17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 17:11–22

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے، رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن، تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو، اور ہم نے ہر چیز کی (بخوبی) تفصیل کردی ہے

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو (بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

(کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے،

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش) پر مامور کردیا، تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے، پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی امتوں کو ہلاک کر ڈالا اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں، پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے، جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہو اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم ان کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں، اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے، اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اور) خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بیکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے

آیت نمبر 11 تا 22 ترجمہ : اور انسان جب تنگ دل ہوجاتا ہے تو اپنے اہل و عیال کیلئے اسی طرح بد دعاء کرتا ہے جس طرح وہ ان کیلئے دعاء خیر کرتا ہے اور ہر انسان اپنے لئے بددعاء کرنے میں جلد باز اور نا عاقبت اندیش واقع ہوا ہے اور ہم نے رات اور دن کو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں بنایا، تو ہم نے رات کی نشانی کی تاریک بنایا یعنی ہم نے اسکے نور کو ظلمت سے مٹا دیا، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو اور (آیۃ اللیل) میں اضافت بیانیہ ہے، اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا، یعنی ایسی کہ اس میں روشنی کی وجہ سے نظر آسکے، تاکہ تم کسب کے ذریعہ اس میں اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو، اور تاکہ تم انکے ذریعہ سالوں کی گنتی اور اوقات کا حساب کرسکو اور ہم نے ہر ضرورت کی چیز کو پوری تفصیل سے بیان کردیا ہے یعنی کھول کھول کر بیان کردیا ہے، اور ہم نے ہر انسان کے عمل کو اس کے گلے کا ہار بنادیا ہے جس کو وہ اٹھائے ہوئے ہے (گلے) کو خاص طور پر ذکر کیا ہے اس لئے کہ گلے میں لزوم شدید تر ہوتا ہے اور مجاہد نے کہا ہے کہ کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا الایہ کہ اس کی گردن میں ایک نوشتہ ہوتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ وہ بدنصیب ہے یا خوش نصیب ہے اور قیامت کے دن ہم اس کا اعمال نامہ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں گے جس میں اس کے عمل لکھے ہوں گے، جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا (یلقاہ اور منشورا) کتاب کی صفت ہیں اور اس سے کہا جائیگا تو اپنا نامہ عمل خود پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا محاسب ہونے کے اعتبار سے کافی ہے جس نے ہدایت پائی وہ اپنے ہی فائدہ کیلئے ہدایت پاتا ہے اس لیے کہ اس کی ہدایت کا چواب اسی کیلئے ہے اور جو راہ سے بھٹکا تو بھٹکنے کا نقصان اسی کیلئے ہے اس لئے کہ گمراہی کا گناہ اسی پر ہے اور کوئی گنہگار شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہ اٹھائیگا اور ہماری سنت نہیں ہے کہ ہم کسی کو، رسول بھیجنے سے پہلے کہ جو اس کے واجبات کو بتائے عذاب کرنے لگیں اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کرلیتے ہیں تو اس بستی کے خوشحال لوگوں یعنی اس بستی کے سرداروں کو اپنے رسول کے ذریعہ طاعت کا حکم کرتے ہیں تو وہ اس طاعت کی نافرمانی کرنے لگتے ہیں یعنی ہماری حکم عدولی کرنے لگتے ہیں تو ان پر عذاب کا فیصلہ نافذ ہوجاتا ہے تو ہم ان کو پوری طرح نیست و نابود کردیتے ہیں، یعنی اس بستی کے باشندوں کو ہلاک کرکے، اور اس بستی کو برباد کرکے نیست و نابود کردیتے ہیں، اور نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا اور تیرا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونے اور سب کچھ دیکھنے کے اعتبار سے کافی ہے یعنی ظاہر اور پوشیدہ گناہوں سے واقف ہے اور خبیر اور بصیر کے ساتھ بذنوب متعلق ہے، پیش نظر نسخہ میں ایسا ہی ہے (غالبًا یہ سہو ہے، اصل عبارت یہ ہونی چاہیے، ” وبذنوب یتعلق بخبیراً وبصیراً ) اور جو شخص اپنے عمل کا بدلہ دنیا ہی میں چاہتا ہے تو ہم جتنا چاہتے ہیں اور جس کو فوری دینا چاہتے ہیں تو سردست دیدتے ہیں، لمن نرید، لَہٗ سے اعادۂ جار کے ساتھ بدل ہے پھر اس کیلئے آخرت میں جہنم مقرر کردیتے ہیں جس میں وہ ذلیل و مردود ہو کر داخل ہوگا اور جس کا رادہ آخرت کا ہو اور اس نے اس کے لائق عمل بھی کیا ہو حال یہ کہ وہ مومن بھی ہو یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے اعمال کی اللہ کے نزدیک قدر ہے یعنی مقبول اور ماجور ہیں، اور ہم دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو ان کو بھی اور ان کو (سامان زیست) دئیے جا رہے ہیں (ھٰؤلاء وھٰؤلاء) کلاًّ سے بدل ہے اور مِنْ ، نمدُّ کے متعلق ہے دنیا میں یہ تیرے رب کا عطیہ ہے اور دنیا میں تیرے رب کی عطا کو کوئی روکنے والا نہیں یعنی کسی سے (کوئی) روکنے والا نہیں، دیکھ لو ہم نے رزق اور مرتبہ میں بعض کو بعض پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت تو درجات کے اعتبار سے دنیا سے فضیلت میں بہت بڑی ہے لہٰذا آخرت کی طرف توجہ کی ضرورت ہے نہ کہ دنیا کی طرف تو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ٹھہراو ورنہ ملامت زدہ اور بےیارومددگار ہو کر بیٹھا رہ جائے گا، کہ تیرا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الجنس، اس میں اشارہ ہے کہ الانسان میں الف لام جنس کا ہے نہ کہ استغراق کا، لہٰذا اب یہ اعتراض واقع نہیں ہوگا کہ سب انسان بد دعاء میں عجول نہیں ہوتے۔ قولہ : الاضافۃ للبیان یعنی آیۃ اللَّیْل میں اضافت بیانیہ ہے، یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ مضاف، مضاف الیہ کا غیر ہوا کرتا ہے حالانکہ آیۃَ اللَّیْل میں مضاف اور مضاف الیہ ایک ہی ہیں جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ اضافت بیانیہ ہے اور یہ اضافت عدد الی المعدود کے قبیل سے ہے جیسا کہ عشر سنین میں اضافت بیانیہ ہے، آیۃَ النھار میں بھی یہی صورت ہے۔ قولہ : ای مُبْصَرًا فیھا، اس میں مجاز عقلی ہے، اسلئے کہ دن نہیں دیکھتا بلکہ دن میں دیکھا جاتا ہے علاقہ ظرفیت کی وجہ سے دیکھنے کی اضافت نہار کی طرف کردی گئی ہے، یعنی اسم فاعل بول کر ظرف مراد ہے۔ قولہ : بالضوء ای بسبب الضوء ہے۔ قولہ : اَلْزمناہ طائرہ فی عنقہٖ ، شدت لزوم کو بیان کرنے کیلئے یہ ایک عربی تعبیر ہے، عرب کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو وہ پرندہ سے شگون لیتے تھے، اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ پرندہ ازخود اڑے یا اڑایا جائے اگر وہ اڑ کر دائیں جانب گیا تو اس کو نیک فالی سمجھتے تھے اور اس کام کو کرتے تھے جب عرب میں یہ رواج عام ہوگیا تو نفس خیر و شر ہی کو طائر سے تعبیر کرنے لگے اور یہ تسمیۃ الشئ باسم لازمہ کے قبیل سے شمار ہوتا۔ قولہ : خصَّ بالذکر الخ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اعمال پورے انسان کیلئے لازم ہوتے ہیں نہ کہ صرف گردن کیلئے حالانکہ یہاں اعمال کو گردن کیلئے لازم کہا گیا ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح قلادہ (گلے کا ہار) گلے کیلئے عام طور پر لازم غیر منفک ہوتا ہے اسی طرح انسان کے اعمال انسان کیلئے لازم ہوتے ہیں، اس تعبیر میں شدت لزوم اور لزوم دوام کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : وقال مجاھد الخ مجاھدِ کے قول کے مطابق اس میں مجاز عقلی نہیں ہوگا۔ قولہ : صفتان لکتاباً ، یلقٰہٗ جملہ ہو کر کتاباً کی صفت اول ہے اور منشوراً صفت ثانی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ منشوراً یلقاہ کی ضمیر مفعولی سے حال ہو۔ قولہ : ویقال لہٗ ما قبل سے نظم و ربط کرنے کیلئے یقال کو محذوف مانا ہے۔ قولہ : نفسٌ یہ تزر کی وجہ تانیث کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : لا تحمل لا تَزِرُ کی تفسیر ہے۔ قولہ : وبِہٖ کی ضمیر علی سبیل الانفراد خبیراً اور بصیراً کی طرف راجع ہے، بہتر ہوتا کہ عبارت اس طرح ہوتی ” وبذنوب یَتَعَلَّقُ بخبیراً وبصیرًا “۔ قولہ : بدلٌ من لَہٗ الض یعنی لمن نرید، لَہٗ سے اعادۂ جار کے ساتھ بدل البعض من الکل ہے۔ تفسیر و تشریح ویدع الانسان الخ انسان چونکہ جلد باز اور بےحوصلہ واقع ہوا ہے، اس لئے جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو اپنی ہلاکت کیلئے اسی طرح بددعاء کرتا ہے جس طرح بھلائی کیلئے اپنے رب سے دعاء کرتا ہے، یہ تو رب کا فضل و کرم ہے کہ وہ اس کی بددعاؤں کو قبول نہیں کرتا۔ وجعلنا۔۔۔ الخ یعنی رات کو تاریک بنایا تاکہ تم لوگ آرام و سکون حاصل کرو اور تمہاری دن بھر کی تکان دور ہوجائے، اور دن کو روشن بنایا تاکہ کسب معاش کے ذریعہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اس کے علاوہ رات اور دن کا ایک فائدہ اور بھی ہے کہ اس طرح ہفتوں مہینوں اور برسوں کا شمار اور حساب تم کو سکو اس حساب کے بھی بیشمار فائدے ہیں اگر رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات نہ آتی بلکہ ہمیشہ رات ہی رات رہتی یا دن ہی دن رہتا تو تمہیں آرام و سکون کو یا کاروبار کرنے کا موقع نہ ملتا اور اس طرح مہینوں اور سالوں کا حساب بھی ممکن نہ ہوتا۔ وکل انسان۔۔۔۔ الآیۃ یعنی ہر انسان کی نیک بختی و بدبختی اور اس کے انجام کی بھلائی اور برائی کے اسباب ووجہ خود اس کی اپنی ذات ہی میں موجود ہیں، اپنے اوصاف اپنی سیرت و کردار اور اپنی قوت تمیز و انتخاب کے استعمال سے ہی وہ اپنے آپ کو سعادت و شقاوت کا مستحق بناتا ہے، نادان لوگ اپنی قسمت کے شگون باہر سے لیتے پھرتے ہیں اور ہمیشہ خارجی اسباب ہی کو اپنی بدبختی اور خوش بختی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا پروانۂ خیر و شران کے اپنے گلے کا ہار ہے، وہ اپنے گریبان میں منہ ڈالیں تو دیکھ لیں کہ جس چیز نے ان کو تباہی اور ہلاکت کے راستہ پر ڈالا جس کا نتیجہ اور انجام خسران اور حرمان ہوا وہ ان کے اپنے ہی برے اوصاف تھے نہ کہ باہر سے آنیوالی کوئی چیز۔ ومن اھتدی۔۔۔ لنفسہ یعنی راہ راست اختیار کرکے کوئی شخص خدا یا رسول پر یا اصلاح کی کوشش کرنے والوں پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ خود اپنے ہی حق میں بھلا کرتا ہے، اور اسی طرح گمراہی اختیار کرکے یا اس پر اصرار کرکے وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتا، اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ ولا تزر۔۔۔ (آلایۃ) یہ ایک اہم اور اصولی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم میں جگہ جگہ ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے، اسلئے کہ اسے سمجھے بغیر ان کا طرز عمل کبھی درست نہیں ہوسکتا اس فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی اپنی ایک مستقل ذمہ داری ہے کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں ہے اور اس کو جو کچھ بھی جزاء یا سزا ملے گی اس عمل کی ملے گی جس کا وہ خود اپنی انفرادی حیثیت میں ذمہ دار ثابت ہوگا۔ بعثت رسل کے بغیر عذاب نہ ہونے کی تشریح : اس آیت کی بناء پر بعض ائمہ فقہاء کے نزدیک ان لوگوں کو کفر کے باوجود کوئی عذاب نہیں ہوگا جن کے پاس کسی نبی اور رسول کی دعوت نہیں پہنچی اور بعض ائمہ کے نزدیک جو اسلامی عقائد عقل سے سمجھے جاسکتے ہیں مثلاً خدا کا وجود اس کی توحید وغیرہ پس جو لوگ اس کے منکر ہوں گے ان کو کفر پر عذاب ہوگا اگرچہ ان کو کسی نبی یا رسول کی دعوت نہ پہنچی ہو البتہ عام معاصی اور گناہوں پر سزا بغیر دعوت و تبلیغ انبیاء کے نہیں ہوگی، اور بعض حضرات نے اس جگہ رسول سے مراد عام لی ہے خواہ رسول وہی ہوں خواہ انسانی عقل کہ وہ بھی ایک حیثیت سے اللہ کا رسول ہے۔ مشرکوں کی نابالغ اولاد کو عذاب نہ ہوگا : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرکین و کفار کی اولاد جو بالغ ہونے سے پہلے مرجائیں انکو عذاب نہ ہوگا کیونکہ ماں باپ کے کفر سے وہ سزا کے مستحق نہ ہوں گے (مظہری) اس مسئلہ میں ائمہ کے اقوال مختلف ہیں، بعض توقف کے قائل ہیں اور بعض جنت میں جانے کے اور بعض جہنم میں جانے کے، ابن کثیر نے کہا ہے کہ میدان حشر میں ان کا امتحان لیا جائیگا جو اللہ کے حکم کی اطاعت کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو نافرمانی کرے گا وہ دوزخ میں جائیگا مگر صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے بچے بھی جنت میں جائیں گے۔ (صحیح بخاری 348:12، 251:3 مع الفتح الباری) ربط آیات : واذا اردنا۔۔۔ (الآیۃ) اس سے پہلی آیت میں اس کا بیان تھا کہ حق تعالیٰ کی عادت یہ ہے کہ جب تک کسی قوم کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ اللہ کی ہدایت نہ پہنچ جائے اس وقت تک اس پر عذاب نہیں بھیجتے، مذکورہ آیات میں اس کے دوسرے رخ کا بیان ہے کہ جب کسی قوم کے پاس اللہ کی ہدایت پہنچ گئی پھر بھی انہوں نے سرکشی کی تو اس پر عذاب عام بھیج دیا جاتا ہے، اس آیت میں ایک اصول یہ بتلایا گیا ہے کہ جس کی رو سے قوموں کی ہلاکت کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ ان کا خوشحال طبقہ اللہ کے حکموں کی نافرمانی شروع کردیتا ہے اور انہی کی تقلید دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں اس طرح اس قوم میں اللہ کی نافرمانی عام ہوجاتی ہے اور وہ مستحق عذاب قرار پاتی ہے۔ بدعت اور ریاکاری کا عمل کتنا ہی اچھا نظر آئے قبول نہیں : ومن کان۔۔۔۔ لمن نرید اس آیت میں سعی و عمل کے ساتھ لفظ سَعْیَھَا بڑھا کر یہ بتادیا کہ ہر عمل اور ہر کوشش نہ مفید ہوتی ہے اور نہ عند اللہ مقبول بلکہ عمل اور سعی وہی معتبر ہے جو مقصد یعنی آخرت کے مناسب ہو اور مناسب اور نامناسب ہونا صرف اللہ اور اس کے رسول سے ہی معلوم ہوسکتا ہے اس لئے جو نیک اعمال ریا کاری اور منگھڑت (بدعت) سے کئے جاتے ہیں جن میں بدعات کی عام رسمیں شامل ہیں وہ دیکھنے میں خواہ کتنے ہی بھلے اور مفید نظر آئیں مگر آخرت کیلئے سعی مناسب نہیں اسلئے نہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں اور نہ آخرت میں کار آمد اور تفسیر روح المعانی میں سَعْیَھَا کی تشریح میں سنت کے مطابق ہونے کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ اس عمل میں استقامت بھی ہو۔ اعمال کی قدردانی کی تین شرطیں : اس آیت میں اللہ نے اعمال کی قدردانی اور مقبولیت کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں، (1) ارادۂ آخرت یعنی اخلاص اور اللہ کی رضا جوئی، (2) ایسی کوشش جو آخرت کے مناسب ہو یعنی سنت کے مطابق ہو، (3) ایمان، اسلئے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل بھی قابل قبول نہیں ہوتا۔ کلا نمد۔۔۔ الخ یعنی دنیا کا رزق اور اس کی آسائشیں ہم بلاتفریق مومن اور کافر طالب دنیا اور طالب آخرت سب کو دیتے ہیں اللہ کی نعمتیں دنیا میں کسی سے رو کی نہیں جاتیں۔ تاہم دنیا کی یہ نعمتیں کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ملتی ہیں اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق یہ روزی تقسیم فرماتا ہے، تاہم آخرت میں درجات کا تقاضل زیادہ واضح اور نمایاں ہوگا اور وہ اس طرح کہ اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر جہنم میں جائیں گے۔
Ayahs 17:23–30

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی (کرتے رہو) ، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار ! جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت) سے پرورش کیا ہے تو بھی ان (کے حال) پر رحمت فرما

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے، اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفران کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تم اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو تو ان سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کو کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل ہی کھول دو (کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور انجام یہ ہو کہ) ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے، وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی بندگی نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس طریقہ پر کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں (اَحْدُھما، یَبْلُغَنَّ ) کا فاعل ہے اور ایک قراءت میں یَبْلُغان ہے، (اس صورت میں) احدھما، یَبْلُغان کے الف سے بدل ہوگا، تو تم ان سے، اُف، تک نہ کہنا، (اُفٍّ ) فاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یا تنوین اور بغیر تنوین مصدر ہے، معنی میں تَبًّا اور قُبْحًا کے ہے، (یعنی تیرا ناس ہو اور برا ہو) اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے احترام کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اور نرمی اور شفقت سے ان کے سامنے جھکے رہنا (یعنی) اپنی انکساری کے بازؤں کو ان کیلئے جھکائے رکھنا تیرے ان پر شفقت کی وجہ سے، اور یوں دعاء کرتے رہنا اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا کہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کے وقت میرے اوپر شفقت فرمائی فرمانبرداری سے جو کچھ تمہارے دلوں میں پوشیدہ ہے اس کو تمہارا رب خوب جانتا ہے اگر تم صالح رہو گے یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار رہو گے تو بیشک وہ اس کی طاعت کی طرف رجوع کرنے والوں کی خطاؤں کو معاف کرنے والا ہے، (یعنی) جلد بازی میں جو کچھ ان سے حقوق والدین کے بارے میں سرزد ہوگیا ہے، اس کو معاف کرنے والا ہے، بشرطیکہ ان سے دل میں نافرمانی پوشیدہ نہ ہو، اور قرابتداروں کو حسن سلوک اور صلہ رحمی سے ان کا حق دیتے رہنا اور محتاج اور مسافروں کو (ان کا حق دیتے رہنا) اور اللہ کی نافرمانی میں مال میں فضول خرچی نہ کرنا بلاشبہ بےموقع مال اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہوتے ہیں، یعنی شیطانوں کے طریقہ پر ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے، یعنی اس کی نعمتوں کی بہت زیادہ ناشکری کرنے والا ہے، اسی طرح فضول خرچ کرنے والے اس کے بھائی ہیں، اور اگر تجھے مذکور میں سے یعنی قرابتداروں اور ان سے جو اس کے بعد مذکور ہیں اپنے رب کی اس رحمت کی امید کی طلب میں جس کی تو امید رکھتا ہے پہلو تہی کرنی پڑے یعنی اس رزق کی طلب میں کہ جس کے حاصل ہونے کا تجھے انتظار ہے تاکہ اس میں سے ان کو دے تو ان سے نرمی اور سہولت کی بات کہہ دینا، اس طریقہ پر کہ مال حاصل ہونے کی صورت میں ان کو دینے کا وعدہ کرلینا اور نہ تو اپنا ہاتھ اپنی گردن ہی سے باندھ لو یعنی نہ تو ہاتھ کو خرچ کرنے سے پوری طرح بند کرو اور نہ خرچ کیلئے پوری طرح کھول دو کہ تم ملامت زدہ ہو کر یہ اول صورت کی طرف راجع ہے اور تہی دست ہو کر بیٹھ رہو یعنی تمہارے پاس کچھ نہ رہے یہ دوسری صورت کی طرف راجع ہے، بیشک تیرا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق میں فراخی کردیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں (کی حالت) سے بخوبی دانا و بینا ہے، یعنی ان کے باطن اور ظاہر سے بخوبی باخبر ہے، ان کی مصلحت کے مقتضیٰ کے مطابق ان کو رزق عطا کرتا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بِأنْ ، اس تقدیر میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان مصدریہ ہے اس صورت میں لا نافیہ ہوگا اور تعبدون عِبَادۃٌ، کے معنی میں ہے، یعنی تیرے رب نے یہ بات تاکیداً فرمائی ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ، أنْ ، مفسرہ ہو اس لئے کہ قضیٰ ، قالَ کے معنی میں ہے اس صورت میں ' لا ' ناہیہ ہوگا۔ قولہ : یَبْلُغَنَّ واحد مذکر غائب مضارع بانون ثقیلہ۔ قولہ : وَأن تحسنوا یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : أن تحسِنوا مقدر ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : بالوالدین جار مجرور ہو کر احسانًا مؤخر کے متعلق نہیں ہوسکتے اس لئے کہ مصدر کا متعلق مقدم نہیں ہوا کرتا، اس لئے مجبوراً ان تحسنوا، مقدر ماننا پڑا، دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر أن تحسنوا، مقدر نہ مانا جائے تو بالوالدین کا عطف کا تعبدوا پر ہوگا یہ عطف جملہ اسمیہ علی جملہ فعلیہ ہوگا جو کہ درست نہیں ہے اور جب أن تحسنوا مقدر مان لیا تو عطف جملہ فعلیہ علی الجملۃ الفعلیہ ہوگیا۔ قولہ : عندک ای فی کفالتکَ وحرزک۔ قولہ : فاعل یعنی اَحدُھما فاعل ہے اس اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے یَبْلُغَنَّ میں فاعل کی ضمیر مستتر نہیں ہے کہ تکرار فاعل کا اعتراض واقع ہو بلکہ احدھما فاعل ہے۔ قولہ : فاحدھما بدل من الفِہٖ ، یہ دوسری قراءت کی ترکیب کی طرف اشارہ ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک قراءت میں یَبْلُغَنَّ ، کے بجائے یَبْلُغَانّ ہے، اس صورت میں تکرار فاعل کا اعتراض ضرور واقع ہوگا، اس کا جواب یہ ہے کہ یَبْلغانّ میں الف فاعل کا ہے اور احَدُھما اس سے بدل ہے نہ کہ یبلغانِّ کا فاعل، لہٰذا اس قراءت کی صورت میں بھی تکرار فاعل کا اعتراض نہ ہوگا۔ قولہ : ألن لھما جانبک الخ یعنی جناح سے مجازاً جانب کا ارادہ کیا ہے اور یہ ذکر خاص اور ارادۂ عام کے قبیل سے ہے۔ قولہ : الذلیل، اس میں اشارہ ہے کہ جناح کی اضافت، الذّل کی جانب بیانیہ ہے۔ قولہ : ای لرقتکَ اس میں اشارہ ہے کہ مِن الرحمۃِ میں مِن اجل کے لئے ہے۔ قولہ : رَحمانی اس اضافہ کا مقصد تشبیہ کو درست کرنا ہے۔ قولہ : وھم لا یضمرون الخ یہ جملہ حالیہ ہے۔ قولہ : فی غیر طاعۃ اللہ تعالیٰ ، اس میں اشارہ ہے کہ کارخیر میں اگر افراط کے ساتھ بھی خرچ کیا جائے تو بھی فضول خرچی میں شمار نہیں ہے۔ تفسیر و تشریح والدین کے حقوق و احترام : وقضی ربک۔۔۔۔ احسانا، اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، جس سے والدین کی اطاعت، ان کی خدمت اور ان کے ادب و احترام کی اہمیت واضح ہے، گویا توحید اور ربوبیت الٰہی کے تقاضوں کے ساتھ، اطاعت والدین کے تقاضوں کی ادائیگی ضروری ہے احادیث میں اس کی اہمیت اور تاکید کو خوب واضح کردیا گیا ہے، پھر بڑھاپے میں بطور خاص ان کے سامنے ” ہاں “ کے بجائے، ” ہوں “ تک کہنے اور ڈانٹنے جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ بڑھاپے میں والدین کمزور بےبس اور لاچار ہوجاتے ہیں، جبکہ اولاد جو ان اور وسائل معاش پر قابض و متصرف ہوتی ہے علاوہ ازیں جوانی کے دیوانی جذبات اور بڑھاپے کی سردوگرم چشیدہ تجربات میں تصادم ہوتا ہے، ان حالات میں والدین کے ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے، تاہم اللہ کے یہاں شاد کام اور سرخ رو وہی ہوگا جو ان تقاضوں کو ملحوظ رکھے گا، ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا وہ شخص خاک میں مل گیا جس نے والدین کو پایا اور ان کی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کی، ایک دوسری حدیث میں فرمایا، جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ بڑھاپے میں خدمت کی زیادہ تاکید کی وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے میں خدمت کی احتیاج زیادہ ہوتی ہے اور بعض اوقات زیادہ پیرانہ سالی میں ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہیں رہتے جس کی وجہ سے اہل خانہ بھی اکتا جاتے ہیں بڑی سعادت مند اولاد کا کام ہے کہ اس وقت بوڑھے والدین کی خدمت گذاری اور فرمانبرداری سے جی نہ ہارے، قرآن نے تنبیہ کی ہے کہ جھڑکنا اور ڈانٹنا تو کجا، ان کے مقابلہ میں ہوں بھی مت کرو بلکہ بات کرتے وقت ادب و تعظیم کو ملحوظ رکھو، ابن مسیب نے فرمایا، اس طرح بات کرو کہ جیسے ایک خطا وار غلام سخت مزاج آقا سے کرتا ہے، غرضیکہ والدین نے جس طرح تیری ناتوانی کے وقت تیری تربیت و نگہداشت میں خون پسینہ ایک کردیا اور اپنی مقدور بھر تیری راحت و حفاظت کی فکر کی، ہر آفت و مصیبت سے تجھے بچانے کی کوشش کرتے رہے، آج ان کی ضعیفی کا وقت آیا ہے جو کچھ تیری قدرت میں ہے ان کی خدمت اور تعظیم کر، اس کے باوجود تو ان کی خدمت کا حق ادا نہیں کرسکتا، پرندہ جب اپنے بچوں کو اپنے سایہ شفقت میں لیتا ہے تو ان کیلئے اپنے باز و پھیلا کر پست کردیتا ہے، تو تو بھی والدین کے ساتھ اسی طرح رحمت و شفقت کا برتاؤ کر اور ان کے اسی طرح کفالت کو جس طرح انہوں نے بچپن میں تیری کفالت کی، اور ان کے مرنے کے بعد ان کیلئے دعاء مغفرت کرتا رہ، اور یہ سب کچھ اخلاص اور نیک نیتی سے ہونا چاہیے نہ کہ ریا کاری اور دکھاوے کیلئے، اگر فی الواقع تم اخلاص کے ساتھ ان کی خدمت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری کوتاہیوں اور لغزشوں کو معاف کر دے گا۔ وآت ذا۔۔ الخ، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ غریب رشتہ داروں، مسکینوں اور ضرورت مند مسافروں کی امداد کرکے ان پر احسان نہیں جتلانا چاہیے، اسلئے کہ یہ ان پر احسان نہیں بلکہ وہ یہ حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے مالداروں پر ضرورتمندوں اور رشتہ داروں کا رکھا ہے، اگر صاحب مال یہ حق ادا نہ کرے گا تو عند اللہ مجرم ہوگا معلوم ہوا کہ یہ حق کی ادائیگی ہے نہ کہ کسی پر احسان۔ مال میں فضول خرچی منع ہے : مال خدا کی بڑی نعمت ہے اس سے عبادت میں دلجمی حاصل ہوتی ہے اسی سے بہت سی اسلامی خدمات اور نیکیاں کمانے کا موقع ملتا ہے اس کو بےجا اڑانا ناشکری ہے جو شیطان کے اغواء و تحریک سے واقع ہوتی ہے اور انسان اس طرح ناشکری کرکے شیطان کا بھائی یعنی اس کا پیروکار بن جاتا ہے۔ فضول خرچی کو قرآن مجید نے دو لفظوں سے تعبیر فرمایا ہے ایک ” تبذیر “ اور دوسرے ” اسراف “ تبذیر کی ممانعت تو اس آیت میں مذکور ہے اور اسراف کی ممانعت ولا تسرفوا سے بیان فرمائی ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں یعنی بےموقع اور بےمحل خرچ کرنے کو تبذیر و اسراف کہا جاتا ہے، اور بعض حضرات نے یہ تفصیل کی ہے کہ کسی گناہ میں یا بالکل بےموقع اور بےمحل خرچ کرنے کو تبذیر و اسراف کہا جاتا ہے، اور بعض حضرات نے یہ تفصیل کی ہے کہ کسی گناہ میں یا بالکل بےموقع خرچ کرنے کو تبذیر کہتے ہیں اور جہاں خرچ کرنے کا جائز موقع ہو مگر ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے اس کو اسراف کہتے ہیں اسلئے تبذیر بہ نسبت اسراف کے شدید تر ہے اور اس کے مرتکب کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ امام تفسیر حضرت مجاہد (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنا تمام مال راہ حق میں خرچ کر دے تو وہ تبذیر نہیں، اور باطل کیلئے اگر ایک مد (آدھ سیر) بھی خرچ کرے تو یہ تبذیر ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ غیر حق میں بےموقع خرچ کرنے کا نام تبذیر ہے۔ بدرجہ مجبوری معذرت کا طریقہ : واما تعرضن عنھم الخ یعنی مالی استطاعت کے فقدان کی وجہ سے جس کے دور ہونے اور کشائش رزق کی تو اپنے رب سے امید رکھتا ہے اگر تجھے غریبوں، رشتہ داروں، مسکینوں، اور ضرورتمندوں سے اعتراض کرنا پڑے یعنی اظہار معذرت کرنی پڑے تو نرمی اور عمدگی کے ساتھ معذرت کر، یعنی پیار و محبت کے لہجے نرمی اور خوش اسلوبی سے جواب دینا چاہیے نہ کہ ترش روئی اور بد اخلاقی کے ساتھ۔ شان نزول : مذکورہ آیت کے شان نزول میں ابن زید کی روایت یہ ہے کہ کچھ لوگ آپ ﷺ سے مال کا سوال کیا کرتے تھے، اور آپ کو معلوم تھا کہ اگر ان کو دیا جائے تو فساد میں خرچ کریں گے اس لئے آپ ﷺ ان کو دینے سے انکار فرما دیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (معارف، قرطبی) مسند سعید بن منصور میں بروایت صابا بن حکم مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ کپڑا آیا تھا آپ نے اس کو مستحقین میں تقسیم فرما دیا اس کے بعد کچھ اور لوگ آئے جبکہ آپ سارا کپڑاتقسیم فرما چکے تھے، اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ خرچ کرنے میں راہ اعتدال کی ہدایت : ولا تجعل۔۔۔ الخ یعنی نہ تو اس قدر بخیلی کرے کہ لوگ ” کنجوس مکھی چوس “ کہنے لگیں اور نہ اتنا دے کہ خود محتاج اور دوسروں کا دست نگر ہو کر بیٹھ رہے غرضیکہ ہر معاملہ میں اعتدال اور توسط ملحوظ رکھنا چاہیے، حدیث شریف میں ہے، ” مَا عَال مَنْ اِقْتَصَدَ “ جس نے میانہ روی اختیار کی محتاج نہیں ہوا۔ اس آیت میں مخاطب براہ راست آپ ﷺ ہیں، اور آپ کے واسطے سے پوری امت مخاطب ہے اور مقصود اقتصاد کی ایسی تعلیم ہے کہ جو دوسروں کی امداد میں حائل بھی نہ ہو اور خود اپنے لئے بھی زحمت و مصیبت نہ بنے، اس آیت کے شان نزول میں ابن مردویہ نے بروایت حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور بغوی نے بروایت حضرت جابر ؓ ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ واقعہ : واقعہ یہ ہے کہ ایک روز آپ ﷺ کی خدمت میں ایک لڑکا حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ میری والدہ نے آپ سے ایک کرتے کا سوال کیا ہے، اس وقت آپ ﷺ کے پاس اس کرتے کے علاوہ کوئی کرتہ نہیں تھا جو آپ کے بدن مبارک پر تھا، آپ نے لڑکے سے کہا پھر کسی وقت آؤ کہ جب ہمارے پاس اتنی وسعت ہو کہ تمہاری والدہ کا سوال پورا کرسکیں لڑکا گیا اور واپس آیا اور کہا میری والدی کہتی ہیں کہ آپ ﷺ کے بدن مبارک پر جو کپڑا ہے وہی عنایت فرما دیں، آپ نے کرتہ اتار کر اس لڑکے کے حوالہ کردیا آپ ننگے بدن رہ گئے، نماز کا وقت آگیا، حضرت بلال نے اذان دی مگر آپ باہر تشریف نہ لائے تو لوگوں کو فکر ہوئی، بعض لوگ اندر حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ ﷺ کرتہ کے بغیر ننگے بدن بیٹھے ہوئے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فائدۂ جلیلہ : لا تجعل من اللہ الٰھاً آخر سے فتلقٰی فی جھنم ملومًا مدحوراً ، تک (25) احکام بیان کئے گئے جن کو بالترتیب لکھا جاتا ہے
Ayahs 17:31–40

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف قتل نہ کرنا (کیوں کہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں، کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بہ فتوی شریعت) اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا (کہ ظالم قاتل سے بدلا لے) تو اس کو چاہیے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصور و فتحیاب ہے۔

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب (کوئی چیز) ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کردو) تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہار پروردگار نے تم کو تو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول) بات کہتے ہو۔

آیت نمبر 31 تا 40 ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے بیشک اس کی مدد کی گئی ہے، اور مال یتیم کے پاس بھی نہ پھٹکو مگر ایسے طریقہ سے جو (شرعاً ) احسن ہے یہاں تک کہ وہ سن شعور کو پہنچ جائے اور جب تم اللہ سے یا لوگوں سے کوئی عہد کرو تو اس عہد کو پورا کرو، بلاشبہ عہد کے بارے میں بازپرس ہوگی، اور جب ناپنے لگو تم بھرپور پیمانہ سے ناپو اور (تولو) تو ٹھیک ترازو سے تو لو یہ اچھا طریقہ ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے اور کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو کہ جس کا تمہیں علم نہ ہو یقیناً کان اور آنکھ اور دل سب ہی کی باز پرس ہوگی (یعنی) (کان، آنکھ اور دل) والے سے باز پرس ہوگی کہ ان سے کیا کام لیا، اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو (یعنی) مغرور اور متکبر انہ انداز سے نہ چلو، یہ امر واقعہ ہے کہ نہ تو تم اپنے تکبر کی وجہ سے زمین کو پھاڑ سکتے ہو یہاں تک کہ تم اس کی تہہ تک پہنچ جاؤ اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو مطلب یہ ہے کہ تم اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتے، تو پھر کیوں اکڑ کر چلتے ہو ؟ ان سب کاموں کی برائی تیرے رب کے نزدیک (سخت) ناپسندیدہ ہے اور اے محمد ﷺ یہ حکمت نصیحت کی وہ باتیں ہیں تیرے رب نے تیری طرف وحی کے ذریعہ اتاری ہیں اور تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنا (ورنہ) ملامت زدہ اور اللہ کی رحمت سے دور کرکے جہنم میں ڈالدیا جائیگا، اے اہل مکہ، کیا تمہارے رب نے بیٹوں کیلئے تمہیں منتخب کرلیا ہے، اور خود اپنے لئے فرشتوں کو لڑکیاں بنا لیا (یعنی) بقول شما لڑکیاں اپنے لئے پسند کرلیں، تم یہ بات کہہ کر یقیناً بہت بڑا بول، بول رہے ہو۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : إمْلاق (اِفعال) افلاش، فقر۔ قولہ : اَلوأد (ض) سے مصدر ہے زندہ دفن کرنا۔ قولہ : خِطأً ، خطا، چوک، گناہ، (س) خِطأً مصدر ہے۔ قولہ : ابلغُ من لاتاتوہ یعنی لا تقربوا الزنی تعبیر اور معنویت میں لا تاتوہ سے ابلغ ہے، اسلئے کہ لاتقربوا میں زنا کے قریب جانے سے منع کیا گیا ہے جس میں دواعی زنا اور مقدمات زنا سے ممانعت بھی شامل ہے بخلاف لاتاتوہ کے۔ قولہ : اِنَّہٗ کان منصوراً ، ضمیر ولی مقتول کی طرف راجع ہے، ولی مقتول اسلئے منصور ہے کہ شریعت نے اس کو قصاص کا حق دیا ہے۔ قولہ : مسئولاً ، عنہ یعنی روز قیامت عہد شکنی سے عہد شکن کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ قولہ : لاتَقْفُ ، تو پیچھے نہ چل، تو اتباع نہ کر (ن) قَفْوًا پیچھے چلنا، پیروی کرنا مضارع واحد مذکر حاضر فعل نہی۔ قولہ : ذامرح مضاف محذوف مان کر اس سوال کا جواب دیدیا کہ مرحًا، لاتمشِ کی ضمیر سے حال ہے حالانکہ مرحًا کا حمل مصدر ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ مضاف محذوف ہے ای ذامرحٍ ، ای مارجًا۔ تفسیر و تشریح ولا تقتلوا۔۔۔۔ (الآیۃ) زمانۂ جاہلیت میں بعض لوگ اپنی اولاد کو خاص طور پر لڑکیوں کو ولادت کے وقت اس خوف سے قتل کردیتے تھے کہ ان کے مصارف اور کھانے پینے کا بار ہم پر پڑے گا، نبی ﷺ نے شرک کے بعد جس گناہ کو سب سے بڑا قرار دیا ہے وہ یہی ہے آپ نے فرمایا ” وان تقتل وَلَدَکَ خشیۃ ان یَطْعَمَ معکَ “ کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة بقرہ، مسلم شریف کتاب التوحید) آج کل قتل اولاد کا گناہ عظیم نہایت منظم طریقہ سے خاندانی منصوبہ بندی کے عنوان سے پوری دنیا میں ہو رہا ہے، مرد حضرات بہتر تعلیم و تربیت کے نام پر اور خواتین اپنے حسن کو برقرار رکھنے کیلئے اس جرم کا عام ارتکاب کر رہے ہیں۔ ضبط تولید اور قرآن حکیم : آیت مذکورہ نے ان معاشی بنیادوں کو یکسر منہدم کردیا جن پر قدیم زمانہ سے آج تک مختلف ادوار میں ضبط ولادت کی تحریک اٹھتی رہی ہے، افلاس کا خوف قدیم زمانہ میں قتل اطفال اور اسقاط حمل کا محرک ہوا کرتا تھ، اور موجودہ دور میں وہ ایک تسیری تدبیر یعنی منع حمل کی طرف دنیا کو دھکیل رہا ہے، دور جاہلیت میں اندیشہ افلاش کے ساتھ ایک سبب عارد امادی بھی ہوا کرتا تھا صنف نازک ہر دور میں مختلف اسباب اور وجوہ کی بنا پر مظلوم رہی صنف نازک کی مصیبت کم نہیں ہوئی بلکہ کچھ اضافہ ہی ہوا ہے، جدید آلات کی مدد سے حمل کی جنس معلوم کرلی جاتی ہے اگر معلوم ہوجائے کہ رحم مادر میں لڑکی ہے تو کوشش کی جاتی ہے کہ اس کو ولادت سے پہلے ختم کردیا جائے زمانہ جاہلیت میں صنف نازک کی مصیبتوں کے اسباب جو بھی رہے ہوں موجودہ دور میں دو سبب نمایاں اور سرفہرست ہیں، تعلیم و تربیت اور جہیز، جس طرح زمانۂ جاہلیت میں گھر میں لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر چہرے اداس اور بےرونق ہوجاتے تھے آج گھر میں بیٹی کی پیدائش کی خبر سن کر اہل خانہ اور عزیز اقارب فکر مند ہوجاتے ہیں، اور بیٹی کی آمد کو مصیت کی آمد تصور کرتے ہیں۔ قانون اسلامی کی یہ دفعہ انسان کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ کھانے والوں کی تخریبی کوشش چھوڑ کر ان تعمیری کوششوں میں اپنی قوتیں اور قابلیتیں صرف کریں جن سے اللہ کے بنائے ہوئے قانون فطرت کے مطابق رزق کی افزائش ہوا کرتی ہے، قرآنی مذکورہ دفعہ کی رو سے یہ بات انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے کہ وہ بار بار معاشی ذرائع کی تنگی کے اندیشہ سے افزائش نسل کا سلسلہ روک دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے، قرآن کی یہ دفعہ انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ رزق رسانی کا کام تیرے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ اس خدا کے ہاتھ میں ہے جو تجھے بھی روزی دیتا ہے، جس طرح وہ پہلے آنے والوں کو روزی دے رہا ہے بعد میں آنے والوں کو بھی روزی دیگا، تاریخ کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں کھانے والی آبادی جتنی بڑھتی گئی ہے اتنے ہی بلکہ بار ہا اس سے بہت زیادہ معاشی ذرائع وسیع ہوتے چلے گئے ہیں لہٰذا خدا کی تخلیقی انتظامات میں انسان کی بےجا دخل اندازی حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ ولا تقربوا الزنا الخ اسلام میں زنا چونکہ جرم عظیم ہے اتنا بڑا جرم کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد یا عورت اس کام کا ارتکاب کرے تو اسے اسلامی معاشرہ میں زندہ رہنے کا حق نہیں ہے اسلئے یہاں فرمایا کہ فعل زنا تو دور کی بات ہے اس کے دواعی اور اسباب کے پاس بھی مت جاؤ، مثلاً غیر محرم عورت کو دیکھنا، ان سے اختلاط کی راہیں نکالنا، اسی طرح عورتوں کا بےپردہ اور بن سنور کر گھروں سے باہر نکلنا وغیرہ ان تمام امور سے اجتناب ضروری ہے تاکہ اس بےحیائی سے بچا جاسکے۔ زنا کے حرام ہونے کی دو وجہ بیان کی گئی ہیں، اول یہ کہ وہ بےحیائی ہے اور جب انسان میں حیا ہی نہ رہی تو وہ انسانیت ہی سے محروم ہوجاتا ہے پھر اس کیلئے کسی بھلے برے کی تمیز نہیں رہتی اسی معنی کو حدیث شریف میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ” اِذا فاتک الحیاءُ فافعل ما شئتَ “ یعنی تیری حیاء ہی ہوتی رہی تو اب کسی برائی کے کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے حیاء کو ایمان کا ایک شعبہ قرار دیا ہے، الحیاء شعبۃ من الایمان۔ (بخاری) اور دوسری وجہ معاشرتی فساد ہے جو زنا کی وجہ سے اتنا پھیلتا ہے کہ اس کی کوئی حد باقی نہیں رہتی اور اس کے نتائج بد بعض اوقات قبیلوں اور قوموں کو برباد کردیتے ہیں، حدیث شریف میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین شادی شدہ زنا کار پر لعنت کرتی ہیں اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ زنا کرنے والا زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا۔ ولا تقربوا الزنا، قرآنی منشور کی یہ دفعہ اسلام نظام زندگی کے ایک وسیع باب کی بنیاد بنی اس کی منشاء کے مطابق زنا اور تہمت زنا کو فوجداری جرم قرار دیدیا گیا، پردے کے احکام جاری کئے گے، فواحش کی اشاعت کو سختی کے ساتھ روک دیا گیا، شراب اور موسیقی اور رقص و سرود و تصاویر پر جو زنا کے قریب ترین رشتہ دار ہیں بند شیں لگائی گئیں اور ایک ایسا ازدواجی قانون بنایا گیا جس سے نکاح آسان ہوگیا اور زنا کے معاشرتی اسباب کی جڑ کٹ گئی۔ ولا تقتلوا النفس۔۔۔ بالحق، قتل ناحق کا جرم عظیم ہونا دنیا کے تمام مذاہب اور فرقوں میں مسلم ہے قتل نفس سے مراد صرف دوسرے انسنا کا قتل ہی نہیں ہے بلکہ خودکشی بھی اس میں شامل ہے، اسلئے کہ نفس جس کو اللہ نے ذی حرمت ٹھہرایا ہے اس کی تعریف میں دوسرے نفسوں کی طرح انسان کا اپنا نفس بھی داخل ہے لہٰذا جتنا بڑا جرم اور گناہ قتل انسان ہے اتنا ہی بڑا جرم اور گناہ خودکشی ہے، انسان کی بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی جان کا مالک سمجھتا ہے حالانکہ اس جان کا مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہے، ہم اس کے اتلاف کے مختار تو درکنار اس کے بےجا استعمال کے بھی مجاز نہیں، دنیا کی اس امتحان گاہ میں اللہ تعالیٰ جس طرح بھی ہمارا امتحان لے اسی طرح ہمیں آخر وقت تک امتحان دیتے رہنا چاہیے پر چہ پورا کئے بغیر پر چہ پھینک کر امتحان گاہ سے بھاگ نکلنے کی کوشش بجائے خود غلط ہے، امتحان گاہ سے بھاگ نکلنے کا مطلب یہ ہوگا کہ آدمی دنیا کی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں اور ذلتوں اور رسوائیوں سے بچکر عظیم اور ابدی تکلیف و رسوائی کی طرف بھاگتا ہے۔ قتل ناحق کی تفسیر : قتل بالحق کی صرف پانچ صورتیں ہیں ایک قتل عمد کے مجرم سے قصاص، دوسرے دین حق کے راستہ میں مزاحمت کرنے والوں سے جنگ، تیسرے نظام اسلامی کو الٹنے کی کوشش کرنے والوں کو سزا، چوتھے شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکاب زنا کی سزا، پانچویں ارتداد کی سزا، صرف یہی پانچ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کی حرمت مرتفع ہوجاتی ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ سب قتل ناحق ہے۔ قصاص لینے کا حق کس کو ہے ؟ آیت مذکورہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ حق مقتول کے ولی کا ہے اگر کوئی ولی موجود نہ ہو تو اسلامی حکومت کے سربراہ کو یہ حق حاصل ہوگا اسلئے کہ وہ ایک حیثیت سے تمام مسلمانوں کا ولی ہے اور مقتول کے ولی کے حق کا مطلب یہ ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے قصاص کے مستحق ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مقتول کا ولی ازخود قاتل سے قصاص لینا شروع کر دے اس سے اسلامی قانون کا یہ اصول نکلتا ہے کہ قتل کے مقدمے میں اصل مدعی حکومت نہیں بلکہ اولیاء مقتول ہیں اور وہ قاتل کو معاف کرنے یا قصاص کے بجائے خون بہا لینے پر راضی ہوسکتے ہیں۔ ظلم کا جواب ظلم نہیں انصاف ہے ؟ فلا یسرف فی القتل، اسلامی قانون کی ایک خاص ہدایت یہ ہے کہ ظلم کا بدلہ ظلم سے لینا جائز نہیں، بدلہ میں بھی انصاف کی رعایت ضروری ہے، انتقام میں بھی حد مجاز سے تجاوز کرنا درست نہیں ہے جب تک ولی مقتول انصاف کے ساتھ اپنے مقتول کا انتقام شرعی قصاص کے ساتھ لینا چاہے تو شریعت اس کے حق میں ہے اور اللہ اس کا مددگار ہے یعنی اسلامی قانون اس کا معاون و مددگار ہے، اور اگر اس نے جوش انتقام میں شرعی قصاص سے تجاوز کیا تو اب یہ مظلوم کے بجائے دوسرے فریق کی مدد کرے گا، کہ اس کو ظلم سے بچائے، لہٰذا جوش انتقام میں ایسا نہہونا چاہیے کہ مجرم کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دے یا مجرم کو عذاب دے دیکر مار ڈالے یا قتل کرنے کے بعد اس کی لاش پر غصہ نکالتے ہوئے اس کے ناک کان کاٹ کر مثلہ کر دے یا خون بہا لینے کے بعد بھی قتل کر دے یا ایک کے بدلے کئی لوگوں کو قتل کر دے یہ سب چیزیں اسلامی قصاص کی حد سے زائد اور حرام ہیں اس لئے آیت فلا یسرف فی القتل میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ یتیموں کے مال میں احتیاط : ولا تقربوا۔۔۔۔ احسن، اس آیت میں یتیموں کے مال کی حفاظت اور اس میں احتیاط کا بڑا تاکیدی حکم فرمایا ہے، یعنی یتیموں کے مال میں بیجا تصرف تو دور کی بات ہے برے ارادہ سے اس کے پاس بھی نہ جانا، یہ حکم محض ایک اخلاقی ہدایت ہی نہیں تھی بلکہ آگے چل کر جب اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو یتیموں کے حقوق کی حفاظت کیلئے انتظامی اور قانونی دونوں طرح کی تدابیر اختیار کی گئیں جو کہ فقہ اسلامی کا ایک مستقل باب ہے پھر اسی سے یہ اصول اخذ کیا گیا کہ اسلامی ریاست اپنے ان تمام شہریوں کے مفاد کی محافظ ہے جو اپنے مفاد کی خود حفاظت کے قابل نہ ہوں، نبی ﷺ کا ارشاد ہے ” انا ولی من لا ولی لہ “ میں ہر اس شخص کا سرپرست ہوں جس کا کوئی سرپرست نہ ہو۔ اسلام میں معاہدات کا حکم : عہد دو طرح کے ہیں ایک وہ جو بندہ اور اللہ کے درمیان ہے جیسا کہ عہد الست کہ بیشک اللہ ہمارا رب ہے یہ عہد تو ہر انسان نے ازل میں کیا ہے خواہ کافر ہو یا مومن اس کو پورا کرنا فطری طور پر انسان پر واجب ہے دوسرا عہد مومن ہے جو ” شہادت ان لاَّ اِلٰہَ الا اللہ “ کے ذریعہ کیا گیا ہے جس کا حاصل احکام الٰہی کا مکمل اتباع اور اس کی رضا جوئی ہے۔ دوسری قسم کا عہد وہ ہے جو انسان کسی دوسرے انسان سے کرتا ہے جس میں ہر قسم کے معاہدات سیاسی تجارتی معاملاتی سب شامل ہیں جو افراد اور جماعتوں اور ملکوں اور قوموں کے درمیان دنیا میں ہوتے ہیں، پہلی قسم کے تمام معاہدات کا پورا کرنا انسان پر واجب ہے، اور دوسری قسم میں جو معاہدات خلاف شروع نہ ہوں ان کا پورا کرنا واجب ہے اور جو خلاف شرع ہوں ان کی فریق ثانی کو اطلاع کرکے ختم کردینا واجب ہے جس معاہدہ کا پورا کرنا واجب ہے اگر کوئی فریق عہد کی پاسداری نہ کرے تو فریق ثانی کو حق ہے کہ عدالت میں مرافعہ کرکے اس کو پورا کرنے پر مجبور کرے۔ اور اگر کوئی شخص کسی سے یکطرفہ وعدہ کرلیتا ہے اس کا پورا کرنا بھی واجب ہے مگر وعدہ خلافی کرنے والے کو فریق ثانی بذریعہ عدالت وعدہ پورا کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا، البتہ بلاعذر شرعی اگر کوئی شخص وعدہ کرنے کے بعد پورا نہ کرے گا وہ شرعا گنہگار ہوگا، حدیث میں اس کو عمل نفاق قرار دیا گیا ہے۔ واوفوا الکیل اذا کلتم، یہ حکم ناپ تول پورا کرنے کی ہدایت اور اس میں کمی کرنے کی ممانعت کا ہے جس کی پوری تفصیل سورة المطففین میں مذکور ہے پورا تولنے اور ناپنے کا مطلب یہ ہے کہ حقدار کو اس کا پورا حق دیا جائے اس میں کمی کرنا حرام ہے اسلئے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی ملازم اپنے مفوضہ اور مقررہ کام میں کمی کرے یا جتنا وقت دینا چاہیے اس سے کم دے یا مزدور اپنی مزدوری میں کام چوری کرے۔ صحیح ناپ تول کی ہدایت بھی صرف افراد کے باہمی معاملات تک محدود نہ رہی بلکہ یہ بات اسلامی حکومت کے فرائض میں داخل ہوگئی کہ وہ منڈیوں میں بازاروں میں اوزان اور پیمانوں کی نگرانی کرے اور تطفیف کو بزور بند کرے لا تقف۔۔۔ (الآیۃ) یعنی بغیر تحقیق کے زبان سے کوئی بات نہ نکالو اور نہ کسی بات کی بغیر تحقیق پیروی کرو، انسان کو چاہیے کہ آنکھ، کان، اور دل سے کام لے کر اور بقدر ضرورت تحقیق کرکے کوئی بات منہ سے نکالے اور اس پر عمل کرے، قیامت کے دن تمام اعضاء اور قویٰ کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ ولا تمش فی الارض مرحا، متکبروں کا چال چلنا زیبا نہیں نہ تو، تو زمین پر زور سے پاؤں مار کر زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ سینہ تان کر چلنے سے بلندی میں پہاڑوں کے برابر ہوسکتا ہے پھر ایسے ضعف و عجز کے باوجود کھینچ تان کر قد لمبا کرنے سے کیا فائدہ ؟