Ayahs 28:39–41آیت 41 وَجَعَلْنٰہُمْ اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ج ”
یعنی فرعون اور اس کے درباری لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے والے گروہ کے پیشوا بن گئے۔
Ayah 28:42آیت 42 وَاَتْبَعْنٰہُمْ فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً ج ”
یہ لعنت رہتی دنیا تک ہر دور میں ان کا پیچھا کرتی رہے گی۔
وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ہُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ”
قیامت کے دن وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔ وہ ذلیل و خوار اور مردودو مطرود ہوں گے ‘ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردیے جائیں گے ‘ ان کی بڑی گت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیے جائیں گے۔ لفظ ”مَقْبُوْحِیْن“ میں یہ سارے معانی موجود ہیں۔
Ayahs 28:43–44آیت 44 وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَآ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ ”
اے نبی ﷺ ! طور کے دامن میں جب ہم موسیٰ علیہ السلام سے گفتگو کر رہے تھے اور انہیں منصب رسالت پر فائز کرکے فرعون کی طرف جانے کا حکم دے رہے تھے تو آپ ﷺ اس وقت وہاں پر موجود نہیں تھے۔
Ayah 28:45آیت 45 وَلٰکِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ ج ”
اہل مکہ چونکہ نبوت اور رسالت کے تصورات سے ناواقف ہیں اس لیے وہ آپ ﷺ کے دعوائے رسالت پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں ‘ لیکن اگر وہ قرآن کی فراہم کردہ معلومات پر غور کریں تو ان پر اس کے ”من جانب اللہ“ ہونے کی حقیقت عقلی طور پر بھی واضح ہوجائے گی۔ ماضی کے واقعات کی تفصیلات جب آپ ﷺ ان کو سناتے ہیں تو یہ بات خود بخود ان کی سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ یہ تمام معلومات اللہ تعالیٰ نے براہ راست بذریعہ وحی آپ ﷺ کو فراہم کی ہیں۔
وَمَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْٓ اَہْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِنَالا ”
جب آپ ﷺ ان کو مدین میں موسیٰ علیہ السلام کے پہنچنے اور شیخ مدین کے گھر میں ان کے قیام جیسے واقعات کی تفصیلات سنا رہے ہیں تو انہیں غور کرنا چاہیے کہ آپ ﷺ ان واقعات کے عینی شاہد تو نہیں تھے۔
وَلٰکِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ ”
ہم جس کو چاہتے ہیں اپنا رسول بنا کر بھیجتے ہیں ‘ اور جس کو ہم اس منصب پر فائز کرتے ہیں اس کو غیب کی خبریں ‘ ماضی و مستقبل کے واقعات کے بارے میں معلومات بھی فراہم کرتے ہیں اور ہدایت کے لیے ضروری تعلیمات بھی دیتے ہیں۔
Ayah 28:46وَلٰکِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰٹہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ ”
قریش مکہّ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک کم و بیش تین ہزار برس کا عرصہ بیت چکا تھا ‘ جس میں اس قوم کی طرف نہ کوئی نبی اور رسول آیا اور نہ ہی کوئی کتاب بھیجی گئی۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ لگاتار چلتا رہا اور انہیں زبور ‘ تورات اور متعدد صحائف بھی عطا کیے گئے۔ بلکہ بنی اسرائیل میں چودہ سو برس کا ایک عرصہ ایسا بھی گزرا جس کے دوران ان میں ایک لمحے کے لیے بھی نبوت کا وقفہ نہیں آیا۔ بہرحال ایک طویل عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنو اسماعیل علیہ السلام کو خبردار کرنے کے لیے ان کی طرف حضرت محمد ﷺ کو بطور رسول بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
Ayah 28:47فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ وَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”
اگر رسول مبعوث کیے بغیر ان پر عذاب آجاتا تو یہ لوگ عذر کرتے کہ ہمیں متنبہ کیوں نہیں کیا گیا ؟ جب ہمارے معاملے میں اتمام حجت نہیں ہوئی تو پھر یہ عذاب ہمارے اوپر کیونکر مسلط کردیا گیا ؟ یہی مضمون سورة طٰہٰ میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَلَوْ اَنَّآ اَہْلَکْنٰہُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی ”اور اگر ہم اس قرآن کے نزول سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے !“
Ayah 28:48آیت 48 فَلَمَّا جَآءَ ہُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْلَآ اُوْتِیَ مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی ط ”
یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور ید بیضا جیسے معجزے دیے گئے تھے۔ انہیں تورات تختیوں پر لکھی ہوئی ملی تھی۔ اب اگر محمد ﷺ بھی واقعی اللہ کے رسول ہیں تو انہیں ایسے معجزات کیوں نہیں دیے گئے ؟
اَوَلَمْ یَکْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ج ”
تو کیا موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو دیکھ کر فرعون اور اس کی قوم کے لوگ ایمان لے آئے تھے ؟ کیا وہ لوگ معجزات دیکھ لینے کے باوجود انکار کر کے عذاب کے مستحق نہیں ہوئے تھے ؟
قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظَاہَرَاقف ”
اس فقرے کے بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں کا قول نقل ہوا ہے کہ یہ دونوں بھائی مجسم جادو ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اور دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ لیکن ایک دوسری رائے کے مطابق یہ قرآن اور تورات کے بارے میں اہل مکہ کا تبصرہ ہے ‘ کہ یہ دونوں دراصل جادو کی کتابیں ہیں جو ایک دوسری کی تائید کررہی ہیں۔ تورات میں قرآن اور محمد ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں ہیں جبکہ قرآن موسیٰ علیہ السلام اور تورات کی تائید کر رہا ہے۔
Ayah 28:49آیت 49 قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ہُوَ اَہْدٰی مِنْہُمَآ اَتَّبِعْہُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ”
اس جملے سے بات گویا واضح ہوگئی کہ پچھلی آیت میں اہل مکہ ہی کا قول نقل ہوا ہے جس میں انہوں نے قرآن اور تورات کو ”سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا“ قرار دیا تھا۔ تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے کہ اگر قرآن اور تورات دونوں ہی آپ لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں تو پھر اللہ کی نازل کردہ کوئی ایسی کتاب پیش کرو جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو۔ اگر تم لوگ اللہ کی طرف سے نازل شدہ کسی ایسی کتاب کی نشان دہی کرو گے تو مجھے اس کی پیروی کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوگا۔ مجھے تو بہر حال حق کی پیروی کرنی ہے۔ میرے اندر ایسا کوئی تعصب نہیں کہ میں بلاوجہ اپنی ضد پر اڑ کر بیٹھ جاؤں۔ استدلال کا یہی انداز سورة الزخرف کی اس آیت میں بھی اختیار کیا گیا ہے : قُلْ اِنْ کَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کی پرستش کرنے والوں میں ہوتا“۔ کہ جب میں رحمن پر ایمان لایا ہوں ‘ اس کی عبادت کرتا ہوں ‘ تو اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو اس کی بندگی کرنے میں مجھے بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا ؟
Ayah 28:50آیت 50 فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکَ ”
آپ ﷺ کی اس دلیل کو بھی اگر یہ لوگ تسلیم نہ کریں :
Ayah 28:51آیت 51 وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ”
لوگوں کو راہ راست دکھانے کے لیے ہم مسلسل ہدایت بھیجتے رہے ہیں۔ چناچہ تورات ‘ زبور ‘ انجیل اور قرآن اسی ”سلسلۃ الذھب“ سنہری زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ یہاں پر وَصَّلْنَا کا اشارہ اہل مکہ کے ”سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا“ کے الزام کی طرف بھی ہوسکتا ہے کہ جن کتابوں کو یہ لوگ جادو قرار دے کر ان میں باہمی گٹھ جوڑ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے اندر واقعی وصل ہے ‘ اس لیے کہ وہ ایک ہی سلسلۂ ہدایت کی کڑیاں ہیں۔
Ayah 28:52آیت 52 اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ ہُمْ بِہٖ یُؤْمِنُوْنَ ”
یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دل سے مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
Ayah 28:53اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ ”
یعنی اس سے پہلے بھی ہم انبیاء و رسل علیہ السلام اور آسمانی کتب کے ماننے والے تھے اور اب محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب لے کر آئے ہیں تو اس کو بھی ہم نے مان لیا ہے۔ لہٰذا ہمارے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ہم پہلے بھی مسلمان تھے اور اب بھی مسلمان ہیں۔ تورات اور انجیل کی پیشین گوئیوں کی بنا پر ہم پہلے ہی تسلیم کرچکے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور یہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
Ayah 28:54آیت 54 اُولٰٓءِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمْ مَّرَّتَیْنِ ”
یعنی سابقہ امت کے جو لوگ یہودی یا نصرانی اسلام قبول کریں گے وہ دہرے اجر کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس سے پہلے وہ انجیل اور تورات کو مانتے تھے اور اب انہوں نے قرآن کو بھی تسلیم کرلیا۔
Ayah 28:55سَلٰمٌ عَلَیْکُمْز لَا نَبْتَغِی الْجٰہِلِیْنَ ”
یہاں اس مکالمے کی طرف اشارہ ہے جو حبشہ کے وفد کے ارکان کا مشرکین مکہ کے ساتھ ہوا تھا۔ یہ وفد حضور ﷺ سے ملاقات کے لیے مکہ آیا تھا۔ واقعہ دراصل یوں تھا کہ مکہ سے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کرنے والے صحابہ رض کی تبلیغ سے حبشہ میں کچھ عیسائیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ جیسے بعد میں دوسری ہجرت کے مہاجرین ‘ صحابہ کی تبلیغ سے شاہ حبشہ نجاشی بھی ایمان لے آئے تھے ‘ جو اپنی زندگی میں حضور ﷺ کی زیارت کر کے صحابیت کا درجہ تو نہ پا سکے ‘ البتہ صحابہ رض سے ملاقات کی بنا پر وہ تابعی ضرو رہیں۔ حضرت نجاشی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی اور یہ واحد غائبانہ نماز جنازہ ہے جو حضور ﷺ سے پڑھانا ثابت ہے۔
حبشہ میں جن لوگوں نے صحابہ رض کی کوششوں سے ایمان قبول کیا تھا بعد میں ان میں سے کچھ لوگ حضور ﷺ سے ملاقات کے ارمان میں ایک وفد کی صورت میں مکہ آئے اور حضور ﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کی۔ جب مشرکین مکہّ کو ان لوگوں کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے ان لوگوں سے بہت بےہودہ باتیں کیں ‘ انہیں طعنے دیے اور ان کا خوب تمسخر اڑایا کہ تم لوگ بہت احمق ہو جو اپنی الہامی کتاب کو چھوڑ کر اس نئے دین میں شامل ہوگئے ہو۔ آیت زیر مطالعہ میں اس وفد کے لوگوں کا جواب نقل ہوا ہے جو انہوں نے مشرکین مکہ کو دیا تھا کہ ہمارا آپ لوگوں سے کچھ سروکار نہیں ‘ ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور تم لوگ اپنے اعمال کے۔ ہم اللہ کے فضل سے پہلے بھی حق پر تھے اور اب ہمیں اس حق پر بھی ایمان لانے کی سعادت ملی ہے جو قرآن کی صورت میں ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے۔
Ayah 28:56وَہُوَ اَعْلَمُ بالْمُہْتَدِیْنَ ”
یہ آیت خاص طور پر حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کے بارے میں ہے۔ حضور ﷺ کی شدید خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئیں۔ ان کا انتقال 10 نبوی میں ہوا تھا۔ ان کے آخری وقت بھی حضور ﷺ نے ان سے بہت اصرار کیا کہ چچا جان ! آپ اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ کے کلمات میرے کان میں کہہ دیں تاکہ میں اللہ کے ہاں آپ کے ایمان کی گواہی دے سکوں ‘ لیکن وہ اس سے محروم رہے۔ بہر حال یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضور ﷺ پر ان کے بہت احسانات ہیں اور ان کے وہ احسانات حضور ﷺ کی نسبت سے ہم سب پر بھی ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ان کا نام ادب سے لیں اور ان کا ذکر احترام سے کریں۔
Ayah 28:57آیت 57 وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْہُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا ط ”
ہم اچک لیے جائیں گے ‘ یعنی ہمیں ختم یا برباد کردیا جائے گا۔ یہ لفظ اسی مفہوم میں سورة الانفال کی آیت 26 میں بھی آیا ہے ‘ جس کا مطالعہ ہم کرچکے ہیں : وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ ”اور یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے اور زمین میں دبا لیے گئے تھے ‘ تمہیں اندیشہ تھا کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے“۔ مزید برآں یہ لفظ سورة العنکبوت کی آیت 67 میں بھی آیا ہے۔
عام طور پر کسی معاشرے میں حق کو قبول کرنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جو حق کو پہچانتے ہی فوراً قبول کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ تو اپنی کسی مصلحت کو اس رستے کی دیوار بننے دیتے ہیں اور نہ ہی دوسرے لوگوں کے اس طرف مائل ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف آگے بڑھ کر بےدھڑک انداز میں حق کو قبول کرتے ہیں بلکہ اس کے بعد وہ ”ہرچہ باداباد“ کے مصداق حق کی وفاداری میں کسی بھی قسم کی قربانی کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس راستے میں جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کے برعکس کچھ لوگ حق کو پہچان لینے کے باوجود منتظر رہتے ہیں کہ کچھ اور لوگ بھی آجائیں ‘ جب کچھ لوگ اس نظریے کو قبول کر کے اس نئے راستے پر چلیں گے اور ان کے چلنے سے اس راستے کے نشانات واضح ہو کر ایک پگڈنڈی بن جائے گی تو ہم بھی شامل ہوجائیں گے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کا ذکر سورة التوبہ کی آیت 100 میں اس طرح کیا گیا ہے : وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍلا ”اور پہلے پہل سبقت کرنے والے ‘ مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ“۔ یعنی کچھ خوش قسمت لوگ تو پہلے پہل سبقت لے گئے اور کچھ ان کے پیروکار بنے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ان دونوں طرح کے لوگوں کے اپنے اپنے درجات ہیں۔ ان دو اقسام کے علاوہ ہر معاشرے میں ایک گروہ ایسے کم ہمت لوگوں پر بھی مشتمل ہوتا ہے جو کسی نظریے کی خاطر کسی قسم کی آزمائش جھیلنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ وہ حق کو پہچان تو لیتے ہیں مگر اسے بڑھ کر قبول کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ آیت زیر مطالعہ میں ایسے کم ہمت لوگوں کا قول نقل ہوا ہے کہ اے محمد ﷺ آپ کی باتیں تو درست ہیں ‘ آپ کی دعوت دل کو بھی لگتی ہے ‘ لیکن ہم پورے عرب کے ساتھ دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ اگر ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے تو یہ لوگ ہم پر چڑھ دوڑیں گے اور ہمیں نیست و نابود کرکے رکھ دیں گے۔
اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّہُمْ حَرَمًا اٰمِنًا ”
ان کے اس بہانے کا یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ جس حرم کی حدود میں وہ سکون اور چین کی زندگی بسر کر رہے ہیں ‘ اسے امن کی جگہ کس نے بنایا ہے ؟ تو جس اللہ نے حرم کو امن والی جگہ بنایا ہے ‘ کیا اب وہ اپنے نام لیواؤں کی مدد نہیں کرے گا اور کیا وہ ان کو ان کے دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا ؟
یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ ”
ان الفاظ کا عملی نقشہ دنیا نے مکہ کے اندر ہر دور میں دیکھا ہے۔ پرانے زمانوں میں بھی جب حج کے لیے دنیا کے مختلف علاقوں سے لوگ مکہ آتے تھے تو اپنے اپنے علاقوں کے پھل اور دوسری چیزیں اپنے ساتھ لاتے تھے۔ آج بھی دنیا کے مختلف علاقوں کے بہترین پھل مکہ میں ہر وقت دستیاب رہتے ہیں۔ بہر حال اس گھر کو امن والی جگہ بھی اللہ ہی نے بنایا ہے اور اسی نے اس کو پھلوں اور رزق کی فراوانی سے نوازا ہے۔
رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا ”
اس لیے کہ ہمارے محبوب بندے ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو یہاں آباد کرتے وقت ہم سے اس بارے میں یہ دعا کی تھی : رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِلا رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْٓ اِلَیْہِمْ وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْنَ ابراہیم ”اے ہمارے رب ! میں نے اپنی اولاد کی ایک شاخ کو آباد کردیا ہے اس بےآب وگیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس ‘ اے ہمارے پروردگار ! تاکہ یہ نماز قائم کریں ‘ تو تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے اور ان کو رزق عطا کر پھلوں سے ‘ تاکہ وہ شکر ادا کریں“۔ ہم نے اپنے بندے کی یہ دعا قبول فرمائی اور یہ اسی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کہ ہم ہر طرح کا رزق وافر مقدار میں وہاں بسنے والے لوگوں تک مسلسل پہنچا رہے ہیں۔
Ayah 28:58آیت 58 وَکَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍم بَطِرَتْ مَعِیْشَتَہَا ج ”
انہیں اپنے معاشی نظام کے استحکام پر بہت گھمنڈ تھا ‘ لیکن ان کی خوشحالی اور ان کی مستحکم معیشت انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔
Ayah 28:59آیت 59 وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا ”
یعنی اللہ تعالیٰ کسی بستی تک دعوت حق پہنچائے بغیر اس پر عذاب نہیں بھیجتا۔ اس سلسلے میں اللہ کا اصول اور طریقہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ پہلے متعلقہ قوم کی طرف باقاعدہ ایک رسول مبعوث کیا جاتا جو حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح کر کے اس قوم پر حجت قائم کردیتا۔ پھر اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر پر اڑے رہتے انہیں عذاب کے ذریعے نیست و نابود کردیا جاتا۔ یہی اصول سورة بنی اسرائیل میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کوئی رسول علیہ السلام نہ بھیج دیں“۔ آیت زیر مطالعہ میں اس اصول کی مزید وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ کسی قوم کی طرف رسول بھیجنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس علاقے کے ہر ہر گاؤں اور ہر ہر بستی میں رسول مبعوث کیے جاتے تھے بلکہ اس کا طریقہ اور معیار یہ رہا ہے کہ متعلقہ قوم کے مرکزی شہر میں رسول بھیج دیا جاتا تھا۔
وَمَا کُنَّا مُہْلِکِی الْقُآٰی اِلَّا وَاَہْلُہَا ظٰلِمُوْنَ ”
”ظالم“ کا لفظ مشرک ‘ کافر ‘ گنہگار اور ظلم و ناانصافی کرنے والے ‘ سب کو محیط ہے۔
Ayah 28:60آیت 60 وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُہَا ج ”
اس سے یہ نکتہ انسان کو خود بخود سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح دنیا کی یہ زندگی عارضی ہے اسی طرح اس سے متعلقہ ہر قسم کا سازوسامان بھی عارضی ہے۔
Ayah 28:61آیت 61 اَفَمَنْ وَّعَدْنٰہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لَاقِیْہِ کَمَنْ مَّتَّعْنٰہُ مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ”
یعنی ایک وہ بندہ جو اپنی دنیوی زندگی میں آخرت کے بارے میں اللہ کے اچھے وعدوں کا مصداق بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنے وعدوں کے مطابق جنت اور اس کی نعمتیں عطا فرمانے والا ہے ‘ کیا کبھی اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جسے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا گیا ہو ؟
ثُمَّ ہُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ”
ظاہر ہے دونوں طرح کے لوگ برابر تو نہیں ہوسکتے۔ قیامت کے دن نیک لوگ اللہ کے وعدوں کے مطابق اس کی رحمت کے سائے میں ہوں گے ‘ جبکہ دنیا میں عیش و عشرت کے مزے لینے والے اور اپنے من پسند انداز میں گل چھرے ّ اُڑانے والے باغی اس دن بیڑیاں پہنے ہوئے مجرموں کی حیثیت سے اللہ کے حضور پیش ہوں گے۔
Ayah 28:62آیت 62 وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآءِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ”
جن کے بارے میں تمہیں یہ زعم اور گمان ہوگیا تھا کہ وہ اللہ کے شریک ہیں ‘ وہ اب کہاں ہیں ؟
Ayah 28:63آیت 63 قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا ہٰٓؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا ج ”
وہ مشرکین جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ صادر ہوجائے گا ‘ آخری عذر کے طور پر اپنے لیڈروں کی طرف اشارہ کریں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ اگر یہ ہمیں گمراہ نہ کرتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے ! ان لیڈروں میں ان کے معبودان باطل ‘ شیاطینِ جنّ و انس ‘ طاغوت اور گمراہ مذہبی و سیاسی راہنما شامل ہوں گے۔ یہ لیڈر جھٹ جواب دیں گے کہ جو کچھ ہم خود تھے وہی ہم نے ان کو بنایا۔
اَغْوَیْنٰہُمْ کَمَا غَوَیْنَا ج ”
یعنی ہم خود ہدایت پر ہوتے تو انہیں ہدایت کا رستہ دکھاتے۔ ہم چونکہ خود گمراہ تھے اس لیے ہمارے زیر اثر یہ تمام لوگ گمراہ ہوتے چلے گئے۔
تَبَرَّاْنَآ اِلَیْکَز مَا کَانُوْٓا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ ”
یعنی یہ ہمارے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔ ہم پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ یہ اپنی آزاد مرضی سے ہماری باتیں مانتے رہے ہیں۔
Ayahs 28:64–66آیت 66 فَعَمِیَتْ عَلَیْہِمُ الْاَنْبَآءُ یَوْمَءِذٍ فَہُمْ لَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ”
م حق اس طرح واضح ہو کر ان کے سامنے آجائے گا کہ اس کے جواب میں وہ کچھ بھی نہیں بول سکیں گے۔ ظاہر ہے زندگی بھر وہ اللہ کی نا فرمانیاں اور انبیاء و رسل کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے تھے۔ چناچہ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ جو رسول تمہاری طرف بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا تو اس وقت ان کو کوئی جواب نہیں سوجھے گا۔
Ayahs 28:67–68آیت 68 وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَیَخْتَارُ ط ”
تمام مخلوق اسی کی ہے ‘ اپنی مخلوق میں سے اس نے جس کو چاہا منتخب کرلیا اور رسول بنا لیا : اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ط الحج : 75 ”اللہ چن لیتا ہے اپنے پیغامبر فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے ”۔ سورة آل عمران میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے : اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفآی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ”یقیناً اللہ نے چن لیا آدم علیہ السلام کو اور نوح علیہ السلام کو اور آل ابراہیم علیہ السلام کو اور آل عمران کو تمام جہان والوں پر۔“
مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُط سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”
اللہ تعالیٰ کی ذات ان لوگوں کے اوہام اور من گھڑت عقائد سے وراء الوراء ‘ منزہّ اور ارفع ہے۔
Ayah 28:69آیت 69 وَرَبُّکَ یَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ”
مثلاً ان کے دل قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی حقانیتّ کی گواہی دیتے ہیں مگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس گواہی کو چھپائے ہوئے ہیں۔ اور دوسری طرف اپنے جن نام نہاد اعتراضات کو وہ ظاہر کر رہے ہیں ان پر انہیں خود بھی اعتماد نہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر یہ نبی ہیں تو انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح معجزات کیوں نہیں دیے گئے ؟
Ayah 28:70لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃِز ”
یہاں آخرت کے مقابلے میں ”اُولیٰ“ دنیا کے لیے آیا ہے ‘ کیونکہ آخرت کی زندگی کے مقابلے میں ہماری پہلی زندگی یہی دنیوی زندگی ہے۔
وَلَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ”
حکم دینے کا اختیار اسی کو حاصل ہے اور کائنات پر اصل حاکمیت اسی کی ہے۔ وہ جو حکم چاہے دے ‘ جس چیز کو چاہے حلال قرار دے اور جس کو چاہے حرام ٹھہرائے۔
Ayahs 28:71–75آیت 75 وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ”
یہ مضمون دو مرتبہ سورة النحل آیت 84 اور 89 میں بھی آیا ہے ‘ لیکن سورة النساء کی یہ آیت تو گویا اس مضمون کا ذروۂ سنام ہے : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ ”تو اس دن کیا صورت حال ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور اے نبی ﷺ ! آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بنا کر“۔ جو پیغمبر جس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہوگا وہ قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں استغاثہ کا گواہ prosecution witness بن کر گواہی دے گا کہ اے اللہ ! تیری طرف سے جو ہدایت مجھ تک پہنچی تھی میں نے وہ اپنی قوم تک پہنچا دی تھی۔
فَقُلْنَا ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ ”
پھر متعلقہ امت سے پوچھا جائے گا کہ اب تم لوگ بتاؤ تمہارا کیا معاملہ تھا ؟ ہمارے رسول نے تو گواہی دے دی ہے کہ اس نے میرا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ اب اس سلسلے میں تمہارا کوئی عذر ہے تو پیش کرو۔
فَعَلِمُوْٓا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰہِ ”
کہ فیصلہ تو اب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہی حق ہوگا۔ چناچہ انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔
وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ”
گویا ع ”جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا !“ جب دوسری دنیا میں ان کی آنکھ کھلے گی تو ان کے خود ساختہ عقائد ‘ من گھڑت معبودوں کے بارے میں ان کے خوش کن خیالات وغیرہ سب ان سے گم ہوچکے ہوں گے اور اس کیفیت میں عذاب کو دیکھ کر ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
Ayah 28:76آیت 76 اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی ”
تورات میں اس شخص کا نام Qaurah لکھا گیا ہے۔ ممکن ہے تلفظ کے اختلاف کی وجہ سے یہ فرق پیدا ہوا ہو۔ بہر حال اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ یہاں قارون نامی شخص کے حوالے سے جس کردار اور رویے ّ کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ یہ کردار ایک پورے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک ایسا طبقہ جو کسی محکوم قوم کے اندر حکمرانوں کے ہاتھوں جنم لیتا ہے اور ان کے سائے میں نشوونما پاتا ہے۔ دراصل کسی بھی ملک میں فاتح اور غاصب حکمرانوں کا طرز حکمرانی ظلم و ناانصافی سے عبارت ہوتا ہے۔ ایسے نظام میں عزت و شرافت کے نئے معیار جنم لیتے ہیں۔ سورة النمل کی آیت 34 میں ملکہ سبا کی زبانی غاصب بادشاہوں کے کردار پر اس طرح تبصرہ کیا گیا ہے : اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً اَفْسَدُوْہَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّۃَ اَہْلِہَآ اَذِلَّۃً ج ”بلاشبہ جب بادشاہ کسی آبادی میں داخل ہوتے ہیں تو اس میں فساد برپا کردیتے ہیں ‘ اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔“
غاصب حکمران ہمیشہ خوف اور لالچ کے ذریعے عوام کے اندر سے اپنے حمایتی پیدا کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں محکوم قوم کے گھٹیا اور بےغیرت قسم کے لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے اپنے آقاؤں سے مراعات حاصل کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سورة النمل کی مذکورہ آیت کے ضمن میں برصغیر پاک و ہند کے غیر ملکی حکمرانوں کی مثال دی جا چکی ہے۔ برصغیر میں انگریزوں نے بھی اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے مقامی لوگوں میں سے ایک ایسا ہی طبقہ پیدا کیا تھا۔ ان لوگوں کو جاگیریں دی گئیں ‘ بڑے بڑے ٹھیکے الاٹ کیے گئے ‘ خطابات سے نوازا گیا ‘ اعلیٰ مناصب پر بٹھایا گیا اور یوں ان کی غیرتوں اور وفاداریوں کو خرید کر ان کو خود ان ہی کی قوم کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اسی طرح فرعون کی عملداری میں بنی اسرائیل کے اندر بھی ایک ایسا ضمیر فروش طبقہ پیدا ہوچکا تھا اور قارون اسی طبقے کا ایک ”معزز فرد“ تھا۔ یہ شخص نہ صرف بنی اسرائیل میں سے تھا بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حقیقی چچا زاد تھا۔ فرعون کے دربار میں اس کو خاص امتیازی مقام حاصل تھا۔ اپنی اس حیثیت سے فائدہ اٹھا کر اس نے اس قدر دولت اکٹھی کر رکھی تھی کہ اس اعتبار سے اس کا نام ضرب المثل کا درجہ رکھتا تھا ‘ جیسے آج ہمارے ہاں کے بعض سیاسی کردار بھی دولت سمیٹنے میں علامتی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔
فَبَغٰی عَلَیْہِمْص ”
اس نے اپنی قوم سے غداری کی اور فرعون کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی ہی قوم کے خلاف ظلم و زیادتی پر مبنی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔
وَاٰتَیْنٰہُ مِنَ الْکُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوْٓ ءُ ا بالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِق ”
اس سے اگر آج کل کی چابیوں کا تصور ذہن میں رکھیں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔ اس کو یوں سمجھیں کہ پرانے زمانے میں آج کل کی طرز کے تالے تو نہیں ہوتے تھے۔ لہٰذا پھاٹک نما دروازوں کو بند کرنے کے لیے بڑی بڑی لکڑیوں یا دھات کے ”اڑنگوں“ کو مخصوص طریقے سے ان کے اندر پھنسانے کا انتظام کیا جاتا ہوگا اور ان ہی کو ان دروازوں کی چابیاں کہا جاتا ہوگا۔ بہر حال اس جملے کا عمومی مفہوم یہی ہے کہ اس شخص کے پاس بےانتہا دولت تھی۔
اِذْ قَالَ لَہٗ قَوْمُہٗ لَا تَفْرَحْ ”
ظاہر ہے ہر معاشرے میں کچھ بھلے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ جیسے ہم سورة الکہف کے پانچویں رکوع میں دو اشخاص کا واقعہ پڑھ آئے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص درویش صفت اور عارف باللہ تھا جبکہ دوسرا مال مست تھا جو اپنی دولت کے گھمنڈ میں اللہ کو بھی بھلا بیٹھا تھا۔ بہر حال کچھ بھلے لوگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ تم اپنی دولت پر اترایا نہ کرو۔ یہاں پر ایک بہت اہم نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ ان آیات میں دولت مند لوگوں کے لیے پانچ انتہائی مفید نصیحتیں بیان کی گئی ہیں۔ جن لوگوں کے پاس بہت سی دولت جمع ہوگئی ہو انہیں ان نصیحتوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ان میں سے پہلی نصیحت تو یہی ہے کہ اپنی دولت پر اتراؤ نہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ”
اس کے بعد دوسری نصیحت نوٹ کریں :
Ayah 28:77آیت 77 وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰٹک اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ”
یہ دولت اللہ ہی کی دی ہوئی ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ اس کے راستے میں خرچ کر کے اپنے لیے توشۂ آخرت جمع کرنے کی کوشش کرو۔ اس ضمن میں سورة التوبہ کی آیت 111 کے یہ الفاظ بھی مد نظر رہیں : اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط ”یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی ‘ اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔“
وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا ”
کسی دولت مند شخص کے لیے یہ تیسری نصیحت ہے کہ جو دولت اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اس میں سے اپنی ذات پر بھی خرچ کرو۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ جیسے قارون بہت کنجوس تھا۔ اسے بس دولت جمع کرنے ہی کی فکر تھی ‘ دولت کو خرچ کرنے سے وہ گھبراتا تھا ‘ حتیٰ کہ اپنی ذاتی ضروریات کو بھی نظر انداز کردیتا تھا۔ اس سلسلے میں سورة الاعراف آیت 32 کے ان الفاظ میں بہت واضح راہنمائی موجود ہے : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ط ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیں کہ کس نے حرام کی ہے وہ زینت جو اللہ نے نکالی ہے اپنے بندوں کے لیے ؟ اور کس نے حرام کی ہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کی ؟“ یعنی ایک خوشحال آدمی کو اچھا کھانے اور اچھا پہننے سے کس نے منع کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رہبانیت اختیار کرنے کا حکم تو نہیں دیا ‘ بلکہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ اعتدال کی روش کو پسند فرماتے ہیں۔ چناچہ سورة الفرقان کی آیت 67 میں ”عباد الرحمن“ کے اوصاف میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے : وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔ ”اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں ‘ بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے“۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں اس حکم کے ذریعے اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑے بغیر اپنے وسائل میں سے اپنی اور اپنے متعلقین کی ضروریات پر خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں چوتھی نصیحت یہ دی گئی ہے :
وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ”
اللہ نے تمہیں دولت دی ہے تو یہ اللہ کا تم پر بہت بڑا احسان ہے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ تم بھی لوگوں پر احسان کرو اور اپنے بیگانے کی تفریق و تخصیص کیے بغیر غریبوں ‘ مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کو اپنا شعار بناؤ۔ اس سلسلے میں سورة المعارج میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے : وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّآءِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ”اور وہ لوگ جن کے اموال میں ایک مقررہ حصہ ہے ‘ سائلوں اور ناداروں کا“۔ اور اب پانچویں نصیحت :
وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ”
اپنے سیاق وسباق کے حوالے سے یہ بہت اہم ہدایت ہے۔ وہ کون سا فساد تھا جس میں قارون ملوث تھا ؟ یہ سمجھنے کے لیے مصر کے اس ماحول کا تصور کریں جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام دن رات ہمہ تن کار نبوت اور فرائضِ رسالت کی ادائیگی میں لگے ہوئے تھے۔ اس معاشرے کے کچھ لوگ تو آپ علیہ السلام کا ساتھ دے رہے تھے اور اس کام میں آپ علیہ السلام کا ہاتھ بٹانے کی کوشش میں تھے ‘ جبکہ کچھ دوسرے لوگ آپ علیہ السلام کی راہ میں روڑے اٹکانے اور آپ علیہ السلام کے مشن کو ناکام بنانے کے لیے سازشوں میں مصروف تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ اس معاشرے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے جو خیر پیدا کرنا چاہتا تھا ‘ قارون اور اس کے گروہ کے لوگ مختلف حربوں سے اس خیر کا راستہ روکنے کی کوشش میں مصروف تھے ‘ اور یہی وہ ”فساد فی الارض“ ہے جس کا یہاں ذکر ہوا ہے۔
اس حوالے سے اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے مدنی دور کا جائزہ لیں تو مدینہ کے منافقین بھی آپ ﷺ کے مشن کے خلاف اسی طرح کی منفی سرگرمیوں میں مصروف عمل تھے۔ ان کی مفسدانہ سازشوں کا ذکر سورة البقرۃ میں اس طرح کیا گیا ہے : وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ لاَ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِلا قالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۔ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لاَّ یَشْعُرُوْنَ ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت مچاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار ! بلاشبہ وہی ہیں فساد کرنے والے ‘ لیکن وہ شعور نہیں رکھتے“۔ چناچہ کسی دینی جماعت یا تحریک کی اصلاحی اور انقلابی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور ایسی جماعت کے نظم کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں کرنا گویا ”فساد فی الارض“ کے زمرے میں آتا ہے اور اللہ کو ایسے مفسد لوگ پسند نہیں ہیں۔ یعنی دین کی سربلندی کے لیے کی جانے والی کوشش کا حصہ بنو ‘ نہ کہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرو۔ مندرجہ بالا ہدایات کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر سے دہرایا جائے :
1 لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ
”اپنی دولت پر اتراؤ مت ‘ یقیناً اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
2 وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰٹک اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ
”اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے دار آخرت حاصل کرنے کی کوشش کرو“
3 وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا
”اور تم دنیا سے اپنا حصہ مت بھولو“
4 وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ
”اور لوگوں کے ساتھ احسان کرو ‘ جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے“
5 وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ
”اور زمین میں فساد مت مچاؤ ‘ یقیناً اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
Ayah 28:78آیت 78 قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ط ”
یعنی تم کیا سمجھتے ہو کہ یہ دولت مجھے اللہ نے دی ہے ؟ یہ تو میں نے اپنی ذہانت ‘ سمجھ بوجھ ‘ محنت اور اعلیٰ منصوبہ بندی کی وجہ سے کمائی ہے۔ یہ خالص مادہ پرستانہ سوچ ہے اور ہر زر پرست شخص جو عملی طور پر اللہ کے فضل کا منکر ہے ہمیشہ اسی سوچ کا حامل ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میرے کاروبار کی سب کامیابیاں میرے علم اور تجربے کی بنیاد پر ہیں۔ میں نے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا بروقت اندازہ لگا کر جو فلاں فیصلہ کیا تھا اور فلاں سودا کیا تھا اس کی وجہ سے مجھے یہ اتنی بڑی کامیابی ملی ہے۔
وَلَا یُسْءَلُ عَنْ ذُنُوْبِہِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ”
م اللہ تعالیٰ ان کے حساب کتاب کی جزئیات تک سے باخبر ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے اعمال نامہ کی ایک ایک تفصیل اس کے سامنے ہے۔ اسے کسی تفتیش یا تحقیق کی ضرورت نہیں۔ یہی بات سورة الرحمن میں یوں بیان ہوئی ہے : فَیَوْمَءِذٍ لَّا یُسْءَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَآنٌّ ”پھر اس دن نہیں پوچھا جائے گا کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں“۔ اس لیے کہ اللہ کے حضور پیشی کے وقت ہر فرد کی مکمل کار گزاری اس کی پیشانی پر نقش ہوگی۔ ازروئے الفاظ قرآنی : یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰہُمْ فَیُؤْخَذُ بالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ الرحمن ”مجرم اپنے چہروں سے ہی پہچان لیے جائیں گے ‘ تو انہیں دبوچ لیا جائے گا سر کے بالوں اور پیروں سے“۔ اس طریقے سے ان میں سے ایک ایک کو پکڑ کر جہنم کی طرف اچھال دیا جائے گا۔