69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 69:38–43

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور انکی جو نظر نہیں آتی

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

کہ یہ (قرآن) فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 69:41 in the Quran reader

اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو

وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 69:42 in the Quran reader

اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں لیکن تم لوگ بہت کم فکر کرتے ہو

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 69:43 in the Quran reader

(یہ تو) پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے

ترجمہ : مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم مخلوقات میں دیکھتے ہو، فلا میں لا زائدہ ہے اور مخلوقات میں سے جن کو تم نہیں دیکھتے ہو یعنی تمام مخلوقات کی کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے یعنی اس نے اللہ کی جانب سے ایک پیغام رساں کی حیثیت سے نقل کیا اور یہ کسی کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے اور نہ کسی کاہن کا قول ہے (افسوس) تم بہت کم نصیحت لے رہے ہو دونوں فعلوں میں تا اور یا کے ساتھ ہے، اور، ما زائدہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ وہ باتوں پر بہت کم یقین رکھتے ہیں، اور ان کا آپ ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں میں سے بعض پر ایمان لانا مثلاً صدقہ و خیرات پر اور صلہ رحمی پر زنا وغیرہ سے باز رہنے پر، تو اس سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا (بلکہ یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے اور اگر نبی ہم پر کوئی بھی بات گھڑ لیتا بایں طور کہ جو بات ہم نے نہیں کہی، ہماری طرف منسوب کر کے کہہ دیتا تو البتہ ہم یقینا قوت اور قدرت کے ساتھ سزا میں پکڑ لیتے پھر ہم اس کی شہہ رگ کاٹ دیتے یعنی قلب کی رگیں کاٹ دیتے، اور وہ تین رگیں ہیں جو قلب سے متصل ہیں، جب وہ رگیں کٹ جاتی ہیں تو وہ شخص مرجاتا ہے، پھر تم میں سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوگا احد، ما کا اسم ہے اور من تاکید نفی کے لئے زائدہ ہے، اور منکم، احد سے حال ہے اور حاجزین بمعنی مانعین، ما کی خبر ہے اور مانعین کو جمع لایا گیا ہے، اس لئے کہ احد نفی کے تحت داخل ہونے کی وجہ سے جمع کے معنی میں ہے اور عنہ کی ضمیر آپ ﷺ کی طرف راجع ہے یعنی ہم کو اسے عذاب دینے سے کوئی چیز نہیں رو سکتی، یقینا یہ قرآن پرہیزگاروں کیلئے نصیحت ہے ہم کو پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے اے لوگو ! بعض لوگ قرآن کی تکذیب کرنے والے ہیں اور بعض تصدیق کرنے والے اور بیشک یہ قرآن (یعنی اس کی تکذیب) کافروں کے لئے حسرت ہے جب کہ یہ لوگ تصدیق کرنے والوں کے اجر کو اور تکذیب کرنے والوں کے عذاب کو دیکھیں گے اور بیشک یہ قرآن یقینی حق ہے، پس آپ اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کریں، لفظ اسم زائد ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : انہ لقول رسول کریم یہ اور وما ھو بقول شاعر اور ولا بقول کا ھن یہ تینوں جواب قسم ہیں مقاتل (رح) تعالیٰ نے کہا ہے کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ جب ولید بن مغیرہ نے کہا کہ محمد ﷺ ساحر ہیں اور ابوجہل نے کہا کہ شاعر ہیں اور عقبہ نے کہا کہ کاہن ہیں تو اللہ نے اپنے مذکورہ کلام سے مذکورہ تینوں کا رد فرمایا۔ قولہ : ای قالہ رسالۃ اس اضافہ کا مقصد اس اعتراض کا جواب دینا ہے کہ اللہ کے کلام کو رسول کا کلام کیوں کہا گیا ؟ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ رسول کی جانب وہ رسول خواہ جبرئیل ہوں یا نبی، ادنیٰ مناسبت کی وجہ سے نسبت کردی گئی ہے حضرت جبرئیل امین چونکہ پیغام رساں کی حیثیت سے کلام کو لاتے ہیں اور رسول ﷺ اپنی امت کو تبلیغ کرتے ہیں اسی لئے اس کلام کی نسبت آپ ﷺ کی اور جبرئیل کی طرف کرنا درست ہے۔ قولہ : قلیلا، قلیلا دونوں جگہ موصوف محذوف کی صفت ہے ای ایمانا قلیلا و ذکراقلیلا۔ قولہ : نیاط القلب وہ رگ جو قلب سے متصل ہوتی ہے، اس کو شہ رگ اور رگ جان بھی کہتے ہیں اس کے کٹنے سے یقینا موت واقع ہوجاتی ہے۔ قولہ : وجمع الخ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : من احد، ما کا اسم ہے اور حاجزین اس کی خبر ہے اسم و خبر میں مطابقت نہیں ہے اس لئے کہ اسم واحد جبکہ خبر جمع ہے۔ جواب : احد نکرہ تحت النفی ہونے کی وجہ سے معنی کے ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں رہا۔ قولہ : و مصدقین اس کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ معطوف مع حرف عطف محذوف ہے، اس کا عطف مکذبین پر ہے۔ قولہ : حق الیقین اس کی تفسیر للیقین سے کر کے اشارہ کردیا کہ یہ اضافت صفت الی الموصوف ہے۔ تفسیر و تشریح فلا اقسم بما تبصرون وما لا تبصرون یعنی قسم ہے ان تمام چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو یا دیکھ سکتے ہو اور جن کو تم نہ دیکھتے ہو اور نہ دیکھ سکتے ہو یعنی تمام چیزوں کی قسم خواہ وہ مرئی ہوں یا غیر مرئی۔
Ayahs 69:44–52

وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ Open ayah 69:44 in the Quran reader

اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لائے

لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ Open ayah 69:45 in the Quran reader

تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ Open ayah 69:46 in the Quran reader

پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ Open ayah 69:47 in the Quran reader

پھر تم میں سے کوئی ہمیں اس سے روکنے والا نہ ہوتا

وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 69:48 in the Quran reader

اور یہ (کتا ب) تو پرہیزگاروں کے لیے نصحیت ہے

وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ Open ayah 69:49 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اس کو جھٹلاتے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 69:50 in the Quran reader

نیز یہ کافروں کے لئے (موجب) حسرت ہے

وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ Open ayah 69:51 in the Quran reader

اور کچھ نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے۔

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 69:52 in the Quran reader

سو تم اپنے پروردگار عزوجل کے نام کی تنزیہہ (تسبیح) کرتے رہو۔

ولو تقول علینا بعض الاقاویل مطلب یہ کہ نبی ﷺ کو اپنی طرف سے وحی میں کسی کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں، بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کی شہ رگ فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سچے نبی ﷺ کے بارے میں ہے کہ وہ بھی اگر ایسا کریں تو سخت قبل مؤاخذہ ہوں گے نہ کہ جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں جو کہ سراسر ظالم و گناہگار ہیں۔ تمت