19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 19:59–65

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آگئے جنہوں نے نماز کو ضائع کردیا اور خواہشوں کے پیچھے لگ گئے سو یہ وہ لوگ عنقریب خرابی دیکھیں گے

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

سوائے اس شخص کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے سو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا ساظلم نہ کیا جائے گا۔

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

یہ جنت ہمیشہ رہنے کے باغوں کو شامل ہوگی جس کا رحمن نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے بلاشبہ اس وعدہ کا وقت ضرور آنے والا ہے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہ اس میں سلام کے علاوہ کوئی لغو بات نہیں سنیں گے اور ان کا رزق انہیں جنت میں صبح شام ملا کرے گا۔

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اسے وارث بنائیں گے جو ڈرنے والا ہو

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور ہم نہیں نازل ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے۔ اسی کے لئے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے، اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ رب ہے آسمان کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سو آپ اس کی عبادت کیجئے اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہئے کیا آپ اس کا کوئی ہم نام جانتے ہیں ؟۔

1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔ 2:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ سے اس سے امت کے لوگ مراد ہیں جو راستوں میں جانوروں کی طرح سرعام بدکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے شرم کرتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ 3:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت کے دن قریب یہ صورت حال ہوگی امت محمد ﷺ کے نیک لوگوں چلے جائیں گے (دنیا سے) اور پیچھے وہ لوگ رہ جائیں گے اور زانی لوگ گلیوں میں بدکاری کریں گے۔ نماز ترک کرنے والے برے جانشین ہیں۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اضاعوالصلوۃ “ سے مراد ہے کہ لوگ نماز کو ترک کردیں گے۔ 5:۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ “ سے مراد ہے کہ نماز کا ضائع کرنا اس کا چھوڑدینا نہیں ہے کہ انسان کسی چیز کو ضائع کرتا ہے لیکن اس کو چھوڑتا نہیں لیکن اس کا ضائع کرنا یہ ہے کہ نماز کو اس کے وقت پر ادا نہ کرنا۔ 6:۔ سعید بن منصور نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اضاعوالصلوۃ “ سے مراد ہے کہ انہوں نے نماز کو وقت پر ادا نہ کیا۔ 7:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قاسم بن مخیمرہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اضاعوالصلوۃ “ سے مراد ہے کہ نماز کو اس کے وقت سے موخر کرنا اور اگر اس کو بالکل ہی چھوڑ دیں تو یہ کفر ہے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم اور خطیب نے المتفق والمفترق میں عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اضاعوالصلوۃ “ سے مراد ہے کہ اس کا چھوڑ دینا اس کا ضائع کرنا نہیں ہے لیکن اوقات کا ضائع کردینا ہے۔ 9:۔ ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم میں نے تورات شریف میں منافقین کی صفات کو (اس طرح) پایا قہوے پینے والے شہوت کے پیچھے دوڑے والے، دوشیزاوں کو لعنت کرنے والے، عشاء کی نماز سے سونے والے، صبح کے اوقات میں کوتاہی کرنے والے، نمازوں اور جمعوں کو ترک کرنے والے، پھر آپ نے یہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ واتبعوالشھوت “ تلاوت فرمائی۔ شہوت پرستی مہلک ہے : 10:۔ ابن ابی حاتم نے ابن اشعث (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داود (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ جو دل دنیا کی شہوات سے معلق ہیں وہ مجھ سے محروم ہیں۔ 11:۔ بیہقی نے شعب میں عبداللہ بن عامر بن ربیعہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے اور ایک دوسرے آدمی نے غسل کیا ہم کو عمر بن خطاب ؓ نے دیکھ لیا اور ہم میں سے ہر ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہا تھا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ تم میں وہ ناخلف لوگوں میں سے ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ واتبعوالشھوت فسوف یلقون غیا “۔ 12:۔ احمد، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں اور (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اور آپ نے یہ آیت (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “ تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ ساٹھ سال کے بعد ایسے لوگ ہوں گے اور وہ (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف اضاعوالصلوۃ واتبعوالشھوت فسوف یلقون غیا “۔ (یعنی نماز کو ضائع کریں گے اور شہوات کے پیچھے لگیں) ایسے خلف آئیں گے جو قرآن کو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے سینوں سے آگے نہیں بڑھے گا اور تین قسم کے لوگ قرآن کو پڑھتے ہیں مومن منافق اور بدکار۔ 13:۔ احمد اور حاکم نے (حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب میری امت میں سے اہل کتاب اور اہل الین ہلاک ہوں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اہل کتاب کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ قوم جو کتاب کو کو سکھاتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایمان والوں سے جھگڑا کرتے ہیں میں نے عرض کیا اہل اللین کون ہیں ؟ فرمایا وہ قوم جو شہوات کی اتباع کرتے ہیں اور نمازوں کو ضائع کرتے ہیں۔ 14:۔ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ صدقہ کرنے والوں کو صدقہ بھیجتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ صدقہ میں کسی بربری اور بربریہ کو نہ دو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ وہ خلف ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فخلف من بعدہم خلف “۔ 15:۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو غصہ کی وجہ سے قتل کریں گے اور فیصلہ کرنے میں رشوت لیں گے اور نمازوں کو ضائع کریں گے اور شہوات کے پیچھے لگیں گے ان کے لئے جھنڈا واپس نہیں کیا جائے گا پوچھا گیا یا رسول اللہ کیا وہ ایمان والے ہوں گے ؟ فرمایا وہ ایمان کے ساتھ پڑھتے ہوں گے۔ 16:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف یلقون غیا “ میں غیا سے مراد ہے خسارا۔ 17:۔ فریابی، سعید بن منصور، ھناد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم اور بیہقی نے بعث میں طرق سے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” فسوف یلقون غیا “۔ کے بارے میں روایت کیا کی ” غی “ ایک نہر ہے یا جہنم میں ایک بڑی گہری وادی ہے اس کا ذائقہ بہت بڑا ہے اس میں ان لوگوں کو ڈالا جائے گا جو شہوات کے پیچھے لگتے ہیں۔ 18۔ ابن منذر اور بیہقی نے بعث میں براء ؓ سے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ غی جہنم میں ایک گہری اور بدبو دار وادی ہے۔ جہنم کی گہرائی کا اندازہ : 19:۔ ابن جریر، طبرانی، ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایک پتھر دس اواق وزن کا جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے تو ستر سال تک اس کی گہرائی میں پہنچے گا پھر وہاں سے غی اور اثام کی طرف پہنچے گا۔ میں نے عرض کیا غی اور اثام کیا ہیں ؟ فرمایا یہ دو نہریں ہیں جہنم کے نیچے سے کہ اس میں دو زخیوں کی پیپ بہتی ہے اور ان دونوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت) ” فسوف یلقون غیا “۔ اور ” ومن یفعل ذلک یلق اثاما “۔ (الفرقان : 68) ۔ 20:۔ ابن مردویہ نے نہشل کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ غی جہنم میں ایک وادی ہے۔ 21:۔ بخاری نے تاریخ میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ غی جہنم میں ایک وادی ہے۔ 22:۔ ابن منذر نے شقی بن مانع (رح) سے روایت کیا کہ جہنم میں ایک وادی ہے جس کو غی کہا جاتا ہے اس میں خون اور پیپ بہتی ہے اور یہ انکے لئے ہیں جن کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ 23:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یلقون غیا “ یعنی بڑی (جگہ) (آیت) ” الا من تاب “ یعنی جو توبہ کرے اپنے گناہوں سے (آیت) ” وامن “ اور ایمان لے آئے اپنے رب پر (آیت) ” وعمل صالحا “ یعنی اس نے وہ علم صالح کیا جو اس کے اور اللہ کے درمیان تھا۔ 24:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یسمعون فیھا لغوا “ یعنی جنت میں باطل بات کو نہیں سنیں گے۔ 25:۔ عبدبن حمید، ھناد، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یسمعون فیھا لغوا “ یعنی ایک دوسرے کو برا بھلا نہیں کہیں گے (آیت) ” ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا “ یعنی اس میں ان کو رزق صرف صبح اور شام نہیں ملے گا بلکہ صبح اور شام کے کھانے کی طرح جس وقت چاہیں گے ان کو رزق ملے گا۔ 26:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کو آخرت میں اسی مقدار صبح وشام کا کھانا دیا جائے گا جتنا کہ وہ دنیا میں دیئے جاتے تھے۔ 27:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ولید بن مسلم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے زھیر بن محمد (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جنت میں نہ رات ہوگی نہ سورج ہوگا نہ چاند ہوگا اور جنتی ہمیشہ نور میں ہوں گے اور ان کے رات اور دن کی مقدار ہوگی وہ پہچانیں گے رات کی مقدار کو پردوں کے لٹکانے سے اور دروازوں کے بند ہونے سے اور وہ پہچانیں گے دن کو مقدار کو پردوں کے اٹھ جانے سے اور دروازوں کے کھل جانے سے۔ 28:۔ حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں ابان کے طریق سے حسن اور ابو قلابہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ جنت میں رات ہوگی آپ نے فرمایا تجھے کس چیز نے اس سوال پر آمادہ کیا ؟ اس نے کہا میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سنا کہ (آیت) ” ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا “ اور میں نے (آیت) ” بکرۃ وعشیا “ سے رات مراد لی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہاں رات نہیں ہے وہاں روشنی اور نور ہوگا صبح کو شام پر اور شام کو صبح پر لوٹا دیا جائے گا اور اس کے پاس انوکھے تحائف آئیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان اوقات میں جس میں وہ دنیا میں نماز پڑھتے تھے اور ان کے فرشتے سلام کریں گے۔ 29:۔ ابن منذر نے یحییٰ بن کثیر (رح) سے روایت کیا کہ عربوں کے زمانہ میں صرف ایک کھانا کھاتے تھے اور جو دو وقت کا کھانا کھاتا تھا اسے کہا جاتا تھا کہ وہ نعمتوں والا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو رزق کی رغبت دلانے کے لئے یہ فرمایا (آیت) ” ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا “ 30:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ اس کو نعمتوں والا کہتے تھے جو صبح شام کھانا کھاتا تھا اللہ تعالیٰ نے جنت والوں کے لئے فرمایا (آیت) ” ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا “۔ حوروں کے ساتھ مہمان نوازی : 31:۔ ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی صبح نہیں جنت کے صبحوں میں سے اور جنت میں ہر وقت صبح ہی صبح ہے مگر اللہ تعالیٰ کے ولی کے پاس اس میں موٹی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک بیوی بھیجی جائے گی ان میں سے ادنی وہ ہوگی جو زعفران سے پیدا کی گئی ہوگی۔ 32:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” تلک الجنۃ التی نورث “ میں نورث کو نون کے ساتھ اور واو کے تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ 33:۔ ابن ابی حاتم نے ابن شودب (رح) سے (آیت) ” تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت میں کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا مگر اس کے لئے جنت میں گھر اور بیویاں ہوگی جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ مومن کو اتنی اتنی منزلیں دیں گے کفار کی منزلوں میں اسی کو فرمایا (آیت) ” من عبادنا “ یعنی میرے بندوں میں سے۔ 34:۔ ابن ابی حاتم نے داود بن ابو ھند (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کان تقیا “ سے مراد ہے توحید والا۔ 35:۔ احمد، بخاری، مسلم، عبد بن حمید، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کس چیز نے تجھ کو منع کیا ہے کہ تو ہماری کثرت سے زیارت کرے تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وما نتنزل الا بامر ربک “ آیت کے آخر تک ابن المنذر، ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے یہ فائدہ ذکر کیا کہ یہ جواب تھا محمد ﷺ کے لئے۔ 36:۔ ابن مردویہ نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کون سی جگہیں اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہیں اور کون سی جگہیں اللہ تعالیٰ کو مبغوض ہیں آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا یہاں تک کہ جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھ لوں اور جبرئیل (علیہ السلام) نے آپ کے آنے میں دیر لگائی آپ نے پوچھا تو نے میرے پاس آنے میں دیر کیوں لگائی یہاں تک کہ میں نے یہ خیال کرلیا کہ میرا رب مجھ پر ناراض ہوگیا جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” وما نتنزل الا بامر ربک “ (کہ میں اپنے رب کے حکم سے نازل ہوتا ہوں ) 37:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس چالیس دن بعد آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا آپ تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ مجھے تمہارا بہت اشتیاق ہوگیا تھا جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ سے فرمایا کہ مجھے بھی آپ سے ملنے کا بہت شوق تھا لیکن میں (اللہ تعالیٰ کے) حکم کا پابند ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ ان سے فرمائیے (آیت) ” وما نتنزل الا بامر ربک “ وحی صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتی ہے :۔ 38:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف نہ لائے مکہ مکرمہ میں یہاں تک کہ آپ غمگین ہوگئے اور آپ پر یہ بات بہت بھاری گذری تو آپ نے خدیجہ ؓ سے شکایت کی تو خدیجہ ؓ نے فرمایا شاید کہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑدیا ہے یا آپ سے ناراض ہوگیا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے (آیت) ” ماودعک ربک وما قلی “ آپ نے فرمایا اے جبرئیل (علیہ السلام) بہت دیر لگادی حتی کہ میرا گمان برا ہوگیا جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” وما نتنزل الا بامر ربک “۔ 39:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس بارہ راتیں رکے رہے جب وہ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا البتہ تحقیق تو نے دیر لگا دی یہاں تک کہ مشرکین گمان کرنے لگے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ 40:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قاصد (یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے آنے میں دیر لگائی پھر جب تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کس چیز نے تم کو مجھ سے روک دیا تھا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا ہم کس طرح آپ کے پاس آئیں جبکہ آپ ناخن نہیں کاٹتے اور اپنے انگلیوں کے جوڑوں کی صفائی بھی نہیں کرتے اور مونچھیں نہیں کٹواتے اور مسواک نہیں کرتے اور یہ (آیت) ” وما نتنزل الا بامر ربک “ پڑھی۔ 41:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس آنے سے رک گئے رسول اللہ ﷺ اس سے غمگین ہوئے پھر جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اے محمد (آیت) ” وما نتنزل الا بامر ربک، لہ ما بین ایدینا “ لہ ما بین ایدینا سے مراددنیا ہے اور وما خلفنا سے مراد ہے آخرت ہے۔ 42:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ ما بین ایدینا “ سے مراد دنیا ہے اور (آیت) ” وما خلفنا “ سے مراد ہے آخرت۔ 43:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ ما بین ایدینا “ سے مراد امر آخرت ہے (اور) ” وما خلفنا “ سے مراد امر دنیا ہے ” وما بین ذلک “ یعنی جو دنیا اور آخرت کے درمیانی عرصہ۔ 44:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما بین ذلک “ یعنی دو نفخوں کے درمیان کا عرصہ۔ 45:۔ ھناد اور ابن منذر نے ا بو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما بین ذلک “ یعنی دو نفخوں کے درمیان کا عرصہ۔ 46:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کہ (آیت) ” وما کان ربک نسیا “ یعنی تیرا رب ایسا نہیں ہے اے محمد ﷺ کہ وہ تجھ کو بھلا دے۔ 47:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم، بزار، طبرانی، ابن مردویہ، بیہقی نے سنن میں اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابودراء ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا سو وہ حلال ہے اور جس چیز کو حرام کرد یا سو وہ حرام ہے اور جس چیز سکونت اختیار کیا تو وہ عافیت ہے سو تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی عافیت کو قبول کرو اللہ تعالیٰ ایسے نہیں ہیں کہ کسی چیز کو بھول جائیں پھر یہ (آیت) ” وما کان ربک نسیا “ تلاوت فرمائی۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ کی حدیث اسی طرح روایت کی ہے۔ 48:۔ حاکم نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے گھی، جبن اور پوستین بنانے والوں کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا حلال وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا ہو اور جس کے بارے میں خاموشی اختیار فرمائی سو وہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جن سے معاف کردیا گیا۔ 49:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل تعلم لہ سمیا “ یعنی کیا تو جانتا ہے اپنے رب کے لئے کوئی مثال یا اس کی شیبہ۔ 50:۔ عبد بن حمید، ابن منذر ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے شعب میں (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل تعلم لہ سمیا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے جس کو رحمن کہا جاتا ہو۔ 51:۔ ابن مردویہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل تعلم لہ سمیا “ یعنی اے محمد ﷺ کیا آپ جانتے ہیں اپنے خدا کے لئے کوئی اولاد۔ 52:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ھل تعلم لہ سمیا “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کیا تو جانتا ہے اس کی کوئی اولاد ہے ؟ کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : اما السمی فانت منہ مکثر والمال مال یغتدی ویروح۔ ترجمہ : بہرحال اولاد کے اعتبار سے تو اس سے زیاد ہے اور مال تو وہ مال ہے جس کو تو صبح اور شام کھاتا ہے۔
Ayahs 19:66–79

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاوں گا تو کیا یہ ضروری بات ہے کہ میں عنقریب زندہ کرکے نکالا جاوں گا ؟

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا انسان اس بات کو نہیں سوچتا کہ ہم نے اسے اس سے پہلے پیدا کیا اور وہ کچھ بھی نہ تھا

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تیرے رب کی قسم ہے ہم ان لوگوں کو ضرور ضرور جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی پھر ہم ان کو دوزخ کے قریب اس حال میں حاضر کردیں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہم ہر جماعت میں سے ان کو علیحدہ کردیں گے (جنہوں نے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی) جو رحمن کے مقابلہ میں بہت سخت سرکشی اختیار کئے ہوئے تھے۔

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر ہم ہی ان لوگوں کو خوب جاننے والے ہیں جو دوزخ میں داخل ہونے کے زیادہ مستحق ہیں۔

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس پر وارد نہ ہو۔ آپ کے رب کا یہ حکم لازمی ہے جس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو ڈرتے تھے اور ظالموں کو اس میں ایسی حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان پر ہماری کھلی کھلی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مقام کے اعتبار سے کون بہتر ہے اور مجلس کے اعتبار سے کون اچھا ہے ؟

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے کتنی جماعتیں ہلاک کردیں جو سازوسامان اور نظروں میں بھانے کے ا عتبار سے اچھے تھے

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ جو شخص گمراہی میں ہوگا تو رحمن اسے مہلت دے گا یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو یا عذاب ہوگا یا قیامت ہوگی۔ سوعنقریب جان لیں گے کہ وہ کون ہے جو بری جگہ والا ہے اور لشکر کے ا عتبار سے کمزور تر ہے۔

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہدایت پائی اللہ ان کی ہدایت کو اور بڑھا دے گا اور باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے پاس ثواب کے ا عتبار سے بہتر ہیں اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں۔

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہنے لگا کہ مجھے ضرور ضرور مال اور اولاد دیئے جائیں گے۔

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لیا ہے۔

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں ہم عنقریب اس کی بات لکھ لیں گے اور اس کے لئے عذاب بڑھاتے رہیں گے۔

1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقول الانسان “ (الآیۃ) میں انسان سے مراد عاص بن وائل ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” لسوف اخرج حیا “ الف کے رفع کے ساتھ (آیت) ” اولا یذکر الانسان “ خفیف کرتے ہوئے یاء کے نصب اور کاف کے رفع کے ساتھ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جثیا “ یعنی قعود (بیٹھے ہوئے) وفی قولہ ” عتیا “ سے مراد ہے معصیت۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عتیا “ سے مراد ہے نافرمانی کرنے والا۔ 5:۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ” عتیا “ اور (آیت) ” جثیا “ کو کیسے پڑھا بلاشبہ دونوں میں عین اور جیم کے ضمہ کے ساتھ ہیں۔ 6:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں اور بیہقی نے بعث میں عبداللہ بن باباہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گوایا کہ میں تم کو دیکھ رہا ہوں ایک ٹیلہ نما اونچی جگہ پر جہنم کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے۔ 7:۔ عبدبن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” جیثا “ جیم کے رفع کے ساتھ (آیت) ” و عتیا “ عین کے رفع کے ساتھ اور (آیت) ” صلیا “ میں صاد کے رفع کے ساتھ پڑھا۔ 8:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حول جھنم جیثا “ یعنی کھڑے ہوئے۔ 9:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لننزعن “ یعنی ہم ضرور ظاہر کریں گے۔ 10:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لننزعن “ یعنی ہم ہر اہل دین کے قائدین اور شریر درداروں کو علیحدہ کردیں گے۔ 11:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ایہم اشد علی الرحمن عتیا “ سے مراد ہے کہ جو دنیا میں (رحمن کے سخت نافرمان تھے ) ۔ 12:۔ ھناد، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ ابوالاحوص (رح) سے (آیت) ” ثم لننزعن من کل شیعۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ شروع کیا جائے گا ان کو علیحدہ علیحدہ کرنا جو جرم کے لحاظ سے بڑے ہوں گے پھر (س کے بعد) جو بڑے ہوں گے۔ 13:۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ پہلے اور پچھلے سب جمع کئے جائیں گے یہاں تک کہ جب گنتی پوری ہوجائے گی پھر شروع کریں گے بڑوں کے ساتھ پھر جو بڑے ہوں گے جرم کے لحاظ سے پھر یہ آیت پڑھی (آیت) ” فوربک لنحشرنہم “ سے لے کر (آیت) ” عتیا “ تک۔ 14:۔ ابوعبید، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لننزعن ‘ من کل شیعۃ “ یعنی ہر قوم میں سے جو رحمن کا نافرمان ہوگا (آیت) ” عتیا “ اور کفر کرنے والا ہوگا (اس کو نکالیں گے) 15:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم لنحن اعلم بالذین ھم اولی بھا صلیا “ یعنی وہ زیادہ لائق ہیں جہنم میں داخل ہونے کے۔ قیامت کے روز زمین کو پھیلا دیا جائے گا : 16:۔ حارث بن ابی اسامہ اور ابن جریر نے سند حسن کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو زمین چمڑے کی طرح پھیلا دی جائے گی اور اس کی وسعت میں اتنا اتنا اضافہ کردیا جائے گا اور مخلوق کو ایک میدان میں جمع کیا جائے گا جنات اور انسان اکھٹے ہوں گے اس دن آسمان دنیا زمین پر گرجائے گا اپنے رہنے والوں کے ساتھ اور آسمان والے زمین والوں سے زیادہ ہوں گے ان کے جنات اور انسانوں سے کئی گناہوں گے جب وہ زمین پر پھیلیں گے تو وہ (زمین والے) ان سے ڈریں گے اور ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے اندر ہمارے رب ہیں ؟ تو وہ ان کی اس بات سے ڈریں گے اور کہیں گے ہمارے رب پاک ہیں وہ ہمارے اندر نہیں اور وہ آنے والے ہیں پھر دوسرا آسمان پھٹ پڑے گا اور دوسرے آسمان والوں کی تعداد آسمان دنیاوالوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی اور تمام زمین والوں سے بھی ان کے جنات اور ان کے انسانوں سے کئی گناہوں گے جب وہ زمین پر پھیلیں گے تو زمین والے ان سے ڈریں گے اور ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے اندر ہمارے رب ہیں ؟ وہ ان کی اس بات سے ڈریں گے اور ان سے کہیں گے ہمارے رب پاک ہیں ہمارے اندر نہیں ہیں اور وہ آنے والے ہیں پھر (اسی طرح) ایک ایک آسمان پھٹ پڑے گا جب بھی کوئی آسمان پھٹے گا تو اس کے رہنے والوں کی تعداد ان آسمان والوں سے زیادہ ہوگی جو اس کے نیچے تھا اور سارے زمین والوں سے بھی کئی گناہوں گے جب وہ زمین پر پھلیں گے تو زمین والے ان سے ڈریں گے اور اسی طرح ان سے کہیں گے اور وہ اسی طرح ان کو جواب دیں گے یہاں تک کہ ساتواں آسمان پھٹے گا تو ساتویں آسمان کے رہنے والے چھ آسمانوں کے رہنے والوں سے زیادہ ہوں گے اور تمام زمین والوں سے کئی گناہوں گے پھر اللہ تعالیٰ ان میں تشریف لائیں گے اور امتیں گھٹنوں کے بل صفوں میں ہوں گے تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا آج کے دن عنقریب تم جان لوگے اصحاب کرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ہر حال میں حمد کرنے والے کھڑے ہوجائیں تو وہ لوگ کھڑیں ہوں گے اور وہ جنت کی طرف چل دیں گے پھر دوسری مرتبہ آواز دے گا آج کے دن عنقریب تم جان لوگے عزت والوں کے بارے میں وہ لوگ کہاں ہیں (آیت) ’ ’ کانت تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفا وطمعا ومما رزقنہم ینفقون “ (السجدۃ : 16) وہ لوگ کھڑے ہوں گے پھر تیسری مرتبہ آواز دے گا آج کے دن عنقریب تم جان لوگے عزت والے لوگوں کے بارے میں وہ لوگ کہاں ہیں (آیت) ” لاتلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ واقام الصلوۃ ویتآء الزکوۃ، یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار “ (النور : 37) وہ لوگ کھڑے ہوں گے اور جنت کی طرف چل دیں گے جب ان تینوں قسم کے لوگوں کو لے لیا جائے گا ایک گردن آگ میں سے نکلے گی مخلوق پر چڑھ آئے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گی اور زبان ہوگی جس سے وہ بولے گی اور کہے گی مجھے تین شخصوں پر مسلط کیا گیا ہے ہر سرکش ضدی پر اور ان کو صفوں سے اچک لے گی جیسے پرندے کا تل کے دانے کو اچک لینا اور ان کو جہنم میں قید کردے گی پھر دوسری مرتبہ نکلے گی اور کہے گی میں مسلط کی گئی ہوں تم میں سے اس آدمی پر جس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی اور ان کو صفوں میں سے اچک لے گی جیسے پرندہ تل کے دانے کو اچک لیتا ہے اور ان کو جہنم میں قید کردے گی پھر تیسری مرتبہ نکلے گی اور کہے گی میں مسلط کی گئی ہوں تصویر بنانے والوں پر اور ان کو صفوں میں اس طرح اچک لے گی جیسے پرندہ تل کے دانے کو اچک لیتا ہے اور ان کو جن ہم میں قید کردے گی جب یہ تینوں قسم کے لوگ پکڑے جائیں گے تو اعمال نامے پھیلا دیئے جائیں گے اور ترازو رکھ دی جائے گی اور مخلوق کو حساب کے لئے بلایا جائے گا۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان منکم الا واردھا : 1:۔ احمد، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں ابو سمیہ (رح) سے روایت کیا کہ جہنم پر وارد ہونے کے متعلق ہمارا اختلاف ہوا ہمارے بعض نے کہا کہ اس میں مومن داخل نہ ہواگا اور بعض نے کہا سب اس میں داخل ہوں گے (آیت) ” ثم ننجی الذین اتقوا “ (پھر اللہ تعالیٰ متقین کو نجات دے گا) پھر میں جابر بن عبداللہ ؓ سے ملا اور ان سے میں نے مسئلہ ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا میرے یہ کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے نہ سنا ہو رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے کہ ہر نیکو کار اور فاجر جہنم پر وارد ہوگا تو (وہ آگ) مومن پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگی جیسے ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوئی تھی یہاں تک کہ آگ کی ٹھنڈک کی وجہ سے ان کی چیخیں نکل رہی ہوں گی (آیت) ” ثم ننجی الذین اتقواونذر الظلمین فیھا جثیا “۔ 2:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ھناد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ابن عباس ؓ سے جھگڑا کیا ابن عباس ؓ نے فرمایا ” الورود “ سے مراد ہے الدخول یعنی داخل ہونا نافع نے کہا یہ معنی نہیں اور ابن عباس ؓ نے یہ آیت ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم انتم لھا وردون “ (الانبیاء آیت 68) اور فرمایا وہ داخل ہوں گے یا نہیں ؟ اور (یہ آیت) پڑھی ” یقدم قومہ یوم القیمۃ فاوردھم النار ‘ (ہود آیت 98) وہ داخل ہوں گے یا نہیں ؟ میں اور تو عنقریب ہم اس میں داخل ہوں گے۔ 3:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ سے مراد ہے کہ اس میں ہر نیک اور بدکار داخل ہوگا کیا تو نے اللہ کا یہ قول نہیں سنا (آیت) ” فاوردھم النار، وبئس الورد المورود “ (ہود آیت 98) اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” ونسوق المجرمین الی جہنم وردا “۔ 4:۔ حاکم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس میں داخل نہ ہو۔ 5:۔ ھناد اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی باقی نہیں رہے گا جو اس میں داخل نہ ہو۔ 6:۔ احمد، ابن ابی حاتم، ابن انباری، ترمذی حاکم، بیہقی نے بعث میں اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ پل صراط پر اترے گا۔ 7:۔ عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب لوگ آگ پر اتریں گے پھر وہ اس سے واپس ہوں گے اپنے (نیک) اعمال کی وجہ سے انمیں سے پہلے پلک جھپکنے کی رفتار پر (واپس ہوں گے) پھر ہوا کی طرح پھر گھوڑے کی دوڑنے کی طرح پھر سوار کی طرح اپنے کجاوے میں پھر آدمی کے دوڑنے کی طرح پھر پیدل چلنے کی طرح۔ پل صراط سے اترنا : 8:۔ عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ جب لوگ پل صراط پر اتریں گے گویا ان کا اترنا ان کا ٹھہرنا جہنم کے اردگرد ہوگا پھر وہ پل صراط سے اتریں گے اپنے عمل کے مطابق ان میں سے بعض بجلی کی طرح گذریں گے اور بعض ان میں سے ہوا کی طرح گذریں گے اور بعض ان میں سے پرندے کی طرح گذریں گے اور بعض ان میں تیز رفتار گھوڑے کی طرح گذریں گے اور بعض ان میں سے تیز رفتار اونٹ کی طرح اور بعض ان میں سے آدمی کے دوڑنے کی طرح یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی گذرئے گا تو اس کا نور اس کے قدموں کے انگوٹھوں کی جگہ پر ہوگا اور وہ رکتے ہوئے پل صراط پر گذرے گا۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جہنم پر ایک پل ہوگی تلوار کی دھار کی طرح پہلا طبقہ بجلی کی طرح گذرے گا اور دوسرا ہوا کی طرح تیسرا تیز رفتار گھوڑے کی طرح اور چوتھا تیز رفتار اونٹ کی طرح اور ان میں سے بعض آدمی اور جانور کے دوڑنے کی طرح پھر وہ اپنی منزلوں پر گذریں گے تو فرشتے ان سے کہیں گے کہ اے ہمارے رب بچائیو بچائیو۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ اور حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا) مغیرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کا شعار (یعنی نشان) پل صراط پر قیامت کے دن یہ ہوگی اے اللہ بچائیواے اللہ بچائیو۔ 11:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ سے مراد ہے کہ اس کے ساتھ گذرے گا۔ 12:۔ ھناد نے زہد میں اور عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جہنم پر ایک پل ہے کہ اس پر سب لوگ اتریں گے۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ، ھناد عبد بن حمید، حکیم، ابن انباری، نے مصاحف میں خالد بن معدان (رح) سے روایت کیا کہ جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب کیا آپ نے ہم سے وعدہ نہ کیا تھا کہ تم جہنم میں اتروگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیوں نہیں لیکن تم اس پر گذرے تو وہ مدھم پڑچکی تھی۔ 14:۔ عبد بن حمید، ابن انباری اور بیہقی نے بعث میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ میں (آیت) ” ورود “ سے مراد ہے اس پر گذرنا اس میں داخل ہوئے بغیر۔ 15:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ سے مراد ہے اس پر سے گذرنا۔ 16:۔ ابن انباری نے ابو نضرہ (رح) سے (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو لادا جائے گا پل صراط پر جہنم کی طرف اور وہ گویا کہ پگھلی ہوئی چربی کی پشت کی طرح ہوگی اور وہ ان کے ساتھ جھک جائے گی اللہ تعالیٰ جہنم سے فرمائیں گے اپنے دوستوں کو لے لے اور میرے اصحاب کو چھوڑ دے تو ان کے ساتھ پل صراط دھنس جائے گا اور مومن نجات پاجائیں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” فاستبقو الصراط فانی یبصرون “ (یعنی پل صراط سے آگے بڑھ جائیں گے اور وہ کہاں اس کو دیکھیں گے) 17:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابوالعوم (رح) سے روایت کیا کہ کعب ؓ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا (یعنی) (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس کے ورود ہونے کو اس کا داخل ہونا سمجھتے ہیں فرمایا (یہ مطلب) نہیں لیکن اس کا وارد ہونا یہ ہے کہ جن ہم کو لایا جائے گا گویا کہ وہ پگھلی ہوئی چربی کی پشت ہے یہاں تک کہ اس پر مخلوق کے قدم ٹھہرجائیں گے ان کے نیک لوگوں کے بھی اور ان کے بدکار لوگوں کے بھی ان کو ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اپنے دوستوں کو پکڑ لے اور میرے دوستوں کو چھوڑ دے تو وہ دھنسادے گی اپنے ہر دوست کو اور وہ ان کو خوب جانتی ہوگی اپنی اولاد کو والد کے جاننے سے بھی زیادہ اور مومن نجات پائیں گے اور ان کے کپڑے گیلے ہوں اور فرمایا جہنم کے چوکیداروں میں سے ایک چوکیدار کے کندھوں کے درمیان ایک سال کا فاصلہ ہوگا اس کے پاس لوہے کا گرز ہوگا جس کی دو شاخیں ہوگی ایک ہی دفعہ میں نو لاکھ آدمیوں کو آگ میں گرادے گا یا اسی طرح آپ نے فرمایا۔ پل صراط سے گذرنے کے مختلف طریقے : 18۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ مسلمانوں کا وردو ایک پل پر گذرنا ہوگا اس کی پیٹھ کے درمیان، اور مشرکین کا ورود اس میں داخل ہونا ہوگا اور پل کو فرشتے گھیرے میں لئے ہوئے ہوں گے اس دن ان کی دعا یہ ہوگی اے اللہ اے اللہ بچا لیجئے۔ 19:۔ عبدبن حمید نے عبید بن عمیررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ اس کا حاضر ہونا اس کا وارد ہونا ہے۔ 20:۔ ابن انباری نے مصاحف میں مرزوق بن سلامہ (رح) سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ ” الورود “ کیا چیز ہے ؟ فرمایا اس سے مراد ہے ” دخول “ کہا یہ معنی نہیں ہے (لیکن) ” الورود “ سے مراد ہے کہ اس کے کناروں پر ٹھہرنا فرمایا افسوس ہے تجھ پر کیا تو نے اللہ کی کتاب کو نہیں پڑھا (آیت) ” وما امر فرعون برشید “ کہ وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا اور ان کو جہنم میں اتارے گا افسوس ہے تجھ پر کہ ان کو ان کے کناروں پر کھڑا کیا جائے (حالانکہ) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” ویوم تقوم الساعۃ ادخلوال فرعون اشدالعذاب “۔ 21:۔ طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو ایوب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے قیامت کے دن ایک مرد اور ایک عورت جھگڑیں گے نہ اس عورت کی زبان بولے گی اور نہ اس مرد کی زبان بولے گی لیکن ان کے ہاتھ اور ان کے پاوں گواہی دیں گے جو اعمال انہوں نے کئے تھے اور اس عورت کے ہاتھ اور اس کے پاوں اس پر گواہی دیں گے جو اس نے گناہ کئے تھے پھر اس مرد کے ہاتھ اور پاوں گواہی دیں جو اس نے گناہ کئے تھے پھر اسی طرح مرد اور اس کے اردگرد دوسرے لوگوں کو بلایا جائے گا پھر بازار والوں کو لایا جائے گا ان سے قیراب اور دوانق کو نہیں لیاجائے گا مگر نیکیاں لی جائیں گی اور حقوق والوں کو دی جائیں گی پھر سرکش اور مغرور لوگوں کو لوہے کے گرزوں میں لایا جائے گا اور رب العالمین کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ فرمائیں گے کہ ان کو آگ کی طرف ہانک کرلے جاؤ میں نہیں جانتا کیا ان کو اس میں داخل کیا جائے گا یا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتما مقضیا ‘ (یعنی اور تم میں سے ہر ایک دوزخ پر اترنے والا ہے یہ آپ کے رب پر لازم ہے جو ضرور پورا ہو کر رہے گا) 22:۔ ابن سعد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب عمر ؓ نیز مارے گئے تو فرمایا اللہ کی قسم اگر ساری زمین میں جو کچھ ہے وہ سب میرا ہوتا میں اس ہول کے بدلے جو مرنے کے بعد ہوگا دے ڈالتا ابن عباس ؓ نے فرمایا میں نے ان سے کہا اللہ کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ آپ اس کو نہ دیکھیں گے مگر اتنی مقدر جتنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وان منکم الا واردھا “۔ 23:۔ حکیم، ترمذی، طبرانی، ابن مردویہ، خطیب اور بیہقی نے شعب میں یعلی بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن آگ مومن کے لئے کہے گی اے مومن تو جان لے کہ تحقیق تیرے نور نے میرے شعلے کو بجھا دیا ہے۔ 24:۔ ابن سعد، احمد، ھناد، ابن ماجہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن انباری، طبرانی، ابن مردویہ نے ام مبشر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بدر میں اور حدیبیہ میں حاضر ہونے والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہ ہوگا حفصہ ؓ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ہیں (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ آپ نے فرمایا کیا تو اس بات کو نہیں سنا (آیت) ” ثم ننجی الذین اتقوا “ (یعنی پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دیں گے) تین نابالغ اولاد کے مرنے پر صبر کرنے کی فضیلت : 25:۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے مرجائیں تو وہ آگ میں داخل نہ ہوگا مگر قسم کو حلال کرنے کے لئے پھر سفیان (رح) نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” وان منکم الا واردھا “۔ 26:۔ طبرانی نے عبد الرحمن بن بشیر انصاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے تین نابالغ بچے مرجائیں تو وہ نہیں آئے گا آگ پر یعنی وہ آگ پر نہیں آئے گا مگر راستہ گذرنے والے کی طرح یعنی گذرنے والا پل صراط پر۔ 27:۔ احمد، بخاری نے تاریخ میں، ابویعلی، طبرانی اور ابن مردویہ نے معاذ بن انس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے مسلمانوں کے پیچھے اللہ کے راستے میں چوکیداری کی اپنی خوشی سے تو اس کو بادشاہ نہیں پکڑے گا اور وہ آگ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے گا مگر قسم حلال کرنے کے لئے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” وان منکم الا واردھا “۔ 28:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن انباری اور بیہقی نے بعث نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اسی طرح (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ یعنی کفار پھر فرمایا مومن اس پر نہیں اترے گا اسی طرح اس کو پڑھا۔ 29:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ اور فرمایا وہ اندھیرا ہے اسی طرح ہم اس کو پڑھا کرتے تھے۔ 30:۔ ابن مبارک، احمد نے زہد میں اور ابن عساکر نے بکر بن عبداللہ مزنی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ تو عبداللہ بن رواحہ ؓ اپنے گھر گئے اور رونے لگے اس کی بیوی آئی تو وہ بھی رونے لگی اور خادم آیا تو وہ بھی رونے لگا اور گھروالے آئے تو انہوں نے بھی رونا شروع کیا جب ان کا آنسو بہانا ختم ہوگیا تو پوچھا اے میرے گھر والو کس چیز نے تم کو رلایا ؟ انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے تھے لیکن ہم نے آپ کو روتا دیکھا ہے تو ہم بھی رونے لگے پھر آپ نے فرمایا ایک آیت رسول اللہ ﷺ پر اتری جس میں رب تعالیٰ نے مجھ کو بتایا کہ میں آگ پر وارد ہوں گا اور مجھ کو نہیں بتایا کہ میں اس سے واپس ہوں گا یہ وہ بات تھی جس نے مجھ کو رلادیا۔ جہنم کے خوف سے رونے کا واقعہ : 31:۔ ابونعیم نے حلیہ میں عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب ابن رواحہ ؓ نے نکلنے کا ارادہ کیا شام کی سرزمین موتہ کی طرف ان کے پاس مسلمان آئے ان کی تیمارداری کرنے کے لئے تو وہ رونے لگے پھر فرمایا اللہ کی قسم مجھے دنیا کی محبت نہیں ہے اور تمہارا عشق بھی نہیں ہے لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا (آیت) ” وان منکم الا واردھا، کان علی ربک حتما مقضیا “ میں نے جان لیا کہ میں آگ میں وارد ہوں گا اور میں نہیں جانتا کہ داخل ہونے کے بعد واپسی کیسے ہوگی۔ 32:۔ ابن مبارک، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، احمد اور ھناد بن السری دونوں نے زہد میں عبد بن حمید حاکم اور بیہقی نے بعث میں قیس بن حازم (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن رواحہ ؓ رونے لگے ان کی بیوی نے کہا کس بات نے آپ کو رلایا فرمایا مجھ کو خبر دی گئی ہے کہ میں آگ پر وارد ہوں گا اور مجھ کو یہ خبر نہیں دی گئی کہ میں اس سے واپس بھی ہوں گا (یا نہیں ) ۔ 33:۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ (علیہ السلام) جب آپس میں ملتے تھے تو ایک آدمی اپنے ساتھی سے کہتا تھا کیا تیرے پاس یہ بات پہنچی ہے کہ تو وارد ہونے والا ہے (یعنی جہنم میں اترنے والا ہے) وہ کہتا تھا ہاں اور کیا تیرے پاس یہ بات پہنچی ہے کہ تو نکلنے والا بھی ہے وہ کہتا تھا نہیں پھر وہ کہتا تھا پھر تو کیوں ہنستا ہے۔ 34:۔ ابن مبارک اور ھناد نے ابو میسر (رح) جب اپنے بستر پر آتے تھے تو فرماتے اے کاش مجھ کو میری ماں نہ جنتی اس کی بیوی نے کہا اے بومیسر بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسلام کی طرف ہدایت دی ہے فرمایا ہاں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ہم آگ میں اتریں گے اور ہم کو یہ بیان نہیں فرمایا کہ ہم اس سے واپس بھی ہوں گے۔ 35:۔ ابن مبارک نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا اپنے بھائی سے کیا تیرے پاس یہ بات آئی ہے کہ تو آگ میں اترے گا ؟ اس نے کہا ہاں پھر پوچھا کیا تیرے پاس یہ بات بھی آئی ہے کہ تو اس سے نکلے گا ؟ اس نے کہا نہیں فرمایا پھر تو کیوں ہنستا ہے ؟ اور ان سے ہنسنا نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ وہ وفات پاگئے۔ 36:۔ ابن جریر اور ابن منذرنے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بخار ہر مومن کا حصہ ہے آگ میں سے پھر یہ آیت پڑھی (آیت) ” وان منکم الا واردھا “۔ 37:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ بخار دینا میں مومن کا حصہ ہے آخرت میں جہنم میں اترنے کے (بدلے) میں۔ 38:۔ بیہقی نے شعب میں مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ مسلمانوں میں سے جس کو (دنیا میں) بخار پہنچ گیا تو گویا وہ (جہنم میں) اتر گیا۔ 39:۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب میں سے ایک آدمی کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جس کو بخار کی شدت تھی اور میں آپ کے ساتھ تھا آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میری عیادت کے لئے تشریف لے گئے جس کو بخار کی شدت تھی اور میں آپ کے ساتھ تھا آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میری آگ ہے جس کو میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت میں آگ سے اس کا حصہ ہوجائے (یعنی اس کا بدلہ ہوجائے) آگ ہے جس کو میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت میں آگ سے اس کا حصہ ہوجائے (یعنی اس کا بدلہ ہوجائے) 40:۔ خطیب نے تالی التلخیص میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان منکم الا واردھا “ کہ اس سے مراد ہے داخل ہونا اور یہ آپ کے رب پر لازم ہے جو ضرور پورا ہو کر رہے گا پھر فرمایا یہ لازمی قسم ہے۔ 41:۔ ابن ابی حاتم، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حتما مقضیا “ یعنی یہ فیصلہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ 42:۔ ابن انباری نے وقف میں اور طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حتما مقضیا “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا ” الحتم “ سے مراد ہے الواجب یعنی واجب ہونا پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو امیہ بن ابی صلت کو نہیں کہ وہ کہتا ہے : عبادک یخطئون وانت رب بکفیک لمنا یا والحتوم : ترجمہ : تیرے بندے تو خطا کرتے ہیں اور تو رب ہے تیرا کافی ہونا ہے موتوں اور قطعی فیصلوں کو۔ 43:۔ ابن انباری نے ا بوسلامہ سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” ثم ننجی الذین اتقوا “ تاء کے ضمہ کے ساتھ۔ 44:۔ ابن انباری نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت) ” ثم ننجی الذین اتقوا “ تاء کے فتحہ کے ساتھ۔ 45:۔ ابن انباری نے ابن ابی لیلی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” ثم ننجی الذین اتقوا “ تاء کی فتحہ کے ساتھ اور فرماتے تھے ورود سے مراد ہے دخول۔ 46:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کہ وہ (آیت) ’ـ’ ونذر الظلمین فیھا جثیا “ کو اسی طرح پڑھتے تھے۔ 47:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ’ـ’ ونذر الظلمین فیھا جثیا “ سے مراد ہے کہ گرے ہوئے ہوں گے اپنے گھٹنوں کے بل۔ 48:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الجثی “ سے مراد ہے برا بیٹھنا اور آدمی گھٹنوں کے بل نہیں بیٹھتا مگر بےچینی کے و قت۔ 49:۔ عبد بن حمید، عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” جثیا “ سے مراد ہے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھنا۔ وقولہ تعالیٰ : واذا تتلی علیہم : 50:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ای الفریقین خیر “ کے بارے میں فرمایا کہ قریش مکہ نے ان کے لئے اور محمد ﷺ کے اصحاب کے لئے ایک بات کہی تھی (کہ ہم دونوں فرقوں میں کون بہتر ہے) 51:۔ فریابی، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن حاتم نے ابن عباس ؓ روایت کیا کہ (آیت) ” خیرمقاما “ سے مراد ہے گھر اور (آیت) ” واحسن ندیا “ سے مراد ہے مجلسیں اور آیت ” احسن اثاثا “ سے مراد ہے سامان اور مال (آیت) ” ورءیا “ سے مراد ہے منظر۔ 52:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واحسن ندیا “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا ” النادی “ سے مراد ہے مجلس اور قربانی کی جگہیں پھر پوچھا کی عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : یومان یوم مقامات واندیۃ ویوم سیرالی الاعداء تاویب : ترجمہ : دو دن ہیں ایک دن رہائش گاہوں اور مجلسوں میں (رہنا ہے) اور دوسرے دن چلنا ہے دشمنوں اور پڑاؤ کی جگہ کی طرف۔ 53:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خیر مقاما واحسن ندیا “ یعنی ان کی مجلسیں (اور) (آیت) ” اثاثاورءیا “ سے مراد ہے زینت اور دکھاوا جس میں لوگوں کو دکھایا جاتا ہے۔ 54:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خیر مقاما واحسن ندیا “ سے مراد ہے بہترین جگہ کے لحاظ سے اور سب سے اچھا مجلس کے لحاظ سے (اور) (آیت) ” احسن اثاثاورءیا “ یعنی مال کی کثرت اور اچھی صورت۔ وقولہ تعالیٰ : قل من کان فی الضللۃ فلیمددلہ : 55:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے (آیت) ” قل من کان فی الضللۃ فلیمددلہ الرحمن “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو سرکشی میں چھوڑ دیتے ہیں۔ 56ـ:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حبیب بن ابی ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” قل من کان فی الضللۃ فلیمددلہ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو گمراہی میں اور زیادہ کردے گا۔ 57:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے (آیت) ” ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی “ کے بارے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اخلاص میں اور زیادہ کردے گا۔ 58:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خیر عند ربک ثوابا “ یعنی بہترین بدلہ مشرکین کے بدلے سے (اور) (آیت) ” وخیر مردا “ یعنی بہترین لوٹنا (اور) ان کا لوٹنا آگ کی طرف ہوگا۔ وقولہ تعالیٰ : افرءیت الذی کفر بایتنا : 59۔ احمد، بخاری، مسلم، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ترمذی، بیہقی نے دلائل میں ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان اور ابن مردویہ نے خباب بن ارت ؓ سے روایت کیا کہ میں ایک لوہار آدمی تھا عاص بن وائل پر میرا قرضہ تھا میں اس کے پاس آیا اور اس سے تقاضا کیا اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم میں تجھ کو ادا نہیں کروں گا جب تک تو محمد ﷺ کا انکار نہ کردے میں نے کہا اللہ کی قسم میں محمد ﷺ کا انکار نہیں کروں گا یہاں تک کہ تو مرجائے اور پھر زندہ ہو کر اٹھایا جائے اس نے کہا جب میں مرجاوں گا تو پھر اٹھایا جاوں گا تو تم میرے پاس آنا وہاں میرے پاس مال ہوگا اور اولاد بھی ہوگی تو میں تجھ کو دوں گا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” افرءیت الذی کفر بایتنا “ (سے لے کر) ” ویاتینا فردا “ تک۔ 60:۔ طبرانی نے خباب ؓ سے روایت کیا کہ میں عاص بن وائل کا کام کیا کرتا تھا میں اس کے پاس آیا تاکہ اس سے (اپنی مزدوری کا) تقاضا کروں اس نے کہا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم لوٹائے جاوگے مال اور اولاد کی طرف اور میں بھی لوٹنے والا ہوں مال اور اولاد کی طرف جب میں اس کی طرف لوٹ جاوں گا پھر میں تجھ کو دوں گا تو ( اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” افرءیت الذی کفر بایتنا “ (الآیۃ) آخرت کی نعمت صرف مسلمانوں کے لئے : 61:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے عاص بن وائل سے قرضہ لینا تھا وہ لوگ اس کے پاس آئے اور اپنے قرضے کا تقاضا کیا اس نے کہا کیا تم یہ گمان نہیں کرتے ہو (یعنی یہ تمہارا عقیدہ نہیں ہے) کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، اور ہر قسم کے پھل ہوں گے صحابہ ؓ نے فرمایا کیوں نہیں (ضرور ہوں گے) اس نے کہا (پھر تو) تمہارے ساتھ آخرت کا وعدہ ہے اللہ کی قسم میں ضرور مال اور اولاد دیا جاوں گا تمہاری کتاب کی طرح کتاب دی جائے گی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” افرءیت الذی کفر بایتنا “ (الایات) ۔ 62:۔ سعید بن منصور نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی کا قرضہ تھا ایک مشرک آدمی پر تو اس سے تقاضا کرنے کے لئے وہ اس کے پاس آیا اس نے کہا کیا تو اس آدمی (محمد ﷺ کے ساتھ نہیں ہے ؟ اس نے کہا ہاں پھر اس نے کہا کیا وہ اس بات کا گمان نہیں رکھتا کہ تمہارے لئے جنت ہے، آگ ہے، مال ہیں اور بیٹے ہیں ؟ صحابی ؓ نے فرمایا ہاں پھر اس نے کہا تو چلا جا ! میں تجھ کو وہاں ادا کروں گا اس پر یہ (آیت) ” افرءیت الذی کفر بایتنا “ (سے لے کر) ” ویاتینا فردا “ تک نازل ہوئی۔ 63:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اطلع الغیب “ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے اس کو غیب (کے بارے میں) بتایا کہ اس میں مال ہوگا (آیت) ” ام اتخذ عند الرحمن عہدا “ کیا کسی نیک عمل کی وجہ سے اس نے رحمن سے عہد لیا ہے۔ 64:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام اتخذ عند الرحمن عہدا “ یعنی کیا اس نے لا الہ الا اللہ کہا کہ جس کے ذریعہ وہ امید رکھتا ہے (واللہ اعلم )
Ayahs 19:80–82

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور اس کی کہی ہوئی چیزوں کے ہم مالک رہ جائیں گے اور وہ ہمارے پاس تنہا آئے گا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنالئے، تاکہ وہ ان کے لئے عزت کی چیز بن جائے۔

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

خبردار ایسا ہرگز نہیں ہے، وہ عنقریب ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف بن جائیں گے۔

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ ہم اس کے مال اور اس کی اولاد کے وارث ہوں گے۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ ہم اس کے مال اور اس کی اولاد کے وارث ہوں گے اور جس شخص نے یہ گستاخی کی تھی وہ عاص بن وائل تھا۔ 3:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونرثہ ما یقول “ کہ جو کچھ اس کے پاس ہے ہم اس کے وارث ہوں گے اور اس کا قول ہے (آیت) ” لاوتین مالاو ولدا “ (کہ میں ضرور مال اور اولاد دیا جاوں گا) اور ابن مسعود ؓ کے قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ونرثہ ماعندہ ویاتینا فردا “ یعنی نہ اس کے لئے مال ہوگا اور نہ اولاد ہوگی اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے ابونھیک (رح) سے روایت کیا کہ وہ (آیت) ” کلا، سیکفرون بعبادتھم “ کو کاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے تھے یعنی ان کے سارے معبود (ان کے عبادت کا انکار کریں گے) اسی کو فرمایا (آیت) ” کلا، سیکفرون بعبادتھم “ 5:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویکونون علیہم ضدا “ یعنی مددگار۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویکونون علیہم ضدا “ کہ ان کے بت قیامت کے دن آگ میں ہوں گے اور مشرکین پر آگ بھڑکانے میں مدد کرنے والے ہوگے یعنی ان کے بت ان سے جھگڑا کریں گے اور ان کو جھٹلائیں گے قیامت کے دن۔ 7:۔ عبد بن حمیدنے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویکونون علیہم ضدا “ یعنی وہ ان پر حسرت اور افسوس کا اظہار کریں گے۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 8:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویکونون علیہم ضدا “ یعنی کافر اور ان کے بت آگ میں ساتھی ہوں گے اور ان کا بعض بعض پر لعنت کرے گا اور ایک دوسرے سے برأت کا اظہار کریں گے۔ 9:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویکونون علیہم ضدا “ یعنی وہ ان کے دشمن ہوجائیں گے۔ 10:۔ ابن انباری نے و قف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویکونون علیہم ضدا “ میں ان سے ضدا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے حمزہ بن عبدالمطلب کا یہ شعر پڑھا : وان تکونوا لہم ضدا تکن لکم ضدا بغلباء مثلا اللیل مکتوم : ترجمہ : اگر تم ان کے دشمن ہوگئے تو ہم تمہارے دشمن ہوں گے غلبہ کے ساتھ چھپی ہوئی رات کی طرح۔