23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsبیان القرآن

Ayahs 23:41–43

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

چناچہ ان کو ایک سخت آواز نے (یعنی عذاب نے) موافق وعدہ برحق کے آپکڑا (جس سے وہ سب ہلاک ہوگئے) پھر ہم نے ان کو خس و خاشاک (کی طرح پامال) کردیا سو خدا کی مار کافر لوگوں پر۔ (ف 3)

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان (عاد یا ثمود) کے (ہلاک ہونے کے) بعد ہم نے ان امتوں کو پیدا کیا۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی امت (ان امتوں میں سے اپنی مدت معینہ سے (ہلاک ہونے میں) نہ پیشدستی کرسکتی تھی اور نہ اس (مدت سے وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔

ف 3۔ چونکہ صحیحہ سے ثمود کا معذب ہونا دوسری آیات میں بھی آیات ہے، اس قرینہ سے بعض نے تو اس کو ثمود کا قصہ سمجھا ہے، اور چونکہ اکثر جگہ بعد قوم نوح کے عاد کا قصہ آیا ہے، اس قرینہ سے بعض نے اس کو عاد کا قصہ سمجھا ہے، اور مراد صحیحہ سے عقوبت ہائلہ لی ہے، یا ممکن ہے کہ عاد پر بھی صحیحہ آیا ہو۔
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر (ان کے پاس) ہم نے ان پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے ہدایت کے لیے بھیجا جب کبھی کسی امت کے پاس اس امت کا (خاص) رسول آیا انہوں نے اس کو جھٹلایا سو ہم نے (بھی ہلاک کرنے میں) ایک کے بعد ایک کا نمبر لگا دیا اور ہم نے ان کی کہانیاں بنادیں (ف 4) سو خدا کی مار ان لوگوں پر (جو انبیاء کے سمجھانے پر بھی) ایمان نہ لاتے تھے۔

ف 4۔ یعنی وہ ایسے نیست و نابود ہوئے کہ بجز کہانیوں کے ان کا کچھ نام و نشان نہ رہا۔
Ayah 23:45

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنے احکام اور کھلی دلیل دے کر۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی معجزہ صریحہ کہ دلیل نبوت ہے۔
Ayah 23:46

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس (بھی پیغمبر بنا کر) بھیجا سو ان لوگوں نے (ان کی تصدیق و اطاعت سے) تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی متکبر۔ (ف 6)

ف 6۔ یعنی پہلے ہی سے ان کا دماغ سڑا ہوا تھا۔
Ayahs 23:47–49

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

چناچہ وہ (باہم) کہنے لگے کہ کیا ہم ایسے دو شخصوں پر جو ہماری طرح کے آدمی ہیں ایمان لے آویں ( اور ان کے مطیع بن جاویں) حالانکہ ان کی قوم کے لوگ (تو خود) ہمارے زیر حکم ہیں۔ (ف 7)

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

غرض وہ لوگ ان دونوں کی تکذیب کرتے رہے پس ہلاک کیے گئے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ان کے ہلاک ہونے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (یعنی توراة) عطا فرمائی تاکہ (اس کے ذریعہ سے) وہ لوگ (قوم موسیٰ (علیہ السلام) یعنی بنی اسرائیل) ہدایت پاویں۔

ف 7۔ یعنی ہم کو تو خود ان کی قوم پر ریاست حاصل ہے، پھر ان دونوں کو ہم پر کیسے ریاست حاصل ہوسکتی ہے۔
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے مریم (علیہ السلام) کے بیٹے (عیسی (علیہ السلام) کو اور ان کی ماں (حضرت مریم (علیہ السلام) کو بڑی نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک ایسی بلند زمین پر لے جا کر پناہ دی (ف 1) جو (بوجہ غلات اور میوہ جات ہونے کے) ٹھیرنے کے قابل اور شاداب جگہ تھی۔

ف 1۔ اس لئے کہ ایک ظالم بادشاہ بچپن ہی میں ان کے درپئے قتل ہوگیا تھا، یہ ظالم بادشاہ ہیردوس تھا، نجومیوں سے یہ سن کر کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو سرداری ہوگی صغر سن ہی میں ان کا دشمن ہوگیا تھا الہام ربانی سے مریم (علیہا السلام) ان کو لیکر ملک مصر میں چلی گئیں۔ اور اس ظالم کے مرنے کے بعد پھر شام چلی آئیں۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے پیغمبرو تم (اور تمہاری امتیں) نفیس چیزیں کھاؤ اور نیک کام (یعنی عبادت) کرو (اور) میں تم سب کے کیے ہوئے کو خوب جانتا ہوں۔ (ف 2)

ف 2۔ پس عبادات پر ثمرات عطا کروں گا۔
Ayahs 23:52–53

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور (ہم نے ان سب سے یہی کہا کہ) یہ ہے تمہارا طریقہ کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے (ف 3) اور (حاصل اس طریقہ کا یہ ہے کہ) میں تمہارا رب ہوں سو مجھ سے ڈرتے رہو۔ (ف 4)

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے اپنے دین میں اپنا طریق الگ الگ کر کے اختلاف پیدا کرلیا ہر گروہ کے پاس جو دین ہے وہ اس سے خوش ہے۔

ف 3۔ یعنی کسی شریعت میں مختلف نہیں ہوا۔ 4۔ اور میرے احکام کی مخالفت مت کرو۔
Ayahs 23:54–59

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

سو آپ ان کو ان کی (اسی) جہالت میں ایک خاص وقت تک رہنے دیجیئے۔ (ف 5)

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں گمان کر رہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال و اولاد دیتے چلے جاتے ہیں۔

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

تو ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچا رہے ہیں (یہ بات ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ (اس کی وجہ) نہیں جانتے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو لوگ (اس ایمان میں) اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔

ف 5۔ جب وہ خاص وقت یعنی وقت موت آجاوے گا سب حقیقت معلوم ہوجاوے گی۔
Ayahs 23:60–63

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو لوگ (الله کی راہ میں) دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور (باوجود دینے کے) ان کے دل اس سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں۔ (ف 6)

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہ لوگ (البتہ) اپنے فائدے جلدی جلدی حاصل کر رہے ہیں اور وہ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں۔

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم (تو) کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کام نہیں کہتے (پس جو کام بتلا رکھے ہیں سب آسان ہیں) اور ہمارے پاس ایک دفتر (نامہٴ اعمال کا محفوظ) ہے جو ٹھیک ٹھیک (سب کا حال) بتادے گا اور لوگوں پر ذرا ظلم نہ ہوگا۔

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

بلکہ ان کفار کے قلوب اس دین کی طرف سے جہالت (اور شک) میں ہیں اور اس کے علاوہ ان لوگوں کے اور بھی (برے برے) عمل ہیں جن کو یہ کرتے رہتے ہیں۔

ف 6۔ یعنی باوجود دینے کے ان کے دل خوفزدہ رہتے ہیں کہ دیکھئے وہاں جاکر ان صدقات کا کیا ثمرہ ظاہر ہو، ایسا نہ ہو کہ موافق حکم کے نہ دیا گیا ہو مثلا مال حلال نہ ہو یا نیت خالص نہ ہو تو الٹا مواخزہ ہونے لگے۔
Ayah 23:64

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب (بعد الموت) میں دھر کر پکڑیں گے تو فوراً چلا اٹھیں گے (ف 7) (اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) ۔

ف 7۔ اور سارا استکبار جس کے اب معتاد ہیں کافور ہوجاوے گا۔
Ayahs 23:65–66

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

اب مت چلاؤ ہماری طرف سے تمہاری مطلق مدد نہ ہوگی۔ (ف 8)

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر (رسول کی زبانی) سنائی جایا کرتی تھیں تو تم الٹے پاؤں بھاگتے تھے۔

ف 8۔ کیونکہ یہ دار الجزاء ہے، دار العمل نہیں کہ چلانا اور عاجزی کرنا مفید ہو۔
Ayah 23:67

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

تکبر کرتے ہوئے قرآن کا مشغلہ بناتے ہوئے (اس قرآن کی شان میں) بیہودہ بکتے ہو۔ (ف 1)

ف 1۔ کوئی اس کو سحر کہتا تھا کوئی شعر کہتا تھا، اور مشغلہ کا یہی مطلب ہے۔
Ayah 23:68

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

تو کیا ان لوگوں نے اس کلام (الہیٰ ) میں غور نہیں کیا یا ان کے پاس ایسی چیز آئی ہے جو ان کے پہلے بڑوں کے پاس نہیں آئی تھی۔ (ف 2)

ف 2۔ مراد اس سے احکام الہیہ کا آنا ہے بذریعہ رسل کے مطلب یہ کہ یہ بات بھی نہیں ہوئی کہ ان رسول پر یہ وحی جدید آئی ہو، بلکہ شرائع و رسولوں کے ذریعے سے ہمیشہ سے نازل ہوتے آئے ہیں، پس تکذیب کی یہ وجہ بھی باطل ٹھہری۔
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ لوگ اپنے رسول سے واقف نہ تھے اس وجہ سے ان کے منکر ہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی یہ وجہ بھی باطل ہے کیونکہ آپ کے صدق پر سب کا اتفاق تھا۔
Ayahs 23:70–74

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا یہ لوگ آپ کی نسبت جنون کے قائل ہیں (سو ان میں تو کوئی وجہ معقول نہیں) بلکہ ( ان کی تکذیب کی اصلی وجہ یہ ہے کہ) یہ رسول ان کے پاس حق کی بات لے کر آئے ہیں اور ان میں اکثر لوگ حق بات سے نفرت رکھتے ہیں۔ (ف 4)

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور (بفرض محال) اگر دین حق ان کے خیالات کے تابع ہوجاتا تو آسمان اور زمین اور جو ان میں (آباد) ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت کی بات بھیجی سو یہ لوگ اپنی نصیحت (نافعہ) سے بھی روگردانی کرتے ہیں۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

یا آپ ان سے کچھ آمدنی چاہتے ہیں تو آمدنی تو آپ کے رب کی سب سے بہتر ہے اور وہ سب دینے والوں سے اچھا ہے۔

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور (خلاصہ ان کی حالت کا یہ ہے کہ) آپ تو ان کو سیدھے رستے کی طرف (جس کو اوپر حق کہا ہے) بلا رہے ہیں۔

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی جو کہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یہ حالت ہے کہ اس (سیدھے) رستہ سے ہٹتے جاتے ہیں۔

ف 4۔ پس یہ تمام تر وجہ ہے، تکذیب کی اور عدم اتباع حق کی۔
Ayahs 23:75–77

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر مہربانی فرمادیں اور ان پر جو تکلیف ہے اس کو ہم دور بھی کردیں تو وہ لوگ (پھر) اپنی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے اصرار کرتے ہیں۔ (ف 5)

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو گرفتار عذاب بھی کیا ہے سو ان لوگوں نے نہ اپنے رب کے سامنے (پورے طور سے) فروتنی کی اور نہ عاجزی اختیار کی۔

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ ہم جب ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو اس وقت بالکل حیرت زدہ رہ جائیں گے۔

ف 5۔ اور وہ قول وقرار جو مصیبت میں کئے تھے، سب گاو خورد ہوجاویں۔
Ayah 23:78

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور (الله) ایسا ہے جس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (ف 6) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ (ف 7)

ف 6۔ کہ آرام بھی بر تو اور دین کا بھی ادراک کرو۔ 7۔ کیونکہ اصلی شکریہ تھا کہ اس منعم کے پسندیدہ دین کو قبول کرتے اور اس کی قدرت علی البعث کا انکار نہ کرتے۔
Ayah 23:79

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم سب قیامت میں اس کے پاس لائے جاؤ گے۔ (ف 8)

ف 8۔ اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی۔