Ayah 53:41آیت 41{ ثُمَّ یُجْزٰٹہُ الْجَزَآئَ الْاَوْفٰی۔ } ”پھر اس کو بدلہ دیا جائے گا پورا پورا بدلہ۔“
Ayah 53:42آیت 42{ وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَہٰی۔ } ”اور یہ کہ بالآخر پہنچنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔“
Ayah 53:43آیت 43{ وَاَنَّـہٗ ہُوَ اَضْحَکَ وَاَبْکٰی۔ } ”اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے۔“
یعنی اچھے برے حالات ‘ خوشی ‘ غم ‘ تکلیف ‘ بیماری سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
Ayah 53:44آیت 44{ وَاَنَّہٗٗ ہُوَ اَمَاتَ وَاَحْیَا۔ } ”اور یہ کہ وہی ہے جو مارتا بھی ہے اور زندہ بھی رکھتا ہے۔“
Ayahs 53:45–46آیت 45 ‘ 46{ وَاَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی۔ } ”اور یہ کہ وہی ہے جس نے پیدا کیے ہیں جوڑے نر اور مادہ کے ‘ ایک ہی بوندھ سے جبکہ وہ ٹپکائی جاتی ہے۔“
Ayah 53:47آیت 47{ وَاَنَّ عَلَیْہِ النَّشْاَۃَ الْاُخْرٰی۔ } ”اور یہ کہ اسی کے ذمے ہے دوبارہ اٹھانا۔“
یہاں یہ نکتہ بہت اہم اور لائق توجہ ہے کہ انسانوں کو دوبارہ اٹھانا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ گویا انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کا احتساب کرنا اللہ کے انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر وہ انسانوں کو دوبارہ نہیں اٹھاتا اور ان کو ان کے اچھے برے اعمال کا بدلہ نہیں دیتا تو نیکوکار لوگوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوجائے گا۔ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی بھی آزمائشوں اور مصیبتوں میں گزاری۔ ساری زندگی وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے رہے ‘ حرام خوریوں سے بچنے کے لیے روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے رہے۔ اگر انہیں ان کی محنتوں اور قربانیوں کا صلہ نہیں ملتا تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا ؟
Ayah 53:48آیت 48{ وَاَنَّہٗ ہُوَ اَغْنٰی وَاَقْنٰی۔ } ”اور یہ کہ اسی نے دولت دی اور اسی نے خزانہ دیا۔“
اَقْنٰی چونکہ باب افعال سے ہے ‘ جس کی خصوصیات میں ”سلب ماخذ“ بھی ہے ‘ چناچہ اس کا ترجمہ اَفْقَرَ بھی کیا گیا ہے۔ یعنی اس نے کسی کو غنی اور کسی کو فقیر بنا دیا۔
Ayah 53:49آیت 49{ وَاَنَّہٗ ہُوَ رَبُّ الشِّعْرٰی۔ } ”اور یہ کہ وہی شعریٰ کا بھی ربّ ہے۔“
الشِّعریٰ وہ ستارہ تھا جس کی مختلف اقوام میں پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ستارہ اس حیثیت سے اہل عرب کے ہاں بھی معروف تھا۔ اس لیے انہیں بتایا گیا کہ جسے تم لوگ الٰہ مانتے ہو اس کا رب بھی اللہ ہی ہے۔ تمہاری قسمت کے فیصلے یہ ستارہ نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔
Ayah 53:50آیت 50{ وَاَنَّہٓٗ اَہْلَکَ عَادَا نِ الْاُوْلٰی۔ } ”اور یہ کہ اسی نے ہلاک کیا تھا عاد اولیٰ کو۔“
”عادِ اولیٰ“ سے مراد قدیم قوم عاد ہے ‘ جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام مبعوث کیے گئے۔ یہ قوم احقاف کے علاقے میں آباد ہوئی۔ اس قوم پر جب عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو حضرت ہود علیہ السلام اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ہمراہ اس علاقے سے ہجرت کر گئے۔ ان لوگوں کی نسل سے جو قوم وجود میں آئی وہ ”ثمود“ کہلائی۔ لیکن وہ لوگ چونکہ قوم عاد ہی کی نسل سے تھے اس لیے انہیں ”عادِ ثانیہ“ بھی کہا جاتا ہے۔
Ayah 53:51آیت 51{ وَثَمُوْدَا فَمَآ اَبْقٰی۔ } ”اور ثمود کو بھی ‘ پس کسی کو باقی نہ چھوڑا۔“ o
Ayah 53:52آیت 52{ وَقَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُط } ”اور قوم نوح علیہ السلام کو بھی ہلاک کیا ان سے پہلے۔“
{ اِنَّہُمْ کَانُوْا ہُمْ اَظْلَمَ وَاَطْغٰی۔ } ”یقینا وہ تو ان سے بڑھ کر ظالم اور ان سے بڑھ کر سرکش تھے۔“
Ayah 53:53آیت 53{ وَالْمُؤْتَفِکَۃَ اَہْوٰی۔ } ”اور اُسی نے الٹی ہوئی بستیوں کو پٹخ دیا۔“
اس سے سدوم اور عامورہ یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیاں مراد ہیں۔
Ayah 53:54آیت 54{ فَغَشّٰٹہَا مَا غَشّٰی۔ } ”اور پھر اس کو ڈھانپ لیاجس چیز نے ڈھانپ لیا۔“
پہلے شدید زلزلے نے ان آبادیوں کو تلپٹ کیا اور اس کے بعد ان پر کنکروں کی بارش ہوئی۔ یہاں اس آیت میں اس بارش کی طرف اشارہ ہے یعنی کنکروں کی بارش نے اس علاقے کو ڈھانپ لیا۔
Ayah 53:55آیت 55{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکَ تَتَمَارٰی۔ } ”تو تم اپنے رب کی کون کون سی قدرتوں کے بارے میں شک کرو گے ؟“
Ayah 53:56آیت 56{ ہٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰی۔ } ”یہ محمد ﷺ ایک خبردار کرنے والے ہیں ‘ پہلے خبردار کرنے والوں کے زمرے میں سے۔“
نذیر کے معنی ہیں : ڈرانے والا ‘ آگاہ کرنے والا ‘ خبردار warn کرنے والا ‘ اور النُّذُر اسی کی جمع ہے۔
Ayah 53:57آیت 57{ اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ۔ } ”قریب آچکی ہے وہ آنے والی۔“
Ayah 53:58آیت 58{ لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ۔ } ”نہیں ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی کھولنے والا۔“
قیامت برپا کرنے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ گویا اس وقت قیامت کسی کشتی کی طرح ”لنگر انداز“ ہے ‘ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس کا لنگر اٹھا کر اسے برپا کر دے گا۔ پھر یہ کہ اس کے وقوع کا علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔ اللہ کے سوا کوئی کھول کر نہیں بتاسکتا کہ قیامت کب آئے گی۔ اور جب وہ وقت معین آجائے گا تو اللہ کے سوا کوئی اس کو ٹالنے اور دور کرنے پر قادر نہ ہوگا۔
Ayah 53:59آیت 59{ اَفَمِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ۔ } ”تو کیا تم لوگوں کو اس کلام کے بارے میں تعجب ہورہا ہے ؟“
ہٰذَا الْحَدِیْثِ سے مراد یہاں قرآن مجید ہے ‘ یعنی کیا تم لوگ قرآن کے بارے میں تعجب کر رہے ہو ؟
Ayah 53:60آیت 60{ وَتَضْحَکُوْنَ وَلَا تَبْکُوْنَ۔ } ”اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو !“
Ayah 53:61آیت 61{ وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ۔ } ”اور تم خوش فعلیاں کر رہے ہو !“
Ayah 53:62آیت 62{ فَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ وَاعْبُدُوْا۔ } ”پس سجدہ کرو اللہ کے لیے اور اسی کی بندگی کرو !“
روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے پہلی مرتبہ یہ سورت حرم کعبہ میں قریش کے ایک بڑے مجمع کے سامنے تلاوت فرمائی تھی۔ اس مجمع میں اہل ایمان بھی تھے اور مشرکین کے خواص و عوام بھی۔ اس کلام کی شدت تاثیر کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ نے اسے سنانا شروع کیا تو مخالفین کو اس پر شور مچانے کی ہمت نہ ہوئی اور حضور ﷺ نے جب یہ آخری آیت تلاوت فرمانے کے بعد سجدہ کیا تو آپ ﷺ کے ساتھ مسلم و کافر سبھی سجدہ میں گرگئے۔ بعد میں مشرکین کو سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ہم نے کیا کیا۔ آخر کار انہوں نے اپنے سجدے کے جواز میں یہ بات بتائی کہ ہم نے تو لات ‘ عزیٰ اور منات کے ذکر آیت 19 اور 20 کے بعد محمد ﷺ کی زبان سے یہ کلمات بھی سنے تھے : تلک الغرانِقَۃ العُلٰی ‘ وان شفَاعتُھُن لتُرٰجی یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں ‘ اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کلمات سننے کے بعد ہم نے سمجھا کہ محمد ﷺ نے ہماری دیویوں کو بھی تسلیم کرلیا ہے ‘ لہٰذا اب ان کے ساتھ ہمارا جھگڑا ختم ہوگیا ہے۔ حالانکہ اس پوری سورت کے سیاق وسباق میں ان فقروں کی کوئی جگہ ممکن ہی نہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے کانوں نے سنے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مشرکین کے سجدہ میں گر جانے کا واقعہ کلام الٰہی کی غیر معمولی تاثیر اور خصوصی طور پر اس سورت کے ُ پرجلال اندازِ خطابت کے باعث پیش آیا تھا۔ ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ ہم کلام اللہ کے ادبی جمال ‘ اس کی فصاحت و بلاغت کی لطافتوں اور خطابت کی چاشنی کا صحیح ادراک نہیں کرسکتے۔ مگر اس کے اوّلین مخاطبین تو اہل زبان تھے۔ پھر نزول قرآن کے زمانے کے عرب معاشرے میں سخن گوئی اور سخن فہمی کا مجموعی ذوق بھی عروج پر تھا۔ وہ لوگ قرآن مجید کے ادبی و لسانی محاسن کو خوب سمجھتے تھے ‘ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے شعراء ‘ ادباء اور خطباء قرآن مجید کے اعجازِ بیان کے سامنے سرنگوں ہوچکے تھے۔ ظاہر ہے اچھے کلام کی تاثیر سے تو کسی کو بھی انکار نہیں۔ خود حضور ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃً 1 1 صحیح البخاری ‘ کتاب الادب ‘ باب ما یجوز من الشعر والرجز والحداء … وسنن الترمذی ‘ ابواب الادب ‘ باب ما جاء ان من الشعر حکمۃ۔ ”یقینا بہت سے اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں“۔ نیز فرمایا : اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا 2 2 صحیح البخاری ‘ کتاب الطب ‘ باب ان من البیان سحراً۔ و صحیح مسلم ‘ کتاب الجمعۃ ‘ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ۔ ”یقینابہت سے خطبات جادو کی سی تاثیر رکھتے ہیں“۔ زورِ خطابت اور تاثیر کے اعتبار سے اگرچہ قرآن مجید کی ہر آیت ہی لاجواب ہے مگر سورة النجم اس حوالے سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔
مندرجہ بالا حقائق کے تناظر میں مذکورہ واقعہ کی توجیہہ یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے اس سورت کی تلاوت شروع کی تو تمام حاضرین مجمع دم بخود ہو کر سننے میں محو ہوگئے۔ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والا ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرہ ان کی روحوں کی گہرائیوں تک اترتا گیا۔ خصوصاً مشرکین کی کیفیت تو ایسی تھی کہ تلاوت کے اختتام تک وہ گویا مبہوت ہوچکے تھے۔ چناچہ اختتامِ تلاوت پر جب حضور ﷺ اور مجمع میں موجود
اہل ِ ایمان سجدہ میں گئے تو { فَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ } کے حکم کی تاثیر ‘ ہیبت اور جلالت کی تاب نہ لاتے ہوئے سب کے سب مشرکین بھی بےاختیار سجدے میں گرگئے۔ گویا وہ اسی طرح سجدے میں گرا دیے گئے واللہ اعلم ! جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں آئے ہوئے جادوگر سجدوں میں گرا دیے گئے تھے : { وَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ۔ } الاعراف۔ واضح رہے کہ سورة الاعراف کی اس آیت میں فعل مجہول اُ لْــقِیَ استعمال ہوا ہے۔ یعنی ایسے لگا جیسے انہیں کسی نے پکڑ کر سجدے میں گرا دیاہو۔