Ayah 43:41آیت 41 { فَاِمَّا نَذْہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ } ”تو اگر ہم آپ کو لے بھی جائیں ‘ تب بھی ان سے تو ہم انتقام لے کر ہی رہیں گے۔“
اگر ہم آپ کو اپنے پاس بلا لیں تب بھی انہیں تو ان کے جرائم کی سزا مل کر ہی رہے گی۔
Ayah 43:42آیت 42 { اَوْ نُرِیَنَّکَ الَّذِیْ وَعَدْنٰہُمْ فَاِنَّا عَلَیْہِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ } ”یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم آپ ﷺ کو دکھا دیں وہ کچھ جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ‘ ہمیں یقینا ان پر پوری قدرت حاصل ہے۔“
ہم چاہیں تو آپ ﷺ کی زندگی میں ہی ان پر فیصلہ کن عذاب لے آئیں اور چاہیں تو آپ ﷺ کے بعد ان پر گرفت کریں۔
Ayah 43:43آیت 43 { فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِلَیْکَج اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ مضبوطی سے تھام لیجیے اس کو جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے ‘ یقینا آپ سیدھے راستے پر ہیں۔“
اسی فعل سے اسم الفاعل مُسْتَمْسِکُوْنَ اس سے قبل آیت 21 میں مشرکین کے حوالے سے آچکا ہے کہ کیا ان کے پاس اللہ کی دی ہوئی کوئی کتاب ہے جس کو وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ؟ پھر یہی لفظ نبی اکرم ﷺ کے خطبہحجۃ الوداع میں بھی آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمْسَکْتُمْ بِھِمَا : کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ رَسُوْلِہٖ 1 ”میں آپ لوگوں کے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ‘ اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ‘ اور وہ ہیں : اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔“
Ayah 43:44آیت 44 { وَاِنَّـہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ۔ } ”اور یہ قرآن آپ کے لیے بھی یاد دہانی ہے اور آپ کی قوم کے لیے بھی ‘ اور عنقریب آپ سب سے پوچھ گچھ ہوگی۔“
یہ قرآن گویا آپ کا وظیفہ ہے۔ آپ ﷺ اسے ہمیشہ پڑھتے رہیے اور آپ ﷺ کی قوم کی ہدایت و فلاح بھی اسی میں ہے۔
Ayah 43:45آیت 45{ وَسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُّسُلِنَآ } ”اور آپ پوچھ لیجیے ان سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اپنے رسولوں میں سے“
یعنی عالم ِارواح میں تو آپ ﷺ کی ملاقات تمام انبیاء ورسل علیہ السلام سے رہی تھی۔ معراج کے موقع پر بھی بیت المقدس میں آپ ﷺ نے تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی امامت کرائی تھی۔ آپ ان میں سے کسی سے بھی پوچھ لیجیے۔
{ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِہَۃً یُّعْبَدُوْنَ۔ } ”کیا ہم نے رحمان کے سوا کوئی اور بھی ایسے معبود بنائے ہیں کہ جن کی پوجا کی جائے ؟“
آپ جس سے بھی پوچھیں گے ایسی کوئی گواہی آپ کو نہیں ملے گی اور نہ ہی کسی نبی کی تعلیمات سے ایسی کسی بات کا کہیں سراغ ملے گا۔
Ayah 43:46آیت 46 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلاَ ئِہٖ } ”اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف“
ان سے مراد وہ ابتدائی نشانیاں ہیں جنہیں لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے دربار میں گئے تھے ‘ یعنی عصا اور ید ِبیضا۔
{ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”تو اس نے کہا کہ دیکھو میں تمام جہانوں کے پروردگار کا بھیجا ہوا ہوں۔“
Ayah 43:47آیت 47 { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِاٰیٰتِنَآ اِذَا ہُمْ مِّنْہَا یَضْحَکُوْنَ۔ } ”تو جب وہ آیا ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر تو وہ ان نشانیوں پر ہنسنے لگے۔“
Ayah 43:48آیت 48 { وَمَا نُرِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکْبَرُ مِنْ اُخْتِہَا } ”اور نہیں دکھاتے تھے ہم انہیں کوئی نشانی مگر وہ اپنی بہن اپنے جیسی پہلی نشانی سے زیادہ بڑی ہوتی تھی“
یعنی ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی مزید سات نشانیوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان میں ایک بہت بڑی نشانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جادوگروں سے مقابلہ تھا ‘ جس میں شکست کھا کر وہ ایمان لے آئے۔ مزید برآں مصر میں شدید قحط ‘ ہولناک طوفانِ باد و باراں ‘ ٹڈی دل کا خوفناک حملہ ‘ چچڑیوں اور کھٹملوں کی بہتات ‘ مینڈکوں کا امڈا ہو اسیلاب ‘ کنوئوں اور چشموں کے پانی کا خون میں تبدیل ہوجانا ‘ ایسی نشانیاں تھیں جن کا ظہور یکے بعد دیگرے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیشگی اعلان کے بعد ہوتا اور آنے والی آفت اس وقت تک نہ ٹلتی جب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام اسے ٹالنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرتے۔ ان نشانیوں کا ذکر سورة الاعراف کے سولہویں رکوع میں ہوا ہے۔
{ وَاَخَذْنٰہُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ } ”اور ہم انہیں پکڑتے رہے اس عذاب کے ذریعے ‘ شاید کہ وہ باز آجائیں۔“
یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص اصول اور قانون ہے کہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بڑے عذاب سے پہلے ان پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے ہیں۔ اس اصول کا ذکر سورة السجدۃ میں اس طرح ہوا ہے : { وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ۔ } ”اور ہم لازماً چکھائیں گے انہیں مزہ چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے ‘ شاید کہ یہ لوگ پلٹ آئیں“۔ نوٹ کیجیے ان دونوں آیات کے اختتامی الفاظ ایک سے ہیں۔
Ayah 43:49آیت 49 { وَقَالُوْا یٰٓاَیُّہَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ } ”اور ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے : اے جادوگر ! تم اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو اس عہد کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے۔“
سورة الاعراف میں یہ واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ جب وہ لوگ ایک عذاب سے تنگ آجاتے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کرتے اور وعدہ کرتے کہ اگر ہماری یہ تکلیف دور ہوگئی تو :
{ اِنَّنَا لَمُہْتَدُوْنَ } ”ہم ضرور ہدایت پر آجائیں گے۔“
سورة الاعراف میں ان کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں : { لَئِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَٓائِ یْلَ۔ } ”اگر تم نے ہم سے اس عذاب کو ہٹا دیا تو ہم لازماً تمہاری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی لازماً تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔“
Ayah 43:50آیت 50 { فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِذَا ہُمْ یَنْکُثُوْنَ } ”پھر جب ہم دور کردیتے تھے ان سے وہ عذاب تو اسی وقت وہ وعدے سے پھرجاتے تھے۔“
Ayah 43:51آیت 51 { وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ } ”اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا“
{ قَالَ یٰـــقَوْمِ اَلَـیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ } ”اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟“
نوٹ کیجیے ! یہ سیاسی شرک شرک کی بد ترین قسم ہے۔ حاکمیت صرف اللہ کی ہے ‘ اس کے علاوہ جو کوئی بھی حاکمیت کا مدعی ہو ‘ چاہے وہ ایک فرد ہو ‘ ایک قوم ہو یا پوری نسل انسانی ‘ وہ اللہ کے ساتھ برابری کا دعویدار ہے۔ اور فرعون نے خدائی کا دعویٰ اسی مدعیت کے ساتھ اور اسی مفہوم میں کیا تھا ‘ ورنہ وہ زمین و آسمان کے خالق ہونے کا دعویدار تو ہرگز نہیں تھا۔ وہ خود بھی جانتا تھا کہ جس طرح تمام انسان پیدا ہوتے ہیں وہ بھی اسی طرح پیدا ہوا ہے اور سب کی نظروں کے سامنے پلابڑھا ہے۔ چناچہ اس کے خدائی کے دعوے کی اصل حقیقت یہی تھی کہ وہ حاکمیت ِمطلق کا دعویدار تھا ‘ جو کہ صرف اور صرف اللہ کا حق ہے۔
Divine Rights of the Kings کا ذکر آپ کو اہل یورپ کی تاریخ میں بھی ملے گا۔ ان کے ہاں بھی قدیم زمانے سے یہ تصور چلا آ رہا ہے کہ بادشاہوں کو خدائی اختیارات حاصل ہیں ‘ ان کا اختیار مطلق ہے ‘ وہ final legistative authority ہیں۔ ان کی مرضی ہے وہ جو چاہیں قانون بنا دیں۔ جبکہ یہ سوچ اور یہ دعویٰ بد ترین شرک ہے ‘ جسے اہل یورپ نے دور حاضر میں جمہوریت کے نام سے عوام الناس میں تقسیم کردیا ہے۔ چناچہ جو گندگی کسی زمانے میں فرعون یا نمرود کے سر پر ٹنوں کے حساب سے لدی ہوتی تھی اسے انہوں نے تولوں اور ماشوں میں تقسیم کر کے اپنے ہر شہری کی جیب میں ڈال دیا ہے ‘ کہ یہ لو ووٹ کی اس پرچی کے بل پر اب تم میں سے ہر ایک حکومت میں حصہ دار ہے۔ اب تم اپنی اکثریت کے ذریعے جو قانون چاہو بنا لو۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں اس شیطانی فریب کو خوب بےنقاب کیا ہے۔ ابلیس کا ایک مشیر اقبالؔ کے الفاظ میں دوسرے مشیر سے کہتا ہے : ؎
خیر ہے سلطانی جمہور کا غوغا کہ شر ؟r
ُتو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر !
کہ اب دنیا میں سلطانی جمہور عوام کی حکمرانی کے نام پر جو شور و غوغا اٹھا ہے وہ ابلیسی نظام کے لیے ایک بہت بڑا فتنہ اور خطرہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمارے سب ہتھکنڈوں کا توڑ ڈھونڈنے پر تلا بیٹھا ہے۔ اگر انسانوں کا بنایا ہوا عوامی حاکمیت کا یہ سکہ دنیا میں چل گیا تو ہمارا کاروبار تو ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ اس کی اس بات پر دوسرا مشیر کہتا ہے : ؎
ہوں ‘ مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر !
کہ میں اس ”فتنے“ کی اصلیت سے خوب باخبر ہوں ‘ بہر حال تشویش کی کوئی بات نہیں۔ یہ جمہوریت بھی ملوکیت ہی کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے : ؎
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر !
اصل میں جب ہم نے دیکھا کہ انسان اپنے ”بنیادی حقوق“ کے بارے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہوتا چلا جا رہا ہے تو ہم نے ”شاہی“ کو ”جمہوری“ لباس پہنا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ لو بھئی اب تو تمہارا عام شخص بھی حاکم بن گیا ہے ‘ اب تو ہر شہری کو شاہی اختیار میں سے برابر کا حصہ مل گیا ہے۔ لہٰذا سلطانی ٔ جمہور کا یہ شوشہ ہماری ”ابلیسیت“ کے لیے کوئی خطرہ نہیں بلکہ ہمارا اپنا ہی تیار کردہ منصوبہ ہے۔
ملوکیت اور جمہوریت کی حقیقت کو اس مثال سے سمجھنا چاہیے کہ گندگی تو گندگی ہی ہے چاہے ٹنوں کے حساب سے کسی ایک شخص کے سر پر لاد دی جائے یا ایک کروڑ انسانوں میں تولہ تولہ ماشہ ماشہ تقسیم کردی جائے۔ چناچہ فرعون کو اسی ”خدائی“ کا دعویٰ تھا اور اس نے اپنی ”خدائی“ کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے اعلان کیا کہ لوگو ! دیکھو کیا مصر کی حکومت میرے قبضے میں نہیں ہے ؟
{ وَہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ } ”اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟“
اس فقرے کا مفہوم ہمارے ہاں عام طور پر یوں سمجھ لیا جاتا ہے جیسے فرعون نے اپنے محل کے نیچے بہنے والے دریا کا ذکر کیا تھا ‘ جبکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ملک کے اندر آب پاشی کا پورا نظام جس پر تمہاری معیشت کا انحصار ہے ‘ میرے حکم کے تابع ہے۔ میں جسے چاہوں اور جس قدر چاہوں پانی مہیا کروں۔ جس کو چاہوں کم پانی دوں ‘ جس کو چاہوں زیادہ دوں اور جسے چاہوں پانی سے محروم کر دوں ‘ مجھے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔
{ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟“
Ayah 43:52آیت 52 { اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ہٰذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ} ”کیا میں بہتر نہیں ہوں اس سے جو ایک بےعزت آدمی ہے ؟“
میں مصر کی حکومت اور اس کے معاشی وسائل کا بلاشرکت ِغیرے مالک ہوں۔ کیا یہ موسیٰ میرا مقابلہ کرسکتا ہے جو محض ہماری محکوم قوم کا ایک فرد ہے !
{ وَّلَا یَکَادُ یُبِیْنُ۔ } ”اور صاف بات بھی نہیں کرسکتا !“
یہ خطابت پر بھی قادر نہیں ہے اور اپنا مدعا واضح طور پر بیان نہیں کرسکتا۔
Ayah 43:53آیت 53 { فَلَوْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَہَبٍ } ”تو کیوں نہیں اتارے گئے اس پر سونے کے کنگن ؟“
اگر یہ واقعی اللہ کا فرستادہ ہے تو اللہ نے اسے سونے کے کنگن کیوں نہ مہیا کیے کہ ایک بادشاہ کے مقابلے میں جا رہے ہو ‘ کم از کم یہ سونے کے کنگن ہی پہنتے جائو۔
{ اَوْ جَآئَ مَعَہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ } ”یا اس کے ساتھ فرشتے چلے آ رہے ہوتے صفیں باندھے ہوئے !“
Ayah 43:54آیت 54 { فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ } ”تو اس طرح اس نے اپنی قوم کی مت مار دی اور انہوں نے اسی کا کہنا مانا۔“
یہاں پر لفظ اِسْتَخَفَّ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے ان کو بالکل ہی خفیف اور ہلکا سمجھا۔ مراد یہ ہے کہ اس نے ان کی عقل ہی گنوا دی ‘ ان کو بیوقوف بنا لیا۔ اسی طرح آج کے سیاسی شعبدہ باز demagogs اپنے عوام کو نت نئے طریقوں سے بیوقوف بناتے ہیں۔ کوئی ان کے سامنے روٹی کپڑا اور مکان کی ڈگڈگی بجاتا ہے تو کوئی اس مقصد کے لیے کسی دوسرے نعرے کا سہارا لیتا ہے۔ بقول اقبالؔ ابلیس کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ میں جب چاہوں ہر قسم کے انسانوں کو بیوقوف بنا سکتا ہوں : ؎
کیا امامانِ سیاست ‘ کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ُ ہو !
چنانچہ جب ابلیس یا ابلیس کا کوئی چیلہ عوام الناس کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر وہ اندھوں کی طرح اپنے ”محبوب لیڈر“ کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ پھر نہ تو وہ سامنے کے حقائق کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی کسی علمی و عقلی دلیل کو لائق توجہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنے اقتدار کے رعب و داب کی ڈگڈگی بجا کر اپنی قوم کو ایسا متاثر کیا کہ وہ آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے ہولیے۔ یہاں فَاَطَاعُوْہُ کے لفظ میں ان کے اسی رویے ّکی عکاسی کی گئی ہے۔
{ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ } ”یقینا وہ لوگ خود بھی نافرمان ہی تھے۔“
Ayah 43:55آیت 55 { فَلَمَّآ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ”تو جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا ‘ پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔“
Ayah 43:56آیت 56 { فَجَعَلْنٰہُمْ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ } ”چناچہ ہم نے انہیں بنا دیا ماضی کی داستان اور بعد والوں کے لیے ایک نشان عبرت۔“
Ayah 43:57آیت 57 { وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ } ”اور جب قرآن میں ابن ِمریم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو اس پر آپ کی قوم چلانے ّلگتی ہے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر مشرکین ِمکہ ّکی چیخ و پکار ایک تو سورة الانبیاء کی اس آیت کے حوالے سے تھی : { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَط اَنْتُمْ لَہَا وٰرِدُوْنَ۔ } ”یقینا تم لوگ اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ‘ سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں اس میں پہنچ کر رہنا ہے“۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ کے سوا جتنے معبود لوگوں نے بنا رکھے ہیں اگر وہ سب جہنم کا ایندھن بنیں گے تو پھر عیسیٰ علیہ السلام ٰ بھی تو ان ہی میں شامل ہوں گے ‘ کیونکہ انہیں بھی تو دنیا میں پوجا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ کے مقابلے میں اگر فرشتوں ‘ اللہ کے مقرب بندوں ‘ ِجنات ّاور ُ بتوں وغیرہ کی پرستش کی گئی ہے تو جہنم میں جھونکے جانے کا مصداق ملائکہ ‘ انبیاء اور اولیاء اللہ تو نہیں ٹھہرتے۔ ظاہر ہے جو باطل ہوگا وہی جہنم میں جھونکا جائے گا۔ البتہ مشرکین مکہ اسی دلیل کی بنیاد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر شدت کے ساتھ چیخنا چلانا شروع کردیتے تھے۔
دوسری طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر مشرکین مکہ کے مخصوص رد عمل کا باعث ان کا حضور ﷺ کے بارے میں یہ موقف بھی تھا کہ آپ ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کی تعریف و توصیف کے پردے میں نصرانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جس طرح ہم لات و ُ عزیٰ ّوغیرہ کی پوجا کرتے ہیں اسی طرح عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کو پوجتے ہیں۔ تو ایسا کیوں ہے کہ عیسائیوں کے معبود کی تو آپ ﷺ تعریف کرتے ہیں اور ہمارے معبودوں کی مذمت ؟ اس وجہ سے وہ لوگ حضور ﷺ پر عیسائیت کو قبول کرلینے اور عیسائیت کی تبلیغ کرنے کے الزامات لگاتے تھے۔ بلکہ جب مکہ میں مسلمانوں نے نماز پڑھنا شروع کی تو مشرکین ِمکہ ّنے حضور ﷺ اور مسلمانوں پر یہ الزام بھی لگادیا کہ یہ لوگ ”صابی“ ہوگئے ہیں۔ صابی لوگ عراق میں آباد تھے اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے پیروکاروں کی نسل میں سے تھے۔ اگرچہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل دین کو تو بگاڑ دیا تھا لیکن ”نماز“ کسی نہ کسی شکل میں ان کے ہاں موجود تھی۔ چناچہ نماز کی اس مشابہت کے باعث مشرکین مکہ نے حضور ﷺ پر صابی ہونے کا الزام بھی لگایا تھا۔ بہر حال مذکورہ دو وجوہات کی بنا پر مشرکین مکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کے ذکر پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے تھے۔
Ayah 43:58آیت 58 { وَقَالُوْٓا ئَ اٰلِہَتُنَا خَیْرٌ اَمْ ہُوَ } ”اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ؟“
{ مَا ضَرَبُوْہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًاط بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ } ”یہ باتیں وہ آپ سے نہیں کرتے مگر صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔“
Ayah 43:59آیت 59 { اِنْ ہُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ وَجَعَلْنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ } ”وہ تو بس ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے خاص انعام فرمایا اور ہم نے اس کو ایک نشانی بنا دیا بنی اسرائیل کے لیے۔“
بنی اسرائیل کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں تھیں۔ آپ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے اور اپنی پیدائش کے فوراً بعد پنگھوڑے میں ہی آپ علیہ السلام نے باتیں کرنا شروع کردیں۔ اس کے علاوہ آپ کو خلق ِحیات اور احیائِ موتی ٰ سمیت اور بھی بہت سے معجزات عطا ہوئے تھے۔
Ayah 43:60آیت 60 { وَلَوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ } ”اور اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے بنا دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں۔“
Ayah 43:61آیت 61 { وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ } ”اور یقینا وہ قیامت کی ایک علامت ہے“
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ورود اوّل میں بنی اسرائیل کے لیے نشانی یعنی مجسم معجزہ تھے ‘ جبکہ اپنے ورود ثانی میں آپ علیہ السلام کا نزول قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ہوگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول اور قرب قیامت کے زمانے کی کیفیت احادیث میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔
{ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ } ”تو اس قیامت کے بارے میں تم ہرگز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“
Ayah 43:62آیت 62 { وَلَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطٰنُج اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ”اور دیکھو شیطان تمہیں روک نہ دے ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“
یعنی ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اس صراط مستقیم کی پیروی سے روک دے جس کی طرف میں بلا رہا ہوں۔ یہ مت بھولو کہ شیطان اس صراط مستقیم پر گامزن ہونے والوں کا کھلا دشمن ہے اور انہیں گمراہ کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے آزماتا ہے۔
Ayah 43:63آیت 63 { وَلَمَّا جَآئَ عِیْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ } ”اور جب آئے عیسیٰ علیہ السلام ٰ واضح نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں“
یہاں پر ”حکمت“ کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ انجیل میں ”کتاب“ شریعت نہیں تھی ‘ صرف حکمت تھی ‘ جبکہ تورات ”کتاب“ پر مشتمل تھی۔ اس میں احکامِ شریعت تو تھے ‘ حکمت نہیں تھی۔ دراصل نزول تورات کے زمانے میں نسل ِانسانی کا اجتماعی شعور ابھی اس قابل نہیں ہوا تھا کہ انہیں حکمت کی تلقین کی جاتی۔ اس لیے اس میں صرف احکام commandments دے دیے گئے تھے کہ یہ کرو اور یہ مت کرو۔ یعنی صرف اوامرو نواہی dos and donts کا ذکر کیا گیا تھا۔ حکمت کے لیے بعد میں انجیل آئی۔ البتہ قرآن میں کتاب شریعت بھی ہے اور حکمت بھی ہے۔ یعنی آخری کتاب ہونے کے حوالے سے یہ ما سبق تمام کتابوں کی جامع ہے۔
{ وَلِاُبَیِّنَ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ } ”اور تاکہ میں واضح کردوں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو ‘ پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔“
Ayah 43:64آیت 64 { اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ} ”یقینا اللہ ہی ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ پس تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“
Ayah 43:65آیت 65 { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْ } ”پھر ان میں سے کئی گروہ باہم اختلافات میں مبتلا ہوگئے۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو بڑے گروہوں کے درمیان شدید اختلافات پید اہو گئے۔ یہودی آپ علیہ السلام کی مخالفت میں اس حدتک چلے گئے کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو جادوگر ‘ مرتد اور ولد الزنا نقل کفر ‘ کفر نباشد قرار دے دیا۔ ان کے مقابلے میں عیسائیوں نے دوسری انتہا پر جا کر آپ علیہ السلام کو نعوذ باللہ اللہ کا بیٹا بنا دیا اور آپ علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ بھی گھڑ لیا کہ آپ علیہ السلام اپنے نام لیوائوں کی طرف سے خود سولی پر چڑھ گئے ہیں اور یوں آپ علیہ السلام کی یہ ”قربانی“ آپ علیہ السلام کے ہر ماننے والے کے گناہوں کا کفارہ بن گئی ہے۔ بہر حال یہ دونوں رویے ّانتہائی غلط ہیں۔
{ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ } ”پس تباہی اور بربادی ہے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک دن کے عذاب سے۔“
Ayah 43:66آیت 66 { ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ } ”یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آجائے ان پر اچانک اور انہیں خبر بھی نہ ہو !“
Ayah 43:67آیت 67 { اَلْاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍم بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ } ”بہت گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ‘ سوائے متقین کے۔“
دنیا کی تمام دوستیاں اس دن دشمنیوں میں بدل جائیں گی ‘ سوائے مومنین ِصادقین کی باہمی دوستیوں کے۔
Ayah 43:68آیت 68 { یٰـعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ } ”اُن سے کہا جائے گا : اے میرے بندو ! آج تم پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم رنجیدہ ہوگے۔“
Ayah 43:69آیت 69 { اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا مُسْلِمِیْنَ } ”یعنی وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور فرماں بردار تھے۔“
Ayah 43:70آیت 70 { اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ تُحْبَرُوْنَ } ”داخل ہو جائو جنت میں تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی ‘ تمہارا اعزازو اکرام کیا جائے گا۔“
Ayah 43:71آیت 71 { یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَہَبٍ وَّاَکْوَابٍ } ”گردش کرائے جائیں گے ان پر سونے کی طشتریاں اور پیالے۔“
{ وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُج وَاَنْتُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ } ”اور وہاں ہوگا وہ سب کچھ جس کی طلب ہوگی انسان کے نفس کو اور جس سے نگاہیں لذت حاصل کریں گی ‘ اور تم اب اس میں ہمیشہ ہمیش رہو گے۔“
جنت کے پھول ‘ باغیچے ‘ مناظر اور اہل جنت کی بیویاں غرض وہاں کی ہرچیز انتہائی حسین اور دلکش ہوگی۔
Ayah 43:72آیت 72 { وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اُن اَعمال کی بنا پر جو تم کرتے تھے۔“
یعنی جنت میں تمہارا داخلہ اور اس کی تمام نعمتیں تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہیں جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی قدر دانی اور قدر افزائی کا ایک شاہانہ انداز ہے جو قرآن میں جا بجا ملتا ہے۔ دوسری طرف بندوں کے اس اعتراف کا ذکر بھی قرآن میں تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ اس ضمن میں اہل جنت کا اعتراف سورة الاعراف میں بایں الفاظ نقل ہوا ہے : { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰٹنَا لِہٰذَاقف وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰٹنَا اللّٰہُج } آیت : 43 ”اور وہ کہیں گے ُ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ‘ اور ہم خود سے یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔“
Ayah 43:73آیت 73 { لَـکُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْہَا تَاْکُلُوْنَ } ”اس میں تمہارے لیے بکثرت پھل موجود ہیں جن میں سے تم کھاتے ہو۔“
Ayah 43:74آیت 74 { اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ } ”اس کے برعکس جو مجرم ہوں گے وہ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔“
Ayah 43:75آیت 75 { لَا یُفَتَّرُ عَنْہُمْ وَہُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ } ”وہ ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اسی میں پڑے رہیں گے بالکل ناامیدہو کر۔“
انہیں جہنم سے چھٹکارا پانے کا کوئی امکان نظر نہیں آئے گا۔
Ayah 43:76آیت 76 { وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا ہُمُ الظّٰلِمِیْنَ } ”اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔“
Ayah 43:77آیت 77 { وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ } ”اور وہ ندا کریں گے کہ اے مالک ! اب تو آپ کا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے۔“
مالک سے یہاں مراد جہنم کا داروغہ ہے۔ اہل جہنم اسے مخاطب کر کے فریاد کریں گے کہ اب ہم سے عذاب کی سختی مزید نہیں جھیلی جاتی۔ آپ اپنے رب سے کہیں کہ وہ ہمیں موت دے کر ہمارا قصہ تمام کر دے۔
{ قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ } ”وہ جواب دے گا کہ تمہیں تو اب ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔“
Ayah 43:78آیت 78 { لَقَدْ جِئْنٰـکُمْ بِالْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَکُمْ لِلْحَقِّ کٰرِہُوْنَ } ”ہم تو تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے لیکن تمہاری اکثریت حق کو ناپسند کرتی ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے تمہارے پاس سچا دین اور سچی تعلیمات پہنچا دی تھیں ‘ لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے بیزار ہی رہے ‘ جس کا نتیجہ آج تمہارے سامنے ہے۔
Ayah 43:79آیت 79 { اَمْ اَبْرَمُوْٓا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَ } ”کیا انہوں نے کوئی قطعی فیصلہ کرلیا ہے ؟ تو ہم بھی ایک قطعی فیصلہ کیے لیتے ہیں۔“
حق و باطل کی اس کشمکش میں مشرکین ِمکہ ّنے اگر حق کو نہ ماننے کا ہی فیصلہ کرلیا ہے تو پھر ہم بھی ان کے بارے میں فیصلہ کرلیتے ہیں۔
Ayah 43:80آیت 80 { اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّہُمْ وَنَجْوٰٹہُمْ } ”کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی خفیہ باتوں اور راز دارانہ مشوروں کو سنتے نہیں ہیں !“
{ بَلٰی وَرُسُلُنَا لَدَیْہِمْ یَکْتُبُوْنَ } ”کیوں نہیں ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے ایلچی ان کے پاس ہی لکھ رہے ہوتے ہیں۔“
ہماری خفیہ ایجنسی کے کارندے ہر وقت چوکنا رہتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ ساری رپورٹ تیار کرتے ہیں۔