39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsبیان القرآن

Ayahs 39:39–42

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ تم اپنی حالت پر عمل کیے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں (ف 4) سو اب جلدی تمکو معلوم ہوا جاتا ہے۔

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ وہ کون شخص ہے جس پر (دنیا میں) ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کر دے گا اور (بعد مرگ) اس پر دائمی عذاب نازل ہوگا۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

ہم نے آپ پر یہ کتاب لوگوں کے (نفع کے) لیے اتاری جو حق کو لیے ہوئے ہے سو جو شخص راہ راست پر آوے گا تو اپنے نفع کے واسطے اور جو شخص بےراہ رہے گا تو اس کا بےراہ ہونا (یعنی اس کا وبال) اس پر آ پڑے گا اور آپ ان پر (کچھ بطور ذمہ داری کے) مسلط نہیں کیے گئے۔

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ہی قبض (یعنی معطل) کرتا ہے (ان جانوں کو ان کی موت کے وقت اور ان جانوں کو بھی جن کی موت نہیں آئی ان کے سونے کے وقت پھر ان جانوں کو تو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہے اور باقی جانوں کو ایک معیاد معین تک کے لیے رہا کردیتا ہے اس میں ان لوگوں کے لیے جو کہ سوچنے کے عادی ہیں دلائل ہیں۔

ف 4۔ یعنی جیسے تم اپنا طریقہ نہیں چھوڑتے، میں اپنا طریقہ نہیں چھوڑتا۔
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

ہاں کیا ان (مشرک) لوگوں نے خدا کے سوا دوسروں کو معبود قرار دے رکھا ہے جو انکی سفارش کریں گے آپ کہہ دیجیئے کہ اگرچہ یہ کچھ قدرت نہ رکھتے ہوں اور کچھ بھی علم نہ رکھتے ہوں۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی شفاعت کے لئے کم از کم علم وقدرت تو درکار ہے۔
Ayah 39:44

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ سفارش تو تمام تر خدا ہی کے اختیار میں ہے (ف 1) تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

ف 1۔ اوپر توحید کے ضمن میں مشرکین کے مکابرہ وعناد کا بیان ہے چونکہ مکابرہ وعناد موجب حزن مبلغ ہوتا ہے، اس لئے آگے آپ کے تسلیہ کے لئے ایک دعا کی تعلیم اور بیان جزا سے تسلیہ اور مضمون دعا کی تتمیم فرماتے ہیں۔
Ayah 39:45

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب فقط اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل منقبض ہوتے ہیں جو کہ آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا اور روں کا ذکر آتا ہے تو ایس وقت وہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی بدون اس کے اذن کے کسی کی مجال نہیں کہ سفارش کرسکے، اور اذن کے لئے دو شرطیں ہیں۔ شفیع کا مقبول ہونا اور مشفوع لہ کا قابل مغفرت ہونا، پس جن ارواح کو یہ معبود قرار دیتے ہیں اگر وہ شیطاطین ہیں تو دونوں شرطیں مفقود، اور اگر وہ ملائکہ وغیرہم ہیں تو شرط ثانی مفقود۔ بہرحال اذن مفقود ہے، پس ان کی شفاعت بھی منفی ہے، اور یہی مبنی تھا ان کے معبود قرار دینے کا پس ان کی معبودیت باطل ٹھہری۔ اور حق تعالیٰ کی توحید ثابت ہوگئی۔
Ayahs 39:46–48

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

آپ کہیے کہ اے اللہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے باطن اور ظاہر کے جاننے والے آپ ہی (قیامت کے روز) اپنے بندوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ فرما ویں گے جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔ (ف 3)

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ظلم (یعنی شرک و کفر) کرنے والوں کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں اور ان چیزوں کے ساتھ اتنی چیزیں اور بھی ہوں تو وہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب سے چھوٹ جانے کے لیے (بےتامل) ان کو دینے لگیں اور خدا کی طرف سے ان کو وہ معاملہ پیش آوے گا جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا۔

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور (اس وقت) ان کو تمام اپنے برے اعمال ظاہر ہوجاویں گے اور جس (عذاب) کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے وہ ان کو آن گھیرے گا۔

ف 3۔ یعنی آپ ان مکابرین کی فکر میں نہ پڑیئے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے وہ عملی فیصلہ کردیں گے۔
Ayahs 39:49–50

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

پھر جس وقت (اس مشرک) آدمی کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم ان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھ کو (میری) تدبیر سے ملی ہے بلکہ وہ ایک آزمائش ہے (ف 4) لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ (ف 5)

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

یہ بات (بعض) ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں (جیسے قارون نے کہا تھا) سو ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔

ف 4۔ آزمائش اس لئے کہ دیکھیں اس کے ملنے پر ہم کو بھول جاتا ہے اور کفر کرتا ہے یا یاد رکھتا ہے اور شکر کرتا ہے۔ اور اسی آزمائش کے لئے بعض نعمتوں میں اسباب وکسب کا واسطہ بھی رکھ دیا ہے۔ اس سے اور زیادہ آزمائش ہوگئی کہ دیکھیں اس علت صوریہ پر نظر کرتا ہے یا علت حقیقیہ پر۔ 5۔ اس لئے اس کو اپنی تدبیر کا نتیجہ بتلاتے ہیں اور مبتلائے شرک رہتے ہیں۔
Ayah 39:51

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

پھر ان کی تمام بد اعمالیاں ان پر آپڑیں (اور سزایاب ہوئے) اور ان میں بھی جو ظالم ہیں ان پر بھی ان کی بد اعمالیاں ابھی پڑنے والی ہیں اور یہ خدائے تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتے۔ (ف 6)

ف 6۔ چناچہ بدر میں خوب سزا ہوئی۔
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو (احوال میں غور کرنے سے) یہ معلوم نہیں ہوا کہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دے دیتا ہے اور وہی (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی بھی کردیتا ہے اس (بسط و قدر) میں ایمان والوں کے واسطے نشانیاں ہیں۔ (ف 7)

ف 7۔ یعنی دلائل قائم ہیں کہ باسط و قابض وہی ہے، تدبیر و سوء تدبیر اس میں علت حقیقیہ نہیں پس ان دلائل کو جو شخص سمجھ لے گا وہ اپنی تدبیر کی طرف نسبت نہ کرے گا، بلکہ خدا کے منعم ہونے سے ذہول نہ کرے گا جو سبب ہوگیا تھا ابتلاء بالشرک کا بلکہ وہ موحد رہے گا اور ضراء وسراء میں اس کا حال و قال متناقض و متعارض نہ ہوگا۔
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے (کفر و شرک کر کے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم خدا کی رحمت سے ناامید مت ہو بالیقین خدا تعالیٰ تمام (گزشتہ) گناہوں کو معاف فرما دے گا (ف 1) واقعی وہ بڑا بخشنے والا بڑی رحمت والا ہے۔

ف 1۔ یعنی یہ خیال نہ کرو کہ ایمان لانے کے بعد گزشتہ کفر و شرک پر مواخذہ ہوگا، سو یہ بات نہیں۔
Ayah 39:54

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور (اسلام قبول کرنے میں) اس کی فرمانبرداری کرو (ف 2) قبل اس کے کہ تم پر عذاب (الہٰی) واقع ہونے لگے (اور) پھر اس وقت کسی کی طرف سے تمہاری کوئی مدد نہ کی جاوے۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی معانی کی شرط طریق کفر سے تو بہ کرنا اور اسلام لانا ہے۔ 3۔ یعنی جیسا اسلام لانے کی صورت میں اب کفر و شرک معاف ہوجاوے گا اسی طرح اسلام نہ لانے کی صورت میں اس کفر و شرک پر عذاب ہوگا جس کا کوئی دفعیہ نہیں۔
Ayahs 39:55–59

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور (تم کو چاہئیے کہ) اپنے رب کے پاس سے آئے اچھے اچھے حکموں پر چلو قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آ پڑے اور تم کو اس کا خیال بھی نہ ہو۔ (ف 4)

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کبھی (کل قیامت کو) کوئی شخص کہنے لگے کہ افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کی جناب میں کی ہے اور میں تو (احکام خداوندی پر) ہنستا ہی رہا۔

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا کوئی کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ (دنیا میں) مجھ کو ہدایت کرتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا کوئی عذاب دیکھ کر یوں کہنے لگے کہ کاش میرا دنیا میں پھرجانا ہوجاوے پھر میں نیک بندوں میں ہوجاؤں۔

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچی تھیں سو تو نے ان کو جھٹلایا اور (جھٹلانا کسی شبہ سے نہ تھا بلکہ) تو نے تکبر کیا اور کافروں میں (ہمیشہ) شامل رہا۔

ف 4۔ مراد اس سے عذاب آخرت ہے۔
Ayahs 39:60–62

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور آپ قیامت کے روز ان لوگوں کے چہرے سیاہ دیکھیں گے جنہوں نے خدا پر جھوٹ بولا تھا (ف 5) کیا ان متکبرین کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے۔

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو لوگ (شرک و کفر سے) بچتے تھے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کامیابی کے ساتھ (جہنم سے) نجات دے گا ان کو (ذرا) تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے (کیوں کہ جنت میں غم نہیں) ۔

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔

ف 5۔ اس میں دو امر آگئے۔ جو بات خدا نے نہیں کہی مثل شرک وغیرہ اس کو کہنا کہ خدا نے کہی ہے۔ اور جو بات خدا نے کہی جیسے قرآن، اس کو کہنا کہ خدا نے نہیں کہی۔
Ayahs 39:63–65

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

(اور) اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی (ف 6) اور جو لوگ (اس پر بھی) اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو نہیں مانتے وہ بڑے خسارے میں رہیں گے۔

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

آپ (انکے جواب میں) کہہ ددیجیئے کہ اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھ کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو۔

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور آپ کی طرف بھی اور جو پیغمبر آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کی طرف بھی یہ (بات) وحی میں بھیجی جا چکی ہے کہ اے عام مخاطب اگر تو شرک کرے گا تو تیرا کیا کر ایاکام (سب) غارت ہوجائے گا اور تو خسارہ میں پڑا رہے گا (تو اے مخاطب (کبھی شرک مت کرنا) ۔

ف 6۔ یعنی موجد بھی وہی اور حافظ بھی وہی، اور متصرف بھی وہی، پس ایسے اوصاف کمال رکھنے والا شریک سے بھی منزہ ہوگا، اور جزا و سزا کا بھی مالک ہوگا۔
Ayah 39:66

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ (ہمیشہ) اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا اور (الله کا) شکر گزار رہنا۔ (ف 1)

ف 1۔ یہ دلیل ہے قبح شرک کی کہ وہ اشد درجہ کی ناشکری ہے، پس جب انبیاء کو قبح شرک وحی سے معلوم ہے اور دوسروں تک اس کے پہنچانے کا حکم ہے تو ان سے کہ ان میں سے آپ بھی ہیں صدور شرک کب ممکن ہے تو ایسی ہوس رکھنا ان کا خلل دماغ ہے۔
Ayahs 39:67–69

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور ( افسوس کہ) ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی کچھ عظمت نہ کی جیسا کہ عظمت کرنا چاہئیے تھی (ف 2) حالانکہ (اسکی شان ہے کہ) ساری زمین اسکی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں وہ پاک اور برتر ہے ان کے شرک سے۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور (قیامت کے روز) صور میں پھونک ماری جاوے گی سو تمام آسمان اور زمین والوں کے ہوش اڑ جاویں گے مگر جس کو خدا چاہے پھر اس (صور) میں دوبارہ پھونک جاوے گی تو دفعتہً سب کے سب کھڑے ہوجاویں گے اور (چاروں طرف) دیکھنے لگیں گے۔

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے رب کے نور (بےکیف) سے روشن ہوجاوے گی اور (سب کا) نامہ اعمال (ہر ایک کے سامنے) رکھ دیا جاویگا اور پیغمبر اور گواہ حاض کیے جاویں گے اور سب میں ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیا جاوے گا اور ان پر ذرا ظلم نہ ہوگا۔

ف 2۔ حق عظمت سے مراد توحید ہے اور اس کی نفی سے مراد شرک۔
Ayah 39:70

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جاوے گا (ف 3) اور وہ سب کے کاموں کو خوب جانتا ہے۔

ف 3۔ اعمال نیک میں بدلہ کے پورا ہونے سے مقصود نفی کمی کی ہے، اور اعمال بد میں بدلہ کے پورا ہونے سے مقصود زیادتی کی نفی ہے۔
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ جہنم کی طرف گروہ گروہ بنا کر ہانکیں جائیں گے (ف 4) یہاں تک کہ جب دوزخ کے پاس پہنچیں گے تو اس وقت اس کے دروازے کھول دیے جاویں گے اور ان سے دوزخ کے محافظ (فرشتے بطور ملامت کے) کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی لوگوں میں سے پیغمبر نہ آئے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور تم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے کافر کہیں گے کہ ہاں لیکن عذاب کا وعدہ کافروں پر پورا ہو کر رہا۔ (ف 5)

ف 4۔ گروہ گروہ اس لئے کہ اقسام و مراتب کفر کے جدا جدا ہیں، پس ایک ایک طرح کے کفار کا ایک ایک گروہ ہوگا۔ 5۔ یہ اعتذار نہیں اعتراف ہے کہ باوجود ابلاغ کے ہم نے کفر کیا، اور کافروں کے لئے جو عذاب موعود تھا وہ ہمارے سامنے آیا، واقعی ہماری نالائقی ہے۔
Ayah 39:72

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

پھر (ان سے) کہا جاوے گا (یعنی وہ فرشتے کہیں گے) کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہو (اور) ہمیشہ اس میں رہا کرو غرض (خدا کے احکام سے) تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔ (ف 6)

ف 6۔ پھر اس حکم کے بعد وہ جہنم میں داخل کئے جاویں گے اور دروازے بند کردیئے جاویں گے۔
Ayah 39:73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے وہ گروہ گروہ ہو کر جنت کی طرف روانہ کیے جاویں گے (ف 7) یہاں تک کہ جب اس (جنت) کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے (پہلے سے) کھلے ہوئے ہوں گے (تاکہ ذرا بھی دیر نہ لگے) اور وہاں محافظ (فرشتے) ان سے کہیں گے کہ السلام علیکم تم مزے میں رہے سو اس (جنت) میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ۔

ف 7۔ یعنی جس مرتبہ کا متقی ہوگا اس مرتبہ کے متقی ایک جگہ کردیئے جاویں گے۔
Ayahs 39:74–75

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور (داخل ہو کر) کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہم کو اس سر زمین کا مالک بنادیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں (ف 1) غرض (نیک) عمل کرنے والوں کا اچھابدلہ ہے۔ (ف 2)

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ (حساب کے اجلاس کے وقت) عرش کے ارد گرد حلقہ باندھے ہوں گے (اور) اپنے رب کی تسبیح و تمحید کرتے ہوں گے اور تمام بندوں میں ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جاوے گا کہ ساری خوبیاں خدا کو زیبا ہیں جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔

ف 1۔ یعنی ہر شخص کو خوف فراغت کی جگہ ملی ہے۔ 2۔ یہ یا تو ان ہی کا کلام ہے یا اللہ تعالیٰ کا ہو۔