22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے

(41) یہ حضرات (صحابہ کرام ؓ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو سرزمین مکہ میں حکومت دے دیں تو خود بھی پانچوں نمازوں کی پابندی کریں، اور زکوٰۃ دیں اور دوسروں کو بھی توحید اور رسول اکرم ﷺ کی پیروی کا حکم دیں اور کفر وشرک اور رسول اکرم ﷺ کی مخالفت سے روکیں اور آخرت میں تمام کاموں کے انجام اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔
Ayahs 22:42–43

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح ؑ کی قوم بھی عاد اور ثمود کی قوم بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط

(42۔ 43) اور اے محمد ﷺ اگر یہ قریش آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ کی قوم سے پہلے قوم نوح، نوح ؑ کی اور قوم ہود، ہود ؑ کی اور قوم صالح، صالح ؑ کی اور قوم ابراہیم، ابراہیم ؑ کی اور قوم لوط، لوط ؑ کی اور قوم شعیب بھی شعیب ؑ کی تکذیب کرچکی ہے۔
Ayah 22:44

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے رہنے والے بھی اور موسیٰ بھی تو جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر ان کو پکڑ لیا تو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا (سخت) تھا

(44) اور موسیٰ ؑ کو بھی ان کی قبطی قوم کی طرف سے جھٹلایا گیا ہے، ان کافروں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی پھر میں نے ان کو عذاب میں جکڑ لیا، سو محمد ﷺ دیکھیے میری گرفت کیسی سخت ہوئی۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے انکو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (بہت سے) کنویں بیکار اور (بہت سے) محل ویران (پڑے ہیں)

(45) غرض کہ کتنی بستیوں والے جن کو بذریعہ عذاب ہم نے ہلاک کیا ہے جن کی حالت یہ تھی کہ وہ شرک اور نافرمانی کرتی تھیں سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور اسی طرح ان بستیوں میں کتنے بےکار کنوئیں پڑے ہیں کہ کوئی ان کا مالک اور ان میں سے پانی کھینچنے والا نہیں اور بہت سے بڑے مضبوط قلعے پڑے ہیں کہ کوئی ان میں رہنے والا نہیں۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں

(46) تو کیا یہ کفار مکہ اپنی تجارتوں کے سلسلہ میں ملک میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے علاوہ اور قوموں کا کیا حشر ہوا، اس کو دیکھ کر ان کے دلوں میں خوف پیدا ہوجائے اور یہ غور وفکر کرنے لگیں یا ان کے کان ایسے ہوجائیں کہ حق اور خوف کی بات کو سننے لگیں مگر بات یہ ہے کہ بغیر عبرت کے دیکھنے یا یہ کہ کلمہ شرک سے آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں بلکہ حق اور ہدایت کی طرف سے دل اندھے ہوجایا کرتے ہیں۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا اور بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے

(47) اور اے محمد ﷺ نضر بن حارث نزول عذاب کے وقت سے پہلے آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں، عذاب کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے وہ کبھی اس کے خلاف نہیں کرے گا اور آپ کے رب کے پاس کا ایک دن جس میں ان سے نزول عذاب کا وعدہ فرمایا ہے وہ دنیا کے سالوں میں سے ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور وہ نافرمان تھیں پھر میں نے انکو پکڑلیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

(48) اور بہت سی بسیتوں والے ہیں جن کو میں نے ایک معینہ مدت کے لیے مہلت دی ہے اور وہ ان ہی کی طرح کفر وشرک کی باتیں کرتے تھے، پھر میں نے ان کو دنیا میں بھی سزا دی اور سب کو آخرت میں میری طرف واپس آنا ہوگا۔
Ayah 22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو ! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں

(49) آپ فرما دیجیے مکہ والو میں تمہارے لیے اللہ کی طرف سے ایک ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو ڈرانے والا رسول ہوں۔
Ayah 22:50

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور کام نیک کئے ان کے لئے بخشش اور آبرو کی روزی ہے

(50) سو جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے اور اچھے کام کرنے لگے، ان کے گناہوں کی دنیا میں بخشش اور جنت میں ان کے لیے بہترین ثواب ہے۔
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں (اپنے زعم باطل میں) ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی وہ اہل دوزخ ہیں

(51) اور جو لوگ ہماری آیات یعنی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو جھٹلاتے رہتے ہیں، وہ ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتے، ایسے لوگ جہنمی ہیں۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈالتا ہے جو وسوسہ شیطان ڈالتا خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے

(52) بلکہ ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کو یہ واقعہ پیش نہ آیا ہو کہ جب اس رسول اکرم ﷺ نے احکام خداوندی میں سے کچھ پڑھا، یا اس نبی نے کچھ بیان کیا تو شیطان نے اس رسول کے پڑھنے اور اس نبی کے بیان کرنے میں کچھ شبہ ڈال دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان شیطانی شبہات کو اپنی نبی کی زبانی بیان کروا دیا تاکہ ان پر کوئی عمل نہ کرے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو بیان کردیتا ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور شیطان جو شبہات ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والا اور نیست ونابود کردینے میں حکمت والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ومآ ارسلنا من قبلک“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابن جریر ؒ اور ابن منذر ؒ نے سند صحیح کے ساتھ سعید بن جبیر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں سورة نجم کی تلاوت فرمائی جس وقت آپ (آیت) ”افرایتم اللات والعزی ومناۃ الثالثۃ الاخری“۔ (الخ) پر پہنچے تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلوا دیے ”۔ تلک الغرانیق العلی، وان شفاعتھن لترتجی“۔ (الخ) (کہ ان بڑے بڑے بتوں کی سفارش قبول کی جائے گی) مشرکین کہنے لگے آج سے پہلے ہمارے بتوں کا اچھائی کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا غرض کہ آپ نے سورت کے اختتام پر سجدہ کیا اور تمام لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بزار ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے دوسرے طریقے سے سعید بن جبیر ؒ کے ذریعے حضرت ابن عباس ؓ سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ روایت نقل کی ہے اور اس سند کے علاوہ اور دوسری سند سے یہ روایت متصلا مروی نہیں ہے اور صرف امیہ بن خالد اس روایت کو متصلا بیان کر رہے ہیں، باقی وہ ثقہ اور مشہور آدمی ہیں اور نیز اسی روایت کو امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں واقدی ؒ ہے اور ابن مردویہ ؒ نے کلبی ؒ، ابو صالح ؒ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اور ابن جریر ؒ نے عوفی کے ذریعے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور ابن اسحاق ؒ نے اسی روایت کو سیرت میں محمد بن کعب ؒ اور موسیٰ بن عقبہ ؒ کے ذریعے سے ابن شہاب ؒ سے اور ابن جریر ؒ نے محمد بن کعب ؒ اور محمد بن قیس ؒ سے اور ابن ابی حاتم ؒ نے سدی ؒ سے روایت کیا ہے اور یہ سب روایات قریب قریب ایک ہی مضمون کی ہیں باقی یہ تمام روایات سعید بن جبیر ؓ کی سند کے علاوہ جو سب سے پہلے روایت کی ہے ضعیف ہیں یا منقطع، حافظ بن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ روایت کے کثرت طرق اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ اس واقعہ کی کوئی اصلیت موجود ہے اور پھر جب کہ دو مرسل صحیح طریق بھی اس روایت کے موجود ہیں جنھیں ابن جریر ؒ نے روایت کیا ہے ایک طریق تو ان میں سے زہری عن ابی بکر بن عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام کا طریق ہے اور دوسرا داؤد بن ہند عن ابی العالیہ کا طریق ہے اور شیخ ابن عربی اور قاضی عیاض کے اس قول کا کہ یہ سب روایات باطل ہیں، کی کوئی اصلیت نہیں اور کچھ اعتبار نہیں۔ (یہ واقعہ امام بیہقی ؒ، قاضی عیاض ؒ محمد بن اسحاق ؒ، شیخ ابو منصور، ماتریدی ؒ اور ابن عربی ؒ کی تصریح کے مطابق غیر ثابت، بےسن، موضوع اور گھڑا ہوا ہے، اور اس کی کوئی اصلیت نہیں، واللہ اعلم) (مترجم)
Ayah 22:53

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

غرض (اس میں) یہ ہے کہ جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں ذریعہ آزمائش ٹھہرائیے بیشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں

(53) تاکہ اللہ تعالیٰ نبی کے اس پڑھنے میں شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو ایسے لوگوں کے لیے آزمایش کا ذریعہ بنا دے جن کے دل میں شک واختلاف کا مرض ہے اور جن کے دل یاد الہی سے بالکل ہی شقی ہیں تاکہ دیکھیں کہ کس پر عمل کرتے ہیں اور واقعی یہ مشرک لوگ جیسا کہ ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھ حق اور ہدایت کی بڑی مخالفت اور دشمنی میں ہیں۔
Ayah 22:54

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور انکے دل خدا کے آگے عاجزی کریں اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا انکو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

(54) تاکہ جن حضرات کو قرآن کریم اور توریت کا علم دیا گیا وہ اس بات کو اچھی طرح جان لیں کہ یہ حق و باطل کی وضاحت اللہ کی طرف سے ہے اور یہ نبی کی زبان پر جو حق بات ظاہر ہوئی ہے وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے سو اللہ تعالیٰ کے اس حق کے اظہار کی اور تصدیق کریں اور پھر اس کی طرف ان کے دل اور بھی جھک جائیں اور بسر و چشم قبول کرلیں۔ اور واقعی اللہ تعالیٰ ہی ایسے لوگوں کو جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے راہ راست یعنی دین اسلام دکھاتا ہے۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر آواقع ہو

(55) اور رہ گئے یہ کافر ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھ تو یہ ہمیشہ قرآن کریم کے بارے میں شک ہی میں رہیں گے لیکن محمد ﷺ آپ ان کو اس وقت دیکھنا جب اچانک ان پر قیامت آجائے گی یا ان پر کسی ایسے دن کا عذاب آپہنچے جس سے چھٹکارا نہیں۔
Ayah 22:56

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس روز بادشاہی خدا ہی کی ہوگی (اور) وہ ان میں فیصلہ کر دے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

(56) جیسا کہ بدر قیامت کے دن بادشاہی اللہ ہی کی ہوگی وہ ہی مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا سو جو لوگ آپ پر اور قرآن کریم پر ایمان لائے ہوں گے اور اچھے کام کیے ہوں گے وہ چین کے باغوں میں ہوں گے کے ذریعے سے ان کو عزت دی جائے گی۔
Ayah 22:57

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

(57) اور جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری کتاب اور ہمارے رسول کو جھٹلایا ہوگا تو ان کے لیے ذلیل کرنے والا اور سخت ترین عذاب ہوگا۔
Ayah 22:58

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے ان کو خدا اچھی روزی دے گا اور بیشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

(58) جن لوگوں نے اطاعت خداوندی میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی پھر ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کفار نے قتل بھی کیا یا سفر یا حضر میں وہ انتقال کر گئے تو ان لوگوں میں سے انتقال فرمانے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں بہترین ثواب اور ان میں سے جو زندہ ہیں ان کو پاکیزہ اور حلال اموال غنیمت عطا فرمائے گا اور یقینا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں سب دینے والوں سے اچھا ہے۔
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ ان کو ایسے مقام سے داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور خدا تو جاننے والا (اور) بردبار ہے

(59) اور اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ اپنے لیے بہت ہی پسند کریں گے یعنی کہ ان کو جنت میں لے جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے ثواب اور ان کی شرافت و بزرگی کو خوب جاننے والا اور جن لوگوں نے ایسے برگزیدہ لوگوں کو قتل کیا ان کی سزا کے موخر کرنے میں بڑا حلیم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا جو اللہ تعالیٰ آخرت میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فرمائے گا۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ (بات خدا کے ہاں ٹھہر چکی ہے) اور جو شخص (کسی کو) اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو خدا اسکی مدد کرے گا بیشک خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

(60) جو شخص دشمن کے ولی کو قتل کرے جیسا کہ اس نے اس کے ولی کو قتل کیا ہے اور پھر اس دشمن کی طرف سے اس شخص پر ظلم کیا جائے تو مظلوم کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائے گا کہ وہ اسے قتل کردے گا تو اس سے دیت نہیں کی جائے گی، یہ جس شخص کے بھائی پر زیادتی کی گئی ہے یہ اس کے لیے انتقام ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ذلک ومن عاقب بمثل ما عوقب۔“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے مقاتل سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ ایک چھوٹے لشکر کے بارے میں نازل ہوئی جس کو رسول اکرم ﷺ نے روانہ فرمایا تھا چناچہ راستے میں ان سے مشرکین ایسے وقت میں ملے جب کہ ماہ محرم الحرام کے اختتام میں دو راتیں باقی تھیں مشرکین نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ اصحاب محمد ﷺ کو قتل کر دو کیوں کہ یہ شہر حرام میں قتال کو حرام سمجھتے ہیں (اس لیے ہم سے جھگڑا نہیں کریں گے موقع اچھا ہے) صحابہ کرام ؓ نے ان کو قسمیں دلائیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرایا کہ ہمارے سے جھگڑا مت کرو کیوں کہ ہم شہر حرام میں قتال کو حلال نہیں سمجھتے مشرکین نے اس بات کے ماننے سے انکار کیا اور ان سے قتال کیا اور ان پر زیادتی کی چناچہ پھر مسلمانوں نے بھی ان سے قتال کیا اور مسلمانوں کی اللہ کی طرف سے مدد کی گئی، اسی کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور خدا تو سننے والا اور دیکھنے والا ہے

(61) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے تو بعض اوقات دن رات سے لمبا ہوتا ہے اور دن کے اجزا کو رات میں داخل کرتا ہے تو بسا اوقات رات دن سے زیادہ لمبی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو باتوں کو خوب سننے والا اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اسلئے کہ خدا رفیع الشان اور بڑا ہے

(62) یہ اللہ کی قدرت کا اس لیے مظاہرہ کرایا جارہا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے اور تم اس بات کا یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت حق ہے اور وہی ہستی میں کامل الوجود ہے اور جن چیزوں کی تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کرتے ہو وہ بالکل ہی بےہودہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی تمام چیزوں سے بلند اور سب سے بڑا ہے۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ بیشک خدا باریک بین اور خبردار ہے

(63) اے محمد ﷺ کیا آپ کو بذریعہ قرآن کریم اس چیز کی خبر نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے بارش برسائی جس سے زمین نباتات کی وجہ سے سرسبز ہوگئی اللہ تعالیٰ ان نباتات کے نکالنے میں بڑا مہربان اور ان کے پورے مکانات کی خبر رکھنے والا ہے۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے

(64) جو کچھ آسمانوں و زمین میں مخلوقات وغیرہ ہیں وہ سب اسی کی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی ایسا ہے جو اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں اور وہ اپنے کارخانہ قدرت میں ہر طرح کی تعریف کے لائق ہے یا یہ کہ جو بھی اس کی تعریف کرے ہر قسم کی تعریفوں کے لائق ہے۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیر فرمان کر رکھی ہیں ؟ اور کشتیاں (بھی) اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گرپڑے مگر اسکے حکم سے بیشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

(65) اے محمد ﷺ کیا آپ کو بذریعہ قرآن اس چیز کی خبر نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے درختوں اور جانوروں کو تم لوگوں کے کام میں لگا رکھا ہے اور کشتیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے کہ وہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہیں۔ اور وہی قیامت تک کے لیے آسمان کو زمین پر گرنے سے اپنے حکم سے روکے ہوئے ہے، بیشک اللہ تعالیٰ مومنین پر بڑی شفقت و رحمت والا ہے۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی پھر تم کو مارتا ہے پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکرا ہے

(66) اور اسی نے تمہیں کو تمہاری ماؤں کے رحم ہی میں زصفر کی حالت میں زندگی دی اور وہی تمہیں بچپن یا بڑے ہونے کی حالت میں موت دے گا اور وہی تمہیں مرنے کے بعد پھر زندہ کرے گا، واقعی بدیل بن ورقاء کافر اور اللہ تعالیٰ اور بعث بعد الموت اور مسلمانوں کے ذبیحہ کا منکر ہے۔
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر ایک امت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ تم سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

(67) کیوں کہ ہم نے ہر ایک دین والے کے لیے ذبح اور یہ کہ عبادت کا طریقہ متعین کردیا ہے وہ اپنے دین کے طریقہ پر ذبح کیا کرتے ہیں۔
Ayah 22:68

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اگر یہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ جو عمل تم کرتے ہو خدا ان سے خوب واقف ہے

(68) سو ان اعتراض کرنے والوں کو چاہیے اس امر ذبح اور توحید میں آپ سے جھگڑا نہ کریں اور نہ آپ کی مخالفت کیا کریں اور آپ ان کو اپنے پروردگار کی توحید کی طرف دعوت دیتے رہیے، یقینا آپ پسندیدہ صحیح رستہ یعنی اسلام پر ہیں اور اگر یہ پھر بھی ذبح اور توحید کے معاملہ میں آپ سے جھگڑا نکالتے رہیں اور بکتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذبح کیا ہوا یعنی مردار بہ نسبت اس کے زیادہ حلال ہے کہ جسے تم اپنی چھریوں سے ذبح کرتے ہو تو آپ فرما دیجیے کہ تم میں جو ذبح کا طریقہ ہے اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہے۔
Ayah 22:69

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا قیامت کے روز ان کا فیصلہ کر دے گا

(69) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم لوگوں کے درمیان عملی فیصلہ فرما دے گا جن چیزوں یعنی امر ذبح اور توحید کے بارے میں مخالفت کیا کرتے تھے۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خدا اس کو جانتا ہے ؟ یہ (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ سب خدا کو آسان ہے

(70) اے محمد ﷺ کیا آپ کو معلوم نہیں (خطاب خاص مراد عام ہے) کہ آسمان والوں میں جو نیکیاں اور زمین والوں میں جو کچھ نیکیاں اور برائیاں ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اور یہ تمام چیزیں لوح محفوظ میں محفوظ ہیں اور لوح محفوظ کے بغیر بھی ان تمام چیزوں کا محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت آسان ہے۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ انکے پاس اس کی کوئی دلیل ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

(71) اور یہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں کہ جن کے جواز عبادت پر اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب اور حجت نہیں بھیجی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی نقلی دلیل اور ان مشرکین سے کوئی عذاب خداوندی کو روکنے والا ان کا مددگار نہ ہوگا۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں پر صاف طور پر ناخوشی کے (آثار) دیکھتے ہو قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں ؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور (وہ) برا ٹھکانا ہے

(72) اور جب ان لوگوں کے سامنے قرآن حکیم کی آیتیں جو کہ اوامرو نواہی کے بیان میں خوب واضح ہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو آپ ان منکرین قرآن کے چہروں پر قرآن کریم سے ناگواری کے آثار دیکھتے ہیں۔ قریب ہے کہ یہ ان لوگوں پر ابھی حملہ کردیں جو ان کو قرآن کریم کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں، آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کیا میں تمہیں اس سے زیادہ ناگواری کی چیز بتا دوں جو کہ تم اس دنیا میں مسلمانوں سے کہتے ہو وہ دوزخ ہے کیونکہ وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم نے تم سے زیادہ کم نفع والا کسی دین والے کو نہیں دیکھا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے یہ کہنے کا حکم دیا کہ وہ دوزخ ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور تم بھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ کفر کرتے ہو اور وہ برا ٹھکانا ہے جس کی طرف تم جاؤ گے۔
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو کہ جن لوگوں کو خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں اور اگر ان سے کوئی مکھی چھین کرلے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں

(73) اے کفار مکہ تمہارے بتوں کی ایک عجیب حالت بیان کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو اور قبول کرو وہ یہ کہ جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو وہ ایک مکھی تو پیدا کر ہی نہیں سکتے اگرچہ یہ سارے عابد اور یہ سب معبود مل کر بھی کوشش کریں تب بھی ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے (اور یہ تو بڑی بات ہے وہ معبود تو ایسے عاج ہیں) اور اگر مکھی تمہارے ان معبودوں سے کچھ چھین لے جائے جو کچھ تم ان پر شہد ملتے ہو تو تمہارے یہ معبود اس مکھی سے چھڑا ہی نہیں سکتے اور نہ اس کو بھگا سکتے ہیں۔ ایسے ہی یہ بت بہیودہ ہیں اور ایسی ہی مکھی یا یہ کہ ایسا ہی ان کی پرستش کرنے والا بیہودہ ہے اور ایسے ہی ان کے یہ معبود بیہودہ ہیں۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی کچھ شک نہیں کہ خدا زبردست اور غالب ہے

(74) افسوس ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسی بڑائی بیان کرنا چاہیے تھی نہ کی یہ آخری آیت یہود کے اقوال کی تردید میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ حضرت عزیز ؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم غنی اور معاذ اللہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بند ہیں اور یا یہ کہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آرام کیا ان بدتمیزیوں کی اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی جیسی بڑائی بیان کرنی چاہیے تھی وہ نہ کی، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں بڑی طاقت والا اور یہودیوں کو سزا دینے میں بڑے غلبہ والا ہے۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

(75) اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے رسالت کے لیے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے، فرشتوں میں سے جیسے جبرئیل ؑ ، میکائیل ؑ ، اسرافیل ؑ اور ملک الموت اور اسی طرح آدمیوں میں سے بھی جیسا کہ رسول اکرم ﷺ اور تمام انبیاء کریم ؑ ہیں اور جو کفار بکتے ہی کہ اس رسول کو کیا ہوا کھانا بھی کھاتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب سننے والا اور ان کے انجام کو خوب دیکھنے والا ہے۔
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

(76) اور وہ ان فرشتوں اور انسانوں کے امور آخرت دنیا اور ان سب چیزوں کو اچھی طرح جانتا ہے اور آخرت میں تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ بتا دے گا۔
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

مومنو ! رکوع کرتے اور سجدے کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ

(77) لہذا اے ایمان والو نماز میں رکوع کیا کرو اور سجدہ کیا کرو اور اپنے رب کی تابعداری کیا کرو اور نیک اعمال کیا کرو امید ہے کہ تم غضب الہی اور عذاب الہی سے نجات پاؤ گے۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور خدا (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تم کو برگذیدہ کیا ہے اور تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد ہو اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور خدا کے (دین کی رسی) کو پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے

(78) بلکہ اللہ کے کام میں خوب کوشش کیا کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے اسی نے تمہیں اپنے دین کے لیے منتخب فرمایا اور تم پر دین میں کسی قسم کی کوئی تنگی نہیں کی مثلا فرمایا کہ جو کھڑے ہونے کی طاقت نہ رکھے وہ بیٹھ کر نماز پڑھ لے اور جس میں بیٹھ کر بھی نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو وہ سیدھے لیٹ کر اشارہ سے پڑھ لے تم اپنے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی ملت کا اتباع کرو اس اللہ نے قرآن کریم کے نزول سے پہلے کتب انبیاء کرام ؑ میں تمہارا لقب مسلمان رکھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول اکرم ﷺ تمہاری گواہی دینے اور تصدیق کرنے والے ہوں اور تم انبیاء کرام ؑ کے لیے ان کی قوموں کے مقابلہ میں گواہ ہو، لہذا پانچوں نمازوں کو وضو، رکوع، و سجود کی تکمیل اور اوقات کی پوری رعایت کے ساتھ ادا کرتے رہو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیتے رہو اور دین الہی اور کتاب الہی کو مضبوطی سے پکڑے رہو، وہ تمہارا محافظ وکار ساز ہے، سو کیسا اچھا محافظ اور کیسا اچھا مددگار ہے۔