Ayah 59:21آیت 21{ لَــوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْـتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ } ”اگر ہم اس قرآن کو اتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔“
یہ قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ اہم نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید کی عظمت اور قرآن مجید کی افادیت دو الگ الگ موضوعات ہیں۔ ان دوموضوعات کو آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں تک قرآن مجید کی افادیت کا تعلق ہے ‘ قرآن کی متعدد آیات اس حوالے سے ہماری راہنمائی کرتی ہیں ‘ لیکن سورة یونس کی یہ دو آیات اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں :
{ یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ لا وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ - قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْاط ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ۔ }
”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے اَمراض کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور بہت بڑی رحمت۔ اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ یہ قرآن اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوا ہے ‘ تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں ! وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔“
یہ تو قرآن مجید کی افادیت کا ذکر ہے ‘ لیکن قرآن مجید فی نفسہٖ کیا ہے ؟ انسان کا محدود ذہن اس موضوع کو کماحقہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ چناچہ قرآن مجید کی عظمت کے تصور کو انسانی ذہن کے لیے کسی حد تک قابل فہم بنانے کے لیے آیت زیر مطالعہ میں ایک تمثیل بیان کی گئی ہے۔ اس تمثیل کو سمجھنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کو ہِ طور پر پیش آنے والے واقعہ کی یاد دہانی ضروری ہے۔ یہ واقعہ سورة الاعراف کی آیت 143 میں بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب چالیس راتوں کے لیے کو ہِ طور پر گئے تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی : { رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَط } کہ اے میرے رب ! مجھے اپنا جلوہ دکھا ‘ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ { قَالَ لَنْ تَرٰٹنِیْ } اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ { وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ } البتہ تم اس پہاڑ کو دیکھو ‘ میں اپنی تجلی اس پر ڈالوں گا۔ { فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰٹنِیْج } تو اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ قائم رہ سکا تو پھر تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ { فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ } پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر ایک تجلی ڈالی ‘ یعنی نورکا پرتو جب پہاڑ پر پڑا تو { جَعَلَہٗ دَکًّا } اس نے اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کرکے رکھ دیا۔ { وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًاج } الاعراف : 143 اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بالواسطہ تجلی کے مشاہدہ کی تاب نہ لاتے ہوئے بےہوش کر گرپڑے۔ اس واقعہ کے ساتھ آیت زیر مطالعہ میں بیان کی گئی تمثیل کی گہری مماثلت ہے۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ کو ہِ طور پر ”تجلی ذات“ کا معاملہ تھا اور یہاں اس تمثیل میں ”تجلی صفات“ کا ذکر ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام اپنے متکلم کی صفت ہوتا ہے۔ اس لیے جو تاثیر ذات باری تعالیٰ کی تجلی کی ہے عین وہی تاثیر کلام اللہ کی تجلی کی ہے۔ علامہ اقبال اپنے انداز میں قرآن مجید کی عظمت کا بیان یوں کرتے ہیں : ؎
فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است !
کہ اگر میں اپنے دل کی بات کروں تو یہ کہوں گا کہ قرآن مجید محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہی چیز ہے۔ کیا چیز ہے ؟ اس کی مزید وضاحت علامہ یوں کرتے ہیں :
مثل ِحق پنہاں و ہم پیدا ست ایں
زندہ و پائندہ و گویا ست ایں !
یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی صفات کا حامل ہے اور اس حیثیت میں یہ پوشیدہ بھی ہے اور عیاں بھی۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا بھی ہے اور گویا بولتا ہوا بھی۔ قرآن حکیم کی عظمت کے حوالے سے سورة الواقعہ کی آیت { لَا یَمَسُّہٗٓ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ۔ } کی تشریح کے تحت یہ نکتہ بھی زیر بحث آچکا ہے کہ قرآن مجید کی حقیقی معرفت ‘ اصل ہدایت اور روح باطنی تک رسائی کے لیے انسان کے باطن کا پاک ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے باطن کا تجزیہ کیے بغیر قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو وہ صرف اس کی عبارت اور لغت کے ظاہری مطالب و معانی تک ہی رسائی حاصل کر پائے گا۔ یہی بات مولانا روم نے تعلی میز الفاظ میں یوں بیان کی ہے :
ما زِ قرآں مغزہا برداشتیم
استخواں پیش ِسگاں انداختیم !
کہ ہم نے قرآن سے اس کا مغزلے لیا ہے اور ہڈیاں کتوں کے آگے ڈال دی ہیں۔
{ وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَـعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ۔ } ”اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔“
اب وہ تین عظیم آیات آرہی ہیں جن کا ذکر اس رکوع کے آغاز میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے ہوا تھا۔ واضح رہے کہ صفات ِباری تعالیٰ کے موضوع پر سورة الحدید کی پہلی چھ آیات قرآن مجید کے ذروئہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔ عربی میں اونٹ کی کو ہان کو سنام اور کسی چیز کی چوٹی یا بلند ترین حصے کو ذُروہ/ذِروہ کہتے ہیں۔ چناچہ ذروئہ سنام کا مطلب ہے کو ہان کی بھی چوٹی۔ یعنی سب سے اونچا مقام یا کسی چیز کا نمایاں ترین حصہ ! جبکہ اسمائے حسنیٰ کے ذکر کے اعتبار سے سورة الحشر کی آخری تین آیات پورے قرآن میں منفرد و ممتاز مقام کی حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے حوالے سے یہاں ”ایمانِ مجمل“ کے یہ الفاظ بھی اپنے حافظے میں تازہ کرلیں : آمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَائِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء وصفات کے ساتھ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے تمام احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔
Ayah 59:22آیت 22{ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ } ”وہی ہے اللہ ‘ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“
{ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِج } ”وہ جاننے والا ہے چھپے کا اور کھلے کا۔“
یہ پورا مرکب اللہ تعالیٰ کے ایک اسم پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور اسے بھی جو ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن میں جہاں اللہ کے لیے غیب اور شہادۃ کے الفاظ آتے ہیں ‘ وہ ہم انسانوں کے لیے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے لیے تو سب شہادہ ہی شہادہ ہے ‘ اس کے لیے تو کوئی چیز بھی غیب نہیں۔ ہم انسانوں کے لیے کچھ چیزیں تو وہ ہیں جنہیں ہم اپنے حواس خمسہ سے محسوس کرسکتے ہیں۔ ایسی تمام اشیاء ہمارے لیے ”ظاہر“ الشَّہَادَۃ کے زمرے میں آتی ہیں۔ مثلاً اگر کسی چیز کو ہم مائیکرو سکوپ یا ٹیلی سکوپ سے بھی دیکھ لیں تو اس کی حیثیت بھی ہمارے لیے ”ظاہر“ ہی کی ہے۔ دوسری طرف کچھ ایسے حقائق ہیں جنہیں ہم سے چھپا دیا گیا ہے ‘ انہیں ہم کسی طرح بھی اپنے حواس کے احاطہ میں نہیں لاسکتے۔ ایسی سب چیزیں ہمارے لیے غیب کا درجہ رکھتی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ فرشتے ‘ جنت ‘ دوزخ ‘ عالم ِ آخرت وغیرہ ‘ سب ہمارے لیے غیب ہیں۔ یہ مضمون سورة الجن میں دوبارہ واضح تر انداز میں آئے گا۔
{ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۔ } ”وہ بہت رحم کرنے والا ‘ نہایت مہربان ہے۔“
سورة الفاتحہ کی دوسری آیت ان ہی دو اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے۔ لغوی اور اشتقاقی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو متعلقہ آیت کی تشریح۔
Ayah 59:23آیت 23{ ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَ } ”وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔“
{ اَلْمَلِکُ الْـقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُط } ”حقیقی بادشاہ ‘ یکسرپاک ‘ سراپا سلامتی اور ہر اعتبار سے سالم ‘ امن دینے والا ‘ پناہ میں لینے والا ‘ زبردست مطلق العنان ‘ اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا ‘ سب بڑائیوں کا مالک۔“
{ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔ } ”اللہ پاک ہے ان تمام چیزوں سے جو یہ شرک کرتے ہیں۔“
اس ایک آیت میں آٹھ اسمائے حسنیٰ مسلسل ‘ بغیر حرفِ ”و“ کے آئے ہیں اور اس لحاظ سے یہ آیت پورے قرآن مجید میں منفرد ہے۔
Ayah 59:24آیت 24{ ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ } ”وہی ہے اللہ ‘ تخلیق کا منصوبہ بنانے والا ‘ وجود بخشنے والا ‘ صورت گری کرنے والا۔“
اس آیت میں اللہ کے علاوہ تین اسمائے حسنیٰ آئے ہیں۔ ان تینوں اسماء کا تعلق تخلیقی عمل کے مختلف مراحل سے ہے اور اس لحاظ سے یہاں ان کا ذکر ایک فطری اور منطقی ترتیب سے ہوا ہے۔ ”خلق“ دراصل عمل تخلیق کا وہ مرحلہ ہے جب کسی چیز کا منصوبہ یا نقشہ تیار ہوتا ہے۔ بغرضِ تفہیم اگر ہم انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے ایک بڑھئی کی مثال سامنے رکھیں تو عمل تخلیق کے مختلف مراحل اور ان تینوں اسماء کے مابین پائے جانے والے خاص ربط کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ فرض کریں کہ بڑھئی ایک میز بنانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے وہ مطلوبہ سائز اور مطلوبہ شکل کی میز کا ایک نقشہ اپنے ذہن میں تیار کرتا ہے۔ یہ اس میز کی ذہنی تخلیق ہے۔ اس کے بعد بڑھئی مجوزہ نقشے کے مطابق لکڑی کا میز بنا کر اپنی ”ذہنی تخلیق“ کو عالم واقعہ میں ظاہر کردیتا ہے۔ پھر تیسرے اور آخری مرحلے میں وہ اسے finishing touches دیتے ہوئے رنگ و روغن کر کے میز کو حتمی طور پر تیار کردیتا ہے۔
مذکورہ بالا تینوں اسمائے حسنیٰ کا تعلق تخلیق کے ان ہی تین مراحل سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کا ایک نقشہ یا نمونہ تیار فرماتا ہے۔ اس مفہوم میں وہ الخالق ہے ‘ پھر وہ اس تخلیق کو عدم سے عالم وجود میں ظاہر کرتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ البارِیہے۔ بَرَأَ کے معنی ظاہر کرنے کے ہیں۔ سورة الحدید کی آیت 22 میں ہم پڑھ چکے ہیں : { مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّـبْرَأَھَا } ”اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کو باقاعدہ ایک صورت یا شکل عطا کرتا ہے۔ اس معنی میں وہ ”الْـمُصَوِّر“ ہے۔
{ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی } ”تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔“
{ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج } ”اسی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔“
{ وَہُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔“
اس سورت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے آغاز میں بھی اللہ کی تسبیح کا بیان ہے اور اس کا اختتام بھی اللہ کی تسبیح پر ہوتا ہے۔ آغاز میں تسبیح کے حوالے سے ماضی کا صیغہ سَبَّحَ آیا ہے جبکہ اختتام پر مضارع کا صیغہ یُسَبِّحُ ہے۔ اسی طرح اس کی ابتدائی آیت کے اختتام پر جو دو اسمائے حسنیٰ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم آئے ہیں ‘ آخری آیت کا اختتام بھی ان ہی اسمائے حسنیٰ پر ہوتا ہے۔