی تھے ان میں سے کوئی فرشتہ نہ تھا۔ اے نبی ﷺ ! آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے اگر زمین میں فرشتے آباد ہوتے کہ اس میں اطمینان سے چلتے پھرتے تو پھر ان کے مناسب ضرور آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بنا کر بھیج دیتے جو انہی کی جنس سے ہوتا کیونکہ تعلیم و تلقین کے لیے مناسبت اور باہمی جنسیت شرط ہے مگر چونکہ زمین پر آدمی رہتے ہیں تو آدمی ہی رسول ہونا چاہئے جواب اخیر مشتمل بر وعید سعیر اور اگر باوجود دلائل ظاہرہ اور آیات باہرہ کے یہ ظالم آپ ﷺ سے کہیں کہ آپ کی نبوت و رسالت کا گواہ کون ہے تو آپ جواب میں کہہ دیجئے کہ میرے نبی اور رسول ہونے پر میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی ہے۔ گواہ اللہ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے میری زبان سے علم و حکمت کے چشمے جاری کر دئیے اور قسم قسم کے معجزات اور نشانات میرے ہاتھ سے تم کو دکھلا دئیے۔ یہی اللہ کی گواہی ہے بیشک وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے ان کو دیکھنے والا ہے وہ صادق کو بھی جانتا ہے اور کاذب کو بھی اور سعادت اور شقاوت اور ہدایت اور ضلالت سب اس کے ہاتھ میں ہے جس کو اللہ ہدایت یعنی توفیق دے وہی ہدایت پانے والا ہے۔ یعنی جس کے دل میں اللہ کی ہدایت ڈال دے وہی ہدایت پانے والا ہے پھر کسی کو قدرت نہیں کہ اسے گمراہ کرسکے اور جس کو وہ گمراہ کرے تو تو اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہ پائے گا جو اسے راہ ہدایت پر لے جاسکے اس سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کی قسمت میں اللہ نے ہدایت لکھ دی ہے وہ ضرور ہدایت پائیں گے اور جن کو وہ ازل میں گمراہ ٹھہرا چکا ہے ان کا حق اور ہدایت کی طرف آنا محال ہے پس ایسی صورت میں آپ کافروں کے اعراض سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ قیامت کے دن سب کے اعمال کا نتیجہ ظاہر ہوجائے گا اور قیامت کے دن ہم ان گمراہوں کو ان کے منہ کے بل اندھا اور گونگا اور بہرا بنا کر اٹھائیں گے یہ سزا ان کو اس لیے دی جائے گی کہ وہ دنیا میں الٹے چلے تھے اور حق کے دیکھنے سے اندھے اور کہنے سے گونگے اور سننے سے بہرے بنے ہوئے تھے۔ ابتداء حشر کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تاکہ ان کی ذلت اور رسوائی سب پر ظاہر ہو بعد میں یہ حالت نہ رہے گی اس لیے کہ دوسری آیات اور احادیث سے ان کا دیکھنا اور بولنا اور سننا ثابت ہے ان گمراہوں کا ٹھکانا جہنم ہے جب وہ آگے بجھنے لگے گی تو ہم اس کو اور بھڑکا دیں گے یہ ان کی سزا ہے اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا اور کہا کہ جب ہم مرے پیچھے ہڈیاں اور بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ہم نئی پیدائش سے اٹھائے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انکا یہ خیال بالکل غلط ہے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ یقیناً ان کے مثل پیدا کرنے پر بھی قادر ہے و لیکن اللہ نے اسے دوبارہ پیدا کرنے کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے جس میں کچھ شک نہیں جس طرح اس دنیاوی حیات کے لیے ایک وقت مقرر ہے اسی طرح دوبارہ زندگی کے لیے بھی وقت مقرر ہے اس پر بھی ظالموں نے سوائے ناشکری کے اور بات کے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ حاصل جواب یہ ہے کہ عذاب ضرور آکر رہے گا لیکن اس کی ایک مدد مقرر ہے اور آدمی جب مرگیا تو اس کی قیامت آگئی۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ کے فضل اور رحمت کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے جس کو چاہے سرفراز فرمائے اور اس نے اپنے فضل سے آنحضرت ﷺ کو اپنی نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ان فضلہ کان علیک کبیرا اس کے بعد مخالفین کے تعنت آمیز سوالات کا ذکر فرمایا جن میں ایک سوال یہ تھا کہ کافر یہ کہتے ہیں کہ ایمان جب لائیں گے جب زمین میں چشمے اور نہریں جاری ہوجائیں تاکہ زراعت سے اموال کثیرہ جمع ہوجائیں اور کھجور اور انگور کے باغات پیدا ہوجائیں اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض تم اللہ کی رحمت پر قابض اور متصرف ہوجاؤ تو تم اپنی طبعی تنگ دلی اور جبلی بخل کی وجہ سے ختم ہوجانے کے خوف سے اپنا ہاتھ روک لوگے لہٰذا تمہاری یہ فرمائش پوری نہ ہوگی اور خزائن رحمت اور وسائل رزق و معیشت تمہارے اختیار میں نہیں دیئے جائیں گے اللہ کو اختیار ہے کہ وہ اپنی حکمت اور مصلحت سے جس پر چاہے رزق کو وسیع کرے اور جس پر چاہے تنگ کرے اور جس کو چاہے اپنے فضل سے اور رحمت سے نبوت اور قرآن عظیم عطا کرے اللہ اپنے بندوں سے باخبر ہے چناچہ فرماتے ہیں (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ ان ظالموں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم میرے پروردگار کے خزانہ ہائے رحمت کے مالک اور متصرف بن جاؤ تو البتہ اس وقت بھی تم اپنے ہاتھ خرچ کرنے سے روک لو گے اس ڈر سے کہ یہ خزانے خرچ ہو کر ختم ہوجائیں اور تم محتاج ہوجاؤ اور انسان بڑا تنگ دل ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم بیشمار خزانوں کے بھی مالک ہوجاؤ تو تب بھی تم اس بخل اور دناءت پر رہو گے لہٰذا تم ایسی باتوں کا کیوں سوال کرتے ہو تم اس قابل نہیں تم جیسوں کو دیتے سے کیا فائدہ (تفسیر کبیر ص 413 ج 5) اس آیت کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں ایک یہ کہ یہ آیت خاص مشرکوں کے حق میں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ عام ہے اور مقصود انسان کا من حیث انسان ہونے کا اعتبار سے حال بتلانا ہے کہ وہ طبعی طور پر بخیل ہے مگر جس کو اللہ تعالیٰ توفیق اور ہدایت دے کما قال تعالیٰ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحون : اور جمہور کا قول یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے۔ (تفسیر قرطبی ص 335 جلد 10) یہ تمام کلام منکرین کے تہدید میں تھا اب آگے پھر منکرین نبوت کے تہدید کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں۔
Ayahs 17:101–109

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا اس کو کسی نے نازل نہیں کیا (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے۔

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

تو اس نے چاہا کہ ان کو سرزمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا۔

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے۔

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بناکر بھیجا ہے۔

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فی نفسہٖ حق ہے) جن لوگوں کو اس سے پہلے علم (کتاب) دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

ذکر معجزات موسویہ برائے تحقیق رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت .... الیٰ .... ویزیدھم خشوعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مخالفین کے معاندانہ سوالات کا ذکر تھا اب ان آیات میں معجزات موسویہ یعنی ان نشانیوں کو ذکر کرتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی تہدید کے لیے عطا کی تھیں مگر باوجود اس کے وہ ایمان نہیں لائے اور بالآخر ہلاک ہوئے اور غرق ہوئے اسی طرح تم محمد رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہاری سفارش کے مطابق وہ معجزات ظاہر کر بھی دئیے جائیں تب بھی تم محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کروگے۔ جس طرح وہ متکبر اور جبار (فرعون) خدا تعالیٰ کے درویش نبی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ نہ کرسکا اسی طرح سمجھ لو کہ تم ہمارے کملی والے نبی کا مقابلہ نہ کرسکو گے یہ رسول بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مشابہ ہے اور بنی اسرائیل کے بھائیوں (یعنی بنی اسماعیل) میں سے مبعوث ہوا ہے اس کا عصا قرآن ہے سب کفروں کو نگل جائے گا اور ڈکار بھی نہ لے گا تم اپنے انجام کو سوچ لو موسیٰ (علیہ السلام) کوئی فرشتہ نہ تھے بلکہ ظاہر صورت کے لحاظ سے ایک بےسروسامان بشر تھے مگر درپردہ فرشتہ سے بڑھ کر نہ کھاؤ اس لباس بشری میں خداوند ذوالجلال کی پیغمبری مستور ہے کوئی فرعون اور ہامان اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور جس طرح فرعون اور فرعونیوں کے غرق کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو سرزمین مصر کا وارث بنایا اسی طرح عنقریب مکہ فتح ہوگا اور اس نبی آخر الزمان کے اصحاب اول سر زمین عرب کے وارث ہوں گے اور پھر سر زمین شام کے وارث ہوں گے جو بنی اسرائیل کا آبائی مسکن ہے غرض یہ کہ اس تمام کلام سے اثبات رسالت مقصود ہے چناچہ فرماتے ہیں۔ اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں دیں جو ان کی نبوت و رسالت کی روشن دلیلیں تھیں جن کا ذکر نویں پارہ کے چھٹے رکوع میں گزر چکا ہے اور اگر تم کو کچھ شک ہو تو بنی اسرائیل کے علماء سے پوچھ لو کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس یہ معجزات لے کر آئے ہیں جن کا ان لوگوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور پھر ان کے بعد وہ معجزات تم تک بطریق تواتر پہنچے جس میں شک اور شبہ کی گنجائش نہیں اس لیے کہ تواتر بھی بمنزلہ مشاہدہ کے ہے آپ علماء بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے وہ آپ کے قول کی تصدیق کریں گے اور وہ نو معجزے تمہارے ان فرمائشی معجزات کے برابر یا اس سے بڑھ کر تھے ہم اب بھی اس قسم کے معجزات عطا کرنے پر قادر ہیں مگر اس وقت ہماری مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ فی الوقت اس قسم کے معجزات کا ظاہر کرنا سودمند نہیں۔ (تفسیر کبیر ص 463 ج 5) آیت مذکورہ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایات بینات میں علماء تفسیر کے دو قول ہیں۔ قول اول : یہ ہے کہ تسع ایات بینات سے موسیٰ (علیہ السلام) کے نو معجزے مراد ہیں وہ نو بینات یہ ہیں۔ (1) عصا اور (2) بدبیضا اور (3) قبطیوں پر قحط شدید اور (4) طوفان باراں اور (5) جراد یعنی ٹڈیاں اور (6) قمل یعنی چچڑیاں اور (7) صفادع یعنی مینڈک اور (8) دم یعنی خون اور (9) نقص ثمرات یعنی پھلوں کی کمی۔ یہ نو آیات بینات اور مفصلات ہیں اور آیات و اضحات ہیں جن کا فرعونیوں نے مشاہدہ کیا مگر ان ظالموں پر ان آیات واضحات نے کچھ اثر نہ کیا اسی طرح اگر ہم ان لوگوں کے سوالات پورے کردیں کہ چشمے اور نہریں جاری کردیں تو یہ ظالم بھی فرعونیوں کی طرح ایمان لانے والے نہیں جیسے فرعون نے باوجود مشاہدہ آیات بینات موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ انی لاظنک یموسی مسجورا اے موسیٰ میں تم کو جادو گر گمان کرتا ہوں اسی طرح یہ ظالم ان معجزات کے ظاہر ہونے پر آنحضرت ﷺ کو جادو گر بتلائیں گے لیکن قوم فرعون کو تو ان آیات بینات پر ایمان نہ لانے کے بعد غرق کردیا گیا مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ آپ ﷺ کی قوم کو ہلاک کرنے کا نہیں اس لیے ان کے یہ سوالات پورے نہیں کئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ان نو نشانیوں کے سوا اور بھی نشانیاں عطا ہوئیں مثلا (1) دریا کا شق ہونا۔ (2) عصا کے پتھر پر مارنے سے پتھر سے پانی نکل آنا۔ (3) پتھر سے بارہ چشموں کا جاری ہوجانا۔ (4) بنی اسرائیل پر من وسلویٰ نازل ہونا۔ (5) بنی اسرائیل برابر کا سایہ کرنا وغیر ذالک یہ نشانیاں موسیٰ (علیہ السلام) کو بلاو مصر سے نکلنے کے بعد عطا ہوئی تھیں لیکن اس جگہ انہیں نو نشانیوں کا ذکر ہے جن کا مشاہدہ فرعون لعین نے کیا تھا اور قوم فرعون نے مصر میں ان کو دیکھا تھا اس لیے یہی آیات ان پر حجت تھیں کن کا ازراہ عناد انہوں نے مخالفت کی اور تباہ و برباد ہوئے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ تسع آیات بینات سے نو معجزات مراد ہیں جو سورة اعراف میں مذکور ہیں آیت کی تفسیر میں یہ پہلا قول ہوا اب دوسرا قول سنئے۔ قول دوم : دوسرا قول یہ ہے کہ تسع ایات بینات سے آیات احکام مراد ہیں یعنی نو آیات سے تورات کے نو احکام مراد ہیں جیسا کہ مسند احمد اور ترمذی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے دو عالموں نے آنحضرت ﷺ سے تسع آیات کے متعلق سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا وہ احکام یہ ہیں۔ (1) خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ (2) چوری مت کرو۔ (3) زنا مت کرو (4) ناحق خون مت کرو۔ (5) سود مت کھاؤ۔ (6) جادو مت کرو (7) کسی بےگناہ کو مت پکڑو (8) کسی عفیف عورت پر تہمت نہ لگاؤ (9) جہاد سے مت بھاگو۔ یہ نو احکام تو عام ہیں یعنی سب کے لیے ہیں اور ایک حکم اے یہود خاص تمہارے لیے ہے کہ سبت یعنی شنبہ کے دن حدود الٰہی سے تجاوز نہ کرنا یہود نے سن کر آپ ﷺ کی تصدیق کی اور ان دونوں یہودیوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ نبی ہیں آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ پھر تم میرا اتباع کیوں نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی تھی کہ آئندہ نبوت ہمیشہ انہی کے خاندان میں رہے (یہ ان کا داؤد (علیہ السلام) پر افتراء تھا) اور یہ کہا کہ ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر ہم آپ کا اتباع کریں گے تو یہودی ہم کو قتل کر ڈالیں گے۔ محققین کے نزدیک راجح پہلا قول ہے کہ تسع آیات سے نو معجزات مراد ہیں اور وہ کلمات جو حدیث میں مذکور ہوئے وہ مراد نہیں کیونکہ وہ احکام اور وصایائے توریت ہیں ان میں سے فرعون پر کوئی چیز حجت نہیں لفظ بصائر بھی اسی معنی پر ہی چسپاں ہوتا ہے یعنی یہ میرے معجزات ایسی چیز ہیں جن کو دیکھ کر آنکھیں کھل جائیں اور ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے نو معجزات کے علاوہ توریت کے ان نو احکام کو بھی بیان کیا ہو مگر راوی نے احکام کا تو ذکر کردیا اور معجزات کو حذف کردیا۔ واللہ اعلم۔ اور آیات قرآنیہ میں تسع آیات بینات سے وہ نشانات مراد ہیں کہ جو بطور دلائل و حجج فرعونیوں کو دکھلائے گئے تاکہ ان پر حجت قائم ہو حافظ ابن کثیر (رح) کا خیال یہ ہے کہ اسی روایت میں راوی کو اشتباہ ہوا کہ اس نے کلمات عشر کی جگہ تسع آیات کو ذکر کردیا بہرحال سیاق وسباق کا مقتضی یہ ہے کہ تسع آیات بینات سے وہ معجزات مراد لیے جائیں جو فرعونیوں پر حجت قائم کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کو اور فرعونیوں کو ان آیات بینات سے ڈرایا تو فرعوں نے ازراہ تکبر و غرور موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ اے موسیٰ میں بلاشبہ تجھ کو جادو کا مارا ہوا خیال کرتا ہوں جس کی وجہ سے تعبیر مخبوط الحواس ہوگیا ہے اور ایسی بہکی ہوئی باتیں کرتا ہے جب فرعون نے ان آیات بینات کو باوجود واضح ہونے کے نہ مانا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا البتہ تحقیق تو ضرور جان چکا ہے اور دل سے مان چکا ہے کہ ان نشانیوں کو سوائے آسمانوں اور زمینوں کے پروردگار کے اور کسی نے نہیں اتارا مگر تو ضد اور عناد سے انکا انکار کرتا ہے اور یہ ایسے نشانات ہیں کہ جن کو سوائے پروردگار عالم کے کوئی اتار ہی نہیں سکتا پروردگار ہی نے ان نشانیوں کو اتارا ہے درآں حالیکہ وہ سامان بصیرت ہیں کہ جن کو دیکھنے سے چشم بصیرت روشن ہوجاتی ہے اور دل کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور حق نظر آنے لگتا ہے اور انسان پہچان لیتا ہے کہ یہ خدائی کرشمہ ہے کوئی جادو نہیں مگر ضد اور عناد کی پٹی بصارت اور بصیرت سب کو معطل کر ڈالتی ہے چناچہ فرعون اور اس کی قوم ان بصائر اور عبر کے باوجود ایسی اندھی بنی کہ بنی اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کا ارادہ کیا پس فرعون نے یہ ارادہ کرلیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے سرزمین مصر سے قدم اکھاڑ دے کہ بنی اسرائیل اس سرزمین میں رہنے نہ پائیں جب اس نے چاہاتو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو دریائے قلزم میں غرق کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی اور اس کے غرق کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ جاؤ اسی سرزمین میں بسوجہاں سے وہ تم کو نکالنا چاہتا تھا اسی طرح اللہ کی قدرت ہے کہ مزرکین مکہ کو تباہ کرکے مسلمانوں کو ان کی سرزمین کا وارث بنائے اور اسی میں ان کو بسائے اسی آیت میں فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے اور جو لفظ اس آیت میں فرعون کے متعلق لایا گیا ہے فاراد ان یستفرھم من الارض بعینہٖ اسی قسم کا لفظ اسی سورت میں تین رکوع قبل آنحضرت ﷺ کے متعلق گزر چکا ہے وان کادوا یستفزونک من الارض لیخرجوک منھا یعنی اہل مکہ آپ ﷺ کو اس سرزمین سے نکالنا چاہتے ہیں اور اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ عنقریب آپ کو اس سرزمین کا وارث بنائے جس سے مشرکین مکہ آپ کو نکالنا چاہتے ہیں۔ بہرحال فرعون اور فرعونیوں کا غرق اور موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کی نجات کا ذکر و ماجرا تو اس دنیا میں ہوا پھر آخرت کا وعدہ آپہنچے گا تو ہم سب کو گڈمڈ یعنی خلط ملط میدان حشر میں لاموجود کریں گے مومن اور کافر اور نیک اور بد سب گڈمڈ اور مخلوط ہوں گے اور سب کو جمع کرکے فیصلہ کردیا جائے اور جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت کو حق کے ساتھ اتارا اسی طرح ہم نے اس قرآن کو آپ ﷺ پر حق کے ساتھ اتارا اور حق ہی کے ساتھ آپ ﷺ پر نازل ہوا از اول تا آخر شیاطین سے محفوظ ہے، ازاول تا آخر حق ہی حق ہے اور صدق ہی صدق ہے جس طرح خدا کے پاس سے چلا تھا اسی طرح محفوظ و محروس بلاکم وکاست آپ کے پاس پہنچ گیا غیر کا کلام اس سے مخلوط نہیں ہوا اور جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا کہ لوگوں کو اللہ کے احکام پہنچا دیں مگر ہدایت ان کے اختیار میں نہ تھی اسی طرح ہم نے آپ کو فقط بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ایمان پر ثواب اور نجات کی بشارت دیدینا اور کفر و معصیت پر عذاب سے ڈرانا یہ آپ کا کام ہے باقی کسی کو ہدایت دینا وہ سب ہمارے اختیار میں ہے لہٰذا آپ کسی کے کفر اور معصیت سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں اور علاوہ ازیں کہ ہم نے اس قرآن کو حق اور صدق کے ساتھ نازل کیا ہے بمقتضائے رحمت ہم نے اس میں ایک رعایت یہ بھی رکھی ہے کہ ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے کرکے اتارا ہے تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ سکیں اور لوگوں کو اس کے یاد کرنے اور سمجھنے میں آسانی ہو اور ہم نے اس کو حسن حالات و واقعات تدریجا اتارا ہے تاکہ وہ واقعہ سامنے ہونے سے حقیقت خوب واضح ہوجائے اور آیت اور حکم کا مصداق نظروں کے سامنے آجائے اور ہر آیت اور ہر حکم کا محل اور موقعہ خوب اچھی طرح دل نشین ہوجائے تو گھبرا جاتے۔ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس کے احکام ہیں جس کو خدا نے بندوں کی مصلحت سے تھورا تھوڑا اتارا ہے اس تدریجی نزول میں تمہاری مصلحت ملحوظ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اس کتاب پر ایمان لاؤ تاکہ تم کو فائدہ ہو ورنہ خدا تعالیٰ بےنیاز ہے اسے کسی کے ایمان کی ضرورت نہیں اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم اس پر ایمان لاؤ۔ خدا کے یہاں سب برابر ہے تحقیق جن لوگوں کو قرآن کے نزول سے پہلے علم دیا گیا یعنی حق شناس اور نیک دل علماء اہل کتاب ان کا یہ حال ہے کہ جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کلام خداوندی کی عظمت اور ہیبت کی وجہ سے ٹھوریوں کے بل سجدہ میں گر جاتے ہیں کیونکہ جب انسان پر کسی کی عظمت وہیبت کا غلبہ ہوتا ہے تو اکثر وہ زمین پر اوندھا گر جاتا ہے اور اذقان پر گرنا یہ کنایہ ہے غلبہ خوف اور جذبہ شوق سے اور مطلب یہ ہے کہ غلبہ شوق کی بناء پر اس کی تعظیم کے بجالانے میں جلدی کرتے ہیں حتی کہ سجدہ میں گر جاتے ہیں اور سجدہ کی حالت میں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ ناممکن ہے کہ اس نے جو اپنی پہلی کتابوں میں وعدہ کیا ہے وہ پورا نہ کرے بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہونا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی توریت کتاب استثناء میں یہ وعدہ کیا تھا کہ ” اے بنی اسرائیل ! میں تیرے بھائیوں (یعنی حضرت اسماعیل) میں سے ایک نبی اٹھاؤں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالو نگا اس بشارت اور وعدہ کی تفصیل ہم نے اپنی کتاب بشائر النبیین میں لکھ دی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔ اس آیت میں ان حق شناس اور طالب حق علماء اہل کتاب کا ذکر ہے کہ جو آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے ان کو توریت اور انجیل کا علم دیا گیا تھا جیسے زید بن عمرو بن نفیل ؓ اور سلمان فارسی ؓ اور ابوذر غفاری ؓ وغیرہم۔ یہ لوگ انبیائے سابقین اور کتب سماویہ کی خبروں کی وجہ سے نبی آخر الزمان ﷺ اور قرآن کے منتظر تھے وہ اس قرآن کے منتظر تھے وہ اس قرآن کو سن کر خوش ہوتے اور سجدہ شکر کرتے اور کہتے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی کے عیب سے پاک ہے کتب سماویہ مقدسہ میں جو اس نے نبی آخر الزمان ﷺ کے مبعوث کرنے اور قرآن کے نازل کرنے کا وعدہ فرمایا وہ تو ضرور پورا ہونا ہی تھا خدا تعالیٰ نے کتب سابقہ میں جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا فرما دیا قرآن کو سنتے ہی سمجھ گئے کہ یہ اس وعدہ کا ایفاء ہے اور ایمان لے آئے اور قرآن سننے کے وقت ان پر ایسی رقت اور کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدہ میں گر جاتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ قرآن کی موعظت ان کے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی ہے اور یہ قرآن کا سننا بارگاہ خداوندی میں ان کی فروتنی اور عاجزی کو اور زیادہ کرتا ہے یعنی وہ بڑے نرم دل ہیں قرآن سن کر ان پر عیب رقت طاری ہوجاتی ہے یہ حال تو اہل علم کا ہے اور جاہل اور نادان اس قرآن کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayahs 17:110–111

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم خدا کو اللہ (کے نام سے) پکارو یا رحمان (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہو کہ سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز و ناتواں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔

خاتمہ سورت بر توحید و تحمید قال اللہ تعالیٰ قل ادعوا اللہ اوادعو الرحمن .... الیٰ .... وکبرہ تکبیرا۔ (ربط) سورت کا آغاز اللہ کی تسبیح و تنزیہ سے ہوا اب صورت کا اختتام اللہ کی توحید اور اس کی تحمید اور اس کی تکبیر و تمجید پر ہو رہا ہے جو غایت درجہ لطیف ہے ابتداء کی طرح اخیر میں بھی اللہ تعالیٰ کا تمام نقائص عجز اور ذلت سے مبرا اور منزہ ہونا بیان فرمایا اور چونکہ گزشتہ آیت میں سجود اور خشوع کا ذکر تھا اس لیے اس کی مناسبت سے ان آیات میں یہ دعا یعنی خدا تعالیٰ کو پکارنے کا ذکر فرماتے ہیں واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک بار آنحضرت ﷺ سجدہ میں یہ کہتے تھے یا اللہ یا رحمن تو اس پر مشرکین نے طعن کیا کہ ہم کو تو دو خدا کی پرستش سے منع کرتے ہیں اور خود دو خداؤں کو پکارتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اے نبی ﷺ ! کہہ دیجئے کہ خواہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو تو سب اچھے نام اسی کے ہیں جس نام سے چاہو اس کو پکارو نا موں کے متعدد ہونے سے مسمیٰ متعدد نہیں ہوجاتا اسماء اور صفت کی تعداد سے ذات کا تعدد لازم نہیں آتا جو توحید کے منافی ہو عنوان کے بدلنے سے معنون نہیں بدلتا اچھے نام وہ ہیں جو اللہ کی تنزیہ و تقدیس اور اس کی تحمید و تمجید اور اس کی تعظیم و تکریم پر مشتمل ہوں اور اس کے جلال اور کمال پر دلالت کریں اللہ تعالیٰ کے بہت سے نام ہیں ترمذی کی روایت میں اللہ تعالیٰ کے جن اسمائے حسنیٰ کا ذکر آیا ہے وہ یہ ہیں۔ اللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم، الملک، القدوس، السلام، ال مومن، المہین، العزیز، الجبار، المتکبر، الخالق، الباری، المصور، الغفار، القھار، الوھاب، الرزاق، الفتاح، العلیم، القابض، الباسط، الخافض، الرافع، المعز، المذل، السمیع، البصیر، الحکم، العدل، اللطیف، الخبیر، الحلیم، العظیم، الغفور، الشکور، العلی، الکبیر، الحفیظ، المقیت، الحسیب، الجلیل، الکریم، الرقیب، المجیب، الواسع، الحکیم، الودود، المجید، الباعث، الشھید، الحق، الوکیل، القوی، المتین، الولی، الحمید، المحصی، المبدی، المعید، المحیی، الممیت، الحی، القیوم، الواجد، الماجد، الواحد، الصمد، القادر، المقتدر، المقدم، المؤخر، الاول، الآخر، الظاھر، الباطن، الوالی، المتعالی، البر، التواب، المنعم، العفو، الرؤف، مالک الملک، ذوالجلال والاکرام، المقسط، الجامع، الغنی، المغنی، الضار، النافع، النور، الھادی، البدیع، الباقی، الوارث، الرشید، الصبور، الستار۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ جو مشہور ہیں وہ یہ ہیں جن کی تعداد لفظ اللہ کے سوا ننانوے ہے اس کے علاوہ اللہ کے اور نام بھی منقول ہیں جو درحقیقت انہی ننانوے ناموں میں مندرج ہیں۔ اب دعا کے بعد صلاۃ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کیوں کہ دعا کہ طرح نماز کی روح بھی خشوع ہے اور رکوع و سجود نماز کا رکن ہے دعا کے لیے رکوع اور سجود لازم نہیں اور اے نبی ﷺ اپنی نماز کی قرأت میں آواز کو بہت بلند نہ کرو اور نہ بہت آہستہ کرو اور ان دونوں حالتوں کے درمیان متوسط راہ اختیار کرو یعنی نماز میں نہ تو قرأت لو اتنی بلند آواز سے کرو کہ مشرکین سن کر قرآن کو اور قرآن کے اتارنے والے کو اور اس کے لانے والے کو گالیاں دیں اور نہ اتنا آہستہ پڑھو کہ آپ ﷺ کے اصحاب بھی یہ سن سکیں درمیانی راہ اختیار کرو۔ یہ مضمون حدیث میں آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ امام کا کام سنانے کا ہے اور مقتدی کا کام سننے کا ہے نہ کہ پڑھنے کا اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی یعنی دعا نہ بہت بلند آواز سے مانگ اور نہ بالکل چپکے ہی چپکے، بہرحال مقصود یہ ہے کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ سے مناجات کرے تو درمیانی حالت میں رہے نہ آواز بہت بلند ہو اور نہ بہت پست۔ شریعت نے نماز کے جہر اور اخفاء کے متعلق بھی احکام بتلا دئیے اور دعا کے متعلق بھی بتلا دئیے اور یہ بھی بتلا دیا کہ نماز میں احوال مختلف ہیں کہیں جہر ہے اور کہیں اسرار ہے اور دعا میں یہ بتلا دیا کہ دعا میں اخفاء اور اسرار افضل ہے ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ۔ اب نماز اور دعا کے بعد اللہ کی تحمید و تمجید اور اس کی تنزیہ و تقدیس کو ذکر کرکے سورت کو ختم فرماتے ہیں تاکہ اللہ کی کمال قدرت و عظمت ظاہر اور اہل شرک کی جہالت کا رد ہو اور کہہ دیجئے کہ کمال تعریف ہے اللہ کو جو اولاد نہیں رکھتا کیونکہ صاحب اولاد کسی نہ کسی درجہ میں اولاد کا محتاج ہوتا ہے اور محتاج کمال حمد کا مستحق نہیں اس لفظ میں یہود اور نصاریٰ اور مشرکین کا رد ہوگیا یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاری حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بناتے تھے اور مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بتاتے تھے۔ اور نہ کوئی سلطنت میں شریک ہے کیونکہ شرکت نقص اور عیب ہے اور جس میں نقص اور عیب ہو وہ مستحق حمد نہیں۔ اور نہ کمزوری کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اگر وہ کمزور ہوتا تو کمال حمد کا مستحق نہ ہوتا کیونکہ جو دورے کی امداد کا محتاج ہو وہ کمال حمد کا مستحق نہیں نیز جو کمزور ہوگا وہ کمال انعام پر قادر نہ ہوگا اور جو کمال انعام پر قادر نہ ہو وہ کمال حمد کا مستحق نہیں۔ اور اس کی کبریائی اور حمد اور بڑائی کو بیان کر خون بیان کرنا۔ دل و جان سے یہ عقیدہ رکھ کر اس سے بڑا کوئی نہیں اور وہ تمام عیوب و نقائص سے پاک اور منزہ ہے اور تمام صفات کمال کے ساتھ وہم و خیال سے بڑھ کر موصوف ہے لہٰذا وہی تمام محامد کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو اپنی تحمید و تمجید پر ختم فرمایا اور تنزیہ کے لیے مدد کی تمام صورتوں کی نفی فرمادی اس لیے کہ کسی سے مدد لینے کی تین صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ اپنے چھوٹے سے مدد لے جیسے باپ اولاد سے مدد لے۔ الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا میں اس صورت کی نفی فرما دی دوسری صورت میں یہ ہے کہ اپنے مساوی سے مدد لے جیسے ایک شریک دوسرے سے مدد لے ولم یکن لہ شریک فی الملک میں اس صورت کی نفی فرما دی۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کمزوری کی وجہ سے اپنے بڑے سے مدد لے۔ ولم یکن لہ ولی من الذل میں اس کی نفی کردی ان تین جملوں میں یہود اور نصاریٰ اور مشرکین سب کا رد ہوگیا پھر اپنی کبریائی پر سورت کو ختم فرمایا کہ وہ سب سے بلند اور برتر ہے۔ الحمدللہ آج بروز چہار شنبہ 29 رمضان المبارک سنہ 1389 ہجری کو غروب شمس سے پہلے اس سورت کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان ربک رب العزت عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین۔