Ayah 52:41آیت 41{ اَمْ عِنْدَہُمُ الْـغَیْبُ فَہُمْ یَکْتُـبُوْنَ۔ } ”کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ؟“
Ayah 52:42آیت 42{ اَمْ یُرِیْدُوْنَ کَیْدًاط فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہُمُ الْمَکِیْدُوْنَ۔ } ”کیا یہ لوگ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں ؟ اصل میں تو یہ کافر خود ہی چال کا شکار ہوگئے ہیں۔“
یہ لوگ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہمارے رسول ﷺ اور قرآن کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں تاکہ عوام ان سے متاثر نہ ہوں۔ لیکن ان کی یہ باتیں اس قدر بودی ہیں کہ خود ان کے اپنے دل بھی ان کو نہیں مانتے۔ ان کی سازشوں کو اللہ تعالیٰ اسی طرح ناکام کرتا رہتا ہے ‘ جیسا کہ سورة الطارق میں فرمایا گیا : { اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا - وَّاَکِیْدُ کَیْدًا۔ } ”یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں اور میں اپنی تدبیر کر رہا ہوں۔“
Ayah 52:43آیت 43{ اَمْ لَہُمْ اِلٰـــہٌ غَیْرُ اللّٰہِ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔ } ”کیا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ بھی ہے ؟ پاک ہے اللہ اس سے جو شرک یہ کر رہے ہیں۔“
Ayah 52:44آیت 44{ وَاِنْ یَّرَوْا کِسْفًا مِّنَ السَّمَآئِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْکُوْمٌ۔ } ”اور اگر کبھی یہ دیکھیں آسمان کا کوئی ٹکڑا گرتا ہوا تو کہیں گے کہ یہ تو بادل ہیں تہ بر تہ۔“
ان کی حالت تو یہ ہے کہ اگر آسمان کا کوئی ٹکڑا بھی عذاب الٰہی بن کر ان پر گر رہا ہو تو اسے بھی یہ لوگ بارش برسانے والا بادل ہی سمجھیں گے۔ جیسا کہ قوم عاد کے لوگوں نے اپنی طرف بڑھتے ہوئے عذاب کو دیکھ کر کہا تھا : { ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا } الاحقاف : 24 ”یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے“۔ یہ بادل برسیں گے تو ہمارے علاقے میں جل تھل کردیں گے۔
Ayah 52:45آیت 45{ فَذَرْہُمْ حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ فِیْہِ یُصْعَقُوْنََ۔ } ”تو اے نبی ﷺ ! چھوڑے رکھیے ان کو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس میں ان پر بجلی کی کڑک گرے گی۔“
”چھوڑ دینے“ کے مفہوم میں یہ حکم ابتدائی زمانے کی سورتوں میں تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ جیسے سورة المعارج میں فرمایا گیا : { فَذَرْھُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَھُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۔ } ”تو اے پیغمبر ﷺ ! ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آموجود ہو“۔ سورة القلم میں فرمایا گیا : { فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّـکَذِّبُ بِھٰذَا الْحَدِیْثِط سَنَسْتَدْرِجُھُمْ مِنْ حَیْثُ لاَ یَعْلَمُوْنَ۔ } ”تو آپ مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دیں۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی“۔ اس حکم کے تکرار کا مطلب یہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کے تمسخر ‘ استہزاء اور دیگر مخالفانہ ہتھکنڈوں کو بالکل خاطر میں نہ لائیں اور تبلیغ و تذکیر کے حوالے سے اپنا مشن جاری رکھیں۔ ان لوگوں کے معاملے کو آپ ﷺ مجھ پر چھوڑ دیں ‘ ان سے میں خود نمٹ لوں گا۔
Ayah 52:46آیت 46{ یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْہُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا وَّلَا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ۔ } ”جس دن ان کی چالیں ان کے کسی کام نہ آسکیں گی اور نہ ہی ان کی کوئی مدد ہی ہوگی۔“
ان کی ساری چالیں ناکام ہوجائیں گی اور کوئی مددگار ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے گا۔
Ayah 52:47آیت 47{ وَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِکَ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”اور ان ظالموں کے لیے اس آخرت کے عذاب کے علاوہ بھی ایک عذاب ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔“
اس عذاب سے یا تو قحط مکہ کا عذاب مراد ہے جس کا ذکر سورة الدخان میں ہے اور یا پھر غزوئہ بدر کے دن کا عذاب جس دن مکہ کے ستر سردار مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
Ayah 52:48آیت 48{ وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ } ”اور اے نبی ﷺ آپ اپنے ربّ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔“
ابتدائی مکی دور کی سورتوں میں یہ حکم بار بار آیا ہے۔ خصوصاً زیر مطالعہ گروپ کی سورتوں اور 29 ویں پارے کی سورتوں میں تو فَاصْبِرْ یا وَاصْبِرْکے صیغے کی بہت تکرار ملتی ہے۔ سورة النحل میں فرمایا گیا : { وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلاَّ بِاللّٰہِ } آیت 127 ”آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے“۔ سورة الاحقاف میں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ } آیت 35 ”پس آپ بھی صبر کیجیے جیسے ہمارے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا“۔ مثلاً حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کی زیادتیاں برداشت کیں۔ سورة المزمل میں ارشاد ہوا : { وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَـقُوْلُوْنَ } آیت 10 ”اور اس پر صبر کیجیے جو یہ لوگ آپ کے خلاف باتیں بنا رہے ہیں“۔ سورة المدثر میں فرمایا گیا : { وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ۔ } ”اور آپ اپنے رب کے لیے صبر کریں“۔ غرض ابتدائی مکی دور کی سورتوں میں رسول اللہ ﷺ کو براہ راست مخاطب کر کے بار بار ہدایت کی جاتی رہی کہ آپ صبر کا دامن مضبوطی سے تھا میں رہیں۔ عربی میں ”صبر“ کے بعد اگر ”ل“ آجائے جیسے کہ آیت زیر مطالعہ میں ہے ‘ تو اس کے معنی انتظار کرنے کے ہوتے ہیں۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کا ترجمہ اسی مفہوم کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
{ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا } ”بیشک آپ ہماری نگاہوں میں ہیں۔“
آپ ﷺ مسلسل ہماری نظروں کے سامنے ہیں ‘ ہم آپ کے حالات سے پوری طرح باخبر ہیں۔ ہم آپ ﷺ کی نگہبانی کر رہے ہیں ‘ آپ کو آپ کے حال پر نہیں چھوڑ دیا۔ بالکل یہی مضمون سورة یونس کی آیت 61 میں بھی آیا ہے :
{ وَمَا تَـکُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْہُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلاَ تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُمْ شُہُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ ط }
”اور اے نبی ﷺ ! نہیں ہوتے آپ کسی بھی کیفیت میں اور نہیں پڑھ رہے ہوتے آپ قرآن میں سے کچھ اور اے مسلمانو ! تم نہیں کر رہے ہوتے کوئی بھی اچھا عمل مگر یہ کہ ہم تمہارے پاس موجود ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو۔“
{ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِیْنَ تَقُوْمُ۔ } ”اور آپ تسبیح کرتے رہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ جب آپ کھڑے ہوں۔“
اس بارے میں عام رائے یہی ہے کہ یہ حضور ﷺ کی تہجد کی نماز کی طرف اشارہ ہے ‘ کیونکہ آغاز میں تو وہی ایک نماز تھی۔ جیسا کہ سورة المزمل کی ان آیات میں قیام اللیل کا ذکر ہے :
{ یٰٓــاَیـُّـھَا الْمُزَمِّلُ۔ قُمِ الَّــیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا۔ نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا۔ اَوْ زِدْ عَلَـیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا۔ }
”اے کپڑا اوڑھنے والے ! رات کو قیام کیا کرو مگر ساری رات نہیں بلکہ کم۔ یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم کرلو۔ یا اس پر کچھ زیادہ کرلو ‘ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔“
Ayah 52:49آیت 49{ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ } ”اور رات کے ایک حصے میں بھی آپ اس کی تسبیح کریں“
گویا تہجد کے علاوہ بھی رات کے مختلف حصوں میں حضور ﷺ کو تسبیح وتحمید کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ ابتدائی دور کی ان سورتوں میں جن اوقات کو اللہ کے ذکر کے لیے مخصوص کرنے کے احکام دیے گئے ہیں ‘ بعد میں جب پانچ اوقات کی نماز فرض ہوئی تو وہی اوقات مختلف نمازوں کے اوقات قرار پائے۔ چناچہ اس حکم کے مطابق مغرب اور عشاء کی نمازیں فرض ہوئیں ‘ کیونکہ غروب آفتاب سے رات شروع ہوجاتی ہے اور عشاء کی نماز بھی رات کے ایک حصے میں ہی ادا کی جاتی ہے۔
{ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ۔ } ”اور ستاروں کے پیٹھ موڑتے وقت بھی آپ تسبیح کیجیے۔“
جب ستاروں کا قافلہ کوچ کرتا ہے تو صبح کی آمد آمد ہوتی ہے۔ اس سے صبح صادق کا وقت مراد ہے اور بعد میں اس وقت پر نماز فجر فرض ہوئی۔