Ayahs 17:66–70رجوع بسوئے توحید
قال اللہ تعالیٰ : ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر .. الیٰ .. وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا
(ربط) اب پھر توحید کی طرف رجوع کرتے ہیں اور توحید کے دلائل بیان فرماتے ہیں نیز گزشتہ رکوع میں شیطان کا یہ قول نقل کیا تھا قال ارء یتک ھذا الذی کر مت علی : اس لیے ان آیات میں بنی آدم کی کرامت اور فضیلت کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ شیطان بر اور بحر میں کس طرح اغواء کرتا ہے اور نبی آدم کی تکریم اور تفضیل کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ منعم حقیقی کا شکر گزار بندہ بنے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرے چناچہ فرماتے ہیں۔
تمہارا پروردگا وہ ہے جو تمہارے نفع کے لیے سمندر میں کشتیاں ہنکاتا ہے تاکہ تم ان پر سوار ہو کر دوسرے شہر میں پہنچ کر روزی تلاش کرو بیشک وہ تم پر بڑا مہربان ہے کہ جو حاجت تم کو اپنی شہر میں میسر نہ ہوسکے اس کے حاصل کرنے کے لیے دوسرے شہر میں جانے کا سامان مہیا کردیا اور اس خدائے پروردگار کی معرفت تمہاری فطرت اور جبلت میں مرکوز ہے دلیل اس کی یہ ہے کہ جب تم کو دریا میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے مثلا طوفان اور بادوباراں کی وجہ سے کشتی کے ڈوب جانے کا خوف ہوتا ہے تو اس وقت سوائے خدا کے جن جن کو تم پکارتے اور پوجتے ہو سب غائب ہوجاتے ہیں اس وقت سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں پکارا کرتے اور سمجھتے ہو کہ سوائے خدا کے کوئی نجات نہیں دے سکتا۔ پس انسان بحالت مجبوری جس ذات کو اپنا سہارا سمجھ کر پکارے اصل خدا وہی ہے پھر وہ خدا جب تمہاری دعا قبول کرکے تمہیں خشکی کی طرف صحیح سالم بچا لاتا ہے اور سمندر کی موجوں اور اس کی تلاطم سے نجات دیتا ہے تو پھر تم خدائے برحق سے منہ موڑ لیتے ہو اور بتوں کو پوجنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کہ جب مصیبت آتی ہے تو خدا کا پکارتا ہے اور جب وہ نجات دے دیتا ہے تو اس سے منہ موڑ لیتا ہے۔ اور بہت جلد اس کے احسان کو بھول جاتا ہے تو کیا تم نجات پانے کے بعد اس بات سے مطمئن اور بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو جنگل کی طرف لے جا کر زمین میں دھنسا دے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر تم سمندر میں غرق ہونے سے بچ گئے تو مطمئن نہ ہونا چاہئے جس طرح ہم سمندر میں غرق کرنے پر قادر ہیں اسی طرح خشی میں زمین میں دھنسانے پر قادر ہیں تمام جہات، کیا خشکی اور کیا تری کا خوف ہے تو خشکی میں خسف کا خوف چاہئے خسف بھی غرق ہی ہے سمندر میں آدمی پانی میں ڈوبتا ہے اور خشکی میں مٹی میں یا تم اس بات سے مطمئن ہوگئے کہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجے جس میں سے پتھر برسنے لگیں اور قوم عاد کی طرح تم کو سنگسار کردے پھر تم کوئی اپنا کام بنانے والا نہ پاؤ جو تم کو خسف سے اور پتھروں سے بچا سے یا تم اس بات کی طرف سے مطمئن ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو پھر اسی سمندر میں لوٹا کرلے جائے یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے دل میں پھر اسی دریا کا سفر ڈال دے اور حسب سابق اسی کشتی اور جہاز میں سوار ہو کر دوبارہ سفر کرو اور پھر وہ تم پر ایسی سخت اور تند ہوا بھیجے جو کشتی کو توڑ ڈالے۔ پھر تم کو اسی دریا میں ڈال دے اور ڈبو دے بسبب اس کے کہ تم نے خدا کی ناشکری کی پہلی مرتبہ تو نجات مل گئی تھی دوسری دفعہ کفر اور بد عہدی کی وجہ سے غرق کر دئیے گئے پھر اس غرق پر ہم سے کوئی مؤاخذہ کرنے والا نہ پاؤ گے کہ جو ہم سے باز پرس کرسکے یا کوئی ہمارا پیچھا کرسکے اب آئندہ آیت میں انسان پر بعض انعامات کا ذکر کہ جو ہم سے باز پرس کرسکے یا کوئی ہمارا پیچھا کرسکے اب آئندہ آیت میں انسان پر بعض انعامات کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ انسان جانے کہ میرا پروردگار وہی ہے جس نے مجھ کو یہ عزتیں اور کرامتیں بخشی ہیں چناچہ ارشاد فرماتے ہیں
اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت اور کرامت بخشی اور تمام مخلوقات پر اس کو بزرگی دی انسان کی دوسری مخلوقات پر کرامت اور عزت یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے انسان کو عقل اور فہم اور فراست اور نطق اور گویائی عطا کی اور لکھنا پڑھنا سکھایا زبان اور قلم سے اظہار مافی الضمیر کی قدرت عطا کی اور اس کا قد معتدل اور سیدھا بنایا اور بہتر سے بہتر صورت اس کو عطا کی۔ جس میں کمال حسن پایا جاتا ہے ولقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ وفی الحدیث خلق اللہ آدم علیٰ صورتہ : آدمی ہاتھوں سے کھانا کھاتا ہے اور دوسرے حیوانات منہ سے زمین پر سے غذاء اٹھا کر کھاتے ہیں مردوں کو داڑھی دی اور عورتوں کو گی سو دئیے۔
ہر گلے را رنگ دبوئے دیگر ست
اور انسان کو معاش اور معاد کے بارے میں حسن تدبیر عطا کی اور منافع اور مضار کے ادراک کے لیے حواس ظاہرہ اور باطنہ عطا کئے وغیرہ وغیرہ اور منجملہ کرامت اور عزت یہ ہے کہ ہم نے اولاد آدم کو خشی میں چوپایوں پر سوار کیا اور سمندر میں کشتیوں پر سوار کیا مطلب یہ ہے کہ بر اور بحر میں سفر کا سامان اس کے لئے مہیا کیا انسان سوار ہو کر چلتا ہے اور سواری کسی سواری پر سوار ہو کر نہیں چلتی اور پاکیزہ چیزوں میں سے ہم نے اس کو روزی دی دنیا کی مزیدار چیزیں اس کے کھانے میں آتی ہیں بخلاف دیگر مخلوقات کے کہ وہ ان لذیذ چیزوں سے محروم ہیں اور ہم نے اولاد آدم کے اکرام و انعام میں فقط مذکورہ بالا کرامتوں اور نعمتوں پر اقتصار نہیں کیا بلکہ ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت اور فوقیت دی اور اس کو وہ فضائل اور شمائل عطا کئے جس سے بیشتر مخلوق خالی ہے لہٰذا حق تعالیٰ کی اس تکریم اور تفصیل کا اور انعام و اکرام کا حق یہ ہے کہ اپنے منعم حقیقی کا دل و جان سے شکر کریں اور شرک اور ناشکری سے دور ہیں اور عبودیت اور عبادت سے اور اطاعت سے اس خدا داد کرامت و فضیلت کی حفاظت کریں اور ابلیس لعین جو تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کے کرامت اور فضیلت کا منکر ہے اور جس نے ارء یت ھذا الذی کر مت علی کہہ کر تمہارے باپ کو سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور تمہارے باپ کی فضیلت اور کرامت کے انکار کرنے کی وجہ سے بارگاہ خداوندی سے مطرود اور مردور ہوا وہ تمہارا قدیمی دشمن ہے ہر وقت تمہاری تاک میں ہے کہ باپ کی وجہ سے تم کو جو عزت و کرامت اور فضیلت و فوقیت ملی ہے اس کو خاک میں ملا دے اس سے چوکنا رہنا اور اس کے بہکائے میں آکر اپنے منعم حقیقی کو نہ بھول جانا۔
لطائف و معارف
(1) حق تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد ولقد کرمان بنی ادم میں اولاد آدم کی عزت و کرامت کا ذکر فرمایا سو جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عزت اور کرمات عطاء فرمائی وہ دو قسموں کی ہے ایک کرامت جسمانی جو تمام انسانوں کو حاصل ہے جس میں مومن کافر سب شریک ہیں کرامت جسمانی یہ ہے۔
(1) کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا خمیر تیار کیا اور خود دست قدرت سے اس کو بنایا۔
(2) اور احسن تقویم میں اس کو پیدا کیا تمام کائنات میں سب سے زیادہ خوبصورت اس کو بنایا۔
(3) اور معتدل القامت اس کو بنایا۔ (4) پکڑنے اور کھانے کیلئے انگیاں بنائیں۔ (5) اور چلنے کو پیر بنائے۔ (6) اور مردوں کو داڑھی اور عورتوں کو گیسوؤں سے زینت بخشی۔ (7) اور عقل اور تمیز دی۔ (8) اور بولنے کیلئے زبان عطا کی۔ (9) اور قلم سے اس کو لکھان سکھایا۔ (10) اور اسباب معیشت میں اس کی رہنمائی کی (11) اور طرح طرح کے صنائع اور بدائع کا اس کو الہام کیا۔
(1) کرامت روحانی : دوسری قسم کی کرامت کرامت روحانی ہے وہ دو قسموں پر منقسم ہے۔ (1) ایک کرامت عامہ اور دوسری کرامت خاصہ، کرامت عامہ میں مومن اور کافر سب شریک ہوتے ہیں روحانی کرامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پتلہ خاکی میں ایک روح پھونکی جو ایک روحانی چیز ہے اور جنس ملائکہ سے ہے۔
(2) اور پھر اولاد آدم کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا اور الست بربکم کے خطاب سے ان کو عزت و کرامت بخشی جس کے جواب میں سب ( مومن اور کافر) نے بلی کہا اور سب سے عہد ربوبہت لیا۔
(3) اور پھر تمام اولاد آدم کو اسی فطرت یعنی عہد الست پر پیدا کیا۔
(4) اور پھر اس عہد الست کو یاد دلانے کے لیے دنیا میں رسول بھیجے اور صحائف نازل کیے اور سب کو آگاہ کردیا کہ اگر اپنی اصلی فطرت اور عہد الست پر چلو گے تو قیامت کے بعد جنت میں اپنے باپ سے یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے جاکر ملو گے اور اگر عہد الست سے انحراف کیا اور اپنے باپ کے دشمن ابلیس کے کہنے پر چلے تو ابلیس کے ساتھ جہنم میں جاؤ گے۔
کرامت روحانیہ کا خاصہ : اور روحانی کرامت کی دوسری قسم کرامت خاصہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کو یعنی انبیاء اور اولیاء اور عباد مومنین کو مکرم و سرفراز فرمایا۔ انبیاء کرام کو نبوت و رسالت کی کرامت سے عزت بخشی اور اولیاء کو نور ولایت اور نور معرفت سے شرف بخشا اور اہل ایمان کو ایمان اور اسلام اور صراط مستقیم کی ہدایت سے کرامت بخشی کہ صراط مستقیم پر چل کر اپنے رب اکرم تک پہنچ جائیں اور الست بربکم کے جواب میں بلیٰ کہہ کر جو عہد ربوبیت کرکے آئے تھے اس کو پورا کرکے اپنے رب کے سامنے سرخروئی کے ساتھ حاضر ہوجائیں۔
(2) کرامت اور فضیلت میں فرق : کرامت اس صفت کو کہتے ہیں کہ جو کسی کی ذات میں بدون لحاظ غیر پائی جائے اور فضیلت اور فضل اس زیادتی کو کہتے ہیں کہ جو دوسرے کے لحاظ سے اس میں زیادہ ہو پس انسان باعتبار اپنی ماہیت اور حقیقت کے تمام مخلوقات سے اکرام اور افضل اور اشرف ہے جیسے عقل اور فہم و فراست اور حسن صورت یہ کرامت اور عزت سوائے انسان کے کسی مخلوق کو حاصل نہیں اور باعتبار اخلاق کاملہ اور اعمال فاضلہ کے بہت سی مخلوق سے افضل ہے مطلب یہ ہے کہ انسان امور خلقیہ اور طبعیہ اور ذاتیہ کے اعتبار سے سب مخلوق سے زیادہ مکرم اور محترم ہے اور اعتبار امور اکتسابیہ کے جن کو انسان خدادا عقل اور حواس سے حاصل کرتا ہے جیسے علوم حقہ اور عقائد صحیحہ اور اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ اس اعتبار سے انسان اکثر مخلوقات سے افضل اور برتر ہے کرامت کا دارومدار چونکہ امور خلقیہ اور طبعیہ پر ہے جن میں انسان کے عمل اور کست و اکتساب کو دخل نہیں اس لیے تکریم و کرامت میں مومن اور کافر سب شریک ہیں اور تفصیل کا دارومدار فضائل کسبیہ پر ہے اس لیے تفضیل اہل ہدایت کے لیے مخصوص ہے اور اکات علوم حقہ اور اعمال صالحہ اور اطاعت و قربات سے فرق مراتب قائم ہوتا ہے۔
یہ تمام کلام امام رازی قدس اللہ سرہ کے کلام کی تفصیل ہے حضرات اہل علم اصل تفسیر کبیر ص 433 جلد 5 کی مراجعت کریں۔
(3) شروع آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہم نے بنی آدم کو تمام مخلوقات پر کرامت اور عزت بخشی اور اخیر آیت میں یہ فرمایا وفضلناہم علیٰ کثیر ممن خلقنا : یعنی ہم نے بہت سی مخلوقات سے انسان کو فضیلت دی اور یہ نہیں فرمایا کہ کل مخلوقات پر اس کو فضیلت دی اور لفظ کثیر کو مجمل رکھا اس کی کوئی تعین نہیں فرمائی اس لیے علماء کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ انسان کو سوائے ملائکہ (فرشتوں) کے سب پر فضیلت ہے اور یہ قول ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور زجاج (رح) نے اسی کو اختیار کیا اور معتزلہ نے اس آیت کو اس بات کی دلیل قرار دیا کہ ملائکہ انبیاء کرام سے افضل ہیں جمہور معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ فرشتے انبیاء کرام سے افضل ہیں اور اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ اس آیت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ بنی آدم اکثر مخلوقات سے تو افضل ہیں مگر ایک قلیل مخلوق ایسی ہے کہ بنی آدم ان سے افضل نہیں وہ قلیل مخلوق فرشتوں کی ہے کہ وہ تمام بنی آدم سے افضل ہیں۔
علماء اہل سنت اشاعرہ اور ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ خاص بشر یعنی انبیاء ومرسلین خواص ملائکہ و عوام ملائکہ سب سے افضل ہیں یعنی انبیاء مرسلین۔ جبرائیل و میکائیل اور ملائکہ مقربین وغیرہم سب سے افضل اور برتر ہیں اور عام ملائکہ عام بشر سے افضل ہیں یعنی باقی تمام فرشتے تمام آدمیوں سے افضل ہیں اور علما اہل سنت سے ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ اولیاء اور اتقیاء جیسے صدیق ؓ اور فاروق ؓ اور محدث من اللہ عام ملائکہ سے افضل ہیں اختلاف اور دلائل کی تفصیل کے لیے کتاب اصول الدین للشیخ الامام صدر اسلام بزدوی ص 203 دیکھیں اور مسامرہ شرح مسایرہ ص 212 للشیخ کمال الدین ابن ابی اور شرح مسایرہ للشیخ قطلوبغاص 212 مطبوعہ مصر دیکھیں۔
علماء اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ معتزلہ کا اس آیت یعنی وفضلناہم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا سے تفضیل ملائکہ پر استدلال کرنا صحیح نہیں کہ ایک جنس کا دوسری جنس سے افضل ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ پہلی جنس کا ہر فرد دوسری جنس کے ہر فرد سے افضل اور بہتر ہے جنس مرد جنس عورت سے بہتر ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مرد ہر عورت سے بہتر ہے سب کو معلوم ہے کہ حضرت حوا (علیہ السلام) اور مریم علیہ السلام، عائشہ صدیقہ ؓ اور خدیجۃ الکبری ؓ سے اور عائشہ صدیقہ ؓ اور فاطمۃ الزہرا ؓ بہت سے مردوں سے بہتر ہیں مجموعی طور پر اگر جنس ملائکہ جنس بشر سے افضل ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جنس ملائکہ کا ہر فرد یعنی فرشتہ ہر فرد حتیٰ کہ انبیاء ومرسلین سے بھی افضل ہو۔ خصوصا جب کہ دلائل قطعیہ سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سر پر تاج خلافت رکھا اور ان کو مسجود ملائکہ بنایا اور فرشتوں سے بڑھ کر ان کو علم عطا کیا۔ جیسا کہ وعلم ادم الاسماء سے واضح ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی افضلیت کی ایک وجہ ان کی علمی عظمت و فضیلت اور برتری تھی اور ابلیس کا یہ کہنا کہ انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین اور نیز اس کا کہنا ارء یتک ھذا الذی کر مت علی وغیرہ وغیرہ یہ سب اس امر کی دلیل ہے کہ ابلیس نے سجدہ کے حکم کو آدم (علیہ السلام) کی افضلیت کی دلیل سمجھا اور نہ اگر یہ حکم ان کی افضلیت کی دلیل نہ ہوتا تو ابلیس سجدہ کرنے سے انکار نہ کرتا معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کو یہ حکم دینا کہ آدم کو سجدہ کرو اس سے مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت کا اظہار کرنا تھا کہ آدم (علیہ السلام) تم سب سے افضل ہیں اہل سنت کی طرف سے معتزلہ کا جواب دراصل قاضی بیضاوی (رح) نے دیا ہے اور شارحین نے اس کی تفصیل کردی ہے اس ناچیز نے جو کچھ لکھا ہے وہ سب تفسیر بیضاوی اور اس کے حواشی اور شرح سے ماخوذ ہے۔
حضرات اہل علم حاشیہ شہاب خفاجی علی تفسیر بیضاوی ص 49 جلد 6 دیکھیں نیز حاشیہ تتوی علی البیضاوی ص 272 جلد 4 بھی ضروری دیکھیں اس میں بھی اس مضمون کی تشریح اور تفصیل کی ہے اور شیخ جلال الدین سیوطی (رح) نے بھی تفسیر جلالین میں یہی جواب دیا اس کی تشریح کے لیے حاشیہ جمل اور حاشیہ صاوی دیکھیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ معتزلہ کے نزدیک ملائکہ، انبیاء ومرسلین سے افضل ہیں اور جنہور اہل سنت اشعریہ اور ما تریدیہ کے نزدیک انبیاء اور مرسلین تمام ملائکہ سموات و ارضین سے افضل ہیں اور رسل ملائکہ (باستثناء رسل بشر) باقی تمام فرشتوں سے افضل ہیں اور تمام اولیاء اور اتقیاء بشر سے بھی افضل ہیں بہرحال جمہور اہل سنت کا مسلک یہی ہے کہ عامہ ملائکہ عامہ اولیاء بشر سے افضل ہیں رہے بنی آدم کے فساق و فجار تو وہ حکم میں حیوانات اور بہائم کے ہیں۔
اور بعض اشاعرہ وما تریدیہ اس طرف گئے ہیں کہ انبیاء کرام کے علاوہ اولیاء اور اتقیاء اور ائمہ دین اور علماء ربانیین عام فرشتوں سے افضل ہیں اور عام فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہیں جو رسل ملائکہ کے علاوہ ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) ابتداء میں تفصیل ملائکہ علی البشر کے قائل تھے بعد میں اس سے رجوع کیا اور تفضیل انبیاء علی الملائکہ کے قائل ہوئے اور اس بارے میں امام ابوحنیفہ (رح) سے ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ انبیاء اور ملائکہ کے باہمی تفاضل اور مفاضلہ میں توقف کیا جائے اس لیے کہ اس بارے میں دلائل متعارض ہیں لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ سکوت کیا جائے۔ (دیکھو شرح عقیدہ طحاویہ ص 238 ص 240 اور نبراس شرح شرح عقائد نسفی ص 602)
امام ابو منصور ماتریدی (رح) بھی یہی فرماتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ اس بارے میں سکونت کیا جائے ہمیں حقیقت حال کا علم نہیں اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے اس لیے بہتر ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کے حوالے اور سپرد کیا جائے۔ (دیکھو حاشیہ خیالی برشرح عقائد ص 280 جلد 2)
معذرت : بقدر ضرورت اس مسئلہ کو لکھ دیا گیا مزید تفصیل کی نہ ہمت ہے اور نہ عام ناظرین کو اس کی ضرورت ہے حضرات اہل علم اگر مزید تفصیل چاہیں تو شرح عقیدہ طحاویہ ص 235 تا ص 245 اور شرح عقیدہ سفارینیہ از ص 380 ج 2 تا صفحہ نمبر 399 جلد 2 دیکھیں۔
Ayahs 17:71–72بیان فرق مراتب در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ یوم ندعوا کل اناس بامامہم .... الیٰ .... واضل سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں انسان کے دنیوی حالات بیان فرمائے اب اس کے بعد کچھ اخروی حالات بیان کرتے ہیں جہاں فرق مراتب کا ظہور ہوگا کہ نیک لوگوں کے نامہائے اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور بدوں کے بائیں ہاتھ میں اور انسان کی حقیقی تکریم و تفضیل اس دن ظاہر ہوگی۔
چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو جب ہم پر فرقہ کو اس کے پیشوا سمیت بلائیں گے یعنی ہر امت اپنے نبی اور کتاب کے ساتھ بلائی جائے گی اور جو نبی کو نہیں مانتے وہ اپنے سرداروں کے ساتھ بلائے جائیں گے جن کو وہ اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے تھے اس کے بعد تمام آدمیوں کے اعمالنامے ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے بس جس کا اعمالنامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہ اہل ایمان ہوں گے سو یہ لوگ خوشی سے اپنے اعمال نامے کو بار بار پڑھیں گے اور دوسروں سے یہی کہیں گے کہ میرے اعمالنامے کو دیکھو ھاؤم اقرء واکتابیہ اور ان پر ایک تاگے کے برابر ظلم نہ کیا جائے گا یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی بلکہ زیادہ ہی ملے گا اور جو شخص اس دنیا میں راہ خدا سے اندھا رہا وہ آخرت میں بھی جنت کی طرف سے اندھا رہے گا یعنی نجات کی راہ نہ دیکھے گا اور بلکہ بہ نسبت دنیا کے زیادہ گم گشتہ راہ ہوگا کیونکہ دنیا میں بینا ہونا ممکن تھا کہ راہ حق اس کو نظر آجاتی اور صراط مستقیم پر چل پڑتا اور آخرت میں تو بینائی کی استعداد ہی زائل ہوگئی اور وقت ہاتھ سے نکل گیا۔
Ayahs 17:73–77ذکر عداوت کفار باسید الابرار، درامور دینیہ و دنیویہ ووعدہ عصمت و حفاظت
قال اللہ تعالیٰ : وان کادوا لیتنونک .... الیٰ .... ولا تجد لسنتنا تحویلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی تکذیب کا بیان تھا کہ وہ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اب ان آیتوں میں ان کی عداوت کا بیان ہے کہ وہ دین میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے آپ ﷺ کو اپنی خواہشوں پر مجبور کرنا چاہتے تھے کہ آپ ﷺ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں یا اس پر قدرے سکوت کریں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس سے محفوظ رکھا اور دنیا میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے اور آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے تھے مگر خیریت ہوئی کہ وہ نکالنے پر قادر نہ ہوئے اللہ نے آپ ﷺ کو وہاں سے ہجرت کرنے اور نکل جانے کا حکم دیا اور خدا نے دشمنوں کی آنکھیں ایسی خیرہ کردیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے سے گزر کر صحیح سالم نکل کر راہی مدینہ ہوئے۔ غرض یہ کہ ان آیات میں کفار کی عداوت کا ذکر فرمایا اور آپ ﷺ کو تسلی دی کہ آپ گھبرائیں نہیں دین اور دنیا میں ہم آپ کے محافظ اور نگہبان ہیں یہ دشمن آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
چناچہ فرماتے ہیں اور یہ کافر قریب ہیں اس بات کے کہ آپ ﷺ کو فریب اور دھوکہ دے کر آپ کو اس چیز سے بچلا دیں جو ہم نے تیری طرف وحی کی ہے یعنی یہ لوگ اس کوشش میں ہیں کہ آپ ﷺ کو فریب دے کر فتنہ کی طرف مائل کریں تاکہ آپ اس وحی کے سوا دوسری بات ہم پر افتراء کریں کیونکہ ان کی خواہش پر چلنا اور ان کی درخواست پر عمل کرنا در پردہ اللہ پر افتراء ہے اور ایسی حالت میں وہ تجھ کو ضرور اپنا دوست، ولی بنا لیتے مگر اللہ کے فضل عظیم نے تجھ کو ان کی طرف التفات کرنے سے محفوظ رکھا اور اگر ہم تجھ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھئے تو وریب تھا تو ان کی ہدایت کی حرص وطمع میں کچھ تھوڑا سا ان کی طرف جھک جاتا مگر خدا تعالیٰ کی تثبیت و تائید سے آپ ﷺ ان کی طرف کچھ جھکنے کے قریب بھی نہیں ہوئے ” رکون “ کے معنی لغت میں میلان قلیل کے ہیں اور کلمہ لولا انتقاء کے بیان کے لیے آتا ہے یعنی اگر امر اول نہ ہوتا تو امر دوم ہوتا و لیکن امر اول کے وجود سے امر دوم وجود میں نہیں آیا لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اے نبی ﷺ اگر اللہ تعالیٰ کی تثبیت آپ ﷺ کے ساتھ نہ ہوتی تو آپ ان کی جانب جھکنے کے قریب ہوجاتے۔
لیکن اللہ کی تثبیت ازلی آپ ﷺ کے ساتھ تھی اس لیے آپ ﷺ کچھ بھی ان کی طرف جھکنے کے قریب بھی نہ ہوئے یہ آیت آنحضرت ﷺ کے کمال کی صریح دلیل ہے کہ تثبیت غیبی نے آپ ﷺ کی حفاظت کی کہ آپ ﷺ اس فتنہ کے قریب بھی نہیں گئے اگر بالفرض والتقدیر ایس اہوتا یعنی آپ ان کی طرف تھوڑا سا بھی جھک جاتے تو ہم آپ کو دوہرا عذاب زندگی میں اور دھرا عذاب مرنے کے بعد چکھاتے ” جن کا مرتبہ ہوا ان کی مشکل بھی سوا ہے “ کیونکہ تیرا مرتبہ سب سے عالی ہے اس لیے تیری تھوڑی خطا بھی بہر ہے جیسا کہ ازواج مطہرات کا مرتبہ بہت بلند ہے ان کے بارے میں یہ آیا ہے ینساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضاعف لہا العذاب ضعفین۔ پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے یعنی اگر آپ ﷺ ان کی طرف کچھ بھی جھک جاتے تو ہمارے عذاب سے آپ ﷺ کو کوئی بچا نہ سکتا۔
امام ثعلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ بکثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے اللہم لا تکلنی الیٰ نفسی طرفۃ عین اے اللہ پلک کے جھپکنے کی مقدار بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کیجئے، آمین۔
الٰہی بر رہ خود دار مارا دمے بانفس مامگذار مارا
اس آیت میں کفار کی طرف سے پیش آنے والے فتنہ کا ذکر تھا کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اس سے محفوظ رکھا اب آئندہ آیت میں کفار کی عداوت اور ان کی طرف سے پیش آنے والی جسمانی مضرت سے حفاظت کا ذکر فرماتے ہیں۔
اور اے نبی ﷺ وہ کفار قریب ہی آلگے تھے کہ تجھ کو ستا ستا کر زمین مکہ سے دل برداشتہ کردیں تاکہ تجھ کو اس زمین سے نکال دیں اور اگر ایسا ہوتا تو وہ خود بھی تیرے بعد چند روز سے زیادہ وہاں نہ رہنے پاتے۔ مشرکین مکہ آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے تھے مگر وہ نہ نکال سکے بلکہ خود آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے مکہ سے ہجرت کی اور جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ویسا ہی ہوا جن مشرکوں نے آپ ﷺ کو مکہ سے نکالا وہ ہجرت کے ایک سال بعد مکہ میں نہ رہنے پائے بلکہ غزوہ بدر میں فی النار والسقر ہوئے ہماری یہی روش ان رسولوں میں رہی جن کو ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھیجا جب کسی امت نے اپنے رسول کو نکالا تو اس کے بعد وہ امت بھی وہاں نہ رہی بلکہ ہلاک ہوئی اور اے نبی آپ ﷺ ہماری روش میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے یعنی یہ اللہ کی قدیم سنت ہے کہ جب کسی قوم نے نبی کو بستی میں نہیں رہنے دیا تو وہ بستی والے بھی وہاں نہ رہے۔
Ayahs 17:78–84حکم بہ مشغولی عبادت رب معبور و بشارت مقام محمود و تلقین دعاء ہجرت و اشارہ بسوئے قیام آسمانی بادشاہت و سلطنت
قال اللہ تعالیٰ : اقم الصلوۃ لدلوک الشمس .... الیٰ .... اھدی سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے ہیں اب ان آیات میں آپ ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کی عبادت میں مشغول رہئے ان دشمنوں کی طرف التفات نہ کیجئے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا حامی و ناصر ہے۔
تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ اور اشرف عبادت تماز ہے اس لیے اولا فرض نمازوں کی تاکید فرمائی اور آخر میں نماز تہجد کا تاکد عوام کے لئے نہیں بلکہ خواص کے لیے ہے بعد ازاں آپ کو مقام محمود کی بشارت دی عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا : جو بظاہر اس تہجد کی برکات میں سے ہے کہ عنقریب آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ شافع حشر بنا کر مقام محمود میں کھڑا کر دے گا ” مقام محمود “ سے مراد مقام شفاعت ہے جو عزت و کرامت کا اعلیٰ ترین مقام ہے جو بنی آدم میں سوائے آنحضرت ﷺ کے کسی اور کو نصیب نہیں شروع سورت میں اسراء اور معراج کی عزت و کرامت کا ذکر فرمایا اور اس آیت میں مقام محمود کی عزت و کرامت کا ذکر فرمایا اور چونکہ مشرکین مکہ آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنے کے درپے تھے اس لیے من جانب اللہ آپ کو ہجرت کی دعا تلقین ہوئی وقل رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق فاجعلنی من الدنک سلطانا نصیرا کیونکہ قضا و قدر نے ہجرت کو اسلام کی ترقی کا زینہ بنایا اور جس آسمانی بادشاہت و سلطنت کا خدا تعالیٰ نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا تھا ہجرت کو اس کا پیش خمیہ بنایا۔ اس لیے آپ ﷺ کو ہجرت کی دعا کا کم ہوا اور واجعلنی من الدنک سلطانا نصیرا میں اس بادشاہی و سلطنت کی طرف اشارہ ہے اور قل جاء الحق وزھق الباطل میں اسلام کے ظہور اور غلبہ کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔ اور یہ قرآن جو نسخہ کیمیاء اور شفاء اور رحمت ہے اس کا پورا استعمال اس وقت شروع ہوگا کہ جب بدر میں کفر کے سر پر اسلام کی ضرب کاری لگے گی اور کفر کے غرور کا نشہ کافور ہوگا۔
چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بجز و عافیت آپ ﷺ کو مدینہ منورہ پہنچا دیا اور ہجرت کے بعد اسلام کی شان و شوکت یوما فیوما زائد ہونے لگی اور حق غالب ہوا اور باطل مضمحل ہوا مکہ فتح ہوگیا اور نجد اور یمن کا تمام علاقہ اور حجاز کا علاقہ اسلام کی زیرنگیں آگیا اور شاہانہ طریقہ سے اللہ کے احکام جاری ہونے لگے اور اہل اسلام اس نسخہ کیمیاء (قرآن کریم) کے استعمال سے ایسے شفا یاب اور تندرست ہوئے کہ قیصر و کسری کا آپریشن کرنے کے لیے تیار ہوگئے اور جن ظالموں نے مال و دولت کے نشہ میں اس نسخہ کیمیاء کے استعمال سے گریز کیا وہ کفر اور شرک کے زہریلے مادہ سے ہلاک ہوگئے اور واذا انعمنا علی الانسان اعرض ونابجانبہ میں اشارہ اس طرف فرمایا کہ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی انسان پر انعام فرمائیں تو انسان کو چاہئے کہ اپنے منعم سے مانوس ہو نعمتوں میں مست ہو کر منعم سے متوحش نہ ہو۔
چناچہ فرماتے ہیں قائم کر اے نبی ﷺ ! نماز کو زوال آفتاب کے وقت سے لے کر رات کی تاریکی کے چھا جانے تک اس میں چار نمازیں آگئیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء۔ جیسا کہ حدیث سے اس اجمال کی تفصیل ہوگئی اکثر صحابہ وتابعین کے نزدیک ” دلوک شمس “ سے زوال آفتاب مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ آفتاب ڈھلنے کے بعد رات کو کچھ حصہ گرز جانے تک کہ جب رات کی تاریکی افق پر چھا جائے نمازیں ادا کریں اور بعض صحابہ وتابعین یہ کہتے ہیں کہ دلوک شمس سے غروب آفتاب کے معنی مراد ہیں اس سے مغرب کی نماز مراد ہے اور غسق اللیل یعنی جب رات کی سیاہی افق پر پھیل جائے اس وقت عشاء کی نماز پڑھو اور لازم کرلو قرآن کا پڑھنا فجر کی نماز میں اشارہ اس طرف ہے کہ فجر کی نماز میں قرآن زیادہ پڑھا جائے اور بہ نسبت اور نمازوں کے فجر کی نماز میں قرأت قرآن زیادہ طویل ہونی چاہئے بیشک فجر کی قرأت یعنی نماز فجر محل حضور ملائکہ ہے اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
حدیث میں ہے کہ فجر اور عصر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں پس جو فرشتے شب کو تم میں رہے وہ عروج کرتے ہیں پس اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا وہ کہتے ہیں کہ جب ہم ان کے پاس گئے تھے۔ جب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم نے ان کو چھوڑا تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور چونکہ نماز صبح کا وقت نیند سے اٹھنے کا وقت ہے اس لیے نماز فجر کا حکم الگ بیان کیا پھر اسی کے متصل نماز تہجد کو بیان کیا جو شب کے اخیر میں پڑھی جاتی ہے اور خصوصی طور پر آنحضرت ﷺ کو اس کا خطاب فرمایا۔
چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ رات کے کچھ حصہ میں قرآن کے ساتھ شب خیزی کرو یعنی رات کا کچھ حصہ تہجد کے لیے مخصوص کردو تہجد ہجور سے مشتق ہے معنی ترک خواب کے ہیں یعنی رات کے کچھ حصے میں خواب سے بیدار ہو کر نماز میں قرآن پڑھا کرو یہ نماز تہجد کا حکم خاص تیرے لیے زیادہ ہے۔ نماز پنجگانہ کے علاوہ خاص آپ ﷺ کے لیے یہ حکم زیادہ ہے کہ آپ ﷺ ضرورت تہجد پڑھ اکریں اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کو سب سے زیادہ بلند مقام عطا کریں گے لہٰذا آپ ﷺ امید رکھئے کہ تیرا پروردگار تجھ کو ایک پسندیدہ مقام میں کھڑا کرے گا ” مقام محمود “ کے معنی مقام عزت کے ہیں۔
احادیث صحیحہ اور متواترہ سے ثابت ہے کہ آیت میں مقام محمود سے مقام شفاعت مراد ہے اور اس کو محمود اس لیے کہتے ہیں کہ اس مقام میں کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ اللہ کی عجیب و غریب حمد وثناء کریں گے کہ جو کسی بشر کے دل پر نہیں گزری ہوگی اور پھر اس مقام میں تمام امم اوراقوام عالم کے لیے شفاعت کریں گے تو تمام اولین اور آخرین آپ کی تعریف کریں گے جس کی مفصل کیفیت احادیث میں مذکور ہے۔
نکتہ : آیت میں لفظ ” عسیٰ “ امید دلانے کے لیے ہے اور درحقیقت وہ بشارت اور وعدہ ہے کیونکہ کریم کا امید دلانے کے بعد محروم کرنا یہ موجب عار ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور منزہ ہے کہ وہ امید دلانے کے بعد پھر نہ دے۔
فائدہ : تہجد ابتداء اسلام میں سب پر فرض تھا بعد میں امت سے اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی لیکن آنحضرت ﷺ کے بارے میں دو قول ہیں ایک قول تو یہ ہے کہ تہجد آپ ﷺ کے حق میں خاص طور پر فرض رہا اور دوسرا قول یہ ہے کہ آپ ﷺ پر فرض نہ رہا تھا اس لیے نافلۃ لک کے دو معنی بیان کیے گئے ایک یہ کہ تہجد خاص آپ ﷺ کے لیے فرض زائد ہے۔ دوم یہ کہ تہجد خاص آپ ﷺ کے لیے فضیلت زائدہ اور زیادتی مرتبہ کا موجب ہے۔
تلقین دعاء ہجرت و بشارت قیام حکومت
وقل رب ادخلنی مدخل صدق .... الیٰ .... ان الباطل کان زھوقا۔
گزشتہ آیت میں مقام محمود یعنی مقام شفاعت کے وعدہ اور بشارت کا ذکر تھا جو آخرت سے متعلق ہے اب اس آیت میں دار کفر سے دارامان کی طرف ہجرت کی دعا تلقین فرماتے ہیں اور ایک دنیوی بشارت دیتے ہیں کہ ہجرت کے بعد اسلام کی شان یوما فیوما بلند ہوگی اور عنقریب مکہ مکرمہ فتح ہوگا اور جزیرۃ العرب پر اسلام کی حکومت اور سلطنت قائم ہوجائے گی حق ظاہر ہوگا اور باطل مٹ جائے گا۔
چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ آپ کفار مکہ کی عداوت سے پریشان نہ ہوں آپ ﷺ تو یہ دعا مانگیں کہ اے میرے پروردگار داخل کر مجھ کو مقام صدق میں سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو دشمنوں کے نرغے سے سچا اور اچھا نکالنا یعنی مکہ سے اچھی طرح نکال اور اچھی طرح عزت کے ساتھ مدینہ میں داخل کر اور مجھ کو اپنے پاس سے ایسا غلبہ عطا کر جو دین کے بارے میں میرا معین و مددرگار ہو مطلب یہ ہے کہ ہر حال میں میری اعانت اور امداد کر کہ یہاں سے نکلتے وقت اور دوسری جگہ داخل ہونے کے وقت بھی یعنی اس شہر سے مجھ کو آبرو کے ساتھ نکال اور کسی جگہ مجھ کو آبرو سے ٹھہرا دے۔ اور ایسی حکومت اور ایسی سلطنت عطا فرما جو تیرے دین میں مدد دینے والی ہو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی دعا قبول فرمائی۔ مکہ سے اس خیرو خوبی اور خوش اسلوبی اور عزت و آبرو کے ساتھ آپ ﷺ کو نکالا کہ دشمن دیکھتے ہی رہ گئے اور پھر نہایت عزت و آبرو کے ساتھ آپ ﷺ کو مدینہ پہنچایا جہاں سے حق کا بول بالا ہوا اور مدینہ کے لوگ آپ ﷺ کے انصار اور یارومددگار بنے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ فتح ہوا اور اسلام کی حکومت اور سلطنت قائم ہوئی اور دعا واجعل لی من لدنک سلطانا نصیرا : کا ظہور ہوا۔
اور اے نبی ﷺ ! جب مکہ فتح ہوجائے اور الہ کی فتح اور نصرت اور من جانب اللہ سلطانا نصیرا کو آپ ﷺ دیکھ لیں تو اس وقت یہ کہنا آگیا حق اور صدق یعنی دین اسلام اور نابود ہوا دین باطل یعنی کفر اور شرک سر زمین عرب سے دم دبا کر بھاگ نکلا اور بیشک وہ تو تھا ہی مٹنے والا باطل کو اگرچہ کسی وقت میں دولت و صولت حاصل ہوجائے تو وہ چند روزہ ہے جیسے کوڑا کرکٹ بظاہر اگرچہ پانی کے اوپر نظر آئے تو اس کا اعتبار نہیں وہ عارضی ہے جامع ترمذی میں ادخلنی اور اخرجنی کی تفسیر ہجرت کے ساتھ آئی ہے اور قل جاء الحق سے فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ فتح مکہ کے دن جب آپ ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو تین سو ساٹھ بت اس کے اندر رکھے ہوئے تھے ہر قوم کا الگ بت تھا۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے بتوں کو کوچہ دیتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ وما یبدی الباطل وما یعید (حق آگیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل مٹنے ہی والی چیز ہے) ۔ (اور آئندہ نہ باطل ابتداء پیدا ہوگا اور نہ لوٹے گا) ۔
آپ ﷺ یہ پڑھتے جاتے تھے اور بت منہ کے بل اوندھا ہوتا جاتا تھا حق جل شانہ نے باطل کی مغلوبی اور سرنگونی لوگوں کو بچشم سر مشاہدہ کرا دی اور غلبہ حق کی جو پیش گوئی کی تھی اس کا نظارہ کرا دیا حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے آیت کریمہ رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق : کی تفسیر میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مکہ معظمہ سے نکال کر باعزاز و اکرام مدینہ طیبہ پہنچایا نیز قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ حدود اور احکام شریعت بدون قوت اور سلطنت اور امارات محفوظ نہیں رہ سکتے تو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔
حکومت اور امارات اعزاز الٰہی ہے جو اس نے بندوں کو عطا کیا ہے اور اگر حکومت اور امارات نہ ہوتی تو بعض لوگ بعض کو تباہ و برباد کردیتے اور قوی ضعیف کو ہلاک کردیتا۔ حسن بصری (رح) سلطانا نصیرا کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ملک فارس اور روم کافروں سے چھین کر تم کو دیں گے ان دعاؤں کی تلقین سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی و بشارت دینا ہے کہ آپ ﷺ کفار و فجار کی ستم رزنیوں سے گھبرائیں نہیں یہ باطل کا چند روزہ غلغلہ ہے۔ بالآخر دین حق غالب و سر بلند ہو کر رہے گا اور کفر ذلیل و خوار و سرنگوں ہوگا اور اے کافرو ! تمہاری تدبیریں کار آمد نہ ہوں گی لہٰذا اگر اپنی خیریت چاہتے ہو تو کفر وعناد کو چھوڑ دو اور طبیب روحانی یعنی محمد رسول اللہ ﷺ جو نسخہ شفاء یعنی (قرآن کریم) تمہارے لیے لے کر آئے ہیں اس کا استعمال کرو اور دیکھو کہ ہم نازل کرتے ہیں قرآن سے وہ چیز کہ جو امراض باطنی کے لیے شفاء ہے جس سے دل کے شکوک و شبہات دور ہوتے ہیں اس کے ماننے والوں کے لیے اور پھر اس کا استعمال کرنے والوں کے لیے رحمت ہے کہ اس نسخہ شفاء کو پیتے ہی چنگے ہوگئے اور دلوں کی ساری بیماریاں دور ہوگئی اور سارے شک و شبہ مٹ گئے اور نہیں زیادتی کرتا یہ قرآن ان ظالموں کے حق میں سوائے خسارہ اور نقصان کے کسی اور چیز کو چونکہ تمرد اور عناد میں مبتلا ہیں اس لیے قرآن سن کر جوش عداوت میں آجاتے ہیں اور استہزاء اور تمسخر پر اتر آتے ہیں لہٰذا بجائے رحمت کے لعنت اور بجائے شفاء کے مرض پیدا ہوتا ہے فی قلوبھم مرض فزادھم اللہ مرضا۔
اب آئندہ آیت میں اس خسارہ کا سبب بیان کرتے ہیں کہ انسان مال و منال اور جاہ و جلال کی محبت میں غرق ہے تکبر اور قساوت قلبی کی بیماری میں مبتلا ہے اور منعم حقیقی سے بےتعلق ہوگیا ہے اس لیے کوئی دوا اس کے حق میں کارگر نہیں ہوتی۔ چناچہ فرماتے ہیں۔
اور یہ قرآن جو شفاء اور رحمت کا سبب تھا وہ مرض اور خسارہ کا سبب کیسے بنا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں یعنی صحت اور مال دیتے ہیں تاکہ وہ ہماری دی ہوئی نعمت کو ہمارے قرب اور رضا کا ذریعہ بنائے تو وہ بجائے قریب ہونے کے ہم سے منہ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو ہم سے دور کرلیتا ہے یعنی نعمت ملنے کے بعد منعم حقیقی سے پہلو تہی اور کنارہ کشی اختیار کرتا ہے یہ کنایہ تکبیر سے ہے اور جب اس کو کوئی تکلیف اور سختی پہنچتی ہے یعنی زمانہ کے حوادث اور مصائب میں سے کوئی چیز اس کو لاحق ہوتی ہے تو وہ بالکل مایوس (ناامید) ہوجاتا ہے کہ اب اس کو کوئی خیر اور بھلائی نہیں ملے گی۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اگر آدمی کو نعمت اور دولت ملتی ہے تو وہ اس پر مغرور ہو کر منعم حقیقی کو یعنی خدا تعالیٰ کو بالکل بھول جاتا ہے اور اگر دنیا سے محروم ہوا تو اس پر غم اور افسوس چھا جاتا ہے اور خدا کی رحمت سے بالکل ناامید ہوجاتا ہے پس جو دنیا کا ایسا شیدائی اور فدائی ہوگیا وہ قرآن کی نعمت اور رحمت کو کیا جانے اور کیا سمجھے ان بندگان شکم کے حق میں قرآن جیسے نسخہ شفاء کے اسرار و حکم عبث ہیں آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ یہ قرآن گو تمہارے نزدیک عبث ہو مگر ہمارے نزدیک عبث نہیں ازلی سعادت اور شقاوت کے ظہور کا ذریعہ ہے اس لیے کہ ہر ایک اپنی طبیعت اور فطرت اور روحانی مزاج کے مطابق عمل کرتا ہے شکر کرنے والا اور کفر کرنے والا جو بھی عمل کرتا ہے وہ عمل اس کی روح کے ہم شکل ہوتا ہے ہم نے اپنی حکمت سے مخلوق کو مختلف الانواع بنایا کسی کی فطرت میں نیکی و دیعت رکھی اور کسی کی فطرت میں برائی رکھی ہر ایک اپنی فطرت اور جبلت کے مطابق عمل کرتا ہے پس قرآن کے ماننے نہ ماننے سے انسان کی اس پوشیدہ استعداد اور صلاحیت کا ظہور ہوجاتا ہے اس سے اگر اعمال خیر کا صدور ہوا تو دنیا نے سمجھ لیا کہ یہ نیک جبلت ہے اور اگر اس سے اعمال شر کا صدور ہوا تو دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ شخص بدجبلت ہے باقی تمہارا پروردگار پہلے ہی سے خوب جانتا ہے کہ ان دونوں فریق میں سے کون زیادہ ٹھیک راہ پر جا رہا ہے اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ ہمیں تمہاری سعادت اور شقاوت کا پہلے ہی سے علم ہے یہ قرآن ہم نے تم پر الزام حجت کے لیے نازل کیا ہے جیسا عمل کرو گے اس کے مطابق تم کو جزاء دے گا۔ قال اللہ تعالیٰ : وقل للذین لا یؤمنون اعملوا علی مکانتم انا عاملون وانتظروا انا منتظرون۔
پس جب معلوم ہوگیا کہ خیر و شر کا مبداء اور منشاء انسان میں اس کی روح اور اس کی فطرت اور جبلت ہے جس سے روح کے مطابق اعمال سرزد ہوتے ہیں اس لیے آئندہ آیت میں روح کے متعلق سوال کا ذکر کرتے ہیں۔