Ayahs 79:40–41ف 15:۔ واما من خاف یہ بشارت اخرویہ ہے لیکن جو لوگ قیامت کے دن اللہ رب العزۃ کی بارگاہ میں کھڑے ہونے سے ڈر گئے اور نفس کو خواہشات سے روک کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہے تو ان کا ٹھکانا جنت میں ہوگا۔
Ayahs 79:42–4416:۔ ” یسئلونک “ یہ شکوی ہے۔ ” مرسی “ مصدر ہے بمعنی ” ارساء “ یعنی اقامت۔ مشرکین آپ سے بطور استہزاء سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب آئیگی اور کب اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر فرمائے گا۔ یریدون متی یقیمہا اللہ تعالیٰ ویکونہا الخ (روح) ۔ ” فیم انت من ذکریھا “ یہ مشرکین کے سوال کا رد اور اس پر انکار ہے آپ کس بنیاد پر ان کے سامنے قیامت کا وقت معین بیان کریں گے اس کا وقت معین تو خود آپ کو بھی معلوم نہیں اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف راجع اور منتہی ہے اور اس کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں، تو پھر یہ لوگ آپ سے کیوں سوال کرتے ہیں۔ الیہ عز وجل انتھاء علمہا لیس لاحد منہ شتی کائنا ما کان فلای شیء یسئلونک عنہا (روح ج 30 ص 37) ۔ ” الی ربک منتہا “ ای منتہی علمہا فلا یوجد عند غیرہ علم الساعۃ (قرطبی ج 19 ص 207) ۔
Ayah 79:4517:۔ ” انما انت “ یہ مشرکین کے سوال کا جواب ہے آپ تو قیامت کے اہوا و شدائد سے ڈرنے والوں کو ڈرانے والے اور خبردار کرنے والے ہیں یہی آپ کا فریضہ ہے آپ قیامت کا وقت معین بتانے کے لیے نہیں آئے۔ اسی لیے آپ کو اس کا علم بھی نہیں دیا گیا۔ لم تبعث لتعلمہم بوقت الساعۃ وانما بعثت لتنذر من اھوالہا من یخاف شدائدھا (مدارک) ۔
Ayah 79:4618:۔ ” کانہم “ یہ ” یظنون “ مقدر کا مفعول ہے اور ” یوم “ ظرف اسی فعل مقدر کے ساتھ متعلق ہے اصل عبارت اس طرح ” یوم یرونہا یظنون کانہم لم یلبثوا الخ “ اب تو قیامت کو نہیں مانت اور بطور استہزاء اس کے معین وقت سے سوال کرتے ہیں تو جب قیامت کو دیکھ لیں گے تو دنیا میں رہنے کا وقت ان کو بہت ہی مختصر نظر آئے گا اور وہ یہ سمجھیں گے کہ گویا دنیا میں وہ صرف عشیہ (ظہر تا مغرب) کی مقدار ٹھیرے ہیں یا اس سے بھی کم یعنی صرف ضحی (طلوع آفتاب سے دو نیزہ کی مقدار تک) کا زمانہ ٹھیرے ہیں۔ یعنی قیامت کے اہوال و شدائد کی وجہ سے انہیں دنیا کی زندگی کا وقت بہت کم معلوم ہوگا راحت کے بعد مصیبت میں راحت کا وقت بہت تھوڑا معلوم ہوتا ہے۔ ” ضحہا “ کی ضمیر مجرور ” عشیۃ “ کی طرف راجع ہے لیکن اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ” عشیۃ “ کا تو کوئی ” ضحی “ ہوتا ہی نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اضافت بانی ملابست ہے اور مراد عشیہ کے دن کا ضحی ہے۔ قال الفراء والزجاج المراد باضافۃ الضحی الی العشیۃ اضافتہا الی یوم العشیۃ او ضحی یومہا (کبیر ج 89 ص 469) ۔ یا مراد یہ ہے کہ عشیہ میں سے ضحی کا قدر۔ (الشیخ (رح) تعالی)
سورة النازعات ختم ہوئی