25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 25:41

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو تمہاری ہنسی اڑاتے ہیں کیا یہی شخص ہے جس کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟

(41) اور جب کفار مکہ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے تمسخر کرنے لگتے ہیں اور بطور مذاق کے کہتے ہیں کیا یہی بزرگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔
Ayah 25:42

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اگر ہم اپنے معبودوں کے بارے میں ثابت قدم نہ رہتے تو یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا (اور ان سے پھیر دیتا) اور یہ عنقریب معلوم کرلیں گے جب عذاب دیکھیں گے کہ سیدھے راستے سے کون بھٹکا ہوا ہے

(42) کہ اس نے ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان کی عبادت پر مضبوطی کے ساتھ قائم نہ رہتے۔ اللہ تعالیٰ بطور وعید کے فرماتا ہے کہ ان کو جلدی ہی معلوم ہوجائے گا جب عذاب کا معائنہ کریں گے کہ کون شخص دین وحجت کے اعتبار سے گمراہ تھا۔
Ayah 25:43

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے ؟ تو کیا تم اس پر نگہبان ہوسکتے ہو ؟

(43) اے پیغمبر ﷺ آپ نے اس شخص یعنی نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کی حالت بھی دیکھی جنہوں نے عبادت کے لیے اپنا اللہ اپنی خواہشات نفسانی کو بنا رکھا ہے تو کیا آپ اس کی اس فساد سے نکالنے میں نگرانی کرسکتے ہیں اس آیت کو آیت جہاد نے منسوخ کردیا یا یہ کہ آپ اس کی عذاب سے نگرانی کرسکتے ہیں۔
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ (ن ہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں

(44) یا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر حق بات کو سنتے ہیں یا یہ کہ جس وقت وہ حق بات کو سنتے ہیں تو اس کو سمجھتے ہیں ان کا سننا اور پھر سمجھنا تو درکنار یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں کہ جن کو کھانے پینے کے علاوہ کسی قسم کی سمجھ بوجھ نہیں بلکہ یہ تو دین وحجت میں ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں کیوں کہ چوپائے تو ان راہ دین کے مکلف ہی نہیں۔
Ayahs 25:45–46

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

بھلا تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر کے پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو بےحرکت ٹھہرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنادیا ہے

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

(45۔ 46) اے مخاطب کیا تو نے اپنے پروردگار کی اس قدرت وصنعت پر نظر نہیں کی کہ وہ صبح صادق کے بعد سورج نکلنے سے پہلے مشرق سے مغرب تک کس طرح سایہ کو پھیلاتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس سایہ کو ہمیشہ ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا کہ آفتاب کی بلندی کا بھی اس پر کچھ اثر نہ پڑتا، پھر ہم نے آفتاب کو اس سایہ کی درازی وکوتاہی پر ایک ظاہری علامت مقرر کردیا کہ جہاں بھی سورج ہوتا ہے، سایہ فورا اس کے ساتھ ہوتا ہے، پھر ہم نے اس سایہ کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیا،
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پردہ اور نیند کو آرام بنایا اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت ٹھہرایا

(47) اور وہ اللہ ایسا ہے جس نے رات تمہارے لیے پردہ کی چیز بنائی کہ اس میں ہر ایک چیز چھپ جاتی ہے اور نیند کو تمہارے جسموں کے لیے راحت کی چیز بنایا اور دن کو تمہاری روزی تلاش کرنے کا وقت بنایا۔
Ayahs 25:48–49

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت کے (مینہ کے) آگے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک (اور نتھرا ہوا) پانی برساتے ہیں

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ اس سے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کردیں اور پھر ہم اسے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو جو ہم نے پیدا کیے ہیں پلاتے ہیں

(48۔ 49) اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے خوش کردینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں جو پاک صاف کردینے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعے سے مردہ وبنجیر زمین میں جان ڈال دیں اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور بہت سے انسانوں کو سیراب کریں۔
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح کے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا

(50) اور ہم اس پانی کو بقدر مصلحت سال بہ سال تقسیم کردیتے ہیں تاکہ لوگ اس کے ذریعہ سے نصیحت حاصل کریں لیکن لوگوں نے اللہ کے اس انعام کو قبول نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کے ساتھ کفر کیے بغیر نہ رہے۔
Ayah 25:51

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتے

(51) مگر ہم چاہتے ہیں تو ہر ایک بستی والوں میں سے ایک ایک پیغمبر بھیج دیتے۔ مگر ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ ہر قسم کا ثواب اور ہر قسم کی فضیلتیں آپ کو حاصل ہوں۔
Ayah 25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس (قرآن) کے حکم کے مطابق بڑے شدو مد سے لڑو

(52) تو آپ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی خوشی کا کام نہ کیجیے اور ان سے قرآن کریم اور بذریعہ تلوار زور شور سے مقابلہ کیجیے۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری چھاتی جلانے والا اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی

(53) اور وہ ایسا ہے جس نے دو دریاؤں کو ملایا جن میں ایک تو شیریں تسکین بخش ہے اور ایک شور تلخ ہے۔ اور باوجود اس کے ان دونوں یعنی شیریں اور تلخ کے درمیان ایک حجاب اور ایک دوسرے کے پانی کے اختلاط سے ایک مانع قوی رکھ دیا۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے

(54) اور وہ ایسا ہے کہ جس نے مرد و عورت کے نطفہ سے انسانوں کو پیدا کیا اور پھر اسے خاندان والا یعنی ایسے رشتہ داروں والا بنایا جن سے نکاح نہیں کرسکتا اور سسرال والا بنایا کہ جن میں شادی بیاہ کرسکتا ہے اور مخلوق میں جو حلال و حرام رشتے پیدا کیے اور تیرا پروردگار بڑی قدرت والا ہے۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کی پرستش کرتے ہیں کہ جو نہ انکو فائدہ پہنچا سکے اور نہ ضرر اور کافر اپنے پروردگار کی مخالفت میں بڑا زور مارتا ہے

(55) اور یہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں کہ دنیا وآخرت میں ان کی یہ عبادت اور اطاعت ان لوگوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی اور نہ ان جھوٹے معبودوں کی نافرمانی اور ترک عبادت ان لوگوں کے لیے کوئی نقصان دہ ہے اور ابو جہل تو اپنے رب کا مخالفہی ہے یا یہ کہ کافروں کی مدد کرکے اپنے پروردگار کی کفر کے ساتھ مخالفت کرتا ہے۔
Ayah 25:56

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور (اے محمد) ہم نے آپ کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے

(56) اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو مکہ والوں کی طرف جنت کی خوشخبری سنانے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
Ayah 25:57

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف (جانے کا) راستہ اختیار کرے

(57) آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ میں تبلیغ توحید وقرآن کریم پر تم سے کسی قسم کا کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتا البتہ جو چاہے وہ ایمان کا راستہ اختیار کرے یا یہ کہ جو چاہے وہ توحید کا قائل ہوجائے اور اس کے ذریعے سے اپنے رب تک پہنچنے کا رستہ اختیار کرے اور وہاں پہنچ کر اس ایمان و توحید پر ثواب حاصل کرے۔
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح ہی کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے

(58) اور آپ ان حی لا یموت پر توکل رکھیے اور ایسے زندوں پر بھروسا نہ کیجیے جن کو موت آجاتی ہے جیسا کہ حضرت خدیجہ ؓ اور ابو طالب اور نہ مردوں پر جن میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں اور اس کے حکم سے نماز پڑھتے رہیے اور اللہ اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمن (یعنی بڑا مہربان) ہے تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو

(59) اور وہ ایسا ہے کہ جس نے تمام مخلوقات اور تمام عجائبات کو چھ دن میں پیدا کیا یعنی دنیا کے اول دنوں میں کہ ہر ایک دن کی مقدار ہمارے حساب سے سال بھر کے برابر تھی اتوار سے شروع فرما کر جمعہ کو پورا کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ تخت شاہی پر قائم ہوا سو اس کی شان کسی اللہ والے سے پوچھنی چاہیے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شان اہل علم سے دریافت کرو وہ تمہیں بتا دیں گے۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اسکے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں

(60) اور جس وقت ان کفار مکہ سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کو سجدہ کرو اور توحید خداوندی کے قائل رہو، اس کے سامنے سربسجود ہوجاؤ تو کہتے ہیں کہ اللہ کیا چیز ہے ہم تو مسیلمہ کذاب کے علاوہ اور کسی کو نہیں جانتے کیا ہم اس بےسند چیز کو سجدہ کرنے لگیں گے اور اللہ تعالیٰ یا قرآن کریم کے تذکرہ سے یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کی دعوت سے ان کو اور زیادہ نفرت ہوتی ہے اور ایمان سے دور بھاگتے جاتے ہیں۔
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا

(61) وہ ذات بہت عالی شان برکتوں والی ہے جس نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے یا یہ کہ برج بنائے اور اس میں ایک روشن آفتاب جو انسانوں کے لیے دن کو روشن کردیتا ہے اور ایک نورانی چاند جو نبی آدم کے لیے رات کو چمکدار بنا دیتا ہے بنایا۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)

(62) اور وہ ایسا ہے جس نے رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والے بنائے اس شخص کے لیے جو ان کی آمد ورفت سے نصیحت حاصل کرنا چاہے اور شکر خداوندی میں خوب نیک عمل کرنا چاہے وہ رات کی عبادت دن میں کرنے کے لیے نہ چھوڑے اور دن کی عبادت کو ٹال کر رات پر نہ ڈالے۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں

(63) اور اللہ تعالیٰ کے خاص بندے وہ ہیں جو خوف خداوندی سے زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب ان سے کافر وفاسق جہالت کی بات چیت کرتے ہیں تو وہ نرمی کے ساتھ جواب دیتے ہیں اور برائی کو دور کرنے کی بات کہتے ہیں۔
Ayah 25:64

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کر کے اور (عجز و ادب) سے کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں

(64) اور جو راتوں کو اپنے پروردگار کے سامنے تہجد کی نماز میں لگے رہتے ہیں۔
Ayahs 25:65–66

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

(اور) دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے

(65۔ 66) اور جو دعائیں مانگتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے دوزخ کا عذاب دور کیجیے کیوں کہ اس کا عذاب لازم ہونے والا اور پوری تباہی ہے۔ بیشک وہ برا ٹھکانا اور برا مقام ہے۔
Ayah 25:67

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کے کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم

(67) اور طاعات مالیہ میں ان کا یہ طریقہ ہے کہ جب وہ خرچ کی کوتاہی کریں اور ان کا خرچ اس اسراف اور اس قسم کی کمی کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس جاندار کو مار ڈالنا خدا نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریق (یعنی حکم شریعت کے مطابق) اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا

(68) اور جو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کسی معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس شخص کے قتل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے اور نہ اس کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں مگر حق پر یعنی قتل کرنے کا کوئی سبب ہو جیسا کہ رجم قصاص، ارتداد وغیرہ اور وہ زنا نہیں کرتے اور نہ زنا کو حلال سمجھتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ والذین لایدعون“۔ (الخ) امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے، میں نے عرض کیا پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا اپنے لڑکے کو اس ڈر سے قتل کر دو کہ وہ کہیں تمہارے ساتھ نہ کھائے، میں نے عرض کیا پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا نہ کرو، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق کے لیے یہ آیات نازل فرما دیں یعنی کہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہیں کرتے۔ نیز بخاری ؒ ومسلم ؒ ہی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے قتل بھی بہت کیے تھے اور زنا بھی بکثرت کیے تھے وہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس چیز کی دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے کہ کاش آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ اس چیز کو قبول کرلینا کیا ہمارے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب سورة فرقان کی یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے کہا ہم نے تو بہت سے ناحق خون کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ بہت سے معبودوں کی عبادت کی ہے اور فواحش کا ارتکاب کیا ہے اس پر (آیت) ”الا من تاب“۔ (الخ) سے آیت کا یہ حصہ نازل ہوا یعنی مگر جو توبہ کرلے اور ایمان لے آئے۔
Ayah 25:69

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے دن اس کو دونا عذاب ہوگا اور ذلت و خواری سے اس میں ہمیشہ رہے گا

(69) اور جو اس کو حلال سمجھے یعنی کافر تو اس کو دوزخ کی وادی یا گڑھے سے ہمیشہ کے لیے سابقہ پڑے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ذلت کے ساتھ رہے گا۔
Ayah 25:70

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(70) مگر جو شرک و گناہوں سے توبہ کرے گا اور ایمان لانے کے بعد نیک کام کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے کفر کو ایمان کی برکت سے اور گناہوں کو اطاعت کی برکت سے اور جو غیر اللہ کی عبادت کی تھی اس کو عبادت خداوندی کی برکت سے اور برائیوں کو نیکیوں کی برکت سے معاف فرما دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور جو توبہ پر مرے اس پر رحمت فرمانے والا ہے۔
Ayah 25:71

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بیشک وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے

(71) اور جو شخص گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور خلوص کے ساتھ اعمال صالحہ کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں پختہ توبہ کرنے والا ہوگا اور اس توبہ کا ثواب وہ اللہ تعالیٰ کے دربان میں پائے گا۔
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو بےہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں

(72) اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی بندوں میں یہ بات ہے کہ وہ بیہودہ باتوں کی مجالس میں شریک نہیں ہوتے اور اگر اتفاقی طور پر ایسی مجالس پر سے گزرنا پڑجائے تو وہ سنجید گی ومتانت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ کہ جب انکو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غورو فکر سے سنتے ہیں)

(73) اور وہ ایسے ہیں کہ جس وقت ان کو اللہ کے احکام کے ذریعے سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ احکام خداوندی پر بہرے ہو کر اور اندھے ہو کر اس پر نہیں گرتے بلکہ ان کو سنتے اور دیکھتے ہیں۔
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ جو (خدا سے) دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا

(74) اور وہ حضرات ایسے ہیں جو یہ دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کو نیک صالحہ بناتا کہ ان کو دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہمیں ایسا نیکوکار بناتا کہ ہماری پیروی کی جائے۔
Ayahs 25:75–76

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ان (صفات کے) لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے اور وہاں فرشتے ان سے دعاو سلام کے ساتھ ملاقات کریں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے

(75۔ 76) ان اوصاف والوں کو جنت میں بلند درجات ملیں گے بوجہ اس کے کہ وہ اطاعت خداوندی فقر اور تکالیف پر ثابت قدم رہے اور وہ لوگ جس وقت جنت میں داخل ہوں گے تو فرشتے ان کو منجانب اللہ بقاء اور سلام کی دعائیں دیں گے اور وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے وہ کیسا اچھا ٹھکانا اور مقام ہے۔
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا تم نے تکذیب کی ہے تو اسکی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی

(77) پیغمبر خدا ﷺ آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ اگر تم اس کی عبادت نہیں کرو گے تو میرا پروردگار تمہارے جسموں اور صورتوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرے گا جب کہ اس نے تمہیں توحید و عبادت کا حکم دیا ہے تو تم تو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو جھوٹا سمجھتے ہو تو عنقریب یہ چیز تمہارے لیے وبال جان ہو کر رہے گی، چناچہ غزوہ بدر میں ضرب قتل اور قید کا عذاب نازل ہوا یعنی تم نے اپنے نبی ﷺ کو جھٹلایا تو یہ عذاب تم پر لازم ہو کر رہے گا یہ اللہ کی طرف سے وعید ہے۔