Ayahs 42:29–31آیت نمبر 29 تا 31
یہ نشانی ہر وقت انسانی نظروں کے سامنے ہے اور جب وحی آئی تو اس نے اس کی شہادت دی۔ وحی میں تو انہوں نے شک کیا اور جھگڑتے رہے لیکن آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی جو نشانی کی جو نشانی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں وہ تو قطعی الدلالہ ہے۔ یہ فطرت انسانی کو فطری زبان میں خطاب کرتی ہے۔ کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے والا اس کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں رکھ سکتا۔ یہ نشانی یہ بتاتی ہے کہ جس ذات نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی ہے وہ انسان نہیں ہے۔ نہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس نشانی کا خالق نظر آتا ہے۔ لہٰذا کسی خالق و مدبر کے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہولناک ضخامت ، اس کی رفتار کی باریک اور دقیق یکسانی ، اس کے نظام کا حیران کن تسلسل اور اس پوری کائنات کے اندر ایک ہی قانون طبیعت اور ناموس فطرت کا اجراء ، ان سب امور کی کوئی عقلی توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ ایک ذات ہے جو الٰہ العالمین ہے ، جو اس کی تدبیر کر رہا ہے۔ رہی انسانی فطرت تو وہ براہ راست اس استدلال کو اور ان نشانیوں کو دیکھ پاتی ہے اور ان کا ادراک کر کے مطمئن ہوجاتی ہے۔ قبل اس کے کہ ایک بھی لفظ کسی خارجی ذریعہ سے سنے۔
آسمانوں اور زمین کی یہ بڑی نشانی اپنے اندر کئی نشانیاں رکھتی ہے۔
وما بث فیھما من دابۃ (42 : 29) ” اور یہ جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھے ہیں “ ۔ اس کو چھوڑ دیجئے کہ آسمانوں میں زندگی ہے یا نہیں ، ابھی تک ہمیں اس کا علم نہیں ، البتہ اس زمین کے اندر زندگی کی جو رنگا رنگی ہے یہ ایک نہایت ہی عظیم نشانی ہے۔ یہ ایک ایسا راز ہے کہ ابھی تک اس کی ماہیت تک کوئی نہیں پہنچا ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ کوئی اسے پیدا کرسکے۔ یہ ایک پوشیدہ راز ہے کہ زندگی کہاں سے آتی ہے ۔ کس طرح آتی ہے۔ اجسام کے اندر کس طرح مل جاتی ہے۔ آج تک حیات کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے جس قدر مساعی کی گئی ہیں اس راز کے دریافت کے تمام دروازے بند پائے گئے ہیں جو کچھ دریافت ہوا ، وہ حیات کے بعد زندگی کی ترقی اور نشوونما کے بارے میں ہے۔ زندگی کی رنگا رنگی اور اس کے مقاصد اور حکمتوں کے بارے میں ہے۔ اور اس محدود دائرے میں بھی آراء اور نظریات کا بےحد اختلاف ہے۔ ظاہری زندگی کے پیچھے کیا ہے ، وہ پردۂ کے پیچھے ہے۔ کوئی آنکھ وہاں تک نہیں دیکھ سکتی۔ کوئی قوت مدرکہ اس کا ادراک نہیں کرسکتی۔ یہ امر الٰہی ہے ، اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔
یہ رنگا رنگ زندہ مخلوق جو سطح زمین کے اوپر ہے ، سطح کے اندر ہے اور سمندروں کے اندر ہے اور لا انتہا فضاؤں میں ہے۔ ان میں سے انسان نہایت ہی معمولی حصے کے بارے میں جانتا ہے۔ رہی یہ کہ اس نہایت ہی وسیع اور ناقابل تصور وسعتوں والی کائنات میں اور کوئی زندہ مخلوق ہے یا نہیں اس کے متعلق ہمیں کوئی معلومات نہیں ہیں ہم تو زمین کے اوپر موجود اور مشہود حیات میں سے بھی نہایت ہی تھوڑے حصے کو ۔۔۔ معلوم کرسکے ہیں ، یہ زندہ مخلوقات جو آسمانوں اور زمین میں ہے اسے اللہ جس دن چاہے گا ، جمع کرے گا۔ کوئی ایک فرد بھی جو یہاں وجود کائنات کے بعدپیدا ہوا ہے ، رہ نہ جائے گا یا غائب نہ ہو سکے گا۔
انسانوں کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ان کے پنجروں سے پرندوں کی ایک ڈار اڑ جائے یا مکھیوں کے ایک چھتے سے ایک ڈار اڑ جائے تو وہ اسے جمع نہیں کرسکے۔ رہے پرندوں کے ڈار ، وہ کتنے ہیں ، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ پھر مکھیوں ، چیونٹیوں اور اسی طرح کے دوسرے حیوانات کے چھتے تو ان کے بارے میں بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ اللہ ہی ان کو گن سکتا ہے۔ حشرات ارض ، کیڑے مکوڑے اور جراثیم تو ان کی تعداد اور ان کی جگہ کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ مچھلیوں اور دوسرے حیوانات بحر تو ان کی تعداد اور اقسام کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ پالتو اور جنگلی جانوروں کی اقسام و تعداد کہ کہاں کہاں بکھرے ہیں اس کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اور پھر انسانوں کی آبادیوں اور گروہ اور اقوام و انواع سے اللہ ہی باخبر ہے کہ وہ کہاں کہاں رہتے رہے ہیں ، رہتے ہیں اور رہیں گے۔ ان اقسام کے علاوہ بیشمار خلائق ہیں جو تعداد میں ان سے زیادہ اور جو زمین و آسمان میں مخفی ہیں ، ان کو بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی مخلوق ہے۔ اللہ جب جمع کرے گا تو وہ ایک ہی لفظ کے ساتھ چشم زدن میں جمع کر دے گا۔ ایک ہی آیت میں ان سب زندہ چیزوں کے بکھیرنے اور پھر جمع کرنے کے دونوں مناظر دکھا دئیے گئے ، قبل اس کے کہ فقرہ پوری طرح زبان سے ادا ہوجائے۔ منظر پہلے ہی ذہن کے پردے پر آکر چلا جاتا ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز ہے۔
ان مناظر کے درمیان ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کی وجہ سے اس جہاں میں تم پر وبال بھی آتے رہے ہیں۔ یہ وبال پورے نہیں بلکہ ان کا ایک حصہ تم پر آتا ہے ، اکثر تو اللہ معاف کردیتا ہے کیونکہ اللہ انسانوں کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا انہیں دیتا ۔ اکثر اعمال بد سے اللہ درگزر کردیتا ہے۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم تو بہت ہی عاجز و لاچار ہو۔ تم اللہ کے کسی منصوبے کو تو نہیں روک سکتے۔ تم تو اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہو۔
وما اصابکم من مصیبۃ ۔۔۔۔۔۔۔ عن کثیر (42 : 30) وما انتم بمعجزین ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (42 : 31) ” تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے ، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے۔ اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کرجاتا ہے۔ تم زمین میں اپنے خدا کو عاجز کردینے والے نہیں ہو ، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی وناصر نہیں رکھتے “۔ پہلی آیت میں اللہ کے عدل کی تجلی ہے ، اور انسانوں پر اللہ کی رحمت کی تجلیات ہیں۔ اس پر جو مصائب آتے ہیں اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے آتے ہیں۔ لیکن اللہ تو تمام بدکاریوں پر خود انہیں پکڑ پکڑ کر معاف کردیتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ انسان بہت ضعیف ہے۔ اس کی فطرت کے رحجانات اور اس کا ماحول اسے بدکاری پر مجبور کرتا ہے۔ اس لیے بہت سے گناہوں کو اللہ معاف کردیتا ہے۔ یہ اس کی رحمتیں اور مہربانیاں ہوتی ہیں۔
دوسری آیت میں انسان کی کمزوری کا اظہار ہے کہ وہ زمین پر اللہ کے کسی منصوبے کو نہیں روک سکتا۔ (اسی طرح وہ دعوت اسلامی کو نہیں روک سکتا) اس کا کوئی ولی و مددگار اللہ کے سوا نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے حقیقی ولی کی طرف لوٹ آئے۔
Ayahs 42:32–35آیت نمبر 32 تا 35
پہاڑوں کی طرح دریاؤں میں چلنے پھرنے والے بحری جہاز اللہ کی نشانیوں میں سے مزید نشانیاں ہیں۔ یہ نشانی بھی حاضر و مشہود ہے۔ یہ نشانی ایسی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی نشانیوں میں سے کئی نشانیوں پر قائم ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ سمندر ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے اسے بنایا ؟ انسانوں نے اسے بنایا اور نام نہاد الہٰوں نے ۔ کون ہے جس نے اسے یہ گہرائی ، یہ کثافت اور یہ وسعت دی کہ وہ بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں کے اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پھر جس مواد سے کشتیاں بنتی ہیں ، اس مواد میں ایسی خصوصیت کس نے رکھی کہ وہ سطح سمندر پر تیرتا پھرے اور پھر یہ ہوا جو اس وقت ان بحری جہازوں کو چلاتی تھی اور اس وقت کے مخاطب جانتے تھے اور ہمارے دور میں وہ تمام قوتیں جن کو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخر کیا ہے اور وہ انہیں عظیم الجثہ جہازوں کے چلانے کے لئے کام میں لاتے ہیں۔ یہ قوتیں کس نے پیدا کیں جو جدید دے جدید پہاڑوں جیسے جہازوں کو چلاتی ہیں۔
ان یشا یسکن الریح فیظللن رواکد علی ظھرہ (42 : 33) “ اللہ جب چاہے ، ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ”۔ اور بعض اوقات یہ جہاز اس طرح کھڑے رہ جاتے تھے جسے ان کے اندر کوئی زندگی نہیں ہے۔
ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (42 : 33) “ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو کمال درجے صبر و شکر کرنے والا ہو ”۔ یعنی ان جہازوں کے چلانے میں اور ان کے کھڑے کرنے میں نشانیاں ہیں۔ قرآن کریم میں بسا اوقات صبر اور شکر ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ صبر ابتلا پر ہوتا ہے اور شکر نعمتوں پر ہوتا ہے ، خوشی اور غم اور صبر اور شکر دونوں انسانی نفسیات میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
او یوبقھن بما کسبوا (42 : 34) “ یا ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے ”۔ ان کشتیوں کو پاش پاش کر دے یا ان کو غرق کر دے ، اس وجہ سے کہ لوگوں نے گناہوں اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے ایمان کی مخالفت کی حالانکہ اللہ کی تمام مخلوقات مومن ہے انسانوں میں سے بعض لوگ انکار کرتے ہیں۔
ویعف عن کثیر (42 : 34) “ اور اللہ بہت سے گناہوں سے در گزر کرتا ہے ”۔ اس لیے وہ لوگوں کو قدم قدم پر ان کے ہر گناہ پر نہیں پکڑتا بلکہ در گزر فرماتا ہے اور معاف کردیتا ہے۔
ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا مالھم من محیص (42 : 35) “ اور اس وقت ہماری آیات میں جھگڑا کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو اپنے عذاب کے سامنے لا کھڑا کرتا ، ان کی کشتیاں غرق کردیتا اور نہ نجات نہ پا سکتے۔۔۔۔۔ یوں ان کو یہ بات سمجھائی جاتی ہے کہ وہ اس دنیا کے جس سازو سامان اور کاروبار کے مالک ہیں ، وہ بھی اللہ کی ہلاکت کی زد میں ہیں۔ لہٰذا دنیا میں کسی چیز کے لئے قرار و ثبات نہیں ، ماسوائے تعلق باللہ کے۔
٭٭٭
اس کے بعد ان کو ذرا اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کو جو سازوسامان دیا گیا ہے ، ذرا اس پر نگاہ ڈالیں کہ یہ کس قدر مختصر وقت کے لئے ہے۔ اور اصل باقی رہنے والی چیز اور دولت وہی ہے جو اللہ کے ہاں ذخیرہ کی گئی ہے۔ اور یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لاتے ہیں اور رب تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں ۔ یہ بیان آگے جاتا ہے اور اہل ایمان کی صفات گنواتا ہے جو ان کو ایک امت بنا دیتی ہیں ، جس کے الگ خدو خال ہوتے ہیں اور وہ امت تمام امتوں سے ممتاز ہے۔
Ayahs 42:36–43آیت نمبر 36 تا 43
اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف کیا ان کے بعدجب کوئی کتاب ان کی اگلی نسلوں کو ملی تو ان اختلافات کی وجہ سے وہ سرے سے کتابوں کے بارے میں شک میں پڑگئے۔ جب اہل کتاب اور اہل دین سماوی کا یہ حال ہوگیا تھا تو جن اقوام کے پاس کوئی کتاب یا کوئی دین ہی نہ تھا ، ظاہر ہے کہ ان کی حالت تو ان سے بھی بدتر ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو ایک صالح قیادت کی ضرورت تھی تا کہ وہ انسانوں کو ان اندھی جاہلیتوں سے نکالے اور ان کی رہنمائی کر کے ان کو ایک مضبوط رسی میں باندھ دے۔ اور ان کی رہنمائی ایک ایسے راستے کی طرف کرے جو اللہ تک پہنچاتا ہو جو اس وجود کا رب ہے۔
اس لیے اللہ نے یہ آخری کتاب عربی زبان میں اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر اتاری تا کہ ام القریٰ ، مکہ مکرمہ اور اس کے ماحول میں رہنے والوں سے دعوت کا آغاز کرے اور ان کے اندر وہی دین قائم کرے جس کی سخت تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی تھی تا کہ تمام ادیان حقہ کی کڑیاں باہم مل جائیں اور آغاز تاریخ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی نہج ، ایک منہاج ، ایک ہی دین اور ایک ہی شریعت ہو اور ایک ایسی جماعت یہاں قائم کی جائے جو اس تاریخی دعوت کی محافظ ہو ، اس کی قیادت کرے اور اس کرۂ ارض پر اس دعوت کو اللہ کی منشا کے مطابق برپا کر کے یہاں اس منہاج کو قائم کرے۔ اور یہ کام اس شکل و صورت میں ہو جو اللہ کو پسند ہو۔ لہٰذا زیر بحث آیات میں اس جماعت کے خدوخال بیان ہو رہے ہیں۔ جس نے یہ عظیم فریضہ سر انجام دینا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ آیات مکی ہیں اور مدینہ میں اسلامی نظام حکومت کے قیام سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ لیکن ہم مکہ میں بھی تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت دیکھتے ہیں۔
وامرھم شوری بینھم (42 : 38) “ اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت کا قیام اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اسلامی جماعت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ جماعتی نظام شوریٰ پر قائم ہوتا ہے۔ یہی نظام جماعت سے آگے بڑھ کر پھر مملکت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی اسلامی معاشرے کی جان شورائیت ہے اور یہ اس کے اندر پھیلتی جاتی ہے۔ اس طرح اس جماعت کی دوسری خصوصیت یہ بتائی گئی ہے۔
والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ باوجود اس کے کہ مکہ میں حکم یہی تھا کہ صبر کرو ، اور زیادتی کا بدلہ زیادتی سے نہ دو ، اور یہ حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب ہجرت کے بعد قتال کی اجازت دے دی گئی اور یہ کہا گیا ۔
اذن للذین ۔۔۔۔۔ نصرھم لقدیر (22 : 39) “ اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ”۔ تو اس صفت کا ان مکی آیات میں ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ تحریک اسلامی کا مزاج یہی ہے کہ وہ زیادتی کے خلاف سینہ سپر ہوجاتی ہے اور اس سے پہلے اور بعد کے جو احکام ہیں وہ صبر کرنے اور رکے رہنے کے لئے ہیں۔ اور استثنائی احکام ہیں اور ایک متبعین وقت تک کے لئے ہیں۔ یہاں اس مکی سورت میں چونکہ جماعت مسلمہ کی بنیادی صفات قلم بند کی جا رہی تھیں اس لیے یہاں ذکر کردیا کہ اگرچہ فی الوقت انتصار کی ممانعت تھی لیکن یہ صفت اہل ایمان کی بنیادی صفات میں سے ہے۔
بہرحال جماعت مسلمہ کی صفات کے ضمن میں ایسے امور کا ذکر جن پر عمل نہ ہو رہا تھا اور نہ جماعت کے ہاتھ میں کسی ملک کی عملی قیادت تھی اور جماعت ابھی مکہ میں مصائب برداشت کر رہی تھی ، یہ اس لیے ہوا کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی تھی اور اسے اس لیے برپا کیا گیا تھا کہ وہ پوری انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر نور اسلام میں لائے گی۔ لہٰذا جماعت مسلمہ کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا اور جماعت کے لئے ان مقاصد کے لئے تیار کرنا ضروری تھا۔ یہاں ان باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آئے تو وہ اس کی اہل ہو۔ لہٰذا ان صفات پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ یہ کیا ہیں ؟ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور انسانی معاشرے میں ان کی اہمیت کیا ہے۔
یہ ہیں ایک اسلامی جماعت کی صفات۔ ایمان ، توکل ، اجتناب کبائر اور فواحش ، غصے کے وقت معافی ، اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ، اقامت صلوٰۃ ، ہر معاملے میں مشاورت ، انفاق فی سبیل اللہ ، ظلم و زیادتی کا مقابلہ ، عفو ، اصلاح اور صبر۔ یہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ان کی اہمیت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ ان صفات کو قرآنی ترتیب کے مطابق بیان کریں۔
قرآن کریم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ، مستحکم اور دائمی میزان کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تا کہ وہ دائمی اور مستقل قدروں اور عارضی اور بدلنے والے حالات کے درمیان فرق و امتیاز کرسکیں۔ اور ان کی سوچ میں فرق نہ ہو ورنہ ان کی نگاہ میں ہر چیز کی حقیقی قدرو قیمت صحیح نہ رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی صفات کے بیان سے پہلے ایک مستقبل میزان اور پیمانہ بیان کردیا کہ ایک مسلم جماعت کی صفات کے لئے یہ پیمانہ ہے۔
فما اوتیتم من ۔۔۔۔۔ خیر وابقیٰ (42 : 36) “ جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی اور پائیدار بھی ”۔ اس زمین کا سازو سامان بہت ہی پرکشش اور زرق وبرق ہے۔ کھانے پینے کے سامان ، اولاد ، شہوات ، لذائذ ، مرتبہ اور اقتدار وغیرہ اور بعض نعمتیں وہ ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو زمین میں بطور مہربانی دی ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے خالص بخشش ہیں۔ ان کو اللہ نے اس دنیا میں معصیت اور طاعت پر موقوف نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اطاعت شعار کی اس قلیل بخشش میں برکت ہوتی ہے اور بدکار کے ہاتھ میں اگر بہت کچھ ہو تب بھی اس سے برکت چھن جاتی ہے۔
لیکن یہ سب امور باقی اقدار نہیں ہیں۔ یہ متاع اور اس زندگی کا سروسامان ہے۔ یہ سرو سامان محدود وقت کے لئے ہے۔ یہ نہ کسی کا مرتبہ بلند کرتا ہے ، نہ گراتا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک نہ شرافت و عزت کی دلیل ہے اور نہ کراہت اور ناپسندیدگی کی دلیل ہے۔ نہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اللہ راضی ہے اور نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ ناراض ہے۔ بس یہ اس زندگی ، فانی زندگی کا سامان ہے اور اس کے مقابلے میں۔
وما عند اللہ خیر وابقی (42 : 36) “ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ”۔ بہتر ہے اپنی قیمت کے اعتبار سے اور پائیداریوں کہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ لہٰذا اس فانی دنیا کا سازو سامان بمقابلہ آخرت کچھ بھی نہیں ہے۔ بہت ہی محدود اور کم قیمت ہے اور چند روزہ ہے۔ ایک فرد کے لئے صرف اسی کی زندگی میں کار آمد ہے اور پھر ہر شخص سوچ لے کہ وہ کتنی عمر لے کر آیا ہے اور کتنی رہ گئی ہے۔ اور بمقابلہ ایام اللہ یہ تو بہت کم بلکہ لمحات ہیں جس طرح چشم زدن۔
اس تمہیدی بیان اور اصل معیار نیک و بد کے بیان کے بعد اب اللہ ان مومنین کی صفات بیان فرماتا ہے جن کے لئے اللہ نے بہتر اور پائیدار انجام اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے۔
وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا (42 : 36) “ اور اللہ کے ہاں جو ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ”۔ ایمان وہ حقیقت ہے کہ جب یہ ذہن میں بیٹھ جائے تب ہی جا کر اس کے ذریعہ انسانوں کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز کی اصل “ قدر ” معلوم کرسکیں۔ صرف ایمان کے ذریعہ ہم اس کائنات کی حقیقت کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اس کائنات کو الٰہ العالمین نے بتایا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی کوئی شخص اس کائنات کے ساتھ کوئی معاملہ کرسکتا ہے۔ اس طرح انسان اس کی حقیقت کو معلوم کرلیتا ہے۔ اس کے اندر پائے جانے والے قوانی قدرت کا حقیقی ادراک کرسکتا ہے اور اس طرح یہ انسان اپنی حرکت کو اس کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ پھر انسان اس کائنات کے کلی قوانین قدرت سے انحراف نہ کرے گا کیونکہ اس طرح یہ ہم آہنگی ختم ہوجائے گی اور یہ ہم آہنگی اس قدر اہم ہے کہ اس کے ساتھ انسان اس دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرسکے گا۔ اور اس عظیم وجود کے ساتھ مل کر اپنے باری تعالیٰ اور خالق کی اطاعت اور تابعداری میں زندگی بسر کرسکے گا۔ یہ صفت ہر انسان کے لئے لازمی صفت ہے کہ وہ مومن ہو ، لیکن جس جماعت نے پوری انسانیت کے اس سفر کی قیادت کرنی ہے اور جس نے پوری انسانیت کو خالق کائنات تک پہنچا نا ہے اس کے اندر اس صفت کا بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے۔
اس ایمان کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ مومن کو نفسیاتی اطمینان اور نصب العین کا تعین حاصل ہوجاتا ہے۔ تردد ، حیرت ، خوف اور مایوسی اس کے قریب نہیں لگتی اور اس کرۂ ارض پر عام زندگی گزارنے کے لئے بھی یہ صفات اشد ضروری ہیں۔ لیکن یہ صفات اس جماعت کے لئے تو لابدی ہیں جس نے اس کٹھن راہ میں دوسرے انسانوں کی رہنمائی کرنی ہے۔
ایمان کو اہم قدروں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مومن خواہشات نفسانیہ ، ذاتی اغراض ، ذاتی مصلحتوں ، مفادات کے حصول سے پاک ہو۔ تب جا کر وہ کسی اونچے مقاصد کے لئے کام کرسکے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ اس کام میں اس کی ذات کی کوئی حصہ داری نہیں ہے۔ یہ تو صرف دعوت الی اللہ کی ڈیوٹی ہے۔ یہ عند اللہ اجر پا چکا ہے۔ اللہ کے ساتھ سودا ہوچکا ہے اور یہ شعور اس شخص کے لئے تو بہت ہی لازمی ہے جو قائد تحریک ہو ، تا کہ وہ اس وقت مایوس نہ ہو جب ایک خود سر گروہ اس سے الگ ہوجائے یا اسے دعوت کی وجہ سے ایذا دی گئی ہو ، اور اگر تمام عوام اس کے گرویہ ہوجائیں اس کے مطیع ہوجائیں تو وہ مغرور نہ ہوجائے کیونکہ وہ تو ایک مزدور ہے ، اس نے اجرت اللہ سے پہلے ہی لے لی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا پہلا گروہ ، جماعت صحابہ کے اندر اس قسم کا ایمان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے ایمان نے ان کے نفوس ، ان کے اخلاق ، ان کے طرز عمل میں ایک عجیب انقلاب پید کردیا تھا۔ ان کے دور میں پوری انسانیت کے اندر ایمان کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ ایمان دب گیا تھا ، بلکہ ایمان کا لوگوں کے اخلاق ، ان کے طرزعمل اور ان کی نفسیات پر کوئی اثر ہی نہ رہا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے ایمان کی ایک زندہ ، موثر ، فعال صورت دی۔ اور اس نے صحابہ کرام ؓ کی ایک ایسی جماعت پیدا کردی جنہوں نے اسلامی انقلاب کا بیڑا اٹھایا۔
٭٭٭
سید ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب “ مسلمانوں کے زوال کے عالمی اثرات ” میں فرماتے ہیں :
“ یہ ہے وہ ایمان جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں ایمان کو اس جماعت کی صفت اول بتایا گیا ہے جو پوری انسانیت کی قیادت کے لئے اٹھائی گئی ہے جو اپنے ایمان کی وجہ سے انسانیت کی قیادت کرتی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مومن صرف اللہ پر توکل کرے ”۔ لیکن قرآن مجید تو کل علی اللہ کو بطور ایک مستقل عنوان ذکر کرتا ہے۔
وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) “ اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ”۔ یہاں سیدھے سارے فقرے یتوکلون علی ربھم کی بجائے وعلی ربھم یتوکلون (42 : 36) کہا۔ یعنی بعد کے الفاظ کو مقدم یعنی جار مجرور کو مقدم کرنے سے حصر کے معنی پیدا ہوئے یعنی صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور کسی پر نہیں کرتے۔ یہ بھی عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اللہ پر بھروسہ ہو۔ مومن کا اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان ہوتا ہے۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مشیت سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ کوئی کام یہاں اللہ کے اذن کے بغیر واقع ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مومن صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ کسی کام کے کرنے یا کسی کام کے نہ کرنے میں مومن صرف اللہ پر توکل کرتا ہے۔
ہر شخص کے لئے یہ شعور اس کی عملی زندگی میں لابدی ہے ۔ کیونکہ اس طرح وہ ہر کسی کے سامنے سر اٹھا کے چلے گا۔ اور اس کا سر کسی کے سامنے نہ جھکے گا۔ وہ بہت مطمئن ہوگا ، نہ کسی سے کوئی امید رکھے گا نہ اسے کسی کا خوف ہوگا اگر مشکلات آجائیں تو پرجوش اور ثابت قدم ہوگا اور اچھے دن ہوں تو سنجیدہ رہے گا۔ نہ خوشحالی اور نہ ہی بدحالی اسے اپنی جگہ سے ہلا سکے گی۔ لیکن یہ شعور اسلامی انقلاب کے قائد کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اس راہ کے نشیب و فراز میں جم جانے اور اسلامی انقلاب لانے والی جماعت کے ہر فرد میں بھی یہ صفت ضروری ہے۔
والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش (42 : 37) “ جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ” ۔ قلب کی طہارت ، طرز عمل کا شفاف ہونا ، خصوصاً بڑے گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے ، اسلامی معاشرے کی اساسی خصوصیت ہے اور یہ ایمان کے نمایاں آثار میں سے ہے۔ اور کسی صحیح قائد اور خصوصاً اسلامی دعوت کے لئے اٹھنے والی جماعت کے لئے تو یہ بہت ہی ضروری صفت ہے۔ کوئی دل اور شفاف نہیں رہ سکتا ، اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہا ہو اور فحاشی کے کاموں میں حصہ دار ہو اور ان چیزوں سے اجتناب کرنے والا نہ ہو ، اور کوئی فرد اور کوئی جماعت قیادت کے قابل نہیں ، اگر اس کا دل صاف نہ ہو ، اور معصیت اور فحاشی نے اس کے ایمان کو خود ختم کردیا ہو اور اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی ہو۔
پہلی جماعت مسلمہ کے دل میں ایمان اس قدر تیز احساس کے ساتھ ، اس درجے تک بلند ہوگیا تھا ، جس کی طرف محولہ بالا ص میں 22 میں اشارہ کیا گیا اور اس طرح اس جماعت کو اس کے ایمان نے انسانی قیادت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ اور انہوں نے ایسی قیادت کی کہ اس کی مثال نہ سابقہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ نئی تاریخ میں۔ اس قیادت کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک تیز ہو اور جو ستارے کی طرف اشارہ کرتا ہو ، اس جہان میں جہاں خواہشات کی جنگ برپا ہو اور نفسا نفسی کا عالم ہو۔
اللہ اس انسانی مخلوق کی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قیادت کے لئے شرائط بھی معقول حد کے اندر رکھی ہیں۔ جن پر کوئی قیادت عمل کرسکے اور اس پر وہ اللہ کے ہاں موہود اجر پاسکے۔ اللہ نے جو معیار تجویز فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت اور اس کی لیڈر شپ کبائر گناہوں اور فواحش سے مجتنب ہو۔ رہے چھوڑے گناہوں کا ارتکاب تو وہ اللہ معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ انسانوں کی طاعت کی حدود وقیود سے خوب واقف ہے۔ یہ اللہ کا فضل ، اس کی مہربانی اور رحمت ہے ، جو اس نے اس انسان پر کیا۔ مناسب ہے کہ ہم اللہ سے شرم کریں کیونکہ مہربانی سے انسان کے اندر حیا کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عفو درگزر کی وجہ سے عزت و احترام پیدا ہوتا ہے۔
واذا ما غضبوا ھم یغفرون (42 : 37) “ اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کر جاتے ہیں ” ۔ یہ صفت اس کے بعد متصلا آئی جب اس سے قبل اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے چھوٹے گناہ معاف کر کے درگزر فرماتا ہے۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ آپس میں مہربانی اور درگزر کا سلوک روا رکھیں۔ چناچہ مومنین کی صفات میں اس بات کو شامل کیا گیا کہ جب ان کو غصہ آئے تو وہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔
اس معاملے میں بھی اسلام نفس انسانی کے ساتھ نہایت ہی احسان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ غصہ ایک ایسا انسانی رد عمل ہے جو انسان کی فطرت سے اٹھتا ہے۔ اور یہ غصہ سرا سر شر بھی نہیں ہے۔ اللہ کے لئے ، اللہ کے دین کی خاطر ، سچائی کے لئے اور انصاف کی خاطر تو غصہ مطلوب ہے۔ اور اس میں خیر ہے۔ لہٰذا اسلام نفس غصے کو جرم قرار نہیں دیتا۔ نہ اسے غلطی قرار دیتا ہے بلکہ اسلام انسانی مزاج اور فطرت میں غصے کو قبول کرتا ہے۔ اس لیے اسلام انسان اور اس کی فطرت کے درمیان کسی دینی حکم کی وجہ سے جدائی اور تفریق نہیں کرتا۔ ہاں اسلام یہ ہدایت ضرور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا چاہئے۔ اسے چاہئے کہ حتی الوسع عفو و درگزر سے کام لے اور یہ اس کی ایمانی صفات میں سے ایک مثالی صفت ہوگی۔ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ آپ کبھی بھی ذاتی معاملات میں غصہ نہیں ہوئے۔ آپ کا غصہ اللہ کے لئے ہوتا تھا اور پھر آپ کے غصے کے سامنے کوئی طاقت ٹھہر نہ سکتی تھی۔ خیر یہ تو مقام محمدی ﷺ کے درجات و کمالات ہیں۔ عام مسلمانوں کو اللہ ان کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ اس میں ان کو آزماتا ہے اور صرف یہ حکم دیتا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو معاف کردیں ، اور اگر ممکن ہو سکے تو معاف کردیں اور انتقام کے جذبات پر قابو پالیں بشرطیکہ معاملہ ذاتی حدود کے اندر ہو۔ اور دو افراد کے درمیان ہو۔
والذین استجابوا لربھم (42 : 38) “ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں ”۔ وہ اپنے اور رب کے درمیان حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں اور نفس انسانی سے وہ باتیں محو کرتے ہیں جو توجہ الی اللہ سے مانع ہوں ، یہ رکاوٹیں نفسانی خواہشات ، جذبات و میلانات اور وہ رکاوٹیں جو انسان کے وجود اور اس کی ذات سے لگی ہوئی ہیں ، جب انسان ذاتی خواہشات پر قابو پالے اور شخصی رکاوٹوں کو دور کرے تو پھر اس کے اور اس کے رب کے درمیان راستہ صاف ہوجاتا ہے ۔ اور پھر یہ رب کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے سامنے ذاتی خواہشات کی کوئی رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی یہ عمومی صفت ہے لیکن احکام الٰہی میں سے بعض کا یہاں خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے۔
واقاموا الصلوٰۃ (42 : 38) “ نماز قائم کرتے ہیں ”۔ اسلام میں نماز کو ایک بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے بعد پہلا حکم نماز کا آتا ہے۔ گویا نماز اللہ کے احکام کی پیروی کا آغاز ہوتا ہے۔ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا نام نماز ہے۔ پھر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام میں محمود وایاز ایک ہی صفت میں کھڑے ہوں گے۔ کسی کا سر دوسرے کے مقابلے میں بلند نہ ہوگا ، کوئی کسی سے آگے نہ ہوگا۔ اور یہی پہلو ہے یعنی مساوات کا پہلو کہ نماز کے بعد بالعموم زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے لیکن یہاں زکوٰۃ سے پہلے وامرھم شوری (42 : 38) کا ذکر کیا تا کہ معلوم ہو کہ رائے ہر شخص کی برابر شمار ہوگی۔
وامرھم شوریٰ بینھم (42 : 38) “ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ”۔ انداز بیان ایسا ہے کہ ان کے تمام امور مشورے کے نتیجے میں ہوتے ہیں گویا ان کی پوری زندگی مشورے کے رنگ میں رنگی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ ایک مکی آیت ہے اور یہ حکم اسلامی حکومت کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ رنگ گویا صرف حکومتی امور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی سوسائٹی کا عمومی طرز عمل ہے۔ اگرچہ حکومت اس وقت قائم ہی نہ ہوئی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کی تنظیم دراصل اسلامی سوسائٹی کے خدو خال کا ایک منظم ظہور ہی ہے اور اسلامی سوسائٹی میں اسلامی حکومت بھی آتی ہے۔ لہٰذا اسلامی سوسائٹی ، اسلامی حکومت کو بھی اسی نہج پر چلاتی ہے۔ جس طرح اس کے عمومی امور چلتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں آغاز ہی سے مشورے کا عمل جاری تھا۔ اور اس مشورے کا دائرہ حکومت اور حکومتی احکام سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ یہ دراصل اسلامی سوسائٹی کی صفت ہے اور اس جماعت کی تو ممتاز صفات میں سے ہے جسے اللہ نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے برپا کیا ہے۔ اور قیادت کے لئے تو یہ بہت ہی اہم ہے۔
شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہونی چاہئے تو اسلام نے اس کے لئے کوئی فولادی قالب نہیں تیار کیا۔ ہر زمان و مکان کے حالات میں اس کی مختلف شکل و صورت تیار ہو سکتی ہے تا کہ یہ صفت یعنی شو رائیت اسلامی سوسائٹی میں بھی رائج ہو۔ اسلامی اداروں میں بھی مروج ہو ، لیکن اس کی کوئی جامد شکل نہ ہو بلکہ شوریٰ کی روح ہر جگہ موجود ہو۔ یعنی یہ شورائیت دراصل الفاظ اور اشکال کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک صفت ہے جو ایمان کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی میں شورائی شعور اور طرز عمل پیدا کرتی ہے۔ بعض لوگ ایسے اسلامی اداروں کی بات کرتے ہیں جن کی تہہ میں ایمان نہ ہو یا ایمان کا ہونا ضروری نہ ہو تو وہ ایک فضول کام کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی سطحی بات نہیں ہے جس طرح پہلی نظر میں نظر آئے گی اور خصوصاً ان لوگوں کو نظر آئے گی جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات میں ایمان کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ اسلامی نظریہ حیات اداروں اور تنظیمات میں منتقل ہونے سے قبل ، اس کے اندر ایسی عقلی اور نفسیاتی حقیقتیں ہوتی ہیں جو انسانی سوچ اور انسان کی ذات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد اسلام کے اجتماعی اداروں میں وہ اصول بن کر ایک متبعین شکل اختیار کر کے سامنے آتی ہیں اور اس کے بعد پھر نصوص آتے ہیں اور وہ ان اشکال اور حالات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں ۔ نصوص ان اصولوں کو منظم کردیتے ہیں ، ان کی تخلیق نہیں کرتے ، ان کی تخلیق تو ایمان کی وجہ سے ہوچکی ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلامی نظریہ حیات کی کسی شکل و صورت کے ظہور کے لئے کسی ملک میں اسلامی سوسائٹی اور مسلمانوں کا وجود ضروری ہے۔ اور ان مسلمانوں کا ایمان فعال اور بااثر ہو۔ اگر مسلمانوں کا وجود ہی نہ ہو تو محض اداروں کے قیام سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ محض ادارے ضروریات پوری نہ کرسکیں گے اور اس صورت میں کوئی ایسا نظام وجود میں نہ آسکے گا جسے اسلامی کہا جاسکے۔
جب مسلمان صحیح معنوں میں پائے جائیں گے اور ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے وجود میں آجائے گا تو اسلامی نظام بذات خود وجود میں آجائے گا اور اس کی ایک اداراتی شکل خودبخود وجود میں آجائے گی جو ان مسلمانوں کی ضرورت ہوگی اور ان کی سوسائٹی کی ضرورت ہوگی اور صرف اس طرح اسلامی اصولوں کے خواب کی سچی تعبیر وجود میں آسکے گی۔
ومما رزقنھم ینفقون (42 : 38) “ اور ہم نے ان کو جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ” یہ آیت بھی حکم فرضیت زکوٰۃ سے پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ زکوٰۃ دو ہجری میں فرض ہوئی لیکن انفاق فی سبیل اللہ عام حکم اسلامی جماعت کے لئے پہلے سے تھا۔ بلکہ اسلامی سوسائٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ حکم وجود میں آگیا تھا۔
دعوت اسلامی کے عمل کے لئے مال کی ضرورت ہے اور یہ مال بذریعہ انفاق حاصل ہوگا۔ انفاق کے ذریعہ انسانوں کے دل کنجوسی کی بری خصلت سے پاک ہوتے ہیں جب انسانی جذبہ مال پر قابو پا لیتا ہے اور اپنی مملوکات کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہے ، ایمان کے مفہوم کے نکھار کے لئے یہ سب امور ضروری ہیں۔ اور یہ بات تو اپنی جگہ ہے کہ انفاق کے بغیر کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دعوت تو ایک جدو جہد ہے اور جدو جہد میں کارکنوں کی کفالت ضروری ہے تا کہ اجماعی ضروریات پوری ہوں اور نتائج برآمد ہوں۔ بعض اوقات یہ تکافل ہمہ گیر ہوجاتا ہے کہ کیس کے لئے انفرادی دولت رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ جب مہاجرین مکہ سے نکلے اور مدینہ میں انصار کے ساتھ مل کر جو نظام قائم ہوا یہ سب اسی اصول کے تحت تھا لیکن جب حالات معمول پر آگئے تو پھر زکوٰۃ کو رائج کر کے موافات کے نظام کو منسوخ کردیا گیا جو کلی تکافل تھا۔ بہرحال انفاق فی سبیل اللہ اس جماعت کی ممتاز خصوصیت ہے جسے اس مقصد کے لئے چنا گیا ہو یا اسے اس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہو کہ وہ کسی خطے میں اسلامی انقلاب برپا کرے۔
والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ”۔ مکی سورتوں میں اس صفت کا ذکر اپنے اندر خاص معنی رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت مسلمہ کے اندر یہ طبیعی صفت ہوتی ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا مقابلہ کرنا ایک اہم فریضہ ہے کیونکہ اگر کوئی ظالم کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو ظالم اور جری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ظالم کا مقابلہ کرنا بہت ضروی ہے۔ اور ایک ایسی ملت جسے اٹھایا ہی اس لیے گیا ہو کہ لوگوں کے حقوق کی پاسبانی کرے ، امر بالمعروف اس کا مشن ہو اور “ نہی عن المنکر اس کا فریضہ ہو ، اس کے لئے تو برائی کا مقابلہ کرنا بہت ہی اہم ہے کیونکہ امت مسلمہ اور جماعت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی پر چھا جانے اور اس کے اندر سچائی کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرے۔
وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین “ اور عزت اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہے ”۔ لہٰذا اسلامی جماعت کا مزاج ، اس کے فرائض کی نوعیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادتی کا مقابلہ کرے اور اس پر جو دست درازیاں کی جا رہی ہیں ان کی مدافعت کرے۔ مکہ میں حکم یہ تھا کہ رک جاؤ اور ہاتھ روک لو اور صبر کرو۔ نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو ، وہاں یہ احکام مکہ کے مخصوص حالات کی وجہ سے تھے اور ابتدائے عرب مسلمانوں کی قدرے تربیت بھی مطلوب تھی کیونکہ عرب مزاجاً منتقم المزاج تھے ، یہ اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کے لئے مستقل احکام نہ تھے۔ مکہ میں بعض خصوصی اسباب کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہر قیمت پر بقائے باہمی کے لئے امن اور سلامتی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔
1۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے خلاف سختی اور زیادتی کسی منظم حکومت ادارے کی طرف سے نہ تھی جو اس وقت کی جماعت پر حکمران ہو ، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سیاسی صورت حال غیر منظم قبائل انداز کی تھی۔ وہاں مسلمانوں پر جو تشدد کیا جاتا ہے تھا ، اگر کوئی مسلمان کسی قبیلے کا فرد تھا تو اس پر یہ تشدد قبیلہ کرتا تھا اور قبیلے میں بھی اس کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ مسلمانوں پر بحیثیت جماعت کوئی تشدد نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات آقا اپنے مسلمان غلاموں پر تشدد کرتے تھے اور مسلمان انہیں خرید کر آزاد کردیتے تھے۔ اس لیے کوئی بھی اپنے غلاموں پر زیادہ تشدد کی جرات نہ کرتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نہ چاہتے تھے کہ مکہ میں گھر گھر کے اندر لڑائی شروع ہوجائے۔ ایک ہی گھر کے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں وہ غیر مسلموں سے لڑنا شروع کردیں۔ پھر مکہ میں نرمی دوسرے لوگوں کے دلوں کو زیادہ نرم کردیتی تھی بسنبت سختی کے۔
پھر عرب معاشرہ ایک خوددار اور جوانمرد معاشرہ تھا۔ اس میں مظلوم کی تمایت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ مسلمان جب اذیت برداشت کرتے تھے اور اپنے عقیدے پر جم جاتے تھے تو عربوں کی جوانمردی کے جذبات ان کے حق میں اٹھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران بالعموم اسی جذبے نے مسلمانوں کی مدد کی ، جس میں بنی ہاشم سب محصور کر دئیے گئے تھے۔ اس محاصرے کے خلاف لوگوں کی ہمدردیاں ، مسلمانوں کے حق میں ہوگئیں اور لوگوں نے اس معاہدے کے پرزے پرزے کر دئیے جو صحیفے میں تھا اور یوں یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا۔
پھر عربوں کے اندر یہ رواج تھا کہ وہ بات بات پر تلوار سونت لیتے تھے۔ وہ بڑے جذباتی تھے اور کسی نظم و نسق کے پابند نہ تھے ۔ اسلامی جماعت میں جو تنظیم مطلوب تھی اس کا تقاضا تھا کہ اس جذباتیت کو ذرا دبایا جائے اور اسے کسی ہدف کا پابند کیا جائے۔ اور لوگوں کو اعصابی ضبط اور صبر کا عادی بنایا جائے۔ اور لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ نظریہ اور نصب العین ہر جذبے اور ہر مفاد پر مقدم ہیں۔ لہٰذا مکہ میں صبر اور مسلسل صبر کی تلقین کرنا اسلام کے منہاج تربیت کے لیے بہت ضروری تھا۔ اس طرح ایک مسلم کی شخصیت میں مطلویہ توازن پیدا ہوگیا اور وہ صبر وثبات کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے آگے بڑھتے رہے۔۔۔۔ غرض یہ اور اس طرح کے دوسرے اسباب تھے جن کو اللہ اور رسول جانتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں ، صبر کی تلقین ہوتی رہی لیکن اصلی ہدف تحریک اسلامی کا یہی تھا۔
والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون (42 : 39) “ وہ لوگ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ مقابلہ کرتے ہیں ”۔
اس اصول کو زندگی کا ایک دوسرا اصول عملاً رائج کرتا ہے ، وہ ہے :
وجذء سیئۃ سیئۃ مثلھا (42 : 40) “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔ سزا کا یہ اصول ہے کہ جیسا جرم ہو ، ویسی ہی سزا دی جائے تا کہ سرکشی اختیار نہ کرے۔ اگر کسی سرکش انسان کو کوئی روکنے والا نہ ہو تو وہ سر کشی اور ظلم میں بڑے اطمینان سے بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ تو ہے مظلوم کا حق اور اصول عامہ۔ لیکن اگر کوئی اپنے اصلاح نفس یا جزائے خیر اور اخروی اجر کے لئے کسی کو معاف کرتا ہے یا جماعت مسلمہ کے خلاف اٹھنے والے جذبات کی وجہ سے معاف کرتا ہے تو اس قاعدے میں استثناء موجود ہے۔ لیکن معافی کو اس وقت معانی تصور کیا جائے گا جب کوئی شخص برائی کا جواب برائی کے ساتھ دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اس وقت عفو کا وزن بھی ہوگا اور دست درازی کرنے والے کی اصلاح بھی ہوگی کیونکہ دست درازی کرنے والا جب یہ سوچے گا کہ عفو اور در گزر محض احسان کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس میں معاف کرنے والے کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ شرمندگی محسوس کرے گا ، نادم ہوگا اور آئندہ حیا کرے گا۔ اور یہ سوچے گا کہ میرے مخالف نے میرے ساتھ شریفانہ سلوک کیا ہے۔ وہ اونچا آدمی ہے اور جو شخص انتقام لینے پر قادر ہو اور معاف کر دے تو اس کا دل بھی صاف ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات میں عفو و درگزر دونوں کے لئے مفید ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایک شخص انتقام لینے سے عاجز ہو اور معاف کردے تو پھر صورت یہ ہوگی ، گداگر تواضع کند خوئے اوست۔ لہٰذا ایسے عفو کو عفو کہنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ وہاں عفو نہیں ہے ، مجبوری ہے۔ اور یہ صورت حال ایک شر انگیز صورت حال ہے ۔ اس کے نتیجے میں ظلم کرنے والا اور جری ہوتا ہے۔ اور فساد اور پھیلتا ہے ، یہ آیت مفہوم ۔
فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ (42 : 40) “ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ پر ہے ”۔
انہ لا یحب الظلمین (42 : 40) “ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ”۔ یہ پہلے قاعدے کی تاکید ہے کہ “ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ”۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یا تو معاف کر دو یا اگر بدلہ لینا ہے تو برابر بدلہ لو اس میں حدت نہ بڑھو۔۔۔۔ ایک دوسری تاکید اسی قاعدے گی :
ولمن انتصر بعد ۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 42) انما السبیل علی الذین ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (42 : 42) “ اور جو لوگ ظلم کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ”۔ لہٰذا جو شخص ظلم کے بعد مدافعت کرتا ہے اور برائی کا بدلہ اس کے مساوی لینا ہے ، تعدی نہیں کرتا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ تو اپنا قانون حق استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کسی کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ نہ کسی کے لئے جائز ہے کہ اس کی راہ روکے۔ راہ تو ان لوگوں کی روکنی چاہئے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ، اور زمین میں بغیر استحقاق کے زیادتیاں کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی ایسے ملک کی اصلاح نہیں ہو سکتی جب اس میں ایک ظالم لوگوں پر ظلم کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اس میں باغی ہو جو لوگوں پر مظالم ڈھا رہا ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس کا ہاتھ روکے یا اس سے قصاص دلواسکے۔ اللہ تعالیٰ بہرحال اس قسم کے ظالموں کو عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن یہ لوگوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ظالم کا ہاتھ پکڑیں۔
آخر میں پھر انفرادی حالات اور طاقت انتقام کے باوجود ، تو ازن ، اعتدال ، ضبط نفس ، صبر اور احسان کا رویہ اپنانے پر متوجہ کیا جاتا ہے۔ جب صبر اور احسان فی الواقعہ ایک درگزر ہو ، ذلت نہ ہو ، کوئی احسان ہو ، مجبور نہ کردیا گیا ہو۔
ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور (42 : 43) “ البتہ جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے ”۔
اس پیراگراف کی تمام ہدایات و احکام نہایت ہی اعتدال اور میانہ روی پر مبنی ہیں۔ نفس انسانی کو ایک طرف کینہ اور غصے سے بچانے کی سعی کی گئی ہے ، اور دوسری جانب کمزوری ، ذلت اور ظلم و زیادتی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ہر حال میں اللہ کی رضا مندی کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ صبر بہرحال زاد راہ ہے۔
اور مومنین کی جو صفات یہاں دی گئی ہیں وہ اس انقلابی جماعت کی خصوصیات ہیں ، جس نے پوری انسانیت کی قیادت کرنی ہے ، اور جس کے پیش نظر انعام اخروی اور رضائے الٰہی ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں اور رب پر توکل کریں۔
یہ بیان کرنے کے بعد کہ صفات مومنین یہ ہیں اور ان کے لئے جو اخروی اجر ہے ، وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اب بطور تقابل تصویر کا دوسرا رخ بعض ظالموں کا انجام بھی یہاں دے دیا جاتا ہے۔ اور ان کے لئے ذلت اور خسران کا اعلان کیا گیا ہے۔
Ayahs 42:44–46آیت نمبر 44 تا 46
اللہ کے فیصلے کو رد نہیں کیا جاسکتا اور اللہ مشیت کی راہ کوئی روک نہیں سکتا۔
ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ (42 : 44) “ جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے ، اس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ”۔ جب اللہ کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ یہ بندہ گمراہی کا مستحق ہے تو اللہ کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ یہ گمراہ ہوگا۔ اس کے بعد پھر کوئی ولی اسے ہدایت دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ نہ اس کی مدد یوم الحساب میں عذاب سے بچانے میں کرسکتا ہے۔ باقی آیت میں ایک منظر !
وتری الظلمین ۔۔۔۔۔ مرد من سبیل ( 42 : 44) وترھم یعرضون ۔۔۔۔۔ طرف خفی (42 : 44) “ تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی کوئی سبیل ہے ؟ اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے ، ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے۔ اور اس کو نظریں بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ ظالم چونکہ سرکش اور باغی تھے تو اللہ تعالیٰ نے یوم الجزاء میں انہیں بظاہر ذلت کی حالت میں رکھا۔ یہ عذاب دیکھتے ہیں تو ان کی بڑائی دھڑام سے گرتی ہے اور نہایت ہی ذلت اور انکسار سے باہم بات کرتے ہیں کہ کوئی راستہ ہے پلٹنے کا ہے۔ اس بےتابانہ مایوسی کے مکالمے اور اس ذلت و خواری کی حالت میں جب آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو حالت خشوع میں ہیں۔ تقویٰ اور احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ ذلت اور خواری کی وجہ سے ، وہ خود بھی سہمے ہوئے ، جھکے ہوئے ہیں اور نظریں بھی نیچی ہیں۔ ذلت اور شرمندگی کی وجہ سے نظریں اٹھا کر نہ دیکھ سکیں گے۔
ینظرون من طرف خفی (42 : 44) “ اور نظریں بچا بچا کر کن اکھیوں سے دیکھیں گے ”۔ یہ اس وقت نہایت ہی توہین آمیز حالت میں ہوں گے۔
اور اس وقت یہ معلوم ہوگا کہ یہ دن اہل ایمان کا ہے۔ وہ بات کرتے ہیں اور تبصرے کرتے ہیں۔
وقال الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ یوم القیمۃ (42 : 45) “ اس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا ”۔ اور یہ کفار واقعی سب کچھ ہار گئے۔ اور یہ لوگ ذلت سے جھکے کھڑے ہیں وہ بھی باہم تبصرہ کرتے ہیں مگر یوں کہ کیا ایسی کی کوئی راہ ہے ؟ ۔۔۔۔ اب ایک عام تبصرہ آتا ہے اس پورے منظر پر کہ یہ لوگ جن کو آگ پر پیش کیا گیا ان کا انجام کیا ہوگا۔
الا ان الظلمین فی عذاب مقیم (42 : 45) وما کان لھم ۔۔۔۔۔۔ من سبیل (42 : 46) “ خبردار رہو ، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے ، جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں اور جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لئے بچاؤ کی کوئی سبیل نہیں ”۔ نہ کوئی مددگار ہے اور نہ نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ لہٰذا اب ان کے لئے عذاب مقیم ہی ہے۔
٭٭٭
اس منظر کی روشنی میں حضور ﷺ کے معاندین اور مغرور مخاطبین کو اب نہایت ہی ہمدردی سے خطاب کیا جاتا ہے کہ اللہ کی بات کو قبول کرلو ، قبل اس کے کہ اچانک تم پر یہ دن آجائے ، جس سے پھر کوئی پناہ تمہیں نہ ملے ، کوئی مدد گار نہ ملے جو اس برے انجام پر اجتجاج کرسکے ، اور حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر یہ اس مخلصانہ تنبیہ کو نہیں مانتے اور منہ موڑتے ہیں تو آپ کا فرض پورا ہوگیا۔ آپ کا فریضہ صرف یہ ہے کہ بات پہنچا دیں ، آپ ان کی ہدایت کے مکلف اور ذمہ دار نہیں نہ ان کے ٹھیکہ دار ہیں۔
Ayah 42:47آیت نمبر 47
اس کے بعد انسان کے عمومی مزاج کو ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ انسان جو دعوت اسلامی اور سچائی کا مقابلہ کرتا ہے اور رسول برحق سے عناد رکھتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اذیت و عذاب کا مستحق گردانتا ہے تو اس کی حالت یہ ہے کہ جب کسی اذیت میں یہ مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کی قوت برداشت جواب دے دیتی ہے۔ جزع فزع اور آہ و فغاں شروع کردیتا ہے اور اگر اللہ کی کوئی نعمت مل جائے تو ہواؤں پر اڑنے لگتا ہے۔ اور حدود پار کرلیتا ہے جبکہ سختی میں مایوس اور کافر ہوجاتا ہے۔
Ayah 42:48آیت نمبر 48
اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے حصے میں خوشی آتی ہے یا غم آتا ہے ، تنگی آتی ہے یا کشادگی نصیب ہوتی ہے ، یہ سب امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ پس یہ بدبخت انسان جو بھلائی کا شیدائی ہے اور برائی اور سختی سے نفور ہے ، اسے کیا ہوگیا ہے کہ یہ اس مالک سے دوررہا ہے جس کے ہاتھ میں اس کے سب امور ہیں اور ہر حال میں وہ خالق ومالک ہے
Ayahs 42:49–50آیت نمبر 49 تا 50
اولاد کسی شخص پر فضل و کرم ہونے یا اس سے محروم ہونے کی بڑی نشانی ہے۔ پھر اولاد انسانی نفس کے بہت ہی قریب پسندیدہ چیز ہے ۔ اولاد سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے۔ اس لیے کسی پر اللہ کے فضل ہونے یا اس سے محروم ہونے کے حوالے سے یہ بہت ہی حساس اور قوی الاثر چیز ہے۔ اس سورت میں رزق کے اعتبار سے خوشحالی اور بدحالی کی بات گزر چکی ہے۔ یہاں اولاد کے حوالے سے بھی انسان کے نصیب کی بات کردی تا کہ مال و الاد دونوں کی بات ہوجائے ، کیونکہ اولاد بھی اللہ کی طرف سے ایک بہترین رزق ہے۔ مال کی طرح بلکہ اس سے پیارا۔
جہاں بھی اللہ کے ملک کی بات ہوتی ہے وہ ملک سماوات اور پوری زمین سے شروع ہوتی ہے ، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ عام مالک ہے۔ اسی طرح یخلق ما یشاء (42 : 49) “ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ” ۔ تخلیق کا ذکر بھی یہاں نہایت مناسب اور معنی خیز ہے۔ یہاں اولاد کو زندہ کرنے اور عطا کرنے کا مضمون ہے۔ اس کے ساتھ صفت تخلیق کا ذکر مناسب ہے۔ انسان کو بتایا گیا کہ تم جو پسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ، ان کو بھی اللہ پیدا کرتا ہے۔ وہی دینے والا اور وہی محروم کرنے والا ہے۔
اب حالات دادو دہش اور حالات محرومیت کی تفصیلات ۔ اللہ جسے چاہتا ہے عورتیں دیتا ہے اور یہ لوگ عورتوں کو پسند نہ کرتے تھے ( جس طرح آج بھی نہیں کیا جاتا) یہ تو اللہ ہے کہ کسی کو لڑکے ، کسی کو لڑکیاں اور کسی کو دونوں دیتا ہے۔ اور کسی کو اس میٹھے پھل سے صاف صاف محروم کردیتا ہے۔ یہ سب حالات اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ اس میں اللہ کے سوا کسی کا دخل نہیں ہے ، وہ اپنے علم وقدرت کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔
انہ علیم قدیر (42 : 50) “ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ”۔
٭٭٭٭
سورت کے خاتمہ پر موضوع اول سامنے آتا ہے جس پر اس پوری سورت میں بات ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسالت اور وحی کی حقیقت یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس عمل میں بندے اور خدا کے درمیان رابطہ کس طرح ہوتا ہے ، اور اس کی صورتیں کیا کیا ہیں ؟ اور یہ رابطہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہوچکا ہے اور اس کے نہایت ہی بلند مقاصد ہیں یہ کہ جو صراط مستقیم کی طرف آنا چاہے اسے لایا جائے۔