39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 39:38–41

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر آپ سے سوال کریں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو تو ضرور یوں کہیں گے کہ اللہ نے پیدا کیا آپ فرمادیجئے کہ تم ہی بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی ضرر پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کیا یہ اس کی پہنچائی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا اگر وہ مجھے رحمت سے نوازنے کا ارادہ فرمائے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں، آپ نے فرمادیجئے کہ کافی ہے مجھے اللہ ! اسی پر بھروسہ کرنے والے بھروسہ کرتے ہیں

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اے میری قوم تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو، بیشک میں عمل کررہا ہوں، سو تم عنقریب جان لوگے

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کس کے پاس عذاب آتا ہے جو اس کو ذلیل کردے گا۔ اور اس پر ایسا عذاب نازل ہوتا ہے جو ٹھہر کر رہ جائے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

بیشک ہم نے لوگوں کے لئے حق کے ساتھ آپ پر کتاب نازل کی ہے سو جو ہدایت پر آجائے یہ اس کی اپنی جان کے لئے ہے اور جو شخص گمراہی اختیار کرے سو وہ اپنی جان کو ضرر پہنچانے کے لئے گمراہی کو اختیار کرتا ہے، اور آپ ان پر مسلط بنا کر نہیں بھیجے گئے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل افراء یتم ما تدعون من دون اللہ “ (فرما دیجئے تم بتاؤ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ) یعنی بتوں کو۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” ھل ھن کشفت ضرہ “ کیا اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں) یہاں کا شفاف مضاف ہے اس طرح (آیت) ” ممسکت رحمتہ “ (یہ کیا ہے کوئی) ہٹانے والے یا اس کی رحمت کو روکنے والے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انت علیہم بوکیل “ یعنی حفاظت کرنے والے (نگہبان) (واللہ اعلم )
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ قبض کرلیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت، اور ان جانوں کو بھی جنکی موت نہیں آئی ان کے سوتے وقت، پھر اسے روک لیتا ہے جس کے بارے میں موت کا فیصلہ فرما دیا اور دوسری کو اجل مقرر تک چھوڑ دیتا ہے، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو فکر کرتے ہیں

1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اللہ یتوفی الانفس “ (اللہ ہی قبض کرلیتا ہے جانوں کو) جان اور روح ان دونوں کے درمیان سورج کی شعاع ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ جان کو اس کی نیند میں قبض کرلیتا ہیں اور دوسری روح کو چھوڑ دیتے ہیں اس کے جسم اور اس کے پیٹ میں جو گھومتی پھرتی ہے اور زندگی بسر کرتی ہے اگر اللہ تعالیٰ کو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کو قبض کرلیا جائے تو روح کو قبض کرلیا جاتا ہے اور وہ مرجاتا ہے۔ یا اس کو اجل کو مؤخر کردیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نفس کو پیٹ میں اس کی جگہ رکھ دیتا ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) و طبرانی (رح) (فی الاوسط) وابوالشیخ (فی العظمہ) اور الضیاء نے (المختارہ میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا “ (اللہ ہی قبض کرلیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت) سے مراد ہے کہ زندوں اور مردوں کی روحیں نیند کی حالت میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتی ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتی ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ مردوں کی روحوں کو روک لیتے ہیں اور زندوں کی روحوں کو بھیج دیتے ہیں ان کے جسموں کی طرف (آیت ) ” الی اجل مسمی “ (ایک مقررہ مدت تک) اور اس میں کچھ بھی غلطی نہیں کرتا اسی کو فرمایا (آیت ) ” ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون “ (اس میں البتہ نشانیاں ہیں اس قوم کیلئے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ ) 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا “ سے مراد ہے کہ ہر جان کیلئے ایک سبب ہے جو اسمیں دوڑتا پھرتا ہے جب اس پر موت کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ نفس سوجاتا ہے یہاں تک کہ سبب کٹ جاتا ہے (آیت ) ” والتی لم تمت “ اور جس کو موت نہیں آتی اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 4:۔ جویبر نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ سبب پھسلا ہوا ہے۔ آسمان اور زمین کے درمیان پس مردوں اور زندوں کی روحیں اس سبب کے ساتھ متعلق ہیں پھر وہ مردہ جان زندہ جان کے متعلق ہوتی ہے جب زندہ روح کو اس کے جسم کی طرف جانے کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے رزق کو پورا کرے تو مردہ کی روح کو روک لیا جاتا ہے اور دوسرے کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہرشخص سے اعمال کا سوال ہوتا ہے : 5:۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے فرقد (رح) سے روایت کیا کہ دنیا کی راتوں میں سے کوئی رات ایسی نہیں مگر رب تبارک وتعالیٰ سب مؤمن اور کافر روحوں کو قبض کرتے ہیں اور ہر روح سے سوال کرتے ہیں کہ اس کے ساتھی (یعنی جسم نے) دن میں کیا کام کیا حالانکہ وہ خوب جاننے والے ہیں پھر وہ ملک الموت کو بلاکر فرماتے ہیں اس کو قبض کرلو اس کو قبض کرلو جب موت کا وقت آچکا ہے اسے قبض کرلو (آیت ) ” ویرسل الاخری الی اجل مسمی “ (اور دوسری روح کو اس کی مقررہ مدت تک بھیج دیتے ہیں۔ ) 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے سلیم بن عامر (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا تعجب ہے آدمی کے خوابوں پر کہ وہ رات گزارتا ہے اور کسی چیز کو دیکھتا ہے پھر اس کی خوابیں ایسی ہوتی ہیں جیسے ہاتھ سے پکڑی ہوئی چیز اور ایک آدمی خواب دیکھتا ہے اس کی خوابیں بھی نہیں ہوتیں۔ علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا : اے امیر المومنین ! کیا میں اس بارے میں آپ کو خبر نہ دوں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت ) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا، فیمسک التی قضی علیھا الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمی “ (اللہ تعالیٰ ہی قبض کرلیتا ہے جانوں کو اور ان جانوں کو جو مرتی نہیں سونے کی حالت میں پھر ان جانوں کو روک لیتا ہے جن کو موت کا حکم دے چکا ہے۔ اور باقی جانوں کو ایک میعاد معین تک کے لئے رہا کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب جانوں کو قبض کرلیتے ہیں جبکہ وہ نفس اللہ تعالیٰ کے ہاں آسمان میں ہوتا ہے اور وہ سچے خواب ہوتے ہیں۔ اور جو وہ دیکھے جب بھیجا جاتا ہے (روحوں کو) ان کے جسموں کی طرف تو راستے میں شیاطین سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ اس سے جھوٹ بولتے ہیں اور اس کو جھوٹی باتوں کی خبر دیتے ہیں تو وہ اس بارے میں جھوٹ بولتا ہے حضرت عمر ؓ نے حضرت علی ؓ کی گفتگو سے بڑا تعجب کیا۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے ابو ایوب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جب رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے جب آپ نے سونے کا ارادہ کیا تو آپ نے ایک بات کہی جس کو ہم نے نہیں سمجھا راوی نے کہا کہ اس کے بارے میں میں نے آپ سے پوچھا آپ نے فرمایا : اے اللہ ! آپ ہی جانوں کو قبض کرنے والے ہیں ان کی موت کے وقت اور جو اپنی نیند میں نہیں مرتی ان کو بھی قبض کرلیتا ہے پھر ان جانوں کو روک لیتا ہے جن کو موت کا حکم دے چکا ہے اور باقی جانوں کو ایک میعاد معین تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے (اے اللہ) آپ ہی نے مجھے موت دیں گے اور آپ مجھے موت دیں تو مجھ کو بخش دیجئے اور اگر آپ مجھے مہلت دیں تو میری حفاظت فرمائیے۔ 8:۔ بخاری (رح) ومسلم (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لئے جاملے تو اپنی چادر کے اندرونی حصہ سے اس کو جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے اس پر کیا تھا پھر یہ دعا پڑھی۔ اللہم باسمک ربی وضعت جنبی وباسمک ارفعہ ان امسکت نفسی فارحمھا وان ارسل تھا فاحفظھا بما تحفظ بہ الصالحین من عبادک : ترجمہ : اے اللہ ! اے میرے رب تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنے پہلو کو رکھا اور تیرے نام کے ساتھ اس کو اٹھایا اگر آپ میری جان کو روک لیں تو اس پر رحم فرمائے۔ اگر آپ اس کو چھوڑ دے تو اس کی حفاظت کیجئے کہ جس کے ذریعہ آپ نیک لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں اپنے بندوں میں سے۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوجحیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اس سفر میں جس میں صحابہ کرام ؓ سورج طلوع ہونے تک سوگئے تھے پھر فرمایا بلاشبہ تم مردہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف تمہاری روحوں کو لوٹا دیا۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) بخاری (رح) و ابوداؤد اور نسائی (رح) نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے وادی کی رات میں ان سے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری روحوں کو قبض کرلیتا ہے جب چاہتا ہے اور تم پر لوٹا دیتا ہے جب چاہتا ہے۔ 11:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں ایک سفر میں تھا آپ نے فرمایا آج رات کون چوکیداری کرے گا۔ میں نے عرض کیا میں کروں گا آپ سو گئے لوگ بھی سوگئے اور میں بھی سو گیا۔ ہم سورج کی گرمی سے جاگے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! یہ روحیں بندوں کے جسموں میں عاریتا رکھی گئی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو قبض کرلیتے ہیں جب چاہتے ہیں اور ان کو چھوڑ دیتے ہیں جب چاہتے ہیں۔ 12:۔ طبرانی (رح) نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم نہیں جاگے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا نماز کھڑی ہوئی پھر آپ نے ان کو نماز پڑھائی پھر فرمایا جب کوئی تم میں سے سو جائے اور اس پر نیند غالب آجائے تو اس کو چاہئے کہ وہ اسی طرح کرے بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا “۔
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا سفارش کرنے والے تجویز کر رکھے ہیں۔ آپ فرما دیجئے اگرچہ وہ کچھ بھی قدرت نہ رکھتے ہوں۔ اور کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں ؟

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام اتخذوا من دون اللہ شفعآء “ (کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو سفارش کرنے والا بنا دیا ہے) یعنی شفعاء سے مراد ہے معبود باطلہ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر و بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للہ الشفاعۃ جمیعا “ (فرما دیجئے ساری سفارش اللہ کے لئے ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر اس کی اجازت سے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت “ (اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل نفرت کرتے ہیں) یعنی ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں جس دن نبی کریم ﷺ نے ان پر سورة النجم پڑھی تھی کعبہ کے دروازہ کے پاس۔ کافروں کے دلوں کا سخت ہونا : 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ (جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے) یعنی ان چار آدمیوں کے دل سخت ہوگئے اور نفرت کرنے لگے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ان میں) ابوجہل بن ہشام، ولید بن عتبہ، صفوان اور ابی بن خلف۔ (آیت ) ” واذا ذکرالذین من دونہ “ یعنی جب اللہ کے علاوہ لات اور عزی کا ذکر کیا جاتا ہے تو (آیت ) ” اذا ھم یستبشرون “ (کہ اچانک وہ خوش ہوجاتے ہیں ) 5:۔ طستی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا : اس سے مراد ہے کہ کافروں کے دل اللہ کے ذکر سے نفرت کرنے لگتے ہیں) پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا : کیا تو نے عمر وبن کلثوم ثعلبی کا قول نہیں سنا، وہ کہتا ہے : اذا عض النفاق لھا اشمازت : وولتہ عشورتہ زبونا : ترجمہ : جب اس کا نفاق تروتازہ ہوگیا تو وہ متنفر ہوگئی اس کو والی مقرر کردیا اس کے دسویں حصے کا محبوب یا گاہک بناتے ہوئے۔ 6:۔ قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ یعنی ان کے دل تکبر اور نفرت کرتے (آیت) ” واذا ذکر الذین من دونہ “ من ” من دونہ “ سے مراد ہے معبودان باطلہ۔ سورۃ الزمر (46 تا 48) ترجمہ : آپ یوں کہئے کہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا فرمانے والے غیب اور شہادت کے جاننے والے آپ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے ان باتوں کے بارے میں جن میں اختلاف کرتے ہیں (46) اور جن لوگوں نے ظلم کیا اگر ان کے لئے وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اس جیسا اور ہو تو قیامت کے دن عذاب کی بدحالی کی وجہ سے وہ اس سب کو جان کے بدلہ میں دیدیں گے اور ان کے لئے اللہ کی طرف سے وہ ظاہر ہوجائے گا جو ان کے گمان میں نہ تھا (47) اور انہوں نے جو عمل کئے تھے ان کے برے نتیجے ان کے لئے ظاہر ہوجائیں گے اور انہیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق بناتے تھے (48) ۔ 1:۔ مسلم و ابوداؤد و بیہقی (رح) نے الاسماء جو الصفات میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تو اپنی نماز کو ان کلمات سے شروع فرماتے : اے اللہ جبرئیل (علیہ السلام) ، میکائل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہ السلام) کے رب، پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کو حاضر اور غیب کے جاننے والے اپنے بندوں کے درمیان آپ ہی فیصلہ فرمائیے۔ ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں مجھے ہدایت دیجئے جب میں حق سے اختلاف کروں تیری اجازت سے بلاشبہ آپ ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں سیدھے راستے کی طرف۔
Ayahs 39:44–45

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ سفارش تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے، اللہ ہی کے لئے ہے ملک آسمانوں کا اور زمین کا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

پھر جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اچانک وہ خوش ہوجاتے ہیں

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام اتخذوا من دون اللہ شفعآء “ (کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو سفارش کرنے والا بنا دیا ہے) یعنی شفعاء سے مراد ہے معبود باطلہ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر و بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للہ الشفاعۃ جمیعا “ (فرما دیجئے ساری سفارش اللہ کے لئے ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر اس کی اجازت سے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت “ (اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل نفرت کرتے ہیں) یعنی ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں جس دن نبی کریم ﷺ نے ان پر سورة النجم پڑھی تھی کعبہ کے دروازہ کے پاس۔ کافروں کے دلوں کا سخت ہونا : 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ (جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے) یعنی ان چار آدمیوں کے دل سخت ہوگئے اور نفرت کرنے لگے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ان میں) ابوجہل بن ہشام، ولید بن عتبہ، صفوان اور ابی بن خلف۔ (آیت ) ” واذا ذکرالذین من دونہ “ یعنی جب اللہ کے علاوہ لات اور عزی کا ذکر کیا جاتا ہے تو (آیت ) ” اذا ھم یستبشرون “ (کہ اچانک وہ خوش ہوجاتے ہیں ) 5:۔ طستی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا : اس سے مراد ہے کہ کافروں کے دل اللہ کے ذکر سے نفرت کرنے لگتے ہیں) پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا : کیا تو نے عمر وبن کلثوم ثعلبی کا قول نہیں سنا، وہ کہتا ہے : اذا عض النفاق لھا اشمازت : وولتہ عشورتہ زبونا : ترجمہ : جب اس کا نفاق تروتازہ ہوگیا تو وہ متنفر ہوگئی اس کو والی مقرر کردیا اس کے دسویں حصے کا محبوب یا گاہک بناتے ہوئے۔ 6:۔ قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ یعنی ان کے دل تکبر اور نفرت کرتے (آیت) ” واذا ذکر الذین من دونہ “ من ” من دونہ “ سے مراد ہے معبودان باطلہ۔
Ayahs 39:46–48

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

آپ یوں کہئے کہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا فرمانے والے غیب اور شہادت کے جاننے والے آپ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے ان باتوں کے بارے میں جن میں اختلاف کرتے ہیں

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا اگر ان کے لئے وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اس جیسا اور ہو تو قیامت کے دن عذاب کی بدحالی کی وجہ سے وہ اس سب کو جان کے بدلہ میں دیدیں گے اور ان کے لئے اللہ کی طرف سے وہ ظاہر ہوجائے گا جو ان کے گمان میں نہ تھا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور انہوں نے جو عمل کئے تھے ان کے برے نتیجے ان کے لئے ظاہر ہوجائیں گے اور انہیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق بناتے تھے

1:۔ مسلم و ابوداؤد و بیہقی (رح) نے الاسماء جو الصفات میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تو اپنی نماز کو ان کلمات سے شروع فرماتے : اے اللہ جبرئیل (علیہ السلام) ، میکائل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہ السلام) کے رب، پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کو حاضر اور غیب کے جاننے والے اپنے بندوں کے درمیان آپ ہی فیصلہ فرمائیے۔ ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں مجھے ہدایت دیجئے جب میں حق سے اختلاف کروں تیری اجازت سے بلاشبہ آپ ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں سیدھے راستے کی طرف۔
Ayahs 39:49–52

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

سو جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے دیتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تم مجھے ہنر کی وجہ سے ملا ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ وہ امتحان ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

یہ کلمہ ان سے پہلے لوگوں نے کہا سو جو کچھ کمائی کرتے تھے اس نے انہیں کچھ بھی فائدہ نہ دیا

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

سو انہوں نے جو برے اعمال کئے تھے ان کا بدلہ انہیں پہنچ گیا، اور ان میں سے جن لوگوں نے ظلم کیا عنقریب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ پہنچ جائے گا اور وہ عاجز کرنے والے نہیں ہیں

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا انہوں نے نے نہیں جانا کہ اللہ رزق پھیلا دیتا ہے جس کے لئے چاہے اور تنگ کردیتا ہے، جس کے لئے چاہے، بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ (جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں) یعنی ہم اس کو عطا فرماتے ہیں (آیت ) ” قال انما اوتیتہ علی علم “ (تو کہتا ہے یہ مجھے میری تدبیر سے ملی ہے) یعنی اس شرف پر جو اس نے مجھے عطا کیا۔ 2:۔ عبد الرزاق (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ یعنی جب ہم نے اس کو عطا کیا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما اوتیتہ علی علم “ میں ” علی علم “ کا مطلب ہے کہ وہ خبر جو میرے پاس ہے (آیت ) ” بلھی فتنۃ “ میں ” فتنۃ “ سے مراد ہے مصیبت۔ 4:۔ سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قد قالھا الذین من قبلھم “ (یہ بات بعض ان لوگوں نے کہی تھی جنہوں نے ظلم کیا ان میں سے) یعنی محمد ﷺ کی امت میں سے۔
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ بلاشبہ اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا، بیشک وہ بہت بخشنے والا ہے نہایت رحم والا ہے

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “ (آپ فرما دیجئے کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے کفر و شرک کرکے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں) کہ (یہ آیت) مکہ کے مشرکوں کے بارے میں ہے۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) فی الدلائل ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے (اس آیت کو) لکھا پھر ہشام بن عاص کی طرف بھیجا۔ توبہ سے ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے : 3:۔ طبرانی (رح) وابن المردویہ و بیہقی نے شعب الایمان میں (بسند لین) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حمزہ ؓ کے قاتل وحشی بن حرب کی طرف قاصد بھیجا اور ان کو اسلام کی طرف بلایا اس نے آپ کی طرف پیغام بھیجا اے محمد ﷺ آپ مجھے کس طرح اسلام کی دعوت دیتے ہیں حالانکہ آپ یہ گمان رکھتے ہیں کہ جو قتل کرے یا شرک کرے یا زنا کرے۔ (آیت ) ” ومن یفعل ذلک یلق اثاما (68) یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ ویخلد فیہ مھانا (69) “ (الفرقان) (وہ گناہ میں جاپڑ اقیامت کے دن اسے دوگنا عذاب ہوگا اور اس میں ذلیل ہو کر پڑا رہے گا اور میں نے یہ کام کیئے ہیں، کیا میرے لئے آپ رخصت پاتے ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا فاو لئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت۔ وکان اللہ غفور ارحیما “ (الفرقان آیت 70) (مگر جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے تو ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ بخشنے والے مہربان ہیں) وحشی نے کہا یہ سخت شرط ہے۔ (آیت ) ” الا من تاب وامن وعمل صالحا “ شاید میں اس پر قادر نہ ہوسکوں تو اللہ تعالیٰ یہ (آیت ) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء “ (النسآء آیت 18) (اللہ تعالیٰ نہیں بخشیں گے جو اس کے ساتھ شریک کرے گا اور اس کے علاوہ کو بخش دیں گے جس کے لئے چاہیں گے) وحشی نے کہا یہ میں دیکھ رہا ہوں۔ (معافی کو) اللہ کی مشیت کے بعد اور میں نہیں جانتا کہ میری مغفرت ہوگی یا نہیں کیا اس کے علاوہ کوئی اور (آیت) ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتری ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “ (یہ سن کر) وحشی نے کہا یہ سمجھ میں آگیا اور مسلمان ہوگئے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے بھی انہیں گناہوں کا ارتکاب کیا جو وحشی نے کئے۔ فرمایا) (یہ آیت) تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) اور ابن مردویہ (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ جب وحشی ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” والذین لایدعون مع اللہ الھا اخر ولا یتقلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود کو نہیں بلاتے اور کسی جان کو (ناحق) قتل نہیں کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام بنایا مگر حق کے ساتھ (یعنی جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کو قتل کرتے ہیں) وحشی اور اس کے ساتھیوں نے کہا ہم نے ان سارے گناہوں کو ارتکاب کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “۔ 5:۔ محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں وحشی ؓ سے روایت کیا کہ جب حمزہ ؓ کے بارے میں جو (معاملہ) ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں محمد ﷺ کا خوف ڈال دیا تھا۔ تو میں بھاگ کھڑا ہوا دن کو چھپ جاتا تھا اور رات کو چلتا تھا یہاں تک کہ میں قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کی طرف پہنچ گیا اور ان میں رہنے لگا میں وہاں ٹھہرا ہوا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا قاصد میرے پاس آیا جس نے مجھے اسلام کی دعوت دی۔ میں نے کہا اسلام کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ تو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر اور تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے کو اور کسی جان کو قتل کرنے کو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا اور تو شراب پینے کو اور زنا کرنے کو اور سارے برے کاموں کو چھوڑ دے اور تو غسل جنابت کرے اور پانچ نمازیں پڑھے گا۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “ (یہ آیت سن کر) میں نے کہا ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھدا ان محمد عبدہ ورسولہ “ اس سے مجھ سے مصافحہ کیا اور میری کنیت ابوحرب رکھی۔ 6:۔ بخاری (رح) نے الادب المفرد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لائے جو ہنس رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تھوڑا ہنستے اور بہت روتے پھر آپ چلے گئے صحابہ کریم ؓ رونے لگے، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی : اے محمد ! تو میرے بندوں کو کیوں مایوس کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ واپس تشریف لائے اور فرمایا : خوش ہوجاؤ اور قریب ہوجاؤ اور میانہ روی اور اعتدال اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت : 7:۔ ابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عباس بن ابی ربیعہ ؓ نے اور ہشام بن عاص بن وائل نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرجائیں اور میں اور عیاش (اکٹھے) نکلے اور ہشام دین سے فتنہ میں ڈالا گیا تو وہ فتنہ میں پڑگئے عیاش کے پاس اس کے بھائی ابوجہل اور حارث بن ہشام آئے دونوں نے کہا تیری ماں نے نذر مانی ہے کہ نہ وہ سائے میں جائے گی اور نہ غسل کرے گی یہاں تک کہ تجھ کو نہ دیکھے گی (عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا) کہ میں نے کہا اللہ کی قسم ! وہ دونوں (یعنی تیرے بھائی) تجھے تیرے دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں وہ دونوں اس کو لے گئے اور انہوں نے اس کو فتنہ میں ڈال دیا تو وہ فتنہ میں پڑگئے تو (اس) (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “ عمر نے فرمایا کہ میں نے ہشام کو (یہ آیت) لکھ بھیجی تو وہ (مدینہ منورہ) آگئے۔ 8:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “ یہ اس وجہ سے کہ اہل مکہ نے کہا ہے کہ محمد ﷺ نے گمان کیا ہے کہ جس نے بتوں کی عبادت کی اور اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کی اور اس جان کو قتل کیا جس کو اللہ نے حرام قرار دیا تو اس کی مغفرت نہیں ہوگی۔ تو کس طرح ہم ہجرت کریں اور ہم ایمان لائیں جبکہ ہم نے بتوں کی عبادت کی اور ناحق لوگوں کو قتل کیا اور ہم شرک کرنے والے بھی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا “ اور فرمایا (آیت ) ” وانبیوا الی ربکم واسلموا لہ “ (اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس پر ایمان لے آؤ) اور اللہ تعالیٰ عتاب فرماتے ہیں عقل والوں کو بلاشبہ حلال اور حرام ایمان والوں کے لئے ہے۔ وہ ان کو ہی اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا اور خاص کر ان کو ہی حکم دیا جب ان میں سے کسی نے بھی اپنی جان پر ظلم کرلیا تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجائے۔ اور وہ توبہ کرے اپنی ذات پر ظلم اور کیا ہوا گناہ اسے توبہ سے نہ روکے اور اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران میں ایمان والوں کا ذکر کیا جب انہوں نے مغفرت کا سوال کیا اور کہا (آیت ) ” ربنا اغفرلنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا “ (اے ہمارے رب ہمارے گناہوں کو اور وہ ہماری زیادیتوں کو ہمارے کاموں میں بخش دیجئے) چاہئے کہ وہ اس بات کو جان لیں کہ وہ دونوں عمل کیا کرتے تھے تو ان کو تو یہ حکم دیا گیا۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ کہ یہ تین آیات وحشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “ سے لے کر (آیت ) ” وانتم لا تشعرون “ تک۔ 10:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیات عیاش بن ابی ربیعہ ولید بن الولید اور مسلمانوں میں سے ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جو اسلام لائے تھے پھر آزمائے گئے اور عذاب دیئے گئے تو وہ دین سے پھرگئے پھر ہم کہتے تھے اللہ تعالیٰ نہ ان کی توبہ قبول کرے گا اور نہ ہی کوئی فدیہ قبول کرے گا یا نہ نفل اس کا قبول ہوگا اور نہ فرض کچھ قوموں نے اسلام قبول کیا پھر اپنے دین کو چھوڑ بیٹھے اس اذیت کی وجہ سے جو ان کو اذیت دی گئی یہ آیات نازل ہوئیں اور عمر بن خطاب ؓ کاتب تھے پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے اس کو لکھا پھر اسے عیاش اور ولید اور اس جماعت کی طرف بھیجا تو وہ اسلام لے آئے اور ہجرت کی۔ 11:۔ احمد وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں محبوب نہیں رکھتا کہ میرے لئے دنیا ومافیھا ہو اس آیت کے بدلے میں یعنی (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “ (آیت کے آخر تک) ایک آدمی نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ جو شرک کرے ( اس کا کیا بنے گا) نبی کریم ﷺ خاموش رہے پھر فرمایا ” الا ومن اشرک “ آپ نے تین مرتبہ ایسا فرمایا۔ 12:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) و ابوداؤد و ترمذی (رح) (وحسنہ) وابن المنذر وابن الانباری نے المصاحف میں وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے اسماء بنت یزید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا “ (فرمایا) اسے کوئی پرواہ نہیں کہ وہ بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید وابن ابی الدنیا (فی حسن الظن) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آپ ایک نصیحت کرنے والے کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو نصیحت کررہا تھا آپ نے ان لوگوں کو نصیحت کرنے والے سے فرمایا : کہ لوگوں کو مایوس نہ کر۔ پھر یہ (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “ 14:۔ ابن جریر (رح) نے ابن سرین (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ نے پوچھا کونسی آیت زیادہ وسعت والی ہے تو لوگ قرآن کی آیات کا ذکر کرنے لگے (اور کہا یہ ہے) (آیت ) ” من یعمل سوٓء او یظلم نفسہ “ (النساء آیت 12) اور اس طرح کی اور آیتیں ذکر کیں) علی ؓ نے فرمایا کہ قرآن میں اس (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “ سے بڑھ کر زیادہ وسعت والی کوئی آیت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں !: 15:۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بلایا ہے اپنی مغفرت کی طرف جس نے گمان کیا مسیح (علیہ السلام) وہی اللہ ہے اور جس نے گمان کیا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور جس نے گمان کیا کہ عزیز (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور جس نے گمان کیا ہے کہ اللہ محتاج ہے اور جس نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اور جس نے گمان کیا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس سب کو فرماتے ہیں (آیت) ” افلا یتوبون الی اللہ ویستغفرونہ، واللہ غفور رحیم (74) کیا وہ لوگ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے استغفار نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والے پر رحم کرنے والے ہیں) پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دعوت دی جو ان سے بھی بڑی بات کرنے والے ہیں ان لوگوں میں سے جس نے کہا (آیت ) ” انا ربکم الاعلی “ (النازعات آیت 42) (میں تمہارا بڑا رب ہوں) اور کہا (آیت ) ’ ما علمت لکم من الہ غیری “ (القصص آیت 38) (کہ میں نہیں جانتا تمہارے لئے میرے علاوہ کوئی دوسرا معبود (ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس نے بندوں کو توبہ سے مایوس کیا ان آیات کے بعد تو یقینی طور پر اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا لیکن کوئی بندہ تو بہ کرنے پر قادر نہیں ہے جب تک اللہ تعالیٰ اس پر نظر کرم نہ فرمائے۔ 16:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ ابلیس نے کہا اے میرے رب میرے لئے اور زیادہ کیجئے (یعنی مجھے اور زیادہ اختیار دیجئے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کے سینے تمہارے رہنے کی جگہیں ہیں اور تم ان میں خون کے دوڑنے کی طرح گردش کروگے ابلیس نے کہا اے میرے رب ! میرے لئے اور زیادہ کیجئے فرمایا : (آیت ) ” واجلب علیھم بخیلک ورجلک وشارکھم فی الاموال والاولاد وعدھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (64) (سورۃ الاسراء) (اور ان پر اپنے سوار اور پیادے بھی چڑھاوے اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوجا اور ان سے وعدے کر اور شیطان کے وعدے بھی محض فریب ہی تو ہیں) آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب ! آپ نے شیطان کو میرے اوپر مسلط کردیا ہے مگر میں اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا مگر تیری مدد سے فرمایا کہ تیری جو بھی اولاد پیدا ہوگی تو میں ہی اس کیلئے ایک فرشتہ مقرر کروں گا جو اس کا برے ساتھیوں) یعنی شیطانوں) سے حفاظت کرے گا۔ عرض کیا : اے میرے رب ! میرے لئے اور زیادہ کیجئے فرمایا ایک نیکی کا بدلہ دس گناہ اس سے زیادہ ہوگا۔ اور برائی کا بدلہ ایک یا اس کو بھی مٹادوں گا۔ عرض کیا : اے میرے رب ! میرے لئے اور زیادہ کیجئے۔ فرمایا توبہ کا دروازہ کھلا ہے جب تک کہ روح جسم میں ہے۔ عرض کیا : اے میرے رب میرے لئے اور زیادہ کیجئے تو فرمایا (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ھو الغفور الرحیم (53) 17:۔ احمد وابو یعلی والضیاء نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر تم غلطیاں کرو گے یہاں تک کہ تمہاری خطائیں زمین و آسمان کو بھر دیں پھر تم مجھ سے مغفرت طلب کرو تو تم کو بخش دیا جائے گا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تو اللہ تعالیٰ دوسری قوم کو لے آئے گا جو غلطیاں کریں گے پھر وہ استغفار کریں گے تو ان کو بخش دیا جائے گا۔ 18:۔ ابن ابی شیبہ ومسلم نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ دوسری مخلوق پیدا کردیں گے جو گناہ کریں گے پھر ان کو بخش دیا جائے گا۔ 19:۔ الخطیب نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی وحی بھیجی اے داؤد میرے بندوں میں سے ایک بندہ میرے پاس نیکی لاتا ہے میں اسے اپنے بارے میں حکم بنا لیتا ہوں داؤد (علیہ السلام) نے پوچھا وہ نیکی کیا ہے ؟ فرمایا یہ وہ رنج وغم ہے جو اس نے مؤمن بندہ سے دور کردیا داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ جو آپ کو پہچانتا ہے جس طرح پہچاننے کا حق ہے تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ آپ سے مایوس نہ ہو۔ یاحنان ویامنان کا وظیفہ : 20:۔ حکیم ترمذی (رح) نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا اے محمد ! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھ سے مخاطب ہو کر فرمائیں گے اے جبرئیل (علیہ السلام) کیا وجہ ہے کہ فلاں بن فلاں کو دوزخ والوں کی صفوں میں دیکھتا ہوں تو میں کہوں گا اے میرے رب ! ہم نے اس کی کوئی نیکی نہیں پائی۔ جو آج اس کے لئے بھلائی لائے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بلاشبہ میں نے اس سے دنیا میں یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ یہ کہہ رہا تھا یا حنان یا منان اس کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میرے علاوہ کوئی حنان منان ہے ؟ تو میں اسے پکڑوں گا دوزخ والوں کی صفوں میں سے اور اس کو جنت والوں کی ؔ صفوں میں داخل کردیں گے۔ 21:۔ ابن الضریس (رح) وابو القسام بن بشیر (رح) نے امالیہ میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ فقیہ اور ہر فقیہ وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ کرے اور ان کو ان کے گناہوں میں اجازت نہیں دے۔ اور ان کو اللہ کے عذاب سے بےخوف بھی نہ کرے اور وہ قرآن نہ چھوڑے ان چیز کی طرف رغبت کرتے ہوئے کیونکہ ایسی عبادت میں خیر نہیں جس میں علم نہ ہو اور وہ علم نہیں جس میں فہم نہ ہو اور ایسے علم میں کوئی فائد نہیں جس میں غور وفکر نہ ہو۔ 22:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عطار بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے والوں کا ایک پل ہے قیامت کے دن لوگ ان کی گردنوں کو روندیں گے۔ 23:۔ عبدالرزاق وابن المنذر (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں تم کو ایک عبادت نہ بتاؤں جبکہ تو لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتا ہے۔ ابن المنذر (رح) نے فرمایا ضرور بتائیے۔ فرمایا : بچو تم لوگوں کو ہلاک کرنے سے اوزان کو (رحمت سے) مایوس کرنے سے۔ 24:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی گزشتہ امتوں میں سے تھا جو عبادت میں کوشش کرتا تھا۔ اور اپنے رب کوشش کرتا تھا۔ اور اپنے رب پر سختی کرتا اور لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرتا تھا پھر وہ مرگیا اور کہا : اے میرے رب ! آپ کے نزدیک میرے لئے کیا ہے ؟ فرمایا آگ اس نے کہا میری عبادت اور میری ریاضت کہاں جائے گی ؟ اس سے کہا جائے گا تو لوگوں کو میری رحمت سے مایوس کرتا تھا اور میں نے آج کے دن تجھ کو اپنی رحمت سے مایوس کردیا ہے۔ 25:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ کچھ لوگ بڑے شرک میں پڑگئے اور وہ ڈرتے تھے کہ ان کی مغفرت نہیں ہوگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آیت کے ساتھ بلاتے ہوئے فرمایا : (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ھو الغفور الرحیم (53) 26:۔ عبد بن حمید نے ابومجلز لاحق بن حمید سدوسی (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت اتاری (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا “ آخری آیت تک تو نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور ان پر اس آیت کو تلاوت کیا۔ ایک آدمی نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ” والشرک باللہ “ (اور شرک کرنا اللہ کے ساتھ اس کا کیا حکم ہے ؟ ) آپ خاموش ہوگئے وہ آدمی بات دہراتا رہا جب تک اللہ نے چاہا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء “۔ 27:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “۔ سے لیکر (آیت ) ” وانیبوا الی ربکم واسلموا لہ “ تک کے بارے میں روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت اور مابعد والی آیت (آیت ) ” وانیبوا الی ربکم “ کا آپس میں تعلق ہے۔
Ayahs 39:54–58

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس کے فرماں بردار بن جاؤ اس سے پہلے کہ تمہارے پاس عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور تم اپنے رب کے پاس سے آئے ہوئے اچھے اچھے حکموں پر چلو قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تم کو خیال بھی نہ ہو

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کبھی کوئی جان یوں کہنے لگے کہ ہائے میری حسرت اس چیز پر جو میں نے اللہ کے بارے میں تقصیر کی اور بےشیک بات یہ ہے کہ میں مذاق بنانے والوں میں سے تھا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

کوئی شخص یوں نہ کہنے لگے کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا کوئی جان یوں کہنے لگے جبکہ وہ عذاب کو دیکھے یا کہ اگر میری واپسی ہوجاتی تو میں نیک کام کرنے والوں میں سے ہوجاتا

اعمال صالحہ کی پابندی : 1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانیبوا الی ربکم واسلموالہ “ (اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اور اس کے لئے اسلام لے آؤ) یعنی اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے عبید بن یعلی (رح) سے روایت کیا کہ انابت سے مراد ہے دعا کرنا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تقول نفس یحسرتی علی ما فرطت “ (کبھی کل قیامت کے دن کوئی کہنے لگے کہ افسوس اس کوتاہی پر جو میں نے کی) یعنی اللہ تعالیٰ سبحانہ نے لوگوں کی بات کرنے سے پہلے بتادیا کہ وہ کیا بات کریں گے اور ان کے عمل کرنے سے پہلے بتادیا کہ وہ کیا عمل کریں گے (آیت ) ” ولا ینبئک مثل خبیر ’“ (فاطر آیت 14) اور خیبر کی طرح کوئی تجھ کو خبر نہیں دے گا) پھر فرمایا (آیت ) ” ان تقول نفس یحسرتی علی ما فرطت “ فی جنب اللہ وانب کنت لمن السخرین “ (کبھی کل قیامت کے دن کو کہنے لگے کہ افسوس اس کوتاہی تک جو میں نے خدا کی جناب میں کی اور احکام خداوندی پر ہنستا رہا ” الساخرین “ جن کا حلق کہا گیا ہو۔ (آیت ) ’ ’ اوتقول لوان اللہ ھدنی لکنت من المتقین “ (57) (آیت) ” اوتقول حین تری العذاب لو ان لی کرۃ فاکون من المحسنین ‘ (58) (یا کوئی یہ کہنے لگے کہ اگر دنیا میں اللہ مجھے ہدایت کردیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہے گا کہ کاش دنیا میں ایک بار مجھے لوٹ جانا مل جائے تو میں بھی نیک بندوں میں سے ہوجاؤں) یعنی ہدایت پانے والوں میں سے تو اللہ تعالیٰ سبحانہ نے خبر دی کہ اگر وہ لوٹا دیئے جائیں تو وہ ہدایت پر قادر نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ولو ردوا لعادوا لمانھوا عنہ وانہم لکذبون (28) (الانعام آیت 28) اور وہ لوٹادیئے جائیں گے تو ان کاموں کی طرف لوٹ آئیں گے جس سے منع کئے گئے۔ اور وہ ایسے جھوٹ بولنے والے ہیں) اور فرمایا (آیت ) ” ونقلب افئدتھم وابصارھم کمالم یؤمنوا بہ اول مرۃ “ (الانعام آیت 110) (اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس کے ساتھ ایمان نہیں لائے پہلی مرتبہ فرمایا اگر وہ دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو ان کے اور ہدایت کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جاتی جیسے کہ ہم نے رکاوٹ کھڑی کردی ان کے اور اس کے درمیان پہلی مرتبہ دنیا میں۔ 4:۔ آدم بن ایاس وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” علی ما فرطت فی جنب اللہ “ (اس بات پر کہ انہوں نے کوتاہی کی اللہ کی جناب میں) یعنی اللہ کے ذکر میں۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تقول نفس یحسرتی علی ما فرطت فی جنب اللہ وان کنت لمن السخرین “ سے مراد ہے کہ اس بات نے اسے نہیں روکا کہ اس نے اللہ کی اطاعت کو ضائع کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والوں کے ساتھ مذاق کرنے لگا فرمایا کہ یہ ان میں سے ایک جماعت کا قول ہے (آیت ) ” اوتقول لوان اللہ ھدنی لکنت من المتقین “ یا کوئی یہ کہنے لگے کہ اگر (دنیا میں اللہ مجھے ہدایت کردیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا) اور یہ دوسری جماعت کا قول ہے۔ (آیت ) ” او تقول حین تری العذاب لو ان لی کرۃ فاکون من المحسنین “ (یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے لگے کہ کاش دنیا میں ایک بار مجھے لوٹ جانا مل جائے تو میں بھی نیک بندوں میں سے ہوجاؤں یعنی اگر میں دنیا کی طرف لوٹا دیا جاؤں فرمایا یہ ایک اور قسم کا قول اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کے قول کو رد کرتے ہوئے اور ان کو جھٹلاتے ہوئے (آیت ) ” بلی قد جآء تک ایتی فکذبت بھا واستکبرت وکنت من الکفرین “ (ہاں بیشک تیرے پاس میری قیامت پہنچی تھیں مگر تو نے ان کو جھوٹ سمجھا اور تو نے غرور کیا اور تو کافروں میں سے تھا۔ 6:۔ احمد و نسائی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ کے رہنے والوں میں سے ہر ایک جنت میں سے اپنے ٹھکانے کو دیکھے گا اور کہے گا (آیت ) ” لوان اللہ ھدنی ‘ (اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دیتے) تو آج میں اس جنت والی جگہ میں ہوتا تو یہ اس پر حسرت ہوگی اور جنت والوں میں سے ہوگی دوزخ میں سے اپنے ٹھکانے کو دیکھے گا تو اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے گا اور یہ اس کی طرف سے شکر ہوگا پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت ) ” ان تقول نفس یحسرتی علی ما فرطت فی جنب اللہ “ تلاوت فرمائی۔ جو مجلس ذکر اللہ سے خالی ہو باعث حسرت ہے : 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے بوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی اور اس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتی تو یہ بات ان پر قیامت کے دن حسرت کا باعث ہوگی اگر وہ جنت والوں میں سے ہوں گے تو وہ دیکھیں گے ہر مجلس کے ثواب کو کہ جس میں انہوں نے اللہ کا ذکر کیا تھا اور نہیں دیکھیں گے اس مجلس کے ثواب کو تو ان کے لئے حسرت ہوگی۔ 8:۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” بلی قد جآء تک ایتی فکذبت بھا واستکبرت وکنت من الکفرین “ (بلکہ میری آیات تیرے پاس آئی تھیں ان کو جھٹلادیا اور تو نے تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا) 9:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ (آیت ) ” بلی قد جآء تک ایتی “ کاف کے نصب کے ساتھ (آیت ) ” فکذبت بھا واستکبرت وکنت من الکفرین “ ان سب میں تاء کے نصب کے ساتھ (آیت ) ” وینجی اللہ الذین اتقوا بمفازتھم “ (اور جو لوگ کفر اور شرک سے بچتے تھے ان کو کامیابی کے ساتھ اللہ جہنم سے بچائے گا) یہاں جمع کا صیغہ پڑھا۔
Ayahs 39:59–61

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

ہاں بات یہ ہے کہ تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو نے انہیں جھٹلا دیا اور تو نے تکبر اختیار کیا اور تو کافروں میں سے تھا

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور اے مخاطب تو قیامت کے دن دیکھے گا کہ جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا دوزخ میں تکبر والوں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور اللہ تقوے والوں کو ان کی کامیابی کے ساتھ نجات دے گا انہیں تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے

1:۔ ابن ابی شیبہ واحمد و بخاری (رح) (فی الادب) و ترمذی (رح) (وحسنہ) و نسائی (رح) وابن ومردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عمرو بن شعیب (رح) سے اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تکبیر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹی کی طرح آدمیوں کی صورت میں جمع کیا جائے گا۔ ہر طرح سے ان پر ذلت چھائی ہوتی جہنم میں جیل کی طرف جانکے جائیں گے دوزخ والوں کا نچوڑ (یعنی دوزخیوں کے زخموں کی پیپ) ان کو پلائی جائے گی۔ 2:۔ عبد بن حمید و بیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن آگ کے تابوتوں میں رکھا جائے گا اور ان کو بند کردیا جائے گا۔ اور اس کو جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ڈال دیا جائے گا۔ 3:۔ کعب ؓ سے روایت کیا کہ تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹیوں کی شکل میں لایا جائے گا ہر طرف سے ان پر ذلت چھائی ہوگئی وہ آگ میں داخل ہوں گے اور ان کو دوزخیوں کا نچوڑ یعنی دوزخیوں کے زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ 4:۔ احمد نے الزھد میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جبارین اور متکبرین کو چیونٹیوں کی شکل میں لایا جائے گا۔ لوگ ان کو روندیں گے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلیل ورسوا ہوں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے پھر ان کو بڑھی آگ کی طرف لے جایا جائے گا پوچھا یا رسول اللہ ! نار الانیار کیا ہے ؟ فرمایا دوزخ والوں کا نچوڑ۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وینجی اللہ الذین اتقوا بمفازتھم “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو نجات دیں گے ان کے اعمال کی وجہ سے۔
Ayah 39:62

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہر چیز کا پیدا فرمانے والا ہے اور وہ ہر چیز میں تصرف کرنے والا ہے

1:۔ بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ تم سے ضرور پوچھیں گے ہر چیز کے بارے میں یہاں تک کہ وہ تم پر یہ سوال کریں گے کہ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے (اور) اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا اگر وہ تم سے یہ سوال کریں تو تم یوں کہو۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پہلے تھے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز کے بعد بھی ہوگا۔ واللہ اعلم۔ آسمان و زمین کی چابی اللہ کے پاس ہے :
Ayah 39:63

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں، اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا یہ لوگ تباہ ہونے والے ہیں

1:۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ (اس کے قبضہ میں ہیں چابیاں آسمان کی اور زمین کی) یعنی اس کی چابیاں۔ 2:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ سے مراد ہیں چابیاں فارسی زبان میں۔ 3:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ سے مراد ہیں چابیاں۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک صبح کو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اپنی اس صبح میں دیکھا ہے (خواب میں) گویا کہ مجھے چابیاں اور ترازو دیئے گئے (اور) مقالید سے مراد ہیں چابیاں اور ترازو سے مراد ہیں تمہارے یہ ترازو کہ جن سے تم وزن کرتے ہو اور ترازو لائے گئے اور ان کو آسمان اور زمین کے درمیان رکھا دیا گیا مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور لکھا کہ امت کو لایا اور اس کو دوسرے پلڑوں میں رکھا گیا میں ان پر بھاری ہوگیا۔ پھر ابوبکر ؓ کو لایا گیا ان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا اور اس کے ساتھ وزن کیا پھر عمر ؓ کو لایا گیا ان کو ایک پلڑے میں رکھا گیا دوسرے پلڑے میں امت کو رکھا گیا پھر ان کو وزن کیا گیا پھر ترازو کو اٹھایا گیا۔ 5:۔ ابویعلی ویوسف القاضی (فی سننہ) وابوالحسن القطان (فی المطولات) وابن سنی (فی عمل یوم ولیۃ) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد ہے : لا الہ الا اللہ اکبر سبحان اللہ الحمد للہ استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الا ول والا خر والظاھر والباطن ویحی ویمیت وھو حی لا یموت بیدہ الخیر وھو علی کل شیء قدیر۔ اے عثمان ! جو اس کو ہر دن سو مرتبہ کہے اس کو دن خصلتیں عطا فرمائے گا (1) اس کے اگلے سب گناہ معاف کردے گا۔ (2) اس کے لئے آگ سے برأت لکھ دے گا۔ (3) دو فرشتے اس کے لئے مقرر کردے گا جو رات اور دن میں آفات اور بیماریوں سے اس کی حفاظت کریں گے۔ (4) اس کو بطور اجر کے قنطار (ثواب کا ڈھیر) عطا فرمائے گا (5) اس کے لئے اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے سو غلاموں کے آزاد کرنے کرنے کے برابر ثواب ہوگا (6) حورعین سے اس کی شادی کی جائے گی (7) ابلیس اور اس کے لشکر سے اس کی حفاظت کی جائے گی (8) وقار کا تاج اس کے سر پر رکھا جائے گا۔ (9) ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہوگا (10) اپنے گھروالوں میں سے ستر آدمیوں کی شفارش کرے گا اے عثمان اگر تو طاقت رکھے تو کسی دن بھی یہ عمل تجھ سے فوت نہ ہو تو کامیاب ہونے والوں میں سے ہوجائے گا اور اس کے ذریعہ تو اولین اور آخرین سے سبقت لے جائے گا۔ 6:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ مجھے (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ کے بارے میں بتائیے ؟ آپ نے فرمایا : اس سے مراد ہے : سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الہ اللہ واللہ اکبر لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم والا ول والا خر والظاھر والباطن بیدہ الخیر یحی ویمیت وھو علی کل شیء قدیر۔ اے عثمان ! جس نے ان کلمات کو دس مرتبہ صبح کے وقت اور شام کے وقت کہا تو اللہ تعالیٰ اس کو چھ خصلتیں عطا فرمائے گا : (1) ابلیس اور اس کے لشکر سے اس کی حفاظت فرمائے گا (2) اس کو قنطار (ثواب کا ڈھیر) عطا کیا جائے گا ، (3) اور عین سے اس کی شادی کرے گا (4) اور کے گناہ بخش دے گا (5) وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہوگا (6) مرنے کے وقت بارہ فرشتے اس کے پاس آئیں گے جو اس کو جنت کی بشارت دیں گے اور قبر سے موقف کی طرف لے جائیں گے اگر اس کو قیامت کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت پہنچے گی تو فرشتے کہیں گے تو کسی چیز کا اندیشہ نہ کر تو بلاشبہ امن سے رہے گا پھر اللہ تعالیٰ اس کا حساب آسانی کے ساتھ لے گا پھر اس کو جنت کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا فرشتے اسے موقف (یعنی میدان حشر سے) جنت کی طرف لے جائیں گے جس طرح دلہن کو لے جایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کو اللہ کے حکم سے جنت میں داخل کردیں گے اور لوگ حساب کی شدت میں ہوں گے۔ 7:۔ حارث بن ابی اسامہ وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ سے (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد ہے : سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الہ اللہ واللہ اکبر لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم “۔ 8:۔ العقیلی و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ نے نبی اکرم ﷺ (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ سے کسی نے اس بارے میں سوال نہیں کیا اس سے مراد ہے۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الہ اللہ واللہ اکبر لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم والا ول والا خر والظاھر والباطن بیدہ الخیر یحی ویمیت وھو علی کل شیء قدیر۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ سے مراد ہے کہ آسمان اور زمین کے خزانوں کی چابیاں اسی کی ہیں۔
Ayahs 39:64–66

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اے جاہلو ! کیا میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کروں ؟

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے جو رسول تھے ان کی طرف یہ وحی بھیجی گئی کہ اے مخاطب اگر تو نے شرک کیا تو تیرا عمل حبط ہوجائے گا اور تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہوجا

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو بلایا کہ وہ آپ کو اتنا مال دیں گے تو آپ مکہ کے سب سے مالدار آدمی بن جائیں گے۔ اور جس عورت سے چاہیں شادی کریں گے اور آپ کی اطاعت کریں گے، لوگ آپ کے پیچھے چلیں گے۔ انہوں نے ان سے کہا : اے محمد ! ہماری طرف سے یہ سب کچھ آپ کے لئے ہے اور آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے باز آجائیں اور ان کا تذکرہ برائی کے ساتھ نہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم پر صرف ایک ہی چیز پیش کریں گے وہ ہمارے لئے اور تمہارے درمیان ہوگی اور انہوں نے اس بارے میں اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا یہاں تک کہ میں انتظار کروں گا کہ میرے رب کی طرف سے کیا حکم ہوتا ہے تو وحی آئی اور فرمایا : (آیت ) ” قل یایھا الکفرون “ (سورۃ کے آخر تک) اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” قل افغیر اللہ تامرونی اعبد ایھا الجھلون “ (آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھ کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کا مشورہ دیتے ہو) (آیت) ” ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین “ (اور آپ کی طرف اور جو پیغمبر آپ سے پہلے گزرے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیج دی گئی ہے کہ اگر تو شرک کرے گا تو تیر کیا کرایا سب غارت ہوجائے گا) 2:۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا اے محمد !” ایاک واجدادک “ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی ” قل افغیر اللہ تامرونی اعبد ایھا الجھلون “ سے لیکر (آیت ) ” بل اللہ فاعبد وکن من الشکرین “ تک (بلکہ اللہ کی عبادت کرنے اور تو شکر گزاروں میں سے ہوجائے گا) اللہ تعالیٰ کی قدر پہچاننا :