Ayahs 21:81–82آیت 82 وَمِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَہٗ ”
یعنی جناتّ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے سمندروں میں غوطے لگاتے تھے اور ان کی تہوں سے موتی اور دوسری مفید چیزیں نکال کر لاتے تھے۔
وَکُنَّا لَہُمْ حٰفِظِیْنَ ”
گویا وہ جن حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع تھے تو یہ بھی ہماری ہی قدرت کا کمال تھا۔
Ayah 21:83آیت 83 وَاَیُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ ”
حضرت ایوب علیہ السلام بھی جلیل القدر نبی ہیں اور قرآن میں آپ علیہ السلام کو صابر کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شدید بیماریوں کے ذریعے آپ علیہ السلام کی آزمائش کی مگر آپ علیہ السلام ہر حال میں صابر اور شاکر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”صبرایوب ‘ ِ ‘ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ واضح رہے کہ شکوہ و شکایت اور جزع فزع صبر کے منافی ہے ‘ جس کا اظہار آپ علیہ السلام نے کبھی نہیں کیا ‘ البتہ دعا صبر کے منافی نہیں ہے۔
Ayah 21:84آیت 84 فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَکَشَفْنَا مَا بِہٖ مِنْ ضُرٍّ ”
آپ علیہ السلام ایک ایسی بیماری میں مبتلا تھے جس سے آپ علیہ السلام کی جلد میں تعفن پیدا ہوجاتا تھا۔ زخموں اور پھوڑوں سے بدبو آتی تھی جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے اہل خانہ تک آپ علیہ السلام کو چھوڑ گئے تھے۔
وَّاٰتَیْنٰہُ اَہْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ ”
یعنی آپ علیہ السلام کے اہل خانہ بھی آپ علیہ السلام کے پاس واپس آگئے اور آپ علیہ السلام کو اتنی ہی مزید اولاد بھی عطا فرمائی۔
Ayah 21:85آیت 85 وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْلِطکُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ ”
حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر سورة مریم کی آیت 56 کے ضمن میں بھی آچکا ہے کہ آپ علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بعد اور حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے مبعوث ہوئے تھے۔ ان سے قبل حضرت شیث علیہ السلام کی بعثت بھی ہوچکی تھی۔ حضرت ذوالکفل علیہ السلام کے بارے میں کہیں سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ آپ علیہ السلام کب اور کس علاقے میں مبعوث ہوئے۔ احادیث میں بھی آپ علیہ السلام کا تذکرہ نہیں ملتا۔ البتہ موجودہ دور کے ایک عالم اور محقق مولانا مناظر احسن گیلانی رح کا خیال ہے کہ ذوالکفل سے مراد گوتم بدھ ہیں اور یہ کہ گوتم بدھ اللہ کے نبی تھے۔ ان کے اس دعویٰ کے بارے میں یقین سے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن اس سلسلے میں مولانا کے دلائل میں بہرحال بہت وزن ہے۔ گوتم بدھ کے بارے میں تاریخی اعتبار سے ہمیں اس قدر معلومات ملتی ہیں کہ وہ ریاست ”کپل وستو“ کے شہزادے تھے۔ مولانا کے مطابق ”کپل“ ہی دراصل ”کفل“ ہے یعنی ہندی کی ”پ“ عربی کی ”ف“ سے بدل گئی ہے۔ اس طرح ذوالکفل کا مطلب ہے : ”کفل کپل والا“۔ یعنی کپل ریاست کا والی سدھار کا بدھا یا گوتم بدھا۔
آج جو عقائد گوتم بدھ سے منسوب کیے جاتے ہیں ‘ ان میں یقینابہت کچھ تحریف بھی شامل ہوچکی ہوگی۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں بھی آپ علیہ السلام کے پیروکاروں نے بہت سے من گھڑت عقائد شامل کرلیے ہیں۔ ممکن ہے کہ گوتم بدھ کی اصل تعلیمات الہامی ہی ہوں اور بعد کے زمانے میں ان میں تحریف کردی گئی ہو۔ بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں مولانا مناظر احسن گیلانی کے دلائل کافی معقول اور ٹھوس ہیں۔
Ayahs 21:86–87آیت 87 وَذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا ”
یعنی حضرت یونس علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام کو ”مچھلی والا“ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ آپ علیہ السلام کو شہر نینوا کی طرف مبعوث فرمایا گیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا اور حق کی طرف بلایا۔ آپ علیہ السلام نے بار بار دعوت دی ‘ ہر طرح سے تبلیغ و تذکیر کا حق ادا کیا ‘ مگر اس قوم نے آپ علیہ السلام کی کسی بات کو نہ مانا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوگیا۔ اس موقع پر آپ علیہ السلام حمیتِ حق کے جوش میں قوم سے برہم ہو کر ان کو عذاب کی خبر سنا کر وہاں سے نکل آئے۔ اس سلسلے میں بنیادی طور پر آپ علیہ السلام سے ایک ”سہو“ سرزد ہوگیا کہ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت آنے سے پہلے ہی اپنے مقام بعثت سے ہجرت کرلی ‘ جبکہ اللہ کی باقاعدہ اجازت کے بغیر کوئی رسول اپنے مقام بعثت کو چھوڑ نہیں سکتا۔ اسی اصول اور قانون کے تحت ہم دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ نے تمام مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی تھی ‘ مگر آپ ﷺ نے خود اس وقت تک ہجرت نہیں فرمائی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے باقاعدہ اس کی اجازت نہیں مل گئی۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے قوانین بہت سخت ہیں اور اللہ کے مقرب بندوں کا معاملہ تو اللہ کے ہاں خصوصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ان آیات کا مطالعہ اور ترجمہ کرتے ہوئے ہمیں یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ معاملہ اللہ عزوجل اور اس کے ایک جلیل القدر رسول علیہ السلام کے مابین ہے۔ اسے ہم الفاظ کے بظاہر مفہوم پر محمول نہیں کرسکتے۔ حضرت یونس علیہ السلام وہ رسول ہیں جن کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا : ”مجھے یونس ابن متیّٰ پر بھی فضیلت نہ دو“۔ بہر حال حضرت یونس علیہ السلام حمیتِ حق کے باعث اپنی قوم پر غضبناک ہو کر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے۔
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ ”
واللہ اعلم ! یہ الفاظ بہت سخت ہیں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے ان الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ ‘ یونس علیہ السلام فی الواقع ایسا سمجھتے تھے کہ وہ بستی سے نکل کر گویا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہی نکل گئے ‘ بلکہ آپ علیہ السلام کے طرز عمل سے یوں لگتا تھا۔ یعنی صورت حال ایسی تھی کہ دیکھنے والا یہ سمجھ سکتا تھا کہ شاید آپ علیہ السلام نے ایسا سمجھا تھا کہ اللہ ان کو پکڑ نہیں سکے گا ‘ لیکن ظاہر ہے کہ اس کا کوئی امکان نہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کے دل میں ایسا کوئی خیال گزرا ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کامل بندوں کی ادنیٰ ترین لغزش کا ذکر بھی بہت سخت پیرایہ میں کرتا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رح نے لکھا ہے کہ اس سے کاملین کی تنقیص نہیں ہوتی ‘ بلکہ جلالت شان ظاہر ہوتی ہے کہ اتنے بڑے ہو کر ایسی چھوٹی سی فروگزاشت بھی کیوں کرتے ہیں ! ع ”جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے !“
فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ ”
آپ علیہ السلام اپنے علاقے سے نکلنے کے بعد ایک کشتی میں سوار ہوئے اور وہاں ایسی صورت حال پیدا ہوئی کہ آپ علیہ السلام کو دریا میں چھلانگ لگانا پڑی اور ایک بڑی مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ اور قعر دریا کی تاریکیوں میں آپ علیہ السلام تسبیح کرتے اور اللہ کو پکارتے رہے :
اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَق اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ”
اے اللہ ! مجھ سے غلطی ہوگئی ہے ‘ میں خطاکارہوں ‘ تو مجھے معاف کر دے ! یہ آیت ”آیت کریمہ“ کہلاتی ہے۔ روایات میں اس آیت کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں۔ کسی مصیبت یا پریشانی کے وقت یہ دعا صدق دل سے مانگی جائے تو کبھی قبولیت سے محروم نہیں رہتی۔
Ayah 21:88وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ ”
یعنی یہ معاملہ حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جو اہل ایمان بھی ہم کو اسی طرح پکاریں گے ہم ان کو مصائب سے نجات دیں گے۔
Ayah 21:89آیت 89 وَزَکَرِیَّآ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ ”
اس بارے میں تفصیل سورة مریم میں گزر چکی ہے۔
رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَ ”
اے میرے پروردگار ! مجھے کوئی ایسا وارث عطا فرما جو میرے اس مشن کو زندہ رکھ سکے۔
Ayah 21:90اِنَّہُمْ کَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْْخَیْرٰتِ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَہَبًا ط ”
اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا معاملہ بین الخوف والرجاء خوف اور امید کے درمیان والا ہوتا تھا۔ اللہ کے مواخذے سے ڈرتے بھی تھے اور اس کی رحمت کے امیدوار بھی رہتے تھے۔
وَکَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ ”
اوصاف انبیاء علیہ السلام کے اس خوبصورت گلدستے کے آخر میں اب حضرت مریم سلامٌ علیہا کا ذکر آ رہا ہے۔
Ayah 21:91آیت 91 وَالَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا ”
یعنی پوری طرح سے پاک دامن رہیں۔
فَنَفَخْنَا فِیْہَا مِنْ رُّوْحِنَا ”
یعنی حرف ”کُن“ بیٹے کی پیدائش کا ذریعہ بن گیا۔
Ayah 21:92آیت 92 اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃًز ”
اُمت ابراہیم ‘ علیہ السلام امت اسماعیل ‘ علیہ السلام امت موسیٰ علیہ السلام ‘ امت عیسیٰ علیہ السلام ٰ ‘ امت محمد ﷺ اور دوسرے تمام انبیاء کی امتیں بنیادی طور پر ایک ہی دین کی پیروکار تھیں اور یوں تمام انبیاء اور ان کے پیروکار گویا ایک ہی امت کے افراد تھے۔ اس مضمون کو سورة البقرۃ ‘ آیت 213 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف یعنی شروع میں تمام انسان ایک ہی امت تھے اور ایک ہی دین کے ماننے والے تھے۔ پھر لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفادات کے مطابق صراط مستقیم میں سے پگڈنڈیاں نکال لیں ‘ مختلف گروہوں نے نئے نئے راستے بنا لیے اور ان غلط راستوں پر وہ اتنی دور چلے گئے کہ اصل دین مسخ ہو کر رہ گیا اور اب ان مختلف گروہوں کے نظریات کی یہ مغائرت اس حد تک بڑھ چکی ہے ع ”کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی !“
یعنی آج بہت سے مذاہب کی اصلی شکل کو پہچاننا بھی ممکن نہیں رہا۔ ان کے بگڑے ہوئے عقائد کو دیکھ کریقین نہیں آتا کہ کبھی ان کا تعلق بھی دین حق سے تھا۔ بہر حال حقیقت یہی ہے کہ تمام انبیا ورسل علیہ السلام کا تعلق ایک ہی امت سے تھا۔ وہ سب ایک ہی اللہ کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے ‘ البتہ مختلف انبیاء کی شریعتوں کے تفصیلی احکامات میں باہم فرق پایا جاتا رہا ہے۔ یہ مضمون مزید وضاحت کے تحت سورة الشوریٰ میں آئے گا۔
Ayah 21:93آیت 93 وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ ط ”
بقول اقبالؔ :
اُڑائے کچھ ورق لالے نے ‘ کچھ نرگس نے ‘ کچھُ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری !
یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ فَوَرَبِّکَ لَنَسْءَلَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”یہ اسی طرح کی تنبیہہ ہے جس طرح ہم نے ان تفرقہ بازوں کی طرف بھیجی تھی۔ جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ تو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سب سے پوچھ کر رہیں گے“۔ اس کیفیت کی عملی تصویر آج امت مسلمہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ آج ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر جماعت ‘ گروہ یا مسلک کے پیروکاروں نے قرآن کا کوئی ایک موضوع اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بس اسی کی اہمیت ہے اور وہی کل دین ہے۔ مثلاً ایک گروہ قرآن میں سے ُ چن چن کر صرف ان آیات کو اپنی تحریر و تقریرکا موضوع بناتا ہے جن میں حضور ﷺ کی رفعت شان اور محبت کا تذکرہ ہے۔ گویا انہوں نے قرآن کا صرف وہ حصہ اپنے لیے الاٹ کرا لیا ہے۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ الکہف : 110 اور اس سے ملتے جلتے مضامین کی آیات پر ڈیرہ ڈال کر حضور ﷺ کی بشریت کو نمایاں کرنے اور مشرکانہ اوہام کی نفی کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اگر کوئی گروہ اولیاء اللہ اور صوفیاء سے عقیدت کا دعوے دار ہے تو ان کی ہر گفتگو اور تقریر کا محور اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یونس ہی ہوتا ہے۔ الغرض ہر گروہ کے ہاں کتاب اللہ کی چند آیات پر زور ہے اور باقی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ چناچہ آج کے اس دور میں قرآن کو ایک وحدت کی حیثیت سے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے ‘ جس کے لیے ہر صاحب علم کو استطاعت بھر کوشش کرنی چاہیے۔
Ayah 21:94آیت 94 فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ ج ”
اللہ تعالیٰ ”الشّکور“ قدر دان ہے۔ اگر کسی کے دل میں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت موجود ہے تو اس کے اخلاص اور ایثار کے مطابق اس کے ہر نیک عمل کی جزا دی جائے گی۔ ایسے کسی شخص کے چھوٹے سے عمل کی بھی ناقدری نہیں کی جائے گی۔
رہے وہ لوگ جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے لیکن نیکی اور بھلائی کے مختلف کام بھی کرتے ہیں تو اللہ کو ان کے ایسے کسی عمل سے کوئی سروکار نہیں۔ بہر حال جو کوئی بھی نیکی کا کوئی کام اللہ کی رضا اور آخرت کے اجر کی نیت کے بجائے محض دکھاوے یا کسی اور غرض کی بنا پر کرے گا تو اسے اس کا کوئی اجر آخرت میں نہیں ملے گا۔ مثلاً اگر کوئی شخص الیکشن لڑنا چاہتا ہے اور اس کے لیے گھر گھر جا کر خیرات بانٹ رہا ہے تو اس کے اس عمل کے پیچھے اس کا خاص مقصد اور مفاد ہے نہ کہ اللہ کی رضا۔ لہٰذا اللہ کے ہاں ایسا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہے۔
وَاِنَّا لَہٗ کٰتِبُوْنَ ”
خالص ہماری رضا کے حصول کے لیے یا ہمارے دین کی سربلندی کے لیے جو ‘ جہاں اور جب کوئی عمل انجام پارہا ہے ہم اسے اپنے ہاں لکھ رہے ہیں تاکہ ایسے ہر ایک عمل کا پورا پورا اجر دیا جائے۔
Ayah 21:95آیت 95 وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَآ اَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ”
اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن بستیوں پر اللہ کے عذاب کا فیصلہ ہوجاتا تھا ‘ وہاں کے لوگ نبی یا رسول کے آنے کے بعد بھی کفر و شرک سے لوٹنے والے نہیں ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اتمام حجت کے لیے رسول تو بھیج دیتا تھا ‘ لیکن اس کو خوب معلوم تھا کہ کفرو شرک سے ان لوگوں کے رجوع کرنے اور ایمان لانے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ کے عذاب سے جو بستی ایک دفعہ برباد ہوگئی پھر اس کے دوبارہ آباد ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
Ayah 21:96آیت 96 حَتّٰیٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ”
قرآن میں یا جوج اور ماجوج کا ذکر اس آیت کے علاوہ سورة الکہف میں بھی آیا ہے۔ سورة الکہف کے مطالعے کے دوران اس موضوع پر تفصیل سے بحث ہوچکی ہے۔ یاجوج اور ماجوج کی یلغار سے بچاؤ کے لیے ذوالقرنین کی تعمیر شدہ دیوار سے متعلق بہت واضح معلومات دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ دنیا کے نقشے میں ”دربند“ وہ جگہ ہے جہاں پر وہ دیوار تعمیر کی گئی تھی۔ دیوار اب وہاں بالفعل تو قائم نہیں ‘ مگر اس کے واضح آثار اس جگہ پر موجود ہیں۔ ان آثار سے دیوار کی dimensions کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔
آیت زیر نظر سے واضح ہوتا ہے کہ قرب قیامت کے زمانے میں یاجوج اور ماجوج کا سیلاب ایک بار پھر آنے والا ہے۔ اس سلسلے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے دوران یورپی اقوام کی یلغار colonization بھی اس آیت کا مصداق ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے پورے ایشیا اور افریقہ پر بتدریج قبضہ جما لیا تھا۔ یعنی ایک ہی وقت میں فرانسیسی ‘ ولندیزی اور برطانوی اقوام نے ملایا ‘ انڈونیشیا ‘ ہندوستان سمیت پورے ایشیا اور افریقہ کو غلام بنا لیا تھا۔ یہ تمام لوگ سکنڈے نیوین ممالک سے اتری ہوئی اقوام کی نسل سے تھے ‘ جن کو Nordic Races کہتے ہیں اور یورپ کے White Anglo Saxons لوگ بھی انہیں کی اولاد سے ہیں۔ دراصل یہی وہ اقوام ہیں جو مختلف ادوار میں مہذب دنیا پر حملہ آور ہو کر ظلم و ستم اور لوٹ مار کا بازار گرم کرتی رہی ہیں۔ علامہ اقبال نے بھی اپنے اس شعر میں یورپی اقوام کے اس نوآبادیاتی استعمار colonization کو یاجوج اور ماجوج کے تسلط سے تعبیر کیا ہے :
کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف یَنسِلُوْن !
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بظاہر ان اقوام کی افواج کو ان مقبوضہ ممالک سے نکلنا پڑا ‘ لیکن بالواسطہ طور پر وہ اپنے کٹھ پتلی اداروں اور افراد کے ذریعے ان ممالک پر مسلسل اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ورلڈ بینک ‘ آئی ایم ایف اور بہت سے دیگر ملٹی نیشنل ادارے ان کے آلۂ کا رہیں۔
البتہ احادیث میں قرب قیامت کے زمانے کے حالات و واقعات کی جو تفصیل ملتی ہے اس کے مطابق قیامت سے قبل ایک دفعہ پھر یاجوج اور ماجوج کا سیلاب آئے گا۔ ان تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ قرب قیامت کے زمانے میں ایک بہت خوفناک جنگ احادیث میں اس کا نام الملحَمۃ العُظمیٰ ‘ جبکہ عیسائی روایات میں Armageddon بتایا گیا ہے ہوگی جس میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے مقابل ہوں گے۔ فلسطین ‘ شام اور مشرق وسطیٰ کا علاقہ بنیادی طور پر میدان جنگ بنے گا ‘ جس کی وجہ سے اس علاقے میں بہت بڑی تباہی پھیلے گی۔ اسی زمانے میں حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول اور امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ امام مہدی حضرت فاطمہ رض کی نسل اور حضرت حسن رض کی اولاد میں سے ہوں گے۔ اس سے پہلے خراسان اور مشرقی ممالک میں اسلامی حکومت قائم ہوچکی ہوگی اور ان علاقوں سے مسلمان افواج مشرق وسطیٰ میں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے جائیں گی۔ اس جنگ میں بالآخر فتح مسلمانوں کی ہوگی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید ہوگی ‘ جس سے آپ علیہ السلام یہودیوں کو ختم کردیں گے۔ آپ علیہ السلام کی آنکھوں میں ایک خاص تاثیر آج کی لیزر ٹیکنالوجی سے بھی مؤثر ہوگی ‘ جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نگاہ پڑتے ہی یہودی پگھلتے چلے جائیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام دجال جو مسیح ہونے کا جھوٹا دعوے دار ہوگا کو قتل کریں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ دجال بھاگنے کی کوشش میں ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس کو مقام لُدّ پر جا لیں گے اور قتل کردیں گے۔ واضح رہے کہ Lydda اسرائیل کا سب سے بڑا ایئربیس ہے۔
ان سب واقعات کے بعد یا جوج اور ماجوج کے سیلاب کی شکل میں ایک دفعہ پھر دنیا پر مصیبت ٹوٹ پڑے گی۔ آیت زیر نظر میں یاجوج اور ماجوج کی یلغار کے راستوں routs کے لیے لفظ ”حدب“ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی اونچائی کے ہیں۔ مندرجہ بالا آراء کے مطابق جن اقوام پر یاجوج اور ماجوج کا اطلاق ہوتا ہے ان سب کے علاقے ہمالیہ اور وسطی ایشیا کے پہاڑی سلسلوں کے شمال میں واقع ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ لوگ ان پہاڑی سلسلوں کو عبور کرتے ہوئے جنوبی علاقوں پر یلغار کریں اور یوں ”مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ“ کے الفاظ کی عملی تعبیر کا نقشہ دنیا کے سامنے آجائے۔
Ayah 21:97آیت 97 وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا ہِیَ شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط ”
انتہائی خوف کی وجہ سے انسان کی آنکھ حرکت کرنا بھول جاتی ہے۔ کفار و مشرکین قیامت کے دن اسی کیفیت سے دو چار ہوں گے۔
یٰوَیْلَنَا قَدْ کُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْنَ
ہم آخرت کا انکار کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے تمام خبریں مل چکی تھیں لیکن ہم نے غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور اس طرف کبھی توجہ ہی نہ کی۔
Ayahs 21:98–100آیت 100 لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّہُمْ فِیْہَا لَا یَسْمَعُوْنَ ”
ان کے معبود جو ان کے ساتھ ہی جل رہے ہوں گے ‘ وہ ان کی اس چیخ و پکار کو سن نہیں پائیں گے۔
Ayahs 21:101–102آیت 102 لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَہَا ج ”
سورۂ مریم کی آیت 71 وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ج کے مطابق ایک دفعہ جہنم کا مشاہدہ تو سب کو کرایا جائے گا ‘ لیکن پھر اس کے بعد اس کو اہل جنت سے بہت دور کردیا جائے گا۔
وَہُمْ فِیْ مَا اشْتَہَتْ اَنْفُسُہُمْ خٰلِدُوْنَ ”
تمام مرغوبات نفس اہل جنت کو فراہم کردی جائیں گی اور وہ اس کیفیت میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 21:103آیت 103 لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ ”
قیامت کی صورت حال بہت ہی بھیا نک ہوگی۔ اگلی سورت سورة الح ج کے آغاز میں قیامت کی ہولناک کیفیت کا ذکر یوں کیا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ ”اے لوگو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ قیامت کا زلزلہ یقیناً بہت بڑی چیز ہے“۔ لیکن آیت زیر نظر میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کو اس سے کوئی تکلیف اور پریشانی نہیں ہوگی۔
”فزع اکبر“ سے مراد یہاں صرف قیامت کے دن کی سختیاں ہی نہیں بلکہ زمانۂ قرب قیامت کی سختیاں بھی ہیں۔ اس صورت حال کا ذکر احادیث میں کافی تفصیل سے ملتا ہے۔ اِن تفصیلات کے مطابق قرب قیامت کے زمانہ میں مسلمانوں کو عیسائیوں اور یہودیوں کے خلاف ایک بہت خوفناک جنگ لڑنا ہوگی۔ اس جنگ کے کئی مراحل ہوں گے۔ مسلمانوں کو اس میں بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ‘ لیکن اللہ کی خصوصی مدد مسلمانوں کے شامل حال ہوگی۔ اللہ کی یہ مدد ظاہری اور مادی اسباب کی صورت میں بھی سامنے آئے گی۔ انہی اسباب میں سے ایک سبب سرزمین عرب میں ایک مجددامام مہدی کا ظہور بھی ہوگا۔ پھر جب حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہوگا تو مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام اور امام مہدی کی قیادت میں عیسائیوں اور یہودیوں کے اتحاد کا مقابلہ کریں گے۔ اس سے پہلے خراسان اور افغانستان کے علاقوں میں میرے اندازے کے مطابق اس میں پاکستان کا علاقہ بھی شامل ہوگا اسلامی حکومت قائم ہوچکی ہوگی اور اس حکومت کی طرف سے مذکورہ جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے افواج بھیجی جائیں گی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی کامیابی کے بعد آزمائش کا آخری مرحلہ یا جوج اور ماجوج کی یلغار کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اس کے بعد اسلام کا غلبہ ہوگا اور پوری دنیا میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہوجائے گی ‘ جو لگ بھگ چالیس سال مختلف روایات میں مختلف مدت مذکور ہے تک رہے گی۔ یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کا پانچواں دور ہوگا ‘ جس کی خبر احادیث میں دی گئی ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر رض حضرت حذیفہ رض سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَاشَاء اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاءَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ، ثُمَّ تَکُوْنُ خلاَفَۃً عَلٰی مِنْھَاج النُّبُوَّۃِ ، فَتَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَّرْفَعَھَا ، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا ‘ فَیَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَکُوْنَ ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاءَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیَّۃً ‘ فَتَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاءَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃً عَلٰی مِنْہَاج النُّبُوَّۃِ ثُمَّ سَکَتَ 1
”دَور نبوت تم میں اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ چاہے گا ‘ پھر جب وہ اس کو ختم کرنا چاہے گا اس کو ختم کر دے گا۔ پھر نبوت کی طرز پر خلافت کا دور ہوگا ‘ پھر وہ دور رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا ‘ پھر وہ اس کو ختم کر دے گا جب وہ اس کو ختم کرنا چاہے گا۔ پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت ہوگی۔ وہ دور بھی اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ چاہے گا ‘ پھر جب وہ اس کو ختم کرنا چاہے گا تو ختم کر دے گا۔ پھر جبر کی فرماں روائی ہوگی ‘ وہ رہے گی جب تک اللہ چاہے گا ‘ پھر وہ اس کو ختم کر دے گا جب وہ اسے ختم کرنا چاہے گا۔ پھر نبوت کے طرز پر دوبارہ خلافت قائم ہوگی“۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔
اس حدیث کی رو سے پہلا دور دور نبوت ‘ دوسرا دور دور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ‘ تیسرا دور ظالم ملوکیت کا دور ‘ چوتھا غلامی والی ملوکیت کا دور ‘ جبکہ پانچواں اور آخری دور پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا ہے۔ اس خلافت کی خبر آپ ﷺ نے اس حدیث میں بھی دی ہے جو حضرت ثوبان رض سے مروی ہے۔ فرمایا :
اِنَّ اللّٰہَ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ فَرَاَیْتُ مَشَارِقَھَا وَمَغَارِبَھَا ‘ وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مُلْکُھَا مَا زُوِیَ لِیْ مِنْھَا 1
”اللہ تعالیٰ نے مجھے پوری زمین کو لپیٹ کر یا سکیڑکر دکھا دیا۔ چناچہ میں نے اس کے سارے مشرق بھی دیکھ لیے اور تمام مغرب بھی۔ اور یقین رکھو کہ میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہو کر رہے گی جو مجھے لپیٹ کر یا سکیڑ کر دکھائے گئے۔“
اسی طرح حضرت مقداد بن الاسود رض سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
لاَ یَبْقٰی عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ الاَّ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ کَلِمَۃَ الْاِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِیْزٍ اَوْذُلِّ ذَلِیْلٍ۔۔ اِمَّا یُعِزُّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَیَجْعَلُھُمْ مِنْ اَھْلِھَا اَوْ یُذِلُّھُمْ فَیَدِیْنُوْنَ لَھَا۔۔ قُلْتُ : ”فَیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ“ 2
”روئے ارضی پر نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر باقی رہے گا نہ کمبلوں کا بنا ہوا خیمہ جس میں اللہ اسلام کو داخل نہیں کر دے گا ‘ خواہ کسی عزت والے کے اعزاز کے ساتھ خواہ کسی مغلوب کی مغلوبیت کی صورت میں۔۔ یعنی یا لوگ اسلام قبول کر کے خودبھی عزت کے مستحق بن جائیں گے یا اسلام کی بالادستی تسلیم کر کے اس کی فرماں برداری قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔“ میں راوی نے کہا : تب تو سارے کا سارا دین اللہ کے لیے ہوجائے گا۔“
بہر حال قرآن میں موجود ”بین السطور“ اشاروں اور احادیث میں وارد صریح پیشین گوئیوں کے مطابق قیامت سے پہلے ان واقعات کا رونما ہونا طے ہے ‘ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ البتہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ واقعات کے اس سلسلے کا آغاز کب ہوگا۔
اس کے بعد قیامت کا مرحلہ ہوگا ‘ لیکن قیام قیامت سے قبل ایک خوشگوار ہوا چلے گی جس سے تمام اہل ایمان پر موت طاری ہوجائے گی۔ اس مرحلے کے بعد صرف فساقّ و فجار ہی دنیا میں باقی رہ جائیں گے اور انہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ الاَّ عَلٰی شِرَار النَّاسِ 3
”قیامت صرف شریر لوگوں پر ہی آئے گی۔“
”الفزع الاکبر“ اور ”زلزلۃ الساعۃ“ کی سختیوں کا سامنا بھی انہی لوگوں کو کرنا ہوگا ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو قیامت سے پہلے سکون و اطمینان کی موت دے کر اس دن کی سختیوں اور ہولناکیوں سے بچالے گا۔
وَتَتَلَقّٰٹہُمُ الْمَلآءِکَۃُط ہٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ”
آج آپ لوگوں کو انعامات سے نوازا جائے گا ‘ آپ کی قدر افزائی ہوگی ‘ خلعتیں پہنائی جائیں گی اور اعلیٰ درجے کی مہمان نوازی ہوگی۔
Ayah 21:104آیت 104 یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ ط ”
یہاں پر ”السَّمَوٰت“ جمع کے بجائے صرف السَّمَآء واحد استعمال ہوا ہے ‘ جس سے اس رائے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے کہ یہ صرف آسمان دنیا کے لپیٹے جانے کی خبر ہے اور یہ کہ قیامت کے زلزلے کا عظیم واقعہ : اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ الح ج صرف ہمارے نظام شمسی کے اندر ہی وقوع پذیر ہوگا۔ اسی نظام کے اندر موجودُ کرّے آپس میں ٹکرائیں گے : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ القیامہ اور یوں یہ پورا نظام تہہ وبالا ہوجائے گا۔ فرمایا کہ اس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے کتابوں کے طومار scrolls لپیٹے جاتے ہیں۔
کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ ط ”
اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے Theory of the Expanding Universe کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ اس نظریہ Theory کے مطابق یہ کائنات مسلسل وسیع سے وسیع تر ہو رہی ہے۔ اس میں موجود ہر کہکشاں مسلسل چکر لگا رہی ہے اور یوں ہر کہکشاں کا دائرہ ہر لحظہ پھیلتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے آیت زیر نظر کے الفاظ سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ قیامت برپا کرنے کے لیے کائنات کے پھیلنے کے اس عمل کو الٹا دیا جائے گا ‘ اور اس طرح یہ پھر سے اسی حالت میں آجائے گی جہاں سے اس کے پھیلنے کے عمل کا آغاز ہوا تھا۔ اس تصور کو سمجھنے کے لیے گھڑی کے ”فَنّر“ کی مثال سامنے رکھی جاسکتی ہے ‘ جس کا دائرہ اپنے نقطۂ ارتکاز کے گرد مسلسل پھیلتا رہتا ہے ‘ لیکن جب اس میں چابی بھری جاتی ہے تو یہ پھر سے اسی نقطۂ ارتکاز کے گرد لپٹ کر اپنی پہلی حالت پر واپس آجاتا ہے۔
Ayah 21:105آیت 105 وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْم بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ”
الفاظ کے مفہوم کے مطابق اس وراثت کی دو امکانی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ قیامت سے پہلے اللہ کا دین پوری دنیا پر غالب آجائے گا ‘ اللہ کے نیک بندوں کی حکومت تمام روئے زمین پر قائم ہوجائے گی اور یوں وہ پوری زمین کے مالک یا وارث بن جائیں گے۔ دوسری صورت یہ ہوگی کہ قیام قیامت کے بعد اسی زمین کو جنت میں تبدیل کردیا جائے گا اور اہل جنت کی ابتدائی مہمان نوازی نُزُل یہیں پر ہوگی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو تشریح سورة ابراہیم : 48۔ اور یوں اللہ کے نیک بندے جنت کے وارث بنا دیے جائیں گے۔ اس مفہوم کے مطابق یہاں زمین سے مراد جنت کی زمین ہوگی۔
Ayahs 21:106–107آیت 107 وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ”
یعنی آپ ﷺ کی بعثت صرف جزیرہ نمائے عرب تک محدود نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جزیرۂ نمائے عرب میں اسلام کے عملی طور پر غلبے کے بعد آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد پورا ہوچکا ہوتا ‘ مگر آپ ﷺ تو تمام اہل عالم کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد قرآن میں تین مقامات التوبہ : 33 ‘ الفتح : 28 اور الصف : 9 پر ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے : ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ”وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو بھیجا الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ اسے غالب کر دے تمام ادیان پر“۔ گویا آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد تب پورا ہوگا جب دین اسلامُ کل روئے زمین پر غالب ہوجائے گا۔ اسی مضمون کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے :
وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے !
نور توحید کا اتمام یعنی اسلام کا بطور دین کلی غلبہ جزیرہ نمائے عرب کی حد تک تو حضور ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی ہوگیا تھا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں دین اسلام کے اس اقتدار کو مزید وسعت دینے کا سلسلہ بڑی شد و مد سے شروع ہوا مگر دور عثمانی میں ایک یہودی عبداللہ بن سبا نے سازش کے ذریعے عالم اسلام میں ”الفتنۃ الکبرٰی“ کھڑا کردیا۔ اس کے نتیجے میں حضرت عثمان رض شہید کردیے گئے اور پھر مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب مسلمان ایک دوسرے کی تلواروں سے ہلاک ہوگئے۔ اس فتنہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ نہ صرف غلبہ اسلام کی مزید تصدیر و توسیع کا عمل رک گیا ‘ بلکہ بعض علاقوں سے مسلمانوں کو پسپائی بھی اختیار کرنا پڑی۔ حضور ﷺ کی بعثت چونکہ تا قیام قیامتُ کل روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے اور آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد ”اِظہار دین 1 لحق“ دین حق کا غلبہ ہے ‘ اس لیے یہ دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک آپ ﷺ کی بعثت کا یہ مقصد بہ تمام و کمال پورا نہ ہو اور دین اسلامُ کل عالم انسانی پر غالب نہ ہوجائے۔ اس کا صغریٰ و کبریٰ قرآن سے ثابت ہے اور اس کی تفصیلات کتب احادیث میں موجود ہیں۔
Ayahs 21:108–109آیت 109 فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُکُمْ عَلٰی سَوَآءٍ ط ”
میں نے تم سب لوگوں تک برابر اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ میں نے تمہارے سرداروں پر بھی اتمام حجت کردیا ہے اور عوام کے سامنے بھی حق واضح انداز میں پیش کردیا ہے۔ الغرض تمہارے معاشرے کا کوئی چھوٹا ‘ کوئی بڑا ‘ کوئی امیر اور کوئی غریب فرد ایسا نہیں جس تک میری یہ دعوت نہ پہنچی ہو۔ لہٰذا جو کام اللہ نے میرے ذمے لگایا تھا میں نے اپنی طرف سے اس کا حق ادا کردیا ہے۔
وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ”
تم لوگوں کو جو وعید سنائی جا رہی ہے ‘ جس عذاب یا قیامت کے وقوع پذیر ہونے سے متعلق تم لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے ‘ اس کے بارے میں کوئی ”ٹائم ٹیبل“ میں تم لوگوں کو نہیں دے سکتا۔ میں نہیں جانتا کہ اللہ کا وہ وعدہ کب پورا ہوگا ‘ البتہ یہ بات طے ہے کہ اپنے کرتوتوں کے نتائج و عواقب بہر حال تم لوگوں کو بھگتنے ہوں گے۔
قیامت کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں قطعی علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ‘ البتہ قرآن میں جابجا قیامت اور آثار قیامت کے بارے میں اشارے ملتے ہیں۔ احادیث نبویہ ﷺ کی کتاب الملاحم ‘ کتاب اشراط الساعۃ اور کتاب الفتن کے اندر بھی قرب قیامت کے زمانہ کے حالات و واقعات بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں سابقہ الہامی کتب کے اندر بھی بہت سی پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ اگرچہ ان کتب میں بڑی حد تک ردّ و بدل کردیا گیا ہے ‘ لیکن ان کی بعض عبارات اپنی اصلی حالت میں آج بھی موجود ہیں۔ ان پیشین گوئیوں کے حوالے سے بائبل کی آخری کتاب Book of Revelation بھی بہت اہم ہے جو حضرت یوحنا John کے مکاشفات پر مشتمل ہے ‘ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھے اور حضرت یحییٰ علیہ السلام پیغمبر یوحنا : John the Baptist کے ہم نام تھے۔ ماضی قریب کی شخصیات میں Nostradamous ‘ نعمت شاہ ولی ‘ گاندھی جی ان کی ذاتی ڈائری کی دریافت کے بعد یہ پیشین گوئیاں سامنے آئی ہیں اور وائن برگر کی پیشین گوئیاں ملتی ہیں۔ اس سب کچھ کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت سے پہلے اس دنیا پر بہت مشکل حالات آنے والے ہیں۔ آثار وقرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت اب زیادہ دور نہیں ‘ لیکن اس کے وقوع کے بارے میں قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
Ayahs 21:110–111آیت 111 وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ”
شاید اس عذاب موعود کے واقع ہونے میں تاخیر کی وجہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں کچھ عرصہ اور رہنے بسنے کی مہلت دے کر تم لوگوں کو مزیدآزما نا چاہتا ہو اور اس کے لیے وہ تم لوگوں کو مزید Fresh lease of existance عطا کردے۔ لیکن بالآخر ہوگا وہی جو میں تمہیں بتارہا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عذاب کا آنا ایک شدنی امر ہے اور وہ آکر رہے گا۔
Ayah 21:112آیت 112 قٰلَ رَبِّ احْکُمْ بالْحَقِّ ط ”
چونکہ کفار کے ساتھ کش مکش اور ردّوکدح کا سلسلہ بہت طوالت اختیار کر گیا تھا ‘ اس لیے خود حضور ﷺ بھی چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اب آخری فیصلہ آجانا چاہیے۔
وَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ ”
اس فرمان کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں۔ گویا حضور ﷺ مشرکین کو مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ اے گروہ منکرین ! تم لوگوں کی مخالفت ‘ ہٹ دھرمی اور سازشوں کے خلاف میں اپنے پروردگار سے مدد کا طلب گار ہوں جو مجھ پر بہت مہربان ہے۔ چناچہ پچھلے کئی برس سے جو رویہ تم لوگ میرے خلاف ‘ میری دعوت کے خلاف اور میرے پیروکاروں کے خلاف اپنائے بیٹھے ہو وہ اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ یقیناً ہماری مدد فرمائے گا اور تم لوگوں کو تمہارے کرتوتوں کی قرار واقعی سزا دے گا۔