36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 36:51–67

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے (جگا) اٹھایا ؟ یہ تو وہی ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو بدلا ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

اہل جنت اس روز عیش و نشاط کے مشغلے میں ہوں گے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

وہاں ان کے لئے میوے اور جو چاہیں گے (موجود ہوگا )

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا )

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور گنہگارو آج الگ ہوجاؤ

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ہم نے تم کو کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے تم میں بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی ہے

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

(سو) جو تم کفر کرتے رہے اس کے بدلے آج اس میں داخل ہوجاؤ

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں (اس کی) گواہی دیں گے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں پھر یہ راستے کو دوڑیں تو کہاں دیکھ سکیں گے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار کچھ فائدہ نہ دے گا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ بات کافروں سے کہی جائے گی بس وہ ایک زوردار آواز ہوگی جس سے یکایک سب جمع کرکے ہمارے پاس حاضر کردیئے جائیں گے، پھر اس دن کسی شخص پر ذرا (بھی) ظلم نہ ہوگا اور تم کو بس ان ہی کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے، اس دن درزخیوں کے عذاب سے بیخبر عیش ونشاط کے مشغلوں میں ہوں گے، ان چیزوں کی وجہ سے جن سے وہ لذت اندوز ہورہے ہوں گے، جیسا کہ دوشیزاؤں سے صحبت، نہ کہ ایسا کوئی کام کہ جس میں تعب ومشقت ہو، اس لئے کہ جنت تعب ومشقت کی جگہ نہیں ہے، شغُل غین کے سکون اور ضمہ کے ساتھ ہے، فَاکِھُوْنَ بمعنی ناعمونَ بمعنی خوش وخرم، یہ اِنّ کی دوسری خبر ہے اور پہلی خبر شُغْلٌ ہے، وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے ھُمْ مبتداء ہے ظلال ظُلّۃ یا ظِلٌّ کی جمع ہے (فی ظلال) اول خبر ہے یعنی ان پر دھوپ نہیں آئے گی اَرَائِکِ اَرِیْکَۃٌ کی جمع ہے، اس مسہری کو کہتے ہیں جو خیمے میں ہوتی ہے یا اس فرش کو کہتے ہیں جو خیمے میں ہوتا ہے مُتَّکِئُوْنَ دوسری خبر ہے اور (متکئونَ ) علی کا متعلق ہے، وہاں ان کے لئے میوے اور جو وہ فرمائش کریں گے موجود ہوگا، ان کو پروردگار مہربان کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا، سلام مبتداء ہے، اور قولاً خبر ہے، یعنی ان کو سلام علیکم فرمائے گا، اور اللہ تعالیٰ ان کے اختلاط کے وقت فرمائے گا اے مجرمو آج (مومنوں) سے الگ ہوجاؤ اور اے اولاد آدم کیا میں نے تم کو رسولوں کی زبانی تاکیدی حکم نہیں دیا تھا یہ کہ شیطان کی بندگی یعنی اس کی اطاعت نہ کرنا وہ تمہارا صریح دشمن ہے، یعنی اس کی عداوت کھلی ہوئی ہے اور صرف میری بندگی کرنا یعنی توحید کا اقرار کرنا اور میری اطاعت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے وہ (شیطان) تم میں سے ایک کثیر مخلوق کو گمراہ کرچکا ہے جبلاً جَبِیْلٌ کی جمع ہے جیسے قدمًا قدیمٌ کی جمع ہے، اور ایک قراءت میں ب کے ضمہ کے ساتھ ہے جُبُلاً سو کیا تم اس کی عداوت یا اس کے گمراہ کرنے کو یا اس عذاب کو جو ان پر نازل ہوا، نہیں سمجھتے تھے کہ ایمان لے آتے اور ان سے آخرت میں کہا جائے گا یہی ہے وہ جہنم جس جا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا آج اس میں اپنے کفر کی وجہ سے داخل ہوجاؤآج ہم ان کافروں کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے، ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ اے ہمارے پروردگار ہم مشرکین میں سے نہیں تھے، جو کچھ یہ (دنیا میں) کررہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کریں گے اور ان کے پیر وغیرہ گواہی دیں گے، اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو ملیا میٹ کردیں یعنی مٹا کر اندھا کردیں، پھر یہ راستہ کی طرف اپنی عادت کے مطابق دوڑیں تو اس وقت کیسے دیکھ سکیں گے ؟ یعنی نہیں دیکھ سکیں گے اور اگر ہم چاہیں تو ان کو جہاں ہیں وہیں بندروں خنزیروں یا پتھروں میں تبدیل کردیں اور ایک قراءت میں مکانا تِھِمْ ہے جو کہ مکانۃٌ کی جمع ہے معنی میں مکان کے، یعنی ان کے گھروں میں پھر یہ لوگ نہ آگے چل سکتے اور نہ پیچھے لوٹ سکتے یعنی یہ لوگ نہ جانے پر قادر ہوتے اور نہ آنے پر۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : الصور ای القرآن جس کو آج کل بوق (بگل) کہا جاتا ہے، (ج) اَبْوَاق وبِیْقان وبِیْقاتٌ۔ قولہ : اَلَاجْدَاثُ جمع جَدْثٍ بمعنی قبر۔ قولہ : یَنْسِلُوْنَ (ن، ض) نَسْلاً دوڑنا، مجبوراً تیز چلنا۔ قولہ : یا للتنبیہ لفظ تنبِیْہ کے اضافہ سے اس سوال کا جواب ہے کہ نداء عقلاء کے ساتھ مختص ہے اور وَیلٌ ذوی العقول میں نہیں ہے، لہٰذا اس کو ندا دینا درست نہیں ہے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یا نداء کے لئے نہیں ہے، بلکہ تنبیہ کے لئے ہے لہٰذا کوئی اعتراض نہیں ہے یا مجازاً ویل، کو نداء ہے ای یَا وَیْلَنَا احضر فھٰذا اوانُ حضورِکَ جمہور کے نزدیک یا وَیْلَنَا ہے، اور ابن ابی لیلیٰ نے یاوَیْلَتَنَا پڑھا ہے قولہ : مَنْ بَعَثَنَا جمہور کے نزدیک مَنْ استفہامیہ مبتداء ہے اور بَعَثَنَا اس کی خبر ہے اور مِن کسرۂ میم کے ساتھ بطور شاذ پڑھا گیا ہے، اس صورت میں جار مجرور سے مل کر وَیْلنا سے متعلق ہوگا، اور بَعْثٌ مصدر ہوگا۔ قولہ : وَیْلَنَا ویلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظً فعل مستعمل نہیں ہے، البتہ معناً اس کا فعل ھَلَکَ استعمال ہوتا ہے۔ قولہ : مَنْ مَرْقَدِنَا یہ بَعَثَنَا سے متعلق ہے مَرْقَدِنَا مصدر میمی ہے، نیند، سونا، اور اسم مکان بھی ہوسکتا ہے، یعنی خوابگاہ (قبر) مفرد کو مصدر ہونے کی وجہ سے جمع کے قائم مقام کردیا ہے۔ قولہ : ھٰذا مَا وَعَدَ الرحمٰنُ وصَدَقَ المرسلُونَ ، وَعَدَ اور صَدَقَ کا مفعول محذوف ہے ای وَعَدَنا بہٖ وصدقونا فیہ مفسر علام نے اَقَرُّوْا حین لاَ یَنْفَعُھُمْ الاقرارُ کے اضافہ سے اشارہ کردیا کہ ھٰذا مَا وَعَدَالرحمٰنَ الخ کفار کا قول ہے ھٰذا مبتداء ہے اور مَا وَعَدَ الرحمٰن جملہ ہو کر خبر۔ قولہ : وَعَدَ الرحمٰن، قالُوْا محذوف کا مفولہ ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے۔ قولہ : قِیْل یقال لھم ذٰلک مفسر علام نے اس عبارت سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بعض حضرات نے مَا وَعَدَ الرحمٰن کو اللہ، یا مومنین یا ملائکہ کا قول قرار دیا ہے۔ قولہ : فاکِھُوْنَ ای الناعِمُونَ اسم فاعل جمع مذکر (س) فُکاھَۃً آرام پانا، مزے اڑانا، استہزاء کرنے والے، صاحب معجم القرآن نے لکھا ہے فکِھِیْنَ اور فاکِھِیْنَ کے معنی ہیں مسلمانوں کا مذاق بنا کر مزے لینے والے۔ (لغات القرآن) علَی الْاَرَائِکِ یہ متَّکِئُونَ کا متعلق مقدم ہے، اور متکئون اپنے متعلق سے مل کر ھُمْ مبتداء کی خبر ثانی ہے۔ قولہ : مَایَدَّعُوْنَ ، یَدَّعُوْنَ اصل میں یَدْتَعِیُوْنَ تھا، بروزن یَفْتَعِلُوْنَ یاء پر ضمہ دشوار سمجھ کر ماقبل یعنی ع کو دیدیا، التفاء ساکنین کی وجہ سے ی گرگئی، پھر ت کو دال سے بدل دیا اور دال کو دال میں ادغام کردیا۔ قولہ : سَلَامٌ قولاً مِّن رَّبٍّ رَّحیْمٍ اس جملہ کی ترکیب میں مختلف اقوال ہیں، جمہور نے سَلاَمٌ رفع کے ساتھ پڑھا ہے، اور اُبَیَّ وابن مسعود و عیسیٰ نے سَلاَمًا نصب کے ساتھ پڑھا ہے، نصب یا تو مصدریت کی وجہ سے ہے یا حال ہونے کی وجہ سے ہے ای خالِصًا، علامہ محلی نے منصوب بنزع الخافض قرار دیا ہے اور ای بالقول کہہ کر اس کی طرف اشارہ کردیال اور رفع کی چند وجوہ ہیں (1) مَاعَدَّعُوْنَ کی خبر ہے (2) ما سے بدل ہے یہ زمخشری کا قول ہے، شیخ نے کہا ہے اگر سلامٌ بدل ہو تو مَا یَدّعونَ سے مخصوص تمنا مراد ہوگی، تاکہ بدل واقع ہونا صحیح ہوجائے، اور ظاہر یہ ہے کہ ما یَدَّعُوْنَ ، کُلَّ مَا یَتَمَنَّاہُ کو عام ہے، اس صورت میں بدل واقع ہونا صحیح نہیں ہے (3) مَا کی صفت ہے مگر یہ اس صورت میں صحیح ہوگا کہ جب ما کو نکرہ موصوفہ مانا جائے، اور اگر الَّذِیْ کے معنی میں لیا جائے یا مصدریہ لیا جائے تو صفت واقع ہونا دشوار ہوگا، نکرہ و معرفہ میں مخالفت ہونے کی وجہ سے (4) مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو، ای ھُوَ سَلاَمٌ (5) سَلَامٌ مبتداء اور اس کی خبر قَوْلاً کا ناصب ای سَلَامٌ یُقَالُ لھُمْ قولاً بعض حضرات نے سَلَامٌ علیکُمْ تقدیر مانی ہے (6) سَلَامٌ مبتداء اور مِن رَّبِّ العٰلَمِیْنَ اس کی خبر، اور قولاً مضمون جملہ کی تاکید کے لئے ہے، اور مع اپنے عامل کے مبتداء خبر کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ (لغات القرآن للدرویش) قولہ : اَلَمْ اَعْھَدْ اِلَیْکُمْ یہ استفہام توبخیی ہے۔ قولہ : لاَ تُطِیعُوہ یہ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوا الشّیْطانَ کی تفسیر ہے، مقصد اس شبہ کا ازلہ ہے کہ شیطان کی بندگی تو کوئی بھی نہیں کرتا، پھر شیطان کی بندگی سے منع کرنے کے کیا معنی ؟ جواب کا حاصل یہ ہے کہ عبادت بمعنی اطاعت ہے یعنی شیطان کی اطاعت ہی کی وجہ سے لوگ غیر اللہ کی بندگی کرنے لگے، شیطان کے کہنے سے بندگی کرنا گویا کہ شیطان کی بندگی کرنا ہے، اَنْ لاَّ تَعٌبُدُوْا میں اَنْ تفسیر یہ ہے، اس لئے کہ ماقبل میں لفظ آمُرُ کُمْ جو کہ بمعنی قول ہے موجود ہے لہٰذا اَنْ کا تفسیر یہ ہونا صحیح ہے۔ قولہ : اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ یہ وجوب ممانعت کی علت ہے۔ قولہ : وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ یہ تعلیل کی تاکید ہے۔ قولہ : جِبِلاًّ با اور جیم کے کسرہ اور لام کی تخفیف کے ساتھ، اس کے علاوہ دو قراءتیں اور ہیں (1) جیم اور بادونوں کے ضمہ (2) جیم کے ضمہ مع با کے سکون اور لام کی تخفیف کے ساتھ، مذکورہ تینوں قراءتیں سبعیہ ہیں۔ قولہ : تُوْعَدُوْنَ بِھا، بِھا کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا تُوْعَدُوْنَ جملہ ہو کر صلہ ہے اور اس کا عائد بھا محذوف ہے۔ قولہ : بِمَا کُنْتُمْ ای بسبب ما کنتم تکفرونَ ، بِمَا میں مامصدریہ ہے ای بسبب کفرکُمْ ۔ قولہ : وَلَوْ نشَاءُ لَطَمَسْنَا عَلیٰ اَعْیُنِھِمْ ، لَوْ شرطیہ ہے نَشَاءُ فعل بافاعل ہے، نَشَاءُ کا مفعول بہ محذوف ہے، ای لَوْ نَشَاءُ طَمْسَھَا لَطَمَسْنَا ھَا، لَطَمَسْنَا جواب شرط ہے۔ قولہ : فَاَنّٰی یُبْصِروْنَ استفہام انکاری ہے یعنی نہیں دیکھ سکیں گے۔ قولہ : وَلَوْ نَشَاءُ لَمَسَخْنَا ھُمْ ای لَوْ نَشَاءُ مَسْخَھُمْ لَمَسَخْنَا ھُْ ۔ قولہ : عَلیٰ مَکَانَتِھِمْ عَلیٰ بمعنی فِی ہے، جیسا کہ شارح (رح) تعالیٰ نے فی منَازِلِھِمْ کہہ کر اشارہ کردیا ہے۔ تفسیر وتشریح ونفخ۔۔ الصور . لوگ بازاروں میں خریدو فروخت میں اور دیگر کاموں میں حسب عادت بحث و تکرار میں مشغول ہوں گے، کہ اچانک صور پھونک دیا جائے گا، اور قیامت برپا ہوجائے گی، یہ نفخۂ اولیٰ ہوگا، جسے نفخۂ فزع بھی کہتے ہیں، اس کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا اس کو نفخۃ الصعق کہتے ہیں، جس سے اللہ کی ذات کے سوا شئ پر موت طاری ہوجائے گی، یہ نفخۂ ثالثہ ہے، جس کو نفخہ البعث و النشورکہتے ہیں، اس نفخہ کے بعد لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے، اور فرشتے ان کو بعجلت سختی کے ساتھ دھکیل کر میدان خشر میں لیجائیں گے، قبروں سے نکلنے کے وقت کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی ہماری خوابگاہوں سے ہم کو کس نے اٹھا دیا، مرقَدْ خوابگاہ کو کہتے ہیں، اور مطلقاً خواب کو بھی کہتے ہیں، ظاہر ہے کہ کافروں اور مشرکوں کو قبر میں خواب کہاں نصیب ہوگی ؟ وہ تو عذاب قبر میں مبتلا رہیں گے، تو پھر کافروں کے یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ ہم کو کس نے خواب سے بیدار کردیا ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے، شاہد نفخۂ ثانیہ کے درمیان ان پر نیند کی حالت طاری کردی جائے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کے، ہولناک منظر کو دیکھ کر عذاب قبر ہی کو غنیمت سمجھیں گے، اور نیند سے تشبیہ دیں گے، یا پھر مرقد بمعنی مضجع ہو اور نیند کے معنی سے تجرید کرلی جائے۔ (فوائد عثمانی) ھٰذا۔۔ الرَّحْمٰنُ (الآیۃ) مشرکوں اور کافروں کو یہ جواب اللہ کی طرف سے اس وقت ملے گا، یا مستقبل کو حاضر قرار دیکر اب جواب دے رہے ہیں، یعنی کیا پوچھتے ہو کس نے اٹھایا ؟ ذرا آنکھیں کھولو یہ وہی بعد الموت ہے جس کا وعدہ خدائے رحمٰن کی طرف سے کیا گیا تھا، اور پیغمبر جس کی خبر برابر دیتے رہے تھے۔ جمیع۔۔ محضرون . یعنی نفخۂ بعث کے بعد نہ کوئی بھاگ سکے گا اور نہ روپوش ہو سکے گا، ماقبل کی آیت میں جہنمیوں کی پریشانیوں کا ذکر تھا، قرآن اپنے اسلوب اور عادت کے مطابق اہل جنت کا حال بیان کررہا ہے، کہ اہل جنت اپنی تفریحات میں مشغول ہوں گے، یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ یہ لفظ ” فی شُغُلٍ “ اس خیال کے دفع کرنے کے لئے بڑھایا ہو، کہ جنت میں جب نہ کوئی عبادت ہوگی اور نہ فرض و واجب اور نہ کسب معاش کا کوئی کام تو کیا اس بیکاری میں آدمی کا جی نہ گھبرائے گا، اس کے جواب میں فرمایا کہ ان کو اپنی تفریحات ہی کا بڑا شغل ہوگا، جی گھبرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بہشت میں ہر قسم کے عیش ونشاط کا سامان ہوگا، دنیا کی مکروہات سے آزاد ہو کر آج سیرو تفریح اور عیش و عشرت ہی ان کا مشغلہ ہوگا، اہل جنت اپنی بیویوں اور حور وغلمان کے ہمراہ تفریحی مشغلوں میں مست ومگن ہوں گے، اور اعلیٰ درجہ کے خوشگوار سایوں میں مسہریوں پر آرام کررہے ہوں گے، ہر قسم کے میوے اور پھل ان کے لئے حاضر ہوں گے، خلاصہ یہ کہ جس چیز کی جنتیوں کے دل میں تمنا اور آرزو ہوگی وہ شئ فوراً حاضر کی جائے گی، یہ تو جسمانی لذتوں اور راحتوں کا حال تھا آگے روحانی لذتوں کا ذکر ہے، جن کی طرف سَلَامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبٍ رَّحِیْمٍ سے اشارہ کردیا، یعنی اس مہربان پروردگار کی طرف سے جنتیوں کو ہدیۂ سلام پیش کیا جائے گا، خواہ فرشتوں کے ذریعہ یا بلا واسطہ رب العالمین جنتیوں کو سلام ارشاد فرمائیں گے جیسا کہ ابن ماجہ کی روایت میں مذکورہ ہے، اس وقت کی عزت و عظمت، لذت و فرحت کا کیا کہنا (اللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا ھٰذِہِ النِّعْمَۃََ العظمٰی بحرمۃِ نبیکَ محمد صلَّی اللہ علیہ وسلَّمَ ) ۔ وامتا۔۔ المجرمون . میدان حشر میں جب مردے اپنی اپنی قبروں سے نکلیں گے تو نیک و بد کافر و مومن سب مخلوط ہوں گے، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا کَاَنَّھُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ یعنی وہ منتشیر ٹڈیوں کی طرح ہوں گے، بعد میں گروہوں کی شکل میں سب کو الگ الگ کردیا جائے گا، اور مجرموں سے کہا جائے گا، وامتازوا الیومَ ایھا المجرمون کہ جنتیوں کے عیش و آرام میں تمہارا کوئی حصہ نہیں الم۔۔ الیکم (الآیۃ) یعنی تمام بنی آدم بلکہ جنات کو بھی مخاطب کرکے قیامت میں کہا جائے گا کہ کیا میں نے دنیا میں تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، یہاں سوال ہوتا ہے کہ کوئی بھی شیطان کی عبادت نہیں کرتا اور نہ کفار کرتے تھے، بتوں یا دیگر چیزوں کو پوجتے تھے، اس لئے ان پر شیطان کی عبادت کا الزام کیسے عائد ہوا ؟ جواب کا حاصل یہ ہے کہ کسی کی اطاعت مطلقہ کرنا کہ ہر کام میں ہرحال میں بےچوں وچرا اس کا کہنا مانے، اسی کا نام عبادت ہے، اسی معنی میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد آزر سے کہا تھا یٰاَبَتِ لاَ تَعْبُدِ الشَّیْطَانَ ۔ (سورۂ مریم) الیوم۔۔۔ افواھھم . محشر میں حساب کتاب کے لئے پیشی میں اول تو ہر شخص کو آزادی ہوگی جو چاہیے عذر پیش کرے مگر مشرکین وہاں قسمیں کھا کر اپنے شرک و کفر سے مکر جائیں گے، کہیں گے وَاللہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (سورۂ انعام) اور بعض یہ بھی کہیں گے کہ فرشتوں نے جو کچھ ہمارے اعمال ناموں میں لکھ دیا ہے ہم اس سے بری ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے، تاکہ بول نہ سکیں، البتہ اللہ تعالیٰ اعضائے انسانی کو قوت گویائی عطا فرمائے گا، ہاتھ کہیں گے کہ ہم نے فلاں فلاں کام کئے تھے، اور پیر اس پر گواہی دیں گے اس طریقہ سے اقرار اور شہادت کے ذریعہ جرم ثابت ہوجائے گا، اس آیت میں انسان کے ہاتھوں اور پیروں کا بولنا ذکر کیا گیا ہے، دوسری آیت میں انسان کے کان، آنکھ اور کھال کا بولنا مذکور ہے شَھِدَ علْھِمْ سَمْعُھُمْ وَاْصَارُھُمْ وَجُلُوْ دُھُمْ اور ایک جگہ فرمایا گیا وَتَشْھَدُ عَلَیْھِمْ اَلْسِنَتُھُمْ یعنی خود ان کی زبانیں گواہی دیں گی۔ سوال : زبانوں کا گواہی دینا، مونہوں پر مہر لگانے کے منافی ہے۔ جواب : منہ پر مہر لگانے اور زبانوں کے گواہی دینے میں کوئی تنافی وتعارض نہیں ہے، اس لئے کہ منہ پر مہر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار سے کچھ نہ بول سکیں گے بلکہ ان کی زبان ان کی مرضی کے خلاف شہادت دے گی۔ حکمت : کسب اعمال میں اگرچہ تمام اعضاء کا دخل ہوتا ہے، مگر ہاتھوں کا دخل زیادہ ہوتا ہے، اس وجہ سے ہاتھ گویا فاعل مباشر ہوتے ہیں، اسی لئے قرآن کریم میں بہت سی جگہ فعل و کسب ہاتھوں کی طرف کی گئی ہے مثلاً یَوْمَ یَنْظُرُ الْمَرأُ مَا قَدَّمَتْ یَدَاہُ ، وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْھِمْ ، بِمَا کَسَبَتْ اَیٌدِی النَّاس، فبمَا کَسَبَت اَیْدِیْکُمْ بخلاف پیروں کے کہ ان کی طرف فعل کی نسبت نہیں کی گئی، تو گویا کہ پیر، ہاتھوں کے اعتبار سے اکتساب اعمال میں اجنبی ہیں، ہاتھوں کا تکلم بمنزلہ اقرار کے ہے، اور اقرار فاعل کا معتبر ہوتا ہے، اور پیر بمنزلہ اجنبی کے ہیں اور شاہد کے لئے اجنبی ہونا مناسب ہے، اس لئے ہاتھوں کی طرف تکلم کی پیروں کی طرف شہادت کی نسبت ہے، گویا کہ ہاتھ مباشر ہیں، اور پیر حاضر، اقرار مباشر سے ہوتا ہے اور شہادت حاضر سے۔ حکمت : روزمحشر ہاتھوں کا تکلم بمنزلہ دعوے کے ہے اور ہاتھ بمنزلہ مدعی اور نفس بمنزلہ مدعا علیہ ہے اس لئے کہ حقیقی فاعل نفس ہی ہے، اور مدعی خود گواہ نہیں بن سکتا، گواہ مدعی کے علاوہ ہوتا ہے اور وہ پیر ہیں، اس وجہ سے تکلم کی نسبت ہاتھوں کی طرف اور شہادت کی نسبت پیروں کی طرف کی ہے۔ ولو۔۔۔ اعینھم (الآیۃ) یعنی بینائی سے محرومی کے بعد انہیں راستہ کس طرح دکھائی دیتا ؟ لیکن یہ تو ہمارا حلم و کرم ہے کہ ایسا نہیں کیا، مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہماری آیتوں سے جس طرح دل کی آنکھیں بند کرلی ہیں، اس کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ہم ان کی ظاہری آنکھوں کو بند کرکے دنیا میں اندھا کردیں کہ ان کو راستہ ہی نہ سوجھے مگر ہم نے اپنی رحمت اور حلم و کرم کی وجہ سے ایسا نہیں کیا، اور جس طرح یہ لوگ شیطانی راستوں سے ہٹ کر رحمانی راستوں پر چلنا چاہتے، ہم کو قدرت ہے کہ ان کی صورتیں مسخ کردیں، کہ ایک جگہ پتھر کے مانند پڑے رہیں، ہل بھی نہ سکیں۔
Ayahs 36:68–83

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے ہیں ؟

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایان ہے یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پراز حکمت) ہے

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا راستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چار پائے پیدا کر دئیے اور یہ ان کے مالک ہیں

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ان کو ان کے قابو میں کردیا تو کوئی تو ان میں سے ان کی سواری ہے اور کسی کو یہ کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان کے لئے (اور) فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں تو یہ شکر کیوں نہیں کرتے ؟

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لئے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

(مگر) وہ ان کی مدد کی (ہر گز) طاقت نہیں رکھتے اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کئے جائیں گے

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہنے لگا کہ (جب) ہڈیا بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا ؟

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار ان کو پیدا کیا تھا اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

(وہی) جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس (کی ٹہنیوں کو رگڑ کر ان) سے آگ نکالتے ہو

اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader

بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ (ان کو پھر) ویسے ہی پیدا کر دے ؟ کیوں نہیں اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader

اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرما دیتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader

وہ (ذات) پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

آیت نمبر 68 تا 83 ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے والا قرآن ہے، تاکہ اس شخص کو قرآن کے ذریعہ جو زندہ ہو متنبہ کرے یعنی جو اس سے کہا جائے اسے سمجھتا ہو اور وہ اہل ایمان ہیں، اور کافروں پر عذاب کا وعدہ ثابت ہوجائے، اور کافر مردوں کے مانند ہیں (اس لئے کہ) جو بات ان سے کہی جاتی ہے اس کو نہیں سمجھتے کیا یہ لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ ہم نے اپنے دست قدرت سے بلا شریک و معین کے پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے منجملہ دیگر لوگوں کے ان کے لئے جانور وہ اونٹ گائے اور بکریاں ہیں پیدا کئے جن کے وہ مالک بنے ہوئے ہیں قابو میں کردیا ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہیں اور ان کے لئے ان میں اور منافع بھی ہیں، جیسا کہ ان کی صوف، رواں اور ان کے بال اور پینے کی چیزیں ہیں، (مثلاً ) ان کا دودھ یا دودھ کا محل (تھن) مشارب مشرَبٌ کی جمع ہے بمعنی شُربٌ کیا لوگ اپنے اوپر جانوروں کے ذریعہ احسان کرنے والے کا شکر ادا نہیں کرتے کہ ایمان لے آئیں، یعنی انہوں نے ایسا نہیں کیا اور انہوں نے غیر اللہ (یعنی) بتوں کو معبود بنالیا ہے کہ ان کی بندگی کرتے ہیں کہ شاہد ان کی طرف سے ان کو مدد پہنچے، کہ اللہ کے عذاب سے ان کے اعتقاد کے مطابق ان (بتوں) کی سفارش سے (عذاب سے) محفوظ رہ سکیں (مگر) ان کے معبود ان کی ہرگز مدد نہیں کرسکتے ان معبودوں کو ذوی العقول کے درجہ میں اتار لیا گیا ہے وہ یعنی ان کے ضمی معبود جن سے مدد کی توقع رکھنے کی وجہ سے ان کے لشکر میں ان (عابدین) کے ساتھ جہنم میں حاضر کئے جائیں گے، تو آپ کے بارے میں ان کا قول لَسْتَ وغیرہ آپ کو رنجیدہ نہ کرے بیشک ہم اس بات کو اور اس کے علاوہ کو خوب جانتے ہیں جن باتوں کو یہ چھپاتے ہیں اور جن کو ظاہر کرتے ہیں، ہم ان کو اس کا بدلہ دیں گے کیا انسان کو یہ معلوم نہیں اور وہ عاص بن وائل ہے کہ ہم نے اس کو نطفۂ منی سے پیدا کیا حتی کہ ہم نے اس کو قوی اور مضبوط کردیا پھر اس نے بعث کا انکار کرکے خصومت کو ظاہر کردیا اعلانیہ اعتراض کرنے لگا یعنی ہم سے سخت مخاصمت کرنے لگا، اور اس نے اس بارے میں ہماری شان میں ایک عجیب بات کہی اور اپنی اصل (حقیقت) کو بھول گیا کہ وہ نطفہ منی سے پیدا شدہ ہے اور وہ اس کی بیان کردہ عجیب بات سے زیادہ عجیب ہے کہتا ہے ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوگئی ہوں کون زندہ کرسکتا ہے ؟ رمیم بمعنی بالیۃٌ (بوسیدہ) رَمیمۃ ۃ کے ساتھ نہیں کہا ( جیسا کہ قیاس کا تقاضا تھا) اس لئے کہ رمیم اسم ہے نہ کہ صفت، روایت کیا گیا کہ عاص بن وائل نے ایک بوسیدہ ہڈی لی، اور اس کو ریزہ ریزہ کردیا، اور آپ ﷺ سے کہا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ہڈی کو بعد اس کے کہ وہ کہنہ اور بوسیدہ ہوگئی زندہ کرسکتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا : ہاں کیوں نہیں، اور تجھ کو دوزخ میں داخل کرے گا آپ جواب دیجئے کہ ان کو وہ ذات زندہ کرے گی جس نے ان کو اول بار پیدا کیا اور وہ اپنی تمام مخلوق کے بارے میں پیدا کرنے سے پہلے اور پیدا کرنے کے بعد مجملاً ومفصلاً جانتا ہے، اور وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے لئے منجملہ دیگر لوگوں کے مرخ اور عفار یا ہر سبز درخت سے سوائے عناب کے آگ پیدا کی پھر تم اس سے آگ سلگالیتے ہو، اور یہ بعث (بعدالموت) پر قادر ہونے کی دلیل ہے، اس لئے کہ اس نے اس میں پانی اور آگ اور لکڑی (متضاد چیزیں) جمع کردیں، پانی آگ کو نہیں بجھاتا اور نہ آگ لکڑی کو جلاتی ہے، جس نے آسمان اور زمین جیسی چیزیں پیدا فرمائیں کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان جیسے صغیر انسانوں کو پیدا کرسکے ؟ ضرور پیدا کرسکتا ہے یعنی وہ اس بات پر قادر ہے خود ہی جواب دیدیا وہ بڑا پیدا کرنے والا ہے اور ہر شئ کا جاننے والا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کی تخلیق کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوجاتی ہے اور ایک قراءت یکون نصب کے ساتھ ہے، یقولَ پر عطف کی وجہ سے وہ پاک ذات ہے اس کے دست قدرت میں ہر چیز کا اختیار ہے (ملکوت) میں واؤ اور تا زیادہ کئے گئے ہیں اور تم سب کو آخرت میں اسی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : نُعَمِّرْہُ ای نُطِیْلُ اَجَلَہٗ ہم اس کی عمر دراز کردیتے ہیں۔ جمع متکلم مضارع مجزوم۔ قولہ : نُنَکِّسْہُ ای نُقَلِّبْہُ ای نَجْعَلْہُ علیٰ عَکسِ مَا خَلَقْنَاہُ ہم اس کی تخلیق پلٹ دیتے ہیں (اعراب القرآن) یعنی ہم بتدریج اس کی حالت بدل دیتے ہیں حتی کہ ضعف میں اس کی بچوں جیسی حالت ہوجاتی ہے۔ قولہ : وَمَنْ نُعَمِّرْہُ (الآیۃ) یہ جملہ مستانفہ ہے، قوت سے ضعف کی طرف انسان کی حالت کے بدلنے کی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے مَنْ اسم شرط اور نُعَمِّرْ فعل شرط ہے نُنَکِّسْہُ جواب شرط ہے۔ قولہ : اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ فا عاطفہ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اَتَرَکُوا التَّکُّرَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ قولہ : وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ یہ آپ یہ آپ ﷺ پر کفار کی جانب سے شاعر ہونے کے الزام کا جواب ہے، اس کا عطف سورت کی ابتداء میں اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ جملہ قسمیہ پر ہے۔ قولہ : الشِّعْرَ معروف ہے (ج) اشعاد، شعر لغت میں علم دقیق اور احساس لطیف کو اور موزون و مقفی کلام کو کہتے ہیں، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ شعر یا تو منطقی ہوتا ہے اور یا وہ جو مقدمات کا ذبہ پر مشتمل ہو، اسی لئے ان ادلہ کو جو مقدمات کا ذبہ سے مرتب ہوں، ادلہ شعریہ کہتے ہیں، اور اصطلاح میں کلام مقفٰی و موزون علی القصد کو کہتے ہیں، آخری قید سے وہ شعر خارج ہے جو کہ بلا قصد اتفاقی طور پر جاری ہوگیا ہو، جیسا کہ آیات شریفہ اور بعض کلمات نبویہ اس لئے کہ ان میں بلاقصد اتفاقی طور پر علم عروض کے مطابق وزن ہوگیا ہے۔ (حاشیہ جلالین ملخصًا) قولہ : اَوَلَمْ بَرَالإنسانُ (الآیۃ) ہمزہ استفہام انکاری تعجبی ہے، محذوف پر داخل ہے، واؤ عاطفہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا رویت سے مراد رویت علمیہ ہے اَنا خلَقْنَاہُ مِن نطفۃٍ قائم مقام دو مفعولوں کے ہے۔ قولہ : خَصِیْمٌ، المخاصمُ المُجادل۔ قولہ : خَلَقْنَا لھُمْ لام حکمت کے لئے ہے، ای حِکْمَۃُ خَلْقِنَا ذٰلِکَ اِنتِفَاعُھُمْ ۔ قولہ : فی جملۃ الناسِ اس سے اشارہ کردیا کہ یہ نعمتیں ان ہی کے لئے مخصوص نہیں ہیں بلکہ سب کے لئے ہیں۔ قولہ : مَافِعَلُوْا ذء لک اس سے اشارہ کردیا کہ اَفَلَا یَشْکُرُوْنَ میں ہمزۂ استفہام انکاری ہے۔ قولہ : نُزِّلُوا مَنْزِلَۃََ العُقَلاَءِ یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ لا یَسْتَطِیْعُوْنَ سے مشرکین کے ضمی معبود مراد ہیں جو کہ غیر ذوی العقول ہیں اس کی جمع واؤ، نون کے ساتھ لانا درست نہیں ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عابدین اور معبودین میں مشاکلت کے طور پر ذوی العقول کے ردجہ میں اتار کر واؤ نون کے ساتھ جمع لائی گئی ہے۔ قولہ : وَھُمُ لَھُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ ، ھم، مبتداء جندٌ خبر اول، مُحْضَرُوْنَ خبر ثانی اور لَھُمْ جند کے متعلق ہے، مُحْضَرُوْنَ جندٌ کی صفت بھی ہوسکتی ہے۔ قولہ : اَیْ اٰلِھَتُھُمْ مِن الاصْنَامِ اس عبارت کے اضافہ سے شارح کا مقصد ھُمْ ضمیر کا مرجع متعین کرنا ہے، یعنی وہ بت ان کے لئے لشکر کے مانند ہیں مُحْضَرُوْنَ ای مُعَدُّوْنَ لحَفظِھم یعنی اپنی حفاظت کے لئے تیار کردہ لشکر ہے جو دنیا میں (ان کے خیال میں) ان کی حفاظت کرے گا (روح المعانی) دوسرا قول یہ بھی ہے کہ ھُمْ کا مرجع کفار ہیں یعنی کفار عابدین ان کے لئے حاضر باش لشکر کے مانند ہیں کہ ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ (جمل) قولہ : مِنْ ذٰلکَ ای قو لُھُمْ لَسْتَ مُرْسَلاً ۔ قولہ : الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ یہ الَّذِی أنشأھَا سے بدل ہے۔ قولہ : اِلاَّ العُنَّابُ عناب کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے رگڑنے سے آگ نہیں نکلتی، اور یہی وجہ ہے کہ قصارین (دھوبی) عناب کی لکڑی کا مطارق (موسلہ) بناتے ہیں تاکہ رگڑنے سے کپڑے میں آگ نہ لگ جائے۔ (صاوی) تفسیر و تشریح وَمَنْ نُعَمِّرْہُ (الآیۃ) نُعَمِّر تعمیر سے بتدریج عمر دراز کرنا، اور نُنَکِّسْہُ تَنْکِیْسٌ سے پلٹنا، اوندھا کرنا، بتدریج سابقہ حالت کی طرف لوٹانا، سفیان سے منقول ہے کہ تنکیس اسّی سال کی عمر میں ہوتی ہے، وَالحق اَنَّ زمانُ ابتداء الضعف والانتقاص مختلف لا ختلاف الأ مزجۃِ والعوارض (روح المعانی) یعنی تحقیقی بات یہ ہے کہ تنکیس کی کوئی مدت متعین نہیں ہے یہ امزجہ اور عوارض کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ وما۔۔ الشعر مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کی تکذیب کے لئے مختلف قسم کی باتیں کہتے رہتے تھے، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ شاعر ہیں، اور یہ قرآن آپ کی شاعرانہ تک بندی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی فرمائی ہے یعنی نہ آپ شاعر ہیں اور نہ قرآن شعری کلام کا مجموعہ ہے بلکہ یہ تو صرف نصیحت وموعظت ہے، شاعری میں بالعموم مبالغہ، افراط وتفریط اور محض تخیلات کی ندرت کاری ہوتی ہے، یوں گویا کہ اس کی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے، کہا گیا ہے اَعْذَبُہٗ اَکْذَبُہٗ یعنی شعر میں جتنا زیادہ مبالغہ اور جھوٹ ہوگا اتنا ہی وہ مزیدار ہوگا علاوہ ازیں شاعر محض گفتار کے غازی ہوتے ہیں کردار کے نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نہ صرف یہ کہ اپنے پیغمبر کو شعر نہیں سکھلائے، بلکہ اس کے مزاج و طبیعت کو ایسا بنایا کہ شعر سے اس کو کوئی مناسبت ہی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کبھی کسی کا شعر پڑھتے تو اکثر صحیح نہ پڑھ پاتے، اور اس کا وزن ٹوٹ جاتا جس کی مثالیں احادیث میں موجود ہیں، یہ احتیاط اس لئے کی گئی کہ منکریں پر اتمام حجت اور ان کے شبہات کا خاتمہ کردیا جائے اور یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ قرآن اس کی شاعرانہ تک بندی کا نتیجہ ہے، جس طرح آپ کی امت بھی قطع شبہات کے لئے تھی، تاکہ لوگ قرآن کی بابت یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ تو فلاں سے سیکھ کر یا کتب سابقہ کا مطالعہ کرکے مرتب کرلیا ہے، البتہ بعض مواقع پر آپ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ کا نکل جانا جو دو مصرعوں کی طرح ہوتے اور شعری اور ان وبحور کے بھی مطابق ہوتے، آپ کے شاعر ہونے کی دلیل نہیں بن سکتے، کیونکہ ایسا آپ کے قصدوارادہ کے بغیر ہوا، اور ان کا شعری قالب میں ڈھل جانا ایک اتفاق تھا، جس طرح غزوۂ حنین کے موقع پر آپ سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن الحارث لگام پکڑے ہوئے تھے، اس موقع پر چند افراد کے علاوہ کوئی آپ کے ساتھ نہیں رہا تھا تو آپ کی زبان پر بےاختیاریہ رجز جاری ہوگیا : ؎ اَنا النبیُّ لا کَذِبْ اَنَا ابن عبد المطلب اسی طرح ایک موقع پر آپ کی انگشت مبارک پتھر سے زخمی ہوگئی تو آپ نے فرمایا : ؎ ھَلْ انتِ اِلاَّ اِصْبَعٌ دمیتِ وفی سبیل اللہِ ما لقیت (صحیح بخاری، مسلم کتاب الجھاد، روح المعانی) اس کے علاوہ ایک دو شعر کہنے یا پڑھنے سے شاعر نہیں ہوجاتا اور نہ اس کو شاعر کہا جاتا ہے، عرف شاعر اسی کو کہا جاتا ہے جو شعر گوئی پر قدرت اور مشغلہ رکھتا ہو، جس طرح کبھی کبھار کپڑا سینے والا خیاط نہیں کہا جاتا بلکہ درزی وہی ہوتا ہے جو خیاطی کا پیشہ کرتا ہو ورنہ تو ہر شخص خیاط کہلائے گا۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے یہ شعر پڑھا : ؎ سَتبدی لک الاَیَّامُ ما کنت جاھِلاً ویاتیک مَنْ لم تزوَّد بالا خبار حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا، لیس ھٰکذا یا رسول اللہ فقال رسول اللہ ﷺ اِنِّی واللہ مَا اَنابشاعرٍ ولا ینبغی لی۔ اولم۔۔۔ لھم (الآیۃ) اس آیت میں چوپایوں، جانوروں کی تخلیق میں انسانی منافع اور ان میں قدرت کی عجیت و غریب صنعتکاری کا ذکر فرمانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ایک اور احسان عظیم کو بتلایا گیا ہے، یہ چوہائے کہ جن کی تخلیق میں کسی انسان وغیرہ کا کوئی دخل نہیں ہے، خالص دست قدرت کے بنائے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کیا کہ ان سے انسانوں کو نفع اٹھانے کا موقع دیا بلکہ ان کا ان کو مالک بھی بنادیا، کہ وہ ان میں جس طرح چاہیں مالکانہ تصرف کرسکتے ہیں، اگر ہم ان میں وحشی پن رکھ دیتے (جیسا کہ بعض جانوروں میں ہے) تو یہ چوپائے ان سے دور بھاگتے اور وہ ان کی ملکیت اور قبضے ہی میں نہ آسکتے، یہ خدا کے کرم و احسان ہی کا نتیجہ ہے کہ ان جانوروں سے جس طرح کا بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں وہ انکار نہیں کرتے ہیں، مثلاً ان کی اون اور بالوں سے مختلف کی عمدہ اور آرام دہ چیزیں بنتی ہیں، اور باربرداری اور کھیتی باڑی کے بھی کام آتے ہیں، حتی کہ بوقت ضرورت ان کو ذبح کرکے کھاتے بھی ہیں۔ ملکیت کے بارے میں سرمایہ داری اور اشتراکیت کا نظریہ : گذشتہ صدی کے اوئل سے معاشی نظریات میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ تخلیق اشیاء اور ان کی ملکیت میں سرمایہ اور دولت اصل ہے یا محنت، سرمایا دارانہ نظام معیشت کے قائل دولت اور سرمایہ کو اصل قراردیتے ہیں، اور سوشلزم اور کمیونزم (اشتراکیت) والے محنت کو اصل علت تخلیق و ملکیت قرار دیتے ہیں۔ قران کریم کا نظریۂ معیشت : قرآن کریم کی مذکورہ صراحت نے بتلا دیا ہے کہ تخلیق اشیاء اور ان کی ملکیت میں دونوں (یعنی سرمایہ اور محنت) کا کوئی دخل نہیں، کسی چیز کی تخلیق انسان کے قبضے میں نہیں، تخلیق براہ راست اللہ تعالیٰ کا فعل ہے، اور عقل کا تقاضہ ہے کہ جو جس کو پیدا کرے وہی اس کا مالک ہو، اس سے ثابت ہوا کہ اشیاء عالم میں حقیقی ملکیت حق تعالیٰ کی ہے، انسان کی ملکیت صرف اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے ہوسکتی ہے۔ (معارف) واتخذوا۔۔۔ الھۃً (الآیۃ) یہ ان کے کفران نعمت کا اظہار ہے کہ مذکورہ نعمتیں جن سے فائدہ اٹھاتے ہیں، سب اللہ کی پیدا کردہ اور عطا کردہ ہیں، لیکن یہ بجائے اس کے کہ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکرادا کریں یعنی اس کی عبادت و اطاعت کریں، غیروں سے امید وابستہ کرتے ہیں اور انہیں معبود بناتے ہیں۔ لا۔۔۔ جندٌ (الآیۃ) جندٌ سے مراد بتوں کے حمایتی اور ان کی طرف سے مدافعت کرنے والے اور مُحْضَرونَ سے مراد حاضر باش دنیا میں ان کے پاس رہنے والے ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ جب بتوں کو معبود سمجھتے ہیں، وہ ان کی مدد کیا کریں گے ؟ یہ مشرکین خود اپنے معبودوں کی مدد اور حفاظت کرتے ہیں، ان کے معبودوں کو اگر کوئی برا کہے ان کی مذمت کرے، تو خود یہی لوگ ان کی حمایت و مدافعت میں سرگرم ہوجاتے ہیں، نہ کہ وہ معبود۔ بعض حضرات نے جُنْدٌ سے مراد فریق مخالف لیا ہے، آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جن چیزوں کو انہوں نے دنیا میں معبود بنا رکھا ہے یہی قیامت کے روز ان کے مخالف ہو کر ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور حضرت حسن و قتادہ سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے کہ ان لوگوں نے بتوں کو معبود تو اس لئے بنایا تھا کہ یہ ان کی مدد کریں گے اور ہو یہ رہا ہے کہ وہ تو ان کی مدد کرنے کے قابل نہیں خود یہی لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے خدام اور سپاہی بنے ہیں۔ اولم۔۔ نسان (الآیۃ) کیا یہ انسان اتنا نہیں سمجھتا کہ جس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک حقیر نطفہ سے پیدا کیا ہو وہ دوبارہ اس کو زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں ؟ اس کی قدرت احیاء موتےٰ کا ایک واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے مرتے وقت وصیت کی کہ مرنے کے بعد اسے جلا کر اس کی آدھی راکھ سمندر میں اور ادھی راکھ تیز ہوا میں اڑادی جائے، چناچہ اس کے ورثاء نے اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام راکھ جمع کرکے اسے زندہ فرمایا اور اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا تیرے خوف سے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرمادیا۔ (صحیح بخاری، الانبیاء) الذی۔۔۔ نارًا (الآیۃ) کہتے ہیں کہ عرب میں دو درخت ہیں مرخ اور غفار، اگر انکی دو لکڑیاں آپس میں رگڑی جائیں تو آگ پیدا ہوتی ہے، سبز درخت سے آگ پیدا کرنے سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ اس کے لئے کوئی چیز ناممکن نہیں ہے وہ ہر شئ پر قادر ہے، مردوں کو زندہ کرنا اس کے لئے اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ ابتداءً پیدا کرنا۔ ٭تم بحمداللہ٭