Ayahs 19:38–40قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت۔
ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الہٰی ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا۔ الخ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت و افسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئے جب کہ تمام کام فیصل کردیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑ کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو ؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے دوزخیوں سے بھی یہ سوال ہوگا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہوگا اور موت کو ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لئے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لئے بھی اب ہمیشہ موت نہیں۔ پھر حضور ﷺ نے یہی آیت (وانذرہم) الخ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں (مسندامام احمد) ابن مسعود ؓ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہوگا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت و افسوس کرنے لگیں گے ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔ اور روایت میں ہے کہ موت کو ذبح کرکے جب ہمیشہ کے لیے آواز لگادی جائے گی اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مرجائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہوجائیں۔ پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہوگا اور کام کے خاتمہ کا بھی یہی ہوگا۔ پس اس آیت کا مطلب ہے یہ وقت حسرت بھی ہوگا اور کام کا بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے چناچہ اور آیت میں ہے (اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ 56ۙ) 39۔ الزمر :56) پھر بتایا کہ خالق مالک متصرف اللہ ہی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے کوئی ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے اس کی ذات ظلم سے پاک ہے خلیفہ اسلام امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے عبد الحمید بن عبدالرحمن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں لکھا حمد وصلوۃ کے بعد اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
Ayahs 19:41–45بتوں کی پوجا۔
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے (اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 60ۙ) 36۔ يس :60) ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے انسانوں کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور آیت میں ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) ، یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں آپ نے فرمایا شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمابرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچادے گا۔ ابا جان آپ کے اس شرک وعصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آجائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بیکس بےبس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے۔ (تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63) 16۔ النحل :63) یعنی یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے۔
Ayahs 19:46–48باپ کی ابراہیم ؑ کو دھمکی۔
حضرت ابراہیم ؑ کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا وہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا ابراہیم تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے اچھا سن رکھ اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا، انہیں برا کہتا رہا، ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہوجائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لئے گیا گزرا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اچھا خوش رہو میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔ مومنوں کا یہی شیویہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں جیسے کہ قرآن میں ہے (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا 63) 25۔ الفرقان :63) جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ سلام۔ اور آیت میں ہے لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے۔ پھر فرمایا کہ میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لئے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی مسجد حرام بنانے کے بعد بھی آپ کے ہاں اولاد ہوجانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ اے اللہ مجھے میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرو۔ آپ ہی کی اقتدا میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لئے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم ؑ قابل اتباع ہیں لیکن اس باب میں ان کا فعل اس قابل نہیں اور آیت میں فرمایا (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ01103) 9۔ التوبہ :113) ، یعنی نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرنا چاہئے الخ۔ اور فرمایا کہ ابراہیم کا یہ استغفار صرف اس بنا پر تھا کہ آپ اپنے والد سے اس کا وعدہ کرچکے تھے لیکن جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ اس سے بری ہوگئے۔ ابراہیم تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے۔ پھر فرماتے ہیں کہ میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں، میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ عسی یقین کے معنوں میں ہے اس لئے کہ آپ انحضرت ﷺ کے بعد سید الانبیاء ہیں ﷺ۔
Ayahs 19:49–50لا تعلق ہونے کا اعلان۔
خلیل اللہ ؑ ماں باپ کو رشتے کنبے کو قوم وملک کو اللہ کے دین پر قربان کرچکے سب سے یک طرف ہوگئے اپنی برات اور علیحدگی کا اعلان کردیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کردی آپ کے ہاں حضرت اسحاق ؑ پیدا ہوئے اور حضرت اسحاق کے ہاں یعقوب ؑ ہوئے۔ جیسے فرمان ہے (وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً ۭ وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ 72) 21۔ الأنبیاء :72) اور آیت میں ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی اسحاق کے پیچھے یعقوب پس حضرت اسحاق حضرت یعقوب ؑ کے والد تھے جیسے سورة بقرہ کی آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ01303) 2۔ البقرة :133) ، میں صاف لفظ ہیں کہ حضرت یعقوب ؑ نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم اسماعیل اور اسحاق ؑ۔ پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کی نسل جاری رکھی بیٹا دیا بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ یہ ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے بعد آپ کے فرزند حضرت یوسف ؑ بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لئے کہ حضرت یوسف ؑ کی نبوت کے وقت خلیل اللہ ؑ زندہ نہ تھے یہ دونوں نبوتیں یعنی حضرت اسحاق ؑ و یعقوب ؑ کی نبوت آپ کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لئے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے فرمایا، یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ۔ اور حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں۔ فصلوۃ اللہ وسلامہ علہیم اجمعین۔
Ayahs 19:51–53خلوص ابراہیم ؑ۔
اپنے خلیل ؑ کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم ؑ کا بیان فرماتا ہے۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔ دوسری قرأت میں مخلصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ ؑ جیسے فرمان باری ہے (اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ ہیں یعنی، نوح، ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ہم نے انہیں مبارک پہاڑطور کی دائیں جانب سے آواز دی سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کرلیا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں اس قدر قریب ہوگئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی کہتے ہیں آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ اے موسیٰ جب کہ میں ترے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی۔ اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی۔ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لئے ان کے ساتھ کردیا جیسے کہ آپ کی چاہت اور دعا تھی۔
فرمایا تھا (وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ 34) 28۔ القصص :34) ، اور آیت میں ہے (قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى 36۔) 20۔ طه :36) موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کردیا۔ آپ کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں (فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ 13) 26۔ الشعراء :13) ، ہارون کو بھی رسول بنا الخ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ حضرت ہارون حضرت موسیٰ ؑ سے بڑے تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھما۔
Ayahs 19:54–55ابو الحجاز ؑ۔
حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے آپ سارے حجاز کے باپ ہیں جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے پوری ہی کرتے تھے۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آجانا۔ حسب وعدہ حضرت اسماعیل ؑ وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھیرے رہے یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا اب اس شخص کو یاد آیا اس نے آکر دیکھا کہ آپ وہیں انتظار میں ہیں پوچھا کہ کیا آپ کل سے یہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب وعدہ ہوچکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا اس نے معذرت کی کہ میں بالکل بھول گیا تھا۔ سفیان ثوری رحمۃ اللہ تو کہتے ہیں یہیں انتظار میں ہی آپ کو ایک سال کامل گزر چکا تھا۔ ابن شوزب کہتے ہیں وہیں مکان کرلیا تھا۔ عبداللہ بن الحما کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے میں نے آپ سے کچھ تجارتی لین دین کیا تھا میں چلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ یہیں ٹھہریے میں ابھی واپس آتا ہوں پھر مجھے خیال ہی نہ رہا وہ دن گزرا وہ رات گزری دوسرا دن گزر گیا تیسرے دن مجھے خیال آیا تو دیکھا آپ وہیں تشریف فرما ہیں۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھ مشقت میں ڈال دیا میں آج تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کرتا رہا۔ (خرائطی) یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس وعدے کا ذکر ہے جو آپ نے بوقت ذبح کیا تھا کہ اباجی آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ چناچہ فی الواقع آپ نے وعدے کی وفا کی اور صبرو برداشت سے کام لیا۔ وعدے کی وفا نیک کام ہے اور وعدہ خلافی بہت بری چیز ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے ایمان والو وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ہی غضبناکی کی ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت۔ ان آفتوں سے مومن الگ تھلگ ہوتے ہیں یہی وعدے کی سچائی حضرت اسماعیل ؑ میں تھی اور یہی پاک صفت جناب محمد مصطفیٰ ﷺ میں بھی تھی۔ کبھی کسی سے کسی وعدے کے خلاف آپ نے نہیں کیا۔ آپ نے ایک مرتبہ ابو العاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کی سچی کی اور جو وعدہ اس نے مجھ سے کیا پورا کیا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے تخت خلافت نبوی پر قدم رکھتے ہی اعلان کردیا کہ جس سے نبی کریم ﷺ نے جو وعدہ کیا ہو میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں اور حضور ﷺ پر جس کا قرض ہو میں اس کی ادائیگی کے لیے موجود ہوں۔ چناچہ حضرت جابر بن عبداللہ تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے تین لپیں بھر کر دونگا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ کے پاس جب بحرین کا مال آیا تو آپ نے حضرت جابر ؓ کو بلوا کر فرمایا لو لپ بھر لو۔ آپ کی لپ میں پانچ سو درہم آئے حکم دیا کہ تین لپوں کے پندرہ سو درہم لے لو۔ پھر حضرت اسماعیل کا رسول نبی ہونا بیان فرمایا۔ حالانکہ حضرت اسحاق ؑ کا صرف نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے اس سے آپ کی فضیلت اپنے بھائی پر ثابت ہوتی ہے۔ چناچہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اولاد ابراہیم ؑ میں سے اللہ نے حضرت اسماعیل ؑ کو پسند فرمایا، الخ۔ پھر آپ کی مزید تعریف بیان ہو رہی ہے کہ آپ اللہ کی اطاعت پر صابر تھے اور اپنے گھرانے کو بھی یہی حکم فرماتے رہتے تھے۔ یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا آنحضرت ﷺ کو ہے (وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۭ لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا ۭ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۭ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى01302) 20۔ طه :132) ، اپنی اہل و عیال کو نماز کا حکم کرتا رہ اور خود بھی اس پر مضبوطی سے عامل رہ۔ اور آیت میں ہے (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ) 66۔ التحریم :6) ، اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنیے اہل و عیال کو اس آگ سے بچا لو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر۔ جہاں عذاب کرنے والے فرشتے رحم سے خالی زور آور اور بڑے سخت ہیں۔ ناممکن ہے کہ اللہ کے حکم کا وہ خلاف کریں بلکہ جو ان سے کہا گیا ہے اسی کی تابعداری میں مشغول ہیں۔ پس مسلمانوں کو حکم الہٰی ہو رہا ہے کہ اپنے گھر بار کو اللہ کی باتوں کی ہدایت کرتے رہیں گناہوں سے روکتے رہیں یونہی بےتعلیم نہ چھوڑیں کہ وہ جہنم کا لقمہ بن جائیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس مرد پر اللہ کا رحم ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اپنے بستر سے اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے نیند سے بیدار کرتا ہے اس عورت پر بھی اللہ کی رحمت ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اٹھتی ہے۔ پھر اپنے میاں کو جگاتی ہے اور نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈالتی ہے (ابو داؤد، ابن ماجہ) آپ کا فرمان ہے کہ جب انسان رات کو جاگے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور دونوں دو رکعت بھی نماز کی ادا کرلیں تو اللہ کے ہاں اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں عورتوں میں دونوں کے نام لکھ لئے جاتے ہیں (ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ)
Ayahs 19:56–57حضرت ادریس ؑ کا تعارف۔
حضرت ادریس ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ آپ سچے نبی تھے اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ کو ہم نے بلند مکان پر اٹھالیا۔ صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ادریس ؑ سے ملاقات کی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام ابن جریر ؒ نے ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے حضرت کعب ؓ سے سوال کیا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت ادریس ؑ کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ نے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا جب چوتھے آسمان پر آپ پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے حضرت ادریس ؑ کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا وہ کہاں ہیں ؟ اس نے کہا یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر اس کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چناچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب ؒ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے واللہ اعلم۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے ؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں دیکھ کر فرمایا صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو حضرت ادریس ؑ کی روح پرواز ہوچکی تھی۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ درزی تھے سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر سبحان اللہ کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے مجاہد ؒ تو کہتے ہیں حضرت ادریس ؑ آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ مرے نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح بےموت اٹھا لئے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن ؒ کہتے بلند مکان سے مراد جنت ہے۔
Ayah 19:58انبیاء کی جماعت کا ذکر۔
فرمان الہٰی ہے کہ یہ ہے جماعت انبیاء یعنی جن کا ذکر اس سورت میں ہے یا پہلے گزرا ہے یا بعد میں آئے گا یہ لوگ اللہ کے انعام یافتہ ہیں۔ پس یہاں شخصیت سے جنس کی طرف استطراد ہے۔ یہ ہیں اولاد آدم سے یعنی حضرت ادریس صلوات اللہ وسلامہ علیہ اور اولاد سے ان کی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کرا دئے گئے تھے اس سے مراد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ ہیں۔ اور ذریت ابراہیم ؑ سے مراد حضرت اسحاق، حضرت یعقوب حضرت اسماعیل ہیں اور ذریت اسرائیل سے مراد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ہیں علیہم السلام۔ یہی قول ہے حضرت سدی ؒ اور ابن جریر ؒ کا۔ اسی لئے ان کے نسب جداگانہ بیان فرمائے گئے کہ گو اولاد آدم میں سب ہیں مگر ان میں بعض وہ بھی ہیں جو ان بزرگوں کی نسل سے نہیں جو حضرت نوح ؑ کے ساتھی تھے کیونکہ حضرت ادریس تو حضرت نوح ؑ کے دادا تھے۔ میں کہتا ہوں بظاہر یہی ٹھیک ہے کہ حضرت نوح ؑ کے اوپر کے نسب میں اللہ کے پیغمبر حضرت ادریس ؑ ہیں۔ ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت ادریس بنی اسرائیلی نبی ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ معراج والی حدیث میں حضرت ادریس کا بھی حضور ﷺ سے یہ کہنا مروی ہے کہ مرحبا ہو بنی صالح اور بھائی صالح کو مرحبا ہو۔ تو بھائی صالح کہا نہ کہ صالح ولد جیسے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت آدم (علیہما السلام) نے کہا تھا۔ مروی ہے کہ حضرت ادریس ؑ حضرت نوح ؑ سے پہلے کے ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ لا الہ الا اللہ کے قائل اور معتقدین بن جاؤ پھر جو چاہو کرو لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا اللہ عزوجل نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ ہم نے اس آیت کو جنس انبیاء کے لئے قرار دیا ہے اس کی دلیل سورة انعام کی وہ آیتیں ہیں جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق ؑ ، حضرت یعقوب ؑ ، حضرت نوح ؑ ، حضرت داؤد ؑ ، حضرت سیلمان ؑ ، حضرت ایوب ؑ ، حضرت یوسف ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت ہارون ؑ ، حضرت زکریا ؑ ، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت الیاس ؑ ، حضرت اسماعیل ؑ ، حضرت یونس ؑ ، وغیرہ کا ذکر ہے اور تعریف کرنے کے بعد فرمایا (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ۭ قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا ۭاِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ 90) 6۔ الانعام :90) یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تو ابھی ان کی ہدایت کی اقتدا کر اور یہ بھی فرمایا ہے کہ نبیوں میں سے بعض کے واقعات ہم نے بیان کردیے ہیں اور بعض کے واقعات تم تک پہنچے ہی نہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت مجاہد ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے آپ نے فرمایا ہاں پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا تمہارے نبی ﷺ کو ان کی اقتدا کا حکم کیا گیا ہے اور حضرت داؤد ؑ بھی مقتدا نبیوں میں سے ہیں۔ فرمان ہے کہ ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو اس کے دلائل وبراہین پر خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر واحسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے اسی لئے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اوراقتدا ہوجائے۔ امیر المومنین عمر بن خطاب ؓ نے سورة مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا پھر فرمایا سجدہ تو کیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں ؟ (ابن ابی حاتم اور ابن جریر)
Ayahs 19:59–60حدود الہٰی کے محافظ۔
نیک لوگوں کا خصوصا انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر کیا جو حدود الہٰی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے بدیوں سے بچتے ہیں۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بےپرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے ؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل وبہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ کئے انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑنا بیٹھنا ہے۔ اسی لئے امام احمد ؒ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے۔ یہی ایک قول حضرت امام شافعی ؒ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ بندے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا۔ اس مسئلہ کو تقصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں۔ یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے، کہیں محافظت کا۔ آپ نے فرمایا ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے۔ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ تو کفر ہے۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے۔ خلیفۃ المسلمین امیرالمومنین حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کردینا ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے۔ عطابن ابو رباح ؒ یہی فرماتے ہیں کہ یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کردیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ یاد رکھو قاری تین قسم کے ہوتے ہیں مومن منافق اور فاجر۔ راوی حدیث حضرت ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ حضرت مائی عائشہ ؓ اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد و عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں۔ حضرت کعب بن احبار ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں۔ یہ نشے پینے والے، نمازیں چھوڑنے والے، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے، عشا کی نمازوں کے وقت سو جانے والے، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کرکے پیٹو بن کر کھانے والے، جماعتوں کو چھوڑنے والے۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں۔ ابو شہب عطا رومی ؒ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ پر وحی آئی کہ اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہوجاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کردیتا ہوں۔ مسند احمد میں ہے مجھے اپنی امت میں دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑجائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے۔ غیا کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں۔ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ غی جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے۔ ابن جریر میں ہے لقمان بن عامر فرماتے ہیں میں حضرت ابو امامہ صدی بن عجلان باہلی ؓ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں۔ آپ نے فرمایا حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھنکا جائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہ میں نہیں پہنچ سکتا۔ پھر وہ غی اور اثام میں پہنچے گا۔ غی اور اثام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے۔ غی کا ذکر آیت (فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا 59ۙ) 19۔ مریم :59) میں ہے اور اثام کا ذکر آیت (وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا 68ۙ) 25۔ الفرقان :68) میں ہے اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث کی رو سے بھی غریب ہے۔ پھر فرماتا ہے ہاں جو ان کاموں سے توبہ کرلے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گیا اس کی عاقبت سنوار دے گا اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ۔ یہ لوگ جو نیکیاں کریں ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہوگا۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہوگی۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کردیتا ہے۔ سورة فرقان میں گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنا کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور ورحیم ہے۔
Ayahs 19:61–63اللہ تعالیٰ کے وعدے برحق ہیں۔
جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کرچکا ہے ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں وہ حقائق ہیں جو سامنے آکر ہی رہیں گے۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ ماتیا کے معنی اتیا کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں وہ ہمارے پاس آہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہوگی۔ چاروں طرف سے اور خصوصا فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔ جیسے سورة واقعہ میں ہے (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ) 56۔ الواقعة :25) وہاں کوئی بیہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجر سلام اور سلامتی کے۔ یہ استثنار منقطع ہے۔ صبح شام پاک طیب عمدہ خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بےمشقت وزحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے نہیں بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔ چناچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے ان کا بخور خوشبودار اگر ہوگا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے، ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہوگی نہ بغض سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہوگا۔ صبح شام تسبیح میں گزریں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں (مسند) پس صبح وشام باعتبار دنیا کے ہے وہاں رات نہیں بلکہ ہر وقت نور کا سماں ہے پردے گرجانے اور دروازے بند ہوجانے سے اہل جنت وقت شام کو اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیے گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی اس لئے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔ چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے اس لئے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چناچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ صبح شام کا ٹھیکہ ہے، رزق تو بیشمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں۔ یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے جن کی صفتیں (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۙ) 23۔ المؤمنون :1) کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لئے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے (اللہ اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)
Ayahs 19:64–65جبرائیل ؑ کی آمد میں تاخیر کیوں ؟
صحیح بخاری شریف میں ہے آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ سے فرمایا آپ جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ اس کے جواب پر یہ آیت اتری ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ کے آنے میں تاخیر ہوگئی جس سے حضور ﷺ غمگین ہوئے پھر آپ یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ روایت ہے کہ بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے جب آئے تو حضور ﷺ نے کہا اتنی تاخیر کیوں ہوئی ؟ مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ پس گو یہ یہ آیت سورة والضحی کی آیت جیسی ہے۔ کہتے ہیں کہ چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا میرا شوق تو بہت ہی بےچین کئے ہوئے تھا۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی۔ لیکن یہ روایت غریب ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو حضور ﷺ نے رک جانے کی وجہ دریافت کی آپ نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں ؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے فرمایا مجلس درست اور ٹھیک ٹھاک کرلو آج وہ فرشتہ آرہا ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نہیں آیا۔ ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ کو اپنی یاد سے فرماموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان (وَالضُّحٰى ۙ) 93۔ الضحی :1) قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش۔ ابن ابی حاتم میں ہے آپ فرماتے ہیں جو کچھ اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا وہ حلال ہے اور جو حرام کردیا حرام ہے اور جس سے خاموش رہا وہ عافیت ہے تم اللہ کی عافیت کو قبول کرلو، اللہ کسی چیز کا بھولنے والا نہیں پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق مالک مدبر متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ اس کے مثیل شبیہ ہم نام پلہ کوئی نہیں۔ وہ بابرکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔
Ayahs 19:66–70منکرین قیامت کی سوچ۔
بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل گئی ہیں کون زندہ کر دے گا ؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیق زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے۔ یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟ جوابا فرمایا جا رہا ہے کہ کیا اسے یہ بھی معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کردیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کا منکر ؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کردینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگیا کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے ؟ پس ابتداء آفرنیش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ جس نے ابتدا کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتدا کی اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتدا بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں صمد ہوں نہ میرے ماں باپ نہ اولاد نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے انہیں بھی میں جمع کروں گا پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گرے پڑیں گے جیسے فرمان ہے (وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً 28) 45۔ الجاثية :28) ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشرہو گا۔ جب تمام اول آخر جمع ہوجائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کرلیں گے اور ان کے رئیس وامیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے پیشوا انہیں شرک وکفر کی تعلیم دینے والے انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لئے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے (حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، جب وہاں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے ؟ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا (لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک لئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو۔