42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 42:13–16

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لیے دین کا دہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ﷺ اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ۔ یہی بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف (اے محمد ﷺ تم انہیں دے رہے ہو۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، اپنا کرلیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کر ے

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا ، وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا رب پہلے ہی نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقررہ تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ، وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

(چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے) اس لیے اے محمد ﷺ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو ، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاؤ، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، اور ان سے کہہ دو کہ : “ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اللہ کی دعوت پر لبیک کئے جانے کے بعد جو لوگ (لبیک کہنے والوں سے) اللہ کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں ، ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے ، اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے ”۔ اس سورت کے آغاز میں آیا تھا

آیت نمبر 13 تا 16 کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے واحد دین کو قائم کرو ، اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو ، اور تمہارا فرض ہے کہ اللہ کے اس قدیم نظام زندگی پر جم جاؤ اور جو لوگ اس سے ادھر ادھر دیکھتے ہیں ، محض خواہشات نفسانیہ پوری کرنے کے لئے تو ان کی طرف کوئی توجہ نہ کرو ، اس دین کو غالب کرو ، اور جو لوگ اس دین کے خلاف حجت بازیاں کرتے ہیں ، ان کی حجت کو رد کر کے باطل کردو ، اور ان کو اللہ کے غضب اور شدید عذاب سے ڈراؤ۔ اس پیراگراف کے فقروں کے اندر بھی نہایت ہی لطیف ربط ہے جس طرح سابقہ پیراگراف کے فقروں میں ہم نے بیان کیا۔ شرع لکم من الدین۔۔۔۔۔۔ ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ﷺ اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ ”۔ اس کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کردیا جاتا ہے جس کی تفصیلات ہم نے سورت کے آغاز میں دیں کہ ادیان کی جڑ ایک ہے۔ زمان و مکان کے لحاظ سے مختلف زمانوں میں اس کی نشوونما ہوئی ۔ اس سے جس مومن میں ایسے تصورات و لمحات آتے ہیں کہ وہ سوچتا ہے کہ اس کا ماضی بہت طویل ہے اور اس کے سلف بہت ہی عظیم لوگ ہیں اور وہ ایسے عظیم لوگوں کا تابع اور پیروکار ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت محمد ﷺ اجعین۔ یہ شعور پختہ ہوتا ہے کہ یہ دین ادیان سابقہ ہی کا تسلسل ہے اور یہ کہ وہ انبیاء و رسل کے راستے ہی پر رواں دواں ہے۔ اور اس راستے پر وہ نہایت خوشی سے چل رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تھکاوٹ ہو ، مشکلات ہوں اور اسے اپنے بیشمار مفادات قربان کرنے پڑیں۔ مومن کو یہ پختہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ وہ عظیم لوگوں کے قافلے کافرد ہے اور یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں عظیم لوگوں کا قافلہ ہے۔ یہ کہ جو لوگ اللہ کے اس دین پر چلنے والے ہیں ، ان کے درمیان دائمی امن و آشتی ہے ۔ یہ ایک مستقل شریعت اور شاہراہ پر قائم ہیں۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف اور دشمنی نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان تو گہرے تعلقات و روابط ہیں۔ یہ تعلقات و روابط باہمی مزید تعلق اور مفاہت کا تقاضا کرتے ہیں۔ یوں مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین اور مسلمین کے لئے مقرر کی ہے ، وہی ہے جس کی وصیت اور تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو بھی اس سے قبل کی گئی تھی تو پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین باہم کیوں لڑتے جھگڑتے ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے مختلف فرقے کیوں باہم دست و گریباں ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین حضرت محمد ﷺ کے پیروکاروں کے ساتھ کیوں عناد رکھتے ہیں۔ پھر وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں یعنی مشرکین عرب تو ان کے لئے کیا جواب ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور وہ کیوں نبی آخر الزمان کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوتے جن کی دعوت یہ ہے کہ تمام پیروکار ان دین کو یہ وصیت کی گئی تھی کہ۔ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ دین کو قائم کرو اور اس میں فرقے نہ بنو ”۔ اور کیوں اپنے فرائض ادا نہیں کرتے ، کیوں ایسا نہیں کرتے کہ وہ انحراف کو چھوڑ دیں۔ کج روی سے توبہ کریں اور کیوں پھر یہ لوگ آخری نبی کے جھنڈے تلے صف واحد کی صورت میں کھڑے نہیں ہوتے۔ کیونکہ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے بعد اب حضرت محمد ﷺ کی باری ہے اور یہ امانت اب ان تک پہنچی ہے۔ مشرکین جو ام القریٰ میں بستے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں وہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں ایک معاند اور مخالف کے طور کھڑے ہیں۔ یہ کیوں ؟ کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ (42 : 13) “ یہ بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو ” ۔ ان کو یہ بات ناگوار ہے کہ ان میں سے محمد ابن عبد اللہ پر وحی کیوں آئی۔ حالانکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ وحی دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہوگی۔ علی رجل من القریتین عظیم یعنی ان دو گاؤں کے کبراء اور اہل اقتدار میں سے کسی پر نازل ہوتی۔ لیکن خود ان کی یہ بات بھی حقیقت واقعہ کے طور پر درست نہ تھی ، حضرت محمد ﷺ خود ان کے قول کے مطابق صادق وامین تھے۔ اور آپ قریش کے ایک ممتاز قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ تو بیشک عظیم آدمی تھے۔ ان پر یہ نئی دعوت شاق گزرتی تھی کیونکہ اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو بت پرستی کا دور ختم ہوجاتا ہے ۔ بت اور بتوں کے افسانے ختم ہوجاتے ہیں اور اسی پر تو ان کی سیادت و قیادت قائم تھی۔ ان کے ذاتی اور اقتصادی مفادات انہیں تصورات سے وابستہ تھے ، لہٰذا انہوں نے شرک کو سینے سے لگالیا اور خالص تو حید پر مبنی ان پر بھاری تھی ، جس کی طرف رسول بلاتے تھے۔ پھر ان پر یہ بات بھی گراں گزر رہی تھی کہ ان کے جو آباء و اجداد جاہلیت پر مرگئے ہیں وہ گمراہی پر گئے اور وہ کافر اور جہنمی تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہا اگر آباء جہنمی ہیں تو ہم بھی ہیں۔ یوں وہ ضد میں آگئے اور غلط راہ عناد کی وجہ سے پکڑ لی۔ اور عمداً اپنے آپ کو جہنم میں گرانے کے لئے تیار ہوگئے۔ محض اس لیے کہ وہ اپنے آباء کو گمراہ قرار دینے کے لئے تیار نہ تھے۔ قرآن کریم ان کے اس موقف کی تردیدیوں کرتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے ، چن لے۔ اس طرح اللہ اپنی جانب سے صرف اسی کو متوجہ کرتا ہے جو اللہ کی پناہ میں آنا چاہے اور دھتکارے ہوئے لوگوں کو بذریعہ توبہ واپس کرتا ہے : اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب (42 : 13) ” اللہ جسے چاہتا ہے ، اپنا لیتا ہے اور جو اپنی طرف اسی کو راستہ دکھاتا ہے جو اس کی رجوع کرے “۔ تو اللہ نے محمد ﷺ کو چن لیا۔ اور جو بھی اب اللہ کے بتائے ہوئے راستے کی طرف متوجہ ہوگا اللہ اسے ہدایت دے دے گا۔ اب روئے سخن مذکور بالا بڑے انبیاء کے متبعین کے موقف کی طرف پھرتا ہے ، جن کو اللہ نے ایک ہی دین دے کر بھیجا تھا اور انہوں نے قوم کے سامنے ایک ہی دین پیش کیا تھا مگر متبعین نے اس میں تفرقہ اختیار کرلیا : وما تفرقوا الا من بعد ۔۔۔۔۔۔ شک منہ مریب (42 : 14) ” لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا ، وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا رب پہلے ہی نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقررہ تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ، وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “ ۔ ایک تو یہ کہ یہ اختلافات جہالت کی وجہ سے نہ تھے۔ یہ وجہ نہ تھی کہ ان کو اس اصل حقیقت کا پتہ نہ تھا اور یہ پتہ نہ تھا کہ رسولوں کی تعلیم کا ماخذ کیا ہے بلکہ انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے شک کیا۔ آپس کی دشمنی کی وجہ سے تفرقہ کیا۔ بغض اور حسد کی وجہ سے یہ اختلافات ہوئے۔ ظالمانہ خواہشات نے مجبور کیا کہ وہ تفرقہ کریں۔ اور ناقاب کنٹرول خواہشات نفس نے ان کو مجبور کیا۔ یہ تفرقہ اس لیے نہیں ہوا کہ ان کے پاس درست عقائد کے لئے کوئی دلیل نہ تھی یا جو نظام زندگی انہیں دیا گیا تھا ، اس میں سے ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا ۔ اگر وہ اپنے حقیقی عقیدے اور شریعت پر مخلصانہ طور پر قائم رہتے تو تفرقہ نہ کرتے۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق تھے کہ اللہ ان کو پکڑ لیتا اور ان پر جلدی اللہ کا عذاب آجاتا ، ان کی سرکشی اور ان کے ظلم کی وجہ سے جو انہوں نے یہ تفریق کر کے دین حق کے ساتھ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے تدبیر کائنات کے سلسلے میں پہلے سے ایک فیصلہ کردیا تھا اور ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دے دی گئی تھی۔ ولو لا کلمۃ سبقت ۔۔۔۔۔ لقضی بینھم (42 : 14) ” اگر تیرا رب پہلے یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “۔ اور اس طرح ان اختلافات میں حق ، حق ہوچکا ہوتا اور باطل باطل ہوچکا ہوتا اور معاملہ اس دنیا ہی کی زندگی میں ہی ختم ہوچکا ہوتا لیکن ان کو وقت معلوم تک مہلت دے دی گئی ہے۔ وہ نسلیں جو ان ابنائے سابقین کے پہلے متبعین کی وارث بنیں جنہوں نے تفرقہ کیا تھا۔ اور یہ کتاب ان کو ملی تو ان کو یہ کتاب اور یہ نظریہ یقینی انداز میں نہ ملا۔ کیونکہ اختلافات کا ریکارڈ ان کے سامنے تھا اور اس سے کوئی جزی اور قطعی بات سامنے نہ آتی تھی۔ تمام فرقہ وارانہ اختلافات عمل ، غیر واضح اور پریشان کن تھے۔ وان الذین اور ثوا ۔۔۔۔۔ منہ مریب (42 : 14) ” اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے تھے “۔ یوں ہوتا ہے عقیدہ تو اس مضبوط چٹان کی طرح ہوتا ہے جس کے اردگرد سے زمین حرکت میں ہوتی ہے لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے۔ اور ایک مومن اس راسخ چٹان پر مضبوطی سے جم جاتا ہے اور اسے کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا اور عقیدہ وہ ستارہ ہوتا ہے جو اپنی جگہ جما ہوا ہوتا ہے اور لہروں اور طوفانوں کے باوجود مومن کی نظر بلند افق پر اپنے ستارے پر ہوتی ہے جو سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس طرح ایک مومن راستہ نہیں بھولتا اگرچہ تاریک سمندروں میں ہو۔ لیکن جب عقیدہ اور نظریہ ہی مشکوک ہوجائے تو پھر کسی کی کوئی بات مستقل نہیں ہو سکتی۔ نہ کسی بےعقیدہ شخص کی کوئی بات مستقل ہو سکتی ہے۔ نہ ایسا شخص کسی بھی سمت پر مستقل رہ سکتا ہے۔ نہ کسی راستے پر مطمئن ہو سکتا ہے۔ عقیدہ اور نظریہ ہوتا ہی اس لیے ہے کہ لوگوں کا نصب العین اور ان کی سمت متعین کرے اور پھر وہ دوسرے لوگوں کی اس راہ پر چلتے ہوئے قیادت کریں۔ اگر وہ خود اضطراب اور شک میں پڑے ہوں تو وہ کسی کی قیادت نہیں کرسکتے۔ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار۔۔۔۔ جب اس دنیا میں دین اسلام آیا تو امم سابقہ کے متبعین کی یہی حالت تھی۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی اپنی ” کتاب عالم اسلام میں مشرقیت و مغربیت کی کشمکش “ میں لکھتے ہیں : ” حقیقت یہ ہے کہ دوسرے بڑے ادیان کے لیڈر کھیلنے والوں اور کھلاڑیوں کے ہاتھ میں شکار ہیں اور ان پر تحریف کرنے والوں اور منافقوں کا اثر ہے۔ یہ ادیان اپنی روح اور شکل گنوا بیٹھے ہیں۔ اگر ان ادیان کے پہلے ماننے والوں کو اللہ اب زندہ کر دے تو وہ خود اپنے نام سے منسوب ان ادیان کو نہ پہچان سکیں۔ چناچہ کبھی تو ادیان تہذیب و تمدن اور حکومت و سیاست عطا کرنے والے تھے۔ اب وہاں سے بدنظمی ، خلل اور اختلافات اور طوائف الملوکی ہوتی ہے ، حکام بد عمل ہیں ، اپنی ذات میں گم ہیں۔ ان کے پاس اقوام اور دنیا کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے۔ مقاصد عالیہ کے اعتبار سے وہ مفلس ہیں۔ ان کی زندگی کے سوتے خشک ہوچکے ہیں ، ہدایات سماوی کی روشنی میں ان کے پاس کوئی راہ نہیں ہے ، نہ کوئی مستقل اور محکم نظام زندگی ہے۔ مشہور امریکی مصنف جارج ایچ۔ ڈینسن اپنی کتاب جذبات بحیثیت اساس تمدن (Emotion as the basis of civilization ) میں لکھتے ہیں : ” پانچویں صدی اور چھٹی صدی عیسوی میں اہل دین کی دنیا تباہی کے ایک گہرے گڑھے کے دہانے پر تھی۔ کیونکہ جو نظریات تمدن کو جنم دینے میں ممدو معاون تھے ، وہ ختم ہوچکے تھے اور اس وقت کے موجودہ ادیان کی جگہ لینے کے لئے کوئی نظریہ موجود نہ تھا۔ اور یہ واضح طور پر نظر آنے لگا تھا کہ جس انسانی تہذیب کی تعمیر و ترقی پر چار ہزار سال گزرے تھے وہ ختم اور برباد ہونے والی ہے اور انسانیت دوبارہ جہالت ، قبائلی نظام کے چنگل میں پھنسنے والی ہے ، جس میں کوئی قانون و نظام نہیں ہوتا کیونکہ مسیحیت نے جو اجتماعی نظم و نسق قائم کیا تھا ، اس کی عمارت گرنے ہی والی تھی۔ اس لیے کہ عیسائیت فرقے فرقے ہوگئی تھی۔ اس کے اندر کوئی اتحاد اور نظم نہ تھا۔ اس دور میں تمدن کی مثال اس طرح تھی کہ وہ ایک عظیم درخت کی طرح تھی جس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں اور اس کا سایہ تمام دنیا پر چھا یا ہوا تھا ، یہ درخت سخت طوفانوں کی رد میں نہایت کمزوری کی حالت میں کھڑا تھا اور ہلاکت اس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی ، کہ اس اثناء میں ایک شخص (حضرت محمد ﷺ پیدا ہوگیا “۔ یہ صورت حال اس لیے تھی کہ ادیان سماوی کے حاملین نے باہم سخت اختلافات شروع کر دئیے تھے ، بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ اور ادیان کے اصحاب اولین کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنے تھے ان کو ان کتابوں کی صداقت کے بارے ہی میں شک تھا۔ ان وجوہات سے اور پوری دنیا میں انسانیت کی قیادت کے لئے کسی مرکز کے ناپید ہوجانے کی وجہ سے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ سیدھے راستے پر چل پڑیں لوگوں کو دعوت دیں اور آپ کی واضح اور بین نظریات اور آپ کی مستحکم دعوت کے بارے میں لوگ جو چاہیں ، کہیں۔ آپ کسی کی طرف متوجہ نہ ہوں اور یہ اعلان کردیں کہ یہ دعوت اور یہ نظام وہی ہے جسے اللہ نے تمام انبیاء کو دیا تھا اور اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ فلذلک فادع واستقم کما امرت ۔۔۔۔۔۔۔۔ والیہ المصیر (42 : 15) ” (چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے) اس لیے اے محمد ﷺ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو ، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاؤ، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، اور ان سے کہہ دو کہ :” اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے “۔ اب دعوت اسلامی گویا پوری انسانیت کے لئے نئی قیادت تھی۔ یہ ایک دانشمند ، صحیح الفکر قیادت تھی جس کا نظام زندگی واضح تھا ، جس کو یقین محکم حاصل تھا۔ یہ اللہ کی طرف بلاتی تھی اور اپنے مقصد کے لئے علی وجہ البصیرت کام کر رہی تھی اور بغیر کسی کج روی کے امر الٰہی پر گامزن تھی۔ اور وہ اپنے فیصلوں میں بدلتے ہوئے مقاصد اور بدلتی ہوئی خواہشات کے پیچھے نہ جاتی تھی۔ ایسی قیادت جس کا پیغام ایک تھا ، جس کی کتاب ایک تھی ، نظام شریع ایک تھا ، جس کا ایمان ماخذ ایمان کی طرف راجع تھا۔ اور جس نے تمام انسانیت کو ایک اہم اصول کی طرف لوٹا دیا تھا۔ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب (52 : 15) ” اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں “۔ اس کے بعد یہ دعوت یہ تحریک دعوت حق کو لے کر دنیا میں سربلند ہوتی ہے اور اقتدار اعلیٰ حاصل کرتا ہے تا کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل کرے۔ وامرت لاعدل بینکم (42 : 15) ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں “ ۔ یہ ایسی قیادت ہے جس کے پاس اقتدار بھی ہے اور یہ زمین میں عدل گستری کا اعلان کرتی ہے۔ (یہ بات حضور ﷺ اس وقت کر رہے ہیں جب دعوت اسلامی مکہ میں ہے اور داعی اور تحریک شعب ابی طالب میں محصور ہیں ، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن وہاں بھی دعوت اسلامی کا مزاج ، چھا جانے والا مزاج بالکل واضح ہے ) (مترجم) ۔ یہ دعوت اعلان کرتی ہے کہ رب واحد ہے۔ اللہ ربنا وربکم (52 : 15) ” اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی “۔ اور یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور جواب وہی انفرادی ہے۔ لنا اعمالنا ولکم اعمالکم (52 : 15) ” ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے ، تمہارے لیے ہیں “ ۔ اس لیے اب فضول بحث و مباحثہ ختم ہونا چاہئے۔ لا حجۃ بیننا وبینکم (52 : 15) ” ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں “۔ اللہ یجمع بینناوالیہ المصیر (42 : 15) ” اللہ ہم سب کو ایک روز جمع کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے “۔ یہ ایک آیت ہے لیکن یہ دعوت اسلامی کے مزاج کی وضاحت پوری طرح کردیتی ہے۔ اس آیت کے فقرے بھی چھوٹے چھوٹے ، لیکن وہ نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کرتے ہیں۔ یہ ایک دعوت ہے جس نے اپنی راہ پر گامزن رہنا ہے اور انسانوں کی خواہشات کا کوئی لحاظ نہیں رکھنا۔ اس نے اس کرۂ ارض پر اقتدار اعلیٰ پر خالص ہونا ہے تا کہ وہ عدل کرسکے۔ اس نے تمام انسانوں کو ایک سیدھی راہ دکھانی ہے جو صراط مستقیم ہے اور یہی راہ تمام رسولوں کی راہ رہی ہے۔ چناچہ دعوت اسلامی کی اس رنگ میں وضاحت کرنے کے بعد اور اہل ایمان کے ایک گروہ کی جانب سے اس دعوت پر لبیک کہنے کے بعد ، الجھنے والوں اور بےفائدہ مباحثے کرنے والوں کی باتوں کی طرف التفات کرنے کا کوئی موقعہ نہیں رہا ہے۔ ان کی تمام دلیلیں باطل ہوچکی ہیں ، ان کا کوئی وزن نہیں ہے ، نہ اہمیت ہے۔ لہٰذا ان کے بارے میں اب فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور ان کو اللہ کی شدید دھمکی کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ والذین یحاجون فی اللہ ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (42 : 16) ” اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ اللہ کے معاملے میں جھگڑتے ہیں ، ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے “۔ جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ان کی حجت اللہ کے نزدیک ہی باطل ہے تو پھر ان کا جھگڑا باطل ہے اور ان کی دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔ زمین پر بھی ان کی دلیل مسترد ہے اور آخرت میں ان کو اللہ کے شدید غضب اور عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور یہ فضول جھگڑے اور حجت بازی ان کے لئے موزوں سزا ہے جبکہ وہ دیکھتے بھی ہیں کہ نہایت ہی مخلص اور دانشمند لوگوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے۔ لہٰذا ان کی یہ بحث اور منا ظرہ حق کی وضاحت کے بعد ہے اور کچھ دوسرے مقاصد کے لئے ہیں۔ اب سیاق کلام کا رخ پھر پہلے موضوع کی طرف
Ayahs 42:17–20

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے اور تمہیں کیا خبر ، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہے

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ تو اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقیناً وہ آنے والی ہے۔ خوب سن لو ، جو لوگ اس گھڑی کے آنے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی ہی بہت دور نکل گئے ہیں

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے جو کچھ چاہتا ہے ، دیتا ہے اور وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں ، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ، اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے

آیت نمبر 17 تا 19 اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔ اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے درمیان اس دنیا میں میزان لگا کر عدل کرنا ہے ، اور آخرت میں بھی میزان لگا کر عدل و انصاف ہوگا ۔ قیام قیامت چونکہ ایک غیب ہے اور اس کے قیام کی گھڑی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو۔ وما یدریک لعل الساعۃ قریب (42 : 17) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کی گھڑی قریب آلگی ہو “۔ اور لوگ اس سے غافل ہوں اور وہ ان کے قریب ہو۔ اور یہ آخری عدل و انصاف کا ترازو بھی نصیب ہوجائے جہاں کسی عمل کو مہمل نہ چھوڑا جائے گا اور نہ کوئی گم ہوگا۔ یہاں قیامت کے بارے میں مومنین اور منکرین دونوں کی سوچ کو بتایا جاتا ہے۔ یستعجل بھا الذین ۔۔۔۔ انھا الحق (42 : 18) ” جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ یقیناً آنے والی ہے “۔ ظاہر کہ جو اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے دلوں پر اس کا خوف ہی نہیں ہے اور ان کو اندازہ نہیں ہے کہ وہاں انہیں کیا پیش آنے والا ہے۔ اس لیے وہ بطور مزاح اس کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، یا اس کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اندھے ہیں اور ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ رہے وہ لوگ جو ایماندار ہیں تو انہیں قیامت پر بھی یقین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں اور نہایت خوف اور ڈر سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو کیا ہوگا ، وہ حق ہے۔ اس کا آنا حق ہے اور مومن اسے جانتا ہے کیونکہ مومن اور حق کے درمیان رابطہ ہے۔ الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (42 : 18) ” خوب سن لو ، جو لوگ اس گھڑی میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں ، وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ انہوں نے گمراہی میں غلو کرلیا ہے۔ اور اس راہ پر بہت دور نکل گئے ہیں ، اب ان کے لئے اس قدر دور نکلنے کے بعد واپسی ممکن نہیں ہے۔ اب آخرت ، اس کے انکار اور اس کے بارے میں لا پرواہی اور اس سے ڈرنے کے مضمون سے روئے سخن اس دنیا میں لوگوں کے رزق کی بحث کی طرف مڑتا ہے جو اللہ کسی کو کم ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ اللہ لطیف بعبادہ برزق من یشاء وھو القوی العزیز (42 : 19) ” اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ہے ، دیتا ہے اور وہ بڑی قوت ولا اور زبردست ہے “۔ بظاہر آخرت اور بندوں کے رزق کے مضامین کے درمیان کوئی خاص مناسبت اور ربط نظر نہیں آتا۔ لیکن بعد کی آیت پڑھنے کے بعد ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔ من کان یرید حرث ۔۔۔۔۔ الاخرۃ من نصیب (42 : 20) ” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا “۔ بس اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ، دیتا ۔ ہے صالح کو بھی دیتا ہے ، برے کو بھی دیتا ہے ، مومن کو بھی دیتا ہے ، کافر کو بھی دیتا ہے ، کیونکہ انسان خود اپنے رزق کا بندو بست نہیں سکتے ، جب اللہ نے ان کو زندگی دی ہے تو زندگی کے بنیادی اسباب بھی دئیے ہیں ، اگر اللہ کافر ، فاسق اور بدکار کو رزق نہ دیتا تو وہ اپنے رزق کا بندوبست تو خود نہ کرسکتے اور بھوک اور پیاس سے مرجاتے ۔ جب وہ زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھ کر مہلت دینے کا جو قانون مقرر فرمایا تھا ، وہ پورا نہ ہوتا۔ اور یہ نہ ہو سکتا تھا کہ لوگ دنیا میں آزادانہ عمل کریں اور ان کے اعمال کا حساب آخرت میں ہو۔ اس لیے اللہ نے رزق کا معاملہ نیکی اور برائی کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ایمان وکفر کے ساتھ رزق کا تعلق نہیں ہے اور رزق کے معاملے کو انسانوں کی اجتماعی زندگی کے حالات پر رکھ دیا ، پھر ان اجتماعی حالات میں بندوں کے طرز عمل پر رکھ دیا اور مال کو بھی لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش بنا دیا جس پر جزاء و سزا کا دارو مدار ٹھہرا۔ پھر آخرت اور دنیا کے لئے علیحدہ علیحدہ کھیت قرار دیا۔ ہر آدمی کو اختیار دے دیا کہ وہ دنیا کے کھیت میں محنت کرتا ہے یا آخرت کے کھیت میں۔ جو شخص آخرت کے لئے کھیتی باڑی کرتا ہے اسے آخرت کی فصل ملے گی اور اللہ بطور انعام اس کے کھیت میں اضافہ کر دے گا اور اس کی نیت کی وجہ سے اس کام میں اس کے لئے اسباب فراہم کر دے گا۔ اس میں برکت دے گا۔ اس آخرت کی کھیتی میں اس کے لئے ضروریات دنیا کا بھی انتظام ہوگا۔ دنیا کے لئے بھی رزق اسے ملے گا ۔ اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ بلکہ یہی دنیا کا رزق ہی فلاح آخرت قرار پائے گا۔ جب وہ اس دنیا کے رزق کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس میں ، اللہ کے حکم کے مطابق تصرف۔ انفاق فی سبیل اللہ کرے گا۔ اور جو شخص صرف دنیا کا کھیت چاہے تو اللہ اسے دنیا کا سازوسامان دے گا اور جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہو وہ اسے ملے گا۔ لیکن آخرت میں اس کا حصہ نہ ہوگا اس لیے کہ اس نے آخرت کی کھیت میں کام ہی نہیں کیا کہ وہاں اس کے لئے کوئی چیز منتظر ہو۔ اب ذرا طلبگار ان کشت زار دنیا اور طلب گار ان کشت زار آخرت پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ صرف دنیا کے کھیت میں کام کرنے والے بہت ہی احمق ہیں۔ جہاں تک دنیا کے رزق کا تعلق ہے تو اللہ دونوں فریقوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے جس قدر اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ ہاں آخرت کے کھیت میں کام کرنے والے کے لئے آخرت کا حصہ صرف اس کا ہوتا ہے۔ صرف دنیا کے کھیت کا انتخاب کرنے والوں میں فقراء بھی ہوتے ہیں اور امراء بھی۔ یعنی جس کے پاس جس قدر دولت ہے ، اس معاشرے کے عام حالات کے مطابق جس میں وہ رہتا ہے ، اور اس کی ذاتی صلاحیت اور محنت کے مطابق۔ یہی حال ہے آخرت کے کھیت میں کام کرنے والوں کا کہ ان میں امراء بھی ہوں گے اور فقراء بھی۔ کیونکہ رزق کے معاملے میں مومن اور کافر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اختلاف تو یہاں ہوگا کہ کون کس کھیت کا انتخاب کرتا ہے ، فقط دنیا کا ، یا آخرت کا۔ احمق وہ ہے جو آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے جس میں دنیا کا رزق بھی ہے اور آخرت کا بھی۔ اور جب وہ آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے تو دنیا میں بھی اسے اسی قدر ملتا ہے جو مقدر ہے۔ غرض معاملہ اس سچائی کے مطابق اپنے انجام کو پہنچے گا جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے۔ حق اور انصاف یہ ہے کہ تمام زندہ چیزوں کو رزق دیا جائے اور آخرت کا حصہ صرف ان لوگوں کے لئے ہو جنہوں نے آخرت کے لئے کام کیا اور جو آخرت کے لئے کام نہ کریں وہ آخرت میں محروم ہوں۔ ٭٭٭٭ اب پھر ایک سفر پہلے موضوع پر یعنی توحید و رسالت پر
Ayahs 42:21–23

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا ہے جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا ؟ اگر فیصلے کی بات طے ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقیناً ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے۔ اور وہ ان پر آکر رہے گا۔ بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہے گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑ افضل ہے

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے۔ اے نبی ﷺ ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ ” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ، البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں “۔ جو کوئی بھلائی کمائے گا ، ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا اور درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے

آیت نمبر 20 تا 23 پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد ﷺ کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔ ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (42 : 21) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور قانون کے متضاد کوئی قانون بنانا چاہے وہ کوئی شخص بھی ہو۔ قانون سازی کا اختیار صرف اللہ وحدہ کو ہے کیونکہ اللہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے اس پوری کائنات کے لئے ایک نظام تجویز کر رکھا ہے اور انسان بھی اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے انسان کی زندگی کو ضابطے میں لانے کے لئے ایسا ہی قانون چاہئے جو قانون فطرت ہو۔ اللہ کے قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور یہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب قانون وہ ذات بنائے جو نظام فطرت کی موجد ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص انسانوں کی قانون سازی پر ، وہ اعتماد نہیں کرسکتا جو اللہ کے قانون پر کرتا ہے۔ اگرچہ یہ وہ حقیقت ہے جو ہدایت کی حد تک واضح ہے لیکن پھر بھی زیادہ لوگ اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں یا ان کو اس پر یقین نہیں آتا۔ اور پھر بھی وہ جرات کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور اصول کے مطابق قانون سازی کریں۔ ان کا زعم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے بھلائی کر رہے ہیں ، پھر وہ اپنے حالات کو ان قوانین کے مطابق ڈھالتے ہیں جو انہیں نے خود بنائے ہیں۔ گویا وہ اللہ سے زیادہ جانتے ہیں ، زیادہ بہتر فیصلے کرنے والے ہیں ، یا اللہ کے سوا ان کے کوئی اور الٰہ ہیں جو ان کے لئے ایسے قانون بناتے ہیں جس کا اللہ نے اذن نہ دیا ہو۔ اس قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک گھاٹا اٹھانے والے ہیں اور اللہ کی ذات کے خلاف جرات کرتے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کے لئے ایسا قانون بنایا ہے جو انسان کی فطرت اور اس کائنات کے ناموس فطرت اور انسان کے مزاج کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے مطابق انسانوں کا باہم تعاون اپنے اعلیٰ درجات تک پہنچ جاتا ہے اور اس کائنات کی دوسری قوتوں کے ساتھ بھی انسان کو تعاون حاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے انسان کی پوری زندگی کے بارے میں قانون بنا دیا ہے۔ صرف جزئیات کا دائرہ چھوڑ دیا گیا جن کے بارے میں انسان نئے حالات کے مطابق خود قانون سازی کرسکتا ہے۔ لیکن یہ قانون سازی بھی اللہ کے جاری کردہ اصولی قوانین کے دائرے کے اندر کرسکتا ہے۔ اور اگر کسی معاملے میں انسانوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق طے کرنا ہوگا۔ کیونکہ اصول اسلامی شریعت میں طے کر دئیے گئے ہیں اور یہ اصول وہ ترازو ہیں جن کے تمام انسانوں نے اپنی آراء کو تولنا ہے۔ یوں قانون سازی کا ماخذ طے ہوجاتا ہے اور حکم اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے جو احکم الحاکمین ہے۔ اس کے سوا کوئی اگر اصول و دستور طے کرے گا وہ اسلامی شریعت سے بغاوت کرے گا۔ اللہ کے دین سے بغاوت کرے گا۔ اور اس وصیت اور تاکید کے خلاف چلے گا جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی۔ اور اب حضرت محمد ﷺ کے لئے وہی شریعت نافذ کردی گئی۔ ولو لا کلمۃ الفصل لقضی بینھم (42 : 21) ” اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “ ۔ اللہ نے فیصلہ کی بات یوں کردی ہے کہ لوگوں کو فیصلے کے دن تک مہلت دی جائے گی۔ اگر یہ بات طے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں ان کا فیصلہ کردیتا۔ اور اللہ کی شریعت کے مخالفین کو یہاں ہی پکڑ لیا جاتا۔ ان کا قضیہ جلدی ہی چکا دیا جاتا۔ لیکن اللہ نے مہلت دے دی ہے۔ وان الظلمین لھم عذاب الیم (42 : 21) ” اور ان ظالموں کے لئے یقیناً دردناک عذاب ہے “۔ یہ عذاب ان کے طلم کی وجہ سے ان کا منظر ہے اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو شخص اللہ کی شریعت کی مخالفت کرے۔ اور اللہ کے سوا دوسروں کی شریعت کی حمایت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالموں کو اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ وہاں ڈرے ہوئے ہیں ، سہمے ہوئے ہیں۔ عذاب جہنم ان کے سامنے ہے۔ اس سے قبل تو وہ اس سے نہ ڈرتے تھے اور نہ خوف کھاتے تھے بلکہ مذاق اڑاتے تھے۔ تری الظلمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم (42 : 22) ” تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا “۔ قرآن کا انداز تعبیر بڑا عجیب ہے کہ یہ لوگ وہاں ” اپنی کمائی “ سے ڈر رہے ہوں گے۔ ان کی کمائی گویا ایک بلا ہوگی جس سے وہ ڈر رہے ہوں گے اور یہ بلا انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کمائی اور دنیا سے وہ اپنے اس کارنامے ( غیر اسلامی قانون سازی ) پر بہت خوش تھے لیکن آج وہ اس سے خوفزدہ ہیں لیکن وھو واقع بھم (42 : 22) ” اور وہ ان پر واقع ہونے والا ہے “۔ اور اس منظر کی دوسری جھلک مومنین کے بارے میں ہے ، جو اس دن سے ڈرتے تھے لیکن آج وہ امن و عافیت سے ہیں اور بہت ہی خوشحال ہیں : والذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ الفضل الکبیر (42 : 22) ذلک الذی یبشر ۔۔۔۔۔ وعملوا الصلحت (42 : 23) ” بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑا فضل ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے “۔ قرآن کی تعبیر بھی نہایت ہی خوش کن ، نرم اور دھیمے انداز کی ہے۔ روضات الجنت جنتوں کے گلستان ، کئی جنتیں اور کئی گلستان۔ ” جو کچھ وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے “۔ بلا حدود وقیود۔ ” یہی بڑا فضل ہے “۔ ” یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے “۔ یہ حاضر خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے ” ۔ یہ حاضر خوشخبری ہے اور یہ سابقہ خوشخبری کے لئے مصداق ہے۔ خوشخبری کی فضا سب سے زیادہ فرحت بخش ہوتی ہے۔ جب کسی کو نعمت حاصل ہو تو خوشخبری دینے سے اس کا احساس اور تیز ہوجاتا ہے۔ نعمتوں کے اس نرم و نازک اور لطف و کرم کے اس بھرپور منظر کے دکھانے پر نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ جو ہدایت میں پیش کر رہا ہوں اور جس سے تمہیں یہ نعمتیں ملیں گی اور جہنم سے دور ہوجاؤ گے یہ میں اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ تم میرے رشتہ دار ہو اور مجھے تم سے محبت ہے میرے لیے یہی اجر کافی ہے۔ قل لا اسئلکم ۔۔۔۔۔۔ غفور شکور (42 : 23) ” اے نبی ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اس کام پر تم لوگوں سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ البتہ قرابت محبت کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ تم جہنم سے بچ جاؤ۔ جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا درگزر کرے والا اور قدر دان ہے “۔ جس مفہوم کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا بلکہ قرابت داری کی محبت مجھے اس کام پر مجبور کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری قریش کی ہر شاخ سے تھی اور آپ یہ کوشش فرماتے تھے کہ آپ کے رشتہ دار ہدایت پر آجائیں۔ آپ اس قرابت داری کی وجہ سے چاہتے تھے کہ یہ بھلائی ان کو مل جائے اور یہی وافر اجر ہے آپ کے لئے۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ انداز تعبیر آیا ہے اسے پڑھنے کے بعد میرے خیال میں یہی معنی واضح ہے۔ حضرت ابن عباس سے ایک تفسیر بھی مروی ہے ۔ یہاں میں اسے اس لیے نقل کرتا ہوں کہ وہ صحیح بخاری میں وارد ہے۔ بخاری نے روایت کی ہے۔ محمد ابن بشار سے انہوں نے محمد ابن جعفر سے انہوں نے شعبہ ابن عبد المالک ابن میسرہ سے انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے کہ انہوں نے آیت المودۃ فی القربی (42 : 23) کے بارے میں پوچھا تو سعید ابن جبیر نے کہا ” آل محمد کے رشتہ دار مراد ہیں “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا تم نے جلدی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قریش کی کوئی شاخ نہ تھی کہ نبی ﷺ کی اس میں رشتہ داری نہ ہو “۔ اس کے بعد انہوں نے کہا معنی یہ ہے ” الا یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اس کا تعلق رکھو “۔ اس حدیث کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ تم میری قرابت داری کا لحاظ رکھتے ہوئے ، مجھے اذیت دینے سے باز آجاؤ۔ اور میں جو کچھ کہتا ہوں سنو اور نرم رویہ اختیار کرو۔ یہی کافی اجر ہوگا۔ بس یہی اجر میں تم سے چاہتا ہوں ، اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی تاویل ، سعید ابن جبیر کی تاویل سے زیادہ قریب الفہم ہے۔ لیکن میں نے جو مفہوم اوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ قریب اور زیادہ خوبصورت ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو مذکورہ باغات اور خوشخبری کے مناظر کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ پیغمبر اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور یہ بات تو بہت ہی بعید ہے کہ جن کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اس پر ان سے اجر طلب کریں ، لیکن یہ تو اللہ کے فضل و کرم ہیں کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ تجارتی حساب و کتاب نہیں کرتا ، نہ منصفانہ حساب کرتا ہے ۔ اللہ کا حساب مہربانی اور فضل والا ہے۔ ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے “۔ اللہ معاف بھی کرتا ہے ، پھر خود شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ کس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اپنے بندوں کا کہ وہ راہ راست پر آئے ، حالانکہ راہ راست پر آنے کی توفیق بھی اسی نے دی۔ پھر مزید یہ کہ ان کی صفات میں اضافہ کرتا ہے ، برائی کو صاف کرتا ہے اور اس کے بعد قدر دانی بھی کرتا ہے ، کیا ہی مہربانیاں ہیں ! انسان کے لئے تو ایسا سلوک کرنا ممکن نہیں ۔ صرف اللہ کا شکر ادا کیا جاسکتا ہے اور توفیق قلب کی جاسکتی ہے۔ اب روئے سخن پھر وحی الٰہی کی طرف !
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹابہتان گھڑ لیا ہے ؟ اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر کر دے۔ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے ، وہ سینوں کے چھپے ہوئے راز جانتا ہے

آیت نمبر 24 اب یہاں مشرکین کے آخری اعتراض کو لیا جاتا ہے۔ وحی کے بارے میں ان کا جو رویہ تھا اس پر یہ ان کی آخری دلیل تھی ، اس سے قبل وحی کے مصدر اور سرچشمہ ، وحی کے مزاج و ماہیت اور وحی کے اغراض و مقاصد کے مفصل بیان کے بعد اب یہ ان کا آخری سوال ہے۔ ام یقولون افتری علی اللہ کذباً (42 : 34) ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے “۔ اور اصل وجہ یہ ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق نہیں کرتے ۔ کیونکہ ان کا زعم یہ ہے کہ یہ وحی نہیں ہے ، اللہ کی طرف سے کوئی بات نہیں آرہی۔ یہ سوال اس لیے پردرد ہے کہ اللہ کس طرح ایسے شخص کو اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اللہ کی مملکت میں اللہ کے نام پر یہ فریب کرتا پھرے۔ اور یہ کہے کہ اس پر وحی آرہی ہے حالانکہ اس پر وحی نہ آرہی ہو۔ اللہ تو اس بات پر قادر ہے کہ ایسے کسی شخص کے دل پر مہر لگادے اور وہ سرے سے کوئی بات ہی نہ کرسکے اور کسی اور ذریعہ سے اس باطل کا پول کھول دے۔ اور اس طرح اسے مٹا دے اور اصل بات کو واضح کر کے رکھ دے۔ فان یشا اللہ یختم ۔۔۔۔ الحق بکلمتہ (42 : 24) ” اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر کر دے۔ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے “۔ اللہ پر تو کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے جو حضرت محمد ﷺ کے دل میں آتی ہے۔ اگر اللہ کی جانب سے یہ باتیں نہ ہوتیں تو اللہ مٹا دیتا۔ انہ علیم بذات الصدور (42 : 24) ” بیشک وہ سینوں کے چھپے ہوئے راز جانتا ہے “۔ لہٰذا یہ ایک ایسا شبہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو اللہ کے علم کے خلاف ہے۔ اللہ کی قدرت کو یہ چیلنچ ہے اور یہ اللہ کی سنت جاریہ کے خلاف ہے کیونکہ اللہ زمین میں حق کو ٹھہراتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ لہٰذا یہ وحی برحق ہے۔ حضرت محمد صادق و امین ہیں اور جو اعتراضات و الزامات لگائے جاتے ہیں وہ غلط اور باطل ہیں۔ یوں وحی پر یہاں وقتی طور پر بات ختم ہوتی ہے۔ اور ایک دوسرا سبق شروع ہوتا ہے
Ayahs 42:25–27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے در گزر فرماتا ہے ، حالانکہ تم لوگوں کے سب افعال کا اسے علم ہے۔

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے۔ رہے انکار کرنے والے ، تو ان کے لئے سخت سزا ہے

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے ، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے ، نازل کرتا ہے۔ یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ان پر نگاہ رکھتا ہے “

درس نمبر 230 ایک نظر میں سورت کا یہ دوسرا حصہ انفس ، و آفاق میں موجود دلائل ایمان کے بیان پر مشتمل ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت کے آثار کس طرح قدم قدم پر موجود ہیں۔ اور لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ان آثار کا تعلق ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے ساتھ ہے۔ اور پھر اس میں اہل ایمان کی صفات بیان کی گئیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کیا کیا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں جبکہ پہلے حصے میں موضوع سخن زیادہ تر وحی و رسالت تھا۔ اس سبق کے آخر میں وحی الٰہی کی شکلیں بیان کی گئی ہیں۔ اس سورت کے دونوں حصوں میں ربط ظاہر ہے اللہ کے دلائل ایمان کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ وحی و رسالت کے ساتھ منسلک ہوجائیں درس نمبر 230 تشریح آیات 25 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 53 آیت نمبر 25 تا 27 یہ بیان اس منظر کے بعد آتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قیامت کے دن ظالم ڈرے ہوئے ہوں گے ، یہ خوف انہیں اپنے کرتوتوں کی بلائے ناگہانی سے ہوگا جو یقیناً آنے ہی والی تھی اور پھر اس منظر کے بعد کہ اہل ایمان جنات کے گلستانوں میں ہوں گے اور یہ کہ نبی ﷺ کے پیغام میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا ، آپ جو پہنچا رہے ہیں ، اللہ کی طرف سے پہنچاتے ہیں اور یہ کہ اللہ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے “۔ ان حالات میں کہا جاتا ہے کہ مایوس نہ ہوجاؤ، تم جس گمراہی میں پڑے ہو ، کسی بھی وقت تم اس سے باہر نکل کر ۔۔۔ سکتے ہو۔ قبل اس کے کہ آخری فیصلہ ہوجائے ۔ تو بہ کا دروازہ کھلا ہے ، اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے اور سیئات کو وہ معاف کرتا ہے۔ لہٰذا ناامیدی اور معصیت ہی میں آگے بڑھنے پر تم مجبور نہیں ہو۔ سابقہ گناہوں کے بارے میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ جانتا ہے وہ سچی توبہ کو بھی جانتا ہے۔ سابقہ گناہوں کو بھی جانتا ہے اور معاف کرتا ہے۔ اس خوبصورت طرز بیان کے درمیان بھی مومنوں اور کافروں کا انجام ذکر کیا جاتا ہے ، جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں وہ اپنے رب کی دعوت قبول کرتے ہیں اور رب پھر ان پر مزید فضل فرماتے ہیں۔ والکفرون لھم عذاب شدید (42 : 26) ” اور انکار کرنے والوں کے لئے شدید سزا ہے “۔ جبکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور ہر شخص اس عذاب شدید سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔ اور جو توبہ کرے گا اسے مزید فضل الٰہی بطور انعام ملے گا۔ آخرت میں اللہ کا فضل بلا حساب ہوگا اس پر کوئی حد اور قید نہیں ہے۔ رہا اس جہاں میں بندوں کے لئے رزق کا انتظام تو اس پر اللہ نے حدود وقیود رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو جانتا ہے کہ ان کا ظرف کتنا ہے۔ لا محدود فضل الٰہی کے وہ متحمل نہیں ہیں۔ ولو بسط اللہ ۔۔۔۔۔ بعبادہ خبیر بصیر (42 : 27) ” اگر اللہ اپنے بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے ، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے ، نازل کرتا ہے۔ یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ان پر نگاہ رکھتا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا رزق چاہے وہ جتنا بھی ہو ، آخرت کے فیض اور آخرت کے ارزاق کے مقابلے میں کفاف ہی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ اللہ ان پیراں پارسا کو خوب جانتا ہے کہ ان کو ایک حد تک ہی مالدار ہونا چاہئے۔ اور اگر ان کے لئے رزق اسی طرح وسیع کردیا جاتا جس طرح آخرت میں ہے تو یہ زمین پہ طوفان بدتمیزی مچا دیتے ۔ ان کا ظرف کم ہے۔ یہ اپنے حدود میں نہیں رہ سکتے۔ یہ ایک حد تک ہی مالداری برداشت کرسکتے ہیں۔ اور اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ لہٰذا اس جہاں میں ان کے لئے رزق کو محدود کردیا ہے۔ ایک مقدار کے مطابق ، جو ان کے لئے برداشت کرنے کے قابل ہو اور جو اس زمین کی آزمائشوں میں کامیاب ہوں گے اور امتحان پاس کرلیں اور سلامتی کے ساتھ دار بقاء تک پہنچ جائیں گے ان کو اللہ کا فیض اور فضل کبیر وہاں بلا حدودو قیود ملے گا
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

” وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے ، اور وہی قابل تعریف ولی ہے

آیت نمبر 28 یہ ایک دوسرا انداز ہے جو ان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس دنیا میں بندوں پر اللہ کے فضل وکرم کے کئی رنگ ہیں۔ بعض اوقات سخت خشک سالی ہوجاتی ہے ، بارشیں بند ہوجاتی ہیں اور وہ زندگی کی پہلی ضرورت کی فراہمی سے بھی عاجز آجاتے ہیں ، زندگی کی پہلی ضرورت پانی ہے۔ حال یہاں تک آپہنچتی ہے کہ یہ مایوس ہونے لگتے ہیں ، اس کے بعد اللہ بارشیں برسا دیتا ہے۔ ان کی حاجت پوری ہوتی ہے۔ اللہ کی رحمت پھیل جاتی ہے ، زمین زندہ اور سر سبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ بیج پھوٹنے لگتے ہیں ، نباتات اٹھنے لگتے ہیں۔ فضا لطیف ہوجاتی ہے۔ اور ہر طرف زندگی حرکت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چہرے کھل جاتے ہیں ، دل کھل جاتے ہیں ، امیدیں بڑھ جاتی ہیں اور امنگیں پوری ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ مایوسی اور امیدو رحمت کے درمیان پس چند لمحے ہوتے ہیں۔ چند لمحوں میں اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ آسمانوں کے دروازے پانی کھول دیتے ہیں۔ وھو الولی الحمید (42 : 28) ” اور وہی قابل تعریف ولی ہے “۔ وہ مددگار ، کفیل ہے اور اپنی ذات وصفات میں محمود ہے۔ یہاں قرآن مجید نے بارش کے لئے غیث کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس میں امداد اور داد رسی کا مفہوم شامل ہے۔ اس وقت امداد دینا جب لوگوں پر تنگی اور مصیبت ہو ، غیث ہے۔ اسی طرح اس مدد کے نتائج کو رحمت کا نام دیا۔ وینشر رحمتہ (42 : 28) ” اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے ، اس سے ترو تازگی ، سرسبزی ، امید اور خوشی کے معانی نکلتے ہیں۔ جو نباتا کے پھوٹنے سے ، اور پھلوں کے نکلنے سے ظاہری طور پر رحمت کے پھیلاؤ کی شکل میں نظر آتے ہیں جب بھی طویل خشک سالی کے بعد باران رحمت کا نزول ہوتا ہے تو لوگوں کی خوشی ، جسم اور اعصاب کی ترو تازگی اور قلب و شعور کا سرور قابل دید ہوتا ہے۔ ایسی خشک سالی کے بعد جب زمین نباتات سے سبز سبز ہوجاتی ہے تو انسانی دلوں سے تمام پریشانیاں دور ہوجاتی ہے۔ زمین مرونی کے بعد زندہ ہوجاتی ہے۔