Ayahs 68:36–41آیت 36{ مَا لَـکُمْقف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ۔ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟“
کیا تمہاری َمت ماری گئی ہے جو ایسی رائے بناتے ہو ؟ کیا اللہ کے ہاں ایسا ہی اندھیر مچاہوا ہے کہ وہاں مسلمین اور مجرمین برابر ہوجائیں گے ؟ کیا دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی حکومت اپنے باغیوں اور اپنے وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟
Ayah 68:42آیت 42{ یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ } ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی“
پنڈلی کھولے جانے کا مفہوم ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ ممکن ہے یہ اللہ تعالیٰ کی کسی خاص تجلی کا ذکر ہو جس کا ظہور میدانِ محشر کے کسی مرحلے پر لوگوں کی چھانٹی کرنے کے لیے ہونا ہو۔ واللہ اعلم ! اس اعتبار سے یہ آیت آیات متشابہات میں سے ہے۔ 1
{ وَّیُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۔ } ”اور انہیں پکارا جائے گا اللہ کے حضور سجدے کے لیے تو وہ کر نہیں سکیں گے۔“
جیسا کہ قبل ازیں سورة الحدید کی آیت 11 کے تحت بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ میدانِ حشر میں اچھے اور برے لوگوں کو الگ الگ کرنے کے لیے بنی نوع انسان کو مختلف مراحل میں سے گزارا جائے گا۔ ”پنڈلی کا ظہور“ بھی ایسا ہی کوئی مرحلہ ہوگا۔ وہ صاحب ایمان لوگ جو اپنی دنیوی زندگی میں نماز کی پابندی کرتے رہے تھے اس تجلی کو دیکھتے ہی سجدے میں گرجائیں گے ‘ لیکن وہ لوگ جن کی گردنیں اکڑی رہتی تھیں اور جو نماز کی پابندی کا اہتمام نہیں کرتے تھے وہ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود اس وقت سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ گویا اس مرحلے پر ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے والے لوگوں سے الگ کرلیا جائے گا۔
Ayah 68:43آیت 43{ خَاشِعَۃً اَبْصَارُہُمْ } ”ان کی نگاہیں زمین پر گڑی رہ جائیں گی“
{ تَرْہَقُہُمْ ذِلَّـــۃٌط } ”ان کے چہروں پر ذلت چھا رہی ہوگی۔“
{ وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَہُمْ سٰلِمُوْنَ۔ } ”اور ان کو دنیا میں پکارا جاتا تھا سجدے کے لیے جبکہ یہ صحیح سالم تھے۔“
دنیا میں وہ لوگ اذان کی آواز پر کبھی توجہ ہی نہیں کرتے تھے اور کوئی مجبوری و معذوری نہ ہونے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوتے تھے۔ قیامت کے دن میدانِ حشر میں وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن نہیں کرسکیں گے۔
Ayahs 68:44–45آیت 44{ فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّکَذِّبُ بِہٰذَاالْحَدِیْثِ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔“
جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے اس گروپ کی سورتوں میں یہ کلمہ ذَرْنِیْ ‘ فَذَرْنِیْ اور یہ اسلوب بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس میں ایک طرف حضور ﷺ کی دلجوئی کا پہلو ہے تو دوسری طرف آپ ﷺ کے مخالفین کے لیے بہت بڑی وعید ہے ‘ کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں ‘ ان کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیجیے ‘ ان سے میں خود ہی نمٹ لوں گا۔
{ سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”ہم انہیں رفتہ رفتہ وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے انہیں علم تک نہیں ہوگا۔“
علماء کے ہاں ”استدراج“ کا لفظ بطور اصطلاح استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد ایسا عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی ڈھیل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے باعث کسی قوم یا کسی فرد پر درجہ بدرجہ درجہ ‘ تدریج اور استدراج کا مادہ ایک ہی ہے مسلط ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے غلط راستے پر جا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کچھ دیر کے لیے ڈھیل دیتا ہے ‘ بلکہ بعض اوقات اس راستے پر اسے طرح طرح کی کامیابیوں سے بھی نوازتا ہے تاکہ اس کے اندر کی خباثت پوری طرح سے ظاہر ہوجائے۔ جب وہ شخص اپنی روش کو کامیاب دیکھتا ہے تو سرکشی میں مزید دیدہ دلیری دکھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مہلت کا وقت پورا ہوجاتا ہے اور پھر اچانک اسے عذاب کے شکنجے میں کس لیا جاتا ہے۔
استدراج کی مثال کانٹے کے ذریعے مچھلی کے شکار کی سی ہے۔ شکاری جب دیکھتا ہے کہ مچھلی نے کانٹا نگل لیا ہے تو وہ ڈور کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے ڈور کھینچ کر اسے قابو کرلیتا ہے۔ لفظ استدراج کی وضاحت کرتے ہوئے یہاں مجھے مولانا حسین احمد مدنی - کا وہ قول یاد آگیا ہے جس میں انہوں نے قیام پاکستان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ استدراج بھی ہوسکتا ہے۔ مولانا صاحب رمضان ہمیشہ سلہٹ میں گزارتے تھے۔ 1946 ء کے رمضان میں انہوں نے کہہ دیا تھا کہ ملاء اعلٰی میں پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے ٹھیک ایک سال بعد اگلے رمضان لیلۃ القدر میں پاکستان کا قیام واقعتا عمل میں آگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مولانا مدنی رح کو بذریعہ کشف قیام پاکستان کے بارے میں جس فیصلے کا علم ہوا تھا ‘ ملاء اعلیٰ میں وہ فیصلہ 1946 ء کی لیلۃ القدر میں اس اصول کے تحت ہوا تھا جس کا ذکر سورة الدخان کی آیت 4 میں آیا ہے۔ اس آیت میں لیلۃ القدر لَیْلَۃٍ مُبَارَکَۃٍ کے بارے میں فرمایا گیا ہے : { فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ۔ } کہ اس رات میں آئندہ سال کے دوران رونما ہونے والے اہم امور کے فیصلے کردیے جاتے ہیں۔
مولانا صاحب نظریاتی طور پر قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ ان کے اس انکشاف کے بعد ان کے عقیدت مندوں نے بجاطور پر ان سے پوچھا کہ اس فیصلے کا علم ہوجانے کے باوجود بھی آپ قیام پاکستان کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں ؟ اس پر مولانا صاحب رح نے جو جواب دیا تھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا تکوینی کائنات کی سلطنت کا انتظامی فیصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے کیا منظور ہے ‘ اس کا ہمیں علم نہیں۔ ہمیں چیزوں کے ظاہر اور سامنے نظر آنے والے حالات کو دیکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیکھنے سننے ‘ سمجھنے وغیرہ کی صلاحیتیں اسی لیے دی ہیں کہ وہ ان صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے فیصلے کرے۔ چناچہ اس معاملے میں ہمیں وہی موقف اپنانا چاہیے جس میں ہمیں مسلمانانِ برصغیر کی بہتری نظر آتی ہو۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق کیا ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ ”استدراج“ کی غرض سے کیا گیا ہو۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خطے کے مسلمانوں کو ڈھیل دے کر انہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہو۔
قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مولانا مدنی رح کا خدشہ کافی حد تک درست تھا۔ اہل پاکستان پر عذاب کا ایک کوڑا تو 1971 ء میں برسا تھا۔ اس کے بعد بھی ملک کی مجموعی صورت حال کبھی تسلی بخش نہیں رہی ‘ بلکہ پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ اب ایک فیصلہ کن عذاب ہمارے سر پر آیا کھڑا ہے۔ لیکن میری رائے میں اس کا سبب ”قیامِ پاکستان نہیں“ بلکہ بحیثیت قوم ہمارا وہ مجموعی طرزعمل ہے جو قیام پاکستان کے بعد ہم نے نظام اسلام کے حوالے سے اختیار کیا ہے۔
Ayah 68:46آیت 46{ اَمْ تَسْئَلُہُمْ اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! کیا آپ ان سے کوئی اجرت مانگتے ہیں جس کے تاوان کے بوجھ تلے یہ دبے جا رہے ہیں ؟“
ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے آپ ﷺ سالہا سال سے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ اپنی اس محنت کے عوض جب آپ ﷺ ان سے کسی معاوضے یا اجرت کے طلب گار بھی نہیں ہیں تو یہ لوگ آخر کس لیے پریشان ہیں ؟
Ayah 68:47آیت 47{ اَمْ عِنْدَہُمُ الْغَیْبُ فَہُمْ یَکْتُبُوْنَ۔ } ”یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ؟“
یہ دونوں آیات 46 ‘ 47 جوں کی توں سورة الطور میں آیات 40 اور 41 کے طور پر بھی آچکی ہیں۔
Ayah 68:48آیت 48{ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا“
{ وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ 7 } ”اور دیکھئے ‘ آپ ﷺ اس مچھلی والے کی طرح نہ ہوجایئے گا !“
”مچھلی والے“ سے یہاں حضرت یونس علیہ السلام مراد ہیں۔ آپ علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیے بغیر ہی اپنی قوم کا علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کا ذکر سورة الانبیاء کی آیت 87 میں اس طرح آیا ہے : { اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا } ”جب وہ چل دیا غصے میں بھرا ہوا“۔ آپ علیہ السلام کا یہ غصہ حمیت حق میں تھا اور قوم کی طرف سے مسلسل ہٹ دھرمی اور کفر کی وجہ سے تھا۔ لیکن اس میں خطا کا پہلو یہ تھا کہ آپ علیہ السلام نے ہجرت کرنے سے متعلق اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا۔
{ اِذْ نَادٰی وَہُوَ مَکْظُوْمٌ۔ } ”جب اس نے پکارا اپنے رب کو اور وہ اپنے غم کو اندر ہی اندرپی رہا تھا۔“
حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں انتہائی رنجیدہ حالت میں اللہ سے فریاد کر رہے تھے : { لآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَق اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ } الانبیاء ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو پاک ہے اور یقینا میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔“
Ayah 68:49آیت 49{ لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَکَہٗ نِعْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآئِ وَہُوَ مَذْمُوْمٌ۔ } ”اگر اس کی دست گیری نہ کرتا اس کے رب کا ایک انعام اور احسان تو وہ ملامت زدہ ہو کر پھینک دیاجاتا کسی چٹیل زمین پر۔“
حضرت یونس علیہ السلام قدیم عراق کے شہر نینوا میں مبعوث ہوئے تھے۔ یہ شہر بعلبک کے شمال میں واقع تھا۔ دریائے فرات اور دریائے درجلہ اس علاقہ سے گزرتے ہوئے خلیج فارس میں آکر گرتے ہیں۔ آج کل تو یہ دونوں دریا سکڑ کر چھوٹی چھوٹی ندیوں میں تبدیل ہوگئے ہیں ‘ لیکن پرانے زمانے میں تو ظاہر ہے یہ بہت بڑے بڑے دریا ہوں گے۔ حضرت یونس علیہ السلام نینوا شہر سے نکل کر ان میں سے کسی دریا کو پار کرنے کے لیے کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی میں آپ علیہ السلام کے ساتھ وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر اشارتاً سورة الصّٰفّٰتکی آیت 141 میں آیا ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ علیہ السلام کو کسی وہیل مچھلی نے نگل لیا۔ وہ مچھلی خلیج فارس سے ہوتی ہوئی مکران کے ساحل پر پہنچی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس ساحل کے کسی مقام پر اس نے آپ علیہ السلام کو اگل دیا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی حالت بہت خراب تھی۔ اس موقع پر آپ علیہ السلام کو سایہ اور غذا وغیرہ فراہم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ’ یقطین ‘ کا وہ پودا اگایا جس کا ذکر سورة الصّٰفّٰت ‘ آیت 146 میں آیا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں اسی پودے کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت آپ علیہ السلام کے لیے واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ثابت ہوا۔ یَقْطِینکے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ ہو سورة الصّٰفّٰت ‘ آیت 146 کی تشریح۔
Ayah 68:50آیت 50{ فَاجْتَبٰـٹـہُ رَبُّہٗ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ } ”تو اس کے ربّ نے اس کو ُ چن لیا اور اسے پھر صالحین میں سے کردیا۔“
حضرت یونس علیہ السلام کے ذکر کے حوالے سے یہاں حضور ﷺ کا ایک فرمان بھی سن لیجیے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : لَا تُفَضِّلُوْنِیْ عَلٰی یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی 1 ”کہ مجھے یونس علیہ السلام ابن متیٰ پر بھی فضیلت نہ دو“۔ اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہہ ہے جو اپنا جوشِ خطابت اور زور قلم دوسرے انبیاء کرام پر حضور ﷺ کی فضیلت ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ آپ ﷺ بلاشبہ پوری نوع انسانی سے افضل اور سید الانبیاء والمرسلن ہیں۔ لیکن ع ”حاجت ِ مشاطہ ّنیست صورت دل آرام را“۔ آج پوری دنیا آپ ﷺ کی عظمت کی قائل ہے۔ اس حقیقت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ آج ایک عیسائی دانشور مائیکل ہارٹ اپنی کتاب ”The 100“ میں یہ لکھنے پر مجبور ہے :
" My choice of Muhammad to lead the list of the worlds most influential persons may surprise some readers and may be questioned by others , but he was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels."
”حضرت محمد ﷺ کو دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں سرفہرست رکھنے کے میرے اس فیصلے پر کچھ قارئین کو حیرت ہوگی اور بعض اس پر سوال بھی اٹھائیں گے ‘ لیکن پوری انسانی تاریخ میں صرف اور صرف آپ ﷺ ہی واحد شخص ہیں جو مذہبی اور سیکولر دونوں محاذوں پر پوری طرح کامیاب رہے۔“
Ayah 68:51آیت 51{ وَاِنْ یَّـکَادُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَـیُزْلِقُوْنَکَ بِاَبْصَارِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ } ”اور یہ کافر تو ُ تلے ہوئے ہیں اس پر کہ اپنی نگاہوں کے زور سے آپ ﷺ کو پھسلا دیں گے جب وہ قرآن سنتے ہیں“
مشرکین ِمکہ نے حضور ﷺ کی قوت ارادی کو توڑنے کے لیے ہر ممکن طریقہ آزمایا اور اس مقصد کے لیے آپ ﷺ کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ایک مرحلے پر انہوں نے اس مقصد کے لیے ایسے عاملوں کی خدمات بھی حاصل کیں جو اپنی نگاہوں کی خصوصی طاقت کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتے تھے۔ شاید طبعی طور پر ایسا ممکن ہو۔ ہوسکتا ہے کوئی شخص خصوصی مشقوں exercises کے ذریعے اپنی آنکھوں میں اپنی قوت ارادی کو اس انداز میں مجتمع کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہو کہ اس کے بعد جب وہ کسی دوسرے شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے تو وہ اس کی نظروں کی تاب نہ لاسکے۔ بہرحال اس آیت میں مشرکین مکہ کے ایسے ہی اوچھے ہتھکنڈوں کا ذکر ہے۔
{ وَیَـقُوْلُوْنَ اِنَّـہٗ لَمَجْنُوْنٌ۔ } ”اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے۔“
سورت کے آغاز اور اختتام کا باہمی ربط نوٹ کیجیے۔ جس مضمون سے سورت کا آغاز ہوا تھا اسی پر اس کا اختتام ہو رہا ہے۔ کفار حضور ﷺ کو مجنون کہتے تھے۔ ان کے اس الزام کی تردید سورت کے ابتدا میں بھی کی گئی اور آخر میں بھی۔ پھر یہاں یہ نکتہ بھی سمجھ میں آجاتا ہے کہ اس سورت کے آغاز میں حرف نٓ کیوں آیا ہے۔ دراصل ن کے معنی ”مچھلی“ کے ہیں ‘ جیسا کہ سورة ا الانبیاء کی آیت 87 میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر ذوالنُّون مچھلی والے کے لقب سے کیا گیا ہے۔ چناچہ حرف ن کا معنوی ربط سورت کی ان اختتامی آیات کے ساتھ ہے جن میں صَاحِب الْحُوت حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔
Ayah 68:52آیت 52{ وَمَا ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ } ”اور نہیں ہے وہ ‘ مگر ایک یاد دہانی تمام جہان والوں کے لیے۔“
یہاں پر ھُوَکی ضمیر قرآن کے لیے بھی ہے اور حضور ﷺ کے لیے بھی۔ قرآن مجید کے ذکر یاد دہانی اور نصیحت ہونے کا تذکرہ تو قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ‘ جبکہ اپنی ذات میں حضور ﷺ بھی قیامت تک کے لوگوں کے لیے یاد دہانی ہیں ‘ بلکہ آپ ﷺ اپنی ذات میں مجسم قرآن ہیں۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رض کا فرمان ہے : کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ ”آپ ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تو تھا۔“
] بعض مترجمین نے یہاں ”ذِکْر“ کا ترجمہ ”شرف“ بھی کیا ہے۔ یعنی آپ ﷺ سارے جہانوں کے لیے وجہ عزو شرف ہیں۔ مرتب [