Ayahs 39:32–41آیت نمبر 32 تا 41
ترجمہ : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں ؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبی ﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کیلئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے اسوأ السَّیّیُ اور احسن الحَسَنُ کے معنی میں ہیں (یعنی دونوں اسم تفصیل صفت کے معنی میں ہیں) کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے یعنی محمد ﷺ کے لئے کافی نہیں ہے ؟ ہاں ضرور کافی ہے اور لوگ آپ کو غیر اللہ یعنی بتوں سے ڈرا رہے ہیں، اس میں آپ ﷺ کو خطاب ہے، یہ کہ وہ بت آپ کو ہلاک کردیں گے یا پاگل بنادیں گے اور اللہ جس کو گمراہ کر دے اس کی کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں اور جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا نہیں ؟ ہاں کیوں نہیں ؟ اور قسم ہے اگر آپ ان سے معلوم کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ لئن میں لام قسم کا ہے تو وہ یقیناً یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے (پیدا کئے ہیں) آپ ان سے کہئے اچھا یہ تو بتاؤ کہ جن کی تم اللہ کے سوا بندگی کرتے ہو یعنی بتوں کی اگر اللہ تعالیٰ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں ؟ نہیں یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس مہربانی کو روک سکتے ہیں ؟ اور ایک قراءت میں دونوں میں اضافت کے ساتھ ہے (یعنی کاشفات اور ممسکات) میں آپ کہہ دیں کہ اللہ میرے لئے کافر ہے توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں (یعنی) بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے، اے میری قوم تم اپنی جگہ یعنی اپنے طریقہ پر عمل کئے جاؤ میں بھی اپنے طریقہ پر عمل کر رہا ہوں، سو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کن عذاب آنے والا ہے مَنْ موصولہ تعلمون کا مفعول ہے اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوگا ؟ (اور) وہ دوزخ کا عذاب ہے، اور بلاشبہ اللہ نے ان کو بدر میں ذلیل کردیا، آپ پر ہم نے حق کے ساتھ لوگوں کیلئے یہ کتاب نازل فرمائی ہے بالحق، اَنزَلَ کے متعلق ہے، پس جو شخص راہ راست پر آجائے تو اس کے ہدایت پر آنے کا فائدہ اسی کے لئے ہے اور جو شخص گمراہ ہوجائے تو اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں کہ ان کو زبردستی ہدایت پر لے آئیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : فَمَنْ اظلَمُ ؟ ای لا احَدَ اس تفسیر کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ فمن اظلَمُ میں استفہام انکاری بمعنی نفی ہے۔
قولہ : کذّبَ بالصدقِ مفسر (رح) تعالیٰ نے صدق سے قرآن مراد لیا ہے اور قرآن کو جو کہ صادق ہے، مبالغۃً صدق کہا گیا ہے
قولہ : بلیٰ مفسر علام نے بلیٰ کا اضافہ، سنت کی اتباع میں کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا مَنْ قرأ الیسَ اللہُ باحکم الحاکمین، فَلیقل بلیٰ لہٰذا ألیس کذا ؟ (مثلاً ) کی تلاوت کے وقت بلیٰ کہنا مسنون ہے۔ (حاشیہ جلالین)
قولہ : الذی جاءَ بالصِّدقِ ، الَّذِی موصول کے دو صلے ہیں ایک واحد ہے اور وہ جاء بالصدق محمد ﷺ ہیں اور دوسرا صدق بہٖ المؤمنون ہے جو کہ جمع ہے اول صلہ کی رعایت سے الَّذِیْ کو مفرد لایا گیا اور دوسرے صلہ کی رعایت سے الذی کو الَّذِینَ کے معنی میں لیا گیا، دوسرے صلہ ہی کی رعایت سے اُولٰٓئکَ ھُمُ المتقونَ میں جمع کے صیغے لائے گئے ہیں، الَّذِیْ چونکہ اسم جنس ہے، لہٰذا اس میں واحد جمع دونوں کی گنجائش ہے۔
قولہ : اسوأ واحسنَ السَّیئَ ، والحَسَنَ کے معنی میں ہیں، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تصدیق کرنے والے مومنوں کے نیک تر اعمال کا صلہ عطا فرمائیں گے اور بدتر اعمال کو معاف فرمائیں گے، اس میں نیک اعمال اور بد اعمال کا ذکر نہیں ہے، مفسر علام نے مذکورہ عبارت کا اضافہ کرکے جواب دیدیا کہ اسم تفضیل اپنے معنی میں نہیں ہے بلکہ اسم فاعل کے معنی میں ہے لہٰذا اب نیک اور نیک تر اسی طرح بد اور بدتر دونوں قسم کے اعمال اس میں داخل ہوگئے۔
قولہ : تخبُلُہٗ (ن) خَبلاً عقل کو فاسد کرنا، پاگل بنانا، تخبیل کے بھی یہی معنی ہیں۔
قولہ : وفی قراء ۃٍ بالإضافۃِ یہ دونوں قراءتیں سبعیہ ہیں، اگر اضافت کے ساتھ پڑھیں گے تو کاشفاتُ ضُرِہٖ اور مُمسِکاتُ رحمتہٖ پڑھا جائے گا۔
تفسیر و تشریح
فمن اظلم۔۔۔ اللہِ (الآیۃ) اللہ پر بہتان لگانے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لئے اولاد ہونے کا دعویٰ کرے یا اس کا شریک ثابت کرے یا اس کی بیوی ہونے کا عقیدہ رکھے، حالانکہ وہ ان تمام نقائص سے پاک اور بری ہے، کذّبَ بالصِّدق اور جاءَ بالصدقِ میں صدق سے مراد وہ تعلیمات ہیں جن کو نبی کریم ﷺ لے کر آئے خواہ قرآن ہو یا عقائد و احکام، جس میں عقیدۂ توحید بھی شامل ہے، اور عقیدہ بعث و نشر بھی، اور صَدَّق بہٖ میں سب مومنین داخل ہیں جو اس کی تصدیق کرنے والے ہیں نیز جاء بالصدق میں کافروں کیلئے وعیدیں اور مومنین کے لئے خوشخبری بھی داخل ہیں۔
اذ جاءَہٗ سے آنحضرت ﷺ مراد ہیں جو سچا دین لیکر آئے، اور بعض کے نزدیک یہ عام ہے اور اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو توحید کی دعوت دیتا ہو اور لوگوں کی شریعت کی جانب رہنمائی کرتا ہو، اور صَدَّق بہٖ سے بعض حضرات نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ مراد لئے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی۔ (فتح القدیر) مجاہد نے کہا ہے الذی جاءَ بالصدق سے مراد نبی ﷺ ہیں اور وصدّق بہٖ سے حضرت علی ؓ بن ابی طالب مراد ہیں، اور سدّی نے کہا : الذی جاء بالصدق سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور وصدق بہ سے آپ ﷺ مراد ہیں، اور قتادہ و مقاتل و ابن زید نے کہا ہے کہ الّذِی جاء بالصدق سے نبی ﷺ مراد ہیں اور وصدق بہ سے مومنین مراد ہیں۔
الیسَ اللہ بکافٍ عبدَہٗ جمہور نے عبدہ کو مفرد پڑھا ہے اور حمزہ و کسائی نے جمع کے صیغہ کے ساتھ عِبَادہٗ پڑھا ہے، پہلی صورت میں عبدہ سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں اور اگر عبد سے جنس عبد مراد لی جائے تو آنحضرت ﷺ تو دخول اولی کے طور پر داخل ہوں مگر دیگر حضرات انبیاء و صلحاء و علماء بھی مراد ہوسکتے ہیں، دوسری قراءت کی صورت میں جمیع انبیاء یا جمیع مومنین یا دونوں فریق مراد ہوں گے، ابو عبید نے جمہور کی قراءت کو اختیار کیا ہے۔ (فتح القدیر شوکانی)
شان نزول : اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ کفار نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ڈرایا تھا کہ اگر آپ نے ہمارے بتوں کی بےادبی کی تو ان بتوں کا اثر بڑا سخت ہے، اس سے آپ نچ نہ سکیں گے، اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے ؟
انا انزلنا۔۔۔۔ للناسِ (الآیۃ) نبی کریم ﷺ کو اہل مکہ کا کفر پر اصرار بہت زیادہ گراں گزرتا تھا، اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا کام صرف اس کتاب کو بیان کردینا ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے، ان کی ہدایت کے آپ مکلف نہیں ہیں، اگر یہ لوگ ہدایت کا راستہ اپنا لیں گے تو اس میں ان ہی کا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو خود ہی نقصان اٹھائیں گے
Ayahs 39:42–52آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کرلیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کرلیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا، بلکہ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبودوں یعنی بتوں کو اپنے خیال میں اللہ کے حضور سفارشی بنا رکھا ہے، آپ ان سے دریافت کیجئے کہ کیا وہ سفارش کریں گے ؟ گو وہ سفارش وغیرہ کا کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ تم ان کی بندگی کرتے ہو اور نہ اس کے علاوہ کوئی بات سمجھتے ہوں، نہیں، آپ کہہ دیجئے کہ تمام سفارشوں کا مختار اللہ ہی ہے سفارش اسی کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کرسکتا زمین و آسمانوں میں اسی کی حکومت ہے پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے جب ان کے معبودوں کو چھوڑ کر اللہ وحدہٗ لاشریک لہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یعنی ان کو انقباض ہونے لگتا ہے اور جب اس کو چھوڑ کر ان کے معبودوں یعنی بتوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ فوراً ہی خوش ہوجاتے ہیں آپ (اس طرح) دعا کیجئے کہ اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے اللّٰھُمَّ یا اللہ کھے معنی میں ہے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس دینی معاملہ میں فیصلہ کرسکتا ہے جس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں (یعنی) جس بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں آپ میری اس میں حق کی طرف رہنمائی فرمائیں اگر ظلم کرنے والوں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو، تو بھی بدترین سزا کے عوض قیامت کے دن یہ سب کچھ دیدیں اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وہ ظاہر ہوگا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا اور ان پر ان کے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور جس عذاب کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کردیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ انعام تو مجھے اس لئے دیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ میں اس کا مستحق ہوں بلکہ یہ یعنی اس کا مقولہ فتنہ ہے، جس کے ذریعہ بندے کو آزمائش میں ڈالا گیا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ یہ عطا، ڈھیل ہے اور آزمائش ہے ان سے پہلے لوگ بھی یہی بات کہہ چکے ہیں جیسا کہ قارون اور اس کی قوم جو کہ اس بات سے راضی تھی سو ان کی کاروائی ان کے کچھ کام نہ آئی سو ان کی بد اعمالیاں یعنی ان کی سزا ان پر آپڑی اور ان پر بھی جو ان میں سے یعنی قریش میں سے ظالم ہیں ان کی بد اعمالیوں کی سزا پڑنے والی ہے اور وہ ہم کو عاجز کردینے والے نہیں ہیں یعنی ہمارے عذاب سے بچ نکلنے والے نہیں چناچہ سات سال تک قحط میں مبتلا کئے گئے، پھر ان کو فراخی عطا کی گئی، کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کی چاہتے ہیں بطور امتحان روزی کشادہ کردیتے ہیں ؟ اور جس کی چاہتے ہیں ابتلاءً روزی تنگ کردیتے ہیں ایمان لانے والوں کیلئے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : یتوفّٰی واحد مذکر غائب مضارع معروف (تَفَعُّل) وہ روح قبض کرتا ہے۔
قولہ : انفُس، جمعُ نفسٍ روحیں، جانیں، یتوَفَّی الانفُسَ ای یقبض الارواح عند حضور آجالِھَا، اللہ مبتداء یتوفی الانفس جملہ ہو کر خبر حین موتھا یَتَوفّٰی سے متعلق ہے، واؤ حرف عطف، الَّتِی لم تمت معطوف انفُس پر فی منَامھَا یتَوفّٰی کا ظرف ہے، مطلب یہ ہے کہ جن نفوس کئ موت کا وقت نہیں آیا ہے انکو سونے کے وقت قبض کرلیتا ہے، اور اسی معنی میں ہے اللہ تعالیٰ کا قول وَھُوَ الذی یتوفّٰکم باللیل
موت اور نیند میں قبض روح اور دونوں میں فرق : اللہ یتَوَفَّی الانفُسَ ، توفّٰی کے لفظی معنی لینے اور قبض کرنے کے ہیں، اس آیت کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ جانداروں کی روحیں ہرحال اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے زیر تصرف اور زیر حکم ہیں، وہ جب چاہے قبض کرسکتا ہے، اس تصرف خداوندی کا ایک مظاہرہ تو ہر جاندار روزانہ دیکھتا ہے کہ نیند کے وقت اس کی روح ایک حیثیت سے قبض ہوجاتی ہے، پھر بیداری کے وقت واپس کردی جاتی ہے، اور آخر کار ایک وقت ایسا آئے گا کہ بالکل قبض ہوجائے گی، قیامت سے پہلے واپس نہ ملے گی۔
صاحب مظہری کی تحقیق : فرماتے ہیں قبض روح کا مطلب ہے، روح کا بدن سے ربط وتعلق ختم کردینا، کبھی یہ تعلق ظاہراً و باطناً دونوں طریقہ پر ختم کردیا جاتا ہے، اس کا نام موت ہے، اور کبھی صرف ظاہراً منقطع کیا جاتا ہے باطناً باقی رہتا ہے، اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ صرف حس اور حرکت ارادیہ جو زندگی کی ظاہری علامت ہیں وہ منقطع کردی جاتی ہے اور باطنی ربط باقی رہتا ہے، جس سے وہ سانس لیتا ہے اور زندہ رہتا ہے۔
آیت میں لفظ تَوَفّٰی بمعنی قبض بطور عموم کے دونوں معنی کو شامل ہے، موت اور نیند دونوں میں قبض روح کا یہ فرق جو اوپر بیان کیا گیا ہے، حضرت علی ؓ کے ایک قول سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، آپ نے فرمایا : سونے کے وقت روح بدن سے نکل جاتی ہے مگر ایک شعاع کے ذریعہ روح کا ربط وتعلق بدن کے ساتھ باقی رہتا ہے جس سے وہ زندہ رہتا ہے، اور اسی رابطہ شعاعی سے وہ خواب دیکھتا ہے، پھر یہ خواب اگر روح کے عالم مثال کی طرف توجہ کے وقت دیکھتا ہے تو وہ سچا خواب ہوتا ہے، اور اگر بدن کی طرف واپسی کے وقت دیکھتا ہے تو اس میں شیطانی تصرفات شامل ہو جوتے ہیں ایسے خواب رؤیائے صادقہ نہیں ہوتے۔
مسند ہندو شاہ ولی اللہ (رح) تعالیٰ کی تحقیق : شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں، نیند میں ہر روز جان کھینچتا ہے، اور پھر (واپس) بھیجتا ہے یہ ہی شان ہے آخرت کا، معلوم ہوا نیند میں بھی جان کھینچتی ہے، جیسے موت میں، اگر نیند میں کھینچ کر رہ گئی وہی موت ہے مگر یہ جان وہ ہے جس کو ہوش کہتے ہیں اور ایک جان وہ ہے جس سے سانس چلتی ہے اور نیض حرکت کرتی ہے، اور کھانا ہضم ہعتا ہے، یہ دوسری جان موت سے پہلے نہیں کھینچتی۔ (موضع القرآن ملخصًا، ترجمہ شیخ الھند (رح) )
حضرت علی ؓ سے بغوی نے نقل کیا ہے کہ نیند میں روح نکل جاتی ہے، مگر اس کا مخصوص تعلق بدن سے بذریعہ شعاع باقی رہتا ہے، جس سے حیات باطل نہیں ہوتی (جیسے آفتاب لاکھوں میلوں سے بذریعہ شعاعوں کے زمین کو گرم رکھتا ہے) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند میں بھی وہی چیز نکلتی ہے جو موت کے وقت نکلتی ہے، لیکن تعلق کا انقطاع ویسا نہیں ہوتا جیسا موت میں ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ (ترجمہ شیخ الھند (رح) )
زجاج نے کہا ہے کہ ہر انسان کے دو نفس ہوتے ہیں ایک نفس تمییز یہ وہ ہے کہ جو نیند کے وقت بدن سے جدا ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے فہم و ادراک معطل ہوجاتے ہیں، اور دوسرا نفس حیات ہے جب یہ نفس زائل ہوجاتا ہے تو حیات زائل ہوجاتی ہے اور نفس (سانس) منقطع ہوجاتا ہے، بخلاف نائم کے کہ اس کا سانس جاری رہتا ہے، قشیری نے کہا ہے کہ اس میں بعد ہے، اس لئے کہ آیت سے جو مفہوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں نفس مقبوض شئ واحد ہے، اسی وجہ سے فرمایا فیمسک التی قضیٰ علیھا الموت ویرسل الاخریٰ یعنی جس کی موت کا وقت آجاتا ہے اس کو روک لیتا ہے ورنہ چھوڑ دیتا ہے، پہلی صورت کا نام موت ہے اور دوسری صورت کا نام نیند ہے۔ (فتح القدیر شوکانی ملخصاً )
عقلاء کا اس میں اختلاف ہے کہ نفس اور روح دونوں ایک ہی شئ ہیں یا الگ الگ ہیں، اس مسئلہ میں بحث طویل ہے جس کیلئے کتب طب کی طرف رجوع کرنا چاہیے اس لئے کہ یہ موضوع فن طب ہی کا ہے، روح کے سلسلہ میں جتنے بھی نظریات قائم ہوئے ہیں وہ سب ظن وتخمین پر مبنی ہیں، حقیقت حال اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں سب سے زیادہ صحیح بات وہی ہے جو قرآن کریم نے قل الروح من امر ربی کہہ کر واضح کردی ہے۔
قولہ : والمرسلۃ نفس التمییز الخ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نفس دو قسم کا ہے نفس تمییز اور نفس حیات، نفس تمییز کے بغیر نفس حیات باقی رہ سکتا ہے مگر نفس تمییز نفس حیات کے بغیر نہیں رہ سکتا، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ابن آدم میں ایک نفس ہے اور روح ہے، عقل وتمیز کا تعلق نفس کے ساتھ ہے اور حرکت اور سانس کا تعلق روح کے ساتھ ہے، جب بندہ سو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نفس کو قبض فرما لیتے ہیں، روح کو قبض نہیں فرماتے، اسی قسم کا قول حضرت علی ؓ سے بھی منقول ہے جیسا کہ سابق میں گذر چکا ہے۔
تحقیقی بات : صحیح بات یہ ہے کہ انسان میں روح حقیقت میں واحد ہے، مگر اپنے اوصاف کے اعتبار سے متعدد ہے۔ (حاشیہ جلالین) ۔ قولہ : اولو کانُوْا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمزہ استفہام انکاری ہے اور محذوف پر داخل ہے تقدیر یہ ہے أیشفعُونَ جیسا کہ مفسر نے ظاہر کردیا ہے واؤ حالیہ ہے، اور لَوْ شرطیہ ہے جملہ حال ہونے کی وجہ سے موضع نصب میں ہے، لَوْ کا جواب محذوف ہے تقدیر یہ ہے ای واِن کانوا بھٰذہ الصفۃ تتخذونَھُم من دون اللہ شفعاء۔
قولہ : قل للہ الشفاعۃ جمیعًا مفسر علام نے اَی ھُوَ مختص بھا فلا یشفعُ احدٌ الا باذنہٖ کا اضافہ کرکے ایک سوال مقدر کا جواب دیا ہے۔
سوال : للہ الشفاعۃُ جمیعاً سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کو سفارش کا نہ حق ہوگا اور نہ کوئی کسی کی سفارش کرے گا، حالانکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علماء شہداء وغیرہ سفارش کریں گے۔
جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنی بھی اقسام کی سفارشیں ہوں گی وہ اللہ ہی کی اجازت سے ہوں گی لہٰذا یہ سفارشیں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا لاَ یَشْفَعُوْنَ الاَّ لمنِ ارتضٰی دوسری جگہ فرمایا مَن ذَا الَّذِی یشفَعُ عندہٗ الاَّ باذنہٖ ۔
قولہ : نعمۃ، انعامًا نعمۃ کی تفسیر انعاماً سے کرنے کا مقصد انما اوتیتُہٗ کے مرجع کو درست کرنا ہے تاکہ ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہوجائے، یہ اس صورت میں ہوگا کہ ما کو کافہ مانا جائے، اور ما کو موصولہ مانا جائے تو اس تاویل کی ضرورت نہ ہوگی۔
قولہ : ای القولۃ اس کے اضافہ کا مقصد ھِیَ ضمیر اور اس کے مرجع قول کے درمیان مطابقت قائم کرنا ہے اسی وجہ سے قول سے مراد مقولہ لیا ہے، اور مقولہ سے مراد اس کا یہ مقولہ ہے اِنّما اوتیتُہٗ علی علم اور بعض حضرات نے ھِیَ کا مرجع نعمۃ کو قرار دیا ہے ای بل النعمۃ فتنۃ اس صورت میں تاویل کی ضرورت نہ ہوگی۔
قولہ : وبدا لھم سیات ما کسبوا ای جزاؤھا اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ سیئات کا مضاف محذوف ہے۔
تفسیر و تشریح
اللہ یتوفی الانفس (الآیۃ) اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ایک قدرت بالغہ اور صنعت عجیبہ کا تذکرہ فرمایا ہے، جس کا مشاہدہ انسان روزانہ کرتا ہے، اور وہ یہ کہ جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی روح، اللہ کے حکم سے گویا نکل جاتی ہے اس لئے کہ اس کے احساس و ادراک کی قوت ختم ہوجاتی ہے اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو وہ روح اس میں دوبارہ لوٹا دی جاتی ہے، جس سے اسکے حواس بحال ہوجاتے ہیں، البتہ جس کی زندگی کے دن پورے ہوچکے ہوتے ہیں ان کی روح واپس نہیں آتی اور وہ موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے، اس کو بعض مفسرین کبریٰ اور وفات صغریٰ سے بھی تعبیر کیا ہے۔
اس آیت میں بعث بعد الموت کے امکانی وقوع کی طرف اشارہ ہے یعنی روح کا قبض و ارسال، وفات وا حیا، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور قیامت کے دن وہ مردوں کو بھی یقیناً زندہ کرے گا، اگلی آیت میں کفار کے اس عقیدہ کا رد ہے کہ یہ ہمارے دیوی دیوتا جن کی ہم پوجا پاٹ کرتے ہیں یہ اللہ کے حضور ہماری سفارش کریں گے، اور ہمیں جنت میں اعلیٰ درجوں پر فائز کرائیں گے، رد کا خلاصہ یہ ہے کہ سفارش کا اختیار تو کجا انہیں تو سفارش کے معنی و مفہوم کا بھی پتہ نہیں کیونکہ وہ تو اینٹ پتھر ہیں یا بیخبر محض ہیں۔
واذا ذکر اللہ وحدہ اشمأزت (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہ سہیم تو ان کو یہ بات ناگوار معلوم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے قلوب منقبض ہوجاتے ہیں البتہ اگر یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں یا یہ کہ آخر وہ بھی اللہ کے نیک بندے اور اس کے ولی ہیں وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں، وہ بھی مشکل کشائی حاجت روائی کرسکتے ہیں تو پھر یہ مشرکین اس بات سے بڑے خوش ہوجاتے ہیں، اہل بدعت و خرافات کا بھی آج یہی حال ہے، جب ان سے کہا جاتا ہے یا اللہ المدد کہو، کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں تو چنگاری زیر پا ہوجاتے ہیں، یہ جملہ ان کے لئے سخت ناگوار معلوم ہوتا ہے، لیکن جب یا علی المدد، یا رسول المدد یا یا الغوث المدد کہا جائے تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل جاتی ہیں، باقی آیات کی تفسیر تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان تحریر کردی گئی ہے دیکھ لیا جائے۔
Ayahs 39:53–63آیت نمبر 53 تا 63
ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ قرآن ہے اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو (یعنی) اس کی آمد سے پہلے تم کو اس کے آنے کے وقت کی خبر بھی نہ ہو، لہٰذا توبہ کی طرف سبقت کرو قبل اس کے کہ کبھی کوئی شخص کہے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کی جناب یعنی طاعت میں کی یا حسرتی بمعنی یا ندامنتی ہے میں تو اس کے دین اور اس کی کتاب کا مذاق اڑانے والوں ہی میں رہا اِنْ مخففہ عن الثقیلہ ہے یا کوئی یوں کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ (دنیا میں) مجھ کو طاعت کی ہدایت دیتا تو میں ہدایت پاتا تو میں بھی اس کے عذاب سے بچنے والوں میں سے ہوتا یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے لگے کہ کاش میری (دنیا) میں واپسی ہوجاتی تو میں بھی نیک لوگوں یعنی مومنین میں سے ہوجاتا یعنی ایمان والوں میں سے ہوجاتا، تو اس کو اللہ کی جانب سے کہا جائے گا، ہاں (ہاں) بیشک تیرے پاس میری قرآنی آیتیں پہنچ چکی تھیں، اور وہ ہدایت کا ذریعہ ہیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور ان پر ایمان لانے سے تو نے تکبر کیا، اور تو کافروں ہی میں سے رہا، اور جن لوگوں نے اللہ پر اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرکے جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا ایمان سے تکبر کرنے والوں کو ٹھکانہ جہنم نہیں ہے ؟ ہاں کیوں نہیں ضرور ہے، اور جن لوگوں نے شرک سے اجتناب کیا تو اللہ تعالیٰ ان کو مقام کامیابی میں (دخول) کے سبب جہنم سے بچالے گا، اور وہ (مقام) جنت ہے (اور اگر مفازۃ کو مصدر میمی اور ” ب “ کو سببیہ مانا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا، اللہ تعالیٰ ان کو کا میاب ہونے کے سبب جہنم سے بچالے گا) بایں طوفر کہ ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا، انہیں کوئی تکلیف چھو بھی نہ سکے گی، اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہوں گے اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے (یعنی اس میں جس طرح چاہے تصرف کرنے والا ہے) آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا مالک ہے یعنی زمین و آسمانوں کے خزانوں کا مالک ہے وہ پانی اور نباتات وغیرہ ہیں جس نے بھی اللہ کی آیتوں قرآن کا انکار کیا وہی خسارہ میں ہے، اس جملہ (یعنی والذین کفروا الخ) کا تعلق (عطف) اللہ کے قول وَیُنَجِّی الَّذین اتقوا الخ سے ہے اور ان دونوں کے درمیان (اللہ خالق کل شئ الخ) جملہ معترضہ ہے (نوٹ) یہ جملہ اسمیہ کا عطف جملہ فعلیہ پر ہے، جو کہ جائز ہے۔ (صاوی)
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : یا عبَادی، بحد الیاء وثبوتھا مفتوحَۃً ، یا عبادی میں دو قراءتیں ہیں حذف الیاء اور کسرۂ دال کے ساتھ ای یا عباد اور ثبوت یاء مع فتح الیاء ای یا عِبَادِی۔
قولہ : الذین اسرفوا علیٰ انفسھم، اسرفوا، اسرافٌ سے ماضی جمع مذکر غائب، انہوں نے زیادتی کی، حد سے تجاوز کیا، یعنی اپنے نفس پر معصیت و خیانت کرکے زیادتی کی، یہاں اسراف سے اسراف فی المعصیۃ مراد ہے، اسراف کے معنی مطلقاً زیادتی کرنے کے ہیں، اسراف مقید مثلاً اسرَفَ فی المالِ میں استعمال مجازاً ہوگا اور بعض حضرات نے اس کا عکس کہا ہے مگر اول راجع ہے۔ (روح المعانی)
سوال : اسراف کا صلہ علیٰ مستعمل نہیں ہے۔ جواب : اسراف چونکہ جنایت کے معنی کو متضمن ہے، اس لئے اس کا صلہ علیٰ لانا درست ہے۔ قولہ : لا تقنطوا یہ زیادہ تر (س، ض، ن) سے آتا ہے (ک) سے شاذ ہے۔
قولہ : ھُو القرآنُ یہ احسن کی تفسیر ہے، یعنی کتب سماویہ میں قرآن سب سے احسن ہے۔
قولہ : ان تقول نفسٌ أن اور جو اس کے ماتحت ہے مفعول لاجلہٖ ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے، زمخشری نے اس کی تقدیر کراھۃ ان تقول مانی ہے، اور ابو البقاء نے انذرنا کُم مخافَۃَ ان تقول اور مفسر علام نے بادروا فعل مقدر کا معمول قرار دیا ہے، جیسا کہ ظاہر ہے۔ قولہ : بالطاعۃِ ایک نسخہ ہے بالطافِہٖ ہے۔
قولہ : بنسبَۃِ الشریک والولد الیہ یہ عبارت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں مطلقاً کذب مراد نہیں ہے بلکہ وہ کذب مراد ہے جس سے شرک لازم آتا ہو، اس لئے کہ آئندہ جو وعید بیان کی گئی ہے وہ مطلقاً کذب کی نہیں ہے بلکہ اس کذب کی ہے جس سے کفر لازم آتا ہے۔ قولہ : مقالیدۃ مقلاد یا مقلید کی جمع ہے، بمعنی کنجی یہ ہر شئ میں شدت تصرف و تمکن سے کنایہ ہے۔
تفسیر و تشریح
شان نزول : قل یعبادی۔۔۔ انفسھم ابن جریر و ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے قتل ناحق کئے اور بہت کئے، اور زنا کا ارتکاب کیا اور بہت کیا، ان لوگوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ جس دین کی دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا، لیکن فکریہ ہے کہ جب ہم نے اتنے بڑے بڑے گناہ کر رکھے ہیں، اب اگر ہم مسلمان ہو بھی گئے تو کیا ہماری توبہ قبول ہو سکے گی، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ (روح المعانی، معارف)
ابن جریر نے عطاء بن یسار سے روایت کیا کہ مذکورہ تینوں آیتیں مدینہ میں وحشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (روح المعانی)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی وسعت مغفرت کا بیان ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونے کا مطلب ہے ایمان لانے سے پہلے انسان نے کتنے بھی گناہ کئے ہوں اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ میں تو بہت گنہگار ہوں اللہ تعالیٰ مجھے کیونکہ معاف کرے گا ؟ بلکہ اگر سچے دل سے ایمان قبول کرلے اور سچی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے، شان نزول کی روایت سے بھی اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے، کچھ کافر اور مشرک ایسے تھے کہ جنہوں نے کثرت سے قتل و زنا کا ارتکاب کیا تھا، یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی دعوت تو بالکل صحیح ہے، لیکن ہم لوگ بہت زیادہ خطا کار ہیں، اگر ہم ایمان لے آئیں تو کیا ہمارے وہ سب گناہ معاف ہوجائیں گے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی، (صحیح بخاری، تفسیر سورة زمر، کمامر)
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر بھروسہ کرکے خوب گناہ کئے جائیں، اس کے احکام و فرائض کی مطلق پر واہ نہ کی جائے، اور اس کے ضابطوں کو بےدردی سے پامال کیا جائے، اس طرح اس کے غضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت غیر دانشمندی اور خام خیالی ہے، یہ تخم حنظل بوکر ثمرات و فواکہہ کی امید رکھنے کے مترادف ہے، ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں وہ غفور و رحیم ہے، وہاں وہ نافرمانوں کیلئے عزیز ذوانتقام بھی ہے، چناچہ قرآن کریم میں متعدد جگہ ان دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان فرمایا ہے۔
واتبعوا احسن ما انزل (الآیۃ) احسن ما انزل سے مراد قرآن ہے اور پورا قرآن احسن ہے، اور قرآن کو احسن ما اُنزِلَ اس لئے کہا گیا ہے، کہ جتنی کتابیں توریت، انجیل، زبور اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں ان سب میں احسن و اکمل قرآن ہے۔ (قرطبی)
بلیٰ قد جاء تکَ اٰیاتی فکذبتَ بھَا اس آیت میں کفار کی اس بات کا جواب ہے کہ اللہ اگر ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی متقی ہوتے، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اختیاری ہدایت کے جتنے طریقہ ہوسکتے تھے وہ سب مہیا فرما دئیے کتابیں بھیجیں، رسول بھیجے، ان کو معجزے عطا کئے، ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ ہمیں ہدایت نہیں کی، ہاں ہدایت کے تمام تر اسباب مہیا کرنے کے بعد، نیکی اور اطاعت پر اللہ نے کسی کو مجبور نہیں کیا، بلکہ بندوں کو یہ اختیار دیدیا کہ وہ جس راستہ یعنی حق یا باطل کو اختیار کرنا چاہے کرے یہی بندے کا امتحان ہے۔
لہ مقالید السموت والارض، مقالید مقلاد یا مقلید کی جمع ہے، اس کے معنی کنجی، چابی کے ہیں، بعض حضرات نے کہا ہے یہ دراصل فارسی لفظ کلید کا معرب ہے، اس لئے کہ فارسی میں کنجی کو، کلید کہتے ہیں، کنجیوں کا کسی کے ہاتھ میں ہونا یہ اس کے مالک و متصرف ہونے کی علامت ہے، اور بعض روایات میں کلمہ سوم کو زمین و آسمانوں کی کنجی کہا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس کلمہ کو صبح و شام پڑھتا رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کو زمین و آسمان کے خزانوں کی نعمتیں عطا فرمائیں گے۔
Ayahs 39:64–70آیت نمبر 64 تا 70
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے، اے جاہلو ! پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کو کہتے ہو غَیْرَ ، تامُرونی کے معمول اَعْبُدُ کے ذریعہ منصوب ہے اَنْ کی تقدیر کے ساتھ ایک نون اور دو نونوں اور ادغام اور بدون ادغام کے یقیناً تیری طرف اور ان نبیوں کی طرف جو تجھ سے پہلے گزر چکے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ واللہ، اگر بالفرض اے محمد ﷺ تو (بھی) شرک کرے گا تو بلاشبہ تیرا عمل (بھی) ضائع ہوجائے گا، اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا بلکہ تو اللہ وحدہٗ کی عبادت کر اور تیرے اوپر اس کے انعام کا شکر کرنے والوں میں سے رہ اور ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننی چاہیے تھی، اس کے ساتھ شرک کرکے نہ اس کے حق کو پہچانا جیسا کہ اس کی معرفت کا حق تھا اور نہ اس کی تعظیم کی جیسی کہ کرنی چاہیے تھے، ساری زمین قیامت کے دن اسکی مٹھی میں ہوگی (جمیعًا) حال ہے یعنی ساتوں زمینیں (اس کی مٹھی میں ہوں گی) یعنی اس کی ملک و تصرف میں ہوں گی اور تمام آسمان لپٹے ہوئے اس کے داہنے ہاتھ (یعنی) اس کی قدرت میں ہوں گے وہ پاک اور برتر ہے اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک ٹھہرائیں اور صور پھونک دیا جائے گا، پہلا صور، لہٰذا زمین و آسمانوں میں جو بھی ہے فوت ہوجائے گا جس کو وہ چاہے (مثلاً ) حور اور بچے وغیرہ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو ایک دم وہ تمام مردہ مخلوق اٹھ کھڑی ہوگی اور انتظار کرنے لگے گی کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہے ؟ اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی، جب وہ مقدمات کے فیصلے کے لئے جلوہ افروز ہوگا، کتاب یعنی نامہ عمل حساب کے لئے (سامنے) رکھ دیا جائے گا، اور انبیاء اور شہداء کو لایا جائے گا یعنی محمد ﷺ اور ان کی امت کو لایا جائے گا، اور یہ لوگ رسولوں کی پیغام رسانی کی گواہی دیں گے اور لوگوں کے درمیان عدل (و انصاف) کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جو کچھ لوگ کرتے ہیں وہ اس سے بخوبی واقف ہے لہٰذا اس کو گواہ کی ضرورت نہ ہوگی۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : افغیر اللہ تأمُرُونی یہ اصل میں أتامُرُوننی ان اعبد غیُر اللہِ ، اعبدُ کے مفعول غیر اللہ کو تأمُروننی پر جو کہ اعبد کا عامل ہے مقدم کردیا، بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ صورت ضعیف ہے، (مگر ضعیف کہنا درست نہیں ہے) اس لئے کہ أن لفظوں میں نہیں ہے لہٰذا اس کا عمل باقی نہیں رہے گا۔
دوسری صورت یہ کہ غیر اللہ کو تامرونّی کے ذریعہ منصوب مانا جائے، اور اعبُدَ کو اس سے بدل مانا جائے، تقدیر عبارت یہ ہوگی قل : افتأمُرُونی بعبادۃ غیر اللہ یہ ترکیب بدل الاشتمال کے قبیل سے ہوگی۔
تیسری صورت غَیرَ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہو اَی افَتَلْزَمُونِی غَیْرَ اللہِ اس صورت میں اس کا مابعد اس کے لئے مفسر ہوگا، اس کے علاوہ بھی ترکیبیں ہوسکتی ہیں (اعراب القرآن دیکھیں)
قولہ : تامُرُونی صیغہ جمع مذکر حاضر، تم مجھ کو حکم دیتے ہو، اس میں (ی) ضمیر واحد متکلم ہے اور نون ادغام کی وجہ سے مشدد ہے۔
قولہ : ولقد اوحِیَ الیکَ لام جواب قسم کے لئے ہے ای واللہ لقَدْ ، قَد حرف تحقیق ہے، اوحِیَ فعل ماضی مجہول ہے اور الیک قائم مقام نائب فاعل ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ نائب فاعل سیاق وسباق کے قرینہ کی وجہ سے محذوف ہے، ای اُوحِیَ اِلیکَ التوحید۔
قولہ : فرضًا یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہوتے ہیں، ان سے شرک کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، تو پھر لإن اشرکت کیوں کہا گیا ؟
جواب : فرض محال کے طور پر کہا گیا ہے بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ خطاب اگرچہ آپ ﷺ کو ہے مگر مراد امت ہے مگر اب یہ سوال پیدا ہوگا کہ اگر مراد امت ہے لإن اشرکت کے بجائے لان اشرکتُم کہنا چاہیے تھا، اس کا جواب یہ ہے، معنی یہ ہیں اوحِیَ الی کُل واحدٍ منھم لان اشرکت الخ جیسا کہ عرب میں بولا جاتا ہے، کسانا الامیرُ حلَّۃً ای کساکلَّ واحدٍ منا حُلَّۃً ۔
تفسیر و تشریح
قل افغیر اللہ تامرونی (الآیۃ) یہ کفار کی اس دعوت کو جواب ہے جو آپ ﷺ کو دیا کرتے تھے کہ اپنے آبائی دین (بت پرستی) کو اختیار کرلیں، اور بتوں کی مذمت چھوڑ دیں، اس لئے کہ اگر ہماری دیوی دیوتاؤں کو غصہ آگیا تو ہلاک کر ڈالیں گے یا پاگل بنادیں گے، لإن اشرکت میں اگرچہ خطاب آپ ﷺ کو ہے مگر مراد امت ہے، اس لئے کہ آپ ﷺ تو شرک سے پاک تھے ہر نبی معصیت سے پاک ہوتا ہے اور آئندہ کے لئے محفوظ بھی، کیونکہ اللہ کی حفاظت اور عصمت میں ہوتا ہے، ان سے ارتکاب و کبائر کا کوئی امکان نہیں ہوتا مگر چونکہ امت کو سمجھانا مقصود ہے اس لئے آپ کو خطاب فرمایا کہ امت کو یہ تأثر ملے کہ جب شرک سے نبی جیسی برگزیدہ ہستی کے اعمال سلب اور حبط ہوسکتے ہیں تو ماوشما کس شمار و قطار میں ہیں بَلِ اللہ فاعبد، ایاک نعبد کی طرف یہاں بھی اللہ مفعول کو مقدم کرکے حصر کی طرف اشارہ کردیا یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور شرک کے ذریعہ اعمال کے حبط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شرک ہی پر موت آئی ہو اور مرنے سے پہلے شرک سے توبہ کرلی تو یہ حکم نہیں ہے۔
وما قدروا اللہ حق قدرہٖ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت اور حقیقی عظمت جو کہ اس کی شایان شان ہو وہ بندے کیلئے ممکن نہیں اور نہ بندہ اس کا مکلف، البتہ جس قدر معرفت و تعظیم کا مکلف اور مامور ہے، کفار و مشرکین نے وہ بھی نہیں کی، اس لئے کہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ جو دعوت توحید ان کے پاس بھیجی تھی اس کو نہیں مانا، عبادت کو اس کے لئے خالص نہ کرتے ہوئے غیر اللہ کو اس کی ذات وصفات میں شریک کرلیا، مشرکین نے اس کی عظمت و جلال، بزرگی و برتری کو اتنا نہ سمجھا جتنا ایک بندے کو سمجھنا چاہیے تھا، اس کی شان رفیع اور مرتبہ بلند کا اجمالی تصور بھی رکھنے والا، کیا عاجز و محتاج مخلوق، حتی کہ بےجان پتھر اور دھات کی عاجز و مجبور مورتیوں کو اس کا شریک وسہیم تجویز کرسکتا ہے ؟ حاشاو کلا ہرگز نہیں کیا اس سے زیادہ اس مالک کون و مکان خالق زمین و زماں کی ناقدری اور ناحق شناسی ہوسکتی ہے ؟ اگلی آیت میں اس کی بعض شئون عظمت و جلال کا بیان ہے۔
والارض۔۔۔۔ القیامۃ (الآیۃ) القبضۃُ ، ما قُبِضَ علیہ بجمیع الکف علیہ یعنی اس کی عظمت شان کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن کل زمین اس کی مٹھی اور سارے آسمان کاغذ کے مانند لپٹے ہوئے ایک ہاتھ میں ہوں گے۔
کلمات متشابہات : مطویات بیمینہٖ ، یمینٌ وغیرہ الفاظ متشابہات میں سے ہیں جن پر بلا کیف ایمان رکھنا واجب ہے، بعض احادیث میں ہے وکلتا یدیہ یمینٌ کو اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں، اس سے تجسم، تحیز اور جہت وغیرہ کی نفی ہوتی ہے۔ (فوائد عثمانی)
کلمات متشابہات کے سلسلہ میں اہل حق کا مسلک : کلامی یعنی عقائد کے باب میں اہل حق کی تین جماعتیں ہیں، اشاعرہ، ماتریدیہ، سلفیہ (یا حنابلہ) ۔
(1) اشاعرہ : وہ حضرات ہیں جو شیخ ابو الحسن اشعری (رح) تعالیٰ (260/334 ھ) کی پیروی کرتے ہیں، امام ابو الحسن اشعری چونکہ شافعی تھی، اسلئے یہ مکتب فکر شوافع میں مقبول ہوا، یعنی حضرات شوافع عام طور پر کلامی مسائل میں اشعری ہوتے ہیں
(2) ماتریدیہ : وہ حضرات ہیں جو شیخ ابو منصور ما تریدی (رح) تعالیٰ (متوفی 333 ھ) کی پیروی کرتے ہیں، امام تریدی چونکہ حنفی تھے اس لئے یہ مکتب فکر احناف میں مقبول ہوا، احناف عام طور پر کلامی مسائل میں ما تریدی ہوتے ہیں، اشاعرہ اور ما تریدیہ کے درمیان بارہ مسائل میں اختلاف ہے جو فروعی (غیر اہم) مسائل ہیں، بنیادی اختلاف کسی مسئلہ میں نہیں ہے، ان مختلف فیہا بارہ مسائل کو علامہ احمد بن سلیمان معروف بہ ابن کمال پاشا (رح) تعالیٰ (متوفی 940 ھ) نے ایک رسالہ میں جمع کردیا ہے، یہ رسالہ مطبوعہ ہے، مگر عام طور پر علماء اس سے واقف نہیں ہیں، اس رسالہ کو حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب مدظلہ پالنپوری استاذ حدیث دار العلوم دیوبند نے اپنی قابل فخر اور مایۂ ناز تصنیف رحمۃ اللہ الواسعہ کے صفحہ 48 پر علماء کے استفادہ کیلئے نقل کردیا ہے۔
(3) سلفیہ : یہ وہ حضرات ہیں جو صفات خداوندی کی تو ویل کے عدم جواز میں حضرت امام احمد بن حنبل (رح) تعالیٰ (164/241) کے مسلک پر ہیں، چونکہ صفات کے تعلق سے یہ ذوق اسلاف کرام کا تھا، اس لئے یہ حضرات سلفی کہلائے، اس جماعت کو کتابوں میں حنابلہ بھی لکھا گیا ہے، مگر چونکہ فقہی جنسیت سے اشتباہ ہوتا تھا، اس لئے رفتہ رفتہ یہ اصطلاح متروک ہوگئی، مسئلہ خلق قرآن میں یہی نام سلفیہ کے لئے استعمال ہوا ہے، نیز اس مسلک کو مسلک محدثین بھی کہا جاتا ہے، اس لئے کہ امام مالک، سفیان ثوری وغیرہ حضرات محدثین سے صفات متشابہات کے بارے میں یہی نقطہ نظر مروی ہے، اس زمانہ میں جو سلفیت کو بمعنی ظاہریت یعنی عدم تقلید ائمہ استعمال کیا جاتا ہے وہ رلبیس ہے اور لفظ کا غیر معروف معنی میں استعمال ہے۔
سلفیوں کا اشاعرہ اور ماتریدیہ سے اختلاف : سلفیوں کا اشاعرہ اور ما تریدیہ سے یہ اختلاف صرف ایک معمولی بات میں ہے، اور وہ یہ ہے کہ صفات متشابہات مثلاً استواء علی العرش، یدٌ، وجہٌ وغیرہ کی تاویل جائز ہے یا نہیں ؟ سلفیوں کے یہاں تاویل ناجائز ہے اور باقی دونوں مکاتب فکر کے نزدیک تاویل جائز ہے، چناچہ قرآن کریم کو جو اللہ کی صفت کلام ہے مطقاً بلا تاویل قدیم کہتے ہیں، اور اشاعرہ ما تریدیہ کلام نفسی کی تاویل کرتے ہیں اور اس کو قدیم کہتے ہیں، امام بخاری (رح) تعالیٰ نے مسلک محدثین کے خلاف ” لفظی بالقرآن حادث “ کہہ دیا تھا، تو حنابلہ نے جن کو سرخیل امام ذہلی تھے ایک طوفان کھڑا کردیا تھا۔ ( (رح) الواسعہ) ۔
غرضیکہ علم کلام میں یہی تین جماعتیں برحق ہیں دیگر تمام فرق اسلامیہ جیسے معتزلہ، جہمیہ، کر امیہ وغیرہ گمراہ فرقے ہیں، اور یہی فرقے اہل سنت والجماعت کے مد مقابل ہیں۔ (رحمۃ اللہ الواسعہ)
ونفخ فی۔۔۔۔ فی الارض بعض کے نزدیک (نفخہ فرع کے بعد) یہ نفخہ ثانیہ یعنی نفخہ صعق ہے، جس سے سب کی موت واقع ہوجائے گی، بعض کے نزدیک صعق نفخہ اولیٰ ہی ہے، اسی سے اولاً سخت گھبراہٹ ہو کر بےہوشی طاری ہوجائے گی، پھر سب کی موت واقع ہوجائے گی، اور بعض حضرات نے ان نفخات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے (1) نفخۃ فناء (2) نفخۃ البعث (3) نفخۃ الصعق (4) نفخہ القیام لرب العالمین (ایسر التفاسیر) اور بعض کے نزدیک صرف دہ ہی نفخے ہیں، نفخہ موت اور نفخہ بعث۔
الا ماشاء اللہ یعنی نفخۃ فنا کے بعد اللہ جس کو چاہے گا اس کو موت نہیں آئے گی، جیسے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، میکائل علیہ السلام، اسرافیل (علیہ السلام) اور بعض نے ان میں نگران جنت رضوان اور نگران جہنم مالک، اور حملۃ العرش کو بھی شامل کیا ہے (اور بعض نے حور و غلمان وغیرہ کو بھی) ۔ (فتح القدیر)
وجآی بالنبیین والشھداء (الآیۃ) نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا ؟ یا یہ پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا تھا ؟ قبول کیا یا انکار کیا ؟ امت محمدیہ کو بطور گواہ لایا جائے گا، جو اس بات کی گواہی دے گی کہ تیرے پیغمبروں نے تیرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا، جیسا کہ تو نے ہمیں اپنے قرآن کے ذریعہ مطلع فرمایا تھا