57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، ہم نے نشانیاں تم کو صاف دکھا دی ہیں ، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔ “

اعلموا ................ موتھا (75 : 71) ” خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے “ اور قرآن کے اندر وہ چیز ہے جو دلوں کو موت کے بعد پھر زندہ کرتی ہے۔ اس کے اندر وہ مواد موجود ہے جو غذا دیتا ہے ، جو سیراب کرتا ہے اور جو گرماتا ہے۔ قدبینا ................ تعقلون (75 : 71) ” ہم نے نشانیاں تم کو صاف دکھا دی ہیں ، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔ “ اس زندہ کردینے والی چٹکی کے بعد ، اور اس بالواسطہ عناب کے بعد ، اور اس ڈراوے کے بعد دوبارہ انفاق فی سبیل اللہ پر ابھارا جاتا ہے۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے ، ان کو یقینا کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا اور ان کے لئے بہترین اجر ہے۔

صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیاں صدقہ لینے والوں پر اپنی برتری نہیں جتلاتے اور اس سودے میں یہ لوگ فریق ہی نہیں ہوتے۔ ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس سے بلند اور برتر شعور اور کیا ہوسکتی ہے کہ صدقہ دینے والا یہ سمجھے کہ وہ غنی اور حمید ذات کو قرض دے رہا ہے۔ اور وہ اس کائنات کے مالک کے ساتھ سودا کررہا ہے۔ اور یہ کہ وہ جو کچھ خرچ کررہا ہے وہ دوگنا تگنا ہوکر ملے گا۔ اور کئی گنا لوٹانے کے بعد اجر کریم بھی دیا جائے گا۔ صدیقین کا مقام بہت ہی بلند مقام ہے احادیث نبوی میں اس کی خوب تشریح کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ مقام بہت بلند ہے لیکن اس کے حصول کے مواقع ہر کسی کے لئے کھلے ہیں ، یہ چند افراد یا کسی طبقے تک محدود نہیں ہے ، جو بھی اللہ اور رسول پر صحیح ایمان پدا کرے اور اس مقام بلند کا طلب گار ہو وہ اسے پاسکتا ہے ، اللہ کے فضل پر کوئی حد بندی نہیں ہے۔ والذین .................... الصدیقون (75 : 91) ” اور جو لوگ اللہ اور رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق ہیں۔ “ یہ اس دن کی خاصیت اور امتیازی بات ہے کہ یہ سب انسانوں کے لئے ایک کھلا راستہ ہے۔ یہ ایک بلند افق ہے جس کی طرف سب کی نظریں لگی رہنی چاہیں۔ یہاں کسی کا ٹھیکہ نہیں ہے اور نہ یہ مقامات کچھ مخصوص لوگوں کو ملتے ہیں۔ اسلام میں یہ شخص عمل کرکے اعلیٰ درجات تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کسی ایسے طبقے کی گنجائش نہیں ہے۔ جسے کوئی پیدائشی برتری حاصل ہو۔ امام مالک اپنی کتاب موطا میں روایت کرتے ہیں صفوان ابن سلیم سے ، انہوں نے عطا ابن یسار سے ، انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت دیکھیں گے کہ بلند بالا خانوں والوں کو ، یہ اونچے ہوں گے ، جیسا کہ تم روشن ستارے کو دور مشرقی اور مغربی افق میں دیکھتے ہو ، اس لئے کہ بلندی درجات میں بہت فرق ہوگا۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا رسول خدا یہ انبیاء کے منازل ہوں گے جن تک کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکے گا۔ تو فرمایا ہاں ” خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ کچھ لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور جنہوں نے مرسلین کی تصدیق کی “.... یہ ہے ایمان کی چٹکی اور اللہ کے دین پر فدا ہونے کا مقام ؟ وہ بعد میں آتا ہے۔ والشھدائ ................ ونورھم (75 : 91) ” اور شہدا ہیں ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے “۔ شہدا کی بات تو قرآن میں بار بار آتی ہے۔ احادیث نبوی بھی ان کے بارے میں متواتر ہیں۔ یہ اس دین کے چوکیدار ہوتے ہیں اور کوئی دین چوکیداری کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور کسی جگہ جہاد کے بغیر دین کبھی قائم نہیں ہوسکتا۔ جہاد کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عقیدہ محفوظ ہو ، دعوت اسلامی کے لئے راہ آزاد ہو ، اہل دین اور اہل شریعت کو فساد سے محفوظ رکھا جائے ، یہی وجہ ہے کہ صرف شہداء فی سبیل اللہ ہی اس اونچے مقام کے شہداء ہیں ، وہ رب کے قریب ہوں گے۔ اور وہ رب کے پاس ہوں گے۔ عندربھم ان کا اعزاز ہے۔ ” صحیحین میں روایت ہے کہ شہدا کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں جنت میں ہوتی ہیں اور وہ جہاں چاہتی ہیں چگتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ان طاقوں میں آکر ٹھہرتے ہیں۔ اللہ ان پر ظاہر ہوگا اور فرمائے گا تم کیا چاہتے ہو ، وہ کہیں گے ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں دوبارہ دنیا کی طرف لوٹایا جائے اور ہم پھر تیری راہ میں جنگ کریں جس طرح پہلی مرتبہ جنگ کی۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ یہ دنیا کی طرف نہ لوٹیں گے۔ “ اور شیخین اور دوسروں نے انس ؓ سے روایت کی ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ” جو کوئی جنت میں داخل ہوجائے وہ دنیا کی طرف لوٹنا پسند نہ کرے گا اگرچہ یہاں اس کے لئے بہت کچھ ہو ، ماسوائے شہید کے ، وہ یہ چاہے گا کہ دنیا کی طرف لوٹایا جائے اور دسیویں مرتبہ اللہ کی راہ میں قتل ہوتا رہے کیونکہ وہ شہیدوں کی عزت دیکھ چکا ہوگا۔ “ یہ باتیں سن کر دور اول کے مسلمانوں کے لئے جان کی کوئی اہمیت نہ رہتی تھی۔ وہ مسلمانجن کو مقام شہادت کا پتہ لگ جاتا تھا۔ امام مالک نے یحییٰ ابن سعید سے روایت کی ہے کہ ایک بار رسول اللہ جہاد کے لئے لوگوں کو آمادہ فرما رہے تھے۔ اور آپ جنت کا ذکر فرما رہے تھے۔ انصار کا ایک آدمی سن رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں کھجوروں کے کچھ دانے تھے جنہیں وہ کھارہا تھا۔ تو اس نے کہا ” میں تو دنیا کا لالچی ہوں گا ، اگر میں بیٹھ گیا اور یہ کھجوریں کھاتا رہا یہاں تک کہ میں ان سے فارغ ہوجاؤں۔ اس نے یہ کھجوریں پھینک دیں اور تلوار اٹھائی اور کفار پر حملہ کردیا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگیا۔ اس شخص کے نام کے بارے میں روایت ہے کہ وہ عبیرابن الحمام ؓ تھا۔ “ جب صدیقوں کا یہ مقام ہے اور شہدا کا یہ مقام ہے تو کافرین اور مکذبین کا مقام بھی بتادیا جاتا ہے۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ، ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں۔

والذین .................... الجحیم (75 : 91) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں “۔ کون ہے جو اس اعزاز اور اس مرتبے کو چھوڑ سکتا ہے اور یہ سند کرسکتا ہے کہ وہ جہنم والوں میں سے ہوججائے۔ اب ایک تیسری چٹکی بھری جاتی ہے۔ یہ دعوت ایمان اور دعوت انفاق اور دعوت شہادت کے بعد ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ ان مقامات بلند سے اگر کوئی چیز روک سکتی ہے تو وہ حب الدنیا ہے جبکہ دنیا نہایت حقیر ، نہایت معمولی اور نہایت ہلکی چیز ہے۔ اور اس کے مقابلے میں آخرت بہت قیمتی ہے ۔ ایک بہترین تمثیل !
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

خوب جان لو یہ دنیا کی زندگی اس کے سو کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسری سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی۔ پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کی برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔

اعلموا ................ متاع الغرور (75 : 02) ” خوب جان لو یہ دنیا کی زندگی اس کے سو کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسری سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی۔ پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کی برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں “۔ اس دنیا کی زندگی کو اگر دنیا کے پیمانوں سے ناپا تولا جائے ، تو ظاہری نظروں میں وہ ایک عظیم امر نظر آتا ہے۔ اور بہت ہی بڑا مسئلہ ہے لیکن اس دنیا کو اگر پوری کائنات کے زاویہ سے دیکھا جائے اور آخرت کے میزان کے مطابق اسے تولا جائے تو وہ ایک بہت ہی معمولی چیز ہے۔ یہاں قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ دنیا آخرت کے مقابلہ بازیچہ اطفال ہے۔ کیونکہ اصل جہاں تو آخرت ہے جہاں انسانوں کو اس دنیا کے اختتام پر جانا ہے۔ کھیل ، تماشا ، زینت ، برتری جتانا ، اور ہر چیز میں کثرت حاصل کرنا دنیا کی تمام بھرپور جدوجہد اور تمام مصروفیات کے پیچھے بس یہی کچھ ہے اس دنیا کے اس تمام کھیل کو قرآن اپنے مخصوص انداز میں ایک منظر کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ کمثل ................ نباتہ (75 : 02) ” اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشتکار خوش ہوگئے۔ “ کفار سے مراد یہاں کاشتکار ہیں۔ کفر کا لغوی معنی چھپانا ہے۔ اور لغوی اعتبار سے کاشتکار کو کفار کہا جاتا ہے کہ وہ بیج کو زمین میں چھپاتا ہے لیکن یہاں اشارہ کفر کی طرف بھی ہے کہ وہ دنیاوی زندگی پر خوش ہوتا ہے۔ ثم ................ مصفرا (75 : 02) ” پھر وہ کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ زرد ہوگئی “۔ اور کٹنے کے لئے تیار ہوگئی ۔ کیونکہ اس سرسبزی کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور بہت جلدی وہ کٹنے کے وقت کو پہنچ جاتی ہے۔ ثم ............ حطاما (75 : 02) ” پھر وہ بھسن بن کر رہ جاتی ہے۔ “ اب اسکرین پر یہ حرکت اور دوڑ دھوپ ختم ہوجاتی ہے۔ فصل کٹنے کے منظر کے ساتھ حیات دنیا کا منظر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ رہی آخرت تو اس کی شان ہی الگ ہے۔ آخرت کی شان یہ ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے اور اسے اہمیت دی جائے۔ اور اس کو پیش نظر رکھ کر تیاری کی جائے۔ وفی الاخرة ................ ورضوان (75 : 02) ” اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ “ آخرت اس طرح چند لمحات میں گزرنے والی نہیں ہے جس طرح یہ دنیا چند لمحات میں گزر جاتی ہے۔ یہ دنیا کی طرح نہیں ہے کہ ایک دانہ ہے۔ وہ اگا اور پھر بھس بن گیا۔ اور ختم بلکہ آخرت میں تو حساب و کتاب ہے اور پھر دوام ہے۔ لہٰذا اس کا انجام یہ ہونا چاہئے۔ ومالحیوة ................ الغرور (75 : 02) ” اور دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔ “ اس سامان زندگی کی کوئی ذاتی حقیقت نہیں ہے۔ یہ دھوکہ ہے۔ یہ انسان کو لہو ولعب میں مشغول رکھتا ہے اور اس کی زندگی بالآخر دھوکے کا شکار ہوتی ہے۔ انسان اگر سنجیدگی سے تلاش حقیقت کرنے نکلے تو یہ زندگی ایک دھوکہ ہی ہے۔ لیکن زندگی کو اسلام اور قرآن نے جس معنی میں متاع غرور کیا ہے اسے اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کا منشا یہ نہیں ہے کہ دنیا کے معاملات سے انسان لاتعلق ہوجائے اور ترک دنیا کرلے۔ نہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کی تعمیروترقی میں دلچسپی نہ لی جائے۔ اور یہاں انسان نے اللہ کے نائب ہونے کے حوالے جو ذمہ داری ادا کرنی ہے اسے ادا نہ کرے۔ بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ دنیا کی قدروقیمت اور اس کی حقیقت کے بارے میں انسانی شعور کو درست کیا جائے۔ اور انسان کو بتایا جائے کہ اس دنیا کی حقیقی قدر و قیمت کیا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا ایک زائل ہونے والی اور ہر انسان سے رہ جانے والی ایک عارضی جگہ ہے۔ اس کی جاذبیت اور اس کی اہمیت بھی اسی قدر ہونا چاہئے۔ جن لوگوں سے یہ سورت مخاطب تھی وہ پہلے مومن تھے اور ان کے ذمہ کچھ ایمانی تقاضے تھے اور دنیا کے بارے میں ان کا تصور اور شعور درست کرنا ضروری تھا تاکہ وہ ایمانی فرائض سرانجام پاسکیں۔ ہر مومن اپنے عقیدے اور نظریہ کے حوالے سے اس تصور کا محتاج ہے۔ اگر مومن نے اپنے عقیدے اور نظریہ حیات کو یہاں قائم کرنا ہے تو اسے اپنے دل کو اس دنیا سے متعلق صاف کرنا ہوگا۔ چناچہ اسلام ان کو ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا ایک نیا میدان دیتا ہے۔ وہ ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا حقیقی میدان ہے۔ وہ مقصدجس کا تعلق ان کے انجام سے متعلق ہے۔ اور جس کا تعلق عالم بقا اور دار آخرت ہے۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے ، جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

سابقو الی ................ العظیم (75 : 12) ” دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے ، جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے “۔ یہ مقابلہ سامان لہو ولعب جمع کرنے میں نہیں ہے ، یہ بہت سا مال جمع کرنے کا بھی نہیں ہے یہ ان لوگوں کا مقابلہ ہے جنہوں نے اپنی گردن سے دنیا کی غلامی کا طوق اتار پھینکا ہے ، اور انہوں نے لہو ولعب کا میدان بچوں کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ اور ان کی نظریں کسی اونچے افق پر ہیں۔ اور ان کا ہدف اس دنیا سے بھی ذرا آگے ہے۔ وجنة ............ والارض (7512) ” اس جنت کی طرف جس کا عرض اور وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ “ بعض مفسرین نے ، اس زمانے میں جب اس کائنات کی وسعتوں کے بارے میں ہماری معلومات محدود تھیں یہ رائے اختیار کی تھی کہ اس آیت سے مراد مجازاً بہت زیادہ وسعت ہے ، اسی طرح ان لوگوں نے بعض احادیث نبوی کو بھی مجازاً محمول کیا تھا۔ اسی طرح وہ حدیث جس میں کہا گیا ہے کہ جنت میں بالا خانوں والوں کو اہل جنت اس قدر بلند دیکھیں گے جس طرح ایک چمکدار تارا افق پر نظر آتا ہے ، مشرق میں یا مغرب میں ، اس سے مراد بھی اہل تفسیر زبادہ بلندی لیتے تھے لیکن آج انسانوں کی بنائی ہوئی نہایت ہی چھوٹی دوربینیں اس کائنات کی جو وسعت ہمیں بتاتی ہیں وہ محیرالعقول اور سر چکرادینے والی ہے ، جنت کی وسعت کے بارے میں احادیث ، اور وہ احادیث جن میں بالاخانے افق کے ستاروں جیسے بلند نظر آئیں ، ایسے حقائق نظر آتے ہیں جو عقل کے بہت قریب بلکہ مشاہدے کے بہت ہی قریب ہیں اور اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ قرآنی آیات یا احادیث جو جنت کی وسعت کے بارے میں ہیں ان کو مجاز پر محمول کیا جائے۔ جنت میں اس طویل و عریض مملکت میں ہر وہ شخص پہنچ سکتا ہے جو اس کا ارادہ کرے۔ ہر شخص اسے آگے بڑھ کر حاصل کرسکتا ہے لیکن اس کا بیعانہ اللہ اور رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ ذلک فضل ................ العظیم (75 : 12) ” یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “ اللہ کا فضل بےحد و حساب اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ فضل ان تمام لوگوں کے لئے کھلا ہے جو اس میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ اللہ کے اس فضل کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھیں۔ اس محدود الاطراف زمین ہی میں نہیں بلکہ اللہ کی لامحدود کائنات میں۔ ایک نظریاتی شخص کا فریضہ ہے کہ وہ اس عظیم کائنات کے ساتھ معاملہ کرے اور اپنے نفس ، اپنے نقطہ نظر ، اپنے تصور ، اپنی ترجیحات اور اپنے شعورکو اس تنگ اور محدود دنیا کے اندر محدود نہ کرے ، جب تک نظریاتی لوگ اپنے نقطہ نظر کو وسیع نہ کریں گے وہ اسلامی نظریہ حیات کی کوئی قابل قدر خدمت نہ کرسکیں گے۔ اس لئے کہ اسلامی نظریہ حیات لوگوں کی حقارتوں ، ذلتوں اور خود غرضیوں سے متصادم ہوتا ہے۔ اور وہ لوگوں کی گمراہی اور کج روی کے ساتھ بھی متصادم ہوتا ہے۔ پھر باطل قوت ہر وقت ایک نظریاتی شخص کا مقابلہ کرتی ہے اور وہ چونکہ زمین کے ایک حصے پر قابض ہوتی ہے اس لئے اس کے مقابلے میں وہی شخص کھڑا ہوسکتا ہے جس کا معاملہ ایک عظیم کائنات سے ہو اور اس زمین سے زیادہ وسیع تر نقطہ نظر رکھتا ہو۔ اور وہ اس فانی دنیا سے آگے باقی دنیا میں کچھ مقاصدواہداف رکھتا ہو ، یعنی رضائے الٰہی۔ اس زمین کے مقاصد اور معیار کبھی بھی ایک نظریاتی شخص کے لئے اعلیٰ مقاصد اور نصب العین نہیں ہوسکتے ان کی اہمیت ایک مومن کے لیے اسی قدر ہوتی ہے ، جس قدر زمین کی حیثیت بمقابلہ کائنات ہوتی ہے۔ یہ پوری زمین نہ ازلی ہے اور انہ ابدی ہے۔ زمین اور اللہ کی کائنات کے درمیان کوئی نسبت ہی نہیں ہے ، زمین چھوٹی اور اس کے مقاصد بہت چھوٹے ہیں۔ چناچہ ایک مومن کا نقطہ نظر بہت ہی وسیع اور بہت ہی بلند ہوتا ہے۔ اگرچہ زمین بہت خوب صورت طویل و عریض نظر آئے۔ اس لئے نظریاتی شخص اس حقیقت سے معاملہ کرتا ہے جو لامحدود ہوتی ہے اور زمین پر حدود وقیود وارد ہوتی ہے ، وہ اس حقیقت سے مقابلہ کرتا ہے جو ازلی اور ابدی موجود ہے۔ اور یہ عظیم حقیقت عالم آخرت کے وسیع میدان میں ہوتی ہے۔ اس دنیا کی بعض حقیر قدروں میں اگر کمی بیشی ہو بھی جائے تو ایمانی قدروں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جن لوگوں کے پیش نظر ان اعلیٰ قدروں کا حصول ہوتا ہے وہ اللہ کے مختار بندے ہوتے ہیں اور اس دنیا کی محدود قدروں سے آزاد ہوتے ہیں۔ اب چوتھی چٹکی آتی ہے۔ یہ ایک گہرا احساس دلاتی ہے ، اس بات کا اس دنیا میں جو کچھ بھی پیش آتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

کوئی مصیبت ایسی نہیں جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب یعنی نوشتہ تقدیر “ میں لکھ نہ رکھا ہو۔ ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان کام ہے۔

ما اصاب .................... الحمید (42) (75 : 22 تا 42) ” کوئی مصیبت ایسی نہیں جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب ” یعنی نوشتہ تقدیر “ میں لکھ نہ رکھا ہو۔ ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان کام ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں ، جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے پر اکساتے ہیں۔ اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ “ اس کائنات میں جو واقعہ بھی پیش آتا ہے ، وہ اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ اللہ نے پہلے سے قلم بند کرلیا ہے۔ اور اس کائنات کے منصوبے اور نقشے میں متعین اور محسوب ہے۔ اس میں محض بخت واتفاق کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور شامل علم کے ذریعے ایسا کرلیا ہے۔ اور بہت ہی تفصیل کے ساتھ سب کچھ قلم بند کردیا ہے ، یہ اللہ کے علم میں تھا۔ اللہ کے علم میں کوئی ماضی حال اور مستقبل نہیں ہے۔ یہ زمان ومکان کے فاصلے اور حدیں اللہ کے علم پر حاوی نہیں ہیں ، یہ تو ہم اپنے محدود علم کے ذریعے ان چیزوں کو اس طرح زمان ومکان کے قید میں دیکھتے ہیں ۔ ہم تو ان حدود وقیود کے بغیر نہیں دیکھ سکتے۔ پھر ہم حقیقت مطلقہ کا ادراک ہی نہیں کرسکتے ، ہاں بعض اوقات انسانوں کی قوت مدرکہ کو ایک ایسی چمک حاصل ہوجاتی ہے جس وقت ہماری روح حقیقت مطلقہ سے جڑ جائے ، ہم اشیاء کی حقیقت کو اس عادی طریقے سے جان سکتے ہیں یعنی بذریعہ حواس ، رہا اللہ تعالیٰ جو حقیقت مطلقہ ہے اور وہ اس کائنات کی ہر چیز کو بلا حدود وقیود جانتا ہے۔ یہ کائنات اور اس کے اندر واقعات اپنی آغاز سے انتہا تک اللہ کے علم میں ہیں۔ یہ علم مطلق ہے اور بلاحدود وقیود ہے۔ اور اللہ کے نقشے میں ہر ایک چیز اور واقعہ کا ایک مقام ہے جو اللہ کے علم میں ہے ، لہٰذا ہر واقعہ جسے انسان خیر سمجھتا ہے یا شر سمجھتا ہے ، زمین پر وہ واقع ہوتا ہے۔ اور انسانوں کی زندگیوں میں وہ پیش آتا ہے یہ اللہ کی کتاب میں ثبت ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر (75 : 22) ” ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ “ اس کا فائدہ کیا ہے ؟ اس حقیقت کا فائدہ یہ ہے کہ ایک انسان جسے اس دنیا کے واقعات پر خوشی بھی ہوتی ہے اور پریشانی بھی ہوتی ہے وہ اسے منجانب اللہ سمجھیں اور اس دنیا میں سکون اور اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ اگر کوئی ناگوار چیزیں دیکھیں تو حسرتوں سے اپنے آپ کو فنا نہ کردیں اور اگر کوئی فرحت بخش واقعات دیکھیں تو آپے سے باہر نہ ہوجائیں اور جس طرح حقیقت ہے یہ سمجھیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
Ayahs 57:23–24

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

اور فخر جتاتے ہیں ، جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے پر اکساتے ہیں۔ اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ “

لکیلا .................... اتاکم (64 : 32) ” تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو ، اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ “ لہٰذا نظر کا آفاقی ہوجانا اور اپنا معاملہ عظیم کائنات سے کرنا ، ازل اور ابد سوچنا ، اور جو کچھ پیش آتا ہے اسے کتاب تقدیر کا فیصلہ سمجھنا ، ان سب چیزوں سے نفس انسانی وسعت اختیار کرلیتی ہے انسان بڑا ہوتا ہے ، ثابت قدم ہوتا ہے ، اور واقعات وحادثات کا ڈٹ کر فیصلہ کرتا ہے اور حرکت کائنات کے دوران اسے جو کچھ پیش آتا ہے نفس انسانی اس سے کامیابی سے گزرتا ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو اس عظیم کائنات سے علیحدہ کرلیتا ہے تو اسے پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں جزع وفزع لاحق ہوتی ہے۔ وہ نہایت ہلکے پن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ لیکن جب کوئی انسان یہ عقیدہ رکھتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن میں بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ اور یہ واقعات اور تصادم ، اسی طرح ہیں۔ جس طرح ایک عظیم کائنات میں ذرات باہم ٹکراتے بھی ہیں اور وہ اپنا مقصد بھی پورا کرتے ہیں اور ایک وسیع نقشے کے مطابق کام بھی کرتے ہیں ، اور یہ نقشہ ازل سے تیار ہے اور یہ سب افراد ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں۔ تو پھر اسے یہ اطمینان ہوجاتا ہے کہ جو برا ہوا اسے ہونا ہی تھا اس لئے نہ وہ محرومی پر پریشان ہوتا ہے اور نہ وہ کچھ ملنے پر آپے سے باہر آتا ہے۔ لیکن یہ مقام کہ کوئی بندہ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردے چند ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ رہے تمام مسلمان تو ان کو یہ عقیدہ آلام ومصائب کی تلخیوں سے نکال دیتا ہے اور اس طرح ان کو خوشحالی میں اترانے سے روکتا ہے۔ اور دونوں حالات میں ایک مومن متوازن الطبع ہوتا ہے ، حضرت عکرمہ نے کیا خوب کہا۔ ” ہر آدمی خوس بھی ہوتا ہے اور مغموم بھی ، خوشی کو شکر میں بدل دو اور غم کو صبر میں۔ “ یہ ہے اسلام کا معتدل نقطہ نظر۔ واللہ لا .................... بالبخل (75 : 42) ” اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑے لوگ سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں۔ “ مسئلہ تقدیر ، فخرومباہات اور بخل کے مضامین کے درمیان ربط کیا ہے ؟ یہ کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے جو کچھ پیش آتا ہے وہ اللہ کی طرف سے آتا ہے ، وہ ہرگز کبروغرور اور فخر ومباہات پیش نہیں کرتا۔ اور نہ دادوہش میں کمی کرتا ہے اور نہ بخل کرتا ہے اور نہ بخل کی دعوت دیتا ہے۔ اور جو لوگ اس حقیقت کا شعور نہیں رکھتے اور نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ان کا اپنا کمال ہے ، اس لئے وہ فخر و غرور کرتے ہیں اس کے بعد وہ نیکی کی راہوں میں خرچ نہیں کرتے کیونکہ ایسا شخص یہ سوچ لیتا ہے کہ اگر یہ غریب لوگ اہل ہوتے تو وہ بھی کمالیتے۔ ومن یتول ................ الحمید (75 : 42) ” اور اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور اور ستودہ صفات ہے “ جو خرچ کرتا ہے وہ اپنے لئے ہی تشئہ آخرت تیار کرتا ہے اور جو اللہ کی بات مانے گا بھلا اس کا ہوگا۔ اللہ کہتا ہے ، وہ اپنے محتاج بندوں کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں محمود ہے اور بےنیاز ہے اسے نہ لوگوں کی تعریف کی ضرورت ہے اور نہ تائید کی۔ اب آخر میں سورت کا آخری پیراگراف آتا ہے۔ یہ مختصراً اس دنیا میں رسولوں کی ایک لائن کا ذکر کرتا ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کی تاریخ حضرت نوح (علیہ السلام) سے ادھر کہ اس دنیا میں اس کی غرض وغایت کیا تھی اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انجیل کا نزول اور امت عیسیٰ کے خدوحال :
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا ، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں ، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں۔ یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔

رسالت کی حقیقت ایک ہی ہے ، تمام رسالتوں کا پیغام ایک تھا جسے رسول مختلف ادوار میں لے کر آئے۔ اکثر رسولوں کو معجزات دیئے گئے بعض رسولوں کو کتابیں دی گئیں قرآن کہتا ہے۔ وانزلنا معھم الکتب (75 : 52) ” ان کے ساتھ کتاب نازل کی “ رسول بھی ایک تھے اور کتاب بھی ایک تھی۔ اور دعوت بھی ایک تھی لہٰذا رسالت کی نوعیت ایک ہی ہے۔ یہ کتاب کے ساتھ المیزان کیا ہے ؟ ہر نبی اس لئے آیا کہ انسانوں کو ایک میزان دے جس پر وہ اپنے حسن وقبح کو تولیں۔ اور اپنے اعمال کو اس میزان کے مطابق درست کریں اعمال ، واقعات اور انسانوں کا وزن اس میزان پر ہو۔ اس کے مطابق لوگوں کی زندگی درست ہو ، مختلف خواہشات کی سمت درست ہو ، اور مختلف مزاجوں کے درمیان اعتدال پیدا ہو۔ اور باہم ٹکراؤ والی مصلحتوں کا فیصلہ ہو۔ ایک ایسا میزان ہو جو کسی کا طرفدار نہ ہو ، یہ میزان حق ہو ، کسی کے ساتھ ظلم نہ کرتا ہو ، یہ اللہ کا میزان ہو جو سب کا رب ہے۔ یہ میزان جو اللہ نے رسولوں پر اتارا یہ انسانیت کے لئے ان تمام بےاعتدالیوں کے خلاف ایک ضمانت ہے جن میں انسانیت مبتلا ہوتی رہی ہے ، تمام اضطرابات ، تمام انتشار اور تمام طوفان جس سے انسانیت دو چار ہوتی رہتی ہے۔ جہاں خواہشات کے تصادم برپا ہوتے ہیں۔ جہاں جذبات کے طوفان اٹھتے ہیں جہاں ضد وعناد کے غبار آندھیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جہاں انسان فرعون بن جاتے ہیں۔ یہ میزان ضروری تھا کہ سب اس کے سامنے جھکیں۔ اور اس میزان کے سامنے ہر کسی کو انصاف ملے۔ عدل ملے۔ لیقوم الناس بالقسط (75 : 52) ” تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں “ غرض اس میزان کے بغیر جو اللہ کے تجویز کردہ نظام زندگی اور نظام قانون کے مطابق ہوتا ہے ، لوگ کبھی عدل و انصاف نہیں پاسکتے۔ اگر کبھی لوگ عدل پا بھی لیں وہ عدل کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ ان کی خواہشات کی وجہ سے اور ان کی جہالتوں کی وجہ سے جلدی عدل کا میزان ان کے ہاتھوں سے گر جاتا ہے۔ وانزلنا ................ قوی عزیز (75 : 52) ” اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں۔ یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ معلوم ہوجائے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “ لوہے کو آسمانوں سے اتارنے کی تعبیر ایسی ہے جیسے دوسرے مقامات پر آیا ہے۔ وانزل .................... ازواج ” اور اس نے جو مویشیوں کے آٹھ جوڑے تمہارے لئے اتارے “ دونوں جگہ مقصد یہ ہے کہ اللہ نے اشیاء کی تخلیق اس مقصد کے لئے کی ہے گویا ان کی تخلیق تقدیر الٰہی کے مطابق ہے۔ پھر یہاں آیت کی فضا کی مناسبت اور ہم آہنگی کے قیام کی وجہ سے بھی نزول کا مادہ استعمال کیا گیا کیونکہ پہلے نزول کتاب اور نزول میزان کا ذکر تھا۔ اس طرح یہاں فرمایا کہ نزول حدید بھی اس کائنات کے لئے اہم ہے۔ لوہا اتارا کہا ہے۔ فیہ باس شدید (75 : 52) ” جس میں بڑا زور ہے “ مثلاً لوہے کے اندر ہی جنگ اور سلامتی مضمر ہے۔ ومنافع للناس (75 : 52) ” لوگوں کے لئے منافع ہیں “ آج تک انسانی تہذیب و تمدن لوہے کی برکت سے ہے۔ اور پھر۔ ولیعلم .................... بالغیب (75 : 52) ” یہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے “ یہ اشارہ جہاد و قتال کی طرف ہے۔ یہ یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ جہاد بالمال اور جہاد بالنفس اسلحہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ یہاں جو کہا گیا کہ اللہ ایسے لوگوں کو ظاہر کرنا چاہتا ہے جو کہ اللہ اور اس کی رسولوں کی غائبانہ مدد کرتے ہیں۔ تو بتایا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کی نصرت کے معنی کیا ہیں۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی دعوت اور نظام کی مدد کرتے ہیں جہاں تک ذات باری تعالیٰ کا تعلق ہے تو وہ تو۔ ان اللہ قوی عزیز (75 : 52) ” اللہ ہبت ہی قوی اور غالب ہے “ یہاں کہا گیا کہ رسالت اپنی حیقت ، اپنی کتاب اور اپنی دعوت کے اعتبار سے ایک ہی ہے ، اور یہ رسالتوں کا میزان اور شریعت بھی ایک ہے۔ اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ رسول بھی ایک ہیں یہ نوح ابراہیم کی اولاد سے ہیں۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔ پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہوگئے۔

ولقد .................... والکتب (75 : 62) ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی “ رسولوں کا ایک ہی شجرہ نسب ہے جس کی شاخیں ایک ہی جڑ کے ساتھ پیوستہ ہیں۔ انسانیت کے آغاز ہی سے یہ شجرہ چلا ہے۔ نوح (علیہ السلام) سے ، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ، اور ان کے بعد پھر انسانوں کو پھیلنے کے ساتھ رسالتیں بھی پھیل گئیں۔ لیکن جن نسلوں میں یہ نبوت اور کتاب چلتی رہی وہ نسلیں ایک جیسی نہ تھیں۔ فمنھم .................... فسقون (64 : 62) ” پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہوگئے۔ “ یہ نہایت ہی مختصر تبصرہ طویل انسانی تاریخ پر۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

ان کے بعد ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان سب کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو مبعوث کیا اور اس کو انجیل عطا کی ، اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا۔ اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی ، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا ، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے ان کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا ، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔

اور اس طویل تاریخ کی آخری کڑی نبوت محمدی سے پہلے یہ رہی۔ ثم قفینا ................ ابن مریم (75 : 72) ” اس کے بعد ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان سب کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو مبعوث کیا “۔ یعنی نوح اور ابراہیم کی اولاد میں پے درپے رسول بھیجے اور ان میں سے آخری کڑی عیسیٰ ابن مریم کی تھی۔ یہاں حضرت عیسیٰ کے پیروکاروں کی ممتاز صفت بھی بیان کردی جاتی ہے۔ وجعلنا .................... ورحمة (75 : 72) ” اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا۔ “ یہ ترس اور رحم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا نتیجہ تھا۔ کیونکہ آپ نے لوگوں کی روحانی تربیت پر زور دیا۔ اور ظاہر ہے کہ روحانی تربیت اور روحانی صفائی کے نتیجے میں ترس اور رحم بیدار ہوجاتا ہے۔ جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کا صحیح اتباع کیا وہ رحم دل ہوتے تھی۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی عیسائیوں کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے۔ ابتدائی دور کے عیسائیوں نجاشی اور وفد نجران کے لوگوں کا رویہ بھی اسلام کے ساتھ ہمدردانہ رہا۔ اور اسی طرح دوسرے متفرق افراد بھی ان میں دارالاسلام آئے اور اسلام قبول کیا۔ جب تک وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحیح متبعین میں سے رہے۔ قرآن کریم یہاں مسیح (علیہ السلام) کے متبعین کی ایک دوسری صفت کو بھی بیان کرتا ہے لیکن اس پر ایک خوبصورت تنقید بھی کرتا ہے۔ ورھبانیة .................... رضوان اللہ (75 : 72) ” اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی تھی “ راجح تفسیر یہ ہے کہ تاریخ مسیحیت میں جو رہبانیت نظر آتی ہے وہ مسیح کے بعض پیروکاروں نے اختیار کرلی تھی۔ اور یہ انہوں نے اللہ کی رضا جوئی کے لئے اختیار کرلی تھی۔ یہ انہوں نے زندگی کی آلودگیوں سے دوری کے لئے اختیار کرلی تھی اللہ نے اسے ان پر فرض نہ کیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے اسے اختیار کرلیا۔ اپنے اوپر واجب کرلیا تو پھر ان کا فرض تھا کہ وہ اس کا حق ادا کرتے۔ اور پاکیزگی ، بلندی ، عفت ، قناعت اور ذکر وفکر کے جو تقاضے وہ رکھتی تھی اسے یہ پورا کرتے۔ کیونکہ انہوں نے رضائے الٰہی کے لئے اسے ایجاد کیا تھا۔ لیکن ہوا یوں کہ یہ رہبانیت محض رسم ہوکر رہ گئی اسم سے خالی ہوگئی۔ لوگوں نے اسے پیشہ بنا لیا اور حقیقی روح سے خالی ہوگئی۔ چند رہبان کے سوا کسی نے اس کا جو حق ادا نہ کیا۔ فما رعوھا ................ فسقون (75 : 72) ” اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے ان کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا ، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ “ اللہ کا قانون یہ نہیں ہے کہ لوگوں کی ظاہری شکلوں کو دیکھ کر فیصلہ کرے۔ نہ رسم و رواج کو دیکھے۔ اللہ لوگوں کی نیت کو دیکھتا ہے لوگوں کے اعمال کو دیکھتا ہے۔ وہ نیت اور عمل پر فیصلے کرتا ہے۔ اور کسی کی نیت اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو دلوں کی بات جانتا ہے۔ اب آخری پکار ان لوگوں کے نام ہے جو ایمان لائے ہیں۔ اور دین اور رسالت کی تاریخ اور امم اسلامیہ کی کڑیوں میں سے آخری کڑی ہے اور جنہوں نے اب قیامت تک انبیاء کی دعوت کا بوجھ اٹھانا ہے۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمن لائے ہو ، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد ﷺ) پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں رحمت کا دہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے ، اور تمہارے قصور معاف کردے گا ، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔

یا یھا الذین .................... الفضل العظیم (92) (75 : 82۔ 92) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد ﷺ) پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں رحمت کا دہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے ، اور تمہارے قصور معاف کردے گا ، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ (تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہئے) تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور وہ بڑے فضل والا ہے۔ “ یہ ایمان والوں کو آواز دی جارہی ہے۔ ان کے محبوب نام سے دی جارہی ہے۔ یایھا ............ امنوا (75 : 82) ” اے ایمان لانے والے لوگو ! “ یہ ان کے دل کی آواز ہے ، دل پر چسپاں ہونے والی آواز ہے۔ ایمان کو زندہ کرنے والی آواز ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ایمان کا حق ادا کرو ، اور تمہارا رب جو تمہیں پکاررہا ہے اس کے ساتھ تمہارا تعلق ایمانی تعلق ہے۔ اس لئے تمہیں اس نام سے پکاررہا ہے۔ ایمان کے حوالے سے اللہ دعوت دیتا ہے کہ اس سے ڈرو اور رسول پر ایمان لاؤ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایمان کا حق کوئی خاص مفہوم مراد ہے۔ یعنی حقیقت ایمان اور آثار خود اپنے اندر پیدا کرو۔ اتقوا اللہ .................... من رحمتہ (75 : 82) ” اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد ﷺ) پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں رحمت کا دہرا حصہ عطا فرمائے گا “ یہ بھی عجیب انداز ہے۔ اللہ کی رحمت کا تجزیہ تو نہیں ہوسکتا جس کو پہنچ گئی پوری پوری پہنچ گئی۔ اس کے حصے بخرے کہاں ہوتے ہیں۔ دراصل یہاں محدود انسانی ذہن کے مطابق بات ہورہی ہے کہ تمہیں دو حصے ملیں گے۔ ویجعل ............ بہ (75 : 82) ” تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے “ یہ وہ ربانی تحفہ ہوتا ہے جو ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں۔ اور رسول پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ اس بخشش سے دل نرم ہوجاتے ہیں۔ اور پردوں کے پیچھے سے اصل حقیقت کو دیکھ لیتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی راہ سیدھے جاتے ہیں۔ گمراہ نہیں ہوتے۔ ویغفرلکم ................ رحیم (75 : 82) ” اور تمہارے قصور معاف کردے گا ، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ “ بہرحال انسان تو انسان ہے ، جس قدر بھی نورا سے حاصل ہو اس سے غلطی سرزد ہوسکتی ہے۔ اس کو مغفرت کی ہر وقت ضرورت ہے اور اللہ غفورالرحیم ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ کی رحمت کا دہرا حصہ تمہیں ملے۔ یہ کہ یہ نور تمہیں ملے جس کی روشنی میں تم سفر زندگی طے کرو ، اور اللہ کی رحمت اور مغفرت تمہارے شامل حال ہوجائے اور تمہاری خطائیں معاف ہوں۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

(تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہئے) تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور وہ بڑے فضل والا ہے۔ “

لئلا یعلم ................ من یشاء (75 : 92) ” تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے “ اہل کتاب یہ گھمنڈ رکھتے تھے کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں اور وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔ وقالوا .................... تھتدوا ” وہ کہتے ہیں کہ یہودی بن جاؤ یا نصاریٰ بن جاؤ تمہیں ہدایت مل جائے گی “ تو اللہ تعالیٰ مومنین کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت ، اس کی جنت ، اس کی مغفرت اور اس کے انعامات کے مستحق ہوجاؤ اور میں تم پر ان چیزوں کی بارش کروں گا تب اہل کتاب کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ تو زعم باطل میں مبتلا ہیں۔ اور ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ مسلمانوں پر ہوگیا ہے۔ یہ کسی کے اجارے میں نہیں دے دیا گیا اور نہ محدود کردیا گیا ہے۔ واللہ ................ العظیم (75 : 92) ” اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “ غرض یہ کہ ایک ایسی دعوت ہے جس میں مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی گئی۔ کہ تم تقویٰ اور طہارت اور نیکی کی راہ میں آگے بڑھ جاؤ۔ اس پر یہ سورت ختم ہوتی ہے اور سورت کا خاتمہ اور آغاز باہم مل جاتے ہیں۔ کیونکہ اس پوری سورت میں یایھا الذین امنوا کی پکار ہے۔ کہ رب کے سامنے خضوع وخشوع اختیار کرو ، رب کے احکام بجا لاؤ، مالی ، بدنی اور روحانی فرائض پورے کرو۔ قرآن کریم جس انداز میں قلب انسانی کو خطاب کرتا ہے یہ سورت اس کا بہترین نمونہ ہے۔ پر اثرانداز میں انسانوں کو نیکیوں پر ابھارا جاتا ہے ، اس سورت کا آغاز انجام اور سیاق کلام سب انسانوں کو عمل صالح پر آمادہ کرنے والے ہیں۔ اس کی تصاویر ، ماحول اور اثر آفرینیاں قابل دید ہیں ، دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں کے لئے اس میں درس عبرت ہیں۔ اس میں اشارات ہیں کہ لوگوں کو کس اسلوب میں خطاب کیا جائے اور کس انداز میں جوش دلایا جائے ........ یہ اللہ کا درس ہے۔ جس نے ہمارے دل بنائے ہیں اور جو ہر چیز کا خالق ہے۔ داعیوں کو چاہئے کہ وہ اس ربانی درسگاہ سے سیکھ کر نکلیں تاکہ ان کی دعوت کامیاب ہو۔