28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن انکی مدد نہیں کی جائے گی

(41) سو ہم نے ان کو کافروں اور گمراہوں کا ذلیل پیشوا بنا رکھا تھا جو لوگوں کو کفر وشرک اور بتوں کی پوجا کی طرف بلاتے رہے اسی لیے قیامت کے دن عذاب خداوندی کے مقابلہ میں کوئی ان کا ساتھ نہیں دے گا۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور وہ قیامت کے روز بھی بدحالوں میں ہوں گے

(42) اور دنیا میں بھی ہم نے ان پر لعنت نازل کرکے غرق کردیا اور قیامت کے دن بھی وہ برے حال میں اٹھیں گے کہ شکلیں کالی اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور ہم نے پہلی امتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

(43) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو ان سے پہلے اور امتوں کی ہلاکت کے بعد توریت دی تھی جو بنی اسرائیل کے دانش مندیوں کا سبب اور گمراہی سے ہدایت اور ایمان لانے والوں کے لیے رحمت کا باعث تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لائیں۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور جب تم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کی) غرب کی طرف نہیں تھے اور نہ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں تھے

(44) اور اے محمد ﷺ آپ اس وقت کوہ طور کے غربی جانب میں نہیں تھے جب کہ ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے پاس آنے کا حکم دیا تھا اور آپ تو اس مقام پر موجود بھی نہیں تھے۔
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے (موسی کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی اور نہ تم مدین کے رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

(45) لیکن بات یہ ہے کہ ہم نے ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا کی اور پہلوں کا واقعہ بعد والوں سے بیان کیا جیسا کہ اب آپ سے پہلے بیان کیا ہے پھر ان پر طویل زمانہ گزر گیا اور وہ ایمان نہیں لائے تو ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کردیا اور اے محمد ﷺ آپ اہل مدین میں بھی قیام پذیر نہیں تھے کہ ان کے حالات کے بارے میں اپنی قوم کو ہماری قرآنی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہو لیکن جیسا کہ ہم نے آپ و رسول بنایا اور پہلوں کے واقعات آپ سے بیان کیے اسی طرح ہم نے پہلی قوموں کی طرف رسول بھیجے ہیں اور اگلوں کی باتیں پچھلوں سے بیان کی ہیں۔
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ تم اس وقت جبکہ ہم نے (موسی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

(46) اور اسی طرح آپ طور کی غربی جانب میں اس وقت بھی نہیں تھے جب کہ ہم نے حضرت موسیٰ ؑ سے کلام کیا تھا یا یہ کہ آپ کی امت کو پکارا تھا لیکن اس کا علم بھی اس طرح حاصل ہوا کہ آپ اپنے رب کی رحمت سے نبی بنائے گئے اور بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن حکیم میں گزشتہ قوموں کے آپ سے واقعات بیان کیے گئے تاکہ آپ بذریعہ قرآن ایسی قوم کو یعنی قریش کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والانبی نہیں آیا ممکن ہے کہ یہ نصیحت قبول کرلیں اور ایمان لے آئیں۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ہم نے تم کو اس لئے بھیجا ہے کہ) ایسا نہ ہو کہ اگر ان (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت واقع ہو تو یہ کہنے لگیں کہ اے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں ہوتے ؟

(47) اور اگر ہم ان کی طرف کوئی رسول نہ بھی بھیجتے تو قیامت کے دن آپ کی قوم پر ان کے کرداروں کی وجہ سے جب عذاب نازل ہوتا تو یہ یوں کہنے لگتے کہ اے ہمارے پروردگار اس عذاب کے نازل ہونے سے پہلے کوئی رسول ہمارے پاس کتاب دے کر کیوں نہیں بھیجا تھا تاکہ ہم آپ کی کتاب اور آپ کے رسول کی پیروی کرتے اور کتاب و رسول پر ایمان لانے والوں میں ہوتے اسی لیے ہم نے آپ کو قرآن کریم دے کی طرف بھیجا ہے تاکہ ان کے پاس کسی قسم کا کوئی عذر نہ رہے۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے کہ جیسی (نشانیاں) موسیٰ کو ملیں تھیں ویسی اس کو کیوں نہیں ملیں ؟ کیا جو (نشانیاں) پہلے موسیٰ کو دی گئی تھیں انہوں نے ان سے کفر نہیں کیا ؟ کہنے لگے کہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق اور بولے کہ ہم سب سے منکر ہیں

(48) مگر جب ان کفار مکہ کی طرف رسول اکرم ﷺ قرآن حکیم لے کر آئے تو یہ کہنے لگے کہ اے محمد ﷺ حضرت موسیٰ ؑ کی طرح یدبیضاء عصا اور من سلوی کے معجزات کیوں نہیں ملے اور موسیٰ ؑ کی طرح ایک ہی بار قرآن کریم ان پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو جو کتاب توریت ملی تھی کیا یہ کفار مکہ آپ سے پہلے اس کے منکر نہیں ہوئے یہ کفار مکہ تو یوں کہتے ہیں کہ قرآن کریم اور توریت دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے موافق ہیں اور یوں بھی کہتے ہیں کہ ہم تو قرآن کریم اور توریت میں سے کسی کو بھی نہیں مانتے۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں

(49) آپ ان کفار سے فرما دیجیے کہ اللہ کی طرف سے تم کوئی اور کتاب لے آؤ جو ہدایت کرنے میں قرآن اور توریت سے بہتر ہو میں اسی کی پیروی کرنے لگوں گا اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ قرآن کریم اور توریت دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے موافق ہیں مگر ان میں اس کی کہاں طاقت ہے۔
Ayah 28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ؟ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

(50) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر اگر اس احتجاج کے بعد یہ گمراہ آپ کا کہا پورا نہ کرسکیں تو آپ سمجھ لیجے کہ یہ لوگ کفر و شرک اور بتوں کی پوجا میں گرفتار ہیں۔ اور حق وہدایت سے اس شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو کفر وشرک اور بتوں کی پوجا میں گرفتار و سوائے اس کے اللہ کی طرف سے اس کے پاس اس چیز پر کوئی دلیل ہو اور اللہ تعالیٰ ایسے مشرکوں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو اپنے دین کی ہدایت نہیں کیا کرتا۔
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم پے درپے ان لوگوں کے پاس (ہدایت کی) باتیں بھیجتے رہے ہیں تاکہ نصیحت پکڑیں

(51) اور ہم نے اس قرآن کریم میں توحید کے مضامین کو ان کے فائدہ کے لیے وضاحت کے ساتھ بیان کیا تاکہ یہ لوگ اس قرآن کریم سے نصیحت حاصل کرکے ایمان لے آئیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولقد وصلنا لہم القول“۔ (الخ) ابن جریر ؒ اور طبرانی ؒ نے رفاعہ قرضی ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت دس حضرات کے بارے میں نازل ہوئی ہے میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں

(52) جن حضرات کو ہم نے رسول اکرم ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن کریم سے پہلے توریت کا علم دیا ہے یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی یہ چالیس کے قریب ہیں کچھ ان میں سے شام کی طرف سے آئے اور کچھ یمن سے وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ الذین اتنہم الکتب“۔ (الخ) نیز ابن جریر ؒ نے علی بن رفاعہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ اہل کتاب میں سے دس حضرات کی جماعت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جن میں ان کے والد رفاعہ بھی تھے اور آکر مشرف بااسلام ہوگئے تو ان کو کفار کی طرف سے تکلیف پہنچائی گئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم یہ ذکر کیا کرتے تھے کہ یہ آیت اہل کتاب کے کچھ حضرات کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو رسول اکرم ﷺ کی بعثت تک حق پر قائم تھے پھر آپ پر ایمان لائے جن میں سے عثمان اور عبداللہ بن سلام ہیں۔
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب (قرآن) انکو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے (اور) ہم تو اس سے پہلے کے حکم بردار ہیں

(53) اور جب ان حضرات کے سامنے قرآن کریم رسول اکرم ﷺ کے اوصاف وصفات کے ساتھ پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے اور ہم تو قرآن حکیم کے آنے سے پہلے ہی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو مانتے تھے۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

(54) ایسے حضرات کو انکی پختگی کی وجہ سے دوہرا ثواب ملے گا کیوں کہ ان حضرات نے اپنی کتاب میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت لوگوں کے سامنے بیان کی اور پھر اس دین میں داخل ہوئے تو اس پر انکو کفار نے جو تکالیف پہنچائیں اس پر انھوں نے صبر کیا اور یہ لوگ نیک بات یعنی کلمہ ”لاالہ الا اللہ“۔ سے بری بات یعنی شرک کا توڑ کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب بےہودہ باتیں سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال تم کو سلام ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں

(55) اور جب کسی سے اپنی نسبت جھوٹی بات یعنی کفار کا طعنہ سنتے ہیں تو اس کو بھی خوبی کے ساتھ ٹال جاتے ہیں اور نرمی سے کہہ دیتے ہیں ہمارا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور ہمارا دین اسلام ہمارے سامنے ہے اور تم پر تمہارے بتوں کی پرستش اور شیطان کی پیروی اور شرک کا بوجھ ہے اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے ہم مشرکین کے طریقہ پر چلنا نہیں چاہتے۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے محمد) تم جس کو دوست رکھتے ہو اسے ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے

(56) اے محمد ﷺ آپ جس سے چاہیں ایمان کا اقرار نہیں کرا سکتے یعنی حضرت ابوطالب کو البتہ اللہ جس کو چاہے اپنے دین کی ہدایت دیتا ہے یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ اور ان کے ساتھی اور اپنے دین کی ہدایت پانے والوں کا علم بھی اسی کو ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ انک لا تہدی من احببت“۔ (الخ) امام مسلم ؒ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے چچا محترم سے فرمایا کہ کلمہ لا الہ الا اللہ کہہ لو تاکہ قیامت کے دن میں تمہارے حق میں گواہی دوں انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے قریش کی عورتیں عار نہ دلاتیں اور یہ نہ کہتیں کہ گھبراہٹ اور ڈر سے یہ اس کے قائل ہوئے ہیں تو میں اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے۔ امام نسائی ؒ اور ابن عساکر ؒ نے تاریخ دمشق میں سند جید کے ساتھ ابی سعید بن رافع ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے اس آیت ”انک لاتھدی“۔ کے بارے میں دریافت کیا کہ آیا یہ ابوطالب اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں۔
Ayahs 28:57–59

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے ان کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے ؟ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشیت میں اترا رہے تھے سو یہ ان کے مکانات ہیں جو انکے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم اور ان کے پیچھے ہم ہی ان کے وارث ہوئے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو انکو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں

(57) اور حرث بن عمرو نوفلی اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ اگر ہم آپ کے ساتھ توحید کا اقرار کرلیں گے تو ہم سر زمین مکہ سے نکال دیے جائیں گے۔ کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی کہ وہاں کسی قسم کا خوف نہیں جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہماری طرف سے ان کو کھانے کو ملتے ہیں سو اگر یہ ایمان لے آئیں گے تو میں ان پر کفار کو کیوں کر مسلط کر دوں گا لیکن ان میں سے اکثر اس چیز کو نہیں جانتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وقالوا ان نتبع الہدی معک“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عوفی ؒ کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ کچھ قریشیوں نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ اگر ہم آپ کی اطاعت قبول کرلیں گے تو فورا لوگ ہمیں یہاں سے نکال دیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور امام نسائی ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حرث بن عامر بن نوفل نے یہ بات کہی تھی۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو چیز تم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

(60) اور اے گروہ قریش جو کچھ تمہیں مال و خرم دیا گیا ہے وہ چند روزہ دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے جو باقی نہیں رہے گا اور یہیں کی زیب وزینت ہے اور جنت میں جو اجر وثواب رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کیلیے ہے وہ اس سے کئی گنا بہتر ہے اور تمہارے اس دنیاوی ساز و سامان کے مقابلہ میں ہمیشہ رہنے والا ہے۔ کیا تم لوگوں میں انسانوں والے دماغ نہیں کہ اتنی سی بات سمجھ لو کہ دنیاوی چیزیں فانی ہیں اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اس نے اسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا ؟ پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے

(61) بھلا وہ شخص جس سے ہم نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے یعنی رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یا یہ کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ اور پھر وہ اس کو آخرت میں پانے والا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیا میں چند روزہ مال و دولت دے رکھا ہے پھر وہ دوزخ میں جلے گا یعنی ابوجہل۔ شان نزول : (آیت) ”۔ افمن وعدنہ“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت رسول اکرم ﷺ اور ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور دوسرے طریق سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 28:62

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس روز خدا انکو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تم کو دعوی تھا ؟

(62) اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو پکار کرک ہے گا کہ وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے تھے اور میرا شریک سمجھ رہے تھے۔
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

تو جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا (اور) جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح انکو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہو کر) ان سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے

(63) یہ سن کر وہ شرکاء اور شیاطین جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اس کی ناراضگی ثابت ہوچکی ہوگی کہہ اٹھیں گے اے ہمارے پروردگار یہ ہمارے پیروکار وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا ہے ہم نے حق و ہدایت سے ان کو ایسا ہی گمراہ کیا جیسا کہ ہم خود گمراہ تھے اور ہم ان سے دست بردار ہوتے ہیں یہ لوگ ہمارے حکم سے ہمیں نہیں پوجتے تھے۔
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ تو وہ انکو پکاریں گے اور وہ ان کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے

(64) اور اس وقت ان مشرکین سے کہا جائے گا کہ اپنے معبودوں کو بلاؤ تاکہ وہ تم سے عذاب خداوندی دور کریں تو یہ مشرکین حیرت زدہ ہو کر اس مقصد کے لیے ان کو پکاریں گے سو وہ جواب بھی نہ دیں گے اس وقت یہ پیرو کار اور ان کے پیشوا اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھ لیں گے اور تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں حق و ہدایت پر ہوتے۔
Ayah 28:65

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس روز (خدا) ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا ؟

(65) اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کافروں سے پکار کر پوچھے گا کہ پیغمبروں نے جب تمہیں ہدایت کی طرف بلایا تھا تو تم نے ان کو کیا جواب دیا تھا۔
Ayah 28:66

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

تو وہ اس روز خبروں سے اندھے ہوجائیں گے اور آپس میں کچھ بھی نہ پوچھ سکیں گے

(66) تو قیامت کے دن ان سے سب مضامین کم ہوجائیں گے اور آپس میں گفتگو بھی نہ کرسکیں گے۔
Ayah 28:67

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کیے تو امید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو

(67) البتہ جو کفر وشرک سے توبہ کرلے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور نیک اعمال کرے تو ایسے لوگ عذاب الہی سے نجات پانے والے ہوں گے۔
Ayah 28:68

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے انکو اس کا اختیار نہیں ہے یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک و بالاتر ہے

(68) اور آپ کا پروردگار جیسا چاہتا ہے پیدا کرتا اور اپنی مخلوقات میں سے جس کو چاہتا ہے نبوت کے لیے پسند فرماتا ہے یعنی رسول اکرم ﷺ کو اس نے منتخب فرمایا ان کفار مکہ کو کسی قسم کا کوئی بھی حق حاصل نہیں اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور ان کے سینے جو کچھ مخفی کرتے ہیں اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس کو جانتا ہے

(69) اور آپ کا پروردگار سب چیزوں کی خبر رکھتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں بغض ودشمنی چھپی ہوئی ہے اور جو یہ ظاہری طور پر نافرمانیاں کرتے ہیں۔
Ayah 28:70

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور اسی کا حکم اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

(70) اور اللہ تعالیٰ وہی وحدہ لاشریک ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، دنیا و آخرت میں حمد وثنا کے لائق وہی ہے یا یہ کہ آسمان و زمین میں حمد وثنا کے لائق وہی ہے اور حکومت بھی اس کی ہوگئی اور قیامت کے دن تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔
Ayah 28:71

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے جو تم کو روشنی لادے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں

(71) آپ ان کفار مکہ سے کہیے کہ اے گروہ کفار یہ تو بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک تاریک رات رہنے دے تو اللہ کے علاوہ وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے دن کی روشنی لے آئے کیا پھر بھی تم اس ذات کی اطاعت نہیں کرتے جس سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا۔
Ayah 28:72

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

کہو تو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ روز قیامت تک دن کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے کہ تم کو رات لادے جس میں تم آرام کرو ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

(72) اور آپ ان سے یہ بھی کہیے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک دن ہی رہنے دے رات نہ لائے تو اللہ کے علاوہ وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے رات کو لے آئے جس میں تم آرام پاؤ کیا پھر بھی تم اس ذات کی تصدیق نہیں کرتے جس نے تمہارے لیے رات دن بنائے۔
Ayah 28:73

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور (اس میں) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

(73) اس نے اپنی نعمت و رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں علم دین اور عبادت الہی کے ذریعے سے اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم ان نعمتوں پر کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا اللہ کا شکر کرو۔
Ayah 28:74

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک جن کا تمہیں دعوی تھا کہاں گئے ؟

(74) اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں گئے۔
Ayah 28:75

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر ایک امت میں سے گواہ نکالیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو وہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا

(75) اور ہم ہر امت میں سے ایک ایک نبی بھی نکال کر لائیں گے جو دنیا میں ان امتوں کے اندر بھیجا گیا تھا اور وہ احکام خداوندی پہنچانے کی گواہی دے گا پھر ہم ان مشرکین سے کہیں گے کہ اپنی کوئی دلیل پیش کرو کہ تم نے انبیاء کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو کیوں جھٹلایا تو ہر ایک امت جان جائے گی کہ سچی بات دین خداوندی اور عبادت خداوندی تھی اور ان کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق اللہ ہی کو ہے اور دنیا میں جو جھوٹے معبودوں کی پوجا کرتے تھے آج کسی کا پتا نہیں رہے گا
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدی کرتا تھا اور ہم نے اسکو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا

(76) قارون حضرت موسیٰ ؑ کا چچازاد بھائی تھا حضرت موسیٰ ؑ و ہارون ؑ اور ان کی قوم کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا اور کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ ؑ کو رسالت اور ہارون کو دانش مندی مل گئی اور مجھے کچھ بھی نہیں ملا میں تو اس چیز پر راضی نہیں ہوں اور حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت انکار کردیا اور ہم نے اس کو دولت کے اس قدر خزانے دیے تھے کہ اس کے خزانوں کی چابیاں کئی کئی طاقت آور آدمیوں کو گرانبار کردیتی تھیں یعنی چالیس آدمیوں سے بھی اس کے خزانوں کی چابیاں نہیں اٹھتی تھیں جب کہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم نے اس سے کہا کہ تو دولت کی وجہ سے تکبر مت کر اور شرک مت کر اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت (کی بھلائی) طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو اور ملک میں طالب فساد نہ ہو کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

(77) اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے جتنا مال دے رکھا ہے اس میں حصول جنت کی بھی جستجو کیا کر اور دنیا سے اپنے آخرت کے حصہ کو فراموش مت کر یا یہ کہ دنیا کے حصہ سے آخرت کے حصہ میں کمی مت کر اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مال دے کر تم پر احسان کیا تو پھر تم بھی فقرا اور مساکین کے ساتھ احسان کیا کر اور نافرمانی اور حضرت موسیٰ ؑ کے فرمان کی مخالفت مت کر اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی امتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی تھیں ؟ اور گنہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا

(78) قارون کہنے لگا کہ مجھ کو یہ جو کچھ مال ملا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا اہل سمجھ کردیا ہے اور یہ کیمیا سے سونا بنایا کرتا تھا کیا اس قارون نے یہ نہ جانا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے گزشتہ امتوں میں سے ایسے ایسوں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت جسمانی میں بھی ان سے کہیں بڑھے ہوئے تھے اور ان کا مال اور مجمع بھی زیادہ تھا اور قیامت کے دن مشرکین سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال کرنا نہیں پڑے گا ہر ایک اپنے نشان سے خود بخود پہچانا جائے گا۔
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال و متاع) قارون کو ملا ہے کاش (ایسا ہی) ہمیں بھی ملے وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے

(79) ایک بار قارون جو اس کی شان و آرائش تھی یعنی گھوڑوں، خچروں، غلاموں اور لونڈیوں اور سونے چاندی کے زیورات اور طرح طرح کے ہتھیار اور کپڑوں کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا تو جو لوگ دنیا کے طالب تھے وہ کہنے لگے کیا خوب ہوتا کہ ہمیں بھی وہ ہی مال و دولت ملا ہوتا جیسا کہ قارون کو ملا ہے۔ واقعی وہ بڑا خوش نصیب ہے۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں کو ہی ملے گا

(80) اور جن لوگوں کو دین کی فہم یعنی زہد و توکل حاصل تھا وہ بولے تم لوگ برباد ہو اللہ تعالیٰ کے گھر یعنی جنت کا ثواب اس سے ہزار درجہ بہتر ہے جو ایسے شخص کو ملتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے اور جنت ان ہی لوگوں کو دی جاتی ہے جو احکام خداوندی اور تکالیف پر صبر کرنے والے ہیں یا یہ کہ کلمہ طیبہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی توفیق ان ہی لوگوں کو ہوتی ہے جو احکام خداوندی اور تکالیف پر صبر کرنے والے ہیں۔