Ayahs 28:23–281۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھوکے ہونے کی حالت میں ڈرتے ہوئے نکلے ان کے پاس کانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی یہاں تک کہ مدین کے چشمہ پر پہنچے اور اس پر لوگوں کی ایک جماعت جانوروں کو پانی پلا رہی تھی۔ اور دو عورتیں اپنی بکریوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں موسیٰ نے ان سے پوچھا کیا مسئلہ ہے آیت قالتا لا نسقی حتی یصدر الرعاء وابونا شیخ کبیر، دونوں عورتوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں بلاتیں جب تک چرواہے پانی پلا کر نکال کر نہ لے جائیں اور ہمارے والد بڑے بوڑھے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تمہارے قریب بھی پانی ہے انہوں نے کہا نہیں مگر ایک کنواں ہے جس پر ایک پتھر ہے جس نے کنویں کو ڈھانپ رکھا ہے جس کو اٹھانے کی کسی طاقت نہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم دونوں چلو اور مجھے اس کو دکھاؤ وہ دونوں ان کے ساتھ چلیں موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے اس پتھر کو ہٹا دیا اور اسے کنویں سے دور کردیا پھر ان کے جانوروں کے لیے ایک ہی ڈول نکالا اور بکریں کو پانی پلادیا اس پتھر کو اپنی جگہ پر رکھ دیا پھر آپ سائے کی طرف چل دئیے اور عرض کیا آیت رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر، یعنی اے میرے رب جو نعمت آپ مجھے دیں میں اس کا سخت حاجت مند ہوں۔ ان دونوں لڑکیوں نے اس کو سن لیا جوا نہوں نے دعا مانگی وہ دونوں اپنے باپ کی طرف گئیں باپ نے ان دونوں کے جلدی آنے پر تعجب کیا اس نے ان دونوں سے پوچھا کیوں جلدی آئیں پھر انہوں نے ان کو بتایا شیخ نے ان دونوں میں سے ایک سے کہا جاؤ اور اس کو بلا کرلے آؤ۔ وہ بچی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی اور کہنے لگی آیت قالت ان ابی یدعوک لیجزیک اجر ما سقیت لنا۔ کہ میرا باپ تجھ کو بلا رہا ہے تاکہ وہ تجھ کو بدلہ دے جو تو نے ہماری بکریں کو پانی پلایا وہ بچی موسیٰ (علیہ السلام) سے آگے چلنے لگی۔ موسیٰ نے اس سے فرمایا میرے پیچھے چل کیونکہ میں ابراہیم کی نسل میں سے ہوں میرے لیے حلال نہیں کہ میں تجھ کو دیکھوں اس کو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حرام کردیا ہے اور مجھے راستہ بتاتی جا۔
مدین میں شعیب (علیہ السلام) کی خدمت
آیت لنا فلما جاء ہ وقص علیہ القصص۔ یعنی جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کو سارا قصہ سنایا ان میں سے ایک لڑکی نے کہا اے میرے باپ اس کو اجرت پر رکھ لو کیونکہ بہترین اجرت میں رکھا ہوا۔ وہ ہوتا ہے جو قوی اور امین ہو اس کے اپنے باپ نے اس لڑکی سے پوچھا تو نے کیا دیکھا اس قوت اور اس کی امانت میں سے تو اس نے اس کام کا بتایا جو موسیٰ نے کیا تھا کہنے لگی اس کی قوت یہ ہے کہ اس نے پتھر اکیلے ہٹا دیا حالانکہ ایک جماعت اس کو ہٹاتی تھی اور اس کی امانت یہ ہے کہ اس نے مجھ سے کہا کہ میرے پیچھے چل اور مجھے راستہ بتاتی رہ اس لیے کہ میں ایک آدمی ہوں ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے میرے لیے حلال نہیں ہے کہ تجھ سے وہ چیز دیکھوں جو اللہ نے حرام قرار دی ہے۔ ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا موسیٰ (علیہ السلام) نے کونسی مدت پوری کی۔ فرمایا جس میں زیادہ نیکی اور زیادہ پورا کرنے کا لائق تھی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ نے المصنف میں وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ عمر بن کطاب ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب مدین کے پانی پر اترے تو وہاں لوگوں کی ایک جماعت کو پایا جو جانوروں کو پانی پلا رہی تھی جو وہ پانی پلانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے پتھر کو کنویں پر دوبارہ رکھ دیا اسے دس آدمی ہی اٹھاسکتے تھے۔ اور یہ دو عورتیں تھی جو ایک طرف کو کھڑی ہوئی تھیں۔ آیت قال ماخطبکما۔ موسیٰ نے پوچھا تمہارا کیا مسئلہ ہے انہوں نے ان کو مسئلہ بتایا موسیٰ (علیہ السلام) چٹان کے پاس آئے اس کو اکیلے اٹھادیا پھر ان کی بکریوں کو پانی پلایا آپ نے صرف ایک ڈول ہی نکالا تھا کہ ساری بکریاں سیراب ہوگئیں۔
دونوں عورتیں اپنے باپ کی طرف واپس آئیں اور اس کو سارا حال سنایا موسیٰ (علیہ السلام) ایک سائے کی طرف چل دئیے اور دعا کی آیت فقال رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر فرمایا اے میرے رب جو نعمت تو مجھے دے میں اس کا سخت حاجت من دہوں آیت احدھما تمشی علی استحیاء یعنی اس میں سے ایک لڑکی آئی جو شرماتے ہوئے چل رہی تھی اپنے کپڑے کو اپنے چہرے پر رکھے ہوئے وہ ان جری خواتین میں سے نہ تھی جو مردوں کے پاس بےباک چلی آتی ہیں۔ آیت قالت ان ابی یدعوک لیجزیک اجر ماسقیت لنا کہنے لگی میرا باپ تجھ کو بلاتا ہے تاکہ آپ کو اس کا اجر دے۔ جو تو نے ریوڑ کو پانی پلایا موسیٰ (علیہ السلام) اس کے ساتھ چل پڑے اور اس سے فرمایا میرے پیچھے چل اور مجھے راستہ بتاتی جا بلاشبہ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ تیرے کپڑوں کو ہوا پہنچ جائے اور وہ تیرے جسم کی حالت کو بیان کردے جب اس کے باپ کے پاس پہنچے تو ان کو سارا قصہ بیان کیا ان میں سے ایک لڑکی کہنے لگی آیت یا ابت استجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین یعنی اے میرے باپ اس کو اجرت پر رکھ لیجیے کیونکہ جس کو آپ اجرت پر رکھ رہے ہیں وہ طاقتور اور امانت دار ہے۔ باپ نے پوچھا اے میری بیٹی تجھے اس کی قوت اور مانت کا کیسے پتہ چلا لڑکی نے کہا اسکی قوت تو یہ ہے کہ اس نے پتھر کو اٹھا لیا جس کو دس آدمی مل کر اٹھایا کرتے تھے اور اس کی امنت یہ ہے کہ اس نے کہا میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتاتی جاؤ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ تیرے کپڑوں کو ہوا پہنچ جائے اور وہ تیرے جسم کی حالت کو بیان کردے۔ اس چیز نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں حضرت شعیب کی رغبت میں اضافہ کردیا اور کہا آیت انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ہتین یعنی میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ تیرا نکاح کردوں، آیت ستجدنی انشاء اللہ من الصالحین عنقریب آپ مجھے پائیں گے اگر اللہ نے چاہا نیک لوگوں میں سے۔ یعنی اچھی صھبت والا اور وعدہ پورے کرنے والا جو میں نے بات کہی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا آیت قال ذلک بینی وبینک ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی، یعنی یہ معاملہ ہے میرے اور آپ کے درمیان میں دونوں مدتوں میں سے جو مدت میں پوری کردوں اس کے بعد مجھ پر زیادتی نہ ہونی چاہیے۔ شعیب نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔ آیت واللہ علی مانقول وکیل۔ اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے پھر حضر شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کردی اور ان کو اپنے پاس بلایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کی خدمت کے لیے کافی ہوگئے اور ان کی بکریاں چرانے میں ان کی خدمت کرتے رہے اور دوسرا کام جو کوئی ہوتا تو وہ بھی بجا لاتے حضرت شعیب نے صفورا کا نکاح کردیا اور اس کی بہن کا نام شرفا تھا اور یہی دونوں لڑکیاں اپنی بکریوں کو چراتی تھیں۔
3۔ احمد فی الزہد وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولما ورد ماء مدین کے بارے میں فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کنویں پر پہنچے تو کمزوری کی وجہ سے ان کے پیٹ سبزیوں کی سبزی دکھائی دے رہی تھی۔
4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے مدین کی طرف نکلے ان کے اور مدین کے درمیان آٹھ دنوں کا فاصلہ تھا آپ کا کھانا صرف درختوں کے پتے تھے۔ اور آپ ننگے پاؤں نکلے تھے۔ آپ مدین نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کے قدم کے موزے گرگئے۔
5۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولما ورد ماء مدین کے بارے میں فرمایا کہ مدین کا سفر پینتیس دن کا تھا۔
6۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت امۃ من الناس یسقون سے مراد ہیں لوگ آیت رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر میں خیر سے مراد ہے کھانا۔
7۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ووجد من دونہم امرأتین کے بارے میں فرمایا کہ ان دونوں کے نام یہ تھے لیا اور صفورا اور ان دونوں چار چھوٹی بہنیں تھیں جو بکریوں کو چھوٹے چشموں سے پانی پلاتی تھیں۔
8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت تذودان سے مراد ہے کہ وہ اپنی بکریوں کو روکے ہوئے تھیں یہاں تک کہ لوگ فارغ ہوجائیں اور ان کے لیے کنواخالی ہوجائے۔
10۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قالتا لانسقی حتی یصدر الرعاء سے مراد ہے کہ وہ انتظار کر رہی تھیں کہ وہ اس بچے ہوئے پانی میں سے پلائیں جو حوض میں بچا ہوا تھا۔
11۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ آیت حتی یصدرالرعاء میں یصدر کو یاء کے فتحہ رعاء راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ ہی سے خیر طلب کرے
12۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا آیت رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر یعنی اے میرے رب جو نعمت آپ مجھے بھیج دیں میں اس کا محتاج ہوں حالانکہ وہ اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ عزت والے تھے۔ اور کھجور کے ایک ٹکڑے کی طرف محتاج ہوچکے تھے۔ اور بھوک کی شدت کی وجہ سے ان کا پیٹ ان کی پیٹھ سے لگا ہوا تھا۔
13۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فقال رب انی الما انزلت الی من خیر فقیر کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے روٹی کے ایک ٹکڑے کا سوال کیا کہ جس کے ذریعہ وہ اپنی پیٹھ کو مضبوط کریں بھوک کی وجہ سے۔
14۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت فقال رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے روٹی کے ایک ٹکڑے کا سوال کیا کہ جس کے ذریعہ وہ اپنی پیٹھ کو مضبوط کریں بھوک کی وجہ سے۔
15۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں لڑکیوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا آیت ثم تولی الی الظل فقال رب رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر۔ یعنی پھر ایک سائے کی طرف لوٹ گئے اور فرمایا جو کچھ آپ میری طرف نازل فرمائیں کسی نعمت میں سے میں اس کا محتاج ہوں میں اس دن کھجور کی گٹھلی کے محتاج تھے۔
16۔ ابن ابی شیبہ واحمد فی الزہد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر یعنی اس وقت کھانے کی وہ مقدار طلب کر رہے تھے جو ان کی سیر کردے۔
17۔ الفریابی واحمد نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نہیں سوال کیا انہوں نے مگر کھانے کا جس کو وہ کھالیں۔
18۔ الفریابی واحمد نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ آیت رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر یعنی اس نے اس لیے مانگا کہ ان کے پاس نہ روٹی تھی نہ درہم تھا۔
19۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم عبداللہ ابی الہذیل کے طریق سے حضرت عمر بن خطاب ؓ آیت تمشی علی استحیاء کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لڑکی آئی تو وہ اپنے چہرے کو اپنی قمیض کی آستین سے چھپائے ہوئے تھی۔
20۔ ابن المنذر نے ابن ابی ہذیل (رح) سے اس کو موقوفا روایت ہے۔
21۔ احمد نے مطرف بن شخیر (رح) سے روایت کیا کہ اللہ قسم اگر اللہ کے نبی کے پاس کوئی چیز ہوتی تو آپ اس دودھ ملے پانی سے گھونٹ کے پیچھے نہ لگتے۔ لیکن بھوک کی شدت نے آپ کو اس بات پر آمادہ کیا۔
کام خالص اللہ کے لیے ہونا چاہیے
22۔ ابن عساکر نے ابو حازم (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) شعیب (علیہ السلام) کے پاس آئے تورات کے کھانے کا وقت تھا شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کھانا کھائیے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں۔ پوچھا کیوں ؟ کیا تم بھوکے نہیں ہو فرمایا کیوں نہیں لیکن میں ڈرتا ہوں کہ یہ اس کام کے عوض نہ ہو جو میں نے ان بکریوں کو پانی پلایا تھا جبکہ میں ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں کہ ہم آخرت کے عمل کے عوض میں زمین بھر سونا نہیں چاہتے۔ شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی قسم ایسا نہیں ہے لیکن میرے آباء و اجداد کا معمول ہے کہ ہم مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہٰ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) بیٹھ گئے اور کھانا کھالیا۔
23۔ ابن ابی حاتم نے مالک بن انس ؓ سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو واقعات سنائے تھے۔
24۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ لوگ کہتے ہیں وہ شعیب (علیہ السلام) تھے لیکن وہ شعیب نہیں تھے لیکن اس دن وہ کنویں کا مالک تھا۔
25۔ سعید بن منصور واب نابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوعبیدہ (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی اثرون تھا جو شعیب (علیہ السلام) کا بھتیجا تھا۔
26۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سسر کا نام یثربی تھا۔
27۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ ابو مرہ کی کنیت کو ناپسند فرماتے تھے اور وہ فرعون کی کنیت تھی جس کو ناپسند فرمایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو مزدوری پر رکھا اس کا نام یثربی تھا جو مدین کا مالک تھا۔
28۔ سعید بن منصور نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ ابو مرہ کی کنیت کو ناپسند فرماتے تھے اور وہ فرعون کی نیت تھی جس کو ناپسند فرمایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بیوی کا نام صفیرا بنت یثرون تھا۔
29۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے القوی کے بارے میں روایت کیا کہ جو پتھر اس کنویں کے منہ پر پڑا ہوا تھا اسے ہٹا دیا اور ان سے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ الامین سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنی نظر کو نیچے رکھا۔ جب ان کو پانی پلایا تو اس نے مجھے اپنے پیچھے کردیا جب ان کو پانی پلایا۔
30۔ الطبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی ہونے والی بیوی نے کہا نے کہ آیت یا ابت الستاجرہ ان خیر من استجرت القوی الامین “ یعنی ان کو نوکر رکھ لو کیونکہ بہترین نوکر وہ ہوتا ہے جو قوت والا اور امانت دار ہو پوچھا اس کی قوت سے تم نے کیا دیکھا اس نے کہا وہ کنویں پر آیا اس پر ایک پتھر پڑا ہوا تھا اسے اتنے اور اتنے آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے اور ان سے اس کو اکیلے ہی اٹادیا پھر پوچھا اس کی امانت میں سے تو نے کیا دیکھا اس نے کہا کہ میں اس کے آگے چل رہی تھی تو اس نے مجھے اپنے پیچھے کردیا۔
31۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ہتین یعنی میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے کسی سے تیرا نکاح کردوں پھر فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اس نے بڑی لڑکی کا ان سے نکاح کردیا جس نے ان کو بلایا تھا اور اس کا نام صفورا تھا اور اس کا والد شعیب کا بھتیجا تھا اس کا نام رعاویل تھا اور مجھ کو خبردی جو بہت سچ بولنے والا تھا اس کا نام کتاب میں یثرون تھا جو مدین کا کاہن تھا اور کاہن سے مراد ہے بڑا عالم۔
32۔ ابن المنذر نے نوف شامی (رح) سے روایت کیا کہ اس عورت نے موسیٰ کا ایک لڑکا جنا اس کا نام جرثمہ تھا۔
33۔ ابن ماجہ ولبزار وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے عقبہ بن المنذر السمی ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا آپ نے پڑھ طس یہاں تک کہ موسیٰ کے قصہ پر پہنچے پھر فرمایا کہ (علیہ السلام) نے آٹھ سال یا دس اپنی پاکدامنی اور کھانے پر مزدوری کی جب مدت پوری کردی تو کہا گیا یارسول اللہ ! کونسی مدت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوری کی فرمایا جو ان میں سے جو ان میں سے زیادہ قسم پوری کرنے والی اور کامل تھی۔ جب شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے علیحدہ ہونے کا ارادہ کیا تو انی بیوی کو حکم دیا کہ وہ اپنے باپ سے سوال کرے کہ وہ اپنی بکریوں میں سے اتنی مقداردے دے کہ جس سے وہ زندگی گزار سکیں تو انہوں نے اپنی بیٹی کو وہ بکریاں دیں جنہوں نے اس سال بدلے ہوئے رنگوں والے بچے جنے تھے اور ان کی بکریاں خوبصور کالے رنگ کی ٹھیں موصی (علیہ السلام) اپنی لاٹھی کی طرف چلے اس کو ایک طرف بلند کیا پھر اس کو حوض کی پست جگہ پر رکھ دیا۔ پھر ان بکریوں کو لے آئے اور ان کو پانی پلایا موسیٰ حوض کے سامنے کھڑے رہے۔ اس میں سے کوئی بکری واپس نہ جاتی مگر اس کے پہلے میں ایک ایک بکری کھڑی کرتے انہوں نے نشو نما پائی اور تین گنا ہوگئیں ان سب نے بدلے رنگ والے بچے جنے یعنی اپنی ماں کے رنگ پر نہ تھے مگر ایک یا دو بکریاں نے ان میں سے کوئی بکری ایسی نہ تھی جس کا دودھ دو ہے بغیر بہتا رہتا ہو ان میں سے کوئی بکری ایسی نہ تھی جس کا تھن کا سوراخ تنگ ہو اور نہ کوئی بکری ایسی تھی جس کا دودھ کم ہو اور نہ ہی کوئی بکری ایسی تھی جس کا تھن زائد ہو اور نہ ہی کوئی بکری ایسی تھی جس کے تھن چھوٹے ہوں جسے ہتھیلی گرفت میں نہ لائے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر تم شام کے ملک میں جاؤ تو ان بکریوں میں سے باقی ماندہ بکریاں دیکھو گے یہی سامریہ ہے ابن لہیعہ نے کہا فشوش سے مرا دوہ بکری ہے جس کے تھن کا سوراخ کھلا ہوا ہے اس کا دودھ خود بخود بہتارہتا ہے ضبوب وہ بکری ہے جس کی کھیری لمبی ہو سوراخ تنگ ہو۔ اور غرور جس کی کھیری چھوٹی ہو اور تفول وہ ہے جس کی کھیری بسپات کی دو پھٹنیوں کی طرح ہو اور کمشہ سے مراد وہ بکری ہے جس کی کھیری اتنی چھوٹی ہو کہ ہاتھ اسے نہ پہنچ سکے۔
34۔ ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی شعیب (علیہ السلام) کو متوجہ کیا اس مدت کی طرف جو ان کے درمیان تھی تو تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نے ان سے کہا ہر بکری جو اپنے رنگ پر بچے جنے تو تیرے لیے اس رنگ کی بکریاں ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ تو پانی پر ایک ڈھانچہ سا لگادیا جب بکریوں نے وہ ڈھانچہ دیکھا تو ڈر گئیں تو ایک دم پھر گئیں تو سب بکریں نے چتکبرے بچے دئیے سوائے ایک بکری کے وہ سال ان سب کے رنگ لے گیا۔
35۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ نے المصنف میں وعبد بن حمید والبخاری وابن المنذر وابن مردویہ ووابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا کیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے کونسی مدت پورا کی۔ تو فرمایا کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ اور پاکیزہ تھی۔ کیونکہ اللہ کا رسول کوئی بات کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے۔
36۔ البزار وابو یعلی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کو سنسی مدت پوری کی تھی تو جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا ان دونوں میں سے جو زیادہ کامل تھی۔
37۔ ابن ابی حاتم نے یوسف بن سرح (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ موسیٰ علیہ السلانے نے کونسی مدت پوری کی آپ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے پوچھا انہوں نے فرمایا مجھے علم نہیں جبرئیل نے اپنے سے بلند مرتبہ ایک فرشتے پوچھا اس نے کہا مجھے علم نہیں پھر اس فرشتے نے اپنے رب سے پوچھا تو رب عز وجل نے فرمایا اس مدت کو پورا کیا جو قسم کو زیادہ پورا کرنے والی تھی زیادہ تقوی والی تھی اور ان دونوں میں زیادہ پاکیزہ تھی۔
بطور احسان دس سال کی مدت پوری کی۔
38۔ ابن مردویہ نے علی بن عاصم کے طریق سے ابوہریرہ اور ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے سوال کیا کہ دونوں مدتوں میں کونسی مدت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوری کی۔ ابو سعید خدری نے کہا میں نہیں جانتا یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کروں تو آپ نے بھی فرمایا میں نہیں جانتا یہاں تک کہ جبرئیل (علیہ السلام) سے سوال کروں تو انہوں نے فرمایا نہیں جانتا یہاں تک کہ میں میکائیل (علیہ السلام) سے سوال کروں فرمایا نہیں جانتا یہاں تک میں رفع سے سوال کروں رفیع نے کہا میں نہیں جانتا یہاں تک کہ میں اسرافیل (علیہ السلام) سے سوال کروں فرمایا نہیں جانتا یہاں تک کہ میں رفیع سے سوال کرو۔ رفیع نے کہا میں نہیں جانتا یہاں تک کہ میں اسرافیل (علیہ السلام) سے سوال کروں انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھوں۔ اسرافیل (علیہ السلام) نے اپنی بلند آواز سے پوچھا اے عزت وشان والے کونسی مدت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوری کی۔ فرمایا دونوں مدتوں میں سے کامل اور پاکیزہ یعنی دس سال علی بن عاصم نے فرمایا کہ ابو ہارون جب اس حدیث کو بیان فرمایا تو فرماتے مجھے ابو سعید خدری ؓ نے بیان فرمایا نبی ﷺ سے اور انہوں نے جبرئیل (علیہ السلام) اور انہوں نے میکائیل (علیہ السلام) اور انہوں نے رفیع سے اور انہوں نے اسرافیل (علیہ السلام) سے اور انہوں نے عزت والے تبارک وتعالیٰ سے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے جو مکمل اور پاکیزہ تھی یعنی دس سال کی مدت پوری کی۔
39۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے کونسی مدت پوری کی فمرایا ان میں جو زیادہ کامل تھی۔
40۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا اے محمد ﷺ اگر آپ سے یہودی پوچھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کونسی مدت پوری کی تو آپ فرمادیجیے ان میں سے جو زیادہ کامل تھی اور اگر آپ سے سوال کریں کہ ان میں سے کونسی لڑکی سے موسیٰ (علیہ السلام) نے نکاح کیا تو آپ فرمادیجیے کہ ان میں سے چھوٹی کے ساتھ
41۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تجھ سے سولا کیا جائے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کونسی مدت پوری کی تو کہہ دینا جو ان میں سے بہترین اور زیادہ قسم پوری کرنے والی تھی اور جب تجھ سے سوال کیا جائے دونوں لڑکیوں میں سے کس کے ساتھ شادی کی تو کہہ دینا ان میں سے چھوٹی لڑکی کے ساستھ جو ان کے پاس آئی تھی اور اس نے کہا تھا آیت یا ابت استاجرہ ان خیر من استجرت القوی الامین یعنی اسے میرے باپ اسکو نوکر رکھ لو کیونکہ بہتر نوکر وہ وہتا ہے تو قوی اور امین ہو۔ باپ نے پوچھا تو نے اس کی قوت میں سے کیا دیکھا ؟ کہنے لگی کہ اس نے بھاری پتھر کو اٹھایا اور اس کو کنویں پر ڈال دیا پھر پوچھا تو نے اس کی کیا امانت دیکھی کہنے لگی کہ اس نے مجھ سے کہا میرے پیچھے چل اور میرے آگے مت چل۔
42۔ البیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کون سی مدت پوری کی آپ نے فرمایا ان دونوں میں جو زیادہ تھیں اور پاکیزہ تھیں۔
43۔ البزار وابن ابی حاتم والطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کونسی مدت پوری کی فرمایا دونوں مدتوں میں جو زیادہ قسم کو پورا کرنے والی اور کامل تھی پھر فرمایا اگر تجھ سے سوال کریں کہ دونوں لڑکیوں میں سے کونسی لڑکی کے ساتھ نکاح کیا تو کہہ دینا کہ ان میں سے چھوٹی کے ساتھ۔
44۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی حاتم وابن ابی شیبہ نے المصنف میں وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے محمد کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ پوچھا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کونسی مدت پوری کی فرمایا عنقریب میں سوال کروں گا جبرئیل (علیہ السلام) سے آپ نے سوال فرمایا تو انہوں نے فرمایا میں عنقریب میکائیل (علیہ السلام) سے سوال کروں گا انہوں نے اس سے پوچھا تو انہوں نے کہا عنقریب میں اسرافیل (علیہ السلام) سے سوال کروں گا ان سے انہوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں عنقریب رب تعالیٰ سے سوال کروں گا انہوں نے رب تعالیٰ سے سوال کیا تو فرمایا وہ مدت جو قسم کو زیادہ پوری کرنے والی اور کامل تھی۔
45۔ ابن مردویہ نے مقسم (رح) سے روایت کیا کہ میں حسن بن علی بن ابی طالب ؓ سے ملا اور میں نے ان سے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے کونسی مدت پوری کی پہلی یا دوسری ؟ فرمایا دوسری مدت۔
46۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللہ علی ما نقول وکیل یعنی ہم باہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے قول یعنی شعیب (علیہ السلام) کے قول پر اللہ تعالیٰ نگہبان ہے۔
Ayah 28:291۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلما قضی موسیٰ الاجل میں اجل سے مراد ہے دس سال پھر اس کے بعد دس سال مزید ٹھہرے رہے۔
2۔ ابن ابی حاتم سدی کے طریق سے عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدتپوری کرلی تو اپنی بویوی کو رات کو لے کر چل پڑے کہ راستہ بھول گئے اور یہ سردی کا موسم تھا ان کے لیے آگ کو بلند کیا گیا جب اس کو دیکھا تو گمان کیا کہ یہ آگ ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کا نور تھا اپنی بیوی سے فرمایا آیت امکثوا انی اٰنست نارا لعلی اتیکم منہا بخبر یعنی یہاں ٹھہر جاؤ میں نے آگ کو دیکھا ہے شاید کہ میں تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں اگر میں تمہارے پاس کوئی خبر نہ لایا تو میں تمہارے پاس آگ سے لے آؤں گا تاکہ تم سردی سے بچاؤ کے لیے اس کو تاپو۔
3۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اٰنس یعنی محسوس کیا آیت انی انست نارا سے مراد ہے کہ میں نے آگ کو محسوس کیا۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت لعلی اٰتیکم منہا بخبر کے بارے میں فرمایا شاید میں پالوں اس آدمی کو جو مجھے راستے کا بتادے اور وہ رستہ گم کرچکے تھے۔
5۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت او جذوۃ سے مراد ہے شعلہ
6۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت جذوہ سے مراد ہے درخت کی جڑ
7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جذوہ سے مراد ہے درخت کی جڑ کہ اس کے کنارے میں آگ تھی۔
8۔ ابن ابی حاتم ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت الجذوہ سے مراد ہے ایندھن کی لکڑی جس میں آگ ہو
9۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) 9 سے سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو او جذوہ جیم کے نصب کے ساتھ پڑھا۔
10۔ ابو عبید وابن مردویہ وابن عساکر نے ابوالملیح (رح) سے روایت کیا کہ میں میمون بن مہران کے پاس آیا تاکہ میں ان کو الوداع کہوں ان کی تجارت کی غرض سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے فرمایا اس امر سے مایوس نہ ہوجانا کہ تجھے اس سفر میں دین کی وہ چیز حاصل ہو جو اس سے افضل ہو جو تو دنیا ملاقات کی امید رکھتا ہے کین کہ جب ملکہ سبا گھر سے چلی تھی جبکہ اسے اپنے ملک سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اس چیز کی طرف نکالا جو اس سے بہتر تھی وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی طرف ہدایت دی اور موسیٰ (علیہ السلام) نکلے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے آگ لے آئیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز کی طرف نکالا جو اس سے بہتر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا۔
11۔ الخطیب نے عارئشہ ؓ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس کی تو امید کرتا ہے اس کی بنسبت جس کی تو امید نہیں رکھتا اس کے لیے زیادہ امید رکھنے والا بن جا کیونکہ موسیٰ عبن عمران (علیہ السلام) آگ کو لینے کے لیے نکلے اور نبوت لے کر آئے۔
Ayah 28:30بقعہ مبارک میں غیبی آواز
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت نؤدی من شاطئی الوادء الایمن کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آسمان دنیا سے آواز تھی۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت نودی من شاطء الواد الایمن سے مراد ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دائیں جانب سے جو طور کے پاس ہے۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ندا درخت کے دائیں طرف سے تھی یہ ندا آسمان سے آئی تھی اس کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔
4۔ عبد بن حمید وابن المنذ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ درخت کے داہنی جانب سے پکارا گیا۔
5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت من الشجرۃ کے بارے میں فرمایا کہ مجھے خبر دی گئی کہ وہ ایک کانٹے دار درخت تھا۔
6۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت من الشجرۃ یعنی وہ ایک کانٹے دار درخت تھا۔
7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میرے سامنے اس درخت کا ذکر کیا گیا کہ جس کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) نے پناہ لی تھی کہ میں اس کی طرف چلتا رہا ایک دن اور ایک رات یہاں تک کہ صبح کے وقت وہاں پہنچ گیا۔ وہ ببول کا درخت تھا وہ ہرا بھرا اور پتوں سے بھرا ہوا تھا میں نے نبی ﷺ پر درود وسلام پڑھا اور میں نے اس کی طرف اپنے اونٹ کو قائل کیا کیونکہ وہ بھوکا تھا اس نے منہ بھر کر اس سے کھایا منہ میں گھمایا مگر اس کو نہ نگل سکا تو اس کو باہر پھینک دیا میں نبی ﷺ پر درود وسلام پڑھا پھر میں واپس آگیا۔
8۔ ابن ابی حاتم نے نوف بکامی (رح) روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی ایمن کے کنارے سے آواز دی گئی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا تو کون ہے جو مجھ کو پکار رہا ہے تو فرمایا میں تیرا بڑا رب ہوں۔
9۔ ابن ابی حاتم نے ابوبکر ثقفی (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) رات کے وقت درخت کے پاس آئے اور وہ ہرا بھرا تھا اور آگ اس میں لوٹ رہی تھی وہ آگ لینے کے لیے آگے بڑھے تو وہ آگ ان سے لپٹ گئی اس سے وہ خوف زدہ ہوئے اور گھبراگئے تو وادی ایمن کی ایک جانب سے آواز دی گئی فرمایا درخت کے داہنی جانب سے آپ اس آواز سے مانوس ہوئے تو عرض کیا تو کہاں ہے تو کہا گیا میں تیرے اوپر ہوں پوچھا کیا میرا رب ہے فرمایا ہاں میں تیرا رب ہوں۔
Ayahs 28:31–371۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ولی مدبرا سے لے کر آیت من الرھب کے بارے میں فرمایا کہ یہ تقدیم قرآن میں سے ہے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک میں جناحک سے مراد ہے اپنا ہاتھ۔
3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واضمم الیک جناحک یعنی اپنے ہاتھ کو اپنے بازو کے نیچے کرلو آیت من الرہب یعنی خوف سے آیت فذنک برہانٰن (یعنی یہ دو دلیلیں ہیں) لاٹھی اور ہاتھ آیت ردأ یعنی مددگار آیت ونجعل لکما سلطنا تاکہ ہم بتادیں تمہارے لیے ایک حجت
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والم یعقب یعنی ڈر کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا آیت اسئلک یدک فی جیبک یعنی اپنی قمیض کے گریبان میں اپنے ہاتھ کو لے جاؤ آیت تخرج بیضاء من غیر سوء یعنی سفید ہو کر نکلے گا بغیر مرض کی بیماری کے آیت واضمم الیک جناحک من الرحب یعنی رعب کی وجہ سے آیت فذانک برہانٰن۔ یعنی یہ دونوں نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے آیت فارسلہ معی ردأ، یعنی ہارون کو میرے ساتھ بھیج دو میرا مددگار۔
5۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت من الرہب میں الرہب کو تخفیف کے ساتھ اور را کو رفع کے ساتھ پڑھا اور فذنک کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
6۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن کثیر اور قیس رحمۃ اللہ علیہما دونوں سے روایت کیا کہ دونوں آیت فذنک برہانٰنکو نون ثقیلہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔
7۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ردأ یصدقنی سے مراد ہے تاکہ وہ میری تصدیق کریں۔
8۔ ابن ابی حاتم نے ابن وہب کے طریق سے روایت کیا کہ نافع بن ابی نعیم (رح) نے ہم کو خبردی کہ میں نے مسلم بن جندب (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ردأ یصدقنی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا الردأ سے مراد ہے زیادہ ہونا کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔
واسمر خطی کان کعوبہ نوی القصب قد اردی ذرا عاعلی عشر
ترجمہ : کتنے ہیں گندم گوں خطی نیزے ہیں جس کے پورے گنے کی پوروں کی طرح نہیں اور ان کی لمبائی دس ذراع سے بھی زیاہد ہے
9۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت سنشد عضدک باخیک کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا عضدک سے مراد ہے مدد کرنے والا پوچھا کیا عرب کے لوگ اسے پہچانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے بالغہ کا قول نہیں سنا :
فی ذمۃ من ابی قابوس منقذ للخائفین ومن لیست لہ عضد
ترجمہ : ابو قابوس کی طرف سے ایسے ذمہ میں جو ڈرنے والوں اور جن کا کوئی مددگار نہ ہو اسے بچانے والا ہے
0۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا دل بھرا ہوا تھا فرعون کے خوف سے جب اس کو دیکھتے تھے تو یوں دعا کرتے تھے اے اللہ میں تیری مدد لیتا ہوں اس کے قتل کرنے سے اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے اللہ تعالیٰ نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں جو خوف تھا آپ کے دل کو اس سے خالی کردیا۔ اور اس کو فرعون کے دل میں ڈال دیا کہ جب وہ ان کو دیکھتا تھا تو یوں پیشاب کرتا جیسے گدھا پیشاب کرتا ہے۔
11۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب فرعون کے سامنے آتے تو آپ کی دعا اور نبی ﷺ کی دعا غزوۂ حنین کے موقعہ اور ہر مصیبت زدہ کی دعا یہ ہے۔
کنت تکون وانت حی لا تموت تنام العیون وتکدرت النجوم وانت حی قیوم لاتاخذک سنۃ ولا نوم یا حی یا قیوم
ترجمہ : اے اللہ تو ہمیشہ سے ہے تو ہمیشہ رہے گا اور تو زندہ ہے تجھے موت نہیں آئے گی آنکھیں سو جاتی ہیں اور ستارے بےنور ہوجاتے ہیں تجھے نیند اور اونگھ نہیں آتی۔
Ayahs 28:38–391۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب فرعون نے کہا آیت یا ایہا الملأ ما علمت لکم من الہ غیری یعنی اے سردارو میں تمہارے لیے اپنے علاوہ کسی کو خدا نہیں جانتا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب تیرے بندے نے سرکشی کی مجھے اس کے ہلاک کرنے کی اجازت دیجیے رب تعالیٰ نے فرمایا اے جبرئیل وہ میرا بندہ ہے اس کی موت کا وقت ہر گزر آگے نہیں بڑھے گا جو اس کا وقت مقرر ہوچکا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب فرعون نے کہا انا ربکم الاعلی۔ یعنی میں تمہارا بآ رب ہوں تو فرمایا اے جبریل تیری روح کو سکون ہوچکا ہے۔ میرے بندے نے بغاوت کی اور اس کی ہلاکت کا وقت آچکا ہے۔
2۔ ابن مردوی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو باتیں فرعون کی تھیں۔ ماعلمت لکم من الہ غیری اور انا ربکم الاعلی اور ان دونوں کی باتوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا آیت فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی، (النازعات آیت 45) یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔
3۔ ابن عبدالحکیم نے فتوح مصر میں روایت کیا ہم کو اسد (رح) سے نے خالد بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک محدث سے روایت کیا جس نے حدیث بیان کی ہے کہ ہامان نبطی قوم میں سے تھا۔
4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاوقد لی یہامن علی الطین سے مراد ہے کہ فرعون نے کہا یہاں کی کچی اینٹوں پر آگ روشن کرو تاکہ وہ پکی اینٹیں بن جائیں۔
5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ فرعون پہلا آدمی تھا جس نے اینٹ کو آگ میں پکایا۔
6۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ فرعون پہلا آدمی تھا جس نے اینٹیں پکائیں اور اس کے لیے ایک محل تیار کیا گیا۔
7۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ فرعون پہلا آدمی تھا جس نے پکی اینٹیں بنوائیں اور اس کے ذریعہ عمارت تعمیر کی۔
8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت فاوقد لی یہامن علی الطین، کے بارے میں فرمایا کہ مٹی پر آگ جلاؤ۔ یہاں تک کہ وہ پکی اینٹیں بن جائیں۔
9۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب اس کے لیے محل بن گیا تو وہ اس کے اوپر چڑھا اور حکم دیا کہ تیروں کو آسمان کی طرف پھینکو پھر اس کی طرف تیرا اس حال میں لوٹائے گئے کہ وہ خون آلود تھے کہنے لگے میں نے موسیٰ کے خدا کو قتل کردیا ہے۔
Ayahs 28:40–421۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت و جنودہ فنبذنہم فی الیم میں الیم سے مراد ہے سمندر، اس سمندر کو ساف کہا جاتا ہے جو مصر سے آگے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غرق کردیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلنہم ائمۃ یدعون الی النار یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے سردار بنایا کہ وہ گناہوں کی طرف بلاتے ہیں۔
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واتبعنہم فی ہذہ الدنیا لعنۃ، ویوم القیمۃ یعنی قیامت کے دن ایک اور لعنت ہوگی پھر ان کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا آیت ہم من المقبوحین، کہ وہ قیامت کے دن قباحت والوں میں سے ہوں گے۔
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واتبعنہم فی ہذہ الدنیا لعنۃ ویوم القیمۃ یعنی لعنت کیے گئے دنیا میں اور آخرت میں اسی کو فرمایا آیت واتبعنہم فی ہذہ الدنیالعنۃ ویوم القیمۃ، یعنی لعنت کیے گئے دنیا میں لعنت ان کے پیچھے لگی اور قیامت کے دن بھی لعنت ہوگی۔
Ayah 28:431۔ البزار وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہلاک کیا نہیں کیا کسی قوم کو نہ کسی جماعت کو نہ کسی امت کو اور نہ کسی بستی والوں کو آسمان کے عذاب سے جب سے زمین پر تورات اتاری گئی سوائے اس بستی والوں کے جن کو بندوں کی صورت میں مسخ کردیا گیا۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے قول کی طرف نہیں دیکھا آیت ولقد اٰتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اہلکنا القرون الاولی،
2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بصائر للناس سے مراد ہے دلائل۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید ررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت البصائر سے مراد ہے ہدایت اور ان کے دلوں میں گناہ ہیں ان سے بصائر سے مراد ہدایت ہے۔
Ayahs 28:44–451۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما کنت بجانب الغربی سے مراد ہے پہاڑ کے غربی جانب۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما کنت ثاویا سے مراد ہے مقیم۔
Ayah 28:461۔ الفریابی والنسائی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی معا فی الدلائل ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت وما کنت بجانب الطور اذا نادینا سے مراد ہے تم کو آواز دی گئی اے محمد ﷺ کی امت میں نے تم کو عطا کیا تمہارے سوال کرنے سے پہلے پہلے اور میں نے تمہاری دعاؤں کو قبول کیا مجھ سے دعا کرنے سے پہلے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت غضب پر غالب ہے
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن عساکر وابن مردویہ نے ایک اور سند سے ابوہریرہ ؓ سے مرفوع روایت نقل کی ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رب العزت نے آواز دی اے محمد ﷺ کی امت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔ پھر موسیٰ اور فرعون کی سورت میں یہ آیت وماکنت بجانب الطور اذنادینا نازل ہوئی۔
3۔ ابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل ابو نصر السجزی فی الابانۃ والدیلمی عمرو بن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وماکنت بجانب الطور اذنادینا ولکن رحمۃ من ربک کے بارے میں پوچھا کہ نداء کیا ہے اور رحمت کیا ہے ؟ فرمایا کہ وہ ایسی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کرنے سے دوہزار سال پہلے لکھوا دی۔ پھر اس کو اپنے عرش پر رکھ دیا پھر آواز دی اے محمد ﷺ کی امت ! میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی میں تم کو عطا کیا پہلے اس کے کہ تم مجھ سے سوال کرو اور میں نے تم کو بخش دیا پہلے اس سے کہ تم مجھ سے بخشش مانگو اور جو تم میں سے اس حال میں ملے گا کہ وہ گواہی دیتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ میرے بندے اور میرے رسول ہیں سچے دل سے میں اس کو جنت میں داخل کروں گا۔
4۔ حلبی (رح) سے دیباج میں سہیل بن سعد الساعدی سے مرفوعا اسی طرح روایت کیا۔
ذکر کرنے والے کی مرادیں پوری ہونگی
5۔ ابن مردویہ وابو نعیم نے الدلائل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس شخص کو میرے ذکر نے مجھ سے مانگنے سے مشغول کردیا یعنی اس کو مجھ سے مانگنے کی فرصت نہیں ملتی تو میں اس کے سوال کرنے سے پہلے عطا کرتا ہوں اور اسی کو اس قول میں فرمایا آیت وما کنت بجانب الطور اذ نادینا یعنی آواز دیے گئے کہ اے محمد ﷺ کی امت جو تم دعا کرتے ہو میں اس کو قبول کرتا ہوں اور تم سوال کرتے ہو میں اس کو عطا کرتا ہوں
6۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طور سینا میں ہم کلامی کے شرف سے نوازا تو موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب ! کیا آپ کے نزدیک مجھ سے زیادہ کوئی عزت والا ہے آپ نے مجھ سے سرگوشی کی اور مجھ سے کلام فرمایا۔ فرمایا ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن محمد ﷺ تجھ سے زیادہ عزت والے ہیں عرض کیا اگر محمد ﷺ مجھ سے آپ نزدیک عزت والے تو کیا محمد ﷺ کی امت بنی اسرائیلہ سے زیادہ عزت والی ہے ؟ حالانکہ آپ نے ان سے دریا کو پھاڑا فرعون اور اس کے ظلم سے ان کو نجات دی اور ان کو ترنجبین اور بٹیریں کھلائیں فرمایا ہاں محمد ﷺ کی امت بنی اسرائیل سے زیادہ عزت والی ہے موسیٰ نے عرض کیا اے میرے معبود مجھے ان کو دکھائیے فرمایا تو ان کو نہیں دیکھ سکتا اور اگر تو چاہے تو میں ان کی آواز تم کو سنا دوں گا عرض کیا میرے رب ضرور سنوائیے ہمارے رب نے آواز دی اے محمد ﷺ کی امت اپنے رب کی پکار کا جواب دو تو انہوں نے جواب دیا جبکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں اور اپنے ماؤں کی رحموں میں تھے قیامت تک آنے والے۔ سب نے عرض کیا آیت لبیک انت وربنا حقا ونحن عبیدک حقا ہم حاضر ہیں تو ہمارا سچا رب ہے اور ہم تیرے سچے بندے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے سچ کہا میں تمہارا رب ہوں اور تم میں سچے بندے ہوں میں تم کو معاف کردیا پہلے اس سے کہ تم مجھ سے دعا کرو اور میں نے تم کو عطا کردیا پہلے اس سے کہ تم مجھ سے سوال کرو اور جو شخص تم میں سے مجھ سے لا الہ الا اللہ کی گوہی کے ساتھ ملے گا جنت میں داخل ہوگا ابن عباس نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو نبوت عطا فرمائی تو ارادہ فرمایا کہ اس پر احسان کروں اس چیز کے ساتھ جو میں نے عطا کی اور اس چیز کے ساتھ جو میں نے ان کی امت کو عطا کی تو فرمایا آیت وما کنت بجانب الطور اذ نادینا اور نہ آپ طور کی جانب موجود تھے جس وقت کہ ہم نے موسیٰ کو پکارا تھا۔
7۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابو نصر السجزی نے الابانۃ میں مقاتل (رح) نے فرمایا کہ وما کنت بجانب الطور سے مراد ہے کہ اے محمد ﷺ آپ طور کی جانب موجود نہ تھے جب ہم نے تیری امت کو پکارا اور اپنے آباء کی پشتوں میں تھے کہ وہ تجھ پر ایمان لے آئیں جب میں آپ کو نبوت عطا کروں
8۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما کنت بجانب الطور اذنادینا یعنی جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی تو اس وقت آپ وہاں موجود نہیں تھے آیت ولکن رحمۃ من ربک لیکن یہ رحمت ہے تیرے رب سے جو ہم نے تم پر واقعہ بیان کیا۔
Ayahs 28:47–50زمانہ فترت کے لوگوں کی عذر خواہی
1۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبوت کے منقطع ہونے کے زمانہ میں ہلاک ہونے والا کہے گا اے میرے رب میرے زمانہ میں کوئی کتاب آئی اور نہ کوئی رسول آیا۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت فیقو لوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسول فنتبع اٰیتک ونکون من المومنین یعنی اے ہمارے رب تو نے ہمارے پس کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے احکام پر چلتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ انے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلما جاء ہم الحق من عندنا قالوا لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ ، اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحران تظہرا وقالوا ان بکل کفرون۔ یعنی پھر جب ان کے پاس حق قرآن یا پیغمبر ہمارے پاس سے آگیا تو کہنے لگے اس پیغمبر کو ایسا معجزہ کیوں نہیں دیا گیا جیسا کہ موسیٰ کو دیا گیا تھا کیا موسیٰ کو جو کچھ پہلے دیا گیا تھا اس کا انہوں نے انکار نہیں کیا تھا اور کہا تھا یہ دونوں جادوگر ہیں جو باہم متفق ہوگئے ہیں اور کفروں نے کہا ہم اند دونوں موسیٰ و ہارون میں سے ہر ایک کے منکر ہیں۔ اس سے مراد اہل کتاب ہیں دو کتابوں تورات اور فرقان کے بارے میں کہتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت قل فاتوا بکتب من عنداللہ ہو اہدی منہما اتبعہ ان کنتم صدقین۔ یعنی فرمادیجیے لے آؤ تم ایک کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے کہ میں اس پر چلو اگر تم سچے بولنے والے ہو۔
3۔ الفربیابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ کیوں نہیں دئیے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) دئیے گئے یعنی معجزات۔ یہودیوں نے قریش کو حکم دیا کہ وہ محمد ﷺ سے یہ سوال کریں آیت مثل ما اوتی موسیٰ سے لے کر من قل۔ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ سے فرمایا آپ قریش سے کہہ دیجیے کہ وہ ان کے لیے کہتے ہیں آیت اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل، قالوا سحران تظہرا۔ یعنی پھر انہوں نے کیوں کفر کیا اس چیز کے ساتھ جو موسیٰ دئیے گئے پہلے سے اور انہوں نے کہا کہ آپ دونوں جادوگر ہیں جو باہم متفق ہوگئے ہیں فرمایہ قول تھا یہودیوں کا موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے بارے میں آیت وقالوا انا بکل کفرو۔ اور انہوں نے کہا ہم ہر ایک کا انکار کرنے والے ہیں فرمایا کہ یہودیوں نے اس کا بھی انکار کیا جو محمد ﷺ کو عطا کیا گیا۔
4۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل یعنی کیا انہوں نے نے انکار نہیں کیا جو موسیٰ پہلے سے لے آئے محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے
5۔ الطبرانی نے ابن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ آیت قالوا سحران تظہرا پڑھتے تھے
6۔ الفریابی واعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ یوں پڑھتے تھے آیت قالوا سحران تظہرا، یعنی موسیٰ اور ہارون علیہما السلام۔
7۔ عبد بن حمید ولبخاری فی تاریخہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت سحران تظہرا الف کے ساتھ پڑھا فرمایا اس سے مراد ہیں موسیٰ اور محمد (علیہما السلام)
8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا اس کو یوں پڑھتے تھے آیت قالوا سحران تظہرا۔ اور وہ دونوں کتابیں مراد ہیں۔
9۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے رویت کیا کہ آتی قالوا سحران تظہرا یعنی تورات اور فرقان
10۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت قالوا سحران تظہرا یعنی تورات اور فرقان جبکہ تصدیق کی ان میں سے ہر ایک کتاب نے صاحب کتاب کی۔
11۔ ابن ابی حاتم نے عاصم جحدری (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت قالوا سحران تظہرا اور فرماتے تھے کہ اس سے دو کتابیں تورات اور فرقان مراد ہیں کیا نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت قل فاتوا بکتب من عنداللہ ہو اہدا منہما یعنی لے آؤ تم ایسی کتاب جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہے۔
12۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) علیہ سے روایت کیا کہ اگر وہ نبی ﷺ کا ارادہ کرتے تو نہ کہتے آیت فاتوا بکتب من عنداللہ ہو اہدی منہما اتبعہ تم لے آؤ اللہ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب جو زیادہ ہدایت والی ہو ان دونوں سے تاکہ میں اس پر چلوں اور اس سے دونوں کتابوں کا ارادہ کیا۔
13۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو رزین ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت سحران تظہرا اور کہتے تھے کہ یہ دو کتابیں ہیں تورات اور انجیل۔
14۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قالوا سھران تظہرا کے بارے میں فرمایا کہ یہ قول ہے اللہ کے دشمن یہودیوں کا انجیل اور قرآن کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ دونوں کتابیں جادو کی ہیں جو ایک دوسرے سے تفق ہیں پھر فرمایا جس نے اس کو ساحران پڑھا تو وہ اس سے محمد اور عیسیٰ (علیہما السلام) مراد لیتا ہے۔
15۔ عبد بن حمید نے عبدالکریم ابو امیہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ ؓ کو آیت سحران پڑھتے ہوئے سنا یہ بات میں نے مجاہد کو بتائی تو انہوں نے کہا بندے نے جھوٹ بولا میں نے ابن عباس ؓ کے سامنے اس کو آیت سحرن پڑھا انہوں نے مجھ پر کوئی عیب نہیں لگایا۔
16 عبدالرزاقو ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پودھا اور وہ رکن دروازہ اور ملتزم کے درمیان عکرمہ کے بازو پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور میں نے عرض کیا آیت قالوا سحران تظہرا ہے یا ساحران ہے میں نے ان سے بارہا کہا تو عکرمہ نے فرمایا آیت سحران تظہرا ہے اے آدمی چلا جا۔
17۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ وقالوا انا بکل کفرون میں کل سے مراد تورات اور قرآن ہے۔
18۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقالوا انا بکل کفرون میں کل سے مراد وہ چیز ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) لے آئے اور جو عیسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے کافروں نے کہا ہم ہر ایک کے منکر ہیں۔