13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 13:41

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اسکے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنیوالا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

(41) کیا مکہ والے اس چیز کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم رسول اکرم ﷺ کے لیے ان کی زمین کو چاروں طرف سے فتح کرتے جارہے ہیں یا یہ کہ ہر طرف سے کمی سے مراد علماء کا اٹھ جانا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی شہروں کی فتوحات اور علمائے کرام کے انتقال کرنے بارے میں فیصلہ فرماتا ہے اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں اور وہ ان پر سخت قسم کا عذاب نازل کرنے والا ہے یا یہ کہ جس وقت وہ ان سے حساب لینا شروع کرے گا تو اس کا حساب بڑی جلدی ہوگا۔
Ayah 13:42

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتیری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب اللہ ہی کی ہے۔ ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لئے ہے۔

(42) اور ان کفار مکہ سے پہلے بھی اور لوگوں نے تدبیریں کیں جیسا کہ نمرود وغیرہ اور اس کے ساتھی تو کچھ بھی نہ ہوا کیوں کہ ان سب کی تدبیر کی سزا اللہ تعالیٰ کے پاس موجود ہے، نیک وبد جو نیکی اور برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی سب خبر رہتی ہے اور اسی طرح ان یہودیوں اور تمام کفار کو ابھی معلوم ہوجائے گا کہ نیک انجام یعنی جنت اور فتح بدر اور فتح مکہ کسی کے حصہ میں ہے۔
Ayah 13:43

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا) کے رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہے۔

(43) اور یہود وغیرہ یوں کہہ رہے کہ محمد ﷺ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں ورنہ ہمارے پاس اپنی نبوت کے لیے کوئی گواہ لے کر آؤ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ اور جس کے پاس کتاب آسمانی کا علم ہے یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھی تو وہ میری رسالت اور اس قرآن کریم کے کلام خداوندی ہونے کے لیے کافی گواہ ہیں۔ اور یا یہ کہ عبداللہ بن سلام کے علاوہ اس سے آصف بن برخیامراد ہیں کیوں کہ جس کے پاس اللہ کی طرف سے کتاب آسمانی کا علم ہوگا تو یقینی طور پر اس میں قرآن کریم کا ذکر اور بیان ہوگا۔