Ayah 49:91:۔ احمد والبخاری ومسلم وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے چلیں چناچہ آپ گدھے پر سوار ہو کر چل پڑے اور مسلمانوں کی ایک جماعت بھی ساتھ تھی اور وہ دلدلی زمین تھی جب آپ ﷺ اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا مجھ سے دور رہو اللہ کی قسم مجھے تمہارے گدھے کی بو نے تکلیف دی ہے، انصار میں سے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے گدھے کی بو تجھ سے زیادہ اچھی عمدہ ہے۔ یہ سن کر اس کی قوم کے لوگ غصہ ہوگئے نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے ساتھ غضبناک ہوگئے اور ان کے درمیان چھڑی ہاتھوں اور جوتوں سے آپس میں مارکٹائی شروع ہوگئی تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “
2:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے دو آدمی آپس میں جھگڑے تو ایک دوسرے کی قوم کے لوگ بھی غضبناک ہوگئے آپس میں لڑنے لگے ہاتھوں اور جوتوں کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اوس اور خزرج کے درمیان تلواروں اور جوتوں سے لڑائی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” وان طآئفتن “ نازل فرمائی۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ دو قبیلوں کے درمیان جھگڑا ہوتا تھا تو ان کو حکم (یعنی ثالث) کی طرف بلایا جاتا تو وہ آنے سے انکار کردیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” وان طآئفتن “ (الآیہ )
دو لڑنے والوں میں صلح کروانا باعث اجر ہے :
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت انصار کے دو مردوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان کے درمیان جھگڑا تھا ایک حق کے بارے میں ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا میں یقینی طور پر تلوار اٹھاؤں گا اور اس کا قبیلہ کثیر تھا دوسرے نے اس کو دعوت دی ہم اپنا جھگڑا نبی کریم ﷺ کی طرف لے جائیں اس نے انکار کردیا پس یہ معاملہ انکے درمیان برابر چلتا رہا حتی کے ہاتھوں اور دونوں سے لڑنے لگے اور تلواروں کے ساتھ لڑائی نہ ہوئی۔
6:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک آدمی تھا جس کو عمران کہا جاتا تھا اس کے نکاح میں ایک عورت تھی جس کو ام زید کہا جاتا تھا اس عورت نے ارادہ کیا کہ اپنے گھروالوں (یعنی والدین) کی زیارت کرے اس کے خاوند نے اس کو روک دیا اور اس کو بالاخانے میں (قید) کردیا تاکہ اس نے اہل خانہ میں سے کوئی بھی اس کے پاس داخل نہ ہو اس عورت نے اپنے اہل کی طرف پیغام بھیجا تو اس کو قوم والے آگئے انہوں نے اس کو نیچے اتارا تاکہ اس کو لے جائیں وہ آدمی باہر نکلا اور اس نے اپنے خاندان والوں سے مدد مانگی اس کے چچا کے بیٹے آئے تاکہ وہ عورت اور اس کے خاندان کے درمیان حائل ہوجائیں۔ مگر وہ اس میں جوتوں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑنے لگے تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا “ (اس پر) رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف کچھ لوگوں کو بھیجا اور ان کے درمیان صلح کرادی اور وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔
7:۔ الحاکم والبیہقی (وصححہ) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے دل میں کبھی کوئی چیز نہیں پائی جو میں نے یہ آیت سے پائی کہ بلاشبہ میں نے اس باغی جماعت سے بھی جنگ نہیں کی جیسے اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے۔
8:۔ سعید بن منصور (رح) وابن المنذر (رح) نے حیان السلمی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عمر ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا “ کے بارے میں پوچھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب حجاج حرم میں داخل ہوئے تو ابن عمر ؓ نے مجھ سے فرمایا تو نے سرکشی کرنے والے گروہ کو اس گروہ کے مقابلے میں پہچان لیا ہے جس پر سرکشی کی گئی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں جان لیتا جس پر زیادتی کی گئی تو اور تیرے علاوہ کوئی بھی اس کی مدد کے لئے مجھ سے آگے نہ بڑھتا لہذا تو جان لے اگر دونوں جماعتیں زیادتی کرنے والی ہوں تو پھر تو قوم کو چھوڑ دے کہ وہ اپنی دنیا کے بارے میں لڑ رہے ہیں اور تو اپنے اہل کی طرف لوٹ جا اور جب جماعت کا عمل درست ہوجائے تو اس میں داخل ہوجا۔
9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور ایمان والوں کو حکم فرمایا جب ایک جماعت ایمان والوں میں سے آپس میں جب لڑیں تو ان کو اللہ کے حکم کی طرف بلاؤ اور ان میں سے بعض بعض کو انصاف دلائیں اگر وہ قبول کرلیں تو ان کے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کیا جائے یہاں تک کہ مظلوم کو ظالم سے حق دلایا جائے اور جو ان میں سے انکار کردے دعوت کو قبول کرنے سے تو وہ بغاوت کرنے والا ہے۔ اور مومنین کے امام اور ایمان والوں پر لازم ہے کہ ان سے لڑیں یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں اور وہ اللہ کے حکم کا اقرار کریں۔
10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا “ سے مراد ہے کہ اوس اور خزرج آپس میں لاٹھیوں کے ساتھ لڑپڑے (تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی)
11:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ طائفہ ایک سے لے کر ایک ہزار افراد تک ہے اور فرمایا دو آدمی لڑپڑے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
12:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “ (اور اگر مسلمان کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو ان کے درمیان صلح کرادو) سے مراد ہے کہ اگر دو گروہوں کے در میان لڑائی جوتوں اور لاٹھیوں سے ہو ان کو حکم ہوا کہ ان کے درمیان صلح کرادیں۔
اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یحب المقسطین (9)
13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) ومسلم والنسائی وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک انصاف کرنے والے عرش کے داہنی طرف نور کے منبروں پر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ عدل و انصاف کرتے تھے اور اس سے اعراض نہیں کرتے تھے۔
14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے دوسری سند سے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصاف کرنے والے دنیا میں قیامت کے دن مویتوں کے منبروں پر ہوں گے رحمن کے سامنے دنیا میں انصاف کرنے کی وجہ سے۔
Ayah 49:10قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” انما المؤمنون اخوۃ “
15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن سرین (رح) سے روایت کیا کہ وہ (آیت ) ” انما المؤمنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم “ میں ”’ اخواتکم “ کو یاء کے ساتھ پڑھتے تھے۔
16:۔ ابن مردویہ (رح) نے اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یاء کے ساتھ پڑھتے تھے۔ ابن مردویہ (رح) نے اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عاصم (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اس کے مثل کوئی چیز نہیں دیکھی جتنا میں اس سے اعراض کیا جو اس آیت میں ہے (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “ الایہ
17:۔ احمد نے فہید بن مطرف الغفاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک سائل نے سوال کیا اگر کوئی حملہ کرنے والے پر حملہ کرے تو وہ کیا کرے فرمایا اگر اس نے تجھ کو قتل کردیا تو تو جنت میں ہوگا اور اگر تو نے اس کو قتل کردیا تو وہ دوزخ میں ہوگا۔
مظلوم کا ساتھی بنو :
18:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا “ (سے لیکر) فقاتلوا التی تبغی “ تک، سے مراد ہے (کہ ان سے لڑو) تلوار کے ساتھ پھر پوچھا گیا ان کے مقتول کیسے ہوں گے (یعنی ان کا انجام کیا ہوگا فرمایا وہ شہداء ہیں جن کو رزق دیا جاتا ہے پوچھا گیا دوسرے بغاوت کرنے والوں کا کیا حال ہوگا ؟ فرمایا جو ان میں سے قتل ہوگا دوزخ میں جائے گا۔
19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والطبرانی (رح) نے عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو آپس میں حکمرانی کے لئے لڑیں گے۔ ان کا بعض بعض کو قتل کرے گا۔
Ayah 49:111:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مقاتل (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” یایھا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم “ (اے ایمان والو ! نہ مذاق اڑائے کوئی قوم کسی قوم کا) یہ آیت بنوتمیم کیا ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے (غریب صحابہ) بلال، سلیمان، عمار، خباب، صہیب، ابن مہیرہ اور ابوحذیفہ کے آزادہ کردہ غلام سالم ؓ کا مذاق اڑایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” لا یسخر قوم من قوم “ کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے اگرچہ وہ آدمی غنی ہو یا فقیر ہو یا وہ آدمی جو عقل اور سمجھ بوجھ رکھتا ہو اس کا مذاق نہ اڑاؤ۔
اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولاتلمزوا انفسکم “
3:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری فی الادب وابن ابی الدنیا فی ذم الغیبہ وابن جریروابن المنذر (رح) والحاکم (وصححہ) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولاتلمزوا انفسکم “ میں تمہارا بعض بعض کو طعنہ نہ دے۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولاتلمزوا انفسکم “ یعنی بعض تمہارا بعض پر طعن نہ کرے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولاتلمزوا انفسکم “ یعنی آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو (آیت ) ” ولاتلمزوا انفسکم “ تاء کے نصب اور میم کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے۔
7:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولاتلمزوا انفسکم “ میں ” اللمز “ سے مراد ہے غبیت۔
اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “
8:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) البخاری فی الادب و ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ ابویعلی وابن جریر وابن المنذر (رح) والبغوی فی معجمہ وابن حبان والشیرازی فی الالقاب والطبرانی وابن السنی فی عمل الیوم والیلہ والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ والبیہقی (رح) فی شعب الایمان ابو جبیرہ بن ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان یہ (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “ (ایک دوسرے کو برے لقب سے نہ پکارو) بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، ہم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا مگر اس کے دو یا تین نام تھے جب آپ ﷺ ان میں سے کسی کو ان ناموں میں سے کسی نام کے ساتھ اس کو بلاتے تھے تو وہ کہتے تھے یارسول اللہ ﷺ وہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” ولا تنابزوا بالالقاب “
9:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ انصار کا ایک قبیلہ تھا ان میں تقریبا ہر آدمی کے دو یا تین نام تھے نبی کریم ﷺ کبھی کسی آدمی کو ان ناموں میں سے کسی نام کے ساتھ پکارتے تھے تو کہا جاتا تھا یا رسول اللہ وہ آدمی اس نام کو ناپسند کرتا ہے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “
10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “ سے مراد ہے کہ اگر کوئی کسی کو اسلامی نام کے بغیر اس کا نام لے (جیسے) اے ے سور اے کتا اے گدھا (تو یہ منع ہے)
11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “ کے بارے میں روایت کیا کہ برے القاب کے ساتھ نہ پکارو وہ اس طرح پر کوئی آدمی برا عمل کرتا ہو پھر اس سے توبہ کرلے اور حق کی طرف رجوع کرلے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اس گزشتہ برے عمل کے سبب عار دلانے سے منع فرمایا۔
12:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی پہلے یہودی تھا پھر وہ اسلام لے آیا تو کوئی اسے کہے اے یہودی اے نصرانی اے مجوسی تو وہ اور (اس طرح) کوئی آدمی کسی مسلمان کو کہے اے فاسق (تو یہ منع ہے)
13:۔ عبدالرزاق (رح) نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ایک یہودی مسلمان ہوگیا پھر اس کو کہا جائے اسے یہودی تو اس سے منع کیا گیا۔
کسی مسلمان کو برے لقب سے پکارنا گناہ ہے :
14:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “ کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے مسلمان بھائی کو اس طرح نہ کہو اے فاسق اے منافق۔
15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو اس طرح پکارنا اے فاسق اے منافق (اس سے منع کیا گیا)
16:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابوالعالیہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کسی آدمی کا اپنے ساتھی کو اے فاسق اے منافق کہنا۔
17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولا تنابزوا بالالقاب “ سے مراد ہے کسی آدمی کا کلمہ کفر کے ساتھ پکارنا حالانکہ وہ مسلمان ہے۔
18:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بئس الاسم الفسوق بعد الایمان “ (ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا ہی برا ہے) یعنی کوئی آدمی اپنے بھائی کو کہے اے فاسق۔
19:۔ ابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب القرظی (رح) سے (آیت) ” بئس الاسم الفسوق بعد الایمان “ کے بارے میں روایت کیا کہ آدمی سابقہ دینوں میں سے کسی دین پر ہوتا ہے پھر وہ مسلمان ہوجاتا ہے کوئی اس کو اس کے پہلے دین کی نسبت سے پکارے (جیسے) اسے یہودی، اے نصرانی (اس سے منع کیا گیا)
20:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے اپنے بھائی کو کافر کہا (جو اسلام کا دعوی کرتا ہو) تو یہ کفر دونوں میں سے ایک کی طرف ضرور لوٹتا ہے اگر تو وہ ایسے ہی ہے (یعنی وہ واقعی کافر ہے) جیسے اس نے کہا تو کفر اس پر لوٹے گا ورنہ اسی (کہنے والے) کی طرف لوٹ جائے گا۔