72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 72:21–24

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

” کہو ، ” میں تم لوگوں کے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا “

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

۔ کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں۔ اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

(یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔

قل انی .................... ملتحد (22) الا بلغا ............ اللہ ورسلتہ (27 : 32) ” کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں “۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا معاملہ کس قدر نازک اور سنجیدہ ہے۔ رسالت اور دعوت اسلامی نہایت حساس امور ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کردیں کہ مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ، بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ میں تبلیغ کروں میرے پاس اللہ کی جو امانت ہے اسے پہنچا دوں۔ یہی ایک معاملہ ہے جس کی گارنٹی دے دی گئی ہے۔ اس معاملے میں میرے اختیارات نہیں۔ میں تو صرف تبلیغ پر مامور ہوں اور اس کے سوا میرے لئے کوئی اور صورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تو لازمی سروس ہے۔ اور میں اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ نہ کوئی جائے پناہ ہے۔ ایسی پناہ گاہ جہاں میں بچ سکوں۔ میرے لئے صرف یہ صورت ہے کہ میں اپنا فریضہ ادا کرتا رہوں۔ ذرا غور کیجئے کس قدر نازک ، سنجیدہ اور خوفناک معاملہ ہے رسالت اور دعوت کا۔ یہ کوئی رضاکارانہ معاملہ نہیں ہے کہ کوئی چاہے تو دعوت پیش کرے اور کوئی نہ چاہے تو چھوڑ دے۔ یہ ایک لازمی سروس کی ڈیوٹی ہے۔ نہایت حساس ڈیوٹی ہے۔ اللہ دیکھ رہا ہے اور اللہ سے کوئی کہیں بھاگ نہیں سکتا۔ یہ کوئی ذاتی شغل اور ہابی (Hobby) بھی نہیں ہے کہ کوئی ذاتی خوشی اور حصول لذت کے لئے یہ کام کرے تو یہ حاکم مطلق کا حکم ہے۔ اور اس سے روگردانی نہیں کی جاسکتی ۔ نہ اس میں کوئی تردد کرسکتا ہے ، یوں دعوت اسلامی کی نوعیت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رسول کے بعد کے انسانوں میں آنے والے داعی بھی از سر نو اس کی حیثیت کو سمجھیں کہ یہ ایک لازمی فریضہ ہے اور نہایت حساس ، سنجیدہ معاملہ ہے اور اللہ جو کبیر اور متعال ہے ، خود اس کا نگران ہے۔ ومن ................ ابدا (32) حتی اذا .................... عدد (27 : 42) ” اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے “۔ (یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔ یہ ظاہری اور درپردہ دونوں انداز میں ایک خوفناک شہدید اور ڈراوا ہے ، ان لوگوں کے لئے جن کے پاس یہ پیغام پہنچ جائے اور وہ اس سے روگردانی کریں جبکہ اس سے قبل ان لوگوں کو سخت تنبیہ کردی گئی کہ جو قبول کرلیں پھر وہ دوسروں تک نہ پہنچائیں۔ اگر مشرکین کو یہ ناز ہے کہ وہ قوت رکھتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہے اور وہ اس کا مقابلہ حضرت محمد ﷺ اور صحابہ کرام کی کمزور قوت اور قلت تعداد سے کرتے ہیں تو ان کو جلد ہی اپنی قوت کا اندازہ ہوجائے گا ، جب وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ یا تو دنیا ہی میں دیکھ لیں اور یا آخرت میں دیکھ لیں گے کہ۔ من اضعف ................ عددا (27 : 42) ” کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے “۔ کوئی ضعیف ، ناتواں اور بےوقار ہے۔ اور کون زور آور ہے۔ اب ذرا پیچھے لوٹیئے کہ جنات نے کیا کہا تھا : وانا ظننا ........................ ھربا (27 : 21) ” اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں “۔ یوں اس قصے پر تبصرہ کے الفاظ قصے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا اس پورے قصے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اس پر یہ تبصرہ کیا جائے کہ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

کہو ، ” میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے۔

اب نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ طاقت کے علاوہ اپنے بارے میں علم غیب کی بھی نفی کردیں۔ قل ان .................... امدا (27 : 52) ” کہو ، ” میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے “۔ دعوت کے معاملات میں آپ کا کوئی اختیار نہیں اور نہ اس میں آپ کا کوئی ذاتی حق ہے۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ تبلیغ کریں۔ اور اپنے آپ کو اس طرح محفوظ خطے میں داخل کردیں اور محفوظ خطے میں وہی شخص داخل ہوسکتا ہے جو تبلیغ کا حق ادا کردے۔ اور تکذیب اور نافرمانی پر اللہ جس برے انجام سے ڈراتا ہے وہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ آپ کو اس میں بھی دلی اختیار حاصل نہیں ہے۔ نہ آپ کو اس کا کوئی وقت وقوع معلوم ہے کہ وہ قریب ہے یا دور ہے ؟ یہ سب غیبی امور ہیں اور ان کے علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ حضور اکرم ﷺ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ان امور کا علم اللہ کے لئے مخصوص ہے۔
Ayah 72:26

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہ عالم الغیب ہے ، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ،

علم الغیب ................ احدا (27 : 62) ” وہ عالم الغیب ہے ، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا “۔ یوں نبی ﷺ سے اولوہیت کی تمام صفات کی نفی کردی جاتی ہے اور آپ صرف بندہ مختار رہ جاتے ہیں اور کسی انسان کے لئے بندگی سے بڑا کوئی وصف اور اعزاز نہیں ہوسکتا۔ بندگی اور عبودیت انسان کے مراتب درجات میں سے اعلیٰ مرتبہ اور درجہ ہوتا ہے۔ چناچہ اس طرح نبی ﷺ کو الوہیت کی تمام صفات سے مبرا کردیا جاتا ہے اور حکم دے دیا جاتا ہے کہ آپ تبلیغ کریں۔ ” کہو ، میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے ، وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے۔ وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا “۔ اس سے فقط ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کسی غیب کے بارے میں اجازت دے دے اور اس سے کسی رسول کو مطلع کردیا جائے۔ اور یہ بھی ان معاملات کے بارے میں جن کا تعلق آپ کو دعوت کے فرائض سے ہے کیونکہ نبی ﷺ کی طرف جن باتوں کا پیغام آتا تھا تو وہ بھی غیبی امور ہی تھے۔ اپنے وقت میں حضور پر ایک مقدار کے مطابق احکام آتے تھے اور پھر رسولوں کی بھی آگے پیچھے سے نگرانی کی جاتی تھی کہ ان پر جو غیب آیا ہے انہوں نے اس کی تبلیغ کردی ہے یا نہیں۔ حضور اکرم کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس بات کا اعلان بھی کردیں اور نہایت صراحت اور سنجیدگی کے ساتھ اور نہایت ہی خشوع کے ساتھ کردیں۔
Ayahs 72:27–28

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے ٓگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔

الا من ................ رصدا (72) لیعلم ................ شیء عددا (27 : 82) ” سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے ٓگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ پس وہ رسول جن کو وہ اپنی دعوت کے پہنچانے کے لئے چن لیتا ہے ان کو اللہ اپنے عالم غیب میں سے کچھ پہلو بتا دیتا ہے اور وہ پہلو وہی ہے جو وحی پر مشتمل ہے۔ یعنی وحی کے موضوعات ، اس کا طریقہ یعنی وہ فرشتے ، جو وحی اٹھا کر لاتے ہیں اور وہ سرچشمہ جس سے وہ لاتے ہیں یعنی لوح محفوظ اور اس کا نظام حفاظت جس کا ذکر ہو اور وہ دوسرے امور جن کا تعلق رسول کی رسالت اور دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ تمام امور غیبی امور ہیں اور انسانوں میں سے کوئی ان کے بارے میں نہیں جانتا۔ (لہٰذا رسول کو جو غیب دیا جاتا ہے وہ وحی الٰہی سے متعلق ہوتا ہے) اور اس کے ساتھ ساتھ رسولوں کے ارد گرد اللہ کے نگراں مقرر کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ نگران ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور ان کے کام کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ یہ نگران ان کو شیطان کے وسوسوں سے بھی بچاتے ہیں ، شیطانوں کی مداخلتوں سے بھی بچاتے ہیں ، اور شیطان کی خواہشات اور تمناﺅں سے بھی بچاتے ہیں۔ یہ ان کو ان بشری کمزوریوں سے بھی بچاتے ہیں کہ وہ رسالت و دعوت میں کوئی سستی نہ کریں ، کسی بات کو بھلا نہ دیں ، راست سے منحرف نہ ہوجائیں اور ان کو دوسرے بشری نقائص اور ناتوانیوں سے بچاتے ہیں۔ لیکن انبیاء کے اس حفاظتی نظام میں ایک قسم کا خوف اور حساسیت پائی جاتی ہے۔ ذرا انداز بیان پر غور کریں۔ فانہ یسلک ................ رصد (27 : 72) ” تو اس کے آگے اور پیچھے دو محافظ لگا دیتا ہے “۔ تو ہر رسول کی مسلسل نگرانی ہوا کرتی ہے کہ آیا وہ اپنا فریضہ ادا کررہا ہے یا نہیں۔ لیعلم ................ ربھم (27 : 82) ” تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچادیئے “۔ اللہ تو پہلے سے جانتا ہے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ ان سے عمل تبلیغ عملاً صادر ہوجائے اور وہ نظر آجائے اور اللہ کا علم اس سے متعلق ہو۔ واحاط بما لدیھم (27 : 82) ” اور وہ ان کے پورے ماحول کو احاطہ کیے ہوئے ہے “۔ ان کے نفوس ، ان کی زندگی جو کچھ بھی ہے اور ان کے ماحول میں جو کچھ بھی ہے اسے اللہ جانتا ہے۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی۔ واحصی کل شیء عدادا (27 : 82) ” اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ نہ صرف یہ کہ جو رسولوں سے متعلق ہے ، بلکہ اس کا احاطہ اور اس کا شمار ہر چیز کو شامل ہے۔ ذرے ذرے کو بھی شامل ہے۔ ذرا اس حالت کا تصور کیجئے ! ایک رسول تبلیغ کررہا ہے اور اس کے آگے پیچھے نگراں لگے ہوئے ہیں۔ یہ محافظ بھی ہیں اور رقیب بھی ہیں اور اللہ رسولوں کے پورے ماحول سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے۔ لہٰذا رسول کا فریضہ اور آپ کی سروس ایک لازمی فوجی سروس ہے۔ اور آپ کو یہ فریضہ ادا کرنا ہے۔ رسول اپنا کام کررہا ہے۔ خود مختار نہیں ہے ، نہ وہ کمزوری دکھا سکتا ہے ، نہ اپنی خواہش کی پیروی کرسکتا ہے۔ نہ اپنی پسند کے پیچھے جاسکتا ہے بلکہ ایک نہایت ہی حساس ، سنجیدہ اور سخت ڈیوٹی ہے جس کی نگرانی ہورہی ہے۔ ہر رسول اس بات کو جانتا ہے اور اس طرح اپنا فریضہ ادا کرتا چلا جاتا ہے۔ اور ادھر ادھر دیکھتا بھی نہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی سخت نگرانی ہورہی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ہر فعل اللہ کے علم میں ہے اور برملا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس کو دیکھ کر ہر شخص کے دل میں رسول سے نہایت گہری ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے اور ہمدردی کے ساتھ ایک خوف اور دہشت بھی اس کے دامن گیر ہوجاتی ہے کہ دعوت دین کا معاملہ کس قدر حساس ہے۔ اس خوفناک اور مرعوب کن ہدایت پر یہ سورت ختم ہوجاتی ہے ، جس کا آغاز بھی اسی قسم کے ماحول سے ہوا تھا ، جسے جنوں کے طویل اقتباس سے شروع کیا گیا تھا اور جس میں جنوں کے کپکپادینے والے واقعات بیان ہوئے تھے۔ یہ سورت جس کی کل آیا 12 سے زیادہ نہیں ہیں ، اسلامی نظریہ حیات سے متعلق بیشمار حقائق کو طے کرتی ہے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کا ایک نہایت ہی متوازن اور سیدھا راستہ تجویز کرتی ہے جس کے اندر کوئی غلو نہیں ہے اور نہ افراط وتفریط ہے۔ یہ سورت عالم کے بارے میں بھی نہایت معتدل لائن دیتی ہے۔ انسانوں کے سامنے عالم غیب کے دروازے بھی بند نہیں کرتی اور نہ انسانوں کو عالم غیب کے بارے میں افسانے اور خرافات گھڑنے کی اجازت دیتی ہے۔ اور جنوں کا یہ تبصرہ اس سورت میں نہایت ہی قیمتی ہے۔ انا سمعنا ........ عجبا (27 : 1) یھدی الی ................ بہ (27 : 2) ” ہم نے قرآن سنا جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے “۔