14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 14:28–34

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں یعنی جہنم میں اتار دیا

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ رہنے کی بری جگہ ہے

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے لئے مقابل قرار دے دیئے تاکہ وہ انہیں اللہ کی راہ سے گمراہ کردیں آپ فرمادیجئے کہ تم مزے کی زندگی گزارلو پھر بلاشبہ تمہیں دوزخ کی طرف لوٹ کر چلا جانا ہے

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

آپ میرے بندوں سے فرما دیجئے جو ایمان لائے کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ طریقے پر اور ظاہر طریقے پر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی خرید فروخت ہوگی اور نہ کوئی دوستی ہوگی

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس کے ذریعہ پھلوں سے تمہارے لئے رزق نکالا اور تمہارے لئے کشتی کو مسخر فرما دیا تاکہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور اس نے تمہارے لئے نہروں کو مسخر فرما دیا

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور تمہارے لئے سورج اور چاند کو مسخر فرما دیا وہ برابر حرکت میں ہیں اور اس نے تمہارے لئے رات اور دن کو مسخر فرما دیا

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور تم نے اس سے جو کچھ مانگا تم کو اس سب میں عطا فرما دیا اور اگر تم اللہ کی نعمت کو شمار نہیں کرسکتے بلاشبہ انسان بڑا بےانصاف ہے، بڑا ہی ناشکرا ہے۔

1:۔ امام عبدالرزاق، سعید بن منصور، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے مراد مکہ کے رہنے والے کافر ہیں۔ 2:۔ امام بخاری نے تاریخ میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے قریش میں سے فاجر ترین مراد ہیں بنو مغیرہ اور بنوامیہ بنومغیرہ کا بدر کی لڑائی میں تم نے کام تمام کردیا اور بنوامیہ کو کچھ عرصہ تک مزے اڑانے کا موقعہ دے دیا گیا۔ 3:۔ امام ابن مردویہ نے روایت نقل کی کہ ابن عباس ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ اے امیرالمومنین اس آیت (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے کون لوگ مراد ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس سے قریش میں سے دو فاجر ترین مراد ہیں (یعنی) میرے مامووں اور میرے چچاوں لیکن میرے مامووں کو بدر کے دن اللہ تعالیٰ نے ان کی جڑ کاٹ دی لیکن میرے چچاوں کو اللہ تعالیٰ نے کچھ عرصہ مہلت دی۔ قریش کے دو فاجر قبیلے : 4:۔ امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی نے الاوسط میں، ابن مردویہ اور حاکم نے چند طریق سے (حاکم نے صحیح بھی کہا) علی ابن ابی طالب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے قریش کے دو فاجر ترین شخص مراد ہیں بنوامیہ اور بنومغیرہ لیکن بنو مغیرہ کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن ان کی جڑ کاٹ دی (لیکن) بنوامیہ والوں نے ایک مدت تک نفع اٹھایا۔ 5:۔ امام عبدالرزاق، فریابی، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے مصاحف میں، ابن مردویہ حاکم، بیہقی نے دلائل میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن الکواء (رح) نے علی ؓ سے (آیت) ” الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے قریش میں سے دو فاجر مراد ہیں جن کا بدر کی لڑائی میں میں نے کام تمام کیا تھا پھر فرمایا (آیت) ” الذین ضل سعیہم فی الحیوۃ الدنیا “ (الکہف آیت 104) ان میں سے حروراء کے رہنے والے بھی (مراد) ہیں۔ 6:۔ امام ابن مردویہ نے علی ؓ سے (آیت) ” الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے بنوامیہ اور بنو مخزوم مراد ہیں یہ ابوجہل کا گروہ ہے۔ 7:۔ امام ابن مردویہ نے ارطاہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے علی ؓ کو ممبر پر کھڑے ہوئے سنا کہ (آیت) ” الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے وہ لوگ مراد ہیں دین سے بری لوگ قریش کے علاوہ۔ 8:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن ابی حسین (رح) سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا کوئی ہے جو قرآن کے بارے میں مجھ سے سوال کرے اللہ کی قسم اگر کسی کو میں آج جانتا ہوتا کہ وہ مجھ سے قرآن کو زیادہ جاننے والا ہے اور سمندروں کے پیچھے ہوتا تو میں اس کے پاس جاتا عبداللہ بن الکواء اٹھے اور پوچھا اس (آیت) ” الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے کون لوگ مراد ہیں وہ قریش کے مشرکین مراد ہیں ان کے پاس ایمان کی نعمت پہنچی لیکن انہوں نے اپنی قوم کے لئے ہلاکت کے گھر کو بدلا۔ 9:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور حاکم نے الکنی میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے قریش کے کافر مراد ہیں جو بدر کے دن قتل کردیئے گئے۔ 10:۔ امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے اہل بدر کے مشرک مراد ہیں۔ 11:۔ امام ابن مالک نے اپنی تفسیر میں نافع سے اور انہوں نے ابن عمر ؓ روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے قریش کے وہ کفار مراد ہیں جو بدر کے دن قتل کردئیے گئے۔ 12:۔ امام ابن جریر نے عطابن یسار (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو قریش میں سے قتل کردئیے گئے بدر کے دن (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے مراد وہ قریش ہیں اور نعمت سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ ابوجہل اور مقتولین بدر کی مذمت : 13:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم بیان کرتے تھے کہ وہ اہل مکہ میں ابوجہل اور اس کے ساتھی جن کو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن قتل کردیا۔ 14:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے جبلۃ بن ایہم مراد ہیں وہ لوگ جنہوں نے عرب میں اس کی تابعداری کی جو روم چلے گئے۔ 15:۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واحلوا قومہم دارالبوار “ سے مراد ہے کہ ان کی قوم میں سے جو ان کی تابعداری کرنے والے تھے ان کی ہلاکت کے گھر میں اتارا۔ 16:۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” دارالبوار “ سے جہنم مراد ہے (اور) اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان کیا اور آپ کو اس کی خبر دی اور فرمایا (آیت ) ” جھنم یصلونھا وبئس القرار “۔ 17:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جھنم یصلونھا “ سے مراد ہے کہ گھر آخرت میں جہنم ہوگا۔ 18:۔ امام عبدبن حمید اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلوا للہ اندادا “ یعنی انہوں نے شرک کیا۔ 19:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابورزین (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار “ سے مراد ہے کہ تم لوگ اپنی موت تک نفع اٹھاتے رہو۔ 20:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” من قبل ان یاتی یوم الا بیع فیہ ولا خلل “ کے بارے میں فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ دنیا میں خریدو فروخت اور دوستیاں ہیں جن کے ساتھ وہ دنیا میں ایک دوسرے سے دوستیاں قائم کرتے ہیں سو چاہیے کہ آدمی دیکھ لے کہ وہ کس سے دوستی لگا رہا ہے اور کیوں لگا رہا ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو ہمیشہ باقی رکھے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور مقصد ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ جان لے کہ دنیا کی دوستی دشمنی میں بدل جائے گی قیامت کے دن سوائے متقی لوگوں کی دوستی کے (کہ وہ دشمنی میں نہیں بدلے گی ) ۔ 21:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وسخرلکم الانھر “ یعنی ہر شہر کے ساتھ تمہارے لئے دریا مسخر کردئے (یعنی تمہارے کام میں لگا دیئے) 22:۔ امام ابن جریر نے روایت نقل کی کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا (آیت) ” وسخرلکم الشمس والقمر “ سے مراد ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں چل رہے ہیں۔ 23:۔ امام ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے کتاب العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورج چھوٹی نہر کی طرح ہے وہ چلتا ہے دن کے وقت آسمان میں (یعنی) اپنے فلک میں جب غروب ہوتا ہے تو رات کے وقت اپنے فلک میں چلا جاتا ہے زمین کے نیچے یہاں تک کہ (سورج) پھر مشرق سے طلوع ہوتا ہے اسی طرح چاند ہے۔ 24:۔ امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واتکم من کل ما سالتموہ “ یعنی ہر وہ چیز جس کا تم نے اس سے سوال کیا وہ اس نے تم کو عطا فرما دی۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ 25:۔ امام ابن جریر نے حسن (رح) سے (آیت) ” واتکم من کل ما سالتموہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر وہ چیز جس کا تم نے سوال کیا اور جس کا تم نے سوال نہیں کیا وہ تم کو عطا فرما دی۔ 26:۔ امام ابن شیبہ، ابن جریر اور بیہقی نے شعب میں طلق بن حبیب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا حق اتنا بھاری ہے کہ بندے کے لئے اس کی ادائیگی ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بہت زیادہ ہیں کہ بندے اس کو شمار کریں (یعنی شمار کرنے سے زیادہ ہیں) لیکن تم صبح کرو توبہ کرتے ہوئے اور شام کرو توبہ کرتے ہوئے۔ الحمد للہ کہنا بھی نعمت ہے : 27:۔ امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے بکر بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ کوئی بندہ الحمد للہ کہتا ہے تو اس پر نعمت واجب ہوجاتی ہے الحمد للہ کہنے کی وجہ سے پھر ان سے پوچھا گیا کہ اس نعمت کا کیا بدلہ ہے ؟ فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ (پھر) الحمد للہ کہے تو اسے دوسری نعمت ملے گی اور اللہ کی نعمت ختم نہ ہوگی۔ 28:۔ امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے شعب میں سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام فرمایا اپنی شان کے مطابق اور ان کو شکر کرنے کا مکلف بنایا ان کی طاقت کے مطابق۔ 29:۔ امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے بکر بن عبداللہ ہزنی (رح) سے روایت کیا کہ اے آدم کے بیٹے اگر تو ان نعمتوں کی مقدار پہچاننا جاہتا ہے جو تیرے اوپر کی گئیں تو بند کرلے اپنی آنکھوں کو۔ 30:۔ امام بیہقی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ جس نے اللہ کی نعمت کو نہیں پہچانا جو اس پر ہوئی مگر صرف اپنے کھانے میں اور اپنے پینے میں تو کم ہے اس کا علم اور قریب ہے اس کا عذاب۔ 31:۔ امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے سفیان بن عیینہرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں پر اس سے بڑا انعام نہیں کیا کہ ان کی لا الہ الا اللہ کی پہچان دلائی اور بلاشبہ لا الہ الا اللہ ان کے لئے آخرت میں اس طرح لازم ہے جیسے دنیا میں پانی۔ 32:۔ امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دوزخ والوں پر بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اگر وہ چاہتے تو ان کو آگ سے بھی شدید عذاب دیتے تو وہ انہیں دے سکتا تھا۔ 33:۔ امام ابن الدنیا اور بیہقی نے محمد بن صالح (رح) سے روایت کیا کہ بعض علماء جب (یہ آیت) ” وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا “ تلاوت کرتے تو فرماتے وہ ذات پاک ہے جس نے نعمت کی معرفت سے تقصیر کو معرفت بنایا جیسے اس نے کسی کے لئے ادراک کو غیر ادراک سے زیادہ علم قرار نہیں دیا اور اس نے اپنی نعمت کی معرفت سے تقصیر کو شکر قرار دیا جیسا کہ اس نے اس کی عدم معرفت کے اعتراف کو شکر قرار دیا اور اسی کو ایمان قرار کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ بندے اس سے آگے تجاوز نہیں کرسکتے۔ 34:۔ امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے ابو ایوب قرشی جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام ہیں سے روایت کیا کہ داود (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب مجھ کو اس ادنی نعمت کے بارے میں بتائیے جو آپ نے مجھ پر فرمائی اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی اے داود سانس لو انہوں نے سانس لیا تو (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا یہ تجھ پر میری ادنی نعمت ہے۔ 35:۔ امام ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک عابد نے پچاس سال تک اللہ کی عبادت کی اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے تیری مغفرت کردی اس نے کہا اے میرے رب آپ نے میری مغفرت کیوں فرمائی (مغفرت تو گنہگار کی ہوتی ہے) اور میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن کی ایک رگ میں تکلیف ڈال دی تکلیف کی وجہ سے وہ نہ سویا اور نہ نماز پڑھی پھر اس کو (تکلیف سے) سکون حاصل ہوا تو رات کو پھر سویا رہا اس نے اس تکلیف کی شکایت کی اور کہا کہ مجھے یہ رگ کی تکلیف کیوں ہوئی فرشتے نے کہا تیرے رب فرماتے ہیں کہ تیری پچاس سال کی عبادت اس رگ کے سکون کے برابر ہے۔ 36:۔ امام ابن ابی حاتم نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ وہ یہ دعا مانگتے تھے اے اللہ ! میرے ظلم کو اور میری ناشکری کو بخش دے ایک کہنے والے نے کہا اے امیرالمومنین یہ ظلم اور یہ ناشکری کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے) (آیت) ” ان الانسان لظلوم کفار “ (یعنی انسان بےصبرا اور ناشکرا ہے )
Ayahs 14:35–36

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب اس شہر کو امن وامان والا بنا دیجئے اور مجھے میرے فرزندوں کو اس سے دور رکھیے کہ ہم بتوں کو پوجیں

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے میرے رب بلاشبہ ان بتوں نے لوگوں میں سے بہت سوں کو گمراہ کردیا، سو جو شخص میری پیروی کرے بلاشبہ وہ مجھ سے ہے اور جو شخص میری نافرمانی کرے تو بلاشبہ آپ بخشنے والے ہیں مہربان ہیں

ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء : 1:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” واذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا البلد امنا واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول فرمایا ان کی اولاد کے بارے میں ان کی دعا کے بعد ان کی اولاد میں سے کسی نے بت کی عبادت نہیں کی اس شہر کو امن والا بنادیا اور اس کے رہنے والوں کو پھل عطا فرمائے ان کو امام بنایا اور ان کی اولاد میں سے نماز کو قائم کرنے والے بنائے اور ان کی دعا کو قبول فرمایا اور ان کو (ابراہیم (علیہ السلام) کو) مناسک حج سکھائے اور ان کی توبہ قبول فرمائی۔ 2:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” رب انھن اضللن کثیرا من الناس “ سے مراد ہے بت (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم “ فرمایا سنو تم ابراہیم خلیل اللہ کی بات کو اللہ کی قسم نہ تو وہ لوگ لعنت کرنے والے اور نہ طعنہ دینے والے تھے اور کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے برے بندوں میں سے لعنت کرنے والے ہوتے ہیں اور اللہ کے نبی ابن مریم (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت ) ” ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم (118) ۔ 3:۔ امام حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے عرب کے لئے دعا کی اور میں نے کہا اے اللہ جو شخص ان میں سے مومن ہو کر تجھ سے ملاقات کرے آپ کے ساتھ یقین لاتے ہوئے اور آپ کی ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے اس کو اس کے زندگی کے دنوں میں معاف کردیجئے اور یہی دعا ہے ہمارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی اور حمد کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہوگا اور لوگوں میں سب سے زیادہ قریب میرے جھنڈے کی طرف اس دن عرب ہوں گے۔ جمرہ عقبہ میں ایمان لانے والے : 4:۔ امام ابونعیم نے دلائل میں عقیل بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس انصار میں سے جب چھ آدمی آئے آپ جمرہ عقبہ کے پاس ان کے لئے بیٹھے ان کو اللہ کی طرف بلایا اور اس کی عبادت کی طرف اور اس کے دین پر مددگار بننے کی دعوت دی انہوں نے آپ سے وحی سننے کا سوال کیا جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے تو آپ نے سورة ابراہیم میں سے یہ (آیت) ” واذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا البلد امنا واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام “ سورة کے آخر تک لوگوں نے جب یہ آیت سنیں تو جھک گئے اور ڈر گئے اور جو کچھ آپ نے سنایا اسے قبول کیا۔ 5:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ کون محفوظ ہوسکتا ہے آزمائش سے ابراہیم کے قول بعد (یعنی) (آیت) ” واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام “ 6:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کسی نے بتوں کی عبادت نہیں کی ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا (آیت) ” واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام “ کی برکت سے کہا گیا کہ اس دعا میں اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد اور ابراہیم (علیہ السلام) کی باقی ساری اولاد کیسے داخل نہیں ہوئی ؟ فرمایا کیونکہ انہوں نے دعا کی تھی کہ اس شہر مکہ کے رہنے والوں کے لئے کہ وہ بتوں کی عبادت نہ کریں اور ان کے لئے امن کی دعا کی تھی فرمایا (آیت) ” جعل ھذا البلد امنا “ سب شہروں کے لئے دعا نہیں کی تھی اور فرمایا (آیت) ” واجنبنی وبنی ان نعبدالاصنام “ اس میں آپ نے اہل مکہ ہی کو خاص فرمایا اور فرمایا (آیت) ” ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ربنا لیقیموا الصلوۃ “۔
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد کو اپنے آپ کے محترم گھر کے نزدیک ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جو کھیتی والی نہیں ہے اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں، سو آپ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردیجئے اور انہیں پھلوں میں سے روزی عطا فرمائیے تاکہ شکر ادا کریں۔

1:۔ امام واقدی اور ابن عساکر نے عامر بن سعد (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سارہ (علیہما السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے نکاح میں تھیں کچھ عرصہ گزر گیا مگر ان سے اولاد نہ ہوئی جب سارہ نے یہ دیکھا کہ اولاد نہیں ہورہی تو انہوں نے اپنی لونڈی ہاجرہ ان کو ہبہ کردی جو سارہ کی باندی تھی اس کے بطن سے اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے سارہ کو اس پر غصہ آنے لگا اور ہاجرہ پر عتاب کرنے لگیں اور قسم کھائی کہ میں ان کے تین اعضاء کاٹوں گی ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کیا تو اپنی قسم پورا کرنا چاہتی ہے ؟ کہنے لگی میں کیسے پورا کروں ؟ فرمایا ان کے کانوں میں سوراخ کردے اور اس کی ختنہ کردے اور حفض کا حصی ہے ختنہ کرنا اس لئے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا ہاجرہ نے اپنے کانوں میں بالیاں ڈال لیں اس سے اس کا حسن اور زیادہ ہوگیا سارہ ؓ نے کہ شاید میں نے اس کا حسن کو اور زیادہ کردیا سارہ ؓ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے ساتھ نہ رہنے پر مجبور کردیا تو اس سے ابراہیم (علیہ السلام) کو انتہائی پریشانی لاحق ہوئی اور وہ ہاجرہ کو مکہ چھوڑ آئے اور آپ ہر دن شام) (کے ملک) سے براق پر (سوار ہوکر) ہاجرہ کی ملاقات کے لئے جاتے تھے کیونکہ آپ کو ہاجرہ سے بہت محبت تھی اور اس کی جدائی پر صبر بہت کم تھا (یعنی اس سے ملاقات کے لئے صبر نہ ہوتا تھا) 2:۔ امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع “ یعنی اسماعیل (علیہ السلام) اور اس کی والدہ کو مکہ میں ٹھہرایا۔ 3:۔ امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے (دعا) فرمائی ” فاجعل افئدۃ الناس تھوی الیہم “ اگر (یوں) فرمائے (آیت) ” افجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہم “ تو غالب آجائے آپ پر ترک اور روم۔ 4:۔ امام ابن ابی شیبہ، ابن ابی جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہم “ اگر فرماتے (آیت) ” افئدۃ من الناس تھوی الیہم “ تو روم وفارس آپ پر بھیڑ کردیتے۔ 5:۔ امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ طاوس اور عطاء ابن ابی رباح سے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : بیت اللہ کی طرف دل مائل ہیں اور وہ اس کے پاس آتے ہیں، اور دوسرے الفاظ میں انہوں نے (یوں) کہا۔ لوگوں کا مائل ہونا مکہ کی طرف تاکہ وہ حج کریں۔ 6:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہم “ یعنی ان کی طرف کھنچے چلے آنا ( یعنی اسماعیل (علیہ السلام) اور اس کی والدہ کی طرف) 7:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن مسلم طائفی سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جس حرم کے لئے دعا کی (اور فرمایا) رزق دے ان کی رہنے والوں کو پھلوں سے تو اللہ تعالیٰ نے فلسطین سے طائف کو نقل کردیا۔ 8:۔ امام ابن ابی حاتم نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شام کی بستیوں میں ایک بستی کو نقل کیا اور اس کو طائف میں رکھ دیا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کے واسطے۔ 9:۔ امام ابن جریر، ابن ابی منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بواد غیر ذی زرع “ سے مراد ہے مکہ مکرمہ جہاں ان دونوں اس میں کوئی کھیتی نہ تھی۔ بیت اللہ کی پاکیزگی : 10:۔ امام جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم “ سے وہ گھر مراد ہے کہ جس کو اللہ نے پاک کردیا ہر برائی سے اور اس کو قبلہ بنایا اور اپنا حرم بنایا اللہ کے نبی ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو اپنی اولاد کے لئے چن لیا اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا بلاشبہ وہ یہ گھر ہے جس کے پہلے والی طسم کے لوگ تھے انہوں نے اس میں نافرمانیاں کیں اور اس کی حرمت کو حلال سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا پھر جرہم (قبیلہ) میں سے کچھ لوگوں کو اس کا والی بنایا انہوں نے اس میں نافرمانیاں کیں اور اس کی حرمت کو حلال سمجھا پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا پھر تم کو اس کا والی بنایا اے قریش کے گروہ ؟ پس تم نافرمانی نہ کرو اور نہ اس کے حق کو ہلکا سمجھو اور نہ اس کی عزت کو حلال کرو اور اس میں ایک نماز افضل ہے دوسری جگہوں کی نسبت لاکھ نمازوں سے اور اس میں گناہ کرنا بھی اسی مقدار میں ہے۔ 11:۔ امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہم “ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ لوگ مکہ میں رہائش کو پسند کریں۔ 12:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) نے (آیت) ” افجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہم “ کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے اس طرح سے کہ دل نکل کر وہاں پہنچنا چاہے اس وجہ سے ہر مومن کا دل معلق ہے کعبہ کی محبت کے ساتھ۔ 13:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر ابراہیم (علیہ السلام) یوں دعا کرتے کہ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے تو اس پر یہود و نصاری اور سب لوگ اس پر غالب آجاتے لیکن (آیت ) ” افئدۃ من الناس “ فرما کر مومنین کو خاص کردیا۔ 14:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور بیہقی نے شعب میں سند صحیح کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر ابراہیم (علیہ السلام) فرما دیتے کہ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے تو یہود و نصاری اور سب لوگ اس پر حج کرتے لیکن فرمایا (آیت) ” افئدۃ من الناس “ تو خاص کردیا اس کے ساتھ ایمان والوں کو۔ 15:۔ امام ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ والوں کے لئے یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ان کے لئے برکت عطا فرما ان کے صاع اور ان کے مد میں (ناپ اور تول کے وزنوں یا میزانوں) میں اور لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے۔
Ayahs 14:38–43

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے رب بلاشبہ آپ وہ سب کچھ جانتے ہیں جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں اور زمین میں اور آسمان میں اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمایا، بلاشبہ میرا رب دعا کا سننے والا ہے

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا رکھئے اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرمائے

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے ہمارے رب میری مغفرت فرمائے اور میرے والدین کی اور مومنین کی جس دن حساب قائم ہوگا

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اللہ کو ان کاموں سے بیخبر مت سمجھئے جو ظالم لوگ کرتے ہیں بات یہی ہے کہ وہ انہیں ایسے دن کے لئے مہلت دیتا ہے جس میں آنکھیں اوپر کو اٹھی رہ جائیں گی

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

یہ لوگ دوڑتے ہوں گے سروں کو اوپر کو اٹھائے ہوئے ہوں گے، ان کی نظر ان کی طرف واپس نہ لوٹے گی اور ان کے دل ہوا ہوں گے۔

1:۔ امام ابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا انک تعلم ما نخفی “ یعنی اسماعیل اور اس کی مال کی محبت میں سے جو کچھ ہم چھپائے ہوئے ہیں (تو اس کو جانتا ہے) (آیت) ” وما نعلن “ یعنی جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں ان دونوں کے لئے جفا (یعنی سخت دلی) کو (اس کو بھی جانتا ہے ) ۔ 2:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمعیل واسحق “ یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بہت عرصہ بعد (اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمایا) 3:۔ امام ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک سو سترہ سال کے بعد اولاد کی خوشخبری دی گئی۔ 4:۔ امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے (آیت) ” رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کچھ لوگ ہمیشہ فطرت (یعنی دین اسلام) پر ہوں گے جو (خالص) اللہ کی عبادت کریں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی۔ 5:۔ امام ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کے لئے دعا مانگی تھی وہ مجھے اپنے حصے کے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ 6:۔ امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور خرائطی نے مساوی الاخلاق میں نقل کیا ہے کہ میمون بن مہران (رح) نے (آیت ) ” ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ تسلی ہے مظلوم کے لئے اور دھمکی ہے ظالم کے لئے۔ 7:۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی بےاولاد تھا اس کی کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی وہ باہر نکلتا تھا جب وہ بنی اسرائیل کے لڑکوں میں کسی لڑکے کو زیور پہنے ہوئے دیکھتا تو اسے دھوکہ دے کر گھر لے جاتا پھر اس کو قتل کرکے اس کو اپنے زمین دوز تہہ خانے میں ڈال دیتا اس درمیان کہ وہ اسی (حال) پر تھا اچانک دو لڑکوں سے ملاقات ہوئی اور وہ بھی زیور پہنے ہوئے تھے ان دونوں کو اندر داخل کیا اور ان کو قتل کرکے اسی زمین دوز خانے میں ڈال دیا اس کی مسلمان بیوی تھی اس نے اس کام سے اس کو روکا اور اس سے کہا میں تجھ کو اللہ تعالیٰ کی سزا سے ڈراتی ہوں اور وہ کہتا تھا اگر اللہ نے مجھے کسی فعل پر پکڑنا ہوتا تو مجھے فلاں دن گرفتار کردیتا جس دن میں نے ایسا ایسا کیا تھا بیوی کہتی تھی تیرا صاع (یعنی) وزن، پیمانہ نہیں بھرا جب تیرا صاع (یعنی پیمانہ) بھر جائے گا تو پکڑا جائے گا جب دونوں لڑکے جو بھائی تھے قتل کردیے گئے تو ان کا باپ ان کی طلب میں نکلا کسی کو نہ پائے جو ان دونوں کے بارے میں خبردے تو وہ بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ایک نبی کے پاس آیا اس سے یہ واقعہ بیان کیا نبی (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کیا تو ان دونوں کا کوئی کھلونا تھا جس سے وہ دونوں کھیلتے تھے عرض کیا ہاں ان دونوں کا ایک چھوٹا کتا تھا اس کو لایا گیا تو اس نبی (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی مبارک کو اس کی آنکھوں کے درمیان رکھ دیا پھر اس کا راستہ چھوڑ دیا اور اس آدمی سے فرمایا بنی اسرائیل کے جس گھر میں داخل ہوگا اس میں ثبوت ملے گا وہ کتے کا بچہ گھروں کے گرد گھومنے لگا یہاں تک کہ ایک گھر میں داخل ہوگیا وہ لوگ اس کے پیچھے داخل ہوگئے انہوں نے دونوں لڑکوں کو ایک لڑکے کے ساتھ مرا ہوا پایا جن کو اس ظالم نے قتل کرکے زمین کے نیچے تہہ خانے میں ڈال دیا تھا وہ سب نبی (علیہ السلام) کے پاس چلے گئے تو اس نے ان کو حکم فرمایا کہ اس کو سولی پر لٹکا دو جب انہوں نے اس کو سولی کی لکڑیوں پر رکھا تو اس کی بیوی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی اے فلاں میں تجھ کو اس دن ڈرایا کرتی تھی اور میں نے تجھ کو خبر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو نہیں چھوڑے گا اور تو کہتا تھا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پکڑنا ہوتا تو وہ اس دن مجھے پکڑ لیتا جو میں ایسا ایسا کیا تھا اور میں نے تجھ کو کہا تھا کہ تیرا صاع ابھی نہیں بھرا خبردار ! بلاشبہ یہ تیرا صاع ہے اور خبردار بلاشبہ وہ بھر چکا ہے۔ 8:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما یوخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار “ یعنی پھٹی رہ جائیں گے اللہ کی قسم ان کی آنکھیں اور ان کی طرف نہیں لوٹیں گی۔ 9:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مھطعین “ یعنی نظر اٹھا کر تیز رفتاری کے ساتھ چل رہے ہوں گے ادھر ادھر منہ پھیر کر نہ دیکھیں گے (آیت) ” مقنعی رء وسھم “ یعنی اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے (آیت) ” لا یرتدالیہم طرفہم “ یعنی ان کی آنکھیں پھٹی ہوئی ہوں گی (آیت ) ” وافئدتھم ھوآء “ یعنی ان کے دلوں میں خیر میں سے کوئی چیز نہیں ہوگی مانند آب وگیاہ زمین کے۔ 10:۔ امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مھطعین “ سے مراد ہے ٹکٹکی باندھے ہوئے برابر نظر جمائے ہوئے۔ 11:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مھطعین “ سے مراد ہے کہ وہ جلدی سے دوڑ رہے ہوں گے۔ 12:۔ امام ابن انباری نے وقف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے (آیت ) ” مھطعین “ کے بارے میں پوچھا کہ ” مھطع “ سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا دیکھنے والا اس کے بارے میں شاعر کہتا ہے۔ اذا دعانا فاھطمنا لدعوتہ داع سمیع فلفونا وساقونا پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” مقنعی رء وسھم “ کے بارے میں بتائے کہ ” مقنع “ سے کیا مراد ہے فرمایا اپنے سر کو اٹھانے والا اس معنی میں کعب بن زھیرۃ (رح) نے فرمایا۔ ھجان وحمر مقنعاث رو وسھا واصفر مشمول من الزھر فاقع۔ ترجمہ : ھجان اور حمر اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے زرد پھول چمک رہے ہیں۔ 13:۔ امام ابن الانباری نے تمیم بن حذام (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مھطعین “ سے مراد ہے خود سر بنانا اور عرب اس آدمی کے لئے کہتے ہیں کہ جب اس کی آنکھوں سے شرم چلی جائے تو تحقیق وہ خود سر ہوگیا۔ 14:۔ امام ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مقنعی رء وسھم “ یعنی اپنے سروں کو اوپر اٹھائے ہوئے وہ آئیں گے اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے (آیت) ” لایرتدالیہم طرفھم، وافئدتھم ھوآء “ ٹکٹکی باندھ کر اور ان کے دل ان کے خوب سے ان کے حلق تک دھڑک رہے ہوں گے ان کے لئے کوئی جگہ نہ ہوگی جس میں وہ ٹھہر جائیں۔ 15:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وافئدتھم ھوآء “ یعنی ان میں کوئی چیز ایسی نہ ہوگی ان کے سینوں سے نکلیں گے اٹک جائیں گے اس کے حلوق میں۔ 16:۔ امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مرہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وافئدتھم ھوآء “ یعنی وہ پھنے ہوئے ہوں گے اور کوئی چیز ان کو یاد نہ ہوگی۔ 17:۔ امام ابن ابی شیبہ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ لوگ اس طرح اکھٹے کئے جائیں گے (قیامت کے دن) کہ ان کے سر ہوں گے اور اپنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر باندھے ہوئے ہوں گے اپنے سینے کے پاس۔
Ayahs 14:44–49

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور آپ لوگوں کو اس دن سے ڈرائیے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا، سو جن لوگوں نے ظلم کیا وہ یوں کہیں گے کہ اے ہمارے رب تھوڑی سی مدت کے لئے ہمیں مہلت دیجئے ہم آپ کے بلاوے کو قبول کریں گے۔ اور رسولوں کا اتباع کریں گے، کیا تم نے اس سے پہلے قسم نہ کھائی کہ ہمیں کہیں جانا ہی نہیں

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

حالانکہ تم ان لوگوں کے رہنے کی جگہوں میں رہتے تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ بات تم پر ظاہر ہوگئی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا اور ہم نے تمہارے لئے مثالیں بیان کیں

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اپنا مکر کیا اور اللہ کے سامنے ان کا مکر ہے اور واقعی ان کا مکر ایسا تھا کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

سوائے مخاطب تو اللہ کے بارے میں یہ خیال نہ کر کہ وہ وعدہ خلافی کرنے والا ہے بلاشبہ اللہ غلبہ والا بدلہ لینے والا ہے۔

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس روز زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان بھی بدل جائیں گے اور سب لوگ اللہ کے لئے ظاہر ہوجائیں گے جو واحد قہار ہے

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اے مخاطب تو اس دن مجرموں کو اس حال میں دیکھے گا کہ وہ باہم آپس میں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔

1:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ سے مراد ہے کہ ان کو دنیا میں ڈرائیے پہلے اس سے کہ ان کے پاس عذاب آجائے۔ 2:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “ یعنی قیامت کے دن (آیت ) ” فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب “ یعنی وہ مدت کہ اس دنیا میں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ (آیت ) ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “ (جیسے) اللہ تعالیٰ یہ قول ” واقسموا باللہ جھد ایمانہم لا یبعث اللہ من یموت “ (النخل آیت 38) (وہ قسم کیا تھی) کہ (آیت) ” مالکم من زوال “ یعنی دنیا سے آخرت کی طرف انتقال (نہیں ہوگا ) ۔ 3:۔ امام ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کے دوزخ والے آواز دیں گے (آیت ) ” ربنا اخرنا الی اجل قریب، نجب دعوتک ونتبع الرسل “ تو جواب دیا جائے گا۔ (آیت ) ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل مالکم من زوال “ سے لے کر (آیت ) ” لتزول منہ الجبال “ تک۔ 4:۔ امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مالکم من زوال “ یعنی (اس دنیا سے) جس میں تم ہو (جانا نہیں ہوگا) اس (آخرت کی طرف) جو تم کہتے ہو۔ 5:۔ امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مالکم من زوال “ سے مراد ہے کہ تم کہتے تھے کہ موت کے بعد اٹھانا (نہیں ہوگا ) ۔ 6:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ وسکنتم فی مسکن الذین ظلموا انفسم “ یعنی تم رہے قوم نوح قوم عاد اور قوم ثمود کے رہنے کی جگہوں میں اور ان کے درمیان بہت سی قومیں ہیں اور ان قوموں میں سے جو ہلاک ہوگئیں (آیت ) ” وتبین لکم کیف فعلنا بہم وضربنا لکم الامثال “ یعنی تحقیق اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور اپنی کتابوں کو نازل فرمایا اور انہوں نے تمہارے لئے مثالوں کو بیان فرمایا پس ان تمام حقائق سے کوئی بہرہ ہی بہرہ رہ سکتا ہے اور کوئی ازلی نامراد ہی خائب ورہ سکتا ہے پس سمجھو تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے حکم کو۔ 7:۔ امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ وسکنتم فی مسکن الذین ظلموا انفسم “ یعنی تم نے بھی ان کے اعمال کی طرح عمل کیا۔ 8: امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وضربنا لکم الامثال “ یعنی اس طرح کی مثالیں (بیان کیں) ۔ 9:۔ امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان مکرھم “ یعنی ان کا مکر ایسا تھا کہ اس سے پہاڑ بھی اکھڑ جائے۔ 10:۔ امام ابن جریر اور ابن انباری نے مصاحف میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ چار مقامات پر ان ما کے معنی میں استعمال ہوا (آیت) ” وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال “ یعنی مامکرھم “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” لاتخذنہ من لدنا ان کنا فعلین (17) “ یعنی انبیاء (علیہم السلام) ” ما کنا فعلین “ (نہیں تھے ہم کرنے والے) اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” ان کان للرحمن ولدا “ یعنی ” ماکان ولد “ (یعنی نہیں ہے رحمن کی اولاد) اور اللہ کا یہ قول (آیت) ” ولقد مکنہم فیما ان مکنکم فیہ “ یعنی ما مکنہم فیہ “ (یعنی ہم نے تم کو حکومت نہیں دی اس میں ) ۔ 11:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان کان مکرہم “ یعنی ان کا شرک جیسے اللہ تعالیٰ کا قول (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ “ (مریم آیت 90) ۔ 12:۔ امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال “ کا یہ قول ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” وقالواتخذ الرحمن ولدا (88) لقد جئتم شیئا ادا (89) ” تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخیرالجبال ھدا (90) “ (مریم آیت 90) 13:۔ امام ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ حسن ؓ فرمایا کرتے تھے یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اھون واصغر ہے ان کے اس مکروفریب سے کہ جس سے پہاڑ اکھڑ جائے قتادہ ؓ نے فرمایا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں یوں تھا (آیت) ” وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال “ اور قتادہ ؓ اس آیت کی تلاوت کے وقت بطور دلیل یہ آیت پڑھتے تھے ” تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخیرالجبال ھدا (90) “ یعنی ان کے اس کلام سے (آسمان پھٹ جائیں زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے اور پہاڑ گر کر زیر وزبر ہوجائیں ) ۔ 14:۔ ابن حمید سعید بن منصور ابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وان کان مکرہم “ یعنی نون کے ساتھ ” لتزول “ دوسرے لام کے رفع اور پہلے کے فتح کے ساتھ۔ 15:۔ امام ابن انباری نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وان کان مکرہم لتزول “ لام اول کے کسرہ کے ساتھ اور دوسرے کے فتح کے ساتھ اور فرماتے تھے بلاشبہ ان کا مکر یعنی ان کی تدبیر زیادہ آسان ہے اور اس سے زیادہ کمزور ہے۔ 16:۔ امام ابن انباری نے مصاحف میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال “ یعنی دال کے ساتھ۔ 17:۔ امام ابن منذر اور ابن انباری نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وان کان مکرہم “۔ 18:۔ امام ابن انباری نے ابی ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” وان کان مکرہم “ اور ان کے نزدیک اس کی تفسیر یہ آیت ہے۔ (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخیرالجبال ھدا (مریم آیت 90) “ اس وجہ سے انہوں نے یہ کہا (آیت) ” ان دعواللرحمن ولدا (مریم آیت 91) کہ رحمن کا ایک بیٹا ہے۔ 20:۔ امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے ” لتزول “ پہلے لام کے فتح اور دوسرے کے رفع کے ساتھ۔ 21:۔ امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، اور ابن انباری نے علی ابن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال “ پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک جابر آدمی تھا اس نے کہا میں ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو تسلیم نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں دیکھوں گا اس چیز کی طرف جو آسمان میں ہے اس نے چار گدھ کے بچے پکڑے کہ ان کو گوشت کھلانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ جوان ہوگئے اور طاقت ور ہوگئے اس نے ایک صدوق بنوایا اس کو ہموار کرکے دو آدمیوں کے (بیٹھنے کی) گنجائش بنائی گئی پھر اس کے درمیان ایک لکڑی لگائی گئی پھر ان کی ٹانگوں کو کیلوں سے باندھ دیا گیا کئی دنوں تک اس کو بھوکا رکھا گیا پھر اس درمیانی لکڑی پر گوشت رکھ دیا گیا پھر وہ اور اس کا ایک ساتھی صندوق میں داخل ہوئے پھر ان گدھوں کو صندوق کے پائیوں سے باندھ دیا گیا پھر ان کو چھوڑ دیا گیا (اس حال میں) کہ وہ گوشت (کے حاصل کرنے) کا ارادہ کررہے تھے اس صندوق کو لے کر اڑے جتنا اللہ نے چاہا پھر اس نے اپنے ساتھی سے کہا دروازہ کھول دے اس نے دروازہ کھولا تو اس نے دیکھا کیا نظر آتا ہے جب اس نے دروازہ کھولا تو کہا پہاڑ مجھے مکھیوں کی طرح نظر آتے ہیں اس نے کہا دروازہ بند کردے اس نے بند کردیا وہ گدھ اسے لے کر چلتے رہے جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر کہا دروازہ کھول دے اس نے کھولا پھر کہا دیکھ کیا نظر آتا ہے اس کے ساتھی نے کہا آسمان تو پہلے کی طرح دور نظر آتا ہے پھر اس نے کہا لکڑی کو نیچے کردو اس نے اس کو نیچے کردیا (پرندے) گوشت حاصل کرنے لئے نیچے آنے لگے پس وہ لکڑیاں دھڑام سے نیچے گریں تو پہاڑوں نے ان کے ٹوٹنے اور گرنے کی آواز سنی قریب تھا کہ دہشت کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہل جاتے۔ کفار کے مکروفریب : 22:۔ امام ابن جریر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اس جھگڑا کرنے والے نے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کررہا تھا اور چھوٹی گدھیں لیں ان کو پالا یہاں تک کہ وہ موٹی ہوگئیں اور جوان ہوگئیں اس نے ان میں سے ہر ایک گدھ کو تابوت کے پایوں کے ساتھ باندھ دیا اور ان (گدھ) کو بھوکا رکھا پھر وہ اور دوسرا آدمی اس تابوت میں بیٹھ گئے تابوت کے اوپر ایک لکڑی لگا دی جس کے سرے پر گوشت رکھا گیا تھا وہ دونوں گدھ اس تابوت کو لے کر اڑتے رہے اور اس نے اپنے ساتھی سے کہنا شروع کیا دیکھتا رہ تجھ کو کیا دکھائی دیتا ہے اس نے کہا مجھے ایسا ایسا دکھائی دیتا ہے یہاں تک کہ اس نے کہا میں دنیا کو دیکھ رہا ہوں گویا کہ وہ ایک مکھی ہے اس نے کہا گوشت والی لکڑی کو نیچا کردے اس نے اس (گوشت والی لکڑی) کو نیچا کردے اس نے اس (گوشت والی لکڑی) کو نیچا کیا تو وہ دنوں گرپڑے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال “ اور ابن مسعود ؓ کی قرأت میں بھی اسی طرح (آیت) ” وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال “۔ 23:۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بخت نصر نے (چند) گدھوں کو بھوکا رکھا پھر ان پر تابوت کو رکھ دیا پھر اس میں خود داخل ہوگیا اس نے اس کے اطراف نیزے لگا دیے تھے اور گوشت ان کے اوپر رکھ دیا تھا پس گدھ گوشت کی طرف بلند ہوئے اور اڑتے گئے یہاں تک کہ زمین والوں سے اوجھل ہوگئے ایک غیبی آوازآئی اے سرکش تو کہاں کا ارادہ رکھتا ہے اس سے وہ خوف زدہ ہوگیا پھر اس نے اپنے اوپر سے آواز سنی تو اس نے نیزوں کے سر نیچے کردئے تو گدھ ٹوٹ کر نیچے گرے تو پہاڑ ان کے گرنے کی وجہ سے ڈر گئے اور قریب تھا کہ پہاڑ اس آواز سے ہل جائیں اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال “ اسی طرح مجاہد (رح) نے اس کو پڑھا۔ 24:۔ امام ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ نمرود گدھوں والا اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے اس نے ایک تابوت تیار کرنے کا حکم دیا تھا اور خود اور اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تابوت میں بیٹھ گئے پھر اس نے گدھوں کو اڑنے کا حکم دیا جب وہ اوپر اڑے تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا تو کیا چیز دیکھ رہا ہے اس نے کہا میں پانی اور جزیرہ کو دیکھ رہا ہوں یعنی دنیا کو پھر وہ اوپر چڑھے تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا تو کیا چیز دیکھ رہا ہے اس نے کہا ہم آسمان سے اور زیادہ دور ہورہے ہیں تو اس نے کہا نیچے اتر جاؤ۔ 25:۔ امام ابن ابی شیبہ نے ابوعبیدہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک جابر شخص نے کہا تھا کہ میں اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کو نہیں مانوں گا یہاں تک کہ میں دیکھوں گا جو کہے کہ آسمان میں کون ہے ؟ (اللہ تعالیٰ نے) اس پر اپنی سب سے زیادہ کمزور مخلوق کو مسلط کردیا ایک مچھر اس کی ناک میں داخل ہوگیا تو اس کو موت نے پکڑ لیا اس نے لوگوں سے کہا میرے سر کو مارو انہوں نے اس کو مارا یہاں تک کہ اس کا دماغ پھٹ گیا۔ 26:۔ امام سعید بن منصور اور ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال “ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ گئے اور انہوں نے گدھوں کو پکڑا اور انہوں نے ان پر صندوقوں کی طرح (کچھ صندوق) باندھ دے پھر ان کو آسمان کی طرف چھوڑ دیا جب پہاڑوں کو ان کو دیکھا تو انہوں نے گمان کیا کہ کوئی چیز آسمان سے نازل ہورہی ہے تو وہ اس وجہ سے حرکت کرنے لگے۔ ابراہیم ولوط (علیہما السلام) کی ہجرت : 27:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ جھگڑا گیا ان کے رب کے بارے میں اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو شہر چھوڑ جانے کا حکم دیا تو شہر چھوڑ جانے کا حکم دیا تو شہر کے دروازے پر لوط (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی جو ان کے بھتیجے تھے اس کو (ایمان کی) دعوت دی وہ ان پر ایمان لے آئے ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرکے جارہا ہوں اور نمرود نے قسم کھائی کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے خدا کو تلاش کرے گا تو اس نے گدھوں کے بچوں میں سے چار بچے لئے ان کو پالا روٹی اور گوشت سے یہاں تک کہ جب وہ بڑے ہوگئے اور موٹے ہوگئے تو ان کو ایک تابوت سے باندھ دیا اور خود اس تابوت میں بیٹھ گیا پھر ان کے لئے اوپر کی جانب گوشت لٹکایا گیا تو وہ گدھ اڑنے لگے یہاں تک کہ جب کہ وہ آسمان میں داخل ہوا اور اس نے زمین کی طرف اور پہاڑوں کی طرف دیکھا تو وہ رینگتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں چیونٹی کے رینگنے کی طرح پھر ان کے لئے گوشت کو (اور) اونچا کردیا پھر دیکھا تو زمین کو ایسے دیکھا کہ وہ گھری ہوئی ہے سمندر سے گویا کہ وہ ایک پانی کا جزیرہ ہے پھر مزید اوپر گیا اور وہ ایک اندھیرے میں پہنچ گیا نہ اس نے اپنے اوپر کسی چیز کو دیکھا اور نہ اپنے نیچے کسی چیز کو دیکھا تو اس نے گوشت کو نیچے ڈال دیا تو گدھ بھی اس (گوشت) کے پیچھے لگ گئے اور نیچے اترنے لگے جب پہاڑوں نے ان کی طرف دیکھا کہ وہ نیچے اترتے ہوئے آرہے ہیں اور ان کی آواز کو سنا تو پہاڑ ڈر گئے اور قریب تھا کہ وہ اپنی جگہ سے ہل جاتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اسی کو فرمایا (آیت) ” وقد مکروا مکرھم عند اللہ مکرھم ” وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال “ اور یہ عبد اللہ بن مسعود ؓ کی قرأت میں ہے۔” وان کان کاد مکرھم “ ہے اور ان پرندوں کو لے کر اڑنا بیت المقدس سے تھے اور ان کا دخان کے پہاڑوں میں تھا جب نمرود نے دیکھا کہ وہ کسی چیز کی طاقت نہیں رکھتا تو اس نے ایک محل کو بنانا شروع کیا یہاں تک کہ آسمان کی طرف انتہا کی بلند محل بنایا اور اس کے اوپر چڑھا تاکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھ لے اس کی یہ کوشش ناکام ہوئی اور کچھ نہ کرسکا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی عمارت کو بنیادوں سے پکڑ کر اکھیڑ دیا (پھر فرمایا) فخر علیہم السقف من فوقہم واتہم العذاب من حیث لا یشعرون (26) ”(النخل آیت 26) (پس گرپڑی ان پر چھت ان کے اوپر سے اور ان پر آگیا عذاب جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا) اس محل کے گرنے کی وجہ سے لوگوں زبانیں خوف مارے صحیح نہ بول سکیں پس وہ بات کرنے لگے اس وجہ سے اس کو بابل کا نام دیا گیا اور اس سے پہلے ان میں سریانی زبان بولی جاتی تھی۔ 28:۔ امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اللہ عزیز ذوانتقام “ کہ اللہ کی قسم وہ اپنے کام میں غالب ہیں اللہ تعالیٰ اپنے ڈھیل دیتا ہے اور ان کی تدبیر مضبوط ہے پھر جب انتقام لیتے ہیں تو اپنی قدرت کے ساتھ انتقام لیتے ہیں۔ 29:۔ امام مسلم، ابن جریر، حاکم اور بیہقی نے دلائل میں ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں کا ایک بڑا عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا لوگ کہاں ہوں گے جس دن زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کیا جائے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ اندھیرے میں ہوں گے پل صراط کے نیچے۔ 30:۔ امام احمد، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابن مردویہ اور حاکم نے عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلی تھی جس نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا (یعنی) (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ (پھر) میں نے عرض کیا اس دن لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا پل صراط پر ہوں گے۔ 31:۔ امام ابن بزار، ابن منذر، طبرانی، ابن مردویہ، اور بیہقی نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ کے بارے میں فرمایا زمین سفید ہوگی گویا کہ وہ چاندی ہے اس میں حرام خون نہیں بہایا گیا ہوگا اور نہ اس میں کوئی گناہ کا کام ہوا۔ 32:۔ امام عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ نے العظمۃ میں، حاکم اور بیہقی نے البعث میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ کے بارے میں روایت کیا کہ زمین کو سفید زمین میں تبدیل کردیا جائے گا گویا کہ وہ ڈھیلی وہ چاندی ہے اسمیں حرام خون نہیں بہایا گیا ہوگا اور نہ اس پر کوئی گناہ کا کام ہوا ہوگا۔ 33:۔ امام، ابن جریر، اور ابن مردویہ، نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تاکہ اس سے سوال کرے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ میرے پاس آیا میں ان کو سوال کرنے سے پہلے جواب دوں گا (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ آپ نے فرمایا وہ زمین سفید ہوگی چاندی کی طرح آپ نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے سفید زمین ہوگی مانند صاف ستھری خالص چاندی کے۔ قیامت کے روز یہ زمین بدل جائے گی : 34:۔ امام ابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ سے مراد ہے کہ ایسی سفید زمین کہ جس پر کوئی گناہ کا کام نہ ہوا اور نہ اس پر کوئی خون بہا۔ 35:۔ امام ابن جریر اور ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت “ تلاوت فرمائی اور فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی زمین سے بدل دیں گے کہ جس پر کوئی گناہ نہیں کئے ہوں گے پھر جبار عزوجل (یعنی اللہ تعالیٰ ) اس پر نزول فرمائیں گے۔ 36:۔ امام ابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنہ میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا زمین کو چاندی سے اور آسمان کو سونے سے بدل دیں گے۔ 37:۔ امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ کے بارے میں روایت کیا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ چاندی کی ہوگی۔ 38:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت “ کے بارے میں روایت کیا کہ زمین گویا چاندی کی ہوگی اور آسمان بھی اسی طرح (چاندی کے ہوں گے) 39:۔ امام بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت “ کے بارے میں فرمایا کہ اس میں زیادتی اور کمی کی جائے گی اور اس کے ٹیلے، اس کے پہاڑ اس کی وادیاں اور اس کے درخت اور جو کچھ اس میں ہے (سب کے سب) چلے جائیں گے (یعنی ختم ہوجائیں گے) اور برابر ہوجائے گا عکاظی چمڑوں کے پھیلانے کی طرح سفید زمین ہوگی چاندی کی طرح نہ اس میں خون بہا ہوگا اور نہ اس میں کوئی گناہ کا کام ہوا ہوگا اور آسمانوں میں اس کا سورج اس کا چاند اور اس کے ستارے ختم ہوجائیں گے۔ 40:۔ امام بخاری، مسلم، ابن جریر اور ابن مردویہ نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن لوگ اکٹھے کئے جائیں گے سفید مٹیالی زمین پر جو چاندی کی خالص سفید ٹکیہ کی طرح ہوگی اس میں کسی کے لئے کوئی علامت نہ ہوگی۔ قیامت کے دن یہ زمین روئی کی طرح ہوگی۔ 41:۔ امام بخاری، مسلم اور ابن مردویہ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن زمین ایک روٹی کی طرح ہوگی جبار (یعنی اللہ تعالیٰ ) اس کو پکڑیں گے اپنے ہاتھ میں جیسے تم میں سے کوئی سفر میں اپنی روٹی کو پکڑتا ہے یہ مہمانی ہوگی جنت والوں کے لئے راوی نے کہا یہودیوں میں سے ایک آدمی نے آکر کہا اے ابوالقاسم (یہ محمد ﷺ کی کنیت ہے) اللہ تعالیٰ تجھ پر برکت نازل فرمائے کیا میں آپ کو نہ بتاوں اہل جنت کی ضیافت کے بارے میں قیامت کے دن پھر اس نے کہا قیامت کے دن زمین ایک روٹی کی ہوگی جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا روای نے کہا پھر ہماری طرف رسول اللہ ﷺ نے دیکھا پھر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر فرمایا کیا میں تم کو اس کے سالن کے بارے میں نہ بتاوں ؟ عرض کیا ضرور ارشاد فرمائے فرمایا کہ ان کا سالن بیل کا ہوگا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ فرمایا وحشی بیل مچھلی کے جگر کے زائد حصہ سے ستر ہزار افراد کھائیں گے۔ 42:۔ امام ابن مردویہ نے ا بو ایوب ؓ کے آزاد کردہ غلام افلح سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ کے بارے میں پوچھا کہ کس چیز میں اس کو تبدیل کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا روٹی میں یہودی نے کہا در مکہ میرا باپ تجھ پر قربان ہو تو آپ (یہ سن کر) ہنس پڑے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو قتل کرے کیا تم جانتے ہو در مکہ کیا ہے (پھر فرمایا) خالص روٹی۔ 43:۔ امام ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت “ سے مراد ہے کہ زمین تبدیل ہوگی سفید روٹی میں مومن کھائے گا اپنے قدموں کے نیچے سے۔ 44:۔ امام بیہقی نے البعث میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ زمین سفید ہوجائے گی روٹی کی طرح اس میں سے اہل اسلام کھائیں گے حساب سے فارغ ہونے تک۔ 45:۔ امام ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ سے مراد ہے زمین روٹی ہوجائے گی اس میں سے مومن کھائیں گے اپنے قدموں کے نیچے سے۔ 46:۔ امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابونعیم نے دلائل میں ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے ایک بڑا عالم نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ پھر مخلوق اس وقت کہاں ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے مہمان ہوں گے وہ ان کو عاجز نہیں کرے گا جو ان کے پاس ہوگا۔ 47:۔ امام عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ زمین لپیٹ دی جائے گی دوسری قسم کی زمین سے۔ آسمان باغوں میں تبدیل ہوگا : 48:۔ امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان بدل دئیے جائیں گے باغوں میں اور سمندر کی جگہ آگ ہوجائے گی اور زمین بدل دی جائے گی دوسری قسم کی زمین سے۔ 49:۔ امام ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ یعنی قیامت کے دن تبدیل ہوگی پہلی پیدائش کے علاوہ دوسری پیدائش ہوگی۔ 51:۔ امام بخاری نے تاریخ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا قیامت کے دن زمین کہاں ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ جنت کا سنگ مرمر ہوگی۔ 52:۔ امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مقرنین فی الاصفاد “ سے مراد ہے بیڑیاں۔ 53:۔ امام عبدالرزاق اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مقرنین فی الاصفاد “ سے مراد ہے بیڑیاں اور طوق۔ 54:۔۔ امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فی الاصفاد “ سے مراد ہے زنجیروں میں۔ 55:۔ امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فی الاصفاد “ سے مراد ہے رسیوں میں (یعنی بندھن میں ) ۔