36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا

آیت 41 { وَاٰیَۃٌ لَّہُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَہُمْ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا۔“ اس بارے میں عام رائے یہی ہے کہ اس سے خاص طور پر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی مراد ہے۔
Ayah 36:42

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لیے اسی طرح کی اور چیزیں بھی پیدا کردیں جن پر یہ لوگ سواری کرتے ہیں

آیت 42 { وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ } ”اور ہم نے ان کے لیے اسی طرح کی اور چیزیں بھی پیدا کردیں جن پر یہ لوگ سواری کرتے ہیں۔“
Ayah 36:43

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوگا اور نہ ہی وہ چھڑائے جائیں گے

آیت 43 { وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَہُمْ وَلَا ہُمْ یُنْقَذُوْنَ } ”اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں ‘ پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوگا اور نہ ہی وہ چھڑائے جائیں گے۔“
Ayah 36:44

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور فائدہ اٹھانا ہے ایک وقت ِمعین ّتک کے لیے

آیت 44 { اِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ } ”مگر یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور فائدہ اٹھانا ہے ایک وقت ِمعین ّتک کے لیے۔“ ہم نے اپنی خصوصی رحمت سے اس زمین کے ماحول کو انسانی زندگی کے لیے سازگار بنایا ہے اور اس میں انسانوں کے رہنے اور بسنے کے لیے ضرورت کا تمام سازوسامان فراہم کردیا ہے۔
Ayah 36:45

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سبق حاصل کرو اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے

آیت 45 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سبق حاصل کرو اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یہاں پر اِتَّقُوْا بچنے اور ڈرنے کے بجائے سوچنے ‘ توجہ کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس طرح نگاہوں کے سامنے سے مراد آیات آفاقیہ آلاء اللہ اور پیچھے سے مراد نسل انسانی کی پرانی تاریخ ایام اللہ ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو زیر مطالعہ سورة کی آیت 9 کی تشریح
Ayah 36:46

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر یہ اس سے اعراض ہی کرتے ہیں

آیت 46 { وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ } ”اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر یہ اس سے اعراض ہی کرتے ہیں۔“
Ayah 36:47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں دیا ہے تو یہ کافر کہتے ہیں اہل ِ ایمان سے کہ کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ! تم تو خود ہی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو !

آیت 47 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں دیا ہے“ یعنی اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے غریبوں کی حاجت روائی کرو ‘ بھوکوں کو کھلائو ‘ یتیموں کی سرپرستی کرو ‘ خلق ِخدا کی بہبود اور بھلائی کے دوسرے کاموں میں خرچ کرو۔ { قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآئُ اللّٰہُ اَطْعَمَہٗٓ} ”تو یہ کافر کہتے ہیں اہل ِ ایمان سے کہ کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا !“ اس کے جواب میں ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے۔ وہ اگر چاہتا کہ یہ لوگ بھوکے نہ رہیں تو وہ انہیں خود ہی وافر رزق عطا کردیتا ‘ لیکن اگر اللہ نے انہیں ان کی ضروریات کے مطابق رزق نہیں دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود انہیں اسی حالت میں رکھنا چاہتا ہے۔ تو کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ نے ہی کھلانا نہیں چاہا ؟ { اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”تم تو خود ہی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو !“ یہ جواب ہے ان کافروں کا نصیحت کرنے والوں کو کہ تم لوگ ہمیں کیا نصیحتیں کرتے ہو ‘ تمہاری تو مت ماری گئی ہے ‘ تم تو خود بھٹکے ہوئے ہو ‘ تمہاری یہ بات اور نصیحت عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ خوشحال لوگ غرباء و مساکین کا خیال رکھیں اور بھوکوں کو کھانا کھلائیں۔
Ayah 36:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم لوگ سچے ہو !

آیت 48 { وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ‘ اگر تم لوگ سچے ہو !“ یہاں وعدے سے قیامت کا وعدہ بھی مراد ہوسکتا ہے اور عذاب آنے کا وعدہ بھی۔ یعنی آپ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ ایمان نہ لانے کی پاداش میں ہم پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا۔ چناچہ ہم آپ کی دعوت کا انکار تو کرچکے ہیں ‘ اب وہ عذاب ہم پر آخر کب آئے گا ؟ یا اگر قیامت کے بارے میں آپ کا دعویٰ سچا ہے تو ذرا یہ بھی بتادیں کہ قیامت آخر کب برپا ہوگی ؟
Ayah 36:49

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ لوگ نہیں انتظار کر رہے مگر ایک چنگھاڑ کا وہ انہیں آپکڑے گی اور یہ (اسی طرح) جھگڑ رہے ہوں گے

آیت 49 { مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُہُمْ وَہُمْ یَخِصِّمُوْنَ } ”یہ لوگ نہیں انتظار کر رہے مگر ایک چنگھاڑ کا ‘ وہ انہیں آپکڑے گی اور یہ اسی طرح جھگڑ رہے ہوں گے۔“
Ayah 36:50

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر نہ تو وہ کوئی وصیت ہی کرسکیں گے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جاسکیں گے۔ وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی تو جبھی وہ سب بجھ کر رہ گئے

آیت 50 { فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلَآ اِلٰٓی اَہْلِہِمْ یَرْجِعُوْنَ } ”پھر نہ تو وہ کوئی وصیت ہی کرسکیں گے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جاسکیں گے۔“ وہ معاملہ اس قدر اچانک ہوگا کہ جو کوئی جس حالت میں ہوگا اسی حالت میں اس کا شکار ہوجائے گا۔ قبل ازیں اسی سورت میں اس منظر اور کیفیت کا ایک نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے : { اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ خٰمِدُوْنَ } ”وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی ‘ تو جبھی وہ سب بجھ کر رہ گئے۔“
Ayah 36:51

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا تو وہ یکایک قبروں سے (نکل کر) اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے

آیت 51 { وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا ہُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ } ”اور صور پھونکا جائے گا تو وہ یکایک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔“ وہ چار ونا چار ‘ کشاں کشاں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لیے بھاگے چلے جا رہے ہوں گے۔
Ayah 36:52

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! ہمیں کس نے اٹھا دیا ہماری قبروں سے ؟ پھر خود ہی کہیں گے :) ارے یہ تو وہی (دن) ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

آیت 52 { قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنم بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَاسکۃ } ”وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! ہمیں کس نے اٹھا دیا ہماری قبروں سے ؟“ { ہٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ } ”پھر خود ہی کہیں گے : ارے یہ تو وہی دن ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔“ پیغمبروں نے بعث بعد الموت کے بارے میں جو خبریں دی تھیں وہ سب کی سب سچ ثابت ہوئیں اور آج واقعی وہ دن آن پہنچا ہے جس کے بارے میں وہ ہمیں بار بار یاد دہانی کرایا کرتے تھے۔
Ayah 36:53

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

پھر) ایک ہی چنگھاڑ ہوگی تو (اس کے نتیجے میں) وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کردیے جائیں گے

آیت 53 { اِنْ کَانَتْ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ } ”پھر ایک ہی چنگھاڑ ہوگی تو اس کے نتیجے میں وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کردیے جائیں گے۔“
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پس آج کے دن کسی جان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں بدلے میں نہیں دیا جائے گا مگر وہی کچھ جو تم عمل کرتے رہے تھے

آیت 54 { فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّلَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”پس آج کے دن کسی جان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں بدلے میں نہیں دیا جائے گا مگر وہی کچھ جو تم عمل کرتے رہے تھے۔“
Ayah 36:55

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

یقینا اہل ِجنت اس دن مزے کرنے میں مشغول ہوں گے

آیت 55 { اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰـکِہُوْنَ } ”یقینا اہل ِجنت اس دن مزے کرنے میں مشغول ہوں گے۔“
Ayah 36:56

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں سائے میں تختوں کے اوپر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔

آیت 56 { ہُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ مُتَّکِئُوْنَ } ”وہ اور ان کی بیویاں سائے میں تختوں کے اوپر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔“
Ayah 36:57

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

اس میں ان کے لیے تمام میوے ہوں گے اور ان کے لیے ہر وہ شے ہوگی جو وہ طلب کریں گے

آیت 57 { لَہُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّلَہُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ } ”اس میں ان کے لیے تمام میوے ہوں گے اور ان کے لیے ہر وہ شے ہوگی جو وہ طلب کریں گے۔“
Ayah 36:58

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

سلام کہا جائے گا ربّ ِرحیم کی طرف سے

آیت 58 { سَلٰمٌقف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ } ”سلام کہا جائے گا ربّ ِرحیم کی طرف سے۔“ جنت میں اللہ کی طرف سے ان کے لیے سلامتی کے پیغامات آتے رہیں گے۔
Ayah 36:59

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

ور (اعلان کیا جائے گا :) اے مجرمو ! آج تم الگ ہو جائو۔

آیت 59 { وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوْنَ } ”اور اعلان کیا جائے گا : اے مجرمو ! آج تم الگ ہو جائو۔“ پھر تمام کافر اور مشرک لوگوں کو چھانٹ کر الگ کرلیا جائے گا اور انہیں مخاطب کر کے پوچھا جائے گا :
Ayah 36:60

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے یہ وعدہ نہیں لے لیا تھا کہ تم شیطان کی بندگی مت کرنا بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

آیت 60 { اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰــبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَج اِنَّہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ”اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے یہ وعدہ نہیں لے لیا تھا کہ تم شیطان کی بندگی مت کرنا ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“
Ayah 36:61

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور میری ہی بندگی کرنا۔ یہی سیدھا راستہ ہے

آیت 61 { وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْط ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ} ”اور میری ہی بندگی کرنا۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“
Ayah 36:62

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور وہ تو تم میں سے بہت بڑی تعداد کو گمراہ کر کے لے گیا تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے

آیت 62 { وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلًّا کَثِیْرًاط اَفَلَمْ تَکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ } ”اور وہ تو تم میں سے بہت بڑی تعداد کو گمراہ کر کے لے گیا ‘ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے !“
Ayah 36:63

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

اب یہ جہنم حاضر ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا

آیت 63 { ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ } ”اب یہ جہنم حاضر ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا۔“
Ayah 36:64

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

آج اس میں داخل ہو جائو اپنے کفر کی وجہ سے جو تم کرتے رہے تھے

آیت 64 { اِصْلَوْہَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ } ”آج اس میں داخل ہو جائو اپنے کفر کی وجہ سے جو تم کرتے رہے تھے۔“
Ayah 36:65

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے اس کمائی کے بارے میں جو وہ کرتے رہے تھے

آیت 65 { اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ } ”آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے“ { وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”اور ان کے پائوں گواہی دیں گے اس کمائی کے بارے میں جو وہ کرتے رہے تھے۔“ مجرمین کے اپنے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ ہمارے ذریعے سے انہوں نے فلاں فلاں غلط کام کیے تھے۔
Ayah 36:66

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

ور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں پھر یہ دوڑیں راستہ پانے کے لیے لیکن کہاں دیکھ سکیں گے ؟

آیت 66 { وَلَوْ نَشَآئُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓی اَعْیُنِہِمْ } ”اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں“ { فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبْصِرُوْنَ } ”پھر یہ دوڑیں راستہ پانے کے لیے ‘ لیکن کہاں دیکھ سکیں گے ؟“
Ayah 36:67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں مسنح کردیں ان کے اپنے مقام پر تو نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں

آیت 67 { وَلَوْ نَشَآئُ لَمَسَخْنٰـہُمْ عَلٰی مَکَانَتِہِمْ } ”اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں مسنح کردیں ان کے اپنے مقام پر“ یعنی اگر اللہ چاہے تو وہ جہاں ‘ جس حالت میں ہوں وہیں پر ان کی صورتیں مسنح ہوجائیں۔ { فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّلَا یَرْجِعُوْنَ } ”تو نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔“
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کی ِخلقت میں ضعف پیدا کردیتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟

آیت 68 { وَمَنْ نُّـعَمِّرْہُ نُـنَـکِّسْہُ فِی الْْخَلْقِ } ”اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کی ِخلقت میں ضعف پیدا کردیتے ہیں۔“ ظاہر ہے جب بڑھاپا آتا ہے تو انسان کے قویٰ کمزور ہوجاتے ہیں۔ ؎ مضمحل ہوگئے قویٰ غالبؔ وہ عناصر میں اعتدال کہاں ؟ { اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ } ”تو کیا یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟“
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے۔ یہ تو بس ایک یاد دہانی اور نہایت واضح قرآن ہے

آیت 69 { وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ } ”اور ہم نے ان کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے۔“ اس سے پہلے سورة الشعراء میں شعراء کے بارے میں یہ حکم ہم پڑھ آئے ہیں : { وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ } ”اور شعراء کی پیروی تو گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں“۔ سورة الشعراء کی ان آیات کے بعد اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے استثناء کا ذکر بھی فرمایا ہے ‘ لیکن شعراء اور شاعری کے بارے میں عام قاعدہ کلیہ بہر حال یہی ہے جو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اس حقیقت کا اعلان فرمادیا گیا کہ شاعری کے ساتھ ہمارے رسول ﷺ کی طبیعت کی مناسبت ہی نہیں۔ آپ ﷺ کی طبیعت میں شعر فہمی اور شعر شناسی کا ملکہ تو تھا لیکن شعر پڑھنے کا ذوق نہیں تھا ‘ اس لیے اگر آپ ﷺ کبھی کوئی شعر پڑھتے بھی تو اس کے الفاظ آگے پیچھے ہوجاتے اور شعر کا وزن خراب ہوجاتا۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے ایک شعر پڑھا اور پڑھتے ہوئے حسب معمول شعر بےوزن ہوگیا۔ حضرت ابوبکر رض پاس تھے ‘ آپ رض سن کر مسکرائے اور عرض کیا : اِنِّی اَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں“۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو شعر کی تعلیم نہیں دی تو پھر آپ ﷺ درست شعر کیونکر پڑھیں گے ! گویا آپ ﷺ کی زبان مبارک سے بےوزن شعر سن کر حضرت ابوبکر رض کو ثبوت مل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ میں شعر کے فنی رموز اور وزن وغیرہ کا ذوق پیدا ہی نہیں فرمایا۔ البتہ معنوی اعتبار سے حضور ﷺ شعر کو خوب سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃً 1… اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا 2 کہ بہت سے اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور بہت سے خطبات جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ { اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ} ”یہ تو بس ایک یاد دہانی اور نہایت واضح قرآن ہے۔“ یہ ایک صاف واضح اور روشن کلام ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

ا کہ وہ خبردار کر دے اس کو جو زندہ ہو اور کافروں پر قول واقع ہوجائے۔

آیت 70 { لِّیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا } ”تاکہ وہ خبردار کر دے اس کو جو زندہ ہو“ یہاں ”زندہ ہونے“ سے مراد روح کا زندہ ہونا ہے۔ یہ مضمون اگرچہ قبل ازیں بھی متعدد مقامات پر بیان ہوچکا ہے ‘ لیکن اس آیت میں یہ واضح ترا نداز میں آیا ہے۔ گویا کچھ انسان جیتے جی مردہ ہوتے ہیں ‘ جیسے ابوجہل اور ابو لہب بحیثیت انسان زندہ نہیں تھے ‘ وہ صرف حیوانی سطح پر زندہ تھے ‘ جبکہ ان کے اندر ان کی روحوں کی موت واقع ہوچکی تھی۔ چناچہ قرآن کا انذار صرف اسی انسان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جس کے اندر اس کی روح زندہ ہو اور اس کی فطرت مسنح نہ ہوچکی ہو۔ یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں عام طور پر لفظ ”فطرت“ کے مترادف کے طور پر ”خلقت“ کا لفظ استعمال کرلیا جاتا ہے اور اسی کو فارسی زبان میں ”سرشت“ بھی کہتے ہیں۔ لیکن زیر بحث مضمون کی وضاحت کے لیے جس سیاق وسباق میں لفظ ”فطرت“ کا حوالہ آیا ہے اس کا مفہوم لفظ ِ ”خلقت“ سے یکسر مختلف ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ”خلقت“ کا تعلق عالم ِخلق یعنی مٹی اور زمین سے ہے ‘ اس لیے یہ ضعف اور خامیوں سے عبارت ہے۔ مثلاً قرآن کے مطابق انسان کمزور النساء : 28 بھی ہے اور جلد باز بنی اسرائیل : 11 بھی۔ گویا انسانی خلقت میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس انسانی ”فطرت“ کا تعلق ”روح“ سے ہے جو اللہ کی طرف سے انسان میں پھونکی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَاط } الروم : 30 ”یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے“۔ چناچہ فطرت کمزوریوں اور خامیوں سے پاک ہے ‘ کیونکہ اس کا تعلق عالم امر یا عالم ِبالا سے ہے۔ { وَّیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ } ”اور کافروں پر قول واقع ہوجائے۔“ یعنی ان پر حجت تمام ہوجائے اور وہ عذاب کے مستحق ہوجائیں۔
Ayah 36:71

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کردیے جن کے اب یہ مالک بنے پھرتے ہیں

آیت 71 { اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَہُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَآ اَنْعَامًا فَہُمْ لَہَا مٰـلِکُوْنَ } ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کردیے ‘ جن کے اب یہ مالک بنے پھرتے ہیں۔“ یہ میری بھینس ہے ‘ میں اس کا مالک ہوں ! یہ اس کی گائے ہے ! یہ فلاں کا گھوڑا ہے ! بکریوں کے ریوڑ کا مالک فلاں ہے ! گویا یہ لوگ بڑے فخر سے ان مویشیوں اور چوپایوں پر اپنا حق ملکیت جتاتے ہیں ‘ لیکن یہ حقیقت وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہیں تخلیق تو اللہ نے ہی کیا ہے۔
Ayah 36:72

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان (مویشیوں) کو ان کا مطیع کردیا ہے تو ان میں سے بعض پر وہ سوار ہوتے ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں

آیت 72 { وَذَلَّلْنٰہَا لَہُمْ فَمِنْہَا رَکُوْبُہُمْ وَمِنْہَا یَاْکُلُوْنَ } ”اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کا مطیع کردیا ہے تو ان میں سے بعض پر وہ سوار ہوتے ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔“ انسان سے کئی کئی گنا زیادہ طاقتور جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر اس کے تابع کردیا ہے۔ چناچہ کئی جانور تو ایسے ہیں جن کو انسان سواری اور باربرداری کے کام میں لاتا ہے اور کئی وہ ہیں جن کے گوشت سے اس کی غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔
Ayah 36:73

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان کے لیے ان میں بہت سی منفعتیں اور پینے کی جگہیں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے !

آیت 73 { وَلَہُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُط اَفَلَا یَشْکُرُوْنَ } ”اور ان کے لیے ان میں بہت سی منفعتیں اور پینے کی جگہیں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے !“ انسانی زندگی میں جانوروں کی اہمیت اور افادیت کے بہت سے دوسرے پہلو بھی ہیں۔ باربرداری کی خدمات اور غذائی ضروریات کے علاوہ ان کی اون اور کھالوں سے انسانی استعمال کی بیشمار چیزیں بنتی ہیں۔ اور اب تو ان جانوروں کی کوئی ایک چیز بھی ضائع نہیں جاتی ‘ حتیٰ کہ ان کے خون اور گوبر کو بھی مختلف طریقوں سے استعمال کرلیا جاتا ہے۔ ”مشَارِب“ جمع ہے اور اس کا واحد ”مشرب“ ہے جس کے معنی پینے کی جگہ اور گھاٹ کے ہیں۔ گویا دودھ دینے والے جانور اور ان جانوروں کے تھن انسان کے لیے ”مشرب“ یعنی دودھ کے گھاٹ ہیں۔ دودھ ایک بہترین مشروب اور انسانی زندگی کے لیے بیحد مفید غذا ہے۔ جانوروں سے حاصل ہونے والی اس ایک نعمت پر ہی انسان اللہ کا شکر ادا کرنا چاہے تو اس کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ اسماعیل میرٹھی صاحب نے یہ انتہائی اہم اور سنجیدہ بات کتنے سادہ انداز میں بچوں کی زبان میں کہہ دی ہے : ؎ رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی اس مالک کو کیوں نہ پکاریں جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں !
Ayah 36:74

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود گھڑ لیے ہیں شاید کہ ان کی مدد کی جائے

آیت 74 { وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْصَرُوْنَ } ”اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود گھڑ لیے ہیں ‘ شاید کہ ان کی مدد کی جائے۔“ انہیں امید ہے کہ اللہ کے ہاں ان معبودوں کی سفارش سے وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں گے۔
Ayah 36:75

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ ہرگز کوئی استطاعت نہیں رکھتے ان کی مدد کی ل کہ یہ تو خود ہوں گے ان کے پکڑے ہوئے قیدی

آیت 75 { لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَہُمْ } ”وہ ہرگز کوئی استطاعت نہیں رکھتے ان کی مدد کی“ { وَہُمْ لَہُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ } ”بلکہ یہ تو خود ہوں گے ان کے پکڑے ہوئے قیدی۔“ یعنی جنہیں یہ لوگ پوجتے تھے وہی انہیں پکڑ پکڑ کر اللہ کے حضور پیش کریں گے اور کہیں گے : اے اللہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ہمارے ساتھ یہ ظلم کیا تھا کہ ہمیں تیرا شریک ٹھہراتے رہے۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) ان کی بات آپ کو رنجیدہ نہ کرے۔ ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ چھپا رہے ہیں اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں

آیت 76 { فَلَا یَحْزُنْکَ قَوْلُہُمْ } ”تو اے نبی ﷺ ! ان کی بات آپ کو رنجیدہ نہ کرے۔“ آپ ﷺ ان کی باتوں سے رنجیدہ اور دل گرفتہ نہ ہوں۔ { اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ } ”ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ چھپا رہے ہیں اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں۔“
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

تو کیا انسان نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اسے بنایا ہے ایک قطرہ سے تو اب یہ بن گیا ہے کھلا جھگڑنے والا !

آیت 77 { اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ} ”تو کیا انسان نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اسے بنایا ہے ایک قطرہ سے ‘ تو اب یہ بن گیا ہے کھلا جھگڑنے والا !“ اب اس کی دیدہ دلیری کا یہ عالم َہے کہ یہ ہماری آیات پر اعتراض کرتا ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ کج بحثی کرتا ہے۔
Ayah 36:78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور یہ ہمارے بارے میں تو مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ہے ! کہتا ہے کہ کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بالکل بوسیدہ ہوچکی ہوں گی ؟

آیت 78 { وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ } ”اور یہ ہمارے بارے میں تو مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول گیا ہے !“ { قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْمٌ } ”کہتا ہے کہ کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بالکل بوسیدہ ہوچکی ہوں گی ؟“ وہ اعتراضات کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ہمارے جسموں کے اعضاء منتشر ہوجائیں گے تو کون ہمیں دوبارہ پیدا کرے گا ؟
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کا مکمل علم رکھنے والا ہے

آیت 79 { قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔“ اس اعتراض کے جواب میں یہ دلیل قرآن حکیم میں متعدد بار بیان فرمائی گئی ہے جسے معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ یعنی کسی چیز کا ابتدائی طور پر پیدا کرنا ‘ یا کسی بھی کام کا پہلی مرتبہ انجام دینا ‘ اس کا اعادہ کرنے کے مقابلے میں بظاہر زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ تو جس ہستی نے پہلی دفعہ انسان کو بنایا ہے اس کے لیے اسے دوبارہ بنانا بھلا کیونکر مشکل ہوگا ! { وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ } ”اور وہ ہر مخلوق کا مکمل علم رکھنے والا ہے۔“ کون کہاں دفن ہوا ‘ کس کے جسم کے کون کون سے اجزاء کس کس حالت میں کہاں کہاں منتشر ہوئے ‘ یہ سب معلومات اللہ تعالیٰ کے علم قدیم اور علم کامل کے اندر محفوظ ہیں۔
Ayah 36:80

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کردی تو تم اس سے آگ سلگاتے ہو

آیت 80 { الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا } ”جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کردی“ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہرے بھرے درختوں کے اندر جلنے اور آگ پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔ ان کی لکڑیوں کو تم لوگ خشک کر کے جلاتے ہو اور آگ کے حوالے سے اپنی مختلف ضروریات پوری کرتے ہو۔ اس کے علاوہ اس سے بعض ایسے درخت بھی مراد ہیں جن کی سبزٹہنیوں کو رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً بانس کی بعض اقسام میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے صحرائوں میں خاص طور پر بعض ایسے درخت پیدا کر رکھے ہیں جن کی مدد سے مسافر ضرورت پڑنے پر آگ پیدا کرسکیں۔ جیسے کہ عرب کے صحرائوں میں مرخ اور عفار نامی دو درخت پائے جاتے تھے ‘ جن کی سبز شاخوں کو آپس میں رگڑکر آگ پیدا کی جاسکتی تھی۔ { فَاِذَآ اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ } ”تو تم اس سے آگ سلگاتے ہو۔“