Ayah 36:401:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر “ (نہ سورج کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے) مشابہ نہیں ہوتی ان میں سے ایک کی روشنی دوسری کی روشنی سے اور یہ بات ان دونوں کے لائق بھی نہیں اور اسی کو فرمایا (آیت) ” ولا الیل سابق النہار “ (اور نہ اگلی رات دن سے پہلے آسکتی ہے) یعنی وہ دونوں جلدی سے ایک دوسرے کا پیچھا کرتے ہیں تو ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے آگے نکل جاتا ہے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمرولا الیل سابق النھار “ یعنی ہر ایک کیلئے حسد ہے اور نشانی ہے تو نہ وہ اس سے آگے بڑھتا ہے اور نہ پیچھے رہتا ہے جب ایک کی حاکمیت آتی ہے تو دوسرے کی چلی جاتی ہے جب دوسرے کی حاکمیت آتی ہے تو اس کی حاکمیت چلی جاتی ہے۔
3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر “ یعنی یہ چاند کی رات ہوتی ہے۔
4:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے عبدالرزاق (رح) علیہ، ابن المنذر (رح) اور ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ” لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمرولا الیل سابق النھار “ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے اقتدار ہے چاند کے لئے رات کا اقتدار ہے اور سورج کیلئے دن کا اقتدار ہے سورج کو یہ لائق نہیں کہ وہ رات کو طلوع ہو (آیت) ” ولا الیل سابق النھار “ یعنی یہ لائق نہیں کہ جب ایک رات آئے تو پھر دوسری رات بھی آجائے یہاں تک کہ درمیان میں دن ہوتا ہے (پھر رات ہوتی ہے)
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا الیل سابق النھار “ یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ رات یہاں سے جائے اور دن یہاں سے آئے۔ ان سے انہوں نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
6:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا الیل سابق النھار “ یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور اس کے علم میں یہ ہے کہ رات دن سے تجاوز نہیں کرے گی یہاں تک کہ اس کو وہ پائے گی اور اس کی تاریکی جاتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور علم میں یہ ہے کہ دن رات سے تجاوز نہیں کرے گا یہاں تک کہ وہ اس کو پاتا ہے اور اس کی روشنی کو ختم کردیتا ہے۔
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابو الشیخ نے العظمہ میں ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمرولا الیل سابق النھار “ یعنی وہ (سورج) اس کی (یعنی چاند کی) روشنی کو نہیں پاتا اور نہ یہ اس کی روشنی کو پاتا ہے (یعنی چاندسورج کی روشنی نہیں پاتا۔ ،
8:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس کی روشنی اس کی روشنی پر اور نہ اس کی روشنی اس کی روشنی پر سبقت نہیں لے جاتی۔
9:۔ عبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس کی روشنی اس کی روشنی پر اور اس کی روشنی اس کی روشنی پر غالب نہیں آتی۔
Ayah 36:411:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون “ (اور ان کیلئے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا) اس سے مراد نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہے کہ انہوں نے اس میں ہر چیز کے دو بڑے جوڑے سوار کئے (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ (اور ہم نے ان کی اولاد کو بھری کشتی میں سوار کیا) ان سے مراد ہیں وہ کشتیاں جو سمندر اور دریاؤں میں ہوتی ہیں جن میں لوگ سوار ہوتے ہیں۔
Ayah 36:42:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابو صالح (رح) سے کیا کہ (آیت) ” وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون “ سے مراد ہے نوح (علیہ السلام) کی کشتی، (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ اس سے مراد ہو کشتیاں ہیں جو اس کی لکڑی اور اس کی صنعت کی طرح ہیں۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ اس سے مراد وہ کشتیاں ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد اس جیسی کشتیاں بنائی گئی۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد چھوٹی کشتیاں ہیں اور حسن (رح) نے فرمایا اس سے مراد اونٹ ہیں۔
5:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ اس سے مراد اونٹ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا جیسے تو اس کو دیکھتا ہے اور یہ خشکی کی کشتیاں ہے اس پر بوجھ لادتے ہیں اور اس پر سواری بھی کرتے ہیں۔
6:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے عبداللہ بن شداد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد اونٹ ہیں۔
Ayahs 36:43–487:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد چوپائے ہیں (آیت) ” وان نشانغرقھم فلا صریح “ (اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں) پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا جو اس کی مدد کرسکے۔
معذب قوم کے حالات سے عبرت حاصل کرو :
8:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاصریح لھم “ یعنی کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا (آیت) ” ومتاعا الی حین “ (یعنی نفع اٹھانا ہے موت تک) (آیت) ” واذا قیل لھم اتقوامابین ایدیکم “ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو تم جو تمہارے آگے عذاب میں ہے) یعنی ڈروتم ان واقعات سے جو گذرچکے ان کے بارے میں جو تم سے پہلے تھے اور عذاب مراد ہے جو قوم عاد اور قوم ثمود اور دوسری امتوں کو پہنچے (آیت) ” وما خلفکم “ سے مراد قیامت کا عذاب ہے (آیت) ” واذا قیل لھم انفقوا مما رزقکم اللہ “ (اور خرچ کرو تم ان چیزوں میں جو اللہ تعالیٰ نے تم کو رزق دیا ہے۔ فرمایا : یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی جو فقیروں کو کھانا نہ کھلاتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کو عیب لگایا اور ان کو عار دلائی۔
9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا قیل لھم اتقوامابین ایدیکم وما خلفکم “ (اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے آگے ہے اور جو تمہارے نیچے ہے یعنی تمہارے سابقہ اور باقی ماندہ گناہوں میں سے۔
10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انطعم من لویشآء اللہ اطعمہ “ (کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانے کو دیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کو کھانے کو دیدے) یہ بات یہودیوں نے کہی تھی۔
11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابن المنذر (رح) نے ابو خالد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انطعم من لویشآء اللہ اطعمہ “ یہ بات یہودی کہتے تھے۔
Ayah 36:491:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذھم یخصمون “ (یہ لوگ بس ایک سخت آواز کے منتظر ہیں جو ان کو آکر پکڑے گی ایسی حالت میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے) یعنی ہمارے لئے یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے قیامت لوگوں تک آپہنچے گی (اس حال میں) کہ آدمی اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہوگا اور ایک آدمی اپنے حوض کو ٹھیک کررہا ہوگا۔ اور ایک آدمی بازار میں اپنا سامان فروخت کررہا ہوگا۔ اور ایک آدمی اپنے ترازو کو اوپر نیچے کررہا ہوگا کہ قیامت اچانک آجائے گی اور وہ اسی طرح (کام کررہے ہوں گے) (آیت) ” فلایستطیعون توصیۃ ولا الی اھلھم یرجعون “ (پھر کوئی وصیت بھی نہ کرسکیں گے۔ اور نہ اپنے گھروالوں کے پاس لوٹ پائیں گے) فرمایا اس بارے میں جلدی کرو۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذھم یخصمون “ یعنی یہ قیامت کی ابتدا ہوگی۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم یخصمون “ یعنی وہ آپس میں باتیں کررہے ہوں گے۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ضرور صور میں پھونکا جائے گا کہ لوگ اپنے راستوں میں اور اپنے بازاروں میں اور اپنی مجلس میں ہوں گے، یہاں تک کہ اگر دو آدمیوں کے درمیان ہوگا کہ وہ آپس میں بھاؤ کررہے ہوں گے۔ ان دونوں میں سے کوئی آدمی اسے ابھی اپنے سے چھوڑے گا کہ صور پھونکا جائے گا، اور وہ اس کے ساتھ بیہوش ہوجائیں گے، اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ماینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذھم یخصمون “ (49) فلایستطیعون توصیۃ ولا الی اھلھم یرجعون “ یہ لوگ بس ایک سخت آواز کے منتظر ہیں جو ان کو پکڑ لے گی ایسی حالت میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے پھر وہ کوئی صورت بھی نہیں سکیں گے اور اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔
Ayah 36:50قیامت اچانک ہی قائم ہوگی :
5:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ لوگ اپنے بازاروں میں خریدو فروخت کررہے ہوں گے۔ اور کپڑوں کو ناپ رہے ہوں گے اور اونٹنیوں کو دوہ رہے ہوں گے، اور اپنے کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے (پھر فرمایا) (آیت) ” فلایستطیعون توصیۃ ولا الی اھلھم یرجعون “ (50)
6:۔ عبد بن حمید (رح) و عبداللہ اور احمد نے زوائد الزھد میں اور ابن المنذر (رح) نے زبیر بن عوام (رح) سے روایت کیا کہ قیامت (اس حال میں) قائم ہوگی کہ آدمی کپڑے کو ناپ رہا ہوگا اور آدمی اونٹنی کو دوہ رہا ہوگا۔ پھر (یہ آیت پڑھی :
(آیت) ” فلایستطیعون توصیۃ ولا الی اھلھم یرجعون “ (50)
7:۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم وابن المنذر (رح) وابوالشیخ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت ضرور قائم ہوگی (اس حال میں) کہ دو آدمی آپس میں اپنے کپڑوں کو پھیلائے ہوں گے وہ ابھی اسے نہیں لپیٹیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی، وہ اپنے حوض کو درست کررہا ہوگا اور اس میں ابھی (جانوروں کو) پانی نہ پلائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی جبکہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کے دودھ کو لے جارہا ہوگا اور ابھی اس کو نہیں پیئے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی جبکہ ایک آدمی اپنی لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور اس کو کھانا نہ ہوگا (کہ قیامت قائم ہوجائے گی )
8:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تاخذھم وھم یخصمون “ (کہ ان کو سخت آواز پکڑے گی اور وہ جھگڑ رہے ہوں گے) یعنی وہ ان پر ان کے بازاروں اور ان کے راستوں میں غالب آجائے گی (آیت) ” فلایستطیعون توصیۃ “ (وہ وصیت کرنے کی بھی طاقت نہ رکھیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کو وصیت نہیں کرسکے گا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 36:511:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث “ (اور صور میں پھونکا جائے گا، وہ سب یکدم قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے) سے مراد ہے دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا ھم من الاجداث “ یعنی قبروں سے (آیت) ” الی ربھم ینسلون “ (اپنے رب کی طرف جلدی جلدی چلنے لگیں گے) یعنی وہ نکلیں گے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
4:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” من الاجداث “ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے مراد ہیں قبریں پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اسے پہنچانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا :
حینا یقولون اذ مرو علی جدثی ارشدہ یارب من غار وقد رشدا :
ترجمہ : اس وقت وہ کہتے ہیں اچانک جب وہ میری قبر پر گزرتے ہیں کہ اے میرے رب ! اس کو ہدایت دے جو اس کا ارادہ کرے جبکہ وہ ہدایت یافتہ ہے۔
پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” الی ربھم ینسلون “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا النسل سے مراد تیز چلنا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے نابغہ بن جعدہ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا :
عملان الذنب امسی فاریا یرد الیل علیہ فنسل :
ترجمہ : دو گناہ کرنے والے شام کے وقت قریب آگئے جب ان پر رات آئی تو وہ تیز چلنے لگے۔
Ayahs 36:52–545:۔ ابن الانباری نے المصاحف میں علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے پڑھا (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “
6:۔ ابن الانباری نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ دوبارہ اٹھائے جانے سے علیحدہ تھوڑا سوئیں گے تو اس میں راحت پائیں گے تو اس وقت وہ کہیں گے (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ (وہ کہیں گے اے ہماری کم بختی ہم کو ہمارے خوابگاہ سے کس نے اٹھادیا )
7:۔ الفربی، عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من بعثنا من مرقدنا “ کہ وہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے سے پہلے تھوڑا سا سوئیں گے۔
8:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کفار کے لئے قیامت سے پہلے ہجعہ (یعنی رات کے پہلے حصے کی نیند) ہوگی جس میں ہو نبذ کا ذائقہ پائیں گے جب قبر والوں کو پکارجائے گا تو وہ اس وقت کہیں گے (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ (اے ہماری کم بختی کس نے ہم کو ہماری خوابگاہوں سے اٹھادیا) اور مؤمن اس کے پہلوں میں کہے گا (آیت) ” ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون “ یہ وہ وعدہ ہے جو رحمن نے کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔
9:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبدالرحمن بن ابی لیلی (رح) سے روایت کیا کہ مشرک کہیں گے (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ تو مؤمن کہے گا۔ (آیت) ” ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون “
10:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ (اس آیت کا) اول حصہ کافروں کیلئے ہے اور اس کا آخری حصہ مؤمنوں کے لئے ہے، کفار کہیں گے (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ اور مسلمانوں نے کہا (آیت) ” ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون “
11:۔ ابن ابی شیبہ (رح) اور ابن المنذر (رح) نے ابوصالح (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا دو نفخوں کے درمیان جب دوسرا نفخہ ہوگا تو وہ کہیں گے (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “
12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ دوبارہ اٹھنے سے پہلے تھوڑا سا سوئیں گے جب وہ اٹھیں گے تو کافر کہیں گے۔ (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ تو فرشتے ان کو جواب دیں گے، (آیت) ” ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون “
13:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا ھم جمیع لدینا محضرون “ (فورا وہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیئے جائیں گے) یعنی حساب کے وقت۔
Ayahs 36:55–561:۔ الفریابی، وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اصحب الجنۃ الیوم فی شغل فکھون “ (اہل جنت اس دن اپنے شغلوں میں خوش دل ہوں گے) یعنی وہ خوش ہوں گے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اصحب الجنۃ الیوم فی شغل فکھون “ یعنی نعمتیں ان کو اس عذاب سے غافل کردیں گی جس میں دوزخی مبتلا ہوں گے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن ابی الدنیا فی صفۃ الجنۃ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فی شغل فکھون “ سے مراد ہے کہ وہ کنواری عورتوں سے صحبت میں مشغول ہوں گے۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی الدنیا وعبد بن احمد نے زوائد الزھد میں وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اصحب الجنۃ الیوم فی شغل فکھون “ سے مراد ہے کہ کنواری عورتوں سے صحبت کرنے میں ان کا مشغول ہونا۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ اور قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
6:۔ عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن جب بھی اپنی بیوی کی خواہش کرے گا تو اس کو کنواری پائے گا۔
جنتی ہمیشہ جوان رہیں گے :
7:۔ البزار والطبرانی فی الصفیہ وابوالشیخ نے العظمہ میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت والے جب اپنی بیویوں سے جماع کریں گے تو پھر وہ کنواری ہوجائیں گی۔
8:۔ المقدس نے صفۃ الجنۃ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کیا ہم جنت میں عورتوں سے جماع کریں گے ؟ فرمایا ہاں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے خوب خوب جماع کریں گے جب اس سے کھڑے ہوں گے تو وہ عورت دوبارہ پاک اور کنواری ہوجائے گی۔
9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فی شغل فکھون “ (کہ اپنے مشغلوں میں خوش دل ہوں گے) یعنی سارنگی بجانے سے وہ لطف اندوز ہوں گے۔ ابوحاتم (رح) نے فرمایا کہ یہ سننے میں غلطی ہوئی ہے یہ لفظ ضرب الاوتار نہیں ہے بلکہ ” اقتصاض الابکار “ ہے یعنی کنواری عورتوں سے جماع کریں گے۔
10:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وازواجھم “ سے ان کی بیویاں مراد ہیں۔
Ayah 36:571:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنۃ میں سند میں سند جید کے ساتھ ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ جنت والوں میں سے ایک آدمی جنت کی شراب میں سے ایک شراب کی خواہش کرے گا تو اس کے پاس ایک لوٹا لایا جائے جو اس کے ہاتھ میں رکھادیا جائے گا وہ اس میں سے پیئے گا پھر وہ اپنی جگہ واپس لوٹ جائے گے۔
Ayah 36:581:۔ ابن ماجہ وابن ابی الدنیا فی صفۃ الجنۃ والبزار وابن ابی حاتم (رح) والآجری فی الرؤیۃ اور ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس درمیان کے اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر روشنی پھیل جائے، وہ اپنے سروں کو اٹھائنگے وہ رب تعالیٰ ہوں گے جو ان کے اوپر سے جلوا افروز ہوں گے اور فرمائیں گے اے جنت والو السلام علیکم یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” سلم قولا من رب رحیم “ تو دیکھیں گے وہ جنت کی کسی نعمت کی طرف توجہ نہیں کریں گے جب تک وہ اپنے رب کا دیدار کرتے رہیں گے یہاں تک کہ رب تعالیٰ ان سے (خود ہی) پردہ فرمالیں گے اور اللہ تعالیٰ کا نور اور اس کی برکت ان کے اور ان کے گھروں میں باقی رہے گی۔
2:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” سلم قولا من رب رحیم “ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر سلام فرمائیں گے۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے براء ؓ سے روایت کیا (آیت) ” سلم قولا من رب رحیم “ یعنی ان پر موت کے وقت سلام کیا جائے گا۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابو نصر السنجری نے الابانہ میں محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” سلم قولا من رب رحیم “ (کہ رب رحیم کی طرف سے سلام ہوگا) کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے درجوں میں تشریف لائیں گے اور ان کو سلام فرمائیں گے اور جنت اس کا جواب دیں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے مجھ سے سوال کرو وہ عرض کریں گے ہم آپ سے کس چیز کا سوال کریں ؟ آپ کی عزت اور جلال کی قسم ! اگر آپ ہم پر جنات اور انسان کا رزق تقسیم کردے تو ہم ان کو کھلائیں گے، ان کو پلائیں گے، ان کو پہنائیں گے اور ہم ان کی خدمت کریں گے لیکن یہ کام ہمارے رزق میں کمی نہ کرے گا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے پاس مزید نعمت ہے اور وہ یہ بات ہر درجہ کے رہنے والوں کے لئے فرمائیں گے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس تحفے آئیں گے کہ فرشتے ان کی طرف اٹھا کر کھلائیں گے۔
Ayah 36:591:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو ایک اونچے ٹیلے پر جمع فرمائیں گے پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا : اے مجرم لوگو ! آج کے دن الگ ہوجاؤ۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے روادبن جراح (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ مسلمان کو مجرمین سے الگ کرلو مگر خواہشات پر چلنے والوں کو (الگ نہ کرو) یعنی خواہشات پر چلنے والے کو مجرموں کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” وامتازوالیوم ایھا المجرمون “ اور الگ ہو کر رونے لگے اور فرمایا کہ لوگوں نے آج تک اس سے سخت صفت نہیں سنی۔
4:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وامتازوالیوم ایھا المجرمون “ سے مراد ہے کہ ان کو ہر خیر سے الگ کردیا گیا۔
Ayahs 36:60–641:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم اعھد الیکم “ (کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کی تھی) یعنی کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان لا تعبدوا الشیطن “ (کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو) یعنی اس کی عبادت (گویا) اس کی اطاعت ہے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جبلا کثیرا “ سے مراد بہت مخلوق۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” جبلا کثیرا “ کو جیم کے کسرہ اور لام کی تشدید کے ساتھ پڑھا (آیت ) ’ ’ افلا تکونوا تعقلون “ کو یاء کے ساتھ۔ ل
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے ھذیل (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” جبلا کثیرا “ کو لام مخففہ کے ساتھ پڑھا۔
6:۔ الحاکم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” ولقد اضل منکم جبلا “ میں جبلا کو مخففہ پڑھا۔
Ayah 36:651:۔ احمد ومسلم و نسائی وابن ابی الدنیا فی التوبہ (واللفظ لہ) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں انس ؓ سے (آیت) ” الیوم نختم علی افواھم “ (آج ہم ان کے مونہوں پر مہرلگادیں گے) کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے آپ مسکرائے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کس وجہ سے میں ہنسا ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے جانتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بندے کی اپنے رب سے گفتگو کی وجہ سے، بندہ عرض کرے گا، اے میرے رب ! کیا آپ نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی تھی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، کیوں نہیں تو بندہ کہے گا، میں اس وقت سے اسے جائز نہیں سمجھتا یہاں تک کہ مجھ پر گواہ پیش کئے جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تیری ذات ہی تجھ پر گواہی دینے والی کافی ہے اور کراما کاتبین بھی تیرے خلاف گواہ کافی ہیں۔ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا تم بولو تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بولیں گے، پھر اس کے اور ان کے درمیان گفتگو کی اجازت دی جائے گی تو وہ کہے گا اپنے اعضاء سے کہ دور ہو بلکہ تم پر ہلاکت ہو اور میں اس لئے تمہاری حفاظت کیا کرتا تھا۔
2:۔ مسلم والترمذی وابن مردویہ اور بیہقی نے ابوسعید و ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی، اور میں نے تجھ کو سردار نہیں بنایا اور میں نے تیری شادی نہیں کی تھی، اور میں نے گھوڑے اور اونٹ تیرے تابع نہیں کردئیے تھے، کیا میں نے تجھے چھوڑے نہیں رکھا کہ تو سرداری کرتا رہے اور خوشحال زندگی گزارتا رہے، تو وہ کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، کیا تجھے علم تھا تو مجھ سے ملاقات کرے گا ؟ وہ کہے گا نہیں ! رب تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تجھ کو بھلا دیا جیسے تو نے مجھ کو بھلادیا پھر دوسرا ملے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے بھی اسی طرح فرمائیں گے، پھر تیسرا ملے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی اسی طرح فرمائیں گے۔ وہ کہے گا، میں آپ پر ایمان لایا، آپ کی کتابوں پر، آپ کے رسولوں پر، میں نے نماز پڑھی میں نے روزہ رکھا اور میں نے مال صدقہ کیا وہ ایسی ہی تعریف کرے گا جتنی وہ کرسکے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا ہم تجھ پر گواہ کھڑے نہ کریں وہ اپنے دل میں سوچے گا کون مجھ پر گواہی دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کے منہ پر مہر لگادیں گے اور اس کی ران سے کہا جائے گا تو بول تو اس کی ران، اس کا گوشت، اس کی ہڈیاں، اس کے اعمال کی گواہی دیں گے (کہ یہ اعمال ہم کیا کرتے تھے) جن کا وہ کوئی عذر پیش نہیں کرسکے گا اور یہ سب اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے ہوگا۔
3:۔ احمد وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) اور ابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا سب سے پہلے انسان میں سے جو بڑی بات کرے گی جس دن ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی وہ اس کی بائیں ران ہوگی (جو سب سے پہلے بات کرے گی )
4:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن مؤمن کو حساب کے لئے بلایا جائے گا اس کا رب اس کے عملوں کو اس پر پیش کرے گا یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان معاملہ ہوگا تاکہ وہ اپنے گناہوں کو پہچان لے، اور فرمایا زمین پر کوئی مخلوق بھی ان گناہوں میں سے ذرا بھی کسی کو نہ دیکھے گی، اور اس کی نیکیاں ظاہر ہوں گی تو وہ پسند کرے گا اس بات کو کہ سب لوگ اس کی نیکیاں دیکھیں، اور کافر اور منافق کو حساب کے لئے بلایا جائے گا ان کا رب ان کے عملوں کو ان پر پیش کرے گا تو وہ اس کا انکار کردے گی اور کہے گا، اے میرے رب ! آپ کی عزت کی قسم مجھ پر اس فرشتے نے ایسے اعمال لکھ دیئے ہیں جو میں نے نہیں کئے، فرشتہ اس سے کہے گا تو نے فلاں دن میں یہ عمل نہیں کیا تھا فلاں جگہ میں، وہ کہے گا نہیں اور آپ کی عزت کی قسم ! اے میرے رب ! میں نے یہ عمل نہیں کیا، جب وہ ایسا ایسا کرے گا تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی، میں گمان کرتا ہوں کہ سب سے پہلے اس کی دائیں ران بولے گی پھر یہ (آیت) ” الیوم نختم علی افواھم “
5:۔ ابن ابی شیبہ، حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں بسرہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ مہاجرات میں سے تھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لازم پکڑو تم تسبیح (یعنی سبحان اللہ کہنے) اور تہلیل (یعنی لا الہ الا اللہ کہنے) کو اور تقدیس (یعنی پاکی بیان کرنے) کو اور ان سے غافل ہوجاؤ اور ان کو انگلیوں کے ساتھ گنو کیونکہ ان (انگلیوں سے) سوال ہوگا اور ان کو بولنے کے لئے کہا جائے گا۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی سے قیامت کے دن کہا جائے گا تو نے ایسا ایسا عمل کیا کہے گا میں نے یہ عمل نہیں کیا تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء بولیں گے وہ اپنے اعضاء سے کہے گا اللہ تعالیٰ تم کو رسوا کرے میں نے تمہارے بارے میں جھگڑا کیا ہے (الٹا تم میرے خلاف بولنے لگے )
7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے اسماء بن عبید اللہ ؓ سے روایت کیا کہ آدم کے بیٹے کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور اس کے ساتھ پہاڑ جتنے اعمال نامے ہوں گے، ہر گھنٹے کا ایک اعمال نامہ ہوگا، بدکار کہے گا آپ کی عزت کی قسم ! انہوں نے مجھ پر وہ اعمال لکھ دیئے جو میں نے نہیں کئے، تو اس وقت ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ان کے اعضاء کو بولنے کی اجازت دے دی جائے گی، سو سب سے پہلے آدم کے بیٹے کے اعضاء میں سے اس کی بائیں ران بولنے والے ہوگی ،
8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الیوم نختم علی افواھم “ یعنی ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو وہ گفتگو نہ کرسکیں گے۔
9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جھگڑے اور باتیں ہوں گی، اور یہ اس کے آخر میں ہوگا کہ ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی۔
10:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ انسان میں سے سب سے پہلے اس کی دائیں ران بات کرے گی۔
Ayah 36:661:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو نشآء لطمسنا علی اعینہم “ (اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھوں کو ملیامیٹ کردیتے یعنی ہم نے ان کو اندھا کردیا اور ہم نے ان کو ہدایت سے گمراہ کردیا (آیت) ” فانی یبصرون “ پھر وہ کس طرح ہدایت پاتے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاستبقوا الصراط “ (پھر وہ دوڑتے پھرتے) صراف سے مراد ہے راستہ (آیت) ” فانی یبصرون “ (پھر وہ کس طرح دیکھیں) جب کہ ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو نشآء لمسخنہم “ یعنی ہم ان کو ہلاک کردیتے (آیت) ” علی مکانتھم “ ان کے گھروں میں۔
4:۔ ابن المنذر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو نشآء لمسخنہم “ یعنی ہم ان کو پتھر بنادیتے اگر ہم چاہتے۔
Ayah 36:675:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولو نشآء لمسخنہم “ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو ان کو اندھا بنا کر چھوڑ دیتے تو یونہی وہ بھٹکتے پھرتے (آیت) ” ولو نشآء لمسخنہم علی مکانتھم “ (اور اگر ہم چاہتے تو ان کو ان جگہوں پر مسخ کردیتے) یعنی اگر ہم چاہتے تو ان کو اپاہج بنادیتے تو وہ کھڑے نہ ہوسکتے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما استطاعوا مضیاولا یرجعون “ کہ وہ نہ آگے چل سکتے اور نہ پیچھے لوٹ سکتے یعنی وہ نہ آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے لوٹ سکتے۔
Ayah 36:681:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق “ (اور ہم جس کی زیادہ عمر کردیتے ہیں تو اس کو اطمینان میں الٹا کردیتے ہیں) اس سے مراد بڑھاپا ہے جس سے اس کی سماعت اس کی نگاہ اور اس کی قوت متغیر ہوجاتی ہے جیسے تو نے دیکھا۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق، افلا یعقلون “ یعنی ہم اس کو نکمی عمر کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق “ اس سے مراد اسی سال کی عمر ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن نعمرہ “ یعنی ہم جس کی عمر لمبی کردیتے ہیں (آیت) ” ننکسہ فی الخلق “ سے مراد بڑھاپا ہے جیسے فرمایا (آیت) ” لکیلا یعلم من علم شیئا “ (الحج آیت 5) (تاکہ وہ کسی چیز کو نہ جانے جاننے کے بعد) یعنی بوڑھاپے (کی وجہ سے )
Ayah 36:691:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما علمنہ الشعر “ (اور ہم نے اس کو شعر نہیں سکھائے) یعنی محمد ﷺ کو۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما علمنہ الشعروما ینبغی لہ ، ( اور ہم نے اس کو شعر نہیں سکھائے اور نہ یہ ان کے لائق ہے) یعنی محمد ﷺ کو (شعر کہنا لائق نہیں) اللہ تعالیٰ نے اس سے آپ کو محفوظ رکھا (آیت) ” ان ھو الا ذکر و قرآن مبین “ (اور وہ تو محض نصیحت ہے) یعنی یہ تو ان (آیت) ” لینذر من کان حیا “ (تاکہ ایسے شخص کو ڈرائے جو زندہ ہے) اس سے دل کا زندہ ہونا اور آنکھوں کا زندہ ہونا مراد ہے۔ (آیت) ” ویحق القول علی الکفرین “ (اور کافروں پر عذاب کی حجت ثابت ہوجاتی ہے) یعنی ان کے برے اعمال کی وجہ سے فیصلہ ہوچکا ہے
3:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ عائشہ ؓ سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ ﷺ شعر میں کسی چیز کے ساتھ مثال دیا کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ شعر سب سے زیادہ آپ کو مبغوض تھا ہاں ! کبھی کبھی آپ اپنے بھائی بنو قیس کے اس شعر کے ساتھ مثال دیا کرتے تھے، اور آپ اس کے دوسرے مصرع کو پہلا اور پہلے مصرع کو دوسرا بنادیتے اور فرماتے
” ویأتیک من تم تزودبالاخیار :
ترجمہ : تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جس کا تو نے زاد راہ نہیں دیا۔
ابوبکر ؓ نے عرض کیا یہ اس طرح نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں شاعر نہیں ہوں اور نہ مجھ کو یہ لائق ہے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب کسی خبر کی شک والی بات پاتے تو طرفہ کے شعر سے بیان فرمادیتے :
” ایأتیک بالاخیارمن لم تزود :
ترجمہ : تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جس کا تو نے زادراہ نہیں دیا۔
5:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اشعار میں سے یہ مثال دیا کرتے تھے۔
” ایأتیک بالاخیارمن لم تزود :
ترجمہ : تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جس کا تو نے زادراہ نہیں دیا۔
6:۔ ابن سعید وابن ابی حاتم (رح) والمرزبان نے معجم الشعراء میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ اس شعر سے مثال دیا کرتے تھے۔
کفی بالاسلام والشیب للمرء ناھیا :
ترجمہ : اسلام اور بالوں کی سفیدی آدمی کو گناہوں سے روکنے کے لئے کافی ہے۔
ابوبکر ؓ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ آپ کے لائق ہے۔
7:۔ ابن سعد نے عبد الرحمن بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عباس بن مرداس سے فرمایا اپنے اس قول کے بارے میں بتاؤ ” اصبح نھبی ونھب العبیدبین الاقرع وعیینہ “
ابوبکر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپ شاعر نہیں ہیں اور نہ اس کی روایت کرنے والے ہیں اور یہ بات آپ کے لائق بھی نہیں اس نے اس طرح کہا ” بین عیینہ والاقرع “
8:۔ بیہقی نے (فی سننہ بسند فیہ من یجھل حالہ) عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی شعر کے بیت کو کبھی بھی جمع نہیں فرمایا (یعنی مکمل شعر نہیں پڑھا) مگر ایک شعر کو۔
” یقال بما تھوی یکن فلقا تقال لشی کان الا یحقق :
ترجمہ : یہ بات کہی جاتی ہے کہ جن کی ہم خواہش کریں وہ پھٹ جاتا ہے جس چیز کو کہا جاتا ہے کہ وہ ہوجائے تو ہو کر رہتی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ کیا تحققا تاکہ پڑھنے والا مضارع کا اعراب نہ دے اور نہ شعر بن جائے۔
9:۔ ابوداؤد، طبرانی، اور بیہقی (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مجھ کو کوئی پردہ نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوا اگر کسی تریاق کو پیوں یا تعویذ لٹکاؤں یا میں اپنے پاس شعر کہوں۔
Ayah 36:7010:۔ ابن جریر (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لینذر من کان حیا “ (تاکہ آپ ڈرائیے اس آدمی کو جو عاقل ہو)
11:۔ ابن ابی شیبہ نے نوفل بن عقرب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ کے ہاں شعر سنا جاتا تھا ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں شعر سب سے زیادہ مبغوض بات تھی۔
Ayah 36:711:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مماعملت ایدینا “ (ان چیزوں میں سے جو ہمارے ہاتھوں نے پیدا کیں) یعنی ہماری کاریگری میں سے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فھم لھا ملکون “ (پھر یہ لوگ ان کے مالک بن رہے ہیں) یعنی ان کو مضبوطی سے پکڑ رہے ہیں
Ayahs 36:72–73(آیت) ” وذللنھا لھم فمنھا رکوبھم “ ہم نے ان کے مویشیوں کو ان کا تابع بنادیا ہے سو ان میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں) یعنی ان پر سوار ہوتے اور ان پر سفر کرتے ہیں ہو (آیت) ” ومنھا یاکلون “ (اور بعض کو وہ کھاتے ہیں) یعنی ان کے گوشت کو (آیت) ” ولھم فیھا منافع “ (اور ان میں ان لوگوں کے لئے اور بھی نفع ہیں) یعنی ان کی اون سے بنا ہوا لباس پہنتے ہیں (آیت) ” ومشارب “ اور پینے کی چیزیں بھی ہیں کہ ان سے دودھ بھی پیتے ہیں (آیت) ” افلا یشکرون “ (سو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے)
3:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) نے عروہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عائشہ ؓ کے مصحف میں (آیت) ” فمنھا رکوبھم “ ہے۔
4:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” فمنھا رکوبھم “۔
5:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” فمنھا رکوبھم “ یعنی ان کی سواریاں ان کا بوجھ اٹھانے وہ یہاں ہے۔
Ayah 36:746:۔ ابن ابی الدنیا نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتخذوا من دون اللہ الھۃ “ (اور انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں یعنی وہ بت ہیں۔
7:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لعلھم ینصرون “ (شاید کہ وہ مدد کئے جائیں گے) یعنی شاید وہ (عذاب سے روکے جائیں گے )
Ayahs 36:75–768:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یستطیعون نصرھم “ یعنی کوئی معبود ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھے گا۔
9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یستطیعون نصرھم “ میں ” ھم “ ضمیر سے مراد بت ہیں یعنی وہ کافر بتوں کی اور بت کافروں کی مدد نہیں کرسکتے (آیت) ” وھم لھم جند محضرون “ (اور وہ ان لوگوں کے حق میں ایک مخالف فریق ہوجائیں گے جو حاضر کئے جائیں گے) کہ مشرکین دنیا میں تو بتوں سے ناراض ہوتے ہیں جب یہ بت ان کو کوئی خیر نہیں دے سکتے اور نہ ان سے کسی مصیبت کو دور کرسکتے ہیں بلکہ یہ تو صرف بت ہیں۔
10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم لھم جند محضرون “ یعنی وہ ان کے لئے لشکر ہیں دنیا میں اور وہ (آیت) ” محضرون “ اور وہ آگ میں حاضر کئے جائیں گے۔
11:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم لھم جند محضرون “ سے مراد ہے کہ یہ مشرک اپنے بتوں کے لشکر ہیں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ان کی طرف سے (دفاع) کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں۔
Ayahs 36:77–781:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والا سماعیلی نے اپنے معجم میں والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے البعث میں اور الضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عاص بن وائل رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا اور اس کو اپنے ہاتھ سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کہنے لگا، اے محمد ! ﷺ کیا اس کو زندہ کرے گا اس کے بعد کہ میں اسے اس حال میں دیکھ رہا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کرکے دوبارہ اٹھائے گا، پھر تجھ کو موت دے گا پھر تجھ کو زندہ کرے گا پھر تجھ کو جہنم کی آگ میں داخل کرے گا تو اس پر سورة یسین کے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” اولم یرالانسان اناخلقنہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین “ (کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا وہ اعلانیہ اعتراض کرنے لگا )