43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 43:81

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ ان سے کہیے کہ اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلا اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا

آیت 81 { قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَـدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے کہ اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلا اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا۔“ کہ جب میں خدائے رحمان کو اپنا معبود مانتا ہوں اور اس کی پرستش کرتا ہوں ‘ اگر واقعتا اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو اس کی پرستش کرنے میں مجھے بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ یہ نفی کا بہت تیکھا انداز ہے۔ اس اسلوب کو ”تعلیق بالمحال“ کہا جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی ایسا ہونے کا کوئی امکان ہے ‘ اس لیے اس کی اولاد کو پوجنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ ”تعلیق بالمحال“ کا یہی اسلوب اس حدیث میں بھی پایا جاتا ہے : لَوْ عَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا 1 ”اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ صدیق نبی ہوتا۔“ ایک دفعہ ٹورنٹو کینیڈا میں ایک قادیانی نے میرے ساتھ بحث کے دوران نبوت کے تسلسل کو ثابت کرنے کے لیے اسی حدیث کا حوالہ دیا تھا۔ اس حدیث میں حضور ﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم رض کا ذکر ہے ‘ جو حضرت ماریہ قبطیہ علیہ السلام کے بطن سے پیدا ہوئے اور بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ ان کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ زندہ رہتے تو وہ نبی ہوتے۔ اللہ کی مشیت کے مطابق ان کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں تھا ‘ اس لیے نہ تو انہوں نے زندہ رہنا تھا اور نہ ہی نبوت کے سلسلے کو آگے چلنا تھا۔ بہر حال مذکورہ قادیانی نے اس حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ میں نے اس کے جواب میں دلیل کے طور پر اسی آیت کا حوالہ دیا تھا : { قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ 4 } کہ یہاں جو حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ تو کیا حضور ﷺ کا اللہ کے علاوہ کسی اور کو پوجنے کا کچھ بھی امکان تھا ؟ اس پر اس نے تسلیم کیا کہ آپ کی یہ دلیل واقعتا مضبوط ہے۔
Ayah 43:82

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب عرش کا مالک ان تمام چیزوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں

آیت 82{ سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب ‘ عرش کا مالک ‘ ان تمام چیزوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔“
Ayah 43:83

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان کو چھوڑ دیجئے یہ میں میخ نکالتے رہیں اور لہو و لعب میں پڑے رہیں یہاں تک کہ یہ ملاقات کرلیں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے

آیت 83 { فَذَرْہُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان کو چھوڑ دیجئے ‘ یہ میں میخ نکالتے رہیں اور لہو و لعب میں پڑے رہیں“ { حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ } ”یہاں تک کہ یہ ملاقات کرلیں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“
Ayah 43:84

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

اور وہی ہے جو آسمان میں بھی الٰہ ہے اور زمین میں بھی اِلٰہ ہے۔ اور وہ بہت حکمت والا ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے

آیت 84 { وَہُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰــہٌ وَّفِی الْاَرْضِ اِلٰــہٌط وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ } ”اور وہی ہے جو آسمان میں بھی الٰہ ہے اور زمین میں بھی اِلٰہ ہے۔ اور وہ بہت حکمت والا ‘ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔“ یعنی پوری کائنات میں ہر جگہ اسی کا اقتدار ہے۔ بائبل میں عیسائیوں کی جو Lords Prayer ہے اس کا مفہوم اس آیت کے بہت قریب ہیـ: Thy Kingdom come Thy will be done on Earth as it is in Heavens کہ اے اللہ ! تیری ہی سلطنت اور تیری حاکمیت قائم ہوجائے اور تیری مرضی جیسے آسمانوں پر پوری ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی پوری ہو۔ بہر حال الٰہ تو آسمانوں میں بھی وہی ہے اور زمین پر بھی وہی ہے۔ لیکن زمین پر انسانوں کو اس نے تھوڑی سی آزادی دے رکھی ہے کہ اگر کوئی انسان چاہے تو وہ نافرمانی اور ناشکری کی روش بھی اختیار کرسکتا ہے۔ بس زمین پر جو بھی فساد نظر آ رہا ہے وہ اس ”ذرا سی“ آزادی کا نتیجہ ہے۔ سورة الروم کی اس آیت میں یہی حقیقت بیان کی گئی ہے : { ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ } آیت 41 چناچہ بحر و بر میں اگر ہر جگہ فساد ہی فساد نظر آتا ہے تو وہ لوگوں کے کرتوتوں کے سبب ہے ‘ ورنہ حکومت تو زمین پر بھی اللہ ہی کی ہے۔
Ayah 43:85

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور بہت بابرکت ہے وہ ذات جس کے اختیار میں ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور ان دونوں کے درمیان کی ساری چیزوں کی اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم اور اسی کی طرف تم لوٹا دیے جائو گے

آیت 85 { وَتَبٰرَکَ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا } ”اور بہت بابرکت ہے وہ ذات جس کے اختیار میں ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور ان دونوں کے درمیان کی ساری چیزوں کی۔“ فرعون کا خدائی کا دعویٰ تو صرف مصر کی حکومت تک محدود تھا ‘ مگر اللہ کی حکومت واقعتا آسمانوں اور دنیا ومافیہا پر محیط ہے۔ { وَعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِج وَاِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم ‘ اور اسی کی طرف تم لوٹا دیے جائو گے۔“
Ayah 43:86

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور کوئی اختیار نہیں رکھتے کسی بھی شفاعت کا جن کو یہ پکار رہے ہیں اللہ کے سوا سوائے اس کے کہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں

آیت 86 { وَلَا یَمْلِکُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ } ”اور کوئی اختیار نہیں رکھتے کسی بھی شفاعت کا جن کو یہ پکار رہے ہیں اللہ کے سوا ‘ سوائے اس کے کہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں۔“ ظاہر بات ہے وہاں تو کوئی غلط بات زبان سے نہیں نکال سکے گا ‘ لہٰذا وہاں پر گواہی صرف حق ہی کی ہوگی۔
Ayah 43:87

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے تو پھر یہ کہاں سے پھیر دیے جاتے ہیں

آیت 87 { وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ } ”اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے !“ یعنی اگر آپ ان سے پوچھیں کہ خود ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ نے۔ اس فقرے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اگر آپ ان سے ان کے معبودوں کے بارے میں پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو بھی وہ جواب میں کہیں گے کہ انہیں بھی اللہ نے ہی بنایا ہے۔ { فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ } ”تو پھر یہ کہاں سے پھیر دیے جاتے ہیں !“
Ayah 43:88

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

اور قسم ہے نبی ﷺ کے اس قول کی کہ اے میرے رب ! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لا رہے

آیت 88 { وَقِیْلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَ } ”اور قسم ہے نبی ﷺ کے اس قول کی کہ اے میرے رب ! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لا رہے۔“ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کا انداز ہے جو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہاں نقل ہوا ہے کہ اے میرے پروردگار ! میری یہ قوم ہٹ دھرمی اور ضد پر اترآئی ہے۔ نہ تو یہ لوگ میری باتوں کو سنتے ہیں اور نہ ہی بطور نبی کے میری تصدیق کرنے کو تیار ہیں۔
Ayah 43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے در گزر کیجیے اور کہیے سلام ہے تو بہت جلد یہ لوگ جان جائیں گے

آیت 89 { فَاصْفَحْ عَنْہُمْ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے در گزر کیجیے“ میرے خیال کے مطابق یہ سورة 4 نبوی ﷺ سے 8 نبوی ﷺ کے درمیانی عرصے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت تک چونکہ حضور ﷺ کی دعوت کو شروع ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا ‘ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان کی طرف سے اپنا رخ پھیر لیں اور فی الحال انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ { وَقُلْ سَلٰمٌ} ”اور کہیے سلام ہے !“ اگر یہ لوگ آپ ﷺ سے الجھتے ہیں ‘ دعوت کے جواب میں آپ ﷺ سے استہزاء کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو سلام کہہ کر نظر انداز کردیں۔ سورة الفرقان میں ہم نے ”عباد الرحمن“ کی جو صفات پڑھی ہیں ان میں ایک صفت یہ بھی ہے : { وَاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۔ ”اور جب ان سے مخاطب ہوتے ہیں جاہل لوگ تو وہ ان کو سلام کہہ دیتے ہیں۔“ { فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ } ”تو بہت جلد یہ لوگ جان جائیں گے۔“ اب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب حقیقت ان پر منکشف ہوجائے گی۔ بہت جلد حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت ہونے والا ہے۔