Ayahs 61:7–9ترکیب : و یعطف الجملۃ اوللاستیناف۔ من مبتداء اظلم مع المفضل علیہ وصلۃ خبرہ وھو یدعٰی قراء لجمہورید عٰی من الدعاء مبنیا للمفعول و قریٔ من الادعاء مبنیا للفاعل وانماعدی بالی التضمین معنی الانتماء والا نتساب والجملۃ حال من فاعل افتری واللہ الجملۃ مقررۃ لمضمون ماقبلھا یریدون جملۃ مبنیۃ لغرضھم من الافتراء لیطفؤا منصوب بان مقدرۃ واللام مؤکدۃ مزیدۃ دخلت علی المفعول لان التقدیر یریدون ان یطفؤا (قال ابن عطیہ) والاطفاء الاخماد واصلہ فی النارواستیعرلما یجری مجرا ھامن الظہور والمرادمن النور القران اوالاسلام اوالنبی ﷺ فنور اللہ استعارۃ تصریحۃ والاطفاء ترشیح واللہ مبتداء متم نورہ الخ خبرہ قرا الجمہور متم نورہ بالاضافۃ وقریٔ بالتنوین واعرابھما ظاہر۔ وبالہدی حال من رسولہ لیظہرہ ای یغلبہ واللام متعلقہ بارسل الدین المرادبہ الجنس ای الادیان ولذاصح تاکیدہ بلکہ ولوا لجملۃ مقررۃ لماقبلھا۔
تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ جب وہ رسول کہ جس کے آنے کی خبر چلی آتی تھی ان لوگوں کے پاس نشانیاں لے کر آیا تو اس کو جادو کہنے لگے۔
اب فرماتا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کون ظالم اور جفاکار ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھے یعنی اس کی آیات کو سحر کہے اور اس کے لیے بیٹا اور جورو قرار دے حالانکہ اس کو کسی بری بات کی طرف نہیں بلایا جاتا بلکہ اسلام کی طرف۔ یہ جفاکار ‘ ہٹ دھرم لوگ ہدایت کا منہ نہیں دیکھیں گے محروم رہیں گے اور رہتے ہیں۔
توضیح :۔ دنیا میں جس قدر مذاہب موجود ہیں یا تھے خواہ ان کی اصل من اللہ تھی اور بعد میں لوگوں کے خیالات نے اس پر قلعی کر کے ان کی اصلی صورت بدل دی یا وہ سرے سے جاہلانہ خیالات اور اوہام باطلہ کا ایک مجموعہ تھا جب ان سب کو حقانی مذہب سے جس کو اسلام کہتے ہیں مقابلہ کر کے دیکھیں گے تو ان میں سینکڑوں جھوٹی اور خیالی آمیزشیں ملیں گی جن پر ان مذاہب کے مروجین نے خداوند تعالیٰ کی خوشنودی اور ناراضی اور نجات و عذاب کو منحصر کیا ہے یہی وہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ عیسوی مذہب کو دیکھو۔ تثلیث اور کفارہ اور الوہیت مسیح اور اسی طرح عشائِ ربانی اور اصطباغ کا مسئلہ اور ان کے بعد پوپوں کے سینکڑوں ڈھکوسلے ایسے ہیں کہ جن پر وہ لوگ نجات کا مدار سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ہنود نے گائے کی پرستش اور برہمابشن ہمیش کے سوا اور سینکڑوں غیرمرئی چیزوں کی الوہیت و نافع و ضار ہونے کی عقیدت اور خودکشی اور تغیرہیئت جو ان کے جوگیوں اور گشائیوں کا دستور ہے اور گوشت کا ترک اور بتوں کی پرستش اور سینکڑوں دورازقیاس افسانے جو ان کی کتابوں وید اور پرانوں کا سرمایہ ہے نجات اور مکتی اور سعادت دارین کا باعث اور نارائن کی خوشنودی کا سبب قرار دے رکھا ہے۔ اسی طرح عرب کے جاہلوں کے سینکڑوں غلط دستور اور بہت سے جھوٹے افسانے تھے جن کو مرضی الٰہی کا مدار بنا رکھا تھا۔ کہیں کہتے تھے کہ ہمارا فلاں بت قیامت کے روز ہم کو جہنم سے بچا لے گا اور فلاں کو رزق و ارزانی کا مختار کر رکھا ہے وغیرہ وغیرہ۔ افسوس اس انسان کی یہ محنت شاقہ اور یوں رائیگاں گویا پانی کی باڑ آخرت میں نجات کے بدلے عذاب کا باعث ہے۔ اس لیے اس رحیم کریم نے دنیا میں وہ رسول بھیجا جو اس اہم مسئلہ کو حل کر دے اور توہمات و تخیلات باطلہ کو دور کر کے مرضیاتِ الٰہی اور نجات وسعادت انسانی کا سیدھا رستہ دکھائے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے یہ کام پورا کردیا اور اس سیدھے رستے کا نام خدا تعالیٰ نے اسلام رکھا جس کے ظاہری معنی خدا کی فرمانبرداری اور اس کے آگے گردن جھکانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ پھر افسوس پر افسوس کہ جب اس گم گشتہ وادی توہمات کو اس سیدھے رستے کی طرف بلایا جاتا ہے تو اس کو نئی بات جان کو چونکتا ہے اور اس پرانے دستور مالوف کا چھوڑنا شاق جانتا ہے اگر اس کو خدا نے چراغ توفیق عطا کیا ہے تو وہ ادھر سیدھا چلا آتا ہے ورنہ اسی داعی کے مقابلے میں ان جھوٹے افسانوں اور تخیلات فاسدہ کو پیش کرتا ہے درحقیقت اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا اور اس کو ہدایت بھی نہیں ہوتی۔ یہ ہیں معنی ومن اظلم من افترٰی علی اللہ الکذب وھو یدعٰی الی الاسلام واللہ لایہدی القوم الظالمین کے اسی قدر پر بس نہیں بلکہ اپنے اس ناقص اور قابل ترک مذہب کے غالب کرنے کے لیے اس آسمانی طریقے کو جس کو پچھلا نبی دنیا میں لایا جو اس پر آشوب تاریکی اور پر خطر ظلمات کے لیے نور یعنی شمع ہے اس کو بجھانا بھی چاہتے ہیں یریدون لیطفؤا نور اللہ اور بجھانا بھی کا ہے سے بافواھھم اپنے منہ سے پھونکیں مار مار کر بافواھھم میں اشارہ ہے کہ وہ جو منہ سے من گھڑت افسانے بیان کرتے ہیں اسلام کے مقابل جس کو افتراء علی اللہ کہنا چاہیے ان منہ کی نکلی باتوں سے اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں۔ پھر کیا وہ ان سے مٹ سکتا ہے ؟ کیونکہ واللہ متم نورہ ولوکرہ الکافرون۔ اللہ تو اپنی روشنی پوری ہی کر کے رہے گا اس کے منکر شپرہ چشم گونہ چاہیں۔
یہ بات صادق آئی اور اس آسمانی شمع پر جس کا کتاب یسعیاہ کے 41۔ 42۔ 61 بابوں میں اشارہ ہے۔ اس وقت کے مخالفوں کے پھونکے سے نہ بجھی بلکہ وہ خود جل جل کر مرگئے اور یہ شمع اس قدر روشن ہوتی گئی کہ تمام برعرب سے بھی اس کی روشنی نکل کر شام و ایران و خراسان و ممالیک یورپ و ایشیا و افریقہ تک پہنچی اور خلفائے راشدین ؓ کے عہد میں ان کی سچی کوششوں کی چمنی نے اس کو حفاظت میں رکھ کر اور بھی تیز کردیا، اندھوں نے رستہ پایا، راہ راست صاف دکھائی دینے لگی۔ ان کے بعد جو جو تندہوائیں اس پر چلیں وہ اہل تاریخ سے مخفی نہیں۔ باہمی قتال وجدال پھر حرب صلیب کا فتنہ کہ صدیوں تک تمام عیسائیوں نے مل کر زور مارا اور کوئی دقیقہ اس کے گل کرنے میں اٹھا نہیں رکھا مگر آخر وہی جل کر خاکستر ہوگئے۔ پھر چنگیز خانی مغلوں کا حملہ جس نے بغداد جیسے دار اسلام شہر کو نیست و نابود کر یا۔ اس کے کتب خانوں کی سیاہی سے دجلہ کا پانی سیاہ ہوا۔ مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہیں، تب بھی کچھ نہ ہوا۔ نہ قرآن میں ایک حرف کی کمی زیادتی ہوئی، نہ اصول اسلامیہ میں فرق آیا، نہ اس کے علوم مندرس ہوئے اور اب بھی مخالف کوئی کمی نہیں کر رہے اور برائے نام مسلمانوں نے بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے۔ کہیں نیچری بن کر اس پر حملہ کیا، کہیں تعزیہ پرستی، گور پرستی اور صدہارسم و رواج کو جزو اسلام بنا کر اس شمع کے گل کرنے کا کافی بندوبست کیا مگر کچھ نہیں ہوا۔ اب اس شمع کی روشنی امریکہ اور یورپ کے دور دراز ملکوں تک بھی جا پہنچی۔ چین و جاپان میں بھی پر توا ڈال دیا۔
یہ شمع چونکہ آسمانی شمع ہے اس کو کون بجھا سکتا ہے اس بات کو اس آیت میں یہ بیان فرماتا ہے۔ ھوالذی ارسل رسولہ بالہدٰی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کا۔ کہ اللہ نے دنیا میں اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے یعنی ان غلط آمیزش کے مذہبوں کو بےرونق کرے۔ ایسا ہی کردیا کوئی مذہب بجز اسلام دنیا کے عقلمندوں کے نزدیک توہمات جاہلانہ سے پاک نہیں اور یوں بھی جہاں اس مذہب کے پاک اصول بیان کئے جائیں اور اس کے مقابلے میں دوسرے کے بھی تو یہی غالب آئے گا اور یہی وجہ ہے کہ ممالیک افریقہ میں اور دیگر بلاد میں بغیر کسی کوشش کے خودبخو داسلام پھیلتا جاتا ہے اور نصرانیت شکست کھاتی جاتی ہے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ تمام دنیا کا مذہب اسلام ہوجائے گا اور اس کے سچے پیرویوں بھی مخالفوں پر غالب رہے اور رہیں گے۔ ولوکرہ المشرکون مشرکین عیسیٰ (علیہ السلام) کے پوجنے والے پادری اور بتوں اور عناصر کے پوجنے والے ہندوآریہ وغیرہ گو برا مانیں اور زبانی قیل و قال کریں اور اگر مگر کر کے باتیں بنائیں اور اسلام پر جھوٹے الزام لگائیں مگر کیا ہوتا ہے۔
Ayahs 61:10–13ترکیب : ھل ادلکم الخ الجملۃ نداء ھل الاستفھام ایجاب و اخبار معنٰی وقیل المعنی سادلکم تنجیکم الجملۃ صفۃ تجارۃ قراء الجمہور تنجیکم من الابخاء ای بالتحفیف وقریٔ بالتشدید من التنجیۃ تؤمنون تفسیر لتجارۃ وقبل استیناف کانھم قالواکیف نعمل فقال تؤمنون باللہ وھوخبرفی معنی الامرویجوزان تکون فی موضع جرعلی البدل اوفی موضع رفع علی تقدیرھی وان محذوفۃ ولماحذفت بطل عملھا وتجاھدون عطف علیٰ تؤمنون ان کنتم شرط جو ابہ محذوف فافعلوہ یغفر مجزوم اما ھوجواب شرط محذوف دل علیہ الکلام تقدیرہ ان تؤمنوایغفرلکم واماان تؤمنون بمعنی آمنوا الخبر بمعنی الامرھذاقول الزجاج والمبردداماانہ جواب لماول علیہ الاستفھام والمعنی ھل تقبلون ان دلتکم واماانہ جواب استفھام علی اللفظ ھذا قول الفراء ضعفہ بعض وصوبہ الفخر الرازی فی تفسیرہ ویدخلکم معطوف علی یغفرلکم ومساکن جمع مسکن منصوب لکونہ معطوفاً علی جنت واخریٰ منصوب علی تقدیر ویعطیکم اخریٰ ای نعمتہ اخریٰ ۔ اوعلی تقدیر تحبون المدلول علیہ تحبونہا وقال الفراء والاخفشھی معطوفۃ علی تجارۃ فھی فی محل جرای وھل ادلکم علی خصلۃ اخریٰ وقیلھی فی محل رفع ای ادلکم خصلۃ اخریٰ ۔ نصر۔ وفتح خبرمبتداً محذوف ایھی۔ وبشر معطوف علی محذوف ای قل وبشراہ وعلی تو منون بمعنی آمنوا۔
تفسیر : اگلی آیت میں تھا کہ اللہ اپنے دین کو سب دینوں پر غالب کرے گا اس میں اشارہ تھا کہ عالم بالا دنیا پر ایک آسمانی سلطنت قائم کرنے والا لشکر تیار کرنے والا ہے جس سے اس نور کو بجھانے والوں کو زیر کیا جائے۔ اس لیے ان آیات میں ایک بڑے اجر اور بیش بہا تنخواہ پر جو دنیا و آخرت کی سعادت کو شامل ہے اعلان دیتا ہے اور اس کے ضمن میں اس ضروری کام سے پہلوتہی کرنے پر عذاب الیم کا خوف بھی دلاتا ہے تاکہ بڑی مستعدی کے ساتھ ایک لشکر جرار تیار ہوجائے جو دنیا کو تمام نجاستوں سے پاک کر دے۔ یا یوں کہو انسان اس دنیا میں ناحق نہیں آیا ہے بلکہ اس عمر گراں مایہ میں کچھ حاصل کر کے ایک ابدی جہان میں جانا ہے اس بات کو خدا تعالیٰ اس پیرائے میں بیان فرماتا ہے کہ انسان تاجر ہے مگر تجارت کرنا نہیں جانتا۔ ہم اس کو تجارت سکھاتے ہیں۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم کہ اے ایماندارو ! لو تم کو میں ایسی تجارت بتائوں جو تم کو دردناک عذاب سے بچائے۔ تجارت ایک شے کا دوسری شے سے معاوضہ۔ تجارت میں دو چیز ہوا کرتی ہیں ایک مال جس سے کوئی چیز خریدی جائے۔ دوسری وہ چیز جس کو خریدتا ہے اور تجارت میں نفع بھی ہوتا ہے اور نقصان بھی اور عقلا کے نزدیک وہ تجارت کہ جس میں ضرر کا احتمال بھی نہ ہو اعلیٰ درجے کی ہے اور اس پر اور بھی خوبی ہو کہ جس سے وہ چیز خریدی جائے وہ اپنی طرف سے معاوضے کی چیز کے سوا کچھ اور بھی دے۔ اس جگہ سب سے پہلے دفع مضرت کا ذکر کردیا۔ تنجیکم من عذاب الیم کہ عذاب الیم جو انسان کو اس گرانمایہ زندگی کے عبث اور بیکار گناہوں کے کاموں میں صرف کرنے سے ہوتا ہے اس سے تم کو یہ تجارت نجات دے گی۔ بڑا خسارہ انسان کے لیے آخرت میں عذاب الیم کا ہے سو اس دغدغہ سے پہلے ہی اطمینان کردیا کہ اس تجارت میں گھاٹا ہی نہیں۔ اس کے بعد تجارت کے لیے مال بیان فرماتا ہے۔ تؤمنون باللہ ورسولہ کہ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو برحق جانے گا اور ان کو مانے گا تو فرشتوں اور قیامت اور اس کے سب رسولوں اور کتابوں کو بھی برحق سمجھے گا اور ان کے تمام اقوال کی تصدیق کرے گا جو تکمیل قوت نظریہ کو حاوی ہے۔
شبہ : یا ایہا الذین آمنوا سے معلوم ہوا کہ آیت میں ایمانداروں سے خطاب ہے۔ پھر جو ان کو تؤمنون باللہ ورسولہ فرمایا پھر کیا وہ اللہ اور رسول پر ایمان نہ لائے تھے تو ان کو مومن کیوں کہا ؟ اور اگر لائے تھے تو پھر اس کی کیا ضرورت کہ باردگر ایمان لائیں ؟
جواب : ایمانداروں سے خطاب تھا مگر باردگر جو فرمایا کہ ایمان لاؤ تو اس سے اس پر دوام و ثبات مراد ہے یعنی اس ایمان پر ہر وقت قائم رہو۔ یہ ایک محاورے کی بات ہے کہ کسی کام کے کرنے والے کو جو کہا جاتا ہے کرتے رہو تو یہ مراد ہوتی ہے کہ خوب عمدہ طرح سے اور مضبوطی سے ہمیشہ کرو غافل نہ ہوجائو۔ ایمان ایک بڑا بیش بہا جوہر ہے اس کے چور بھی بہت ہیں اس لیے باربار تاکید ہوتی ہے کہ اپنی جیب کو دیکھتے رہو۔ ہر گھڑی اس کی تصدیق قلبی پر نظر کرلیا کرو۔ بعض مفسرین نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ آمنوا کے لفظ سے منافقوں کو خطاب ہے۔ وہ بظاہر مومن تھے اس لیے ان کو باطن میں بھی ایمان لانے کی تاکید کی۔ یہ اس تجارتی نقد کا ایک حصہ تھا۔
مراتب جہاد کے : اب دوسرے کو بیان فرماتا ہے۔ تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم کہ اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں کوشش کرو۔ یہ جملہ تکمیل قوت عملیہ کے لیے بڑا وسیع المعنی جملہ ہے کس لیے کہ جہاد کے کئی مرتبے ہیں۔ اول مرتبہ۔ اول اپنے نفس سرکش کا مقابلہ مال سے اور جان سے۔ مال سے اس طور کہ طمع نفسانی نہیں چاہتی کہ نیک کاموں میں کچھ خرچ کرے۔ اقارب ‘ یتامٰی مسافر آفت زدے اس کے ہاتھ کو تکتے ہیں۔ نفس ہے کہ دور اندیشوں کی مہیب صورتیں دکھا دکھا کر اس کے ہاتھ کو روکے لیتا ہے۔ اب اس کو لازم ہے کہ اس نفس بد کا مقابلہ کرے یا وہ نیک اور مفید کام جو قوم یا بنی آدم کے لیے نافع اور اس کے یادگار ہوں گے ان میں دینے سے روکتا ہے یا برے کاموں میں ناچ، تماشے، رنڈی بازی، شراب خوری، جوا، تھیٹر کا تماشا، میلے ٹھیلے، ارباب نشاط کے جلسے، نمود اور تجمل کے کارخانے دوسروں کی ایذرسانی وغیرہ وغیرہ بیہودہ کاموں میں صرف کرنے کو نفس خبیث ابھارتا ہے۔ وہاں اس کو روکنا اور سخت مقابلہ کر کے شکست دینا چاہیے۔ مال سے زیادہ جان عزیز ہے اس لیے اموالکم کے بعد انفسکم کا لفظ آیا۔ جان کا جہاد اس مرتبہ میں یہ ہے کہ خواہشات نفسانیہ سے روکے اور عبادات ‘ ریاضیات اور عمدہ کاموں میں اس کو لگا دے۔ یہ نہیں کہ شتر بےمہار کی طرح جس طرف اس کا نفس خبیث لے جائے دوڑا چلا جائے۔ دوسرا مرتبہ : دوسرا مرتبہ حجاب ظلمانیہ کو اٹھا کر انوار قرب الٰہی میں مراقبہ ذکر فکر ‘ اشغال بالعبادات سے آگے قدم رکھنا اور اس رستے میں جس قدر دشمن سامنے آئیں شمشیر ہمت سے ان کو مار بھگانا اخیر مرتبہ جس کو اس جہاد کی شہادت کہتے ہیں یہ ہے کہ اپنی ہستی کو اس باقی کی ہستی میں فنا کر دے جس کے بعد اس کو حیات جاودانی اور بقائے سرمدی عطا ہوتی ہے۔
؎
کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں ازغیب جانے دیگرست
تیسرا مرتبہ : تیسرا مرتبہ اس تکمیل نفس کے بعد تکمیل غیر کا ہے۔ اس میں جان اور مال سے کوشش کرنا ‘ بدراہوں کو نرمی اور لینت سے راہ پر لانا ‘ ان کی ہدایت کے رستے کھولنا ‘ آخرکار جو کجرو اور بدنہاد اس راہ میں کانٹے بچھاتے ہیں ان کا جوانمردی سے مقابلہ کرنا، مال سے لشکر کے سامان تیار کرنا، جان سے لڑنا یہ جہاد شرعی ہے اس کے شہید کے بھی بڑے مرتبے ہیں وہ بھی ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
اس کے بعد اس تجارتی مال کو بیان فرماتا ہے جو ان دونوں مالوں سے خریدا گیا ہے۔ فقال یغفرلکم ذنوبکم تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ لکم کے لفظ نے یہ بھی فائدہ دیا کہ یہ تمہارے گناہ کسی کے واسطے یا وسیلے سے نہیں بلکہ تمہارے لیے بخش دیے جائیں گے۔ رہی شفاعت نبی کریم ﷺ تو ان لوگوں کے حق میں گناہوں کے معاف کرانے کے لیے نہ ہوگی بلکہ اور زیادہ انعام و اکرام عطا کرانے کے لئے۔ دوسری بات ویدخلکم کہ تمہیں ایسی بہشتوں میں بسا دیں گے کہ جہاں نہریں جاری ہیں اور عمدہ مکانوں میں جگہ دیں گے کہ جن کے آگے دنیاوی بادشاہوں کے محل بےحقیقت ہیں۔ مال بھی دو قسم کے تھے اس کے بدلے میں چیزیں بھی دو دیں۔ اب اپنی طرف سے ایک اور تیسری چیز عطا فرماتا ہے واخری الخ مددالٰہی اور فتح جس کو ہر ایک پسند کرتا ہے ہر مرتبے کے جہاد میں فتح اور مدد غیبی ساتھ لگی ہوئی ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے بڑے بڑے دشمنوں پر کیسی کیسی جلد فتح یابی حاصل کی۔ یہی مضمون قرآن میں ایک اور آیت میں بھی آچکا ہے۔ ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون۔ اس مبارک سودے کا مژدہ اے نبی ایمانداروں کو دے دے۔
Ayah 61:14ترکیب : انصار اللہ۔ الانصار (جمع نصیر کشریف و اشراف) منصوب لکونہ خبر کونوا قریٔ انصار اللہ بالتنوین وبالاضافۃ والرسم یحتمل القرائتیں کماو الکاف فی موضع نصب علی اضمار القول ای اقول لکم کماقال وقیل ھو محمول علی المعنی اذالمعنی انصروا اللہ کمانصرالحواریون عیسیٰ بن مریم الی اللہ ای من یکون معی فی نصرۃ اللہ لیطابق السوال و حواری الرجال صفیہ وخلصآء من الحوروھوالیباض الخالص۔
تفسیر : اس تجارت کے بعد صاف صاف لشکر آسمانی میں داخل ہونے کی تاکید فرماتا ہے اور اس کے ضمن میں ایک پہلی قوم سے تشبیہ پیدا کرنے کا ارشاد فرماتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا کونوا انصار اللہ کہ اے ایمان والو ! اللہ کے مددگار ہوجائو۔ اللہ پاک و بےنیاز ہے اس کو کسی کی مدد کی کچھ بھی حاجت نہیں لیکن مراد یہ کہ دین الٰہیِ کے پھیلانے اور اس کی تعمیل میں سرگرم اور آمادہ ہوجائو۔ اس کام کے لیے کمر باندھ کر تیار رہو۔ کماقال عیسیٰ بن مریم للحواریین من انصاری الی اللہ۔ ایسے سرگرم ہوجاؤ جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری سرگرم اور مستعد ہوگئے تھے جبکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں سے کہا میرا کون مددگار ہوتا ہے۔ اللہ کی راہ میں تو قال الحواریون نحن انصار اللہ۔ حواری بول اٹھے کہ ہم ہیں اللہ کے کاموں میں آپ کے مددگار۔ حواری کا لفظ عربی زبان میں حور سے مشتق ہے جس کے معنی خالص سفیدی کے ہیں اس لیے دھوبی کو بھی حواری کہتے ہیں کہ وہ کپڑے سفید کرتا ہے اور مددگار اور خالص دوست کو بھی جس کے دل میں محبت و نصرت کی سفیدی یعنی روشنی ہے اور یہ جمع نہیں بلکہ بروزن حوالی ہے جو کثرالحیل کو کہتے ہیں جمع اس کی حواریون ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارہ شاگردوں کو جو اول اول ان پر ایمان لائے اور یارومددگار ہوئے اس لیے حواری کہتے ہیں نہ اس لیے کہ وہ دھوبی تھے جیسا کہ بعض کا خیال ہے۔ ان بارہ شخصوں کے نام یہ ہیں۔ شمعون جو پطرس کہلاتا تھا اور اس کا بھائی اندریاس زیدی کا بیٹا یعقوب اور اس کا بھائی یوحنا فلیبوس اور برتھولا۔ تھوما اور محصول لینے والا متی۔ ہلقا کا بیٹا یعقوب۔ اور لبی جو تہدی بھی کہلاتا۔ شمعون کنعانی اور یہوداہ سکریوتی جس نے اسے پکڑوا بھی دیا۔ (انجیل متی باب دسواں) ۔
یہ بنی اسرائیل تھے ان میں سے کچھ ماہی گیر تھے یا یہ کہ ماہی گیری کرتے ان کو حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بلایا جیسا کہ انجیل متی کے چوتھے باب میں پہلے چاروں حواریوں کی بابت مذکور ہے۔ ان حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کو سب سے اول قبول کیا اور حضرت کی ہمدردی و محبت میں نہایت سرگرم اور مستعد اور مخلصین تھے۔ چناچہ متی کے دسویں باب میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سی باتیں کیں کہ پہلے اسرائیل کی بستیوں میں جاؤ اور چلتے ہوئے منادی کرو اور کہو کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی، سامان سفر کچھ ساتھ نہ لو اور میں تمہیں بھیڑیوں میں بھیجتا ہوں لوگ تمہیں کوڑے ماریں گے، عدالتوں کے حوالے کریں گے۔ میرے نام کے سبب تم سے سب دشمنی کریں گے۔ پر جو آخر تک برداشت کرے گا وہی نجات پائے گا۔ یہ خیال مت کرو کہ میں صلح کرانے آیا ہوں نہیں بلکہ تلوار چلانے کو آیا ہوں 1 ؎
ا ؎ اس تلوار چلانے کے لیے لشکر درکار تھا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو میسر نہ آیا۔ آنحضرت ﷺ کو عطا ہوا جیسا کہ کتاب یسعیاہ کے 41 باب میں وعدہ کیا تھا۔ 12 منہ
کیونکہ میں آیا ہوں کہ مرد کو اس کے باپ اور بیٹے کو اس کی ماں اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کروں اور آدمی کے دشمن اس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے جو کوئی ماں باپ بیٹے بیٹی کو مجھ سے زیادہ چاہتا ہے وہ میرے لائق نہیں۔ جو کوئی اپنی صلیب 1 ؎ اٹھا کر میرے پیچھے نہیں آتا وہ میرے لائق نہیں جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے وہ اسے کھوئے گا اور جو میرے واسطے اسے کھوئے گا وہ پائے گا۔ جو تمہیں قبول کرتا ہے مجھے قبول کرتا ہے۔ انتہٰی۔
اسی کے مطابق ان حضرات حواریین نے کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ملک یہودیہ میں بھی منادی کرتے پھرے۔ پھر سر یا کے علاقوں میں سے گزر کر یونان اور روم کے شہروں میں پہنچے اور سفر کی اور لوگوں کی بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائیں اور طرزمعاشرت بھی درویشانہ ہی تھا۔ کسی سے کچھ لیتے دیتے نہ تھے ان میں اس خلوص کی بدولت خدا تعالیٰ نے کرامت بھی دی تھی۔ ان کی دعا سے بیمار تندرست ہوجاتے تھے اور ہر طرح کے کرامات و برکات لوگ دیکھتے تھے۔ آخر لوگوں کے ہاتھوں سے قتل ہوئے مگر دین عیسوی کو خوب پھیلا دیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل و کفرت طائفۃ۔ کہ بہت سے بنی اسرائیل ایمان لے آئے اور بہت سے منکر رہے مگر حواریوں کی کوشش اور جانکاہی کا یہ نتیجہ ہوا کہ بحری اور بری بہت سے ممالیک نے مذہب عیسوی قبول کرلیا اور اس عرصے میں گھر گھر لڑائی اور جنگ کی آتش بھی شعلہ زن ہوئی مگر آخرکار خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والوں کو منکروں پر غلبہ دیا۔ فایدنا الذین اٰمنوا علیٰ عدوھم فاصبحوا ظاھرین۔ یہ بات اور ہے کہ پھر ان عیسوی لوگوں میں اصلی دین محرف ہوگیا۔ ان آیات میں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں جیسے ہونے کی ترغیب دلاتا ہے کہ تم بھی اشاعت اسلام کے لیے ویسی ہی کوشش کرو اور حضرت محمد ﷺ کے حواری بن جائو۔ آنحضرت ﷺ تو پچھلے نبی تھے جو حضرت عیسیٰ و موسیٰ و ابراہیم (علیہم السلام) کے رستے کے پتھر اور کانٹے صاف کرنے آئے تھے اور قومیں جو اگلے انبیاء کی مخالف تھیں ہیں اب تو یہ موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے نام لیوا یہودونصاریٰ ہی سب سے بڑھ کر دشمن ہوگئے کس لیے کہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو کچھ دین حق میں ان کے درویشوں اور مولویوں نے ملونیاں ملا کر معجون مرکب بنایا جو حق کے سراسر خلاف تھا اس کا ترک کرنا ان کے نزدیک جان دینے سے بھی مشکل تھا اس لیے آنحضرت ﷺ بھی دنیا میں تلوار چلانے اور باپ بیٹے ‘ ساس بہو میں جنگ کرانے آئے۔ چناچہ مکہ میں ظہوراسلام سے لے کر فتح مکہ تک یہی حال رہا۔ بدر کی لڑائی میں ایک بھائی ایک طرف تو دوسرا دوسری طرف تھا۔ بیٹا ادھر تو باپ ادھر تھا اور جہاں جہاں اسلام پہنچا اس کے ساتھ اس کے رقیبوں اور پرانے دشمنوں نے کیا کچھ نہیں کیا ؟ آنحضرت ﷺ نے انصار و مہاجرین کی ایک عمدہ جماعت اس کام کے لیے منتخب کی اور پھر ایک عمدہ انتظام سے ان کو مختلف خدمات پر مامور کیا۔ کچھ قراءت ہے تو کچھ قوموں میں جا کر تبلیغ کرتے تھے اور بوقت جنگ سپاہی تو سب ہی تھے۔ یہ سب آنحضرت ﷺ کے حواریین تھے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی جو کچھ انہوں نے اسلام کے لیے جانثاری کی اور آنحضرت ﷺ کو بحکم حدیث لایؤمن احدکم حتٰی اکون احب الیہ من ولدہ و والدہ والناس اجمعین (متفق علیہ) ایسا ہی محبوب سمجھ کر فرمان و لیبلغ الشاھد الغائب پر عمل کیا اور فقروفاقہ بھی اٹھایا اور ان کے بیشمار کرامات دنیا نے دیکھیں اور پھر تابعین و تبع تابعین کی کوششوں نے ادھر سپین اور یورپ و افریقہ کے ممالیک تک ادھر ہندوچین ‘ ایران و ترکستان تک اس سرعت کے ساتھ اسلامی جھنڈا بلند کیا جو عیسائیوں اور حواریوں سے صدیوں تک نہ ہوسکا 2 ؎۔
1 ؎ صلیب سولی یہ ایک محاورہ ہے کہ مرنے سے نہ ڈرے بلکہ سمجھ لے کہ سولی دیا جائوں گا اور سولی بھی آپ ہی اٹھائے۔ پھر ایسا مرنے کو تیار ہو جیسا کہ کہتے ہیں کفن سر سے باندھ کر میرے ساتھ آئے۔ 12 منہ
2 ؎ صحابہ وتابعین و تبع تابعین نے خاص اسلام کے لیے عرب کے ریگستان سے نکل کر سفر کیا۔ چین تک ادھر اندلس تک پہنچے۔ ترک دنیا ‘ توکل اور ان کی کرامات کو اگر کچھ بھی لکھوں تو ایک دفتر کافی نہ ہو۔ دلائل النبوۃ اور شواہد النبوۃ وغیرہ کتابیں دیکھو اور اولیاء کرام کے تذکرے سنو تو حیرت ہو تو پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ کے حواریوں کا موازنہ نہ کرسکو گے۔ 12 منہ
اس فرق بلکہ تفوق کو عیسائی مورخ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ سرولیم میور صاحب کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو اگر محمد ﷺ کے پیرو وں سے مقابلہ کر کے دیکھا جائے تو عیسیٰ ( علیہ السلام) کے پیروکاروں کو ان سے کچھ بھی رتبہ نہیں۔ اس وقت کے مسلمانوں نے حواریوں کا مثل ہونے سے بڑھ کر کام کیا کہ ان سے بھی زیادہ بڑھ گئے مگر آج کے علماء و مشائخین و امراء کیا کر رہے ہیں ؟ ہندوستان کے علماء سے تو یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ہندوستان کے دیہات و قریات میں پھر کر شرائعِ اسلام کی تعلیم کرتے، رسوم قبیحہ سے روکتے اور مشائخین و امراء مدد دیتے پھر غیرمذہب والوں کا ہدایت کرنا تو دوسری بات ہے۔ افسوس باہمی جزئیات مسائل پر کیسے جھگڑے اور اصول سے کیا بیخبر ی۔