17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 17:41–52

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف ضرور (لڑنے بھڑنے کے لیے) راستہ نکالتے۔

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے (اسکا رتبہ) بلند ہے۔

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اسکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بیشک وہ بردبار (اور) غفار ہے۔

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کردیتے ہیں

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور انکے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائی ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور راستہ نہیں پاسکتے۔

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور چور چور ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا ہو کر اٹھیں گے۔

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا۔

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جلائے گا ؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سر ہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا ؟ کہہ دو امید ہے کہ جلد ہوگا۔

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے۔

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ تمہاری زبان میں نہیں ہے بلاشبہ وہ بڑا بردبار اور بخشنے والا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ تمہاری سزا میں جلدی نہیں کرتا، اور جب تم قرآن کی تلاوت کرتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان حجاب ساتر ڈالدیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ تم کو دیکھ نہیں سکتے اور (آئندہ آیت) اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس نے آپ ﷺ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا، اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے (یعنی) ایسا غلاف جو قرآن فہمی سے مانع ہوتا ہے، یعنی اس کو نہیں سمجھتا اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس کو سنتے نہیں ہیں، اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ اس سے نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں اور جب وہ کان لگا کر آپ کی قراءت استہزاء کیلئے سنتے ہیں تو ہمیں تب بھی معلوم ہے کہ وہ کیا سنتے ہیں، اور جب یہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں تب بھی، اور اِذ، ماقبل کے اذ سے بدل ہے، اور تب بھی کہ جب یہ ظالم آپس میں سرگوشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو (یعنی) ایسے شخص کی کہ جو مسحور اور مغلوب العقل ہے، دیکھو تو سہی آپ کے بارے میں کیسی کیسی مثالیں دیتے ہیں ؟ (یعنی) سحر زدہ اور کاہن اور شاعر کی مثال، اسی وجہ سے یہ لوگ ہدایت سے بھٹک رہے ہیں انھیں (خدا تک رسائی کا) راستہ نہیں ملتا اور منکرین بعث کہتے ہیں کہ کیا جب ہم ہڈی اور چورہ ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم کو نئے سرے سے پیدا کیا جائیگا آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق جو قبول حیات میں تمہارے خیال میں ہڈیوں اور ریزوں سے بھی بعید تر ہو، ہوجاؤ تو بھی تمہارے اندر وہ روح ڈال کر ہی رہے گا، تو وہ ضرور پوچھیں گے کہ وہ کون ہے جو ہم کو زندگی کی طرف لوٹائیگا (جواب میں) کہو، وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا، حالانکہ تم کچھ نہیں تھے اسلئے کہ جو ابتداء پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے بلکہ دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے تو وہ تعجب سے آپ کی طرف سرمٹکائیں گے اور پوچھیں گے، اچھا تو، یہ دوبارہ زندہ ہونا، ہوگا کب ؟ تم کہو ہوسکتا ہے کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہو، جس روز وہ تمہیں اسرافین کی زبانی قبروں سے پکارے گا تو تم اس کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے قبروں سے نکل جاؤ گے اور کہا گیا ہے کہ لہ الحمد، کہتے ہوئے نکل آؤ گے جس منظر کو تم دیکھو گے اس کی ہولناکی کی وجہ سے تمہارا گمان یہ ہوگا کہ تم دنیا میں بہت کم مدت رہے۔ تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد قولہ : وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فی ھذا القرآن، واؤ عاطفہ ہے لام قسمیہ، صَرّفَ ، متعدد معنی کیلئے استعمال ہوتا ہے یہاں بَیِّنا واَوْضحنا کے معنی میں مستعمل ہے، اس کا مفعول محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے ” وَلَقَدْ صَرَّفْنَا اَمْثالاً “۔ قولہ : ساترًا، اس میں اشارہ ہے کہ مفعول بمعنی فاعل ہے اسلئے کہ حجاب ساتر ہوتا ہے نہ کہ مستور۔ قولہ : ألفتک، بتثلیث الفاء القتل علی الغفلۃ، اچانک غفلت کی حالت میں قتل کردینا۔ قولہ : من ان یفھموا، اس میں اشارہ ہے کہ اِنْ مصدریہ ہے نہ کہ تفسیر یہ، مِن اَن یفھموا، میں من کا اضافہ یہ بتانے کے لئے کہ اَنْ یفقھوہ تقدیر من کے ساتھ اَکنّۃ کا صلہ ہے اور اَکنّۃ، مَنَعَ کے معنی کو مشتمل ہے، نہ یہ کہ أن یفقھوہ مفعول لہٗ ہے کہ حذف مضاف کی ضرورت ہو اور تقدیر عبارت یہ ہو ” کراھۃَ اَنْ یفقھوہُ “۔ قولہ : وَحْدَہٗ ، مصدر ہے موقع حال میں واقع ہے۔ قولہ : نفورًا مصدر ہے جو کہ ولّوا کا مفعول لہ واقع ہو رہا ہے۔ قولہ : اِذ یستمعون الخ اور اذھم نجویٰ یہ دونوں اَعْلَمُ کے ظرف ہیں۔ قولہ : قراءت ک، مضاف محذوف مان کر بتادیا کہ استماع کا مفعول قراءت محذوف سے اس لئے کہ ذات کا سننا محال ہے اور نہ ذات سننے کی چیز ہے۔ قولہ : مخدوعاً ، ای مسحوراً یعنی ایسا مسحور کہ سحر کی وجہ سے اس کی عقل زائل ہوگئی ہو۔ قولہ : رُفاتا، رُفات وہ شئ جو خشک ہو کر چورہ چورہ ہوجائے۔ قولہ : ینغضون انغاض (افعال) سے مضارع جمع مذکر غائب، وہ سر ہلاتے ہیں نَغْض (ض ن) اوپر سے نیچے کو سر ہلانا۔ تفسیر وتشریح ولقد صَرّفْنَا فی ھٰذا القرآن (الآ یۃ) طرح طرح سے بیان کرنے کا مطلب ہے، وعظونصیحت، دلائل وبینات، تر غیب وترہیب، اور مثال وو اقعات، غرض ہر طریقہ سے بار بار سمجھایا گیا ہے تاکہ وہ ہوش میں آئیں اور سمجھیں لیکن وہ کفرشرک کی تاریکیوں میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ حق جے قریب ہونے کے نجائے اس سے اور زیادہ دور ہوگئے ہیں، اس لئے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ قرآن، جادو، کہانت اور شاعری ہے، ایسی حالت میں وہ اس قرآن سے کہاں راہ یاب ہوسکتے ہیں ؟ کیونکہ قرآن کی مثال بارش کی سی ہے، زرخیز زمین پر پڑے تو وہ بارش سے سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے اور اگر سنگلاخ اور بنجر زمین پر پڑے تو خارو خس اگالی ہے اور اگر گندی زمین پر پڑے تو اس کی گندگی اور بدبو میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ قل لَوْکان۔۔۔۔ یقولون (الآیۃ) اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر لشکر کشی کرکے غلبہ حاصل کرلیتا ہے، اسی طرح یہ دوسرے معبود بھی اللہ پر غلبہ کی کوئی تدبیر نکالتے، اور اب تک ایسا ہوا نہیں جبکہ ان معبودوں کو پوجتے ہوئے صدیاں گذر گئیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ہی نہیں اور نہ کوئی با اختیار ہستی اور نہ کوئی نافع و ضار، مطلب یہ ہے کہ اگر معبود حقیقی کے علاوہ دیگر معبود حقیقی ہوتے تو وہ خود مالک عرش بننے کی کوشش کرتے اس لئے کہ چند ہستیوں کا خدائی میں شریک ہونا دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا، یا تو وہ سب اپنی جگہ مستقل خدا ہوں یا ان میں سے ایک اصل خدا ہو اور باقی اس کے تابع، پہلی صورت میں یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ یہ سب آزاد و خود مختار خدا، ہمیشہ ہر معاملہ میں ایک دوسرے کے ارادہ سے موافقت کرکے اس عظیم کائنات کے نظم کو اتنی مکمل ہم آہنگی ویکسانیت اور تناسب و توازن کے ساتھ چلا سکتے، ناگزیر تھا کہ ان کے منصوبوں اور ارادوں میں قدم قدم پر تصادم ہوتا اور ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا دوسری صورت تو بندہ کا ظرف، خدائی اختیارات تو درکنار خدائی کے ذرا سے وہم اور شائبہ تک کا تحمل نہیں کرسکتا۔ تسبح۔۔۔۔ (الآیۃ) کائنات میں انسانوں، فرشتوں اور جنوں کی تسبیح کا مطلب تو واضح ہے مذکورہ تینوں نوعوں کے علاوہ کی تسبیح کے بارے میں بعض علماء نے کہا ہے کہ ان کی تسبیح سے مراد تسبیح حالی ہے۔ مگر دوسرے اہل تحقیق علماء کا قول یہ ہے کہ تسبیح اختیاری تو صرف فرشتے اور مومن جن و انس کیلئے مخصوص ہے مگر تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ نے کائنات کے ذرہ ذرہ کو تسبیح خواں بنا رکھا ہے مگر ان کی اس تکوینی اور غیر اختیاری تسبیح کو عام لوگ نہیں سنتے قرآن کریم کا ارشاد ہے ” ولکن لاتفقھونَ تسبیحَھُمْ “ اس سے معلوم ہوا کہ تمام کائنات کی تسبیح حالی نہیں بلکہ حقیقی ہے مگر ہمارے فہم و ادراک سے بالاتر ہے۔ کائنات کی ہر شئ تسبیح وتحمید میں مشغول ہے : کائنات کی ہر شئ اپنے اپنے انداز میں تسبیح وتحمید میں مصروف ہے گو ہم اس کو نہ سمجھ سکیں، اس کی تائید بعض آیات قرآنی سے بھی ہوتی ہے، حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بارے میں آتا ہے ” اِنّا سخرنا الجبالَ معہ یُسبّحنَ بالعشیِّ والاشراق “ (سورۂ ص) ہم نے پہاڑوں کو داؤد (علیہ السلام) کے تابع کردیا بس وہ شام اور صبح کو اس کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں، بعض پتھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وَاِنَّ منھا لما یَھْبِطُ من خشیۃ اللہ “ (بقرہ) اور بعض (پتھر) اللہ تعالیٰ کے خوف کے مارے گرپڑتے ہیں۔ کھانے کا تسبیح پڑھنا : عبد اللہ بن مسعود بیان فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ انہوں نے کھانے کی تسبیح کی آواز سنی۔ اسطوانۂ حنانہ کا رونا : حدیث شریف میں آیا ہے کہ مسجد نبوی میں منبر بننے سے پہلے آپ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے جب لکڑی کا منبر تیار ہوگیا تو اس تنے کو آپ نے چھوڑ دیا وہ تنا بچے کی طرف زور زور سے رونے لگا آپ کے تسلی دینے کے بعد خاموش ہوا۔ (بخاری شریف) پتھر کا آپ ﷺ کا سلام کرنا : مکہ میں ایک پتھر تھا جو رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا کرتا تھا (مسلم شریف) صحیح مسلم میں حضرت جابر بن سمرہ کی روایت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں مکہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں کہ جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا اور میں اب بھی اسے پہچانتا ہوں بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سے مراد حجر اسود ہے۔ (معارف) مذکورہ روایات کے بعد اس میں کیا بعد اور استحالہ رہ جاتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز میں شعور و ادراک ہے، اور ہر چیز حقیقی طور پر اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ اگر تسبیح سے مراد تسبیح حالی ہو تو مذکورہ آیت میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی کیا تخصیص ہوگی اس سے ظاہر یہی ہے کہ یہ تسبیح قولی تھی، جیسا کہ خصائص الکبری کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ کنکریوں کا تسبیح پڑھنا معجزہ نہیں وہ تو ہرحال میں اور ہر وقت عام ہے آنحضرت ﷺ کا معجزہ یہ تھا کہ آپ کے دست مبارک میں آنے کے بعد ان کی تسبیح اس طرح ہوگئی کہ عام لوگوں نے اپنے کانوں سے سنی۔ کیا پیغمبر پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے : کسی نبی اور پیغمبر پر جادو کا اثر ہوجانا ایسا ہی ممکن ہے جیسا کہ کسی مرض کا اثر ہوجانا، اس لئے کہ انبیاء بشری خواص سے الگ نہیں ہوتے، جیسے ان کو زخم لگ سکتا ہے، بخار اور درد ہوسکتا ہے، قےؔ آسکتی ہے ایسے ہی جادو کا اثر بھی ہوسکتا ہے، اسلئے کہ وہ بھی خاص اسباب طبعیہ جنات وغیرہ کے اثر سے ہوتا ہے اور حدیث سے ثابت ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ پر جادو کا اثر ہوگیا تھا، آخری آیت میں جو کفار نے آپ کو مسحور کہا اور قرآن نے اس کی تردید کی اس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کو مسحور کہنے کا مطلب مجنون کہنا تھا، اسی کی تردید قرآن نے فرمائی ہے اس لئے حدیث سحر اس آیت کے معارض نہیں ہے۔ واذا قرأت القرآن الخ آیات مذکورہ میں سے پہلی دوسری آیت میں جو مضمون آیا اس کا ایک خاص شان نزول ہے، جو قرطبی نے سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ جب قرآن میں سورة تبت یدا ابی لھب، نازل ہوئی جس میں ابولہب کی بیوی کی مذمت مذکور ہے تو اسکی بیوی آپ ﷺ کی مجلس میں گئی اس وقت حضرت ابوبکر صدیق مجلس میں موجود تھے اس کو آتے دیکھ کر آپ ﷺ سے صحابہ نے عرض کیا کہ آپ یہاں سے ہٹ جائیں تو بہتر ہے کیونکہ یہ عورت بڑی بد زبان ہے یہ ایسی باتیں کہے گی جس سے آپ کو تکلیف ہوگی آپ نے فرمایا نہیں اسکے اور میرے درمیان اللہ تعالیٰ پردہ حائل کردیں گے، چناچہ وہ آپ کی مجلس میں پہنچی مگر رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھ سکی، تو صدیق اکبر کو مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ آپ کے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے، صدیق اکبر نے کہا واللہ وہ تو کوئی شعر ہی نہیں کتے جس میں عادۃً ہجو کی جاتی ہے تو وہ یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ تم بھی اسکی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو، اس کے چلے جانے کے بعد صدیق اکبر نے عرض کیا، کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں آپ نے فرمایا جب تک وہ یہاں رہی میرے اور اس کے درمیان ایک فرشتہ پردہ کرتا رہا۔ (معارف) ۔ اَکِنَّۃ، کنان کی جمع ہے، ایسا پردہ جو دلوں پر پڑجائے، وَقْرٌ، گراں گوشی، ثقل سماعت، ڈاٹ، بہراپن، جو قرآن سننے سے مانع ہو مطلب یہ ہے کہ ان کے دل قرآن کے سمجھنے سے قاصر اور کان قرآن سن کر ہدایت قبول کرنے سے عاجز ہیں، اور اللہ کی توحید سے تو ان کو اتنی نفرت ہے کہ توحید کا نام سنتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ وَقالواء اِذَا۔۔۔۔۔۔ لمبعوثون، مشرکین و کفار کا کہنا یہ تھا کہ اول تو مر کر دوبارہ زندہ ہونا ہی مشکل ہے اسلئے کہ مردہ جسم میں زندگی کی صلاحیت نہیں رہتی اور جب وہ جسم پھول پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر بھی ہوجائے تو اس کے زندہ ہونے کو کون مان سکتا ہے، آپ ان کے جواب میں فرما دیجئے کہ تم تو ہڈیوں ہی کی حیات کو مستعبد سمجھتے ہو ہم کہتے ہیں کہ تم پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی چیز جو تمہاری نظر میں حیات قبول کرنے میں پتھر اور لوہے سے بھی سخت ہو، ہو کر دیکھ لو، دیکھو کہ زندہ کئے جاتے ہو یا نہیں، پتھر اور لوہے کو بعید از حیات قرار دینا اس لئے ظاہر ہے کہ ان میں کسی وقت بھی حیات حیوانی نہیں آتی بخلاف ہڈیوں کے کہ ان میں پہلے کچھ وقت تک حیات رہ چکی ہے تو جب لوہے اور پتھر کو زندہ کرنا اللہ کے نزدیک مشکل نہیں تو اعضاء انسانی کو دوبارہ زندگی بخشنا کیا مشکل ہوگا۔
Ayahs 17:53–60

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داوٗد کو زبور عنایت کی۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

کہو (کہ مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے انکو بلا دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کو بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب (ہوتا) ہے اور اسکی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اسکے عذاب سے خوف رکھتے ہیں بیشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کفر کرنے والوں کی کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جا چکا ہے۔

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لیے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو۔

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لیے آزمائش کیا اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی سخت سرکشی پیدا ہوتی ہے۔

آیت نمبر 53 تا 60 ترجمہ : اور میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ کفار سے اچھی بات کہو بلاشبہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے، یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، یعنی اس کی عداوت بالکل ظاہر ہے، اور وہ کلمہ جو بہتر ہے وہ یہ کہ ” تمہارا رب تمہارے بارے میں تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ جانتا ہے، اگر وہ چاہے تو توبہ اور ایمان کے ذریعہ تمہارے اوپر رحم فرمائے یا اگر تم کو عذاب دینا چاہے تو تم کو کفر پر موت دے کر تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں اور یہ حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اور وہ آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے اور ان کے احوال کے مطابق جو چاہتا ہے ان کے ساتھ خاص کرتا ہے، اور یقیناً ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے ہر ایک کو ایک مخصوص فضیلت دے کر، مثلاً موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہم کلامی بخش کر، اور ابراہیم (علیہ السلام) کو دوستی کا مرتبہ عطا کرکے اور محمد ﷺ کو ان دونوں پر سفر اسراء کے ذریعہ (فضیلت دیکر) اور داؤد (علیہ السلام) کو ہم نے زبور عطا کی آپ ﷺ ان سے کہہ دو کہ جن کو تم اس کے علاوہ معبود سمجھتے ہو مثلاً ملائکہ اور عیسیٰ اور عزیر ان کا پکارو لیکن وہ نہ تو تم سے کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں اور نہ (بدل کر) کسی دوسرے پر ڈال سکتے ہیں اور جنہیں یہ لوگ معبود سمجھ کر پکارتے ہیں وہ خود طاعت کے ذریعہ اپنے رب سے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون ہے جو اس کے زیادہ قریب ہوجائے ؟ تو غیر اقرب کا کیا حال ہوگا ؟ (ایّھم) یتبعون کے واؤ سے بدل ہے یعنی جو اس کے قریب ہے وہ (قریب تر ہونے کا) وسیلہ تلاش کرتا ہے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور دوسروں کے مانند اسکے عذاب سے ترساں رہتے ہیں تو پھر یہ لوگ ان کو معبود ہونے کی حیثیت سے کیوں پکارتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق اور کوئی بستی ایسی نہیں مراد بستی والے ہیں کہ ہم اس کو موت کے ذریعہ قیامت سے پہلے ہلاک نہ کردیں یا قتل وغیرہ کے ذریعہ اس کو سخت عذاب نہ دیں، یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ہمیں نشانات یعنی اہل مکہ کے فرمائشی معجزات بھیجنے سے صرف اس بات نے روک رکھا ہے کہ جب ہم نے ان (فرمائشی معجزوں) کو بھیجا تھا تو ان کو پہلے لوگوں نے جھٹلا دیا تھا اور اگر ہم ان کے فرمائشی معجزے ان کے پاس بھیجتے تو یہ بھی ان کو جھٹلاتے جس کی وجہ سے مستحق ہلاکت ہوجاتے اور ہم محمد ﷺ کے مشن کو پورا کرنے کیلئے ان کو مہلت کا حکم دے چکے ہیں اور ہم نے ثمودیوں کو واضح معجزہ کے طور پر اونٹنی عطا کی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا (یعنی اس کی) ناشکری کی تو وہ ہلاک کر دئیے گئے، اور ہم تو لوگوں کو دھمکانے ہی کیلئے نشانیان معجزات بھیجتے ہیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور یاد کرو جب ہم نے آپ سے فرمایا تھا کہ بلاشبہ تیرے رب نے لوگوں کا علم اور قدرت کے اعتبار سے احاطہ کر رکھا ہے تو وہ اس کے قبضہ میں ہیں، آپ ان کو تبلیغ کرتے رہیے اور کسی کا خوف نہ کیجئے، وہ تمہاری ان سے حفاظت کرے گا، رات کے سفر میں جو کچھ ہم نے آپ کو بچشم سر دکھایا وہ اہل مکہ کیلئے محض آزمائش ہے اس لئے کہ انہوں نے اس کی تکذیب کردی اور جب ان کو (واقعہ کی) خبر دی گئی تو بعض (ضعیف الایمان) ان میں سے مرتد ہوگئے اور اس درخت کو بھی کہ جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے اور وہ زقوم (تھوہر) کا درخت ہے کہ جو جہنم کے نچلے طبقہ میں اگا ہے اس کو بھی ہم نے ان کیلئے آزمائش بنادیا جبکہ انہوں نے کہا آگ تو درخت کو جلا دیتی ہے تو پھر اس کو کس طرح اگائے گی، ہم ان کو اس کے ذریعہ ڈرا رہے ہیں مگر ہمارا ڈرانا انھیں (اور) بڑی سرکشی پر ابھار رہا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الکلمۃ التی ھِیَ احسن، اَلّتی اسم موصول ھِیَ مبتداء احسن اس کی خبر مبتداء خبر سے مل کر جملہ ہو کر صلہ، موصول صلہ سے مل کر صفت الکلمۃ محذوف کی، موصوف صفت سے مل کر مقولہ۔ قولہ : یقولوا کا، مفسر علام نے الکلمۃ محذوف مان کر اَلَّتی کی وجہ تانیث کی طرف اشارہ کردیا۔ قولہ : ھِیَ ربکم اعلم الخ الکلمۃ التیھی احسن کی تفسیر ہے، اور درمیان میں جملہ معترضہ ہے، لہٰذا مفسر اور مفسر کے درمیان فصل کا اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : بما شاء ای بالنبوۃ وغیرھا۔ قولہ : وآتینا داؤد زبوراً ، اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ ان پر بذریعہ وحی زبور نازل کی گئی نہ کہ ان کے ملک و مال کی وجہ سے۔ قولہ : اولئک الذین یدعون ھم، اولئک اسم اشارہ موصوف، الّذین اسم موصول، یدعون فعل بافاعل ھم ضمیر صلہ مفعول محذوف آلھۃً ، ھم سے تمیز، یدعون اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر صلہ، موصول صلہ سے مل کر جملہ ہو کر اولئک موصوف کی صفت موصوف صفت سے مل کر مبتداء یبتغون الی ربھم الوسیلۃ جملہ ہو کر مبتداء کی خبر۔ دوسری ترکیب : اولئک مبدل منہ اور الذین یدعون بدل، بدل مبدل منہ سے مل کر مبتداء اور یبتغون جملہ ہو کر اس کی خبر۔ قولہ : اَیُّھُمْ ، اقرَبُ ، مبتداء خبر ہیں، اور یہ بھی درست ہے کہ اَیُّھُمْ یبتغون کی ضمیر سے بدل ہو، ای یبتغی مَنْ ھو اقرب الیہ تعالیٰ الوسیلۃَ فکیف من دونہ : مفسر علام سیوطی نے یہی ترکیب اختیار کی ہے۔ قولہ : مبصِرۃ، مبصِرَۃً آیۃ موصوف محذوف کی صفت ہے نہ کہ الناقۃ کی لہٰذا موصوف و صفت میں عدم مطابقت کا اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : عیانا، اس میں اشارہ ہے کہ رؤیا معنی میں رویت بصری کے ہے۔ قولہ : الشجرۃ، اس کا عطف الرؤیا پر ہے، یعنی ہم نے دونوں کو وجہ آزمائش بنایا۔ قولہ : الشجرۃ الملعونۃ، اس میں مجاز ہے یعنی لعنت شجر پر نہیں بلکہ شجر کے کھانے والے پر ہوگی اسلئے کہ شجر پر لعنت کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ تفسیر و تشریح بدزبانی اور تلخ کلامی کفار کے ساتھ بھی جائز نہیں : زبان کی ذرا سی بےاعتدالی سے شیطان جو تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے تمہارے درمیان فساد ڈلوا سکتا ہے، آپس میں گفتگو کرتے وقت زبان کو احتیاط سے استعمال کریں، زبان سے اچھے اور مہذب کلمات نکالیں شیریں کلامی اور نرم گفتاری سے انسان دشمن کے دل کو بھی جیت سکتا ہے، اگر کفار و مشرکین اور اہل کتاب سے گفتگو کی ضرورت پیش آئے تو ان سے بھی مشفقانہ اور نرم لہجے میں گفتگو کریں، زبان کی ذرا سی بےاحتیاطی کفار و مشرکین کے دلوں میں تمہارے لئے زیادہ بغض وعناد پیدا کرسکتی ہے، گالی گلوچ اور سخت کلامی سے نہ کوئی قلعہ فتح ہوتا ہے اور نہ کسی کو ہدایت ہوتی ہے اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے۔ شان نزول : امام قرطبی نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت عمر ؓ کے ایک واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت عمر ؓ کو گالی دی اسکے جواب میں حضرت عمر ؓ نے بھی اس کو سخت جواب دیا اور اس کے قتل کا ارادہ کیا اس کے نتیجے میں دو قبیلوں کے درمیان جنگ چھڑ جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ولقد فضلنا۔۔۔۔۔۔ بعض، یہ مضمون تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض میں بھی گذر چکا ہے اسی مضمون کو یہاں کفار مکہ کے جواب میں دہرایا گیا ہے، جو کہتے تھے کہ کیا اللہ کو رسالت کیلئے یہی (محمد ﷺ ملا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کسی کو رسالت و نبوت کیلئے منتخب کرنا اور کسی نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت دینا یہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ قل ادعوا۔۔۔ الخ، اس آیت میں من دونہ سے مراد فرشتوں اور بزرگوں کے وہ مجسمے ہیں جن کی وہ بندگی کیا کرتے تھے، یا حضرت عزیز و مسیح (علیہما السلام) ہیں جنہیں یہودی اور عیسائی ابن اللہ کہتے اور انھیں صفات الوہیت کا حامل مانتے تھے یا وہ جنات ہیں جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے، اسلئے اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ یہ تو خود اپنے رب کا قرب حاصل کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وما منعنا أن۔۔۔۔ الالون، یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کفار مکہ نے مطالبہ کیا کہ کوہ صفا کو سونے کا بنادیا جائے یا مکہ کے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا جائے، تاکہ وہاں کاشت ہو سکے، اس پر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ ان کے مطالبات ہم پورے کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن اس کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو ان کو ہلاکت یقینی ہے، اور پھر انھیں مہلت نہیں دی جائے گی، نبی ﷺ نے بھی اس بات کو پسند فرمایا کہ ان کا مطالبہ پورا نہ کیا جائے تاکہ یہ یقینی ہلاکت سے بچ جائیں۔ وما جعلنا۔۔۔۔۔ للناس، صحابہ اور تابعین نے اس رؤیا کی تعبیر رویت بصری سے کی ہے، اور مراد اس سے معراج کا واقعہ ہے جو کمزور ایمان والوں کیلئے فتنے کا باعث بن گیا، جس کی وجہ سے وہ مرتد ہوگئے، اور درخت سے مراد زقوم (تھوہر) کا درخت ہے جس کا مشاہدہ نبی ﷺ نے شب معراج جہنم میں کیا، الملعونۃ سے مراد کھانے والوں پر لعنت ہے۔
Ayahs 17:61–70

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا بولا بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزاء جہنم ہے (اور وہ) بری سزا ہے۔

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدہ کرتا رہ اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکہ ہے۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر ﷺ تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے۔

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بیشک وہ تم پر مہربان ہے

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا۔

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلا دے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ۔

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا (اس سے) بےخوف ہو کہ تم کو دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا (اچھا) جا، تجھے نفخۂ اولی تک مہلت ہے، تو جو ان میں سے تیری پیروی کرے گا تم سب کی پوری سزا جہنم ہے، لہٰذا تو جس جس کو ان میں سے گاجے باجے اور ہر ذریعہ معصیت سے دعوت دے کر پھسلا سکتا ہے پھسلا لے اور ان پر تو اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا (یعنی ہر حربہ استعمال کرلے) اور خیل سے مراد گھوڑ سوار اور مشاۃ سے مراد پیادے ہیں، اور حرام مال میں مثلاً سود کا مال اور غصب کا مال اور زنا کی اولاد میں اپنا حصہ لگالے اور ان سے وعدے کرلے کہ نہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے اور نہ کوئی حساب کتاب ہے اور شیطان ان سے جو وعدے کرتا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں، میرے مومن (مخلص) بندوں پر تیرا قابو اور زور نہ چلے گا اور آپ کا رب ان کی حفاظت کیلئے تیری طرف سے کافی ہے، تمہارا رب تو وہ ہے کہ جو دریا میں تمہاری کشتی چلاتا ہے تاکہ تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل (روزی) تلاش کرو حقیقت یہ ہے کہ وہ کشتیوں کو تمہارے تابع کرکے تمہارے حال پر مہربان ہے اور جب سمندر میں تم پر غرق ہونے کے خوف کی مصیبت آتی ہے تو اس وقت تم سے وہ سب غائب ہوجاتے ہیں جن جن معبودوں کی تم بندگی کرتے تھے تو اس وقت تم اسی ایک معبود کو پکارتے ہو (یعنی) اس وقت تم اسی ایک وعدہٗ (لاشریک) کو پکارتے ہو اسلئے کہ (اس وقت) تم ایسی مصیبت میں ہوتے ہو کہ اس کو صرف وہی دور رکھ سکتا ہے پھر جب تم کو ڈوبنے سے بچا لیتا ہے اور تم کو خشکی میں پہنچا دیتا ہے تو تم توحید سے رخ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی نعمتوں کا ناشکرا تو کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ قارون کے مانند زمین میں دھنسا دے یا تم پر کنکریلی تیز ہوا چلا دے یعنی قوم لوط کے مانند تم پر سنگباری کر دے، پھر تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پاؤ، اور کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ وہ پھر تم کو دریا میں لیجائے اور تم پر طوفانی ہوا چلا دے یعنی ایسی تند ہوا کہ جس پر بھی گذرے اس کو توڑ کر رکھ دے، اور تمہاری کشتیوں کو بھی توڑ دے، پھر تم کو تمہارے کفر کے سبب غرق کر دے پھر تم کو اس بات پر کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا بھی نہ ملے یعنی کوئی مددگار، یا ایسا حمایتی کہ جو کچھ ہم نے تمہارے ساتھ کیا ہے اس سلسلہ میں ہم سے باز پرس کرسکے، اور ہم نے اولاد آدم کو علم نطق کے ذریعہ اور اعتدال خلق وغیرہ کے ذریعہ عزت بخشی اور اسی میں تم کو موت کے بعد پاک کرنا بھی ہے اور ہم نے ان کو خشکی میں جانوروں پر سوا کیا اور دریا میں کشتیوں پر سوار کیا، اور ان کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی جیسا کہ پالتو اور وحشی جانور، مَنْ بمعنی ما ہے یا اپنے حال پر ہے اور یہ فوقیت فرشتوں پر بھی شامل ہے اور مراد فضیلت جنس علی الجنس ہے، اور اس لئے اس کے افراد کی فضیلت لازم نہیں اسلئے کہ ملائکہ انبیاء کے علاوہ ہر بشر سے افضل ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اَخبرنی، أَرَاْیتَکَ ، کاف حرف خطاب ہے نہ کہ اسم بلکہ فاعل مخاطب کی اسناد کی تاکید ہے لہٰذا اس کا کوئی محل اعراب نہیں ہے، اور ھذا، أرایتکَ کا مفعول اول ہے اور الذی کرّمْتَ ھذا کی صفت ہے اَرأیتکَ کا مفعول ثانی محذوف ہے اور وہ لِمَ کرّمْتَ عَلَیَّ ہے اس حذف پر صفت دلالت کر رہی ہے۔ قولہ : فضَّلْتَ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : کرّمْتَ کی تفسیر فضَّلْتَ سے کیوں کی ؟ جواب : اس لئے کہ تکریم کا صلہ علیٰ واقع نہیں ہوتا۔ قولہ : مُنْظَرًا، ای مُمَھّلاً ، اِذھب، ذھاب سے نہیں ہے جو المجئ کی ضد ہے، بلکہ اس کے معنی ہیں امض لشانک الذی اخترتہٗ یعنی جو تو نے ارادہ کیا ہے تو وہ کر گذر۔ قولہ : انتَ وھم یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ منھم میں ھم جمع غائب کی ضمیر ہے اور جزاء کم میں کم جمع حاضر کی، دونوں میں مطابقت نہیں ہے۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ اصل اِنَّ جھنم جزاءک وجزاءُھم تھا پھر مخاطب کا غائب پر غلبہ دیدیا، لہٰذا دونوں ضمیروں میں مخالفت کا اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : استفزز (استفعال) امر واحد مذکر حاضر، تو گھبرا لے۔ قولہ : لَاحْتنِکَنَّ (اِحتناک افتعال) میں ضرور ڈھانٹی لونگا، میں ضرور قابو میں کروں گا، میں ضرور لگام لگاؤں گا، صیغہ واحد متکلم مضارع بانون تاکید ثقیلہ۔ قولہ : لاستاصلنَّ میں پوری طرح بیخ کنی کردوں گا، جڑے سے اکھاڑ پھینکوں گا۔ قولہ : اَوْصَلکم۔ سوال : نجاکم کی تفسیر اوصلکم سے کیوں کی۔ جواب : چونکہ نجاکم کا صلہ الی نہیں آتا اور یہاں صلہ اِلیٰ واقع ہو رہا ہے جو کہ درست نہیں ہے جس کی وجہ بتادی کہ نجاکم، اوصلکم کے معنی کو متضمن ہے، جس کا صلہ اِلیٰ آتا ہے۔ قولہ : الحصباء ای الحصاۃ۔ قولہ : بکفرکم اس میں اشارہ ہے کہ بما کفرتم میں ما مصدریہ ہے لہٰذا عدم عائد کا اعتراض واقع نہ ہوگا۔ قولہ : اعتدال الخلقِ ، اور اعتدال ہی کی وہ بات ہے جو ابن عباس ؓ نے ذکر کی ہے، کہ ہر حیوان منہ جھکا کر کھاتا ہے مگر انسان کھانے کی طرف منہ جھکانے کے بجائے کھانے کو منہ کی طرف اٹھاتا ہے۔ قولہ : المراد تفضیل الجنس، یہ اضافہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ مطلقا تمام بنی آدم مطلقاً تمام فرشتوں سے افضل ہیں۔ جواب : جنس بنی آدم کی جنس ملائکہ پر فضیلت مراد ہے یعنی خاص فرشتے عام انسانوں سے افضل ہیں نہ کہ خاص انسانوں سے مثلاً انبیاء سے۔ تنبیہ : اگر لفظ ” علیٰ کثیرٍ “ کو مدنظر رکھا جائے تو یہ اعتراض ہی پیدا نہیں ہوگا۔ تفسیر و تشریح واستفزر۔۔۔۔ (الآیۃ) شیطانی آواز سے کیا مراد ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ گانے بجانے اور مزا میر اور لہو و لعب کی آوازیں یہی شیطان کی آوازیں ہیں جن کے ذریعہ وہ لوگوں کو حق سے دور و لاتعلق کرتا ہے (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ مزامیر، مو سیقی اور رقص وسر ودسب حرام ہیں، آدم علیہ اصلا ۃ واسلام وابلیس کا قصہ سورة بقرہ، اعراف اور حجر میں گذر چکا ہے یہاں چوتھی مرتبہ آیا ہے، علاوہ ازیں سورة کہف، طہ اور سورة ص میں بھی اس کا ذکر آئیگا۔ ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ سے انکار کرتے وقت دو باتیں کہی تھیں، اولؔ یہ کہ آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کئے گئے، اور میں آگ کی مخلوق ہوں، آپ نے مٹی کو آگ پر فوقیت و فضیلت کیوں دیدی ؟ یہ امر الٰہی کے مقابلہ میں حکم کی حکمت معلوم کرنے کے متعلق سوال تھا جس کا کسی مامور کا حق نہیں ہوتا یہ سوال ہی قابل التفات نہیں تھا اسلئے کہ غلام کو آقا سے کسی حکم کی علت یا حکمت معلوم کرنے کا اختیار نہیں ہوتا یہی وجہ ہے اس سوال کو ناقابل التفات سمجھ کر جواب نہیں دیا گیا دوسریؔ بات یہ ہے کہ فوقیت و فضیلت دینے کا حق اسی ذات کو ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تربیت کی ہو، دوسری بات یہ کہی تھی کہ اگر تاقیامت زندگی ملنے کی میری درخواست منظور کرلی گئی تو میں آدم (علیہ السلام) کی ساری اولاد کو بجز قدر قلیل کے گمراہ کر ڈالوں گا، حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ میرے مخلص بندوں پر تیرا قابو نہ چلے گا چاہے تو اپنا سارا الاؤ لشکر لے کر ان پر چڑھ دوڑے، باقی رہے غیر مخلص اگر وہ تیرے قابو میں آگئے تو ان کا بھی وہی حال ہوگا جو تیرا ہے، کہ عذاب جہنم میں دونوں گرفتار ہونگے شیطانی لاؤ لشکر کیلئے یہ ضروری نہیں کہ حقیقت میں اس کا سوار و پیاروں کا کوئی لشکر ہو یہ تو ایک محاورہ ہے جو پورا زور صرف کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ وشارکھم۔۔۔ والاولاد، لوگوں کے مال اور اولاد میں شیطان کی شرکت کا مطلب حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بیان فرمایا کہ اموال میں جو مال ناجائز اور حرام طریقوں سے حاصل ہو یا حرام کاموں میں صرف کیا جائے یہی شیطان کی اس میں شرکت ہے اور اولاد میں شیطان کی شرکت، اولاد کے حرام ہونے سے بھی ہے اور یہ بھی کہ اولاد کے مشرکانہ نام رکھے، مثلاً عبد العزیٰ ، پیر بخش، نبی بخش وغیرہ یا ان کی حفاظت کیلئے مشرکانہ رسوم ادا کرے یا ان کی پرورش کیلئے حرام ذرائع آمدنی اختیار کرے۔ ولقد کرمنا بنی آدم (الآیۃ) بنی آدم کا یہ شرف و فضل بہ حیثیت انسان کے ہر انسان کو حاصل ہے خواہ مومن ہو یا کافر، کیونکہ یہ شرف دوسری مخلوقات، حیوانات، جمادات و نباتات وغیرہ کے مقابلہ میں ہے اور یہ شرف متعدد اعتبار سے ہے، جس طرح کی شکل و صورت، قدروقامت اور ہیئت اللہ تعالیٰ کو عطا فرمائی ہے وہ کسی دوسری مخلوق کو عطا نہیں فرمائی، جو عقل انسان کو دی گئی ہے جس کے ذریعہ اس نے اپنے آرام و راحت کیلئے بیشمار چیزیں ایجاد کیں حیوان وغیرہ اس سے محروم ہیں۔
Ayahs 17:71–77

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم سب لوگوں کو انکے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) راستے سے بہت دور۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ﷺ جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے۔

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اس وقت ہم تم کو زندگی میں بھی (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا عذاب چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین میں (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلا وطن کردیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے انکا (اور انکے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق تغیر و تبدل نہ پاؤ گے۔

آیت نمبر 71 تا 77 ترجمہ : اس دن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس دن ہم ہر گروہ (امت) کو اس کے نبی کے ساتھ بلائیں گے، یوں کہا جائے گا اے فلاں نبی کی امت یا ان کو ان کے نامۂ عمل کے ساتھ بلایا جائیگا، یوں ندا دی جائے گی اے صاحب خیر اور اے صاحب شر اور وہ قیامت کا دن ہوگا، تو ان میں سے جس کو دائیں ہاتھ میں نامہ عمل دیا جائیگا تو یہ لوگ خوش نصیب اور دنیا میں صاحب بصیرت تھے تو وہ لوگ اپنے اعمال ناموں کو (خوشی خوشی) پڑھیں گے اور ان کے اعمال میں سے گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کمی نہ کی جائے گی اور جو اس دنیا میں حق (بینی) سے اندھا رہا ہوگا تو وہ آخرت میں بھی راہ نجات اور نامۂ عمل کے پڑھنے سے اندھا رہے گا اور زیادہ گم کردۂ راہ ہوگا، یعنی راہ راست سے بہت دور ہوگا، اور (آئندہ) آیت بنی ثقیف کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے نبی ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان کی وادی (طائف) کو حرم بنادیں اور اس بات پر اصرار کیا اور بلاشبہ قریب تھا کہ یہ لوگ آپ کو اس وحی سے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہٹا دیں (بچلا دیں) تاکہ آپ ہماری طرف اس کے علاوہ کی گھڑ کر نسبت کردیں اگر آپ ان کے کہنے کے مطابق کرلیتے تب تو یہ لوگ آپ کو اپنا دوست بنا لیتے اور اگر حفاظت کے ذریعہ ہم آپ کو حق پر قائم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ آپ ان کی شدید حیلہ گری اور ان کے اصرار کی وجہ سے ان کی طرف کچھ نہ کچھ مائل ہوجاتے یہ اس بات میں صریح ہے کہ نہ تو آپ مائل ہوئے اور نہ مائل ہونے کے قریب ہوئے اور اگر آپ مائل ہوجاتے تو ہم آپ کو ضرور چکھاتے دوگنا عذاب دنیا میں اور دوگنا عذاب مرنے میں اس کا دو گنا جو دوسروں کو دنیا و آخرت میں دیا جاتا پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے یعنی اس عذاب سے بچانے والا، اور (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی کہ جب یہود نے آپ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو شام چلے جاؤ اسلئے کہ وہ انبیاء کی سرزمین ہے اور بلاشبہ یہ بات قریب تھی کہ یہ لوگ آپ کے قدم ارض مدینہ سے اکھاڑ دیں تاکہ آپ کو مدینہ سے نکال دیں، اگر یہ لوگ آپ کو نکال دیتے تو یہ خود بھی آپ کے بعد مدینہ میں نہ ٹھہر پاتے مگر بہت کم مدت پھر ان کو ہلاک کردیا جاتا ایسا ہی دستور ان رسولوں کا تھا جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا، یعنی ان لوگوں کو ہلاک کرنے کے ہمارے دستور کے مطابق جنہوں نے ان (انبیاء) کو نکالا، اور آپ ہمارے دستور میں تبدیلی نہ پائیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اُناس، لوگ، نَوْس، لوگ، نَوْسٌ سے ماخوذ ہے جس کے معنی حرکت کرنے کے ہیں، یہ انسانٌ کی جمع بغیر لفظہ ہے مصباح میں ہے کہ انسان ناس سے ماخوذ ہے اور یہ اسم جنس ہے اس کا اطلاق مذکر اور مؤنث واحد اور جمع سب پر ہوتا ہے۔ قولہ : یا صاحب الشر، اس میں مضاف محذوف ہے ای یا صاحب کتاب الشر۔ قولہ : یقرءون ای یقرءون سُرورًا، خوشی خوشی پڑھیں گے۔ قولہ : قدر قشرۃ النواۃ، مفسر علام نے فتیلاً ، کی تفسیر قشرۃ النواۃ سے کی ہے، بہتر ہوتا کہ الخیط الذی فی نقرۃ النواۃ النواۃ طولاً ، سے کرتے اس لئے کہ کھجور کی گٹھلی میں تین چیزیں ہوتی ہیں، (1) فتیل (2) قطمیر (3) نقیر، فقیلؔ اس دھاگے یا ریشے کو کہتے ہیں جو گٹھلی کی پشت میں طولا ایک شق میں ہوتا ہے اور گٹھلی کے اوپر جو جھلی کے مانند ایک غلاف ہوتا ہے اسے قطمیر کہتے ہیں اور گٹھلی کی پشت میں ایک سوراخ ہوتا ہے اس میں جو ریشہ یا دھاگہ ہوتا ہے اس کو نقیرؔ کہتے ہیں۔ (اعراب القرآن للدرویش) قولہ : ابعد طریقا عنہ ای ابعد طریقاً عن الاعمیٰ فی الدنیا، یعنی اندھا جس طرح راستہ دیکھنے سے بعید ہوتا ہے کافر آخرت میں راہ نجات دیکھنے میں بعید تر ہوگا۔ قولہ : رکوناً ، اس میں اشارہ ہے کہ شیئاً مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے نہ کہ مفعول بہ ہونے کی وجہ ہے اسلئے کہ ترکن لازم ہے نہ کہ متعدی، شیئاً کا موصوف رکوناً محذوف ہے۔ قولہ : یستفزونکَ ، ای لیزعجونَکَ ، (استفزاز استفعال) سے مضارع جمع مذکر غائب کی ضمیر مفعول، تمہارے قدم اکھاڑ دیں۔ تفسیر و تشریح یوم ندعوا۔۔۔ بامامھم، امام کے معنی پیشوا، لیڈر، قائد کے ہیں، یہاں اس سے کیا مراد ہے ؟ اس میں اختلاف ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد پیغمبر ہے یعنی ہر امت کو اس کے نبی کے حوالہ سے پکارا جائیگا، اے فلاں نبی کی امت، بعض نے کہا اس سے آسمانی کتاب مراد ہے، یعنی آسمانی کتاب کے حوالہ سے پکارا جائے گا، اے توریت والو، اے زبور والو، اے انجیل والو، اے قرآن والو، وغیرہ وغیرہ، بعض نے کہا ہے کہ یہاں امام سے مراد اعمال نامہ ہے یعنی ہر شخص کو جب بلایا جائیگا تو اس کا اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اسی کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائیگا، اس رائے کو ابن کثیر نے ترجیح دی ہے۔ وان کادوا۔۔۔۔ الیک، یہ ان حالات کی طرف اشارہ ہے جو پچھلے دس بارہ سال سے نبی ﷺ کو مکہ میں پیش آرہے تھے کفار مکہ اس بات پر تلے ہوئے تھے کہ جس طرح بھی ہو آپ کو توحید کی اس دعوت سے ہٹا دیں جسے آپ کر رہے ہیں اور کسی نہ کسی طرح آپ کو مجبور کردیں کہ آپ ان کے شرک اور رسوم جاہلیت سے کچھ نہ کچھ سمجھوتہ کرلیں اس غرض سے انہوں نے آپ کو ڈرانے کی ہر کوشش کی، فریب بھی دئیے اور لالچ بھی، دھمکیاں بھی دیں اور وعدے بھی کئے، جھوٹا طوفان بھی اٹھایا اور ظلم و ستم بھی کیا ؟ معاشی دباؤ بھی ڈالا، اور سماجی مقاطعہ بھی، غرضیکہ وہ سب کچھ کر ڈالا جو کسی انسان کے عزم و حوصلہ کو شکست دینے کیلئے کیا جاسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ساری روداد پر تبصرہ کرتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرمائیں ہیں، ایک یہ کہ اگر تم حق کو جان لینے کے بعد باطل سے کوئی سمجھوتا کرلیتے تو یہ بگڑی ہوئی قوم تو ضرور خوش ہوجاتی، مگر خدا کا غضب تم پر بھڑک اٹھتا، اور تمہیں دنیا و آخرت میں دوہری سزا دی جاتی، اور دوسرےؔ یہ کہ انسان خواہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو خود اپنے بل بوتے پر باطل کے طوفانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا جبتک کہ اللہ کی مدد اور اس کی توفیق شامل حال نہ ہو، یہ سراسر اللہ کا بخشا ہوا صبر و ثبات تھا جس کی بدولت نبی ﷺ حق و صداقت کے موقف پر پہاڑ کی طرف جمے رہے اور کوئی سیلاب بلا آپ کو بال برابر بھی جگہ سے نہ ہٹا سکا۔ وان کادوا۔۔۔۔ منھا، یعنی مشرکین مکہ کی پوری کوشش یہ ہے کہ آپ کو تنگ کرکے مکہ سے نکال دیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ اگر ایسا کیا تو وہ خود بھی زیادہ دنوں تک یہاں نہ رہ سکیں گے، چناچہ اہل مکہ کا ظلم و ستم آپ کی ہجرت کا سبب بنا آپ کا مکہ سے تشریف لیجانا تھا کہ اس کے ڈیڑھ دو سال بعد ہی مکہ کے بڑے نامور ستر سردار گھروں سے نکال کر میدان بدر میں ہلاک کر دئیے گئے اور اتنے ہی قیدی بنائے گئے اور اس کے صرف پانچ چھ سال بعد مکہ پر السام کا قبضہ ہوگیا بالآخر قلیل مدت میں پورا جزیرۃ العرب مشرکین سے پاک ہوگیا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مدینہ کا ہے کہ یہود مدینہ ایک روز آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے ابو القاسم، اگر آپ اپنی نبوت کے دعوے میں سچے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ شام جاکر رہیں کیونکہ ملک شام ہی انبیاء کی سرزمین ہے اور شام ہی محشر کی زمین ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر ان کے کلام کا کچھ اثر ہوا اور غزوۂ تبوک کے وقت جو ملک شام کا سفر ہوا تو آپ کا قصد یہ ہوا کہ ملک شام کو اپنا مستقر بنالیں مگر یہ آیت نازل ہوئی ” وان کادوا لیستفزونک “ جس نے آپ کو اس ارادہ سے روک دیا، مگر ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کرکے ناقابل اطمینان قرار دیا ہے۔