55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 55:41–45

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ Open ayah 55:41 in the Quran reader

مجرم لوگ اپنی نشانی کے ذریعہ پہچانے جائیں گے۔ سو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:42 in the Quran reader

تواے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ Open ayah 55:43 in the Quran reader

یہ جہنم ہے جسے مجرمین جھٹلاتے ہیں

یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ Open ayah 55:44 in the Quran reader

دوزخ کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر لگائیں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:45 in the Quran reader

تواے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

28:۔ ھناد وعبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) '' یعرف المجرمون بسیمھم '' کے بارے میں روایت کیا کہ مجرموں کو ان کو چہروں کی سیاہی سے اور ان کی آنکھوں کے نیلا ہونے سے پہچان لیا جائے گا۔ 29:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) '' یعرف المجرمون بسیمھم '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو چہروں کی سیاہی سے اور ان کی آنکھوں کے نیلا ہونے سے پہچان لیا جائے گا۔ 30:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' فیؤخذ بالنواصی والاقدام '' کے بارے میں روایت کیا کہ زبانیہ (یعنی جہنم کے داروغے) ان کو پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں سے پکڑیں گے پھر ان کو جمع کرکے ان کو توڑ کر جہنم میں ڈالا جائے گا جیسے تنور میں لکڑی کو توڑکر ڈالا جائے گا۔ 31:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیؤخذ بالنواصی والاقدام '' (سو ان کے سر کے بال اور پاؤں پکڑ لئے جائیں گے) یعنی ایک فرشتہ ان کے سر کے بالوں کو پکڑ کر اس کے قدموں کے ساتھ ملادے گا پھر اس کی کمر کو توڑے گا پھر اس کو آگ میں پھینک دے گا۔ 32:۔ ھناد نے الزھد میں ضحاک (رح) اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ فرشتہ پیٹھ کے پیچھے سے اس کی پیشانی اور پاؤں کو ایک زنجیر میں اکٹھا کردے گا۔ 33:۔ عبدالرزاق (رح) نے المصنف میں قبیلہ کندہ میں سے ایک آدمی سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ عرض کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ جب آپ کسی کے لئے شفاعت کے مالک نہ ہوں گے فرمایا ہاں میں نے آپ سے سوال کیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا ہاں جب پل صراط بچھائی جائے گی اور اس وقت کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے کالے ہوں گے اور پل صراط کو تلوار کی دھار کی طرح تیز کی جائے گی اور اس کو گرم کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ انگارے کی طرح ہوجائے گی لیکن مؤمن اس کو پار کرلے گا اور اس کو کوئی تکلیف نہ ہوگی لیکن منافق جب اس پر چلے گا یہاں تک کہ جب وہ درمیان میں ہوگا اس کے پاؤں میں کانٹا چبھے گا تو وہ جاگرے گا اپنے ہاتھوں سے پاؤں تک کیا تو ایسے آدمی کو دیکھا ہے جو ننگے پاؤں دوڑتا ہے پھر اسے کانٹا لگتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پاؤں کے پاس نکلنے کے قریب ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے بازوؤں کی طرف جھکے گا (دوزخ کا داروغہ اس کو مارے گا۔ پکڑتے ہوئے اس کے پیشانی کے بالوں سے اور اس کو جہنم میں پھینک دے گا اور وہ اس میں پچاس سال تک گرتا رہے گا میں نے عرض کیا کہ اس پر بوجھ ڈالا جائے گا فرمایا اس پر پچاس اونٹنیوں کا بوجھ ڈالا جائے گا اس دن (آیت ) '' یعرف المجرمون بسیمھم فیؤخذ بالنواصی والاقدام '' (مجرم لوگ پہچانے جائیں گے، اپنے حلیے سے اور پکڑے جائیں گے پیشانی کے بالوں اور قدموں سے) جہنم کے داروغہ کی قوت میں اضافہ : 34:۔ ابن مردویہ (رح) والضیاء المقدسی نے صفتہ النار میں انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ یقینی طور پر جہنم کے داروغوں کو پیدا کیا گیا جہنم کے پیدا کرنے سے ایک ہزار سال پہلے اور ہر دن انکی قوت اور طاقت میں اضافہ کیا جارہا ہے یہاں تک کہ ان کو پکڑیں گے جن کو انہوں نے پیشانی کے بالوں اور قدموں کے ساتھ پکڑنا ہے۔ 35:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' وبین حمیم آن '' کے بارے میں روایت کیا کہ یعنی جس کی گرمی انتہاء درجہ کی ہوگی۔ 36:۔ الطستی والطبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ' حمیم ان '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا الآنی سے مرد ہے کہ وہ گرم پانی جس کا پکنا اور گرمی انتہائی درجہ کی ہوگی۔ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نابغہ بنی ذبیان کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : ویخضب لحیۃ غدرت وخانت بأحمی من نجیع الجوف انی : ترجمہ : وہ داڑھی کو خضاب لگاتا ہے اس نے دھوکہ دیا ہے اور خیانت کی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ پیٹ کی خوشگوار خوارک میں سے انتہائی گرم خوراک میں سے پرہیز کرتا ہے۔ 37:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وبین حمیم ان '' سے مراد ہے کہ اس وقت سے اسے پکایا جارہا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا۔ 38:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا (آیت ) '' وبین حمیم ان '' سے مراد ہے کہ اس کا گرم ہونا اور اس کا پکنا انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔ 39:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وبین حمیم ان '' سے مراد ہے انتہائی سخت گرم آگ۔ 40:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وبین حمیم ان '' سے مراد ایسا تانبا ہے جس کی گرمی اور تپش انتہاء تک پہنچی ہوتی ہے۔
Ayahs 55:46–47

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:46 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو باغ ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:47 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' (جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے) ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں وعطاء (رح) سے روایت کیا کہ ایک دن ابوبکر صدیق ؓ سے قیامت اور اعمال کے تولنے اور جنت اور دوزخ اور فرشتوں کے صفیں باندھنے اور آسمانوں کے لیپٹنے اور سورج کی روشنی لپیٹی جانے اور ستاروں کے بکھر جانے کے بارے میں غور وفکر کیا تو فرمایا میں اس بات دوست رکھتا ہوں (یعنی پسند کرتا ہوں) کہ میں ایک سبزہ ہو تو اس سبزے میں ایک جانور مجھ پر آتا اور مجھے کھالیتا اور میں پیدا نہ کیا جاتا تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن ''۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' میں اللہ تعالیٰ کا ایمان والوں سے وعدہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں اور اس کے فرائض کو ادا کرتے ہیں تو ان کے لئے جنت ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص ذرا پھر تقوی اختیار کیا اور (اللہ تعالیٰ سے) ڈرنے والا وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور اس کی نافرمانی کو چھوڑتا ہے۔ 5:۔ سعید بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وھناد وابن ابی الدنیا نے التوبۃ میں وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ آدمی مراد ہے جو کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے پھر اسے اس کے سامنے (یعنی اللہ کے سامنے) کھڑا ہونا یاد آتا ہے تو وہ اس گناہ سے دور ہٹ جاتا ہے۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی الدنیا والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے پھر وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئئے گناہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' سے مرادوہ ایمان والے ہیں جو اس کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر گئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے عمل کئے اور رات دن انہوں نے اس کے لئے کوشش کی اور تکلیف ومشقت اٹھائی۔ 10:۔ ابن جریر (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' سے مراد ہے کہ جب کسی شخص نے گناہ کا ارادہ کیا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے رک گیا۔ دنیا میں اللہ سے ڈرنے والوں کی فضیلت : 11:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' سے مراد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈر گیا۔ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عطیہ بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس نے کہا تھا کہ مجھ کو جلادو تاکہ میں اللہ تعالیٰ سے غائب ہوجاؤں یہ بات کہنے کے بعد اس نے رات دن ہم کو کہا پس اللہ تعالیٰ نے اس سے اس بات کو قبول کرلیا اور اس کو جنت میں داخل فرمایا۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) احمد بن منیع والحکیم فی نوادر الاصول والنسائی والبزار وابو یعلی وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم وابن المنذر والطبرانی اور ابن مردویہ (رح) نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' کو پڑھا تو میں نے عرض کیا اگرچہ وہ زنا کرے یا چوری کرے یارسول اللہ (تو پھر بھی وہ جنت میں جائے گا) پھر آپ نے دوسری مرتبہ یہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' پڑھی تو میں نے عرض کیا کہ اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے، تو پھر آپ نے تیسری مرتبہ یہ (آیت) تلاوت فرمائی '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' تو میں نے عرض کیا اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے آپ نے فرمای ہاں اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو۔ 14:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' تو ابودرداء نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ وہ زنا کیا اور چوری کی اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہوگئی ابودرداء ؓ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں اور اس طرح کہتے ہیں (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہوگئی۔ 15:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے حریری (رح) کے واسطے سے اور اور اس نے اپنے بھائی سے روایت کیا کہ میں نے محمد بن سعد ؓ کو سنا کہ وہ یہ آیت (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' پڑھ رہے تھے '' وان زنی وان سرق '' میں نے کہا '' وان زنی وان سرق '' تو اس آیت میں نہیں ہے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی پڑھتے ہوئے سنا پس میں مرتے دم تک پڑھتا رہوں گا۔ 16:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں تو وہ جنت میں داخل ہوگیا پھر آپ نے یہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' پڑھی۔ 17:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ میں ہشام بن عبد المالک کے پاس تھا تو اس نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' تو ابوہریرہ ؓ نے عرض کیا اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی ابن شہاب کہتے ہیں میں نے کہا بیشک یہ فرائض کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے جب فرائض نازل ہوئے تو یہ (حکم) ختم ہوگیا۔ 18:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے یسامولی لآل معاویۃ سے روایت کیا اور انہوں نے ابودرداء ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان سے کہا گیا اے ابودرداء اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی تو فرمایا جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے تو وہ زنا کرے گا۔ اور نہ چوری کرے گا۔ 19:۔ الطیالسی وابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) والبخاری ومسلم (رح) والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے البعث میں ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فردوس کی چار جنتیں ہیں دو جنتیں سونے کی ہیں اور ان کے زیور ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے (سب سونے کے ہیں) اور دو جنتیں چاندی کی ہیں، ان کے زیور ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے (سب چاندی کے ہیں) جنت عدن میں قوم اور ان کے رب کریم کے دیدار کے درمیان ان کے چہرے قدرت پر صرف کبرائی کی چادر ہوگی۔ سونے کی جنتیں : 20:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' اور (آیت ) '' ومن دونھما جنتن '' کے بارے میں فرمایا کے سونے کی دو جنتیں ہیں مقربین کے لئے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اصحاب یمین کے لئے۔ 21:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے البعث میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' کے بارے میں روایت کیا کہ سونے کی دو جنتیں ہیں سابقین کے لئے اور چاندی کی دو جنتیں ہیں تابعین کے لئے۔ 22:۔ ابن مردویہ (رح) نے عباس بن تمیم ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' پڑھتے ہوئے سنا (پھر) آپ نے فرمایا دو باغ ہیں ان میں سے ہر ایک کا عرض سو سال کی مسافت کے برابر ہیں ان دونوں میں درخت ہیں اور اس کی شاخیں اور درخت (انتہائی خوبصورت ہیں مضبوط ہیں اور ان کے بڑے مہربان ہیں اور ان کی بڑی نعمتیں ہیں اور ان کی خیر دائمی ہے اور ان کی لذتیں قائم رہنے والی ہیں اور ان کی نہریں جاری ہیں اور ان کی ہوا پاکیزہ ہے اور ان کی برکتیں کثیر ہیں اور ان کی زندگی لمبی ہے اور ان کے میوہ بکثرت ہیں۔ 23:۔ البیہقی نے شعب الایمان میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کے زمانہ میں ایک نوجوان تھا جو مسجد اور عبادت میں لگا رہتا تھا ایک لڑکی اس سے عشق کرنے لگی خلوت میں وہ اس کے پاس آئی اور اس سے گفتگو کی پھر اس کے نفس نے اس کے بارے میں خوب ملامت کی۔ تو سسکیاں بھرتے ہوئے رونے لگا اور بیہوش ہوگیا اس کا چچا اسے اپنے گھر لے آیا جب اس کو افاقہ ہوا تو اس نے کہا اے میرے چچا حضرت عمر ؓ کے پاس جاؤ اور اس کو میرا سلام کہو اور اس سے کہو اس شخص کی کیا جزا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرجاتے ہیں ؟ اس کا چچا گیا اور عمر کو خبردی اس نوجوان نے دوبارہ سس کی لی اور اس سے مرگیا حضرت عمر اس پر آکر کھڑے ہوئے اور فرمایا تیرے لئے دو جنتیں ہیں تیرے لئے دو جنتیں ہیں۔
Ayahs 55:48–51

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ Open ayah 55:48 in the Quran reader

یہ دونوں باغ بہت سی شاخوں والے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:49 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ Open ayah 55:50 in the Quran reader

دونوں باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:51 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

24:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے کہ دونوں باغ مختلف رنگوں والے ہوں گے۔ 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 26:۔ ھناد نے ضحاک (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 27:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے دونوں باغوں میں مختلف رنگ کے میوے ہوں گے۔ 28:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے کثیر شاخوں والے مراد ہیں۔ 29:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے کہ ان کی ٹہنیاں (کثیر ہونے کی وجہ سے) بعض بعض کو چھوئیں گی۔ 30:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذواتا افنان '' میں '' الفتن '' سے مراد ہے ٹہنی۔ 31:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابو ابکر حیان فی الفنون وابن الانباری الوقف والابتداء میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' ذواتا افنان '' کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا اس سے مراد ہے دیوار پر ٹہنیوں کا سایہ کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔ ماھاج شوقک من ھدیر حمامۃ تدعوعلی فتن الغضون حماما ترجمہ : تیرے شوق نے جوش نہیں مارا کبوتری کی چہچہاہٹ سے جو ٹہنیوں کے سائے میں کبوتر کو بلاتے ہیں۔ تدعوباشرحین صادف طاوبا ذامخلبین من الصقور قطاما : ترجمہ : وہ پلان کے دونوں کونوں کے درمیان سے پلاتی ہے اچانک شاہینوں میں سے شکرے نے اس حال میں ملاقات کی کہ وہ پنجوں کی لپیٹے ہوئے تھا۔ 32:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے کہ دونوں باغ اس کے فضل وکرم والے ہیں جو ان کے اوپر ہے۔
Ayahs 55:52–53

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ Open ayah 55:52 in the Quran reader

ان دونوں باغوں میں ہر میوہ کی دو دو قسمیں ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:53 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

33:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھما من کل فاکھۃ زوجن '' (ان دونوں باغوں میں ہر میوے کی دو دو قسمیں ہوں گی، یعنی ان دو باغوں میں ہر قسم کا پھل ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ دنیا میں جو پھل میٹھا یا کڑوا نہیں ہے مگر وہ جنت میں موجود ہوگا یہاں تک کہ اندرائن بھی ہوگا۔ 34:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ پھلوں کے خوشے (لمبائی میں) صنعاء سے زیادہ دور ہیں۔
Ayahs 55:54–55

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ١ؕ وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ Open ayah 55:54 in the Quran reader

ان جنتوں میں رہنے والے لوگ ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جس کے استر دیبز ریشم کے ہوں گے اور دونوں جنتوں کے پھل قریب ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:55 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

35:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) فی الزوائد وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' متکئین علی فرش بطآئنھا من استبرق '' (وہ لوگ تکیہ لگائے ہوئے ایسے گدوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے یعنی تم کو اندر کے کپڑوں کی خبر دی گئی اور ظاہری کپڑے کیسے ہوں گے۔ 36:۔ عبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت ) '' متکئین علی فرش بطآئنھا من استبرق '' (اور) استبرق فارسی زبان میں گاڑھے ریشم کو کہتے ہیں۔ 37:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ (آیت ) '' بطآئنھا من استبرق '' (کہ ان کا اندرکاکپڑا موٹے ریشم کا ہوگا) تو ان کے (اوپر والا) ظاہری کپڑا کیسے ہوگا۔ تو فرمایا کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' فلاتعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین '' (السجدہ آیت 17) (کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے عمل کے بدلے میں انکی آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے) 38:۔ ابونعیم (رح) نے الحلیہ میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) '' بطآئنھا من استبرق '' (کہ ان کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے) (اور) ان کا ظاہر خالص نور سے ہوگا۔ 39:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور البیہقی (رح) نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ( آیت ) '' وجنا الجنتین دان '' (اور ان دونوں باغوں کا پھل بہت نزدیک ہوا) (آیت ) '' وجنا '' سے مراد ہے اس کا پھل اور '' دان '' سے مراد ہے کہ اس کا پھل تجھ سے قریب ہوگا کہ کھڑا اور بیٹھنے والا سب اس کو پالیں گے۔ 40:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ( آیت ) '' وجنا الجنتین دان '' سے مراد ہے کہ اس کے پھل قریب ہوں گے کہ ان کے ہاتھوں کو پھل کا دور ہونا یا کوئی کانٹا واپس نہیں لوٹائے گا اور فرمایا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کوئی جنتی جنت میں سے اس کے پھل کو توڑے گا تو ساتھ ہی اس کے منہ میں آجائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اس سے بہتر ( اور پھل) پیدا فرمادے گا۔
Ayahs 55:56–57

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ١ۙ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ Open ayah 55:56 in the Quran reader

ان باغوں میں ایسی عورتیں ہوں گی جو نیچی نگاہ رکھنے والی ہوں گی ان کو ان لوگوں سے پہلے کسی انسان یا کسی جن نے استعمال نہ کیا ہوگا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:57 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

حوریں غیر مردوں کو نہیں دیکھیں گی : 1:۔ ابن جریر (رح) وان المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن قصرت الطرف '' (اور جنتوں کے اندر نیچی نگاہ والیاں ہوں گی) سے مراد ہے کہ وہ نگاہ کو نیچی جھکائے ہوئے ہوں گی اپنے شوہروں پر وہ ان کی علاوہ کسی کو نہیں دیکھیں گی اللہ کی قسم نہ وہ اجنبی لوگوں پر اپنی زیب وزینت کو ظاہر کریں گی اور نہ اہی وہ انکے چہروں کی طرف دیکھیں گی۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن قصرت الطرف '' سے مراد ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچے کئے ہوں گی (غیر مردوں سے) اور صرف اپنے خاوندوں کو ہی دیکھیں گی۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ کے اس قول (آیت ) '' قصرت الطرف '' کے بارے میں فرمایا کہ وہ صرف اپنے خاوندوں کو کی طرف دیکھیں گی۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لم یطمثھن '' سے مراد ہے کہ ان کو کسی نے نہیں چھوا ہوگا۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر لے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لم یطمثھن '' سے مراد ہے کہ ان سے کسی نے جماع نہیں کیا ہوگا۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لم یطمثھن '' سے مراد ہے کہ ان سے کسی نے جماع نہیں کیا ہوگا۔ 8:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ کسی عورت کے لئے '' طمشت '' نہ کہو کیونکہ '' طمشت '' جماع کو کہتے ہیں۔ 9:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' لم یطمثھن '' کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ تو فرمایا کہ جنت کی عورتیں اس طرح ہوں گی کہ ان کے خاندوں کے سوا کوئی بھی ان کے قریب نہیں جائے گا۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ مشین الی لم یطمثن قبلی وھن اصبخ من بیض النعام : ترجمہ : وہ میری چل کر آئیں اس حال میں کے انہوں نے مجھ سے پہلے کسی کو نہیں چھوا اور وہ شترمرغ کے انڈے سے بھی زیادہ سفید اور روشن ہیں۔ 10:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابوالشیخ نے العظمہ میں ارطاۃ بن منذر (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے ضمرہ بن حبیب (رح) کے پاس یہ ذکر کیا کہ جن جنت میں داخل ہوں گے فرمایا ہاں اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے یعنی (آیت ) '' لم یطمثھن انس قبلہم ولا جآن '' کہ جنات کے لئے جنتی عورتیں ہوں گی اور انسانوں کے لئے انسانی عورتیں ہوں گی۔ 11:۔ سعید بن منصور (رح) وابن المنذر (رح) نے شعبی (رح) سے (آیت ) '' لم یطمثھن انس قبلہم ولا جآن '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ دنیا والوں کی عورتوں میں سے ہوں گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ اس طرح پیدا فرمائیں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' انا انشانھن انشآء (35) فجعلنھن ابکارا (36) (بےشک ہم نے انہیں ایک عجیب انداز سے پیدا کی پس ہم نے انہیں کنواریاں بنادیا) جن وانس میں سے کسی نے ان کو چھوا تک نہیں جب سے وہ دوسری بار پیدا کی گئیں (آیت ) '' انس قبلہم ولا جآن '' (ان سے پہلے نہ کسی انسان نے اور نہ کسی جن نے) 12:۔ الحکیم الترمذی فی نوادرالاصول وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے اللہ کا نام نہ لے تو ایک جن اس کے عضوتناسل سے لپٹ کر اس کے ساتھ جماع کرتا ہے اسی کو فرمایا (آیت ) '' لم یطمثھن انس قبلہم ولا جآن ''۔ 13:۔ ابن مرودیہ (رح) نے عیاض بن تمیم ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ (آیت ) '' لم یطمثھن انس قبلہم ولا جآن '' پڑھتے ہوئے سنا اور فرمایا کہ نہ پہنچے گی ان کو دھوپ اور نہ دھواں نہ ان کو آزمائشوں میں مبتلا کیا جائے گا۔ کوئی گھٹیا اور ذلت آمیز بات نہیں کریں گے غم ان (کے حال) کو متغیر نہیں کریں گے نہ وہ مایوس ہوں گے اور نہ ہی ناامید ہوں گے۔ وہ ہمیشہ رہنے والیاں ان کو موت نہیں آئے گا اور مقیم رہنے والیاں جو کوچ نہیں کریں گی ان کے لئے اتنی بھلائیاں اور منافق ہیں کہ ادہام ان کا وصف بیان کرنے عاجز ہیں اور جنت کا سبزہ مانند زردی کے بارے اور ان کے زردہ مانند سبزہ کے ہے، نہیں ہے اس میں کوئی پتھر نہ کوئی مٹی کا ڈھیلہ اور نہ کیس اور نہ جنت کے لکڑی اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ (ہمیشہ) قائم رہنے والا ہے۔
Ayahs 55:58–59

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:58 in the Quran reader

گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:59 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

14:۔ احمد وابن حبان والحاکم وصححہ والبیہقی (رح) نے البعث والنشور میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' (گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں) کے بارے میں فرمایا کہ وہ اس کے چہرے کی طرف اس کے حسن میں دیکھے گا جو شیشے سے زیادہ صاف شفاف ہوگا اور اس پر ایک ادنی مشرق اور مغرب کے درمیان کو روشن کردے گا اور اس پر ستر جوڑے (کپڑوں کے) ہوں گے اس کی نگاہ اس کے پاس نکل جائے گی یہاں تک کہ اس کی پنڈلیوں کا گودہ بھی دیکھ لے گا اس کے پیچھے۔ 15:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ یاقوت کی صفائی اور موتی کی سفیدی اور چمک میں گویا یاقوت اور مرجان ہے۔ 16:۔ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے حسن ؓ سے (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ یاقوت کی صفائی اور مرجان کی سفیدی اور چمک میں گویا یاقوت اور مرجان ہے۔ 17:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وھناد وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' سے مراد ہے کہ ان کے رنگ صفائی اور چمک میں یاقوت اور موتیوں کی طرح ہیں۔ 18:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبداللہ بن حارث (رح) سے روایت کیا (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' سے مراد ہے کہ وہ اس طرح ہیں گویا وہ دھاگے میں پروئے ہوئے موتی ہیں۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کی پنڈلیوں کا گودا کپڑوں کے اندر اس طرح دکھائی دیتا ہے جیسے یاقوت میں دھاگا دکھائی دیتا ہے۔ 20:۔ ابی ابن شیبہ (رح) وھناد بن السری والترمذی وابن ابی الدنیا فی صفتہ الجنۃ وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن حبان وابو الشیخ (رح) نے العظمہ میں اور ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت کی عورتوں میں سے (ہر) عورت سے (ایسی ہوگی) کہ اس کی پنڈلی کی سفیدی البتہ اس کے ستر جوڑوں کے پیچھے سے دکھائی دے گی یہاں تک کہ اس کے گودے کو بھی دیکھا جائے گا۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' پس یاقوت ایک ایسا پتھر ہے اگر تو اس میں دھاگے کو داخل کرے پھر اسے خوب صاف رکھے دھاگے اس کے اندر سے دیکھ لے گا۔ 21:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وھناد بن السری وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے (آیت) کانھن الیاقوت والمرجان '' کے بارے میں روایت کیا کہ انمیں سے ہر ایک پر ریشم کے ستر جوڑے ہوں گے لیکن کپڑوں کے پیچھے اس کی پنڈلی کا گودہ دیکھا جائے گا۔ پھر فرمایا کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اگر تم میں سے کوئی دھاگہ لے کر یاقوت میں داخل کرے کیا وہ دھاگہ یاقوت کے اندر سے دکھائی نہیں دیتا اصحاب نے کہا کیوں نہیں پھر فرمایا پس وہ بھی اس طرح ہیں اور آپ جب بھی کوئی حدیث بیان کرتے تو اس کی تائید کے لئے کتاب اللہ کی اہمیت بھی بتاتے۔ جنتی بیویوں پر ستر جوڑے ہوں گے : 22:۔ عبد بن حمید (رح) نے عبداللہ بن حارث قیسی (رح) سے روایت کیا کہ اہل جنت میں سے ایک آدمی کی بیوی پر سرخ ستر جوڑے ہوں گے اس کی پنڈلی کے گودے کو ان (کپڑوں) کے پیچھے سے دیکھ لیا جائے گا۔ 23:۔ عبد بن حمید (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ حورعین میں سے ایک حور ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوگی اور تمہارے اس شق سے بھی زیادہ باریک ہوں گے جن کو تم شف کا نام دیتے ہو اور اس کی پنڈلی کا گودہ اس کے گوشت کے اندر سے دکھائی دے گا (کاشف سے مراد ہے کہ کسی چیز کا اتنا باریک ہونا کہ اس سے دوسری جانب چیز دکھائی دے) 24:۔ عبد بن حمید (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ مقربین کی بیویوں میں سے ہر عورت کو سوجوڑے موٹے ریشم کے پہنائے جائیں گے جو نور سے چمکائے ہوئے ہوں گے اور اس کی پنڈلی کا گودہ ان سب کے پیچھے سے دکھائی دے گا اور اصحاب یمین کی بیویوں میں سے ہر عورت کو ستر جوڑے موٹے ریشم کے پہنائے جائیں گے جو نور سے چمکائے ہوئے ہوں گے اور وہ گودہ ان سب کے پیچھے سے دکھائی دے گا۔ 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت کی عورتوں کی پنڈلیوں کا گودہ گوشت کے اندر دے دیکھا جائے گا۔ 26:۔ عبد بن حمید (رح) والطبرانی والبیہقی (رح) نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ حورعین میں سے (ہر) ایک عورت کی پنڈلی کا گودہ گوشت اور ہڈیوں کے پیچھے اور ستر جوڑوں کے نیچے سے نظر آئے گا جیسے کہ سرخ شراب سفید شیشی میں نظر آتی ہے۔ 27:۔ ھناد وابن جریر (رح) نے عمرو بن میمون (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
Ayahs 55:60–61

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ Open ayah 55:60 in the Quran reader

کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ بھی ہے ؟

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:61 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' 28:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) فی نوادرالاصول والبغوی فی تفسیر والدیلمی فی مسند الفردوس وابن النجار نے اپنی تاریخ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' (نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے) کے بارے میں فرمایا (کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں) جس کو میں نے توحید کی نعمت عطا کی کہ اس کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں۔ 29:۔ ابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' کے بارے میں فرمایا نہیں بدلہ ہے جس کو ہم نے اسلام کی نعمت عطا کی مگر یہ کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں گا۔ 30:۔ الحکیم الترمذی فی نوادرالاصول والبغوی فی تفسیر الدیلمی فی مسند الفردوس وابن النجار نے اپنی تاریخ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں جس کو میں نے توحید کی نعمت عطا کی اس کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں۔ توحید کا بدلہ جنت ہے : 31:۔ ابن النجار نے اپنی تاریخ میں علی بن ابی طالب ؓ سے اللہ تعالیٰ کا اس قول (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا جس کو میں نے توحید کی نعمت عطا کی اس کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں۔ 32:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا) نہیں بدلہ ہے جس پر میں نے انعام فرمایا ان لوگوں میں سے جس نے '' لا الہ الا اللہ '' کہا دنیا میں مگر یہ کہ (اس کے لئے) جنت ہے آخرت میں۔ 33:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' سے مراد ہے کہ جس نے ' لا الہ الا اللہ '' کہا گیا اس کی جزاء جنت کے علاوہ کوئی ہوسکتی ہے۔ 34:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 35:۔ ابن عدی وابوالشیخ وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) فی شعب الایمان (وضعفہ) والدیلمی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت سورة الرحمن میں نازل کی کہ جو کافر اور مسلمان دونون کے لئے فیصلہ کن ہے یعنی یہ (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' 36:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' مسلمان اور کافر دونوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ 37:۔ شعب بن منصور (رح) عبد بن حمید (رح) والبخاری فی الادب وابن جریر (رح) وابن المنذر والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں محمد بن الحنفیہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' نیک اور بد دونوں کو شامل ہے بیہقی نے کہا کہ یہ روایت مرسل ہے۔ 38:۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک سرخ ستون ہے اس کا اوپر والاسرا عرش کے پایوں میں سے ایک پائے پر مڑا ہوا ہے اور اس کا نچلا حصہ ساتویں زمین کے نیچے ایک مچھلی کی پیٹھ پر ہے جب کوئی بندہ کہتا ہے ' لا الہ الا اللہ '' تو وہ مچھلی حرکت کرتی ہے اور عرش کے نیچے وہ ستون بھی حرکت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ عرش سے فرماتے ہیں ٹھہر جا وہ کہتا ہے آپ کی عزت کی قسم ! میں نہیں ٹھہروں گا، یہاں تک کہ آپ اس کلمہ کہنے والے کے سابقہ گناہ معاف فرمادیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتے ہیں۔ 39:۔ ابن جریرل نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' ھل جزآء الاحسان الا الاحسان '' کے بارے میں روایت کیا کہ جنہوں نے اچھے اور نیک عمل کئے پس وہ اچھا بدلہ دیئے جائیں گے۔
Ayahs 55:62–63

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ Open ayah 55:62 in the Quran reader

اور ان دو باغوں سے کم درجے کے اور دو باغ ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ Open ayah 55:63 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ومن دونھما جنتن '' (الآیات ) 40:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن دونھما جنتن '' (اور ان دو باغوں سے کم مرتبہ دو باغ اور ہیں) یعنی دونوں ان کے سوا ہیں جن میں نہریں جاری ہیں
Ayahs 55:64–65

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ Open ayah 55:64 in the Quran reader

یہ دونوں باغ گہرے سبز رنگ کے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:65 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

41:۔ ھناد وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' (گہرے سبز) یعنی وہ دونوں (باغ) سرسبز و شاداب ہیں۔ 42:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے کہ وہ دونوں باغ اس سرسبزی کی وجہ سے سیاہ ہونے والے ہیں جو پانی کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دوسرسبز تروتازہ باغ : 43:۔ الفریابی ابن ابی شیبہ وھناد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے کہ دونوں باغ سرسبز ہیں تروتازگی کی وجہ سے۔ 44:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ابوایوب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' مدھآمتن '' کے بارے م میں پوچھا تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ وہ دونوں سرسبز ہیں۔ 45:۔ ھناد وعبد بن حمید (رح) نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے کہ وہ دونوں باغ سرسبز ہیں۔ 46:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وھناد وعبد بن حمید (رح) نے عطا بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے کہ وہ دونوں باغ سرسبز ہیں۔ 47:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے سرسبز ہے۔ 48:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے سرسبز ہے۔ 49:۔ الخطیب نے المتفق والمفترق میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے سرسبز ہے۔ 50:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے کہ وہ دونوں انتہائی خوش منظر سرسبز و شاداب ہیں جب سرسبزی شدت اختیار کرے تو وہ مائل ہوجاتی ہے سیاہی کی طرف۔ 51:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے کہ دونوں باغ سخت سبزے کی وجہ سے سیاہ ہیں۔ 52:۔ عبد بن حمید (رح) مجاہد (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے کہ دونوں باغ سیاہ ہیں انتہائی سبزے کی وجہ سے۔ 53:۔ ھناد نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے وہ دونوں (باغ) سیاہ ہیں انتہائی سبزے کی وجہ سے۔ 54:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے جابر بن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) '' مدھآمتن '' پڑھا پھر رکوع کیا۔
Ayahs 55:66–67

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ Open ayah 55:66 in the Quran reader

ان دونوں باغوں میں خوب جوش مارتے ہوئے دو چشمے ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:67 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

55:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ یہ دونوں چشمے جاری ہونے والے ہیں اور بہترین ان اچھلتے ہوئے چشموں سے اور عبدبن حمید کے الفاظ ہیں کہ وہ دونوں اچھلتے ہوئے ان دونوں لینے والے چشمے سے افضل نہیں ہیں۔ 56:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' نضاختن '' سے مراد ہے فائضان یعنی ان میں سے دو چشمے بہہ رہے ہیں۔ 57:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' نضاختن '' سے مراد ہے کہ پانی کے دو چشمے ابل رہے ہوں گے سرسبزی اور شادابی کی وجہ سے۔ 58:۔ ھناد ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' نضاختن '' سے مراد ہے کہ وہ دونوں پانی کے ساتھ ابل رہے ہوں گے۔ ابلتے ہوئے چشمے ہوں گے :ـ 59:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' عینن نضاختن '' (کہ دو اچھلتے ہوئے چشمے ہوں گے) سے مراد ہے کہ دونوں چشمے مشک اور غیر سے ابل رہے ہوں گے اور جنت کے گھروں پر اس طرح چھڑکاؤ کرتے ہیں جیسے دنیا والوں کے گھروں پر بارش سے چھڑکاؤ ہوتا ہے۔ 60:۔ ابن المبارک نے الزھد میں وابن ابی شیبہ (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر اور ابونعیم (رح) نے الحلیہ میں سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' نضاختن '' سے مراد ہے کہ دونوں (چشمے) ابل رہے ہوں گے۔ پھلوں کے مختلف رنگوں کے ساتھ۔ 61:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' نضاختن '' سے مراد ہے کہ دونوں چشمے ابل رہے ہوں گے خیر کے ساتھ ابن ابی شیبہ (رح) کے لفظ میں یوں ہے کہ ہر قسم کی خیر کے ساتھ ابل رہے ہوں گے۔
Ayahs 55:68–69

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ Open ayah 55:68 in the Quran reader

ان دونوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:69 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' فیھما فاکھۃ ونخل ورمان '' 62:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھما فاکھۃ ونخل ورمان '' (ان دونوں باغوں میں میوے اور کھجوریں اور انار ہوں گے) یعنی یہ پھل ہیں (آیت ) '' من کل فاکھۃ زوجن ' (ان دونوں باغوں میں ہر میوے کی دو دو قسمیں ہوں گی) 63:۔ عبد بن حمید (رح) والحارث بن ابی اسامہ ابن مردویہ (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کو کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا جنت میں والے اس طرح کھائیں گے جسے دنیا میں کھاتے ہیں ؟ فرمایا ہاں اس سے دوگنا پھر انہوں نے پوچھا کیا قضائے حاجت بھی کریں گے : فرمایا نہیں، لیکن ان کو پسینہ آئے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں سے یہ تکلیف دینے والی چیز کو دور کردیں گے۔ 64:۔ ابن المبارک وابن ابی شیبہ (رح) وھناد بن السری وابن ابی الدنیا فی صفۃ الجنۃ وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وابو الشیخ (رح) فی العظمہ والحاکم (رح) (وصححہ) والبیہقی نے الشعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت کی کھجور کے تنے سبز زرد رنگ کے ہوں گے اور کھجور کی کٹی ہوئی ٹہنیوں کے باقی ماندہ تنے سرخ سونے کے ہوں گے اور اس کی شاخیں جنت والوں کا لباس ہوں گی جنت والوں کے کپڑے اور جوڑے انہیں سے بنا ہوئے ہوں گے اور اس کا پھل مٹکوں کی طرح ہوگا جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم ہوگا اور اس میں گٹھلی نہیں ہوں گی۔ کھجور کے درخت جنت میں : 65:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وھناد بن السری (رح) والبیہیقی (رح) نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک چھوٹی سی لکڑی لی اور فرمایا اگر تو اس لکڑی کی طرح (کوئی لکڑی تلاش کرے گا مگر تو اس کو نہ دیکھے گا) (یعنی وہ تجھ کو نہ ملے گی) تو پھر پوچھا کھجور اور دوسرے درخت کہاں ہوں گے ؟ فرمایا اس کی جڑیں موتی اور سونے کی ہوں گی اور اس کے اوپر پھل ہوگا۔ 66:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے جنت کی کھجور کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس کی جڑ چاندی کی ہوگی اور اس کا تنا سونے کا ہوگا اور اس کی ٹہنیاں کپڑے کے جوڑے ہیں اور اس کا پھل تروتازہ ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ 67:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے جنت کی طرف دیکھا اچانک اس کے اناروں میں سے پلان سے کسے ہوئے اونٹ کی طرح تھا۔ 68:۔ ابی الدنیا نے صفۃ الجنۃ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل بارہ ذراع لمباہو گا اور اس میں گٹھلی نہیں ہوگی۔ 69:۔ الطبرانی والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ انار میں سے دو دانہ لے کر کھاتے تھے تو ان سے پوچھا گیا آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جنت کے دانہ کے ساتھ زمین میں انار کی پیوندکاری کی جاتی ہے شاید وہ بھی اسی طرح ہوگا۔ 70:۔ ابن السنی نے الطب النبوی میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے ان اناروں میں سے کوئی انار ایسا نہیں ہے مگر وہ جنت کے انار کے ایک دانہ کے ساتھ اس کی پیوند کاری کی جاتی ہے۔
Ayahs 55:70–71

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ Open ayah 55:70 in the Quran reader

ان باغوں میں اچھی عورتیں ہوں گی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ Open ayah 55:71 in the Quran reader

سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

1:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن خیرت حسان '' (ان میں سے نیک خوبصورت عورتیں ہوں گی یعنی عورتیں ہوں گی (اچھی سیرت اور اچھی صورت والی) 2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن خیرت حسان '' سے مراد ہے جنت کی کنواری عورتیں۔ 3:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن خیرت حسان '' سے مراد ہے نیک اخلاق والیاں اور خوبصورت چہرے والیاں۔ 4:۔ ابن المبارک نے الزھد میں اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فیھن خیرت حسان '' سے مراد ہے وہ خوبصورت عورتیں جو فحش گو نہیں ہوں گی نہ کسی کو دھوکہ دیں گی اور نہ وہ کسی کو تکلیف دیں گی۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن الدنیا فی صفۃ الجنۃ وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہر مسلمان کے لئے ایک نیک سیرت عورت ہوگی اور ان سب سے ہر ایک کے لئے ایک خیمہ ہوگا اور ہر خیمہ کے لئے چار دروازے ہوں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر دن ان پر ایک تحفے کرامت اور ایک ھدیہ عطا کیا جائے گا جو پہلے اس کے پاس نہیں ہوگا نہ اس کی آنکھیں خراب ہوں گی اور نہ وہ خاوند کی نافرمان ہوں گی نہ ان کے منہ سے بدبوآئے گی اور نہ کہیں اور جسم سے بدبوآئے گی۔ وہ موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی گویا کہ وہ انڈے ہیں چھپائے ہوئے۔ 6:۔ ابن مردویہ (رح) نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے مرفوعا روایت کیا۔ حورعین کی تسبیحات : 7:۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حورعین جنت میں یہ گانا گائیں گی '' نحن الخیرات الحسان جئنا الازواج کرام '' ( اور ہم اچھی سیرت والیاں اور اچھی صورت والیاں ہیں اور ہم معزز محترم خاوندوں کے لئے آئی ہیں) 8:۔ ابن جریر (رح) والطبرانی جو ابن مردویہ (رح) نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' حورعین '' کے بارے میں بتائیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا حور سے مراد ہے سفید اور عین سے مراد ہے موٹی آنکھ والی آنکھ کا کنار گدھ کے پر کی طرح ہوگا ابن مردویہ (رح) کے الفاظ ہے کہ پلکوں کے کنارے گدھ کے پر جیسے ہوں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' کا مثال الؤلؤالمکنون '' (الوقعہ آیت 23) کے بارے میں بتائیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کی صفات اس موتی اور چمک کی طرح ہوگی جو اس صدف اور سیپ میں ہوتا ہے جس کو ہاتھوں نے نہیں چھوا (پھر) میں نے عرض کیا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' کانھن بیض مکنون (49) (الصافات آیت 49) کے بارے میں بتائیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ان کی رقت اور ملامت اس جلد کی طرح ہے جو انڈے کے اندر ہوتی ہے اور اس کا اوپر چھلکا ہوتا ہے (پھر) میں نے عرض کیا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' کانھن الیاقوت والمرجان '' کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا ان کی صفائی اس موتی کی صفائی کی طرح ہوگی (جو سیپوں میں ہوتا ہے جس کو ہاتھوں نے نہیں چھوا) (پھر) میں نے عرض کیا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' فیھن خیرت حسان '' کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا اچھے اور عمدہ اخلا اور خوبصورت چہروں والیاں (پھر) میں نے عرض کیا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' عربا اترابا '' (الواقعہ 37) کے بارے میں بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ عورتیں ہیں جب ان کی روحیں دنیا کے گھر میں قبض کی گئی تو یہ بوڑھی ہوچکیں تھی آنکھوں سے کیچڑ بہہ رہا تھا میرے سرکے بال سیاہ تھے اللہ تعالیٰ ان کو اس بڑھاپا کے بعد (قیامت کے دن جب دوبارہ پیدا کرے گا تو ان کو کنواری اور محبوبہ بنادے گا (جو اپنے خاوندوں سے دل وجان سے عشق اور محبت کرنے والیاں (اور) ہم عمر ہوں گی فرمایا پیدائش کے ایک ہی وقت پر (گویا حور عین ؟ فرمایا دنیا کی عورتیں افضل ہوں گی حورعین سے جیسے ظاہری حصہ افضل ہے اندروالے حصہ سے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیوں ہوگا ؟ فرمایا دنیا میں ان کی نمازوں ان کے روزوں اور ان کی اللہ کے لئے عبادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو نور سے منور فرمائے گا اور ان کے جسموں پر ریشمی لباس پہنائے گا ان کی رنگتیں سفید ہوں گی اور سبز کپڑے ہوں گے اور زیورات کی صورت یہ ہوگی ان کی گندھی ہوئی چوٹیوں پر موتی ہوں گے اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور وہ کہیں گی خبردار ! سنو ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں ہم کبھی نہیں مریں گی خبردار ہم آسودہ حال ہیں ہم کبھی مفلس نہ ہوں گی خبردار ! ہم ہمیشہ مقیم رہنے والیاں ہیں ہم کبھی کوچ نہیں کریں گی خبردار ! ہم راضی رہنے والیاں ہم کبھی ناراض نہیں ہوں گی خوشخبری ہے اس کے لئے ہمارے لئے اور جس کے لئے ہم ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کہ عورت دنیا میں تین یا چار آدمیوں کے ساتھ باری باری شادی کرتی ہے پھر وہ مرجاتی ہے اور جنت میں داخل ہوجاتی ہے اور وہ لوگ بھی اس کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاتے ہیں (جن کے ساتھ اس نے شادی کی تھی ان میں سے اس کا خاوند کون ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اختیار دیا جائے گا وہ ان میں اچھے اخلاق والا تھا دنیا کے گھر میں میری اس کے ساتھ شادی کردیجئے اے سلمہ ؓ دنیا وآخرت کی بھلائی حسن اخلاق لے گیا ہو۔