28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر (ایک دن) وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ باٹھ میں کہا ان لوگوں نے جو خواہش مند تھے دنیا ہی کی زندگی کے کہ کاش یہ سب کچھ ہمارے لیے بھی ہوتا جو قارون کو ملا ہے یقیناً وہ بہت بڑے نصیب والا ہے

آیت 79 فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ ط ” اپنی قوم پر رعب جمانے کے لیے وہ اپنے َ خدم و حشم کے ساتھ اپنی دولت اور آرائش و زیبائش کا اظہار کرتے ہوئے نکلا۔ چناچہ اس کی شان و شوکت کو دیکھ کر : قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ قَارُوْنُلا ” وہ لوگ جو دنیوی زندگی ہی کے طالب تھے ‘ اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر اندر ہی اندر اپنی محرومیوں پر پچھتاتے اور اس کی خوش نصیبی کی داد دیتے رہے کہ : اِنَّہٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ ” دنیا پرست اور ظاہر بین لوگوں کی نظر میں تو کسی شخص کی کامیابی اور خوش بختی کا معیار یہی ہے کہ اس کے پاس کس قدردولت ہے۔ یہ دولت اس نے کہاں سے حاصل کی ہے اور کیسے حاصل کی ہے اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جنہیں علم عطا ہو اتھا افسوس ہے تم پر ! اللہ کا (عطا کردہ) ثواب (اس سے) کہیں بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے اور وہ نہیں ملے گا مگر ان لوگوں کو جو صبر کرنے والے ہیں

آیت 80 وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ” جیسا کہ قبل ازیں آیت 76 کے ضمن میں بھی بیان ہوچکا ہے کہ اس معاشرے میں کچھ نیک سرشت لوگ اور اصحاب علم و فہم بھی تھے جنہیں دنیوی زندگی کے ٹھاٹھ باٹھ اور زیب وزینت کی اصل حقیقت معلوم تھی۔ ایسے لوگوں نے قارون کے ٹھاٹھ باٹھ سے متاثر ہونے والے لوگوں کو سمجھاتے ہوئے کہا : وَیْلَکُمْ ثَوَاب اللّٰہِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ج ” یعنی تم خواہ مخواہ اس کی شان و شوکت کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہو۔ اگر تم حقیقی ایمان اور عمل صالح کی شرائط پر پورے اترو تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں جن نعمتوں سے نوازے گا وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہوں گی۔ سورة النور کی آیت 55 میں اس ضمن میں اللہ کے وعدے کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے : وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ۔۔ ”اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے حقیقی طور پر ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں کہ انہیں وہ زمین میں ضرور حکومت و خلافت سے نوازے گا۔۔“ اس کے بعد آخرت میں ایسے لوگوں کو جو اجر وثواب ملنے والا ہے اور جنت میں ان پر جن نعمتوں کی بارش ہونے والی ہے اس کا تو اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ وَلَا یُلَقّٰٹہَآ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ ” آخرت کا وہ اجر وثواب صرف انہی لوگوں کو حاصل ہوگا جو دنیا میں صبر و قناعت سے گزر بسر کرتے رہے اور اپنی ضروریات سے زیادہ کی ہوس سے بچتے رہے۔ اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : مَا قَلَّ وَ کَفٰی خَیْرٌ مِمَّا کَثُرَ وَاَلْھٰی 1 ”جو چیز کم ہو لیکن بقدر کفایت ہو وہ اس سے بہتر ہے جو بہت زیادہ ہو لیکن غفلت میں مبتلا کر دے“۔ کیونکہ دولت کی بہتات ہوگی تو اس کے سبب انسان غفلت کا شکار ہوجائے گا۔ اس کے مقابلے میں اگر آج کا کھانا کھا کر آدمی کل کے کھانے کے لیے اللہ پر توکلّ کرے گا تو وہ اللہ کو بھول نہیں پائے گا۔
Ayah 28:81

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

تو ہم نے اسے اور اس کے محل کو زمین میں دھنسا دیا تو اس کے لیے نہ تو کوئی ایسا لشکر تھا جو اس کی مدد کرتا اللہ کے مقابلے میں اور نہ وہ خود اس قابل تھا کہ بدلہ لینے والوں میں ہوتا

آیت 81 فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَقف ” چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون ”خسف فی الارض“ کے عذاب کا شکار ہوگیا۔ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ ” وہ اپنے لاؤ لشکر اور تمام تر جاہ و جلال کے باوجود اس قابل نہ تھا کہ معاذ اللہ ! اللہ سے اپنی بربادی کا انتقام لے سکتا۔
Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کل اس کے مرتبے کی تمنا کی تھی اب وہ یوں کہہ رہے تھے ہائے افسوس ! اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کا چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہی تنگ کرتا ہے اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا افسوس ! کہ کافر بالکل فلاح نہیں پائیں گے

وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ ج ” تصور کریں کہ اگر رات کو یہ واقعہ ہوا ہوگا تو صبح ہوتے ہی ہر طرف دھوم مچ گئی ہوگی۔ چناچہ وہی لوگ جو کل قارون کی آن بان کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے اب وہ اس خوفناک انجام سے بچ جانے پر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہائے افسوس ‘ ہم بھول گئے تھے کہ رزق کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضۂ قدرت میں رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔ لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا ط ” یعنی ہم نے بھی اس جیسی دولت اور شان و شوکت کی خواہش کی تھی ‘ اس لیے عین ممکن تھا ہمیں بھی وہی سزا ملتی ‘ مگر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں اس انجام سے بچا لیا۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کرتے ہیں جو نہ تو زمین میں اقتدار و اختیار کے خواہاں ہیں اور نہ ہی فساد مچانا چاہتے ہیں اور آخرت کی زندگی تو ہے ہی اہل تقویٰ کے لیے

آیت 83 تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ط ” دراصل یہاں پر اقتدار کی طلب اور ہوس کی مذمت ہے نہ کہ بوقت ضرورت اقتدار کی ذمہ داری سنبھالنے کی۔ جیسے حضور ﷺ کی انقلابی جدوجہدّ کے نتیجے میں مدینہ کی چھوٹی سی ریاست وجود میں آگئی تو آپ ﷺ کو اس کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنا پڑی۔ لیکن نہ تو آپ ﷺ کی جدوجہد کا مقصد حصول اقتدار تھا اور نہ ہی آپ ﷺ اس کے خواہش مند تھے۔ چناچہ اقتدار کا خواہش مند ہونے اور اقتدار کی ذمہ داری نبھانے کے لیے آمادہ ہوجانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر واضح کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اس کے دین کی سر بلندی کے لیے جدوجہد میں خود کو کھپا رہے ہیں۔ لیکن اس کٹھن راستے کے مسافروں کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اگر اس جدوجہد کے دوران میں دل کے کسی گوشے میں ہوس اقتدار کی کوئی کو نپل پھوٹ پڑی یا اپنا نام اونچا کرنے کی خواہش نے نفس کے کسی کونے میں جڑ پکڑ لی تو اللہ کے ہاں ایسا ”مجاہد“ نااہل disqualified قرار پائے گا اور اس کی ہر ”جدوجہد“ مستردکر دی جائے گی۔ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ” آخرت کی نعمتوں اور اس کے عیش و آرام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔
Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے بدلہ ہوگا اس سے بہتر اور جو کوئیُ برائی لے کر آئے گا تو برائیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر وہی کہ جو کچھ وہ کرکے لائیں گے

آیت 84 مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْہَا ج ” سورۃ النمل کی آیت 89 میں بھی یہ مضمون بالکل ان ہی الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ وَمَنْ جَآء بالسَّیِّءَۃِ فَلَا یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ” مطلب یہ کہ برائی کی سزا برائی کے عین مطابق دی جائے گی ‘ اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ لیکن نیکوکاروں کے لیے ان کی نیکیوں میں اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے دس گنا سے سات سو گنا تک اضافہ کردیا جائے گا ‘ بلکہ غور کیا جائے تو ”خَیْرٌ مِّنْہَا“ کی کوئی حد اور انتہا مقرر نہیں۔ جیسا کہ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا ہے : وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ”اور اللہ جس کے لیے جتنا چاہے گا بڑھا دے گا۔ اور اللہ بہت وسعت والا خوب جاننے والا ہے“۔ بہر حال ”خَیْرٌ مِّنْہَا“ کے الفاظ میں سب سے نچلی سطح پر بھی یہ بشارت موجود ہے کہ تم جیسی بھی کوئی نیکی کر کے لے جاؤ گے وہاں اس کا اجر اس سے بہتر ہی ملے گا۔
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) یقیناً جس نے آپ پر قرآن کی ذمہ داری ڈالی ہے وہ آپ کو پہنچا کے رہے گا ایک بہت اچھی لوٹنے کی جگہ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کون ہدایت لے کر آیا ہے اور کون ہے جو کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے

آیت 85 اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ط ” یہاں پر فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ کے حوالے سے سورة النمل کی آیت 92 کے یہ الفاظ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں : وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم لوگوں کو قرآن سناتا رہوں۔ قرآن ہی کے ذریعے سے انذار ‘ تبشیر اور تبلیغ کا فرض ادا کرتا رہوں اور اسی کی مدد سے تمہارے نفسانی اور روحانی امراض کی شفا کے لیے کوشاں رہوں۔ گویا سورة النمل کی مذکورہ آیت میں قرآن پڑھ کر سنانے کے جس حکم کا ذکر ہے اسی کی تعبیر یہاں آیت زیر مطالعہ میں فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ کے الفاظ میں کی گئی ہے۔ یعنی قرآن کی تبلیغ و اشاعت کی ذمہ داری آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے فرض کردی ہے۔ سورة المائدۃ کی آیت 67 میں آپ ﷺ کی اس ذمہ داری کا ذکر اس طرح فرمایا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰلَتَہٗ ط ”اے رسول ﷺ پہنچا دیجیے جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ ﷺ کی طرف آپ ﷺ کے رب کی جانب سے۔ اور اگر بالفرض آپ ﷺ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ ﷺ نے اس کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ بھاری ذمہ داری اپنی امت کو منتقل کردی اور اس سلسلے میں حکم دیا : فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَاءِبَ ”پس جو حاضر ہے وہ اس تک پہنچا دے جو حاضر نہیں ہے“۔ گویا یہ آپ ﷺ کا حکم ہے کہ آپ ﷺ کا ہر امتی اپنی استطاعت کے مطابق تبلیغ دین کا یہ فریضہ لازماً ادا کرے۔ اس حکم کے ذریعے آپ ﷺ نے اپنے ”فریضۂ رسالت“ کا سلسلہ قیام قیامت تک دراز فرما دیا۔ چناچہ اس امت کے افراد ہونے کے ناتے سے اب یہ ذمہ داری ہم میں سے ہر ایک پر عائد ہوتی ہے۔ میں نے اپنے کتابچے ”مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق“ میں اس ذمہ داری کے مختلف پہلوؤں کی تفصیل بیان کی ہے۔ اس لحاظ سے اس ذمہ داری کے پانچ پہلو ہیں ‘ یا یوں سمجھئے کہ قرآن کے یہ پانچ بنیادی حقوق ہیں جو ہم میں سے فرداً فرداً سب کے ذمہ ہیں۔ یعنی : 1 قرآن پر ایمان لانا ‘ جیسا کہ اس پر ایمان لانے کا حق ہے۔ 2 قرآن کی تلاوت کرنا ‘ جیسا کہ اس کی تلاوت کرنے کا حق ہے۔ 3 قرآن کو سمجھنا ‘ جیسا کہ اسے سمجھنے کا حق ہے۔ 4 قرآن پر عمل کرنا ‘ جیسا کہ اس کا حق ہے۔ اور 5 قرآن کی تبلیغ کرنا اور اسے دوسروں تک پہچانا ‘ جیسا کہ اس کا حق ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں اسی ذمہ داری کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کو خوشخبری سنائی گئی ہے کہ اے نبی ﷺ ! جس اللہ نے آپ پر قرآن کی یہ بھاری ذمہ داری ڈالی ہے وہ یقیناً آپ کو لوٹائے گا لوٹنے کی بہت اچھی جگہ پر۔ مَعَاد اسم ظرف ہے عاد یَعُوْدُ سے ‘ یعنی لوٹنے کی جگہ۔ اس سے مراد آخرت بھی لی جاتی ہے اور اسی لیے ایمان بالآخرت کو ”ایمان بالمعاد“ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس آیت کے حوالے سے ایک رائے یہ ہے کہ یہاں ”مَعاد“ سے مراد ”مکہ“ ہے اور ان الفاظ میں گویا ہجرت کے موقع پر حضور ﷺ کو خوشخبری سنائی گئی تھی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مکہ کی طرف لوٹادے گا۔ اس سلسلے میں جو روایات ملتی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہجرت کے دوران جب آپ ﷺ غار ثور میں تین راتیں گزارنے کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو چونکہ تعاقب کا اندیشہ تھا اس لیے آپ ﷺ نے احتیاطاً ایک ایسا غیر معروف پہاڑی راستہ اختیار فرمایا جو آگے جا کر مکہ سے مدینہ جانے والے معروف راستے سے مل جاتا تھا۔ چناچہ آپ ﷺ چلتے چلتے جب اس معروف راستے پر پہنچے تو وہاں آپ ﷺ کے لیے بڑی جذباتی اور رقت آمیز صورت حال پیدا ہوگئی۔ آپ ﷺ راستوں کے ملاپ کی جگہ T پر کھڑے تھے۔ دائیں طرف کا راستہ مدینہ کو جاتا تھا جبکہ بائیں جانب مکہ تھا۔ اس وقت مکہ اور خانہ کعبہ کی جدائی کے غم میں آپ ﷺ کے دل سے ایک ہوک اٹھی۔ چناچہ آپ ﷺ کی اس کیفیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے آپ کے اطمینان کے لیے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ ﷺ دل گرفتہ نہ ہوں ‘ ہم آپ ﷺ کو ضرور مکہ واپس لے کر آئیں گے۔ اگرچہ اب تو آپ ﷺ وہاں سے مجبور ہو کر نکلے ہیں لیکن عنقریب ہم آپ ﷺ کو ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل کرنے والے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق ایسی ہی کیفیت آپ ﷺ پر مکہ سے روانگی کے وقت بھی طاری ہوئی تھی اور آپ ﷺ نے کعبہ سے لپٹ کر فرمایا تھا : اے کعبۃ اللہ ! مجھے تجھ سے بہت محبت ہے ‘ مگر میں کیا کروں ‘ یہاں کے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ بہر حال میرے نزدیک اس آیت کا اصل مفہوم یہی ہے کہ یہاں ”مَعاد“ سے مراد آخرت اور جنت ہے۔ جیسا کہ سورة الضحیٰ میں بھی فرمایا گیا ہے : وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی ”اور اے نبی ﷺ ! یقیناً آخرت آپ ﷺ کے لیے اس دنیا کی زندگی سے بہتر ہوگی“۔ اس معنی میں یہاں پر ”مَعاد“ بطور اسم نکرہ گویا ”تفخیم شان“ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی لوٹنے کی وہ جگہ بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ ہوگی۔ اس مفہوم کی مزید وضاحت سورة بنی اسرائیل کی اس آیت میں بھی ملتی ہے : عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ”اُمید ہے کہ آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا“۔ آیت زیر مطالعہ میں اسی ”مقام محمود“ کی طرف اشارہ ہے۔ اور اس مقام معاد کی شان کیسی ہوگی ؟ کسی انسان کے لیے اس کا تصور بھی محال ہے۔
Ayah 28:86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) آپ کو تو کوئی توقع نہیں تھی کہ آپ پر کتاب القا کی جائے گی یہ تو محض آپ ﷺ کے رب کی رحمت سے ہے پس آپ ﷺ کافروں کے پشت پناہ نہ بنیں

آیت 86 وَمَا کُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ یُّلْقٰٓی اِلَیْکَ الْکِتٰبُ ” اس سے ملتا جلتا مضمون سورة النمل میں بھی آیا ہے : وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ ”اے نبی ﷺ ! قرآن تو یقیناً ایک حکیم اور علیم ہستی کی طرف سے آپ پر القا کیا گیا ہے“۔ ظاہر ہے کہ بعثت سے پہلے نہ تو آپ ﷺ اس بات کے امیدوار تھے کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا جائے اور نہ ہی آپ ﷺ اس کے لیے کوشاں تھے۔ اس سے پہلے آپ ﷺ کی زندگی ایک صادق و امین ‘ شریف النفس انسان اور ایک ایماندار تاجر کی زندگی تھی۔ اور جو تاجر آپ ﷺ کی اس تاجرانہ زندگی کا اتباع کرتا ہے اس کے لیے آپ ﷺ نے بایں الفاظ بشارت فرمائی ہے : اَلتَّاجِرُ الصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَاءِ 1 یعنی وہ تاجر جو بالکل سچا ہو ‘ اپنے معاملات میں جھوٹ کی آمیزش نہ ہونے دے اور امانت دار ہو ‘ وہ قیامت کے روز انبیاء ‘ صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ” یہ تو سراسر اللہ کی رحمت ‘ اس کی عطا اور مہربانی ہے کہ اس نے آپ ﷺ کو نبوت کے لیے چنا ہے اور آپ ﷺ کو یہ کتاب عطا فرمائی ہے۔ فَلَا تَکُوْنَنَّ ظَہِیْرًا لِّلْکٰفِرِیْنَ ” اس جملے کا درست مفہوم سمجھنے کے لیے سورة النساء کے سولہویں 16 رکوع کا مضمون پیش نظر رہنا چاہیے۔ اس رکوع میں حضور ﷺ کے سامنے پیش ہونے والے ایک مقدمے پر تبصرہ ہوا ہے۔ یہ ایک منافق کا مقدمہ تھا جس نے چوری کی تھی ‘ لیکن اس کے قبیلے کے لوگوں نے قبائلی عصبیت کی بنا پر اس کی بےجا حمایت کر کے چوری کا الزام ایک یہودی کے سر تھوپنے کی کوشش کی تھی۔ چناچہ سورة النساء کی آیت 109 میں متعلقہ قبیلے کے لوگوں کو تنبیہہ کی گئی کہ آج دنیا میں تو تم لوگوں نے اس کی خوب وکالت کرلی ‘ لیکن کل قیامت کے دن ایسے مجرموں کو اللہ کی پکڑ سے کون چھڑائے گا ؟ گویا مسلمانوں کو واضح طور پر بتادیا گیا کہ حق و انصاف کے سامنے خاندانی رشتوں اور قبائلی عصبیت کی کوئی اہمیت نہیں۔ آیت زیر مطالعہ کے اس آخری جملے کا مفہوم سمجھنے کے لیے مکہّ کے اس ماحول کو بھی ذہن میں لائیے جہاں آپ ﷺ کی دعوت کے سبب معاشرہ واضح طور پر دو حصوں میں بٹتا جا رہا تھا۔ رحمی و خونی رشتے منقطع ہو رہے تھے اور دوستیاں دشمنیوں میں تبدیل ہو رہی تھیں۔ آپ ﷺ کے حقیقی چچا ابولہب نے آپ ﷺ کے ساتھ دشمنی کی انتہا کردی تھی۔ اس پس منظر میں آیت زیر مطالعہ کے اس آخری جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ اے نبی ﷺ آپ ان کافروں کے ساتھ اپنے رشتوں اور تعلقات کو بالکل کوئی اہمیت نہ دیں۔ عصبیت کا کوئی خفیف سا شائبہ بھی آپ ﷺ اپنے دل کے قریب نہ پھٹکنے دیں اور ان مشرکین کے ساتھ بالکل کوئی موافقت اور ہمدردی نہ رکھیں۔ اس سے پہلے اسی سورت القصص کی آیت 17 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بھی بالکل ایسے ہی الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ قبطی کے قتل ہوجانے کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی تو اس وقت آپ علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے عہد کیا تھا : فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ کہ میں آئندہ کبھی بھی مجرموں کا پشت پناہ نہیں بنوں گا۔ چناچہ آیت زیر نظر میں یہی حکم حضور ﷺ کو دیا جا رہا ہے کہ آپ کسی بھی حیثیت ‘ کسی بھی انداز اور کسی بھی درجے میں ان کافروں کے مددگار نہ بنیں۔
Ayah 28:87

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور وہ آپ ﷺ کو روک نہ سکیں اللہ کی آیات سے اس کے بعد کہ وہ آپ پر نازل کردی گئی ہیں اور اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہیے اور شرک (جیسے گھناؤنے جرم) کا شائبہ بھی اپنے قریب مت آنے دیجیے

آیت 87 وَلَا یَصُدُّنَّکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ ” یعنی اگر آپ ﷺ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق رکھیں گے ‘ چاہے وہ کسی ادنیٰ درجے کی قبائلی عصبیت ہی کی بنیاد پر ہو تو وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ ﷺ کی دعوت کے عمل میں رکاوٹ بنیں گے اور آپ ﷺ کو اللہ کے احکام کی تعمیل سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
Ayah 28:88

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور مت پکارئیے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ہرچیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹا دیے جاؤ گے

آیت 88 وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ 7 لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَقف ” جیسے کہ پہلے بھی کئی بار اس نکتے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس نوعیت کے احکام میں اگرچہ صیغہ واحد میں خطاب بظاہر حضور ﷺ سے ہوتا ہے لیکن حقیقت میں آپ ﷺ کی وساطت سے تمام امت مخاطب ہوتی ہے۔ کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ ط ” کیا اللہ کا چہرہ بھی ہے ؟ اور اگر اس کے چہرے کو فنا نہیں ہے تو کیا اس کے کوئی اور اعضاء بھی ہیں جن کو فنا ہے ؟ معاذ اللہ ‘ ثم معاذ اللہ ! یہ بہت اہم اور حساسّ مسئلہ ہے جس کے بارے میں پہلے بھی کئی بار بتایا جا چکا ہے۔ یہاں پھر ذہن نشین کرلیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ عالم برزخ ‘ عالم غیب اور عالم آخرت جیسے موضوعات کے بارے میں آیات سے جس قدر مفہوم سمجھ میں آجائے اسی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ ورنہ ایسے معاملات میں اگر انسان عقل اور منطق کے سہارے ایک ایک کر کے قدم آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا تو غلط راستے پر چل نکلے گا۔ حضرت ابوبکرصدیق رض کا قول ہے : العِجزُ عن درک الذّات ادراک کہ اللہ کی ذات کے بارے میں ادراک سے عجز ہی اصل ادراک ہے۔ یعنی جب انسان یہ سمجھ لے کہ میں اس کی ذات کو نہیں سمجھ سکتا تو بس یہی ادراک ہے اور یہی اللہ کی معرفت ہے۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے اپنے مکاتیب میں یہ الفاظ بار بار لکھے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ وراء الوراء ‘ ثم وراء الوراء ‘ ثم وراء الوراء ہے۔ اس بارے میں کوئی تصور بنانا انسانی ذہن کے لیے ممکن ہی نہیں۔ وَجْہَہٗسے کئی لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہستی بھی مراد لی ہے ‘ جیسے ہمارے ہاں جب یہ کہا جاتا ہے کہ میں یہ کام فلاں کے منہ کو کر رہا ہوں تو اس اس کا معنی ہوتا ہے کہ اس کی رضا جوئی کے لیے کر رہا ہوں۔ یعنی اس سے شخص کی ذات مراد ہوتی ہے نہ کہ صرف اس کا منہ یا چہرہ۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کی ذات کے علاوہ ہرچیز فانی ہے۔