Ayah 17:35ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا
اگر تم ناپ تول پورا کرتے ہو اور لین دین کے تمام معاملات دیانتداری سے سر انجام دیتے ہو تو حضرت شعیب کے فرمان کے مطابق : بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ھود : 86 ”اللہ کا دیا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو“۔ دیانتداری سے کمایا ہوا منافع تھوڑا بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا کرے گا۔
Ayah 17:36آیت 36 وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ
بحیثیت اشرف المخلوقات انسان کا طرز عمل خالص علم پر مبنی ہونا چاہیے۔ اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے کسی عمل یا نظریے کی بنیاد توہمات پر رکھے یا ایسی معلومات کو لائق اعتناء سمجھے جن کی کوئی علمی سند نہ ہو۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود انسانی علم کی بنیاد اور اس کا منبع کیا ہے ؟ اس سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ بنیادی طور پر انسانی علم کی دو اقسام ہیں۔ ایک اکتسابی علم acquired knowledge اور دوسرا الہامی علم revealed knowledge۔ اکتسابی علم کی بنیاد وہی علم الاسماء ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سکھایا تھا اور جس کا ذکر ہم سورة البقرۃ کے چوتھے رکوع میں پڑھ آئے ہیں۔ اس علم کا تعلق انسانی حواس اور ذہن سے ہے۔ انسان اپنے حواس کی مدد سے یہ علم حاصل کر کے اپنے ذہن میں محفوظ کرتا رہتا ہے۔ جوں جوں انسان کے تجربے اور مشاہدے کا دائرہ پھیلتا ہے اس علم میں بھی توسیع ہوتی جاتی ہے اور یوں یہ علم کرۂ ارض پر انسانی زندگی کے روز اوّل سے لے کر آج تک مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ دوسری طرف الہامی علم ہے جس کا انسان کے حواس سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ اس علم کے تمام ذرائع مثلاً وحی جلی یا خفی الہام کشف اور رؤیائے صادقہ سچے خواب کا تعلق انسان کے حیوانی وجود کے بجائے اس کے روحانی وجود سے ہے۔ انسانی روح اس علم کو براہ راست موصول کرتی ہے اور اس کا مسکن و مرکز انسانی قلب ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ انبیاء پر نازل ہونے والی وحی۔ چاہے جلی ہو یا خفی نبوت کا حصہ ہے اور علمی لحاظ سے ایک قطعی دلیل یا برہان قاطع ہے۔ لیکن کسی عام شخص کو وحی خفی الہام یا کشف کے ذریعے ملنے والا علم دوسروں کے لیے کوئی علمی دلیل فراہم نہیں کرتا۔ ایسا علم صرف متعلقہ شخص کے لیے دلیل ہوسکتا ہے اور وہ بھی صرف اس صورت میں جب وہ خلاف شریعت نہ ہو۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو آیت زیر نظر میں انسان کا اکتسابی علم زیر بحث ہے۔
اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا
اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کے اکتساب و استعمال کے لیے حواس خمسہ جن میں سے دو اہم ترین حواس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اور عقل سے نوازا ہے اور اس لحاظ سے اس کی ان صلاحیتوں کا احتساب بھی ہوگا۔ یہاں پر لفظ فؤاد بہت اہم ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔ عام طور پر اس لفظ کا ترجمہ ”دل“ کیا گیا ہے ‘ مگر اس ترجمے کے لیے کوئی لغوی بنیاد موجود نہیں۔ اس لفظ کا مادہ وہی ہے جس سے لفظ ”فائدہ“ مشتق ہے اور لفظ ”فائدہ“ کے معنی کسی چیز کے اس جوہر یا لب لباب کے ہیں جو اس چیز میں سے اصل مقصود ہوتا ہے۔ پرانے دور کی کتب میں یہ انداز عام ملتا ہے کہ کوئی حکایت یا روایت بیان کرنے کے بعد اس کا نتیجہ بیان کرنے کے لیے لفظ ”فائدہ“ یا صرف ”ف“ لکھ دیا جاتا تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی تفصیل کے خلاصہ یا کسی کام کے نتیجہ کو فائدہ کہا جاتا ہے۔ لفظ ”فئید“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ عربی میں ”فئید“ کسی سبزی یا گوشت وغیرہ کی بھجیا کو کہا جاتا ہے اور اس لفظ فئید میں بھی نتیجہ یا خلاصہ وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی گوشت وغیرہ کو ابالنے یا بھوننے سے جب اس کا فالتو پانی خشک ہوجاتا ہے تب اس میں سے بہت تھوڑی مقدار میں وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس پر لفظ فئید کا اطلاق ہوتا ہے۔
اس لغوی وضاحت کے بعد لفظ ”فؤاد“ کے مفہوم اور انسانی حواس کے ساتھ اس کے تعلق کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ حواس انسانی اپنے اپنے ذرائع سے معلومات حاصل کر کے دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ دماغ کا کمپیوٹر ان معلومات کو process کرتا ہے پہلے سے موجود اپنے ذخیرۂ معلومات کے ساتھ ان کا تطابق tally یا تقابل compare کرکے اس سارے عمل سے کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے اور پھر اس نتیجہ کو اپنے ذخیرۂ معلومات memory میں محفوظ store کرلیتا ہے۔ اسی ذخیرۂ معلومات کا نام علم ہے اور انسان کی وہ قوت یا صلاحیت جو اس سارے عمل کو ممکن بناتی ہے ”فواد“ کہلانے کی مستحق ہے۔ عرف عام میں اس قوت یا صلاحیت کو عقل یا شعور کہا جاتا ہے۔ چناچہ میرے نزدیک ”فواد“ کا درست ترجمہ عقل یا شعور ہی ہے۔
اس پورے تناظر میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفید حواس sense organs عطا کیے ہیں اور ان حواس سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے اسے نوازا ہے۔ اب اگر انسان اپنے ان حواس سے استفادہ نہ کرے عقل و شعور کی صلاحیت سے کوئی کام نہ لے اور اپنے نظریات کی بنیاد توہمات پر رکھ لے تو وہ بہت بڑے ظلم کا مرتکب ہوگا۔ مثلاً زلزلے کے بارے میں کبھی لوگوں میں یہ نظریہ مشہور تھا کہ ہماری یہ زمین ایک بیل نے اپنے ایک سینگ پر اٹھا رکھی ہے۔ جب وہ تھک جاتا ہے تو اسے دوسرے سینگ پر منتقل کرتا ہے جس سے زلزلہ آجاتا ہے۔ اس مضحکہ خیز نظریے کے لیے نہ تو قرآن و حدیث میں کوئی دلیل موجود ہے اور نہ ہی انسان کے اکتسابی اور تجرباتی علوم اس کے لیے کوئی دلیل فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اپنی ان صلاحیتوں کے حوالے سے اس ہستی کے سامنے جوابدہ رکھا گیا ہے جس نے اسے یہ سب کچھ عطا کیا ہے۔ چناچہ انسان کو چاہیے کہ جس چیز یا خبر کی بنیاد میں الہامی یا اکتسابی و تجرباتی علم کی کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو اسے قابل اعتناء نہ سمجھے اور اپنے فکار و نظریات کی بنیاد ایسے ٹھوس علمی حقائق پر رکھے جن کی وہ سائنٹیفک انداز میں توثیق و تصدیق بھی کرسکتا ہو۔ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس نے علمی میدان میں نوع انسانی کی راہنمائی اس راستے کی طرف کی ہے جو انسان کے شایان شان ہے۔
یہاں پر ارسطو کے استخراجی فلسفے کا ذکر کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ایک مدت تک پوری دنیا میں اس فلسفے کا ڈنکا بجتا رہا۔ عالم اسلام میں بھی یہ فلسفہ بہت مقبول رہا اور کئی صدیوں کے بعد اب جا کر کہیں اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی ہے۔ استخراجی منطق deductive knowledge کے مطابق صرف دستیاب معلومات سے ہی نتائج اخد کیے جاتے تھے۔ چناچہ کسی موضوع پر جو تھوڑی بہت معلومات دستیاب ہوتی تھیں وقت کے فلسفی اور حکیم انہی میں سے بال کی کھال اتار اتار کر نتائج اخذ کرتے رہتے تھے۔ اس کے مقابلے میں قرآن نے استقرائی منطق inductive knowledge کا فلسفہ متعارف کرایا اور انسان کو مشاہدے اور تجربے کی مدد سے مسلسل علم حاصل کرنے کی راہ دکھائی : اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ وَاِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ الغاشیۃ ”کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹ کی طرف کہ کیسے پیدا کیا گیا ہے۔ اور آسمان کی طرف کہ کیسے بلند کیا گیا ہے۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے نصب کیے گئے ہیں۔ اور زمین کی طرف کہ کیسے ہموار کی گئی ہے !“ علامہ اقبال نے اس فکر قرآنی کی ترجمانی یوں کی ہے :
کھول آنکھ ‘ زمین دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ !
فطرت اور مظاہر فطرت کے بارے میں ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے قوانین بہت مضبوط اور مستحکم ہونے کے باوجود اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ اللہ جب چاہے فطرت کے ان قوانین کو معطل کرسکتا ہے یا بدل سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اصل حقیقت یہی ہے کہ اس کائنات کا عمومی نظام بہت مضبوط محکم اور اٹل طبعی اصول و قوانین پر چل رہا ہے اور ان قوانین کو معطل کرنے کے معجزات روز روز رونما نہیں ہوتے۔ سمندر حضرت موسیٰ کے لیے نوع انسانی کی تاریخ میں ایک ہی دفعہ پھٹا تھا اور آگ نے ایک ہی دفعہ حضرت ابراہیم کو جلانے سے انکار کیا تھا۔ بہر حال دنیا میں طبعی سائنس Physical Science کی مختلف ٹیکنالوجیز کا وجود فطرت کے اٹل قوانین کا ہی مرہون منت ہے اور اسی وجہ سے آج طرح طرح کی سائنسی ترقی ممکن ہوئی ہے۔ اسی بنیاد پر قرآن ان مظاہر فطرت کو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں قرار دیتا ہے اور انسان کو دعوت فکر دیتا ہے کہ وہ اللہ کی ان نشانیوں کو غور سے دیکھے ان کے اندر کارفرما قوانین کا تجزیاتی مطالعہ کرکے نتائج اخذ کرے اور پھر ان نتائج کو کام میں لاکر اپنی زندگی میں ترقی کی نئی منازل تلاش کرے۔
علامہ اقبال نے اسی حوالے سے اپنے خطبات میں فرمایا ہے :" The inner core of the western civilization is Quranic." کہ موجودہ مغربی تہذیب کا اندرونی محور خالص قرآنی ہے ‘ کیونکہ اس کی بنیاد سائنس پر ہے اور سائنسی علوم کی طرف انسان کی توجہ قرآن نے مبذول کروائی ہے۔ بہرحال قرآن انسان کو ہر قسم کے توہمات رمل نجوم پامسڑی وغیرہ سے بیزار کر کے اپنے معاملات اور نظریات کی بنیاد ٹھوس علمی حقائق پر رکھنے کی ہدایت کرتا ہے۔
انسانی زندگی کے سفر میں توازن رکھنے کے لیے مذکورہ دونوں قسم کے علوم اکتسابی اور الہامی اپنے اپنے دائرۂ عمل میں نہایت اہم ہیں۔ دونوں کی اہمیت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ حضرت آدم کی پیدائش کے فوراً بعد آپ کو علم الاسماء یہ وہی علم ہے جس کا تعلق انسانی حواس سے ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے سے بھی نواز دیا گیا تھا اور آپ کو زمین پر بھیجتے وقت الہامی علم کی اتباع کی ہدایت بھی کردی گئی تھی : فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنْ تَبِعَ ہُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ البقرۃ ”پھر اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی تو ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔“
یورپی معاشرہ اس سلسلے میں بہت بڑی کوتاہی کا مرتکب ہوا ہے کہ اس معاشرے میں ساری توجہ اکتسابی علم پر مرکوز کر کے الہامی علم سے بالکل ہی صرف نظر کرلیا گیا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو آنکھیں دی تھیں ‘ ان میں ایک اکتسابی علم کی آنکھ تھی اور دوسری الہامی علم کی۔ یورپ میں ایک آنکھ کو مکمل طور پر بند کر کے ہرچیز کو دیکھنے اور پرکھنے کے لیے دوسری اکیلی آنکھ پر ہی انحصار کرلیا گیا۔ نتیجتاً نہ تو انسان کی سوچ میں اعتدال رہا نہ عمل میں توازن اور یوں اس پورے معاشرے نے یک چشمی دجالیت کی شکل اختیار کرلی۔
Ayah 17:37آیت 37 وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا
تم جس قدر چاہو طاقتور ہوجاؤ اور ہماری زمین پر جتنا بھی اکڑ اکڑ کر اور پاؤں مار مار کر چل لو تم اپنی طاقت سے زمین کو پھاڑ نہیں سکتے اور جس قدر چاہو گردن اکڑا لو اور طرہ و دستار سے سربلند کرلو تم قد میں ہمارے پہاڑوں کے برابر تو نہیں ہوسکتے۔
Ayah 17:38آیت 38 كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا
یعنی یہ جتنے بھی احکام ہیں ان میں اوامر Dos بھی ہیں اور نواہی Donts بھی۔ جہاں کسی کام کے کرنے کا حکم ہے وہاں اسے نہ کرنا برائی ہے اور جہاں کسی کام سے روکا گیا ہے وہاں اس میں ملوث ہونا برائی ہے۔ اور نافرمانی اور برائی اللہ تعالیٰ کو ہر صورت میں ناپسند ہے۔
Ayah 17:39آیت 39 ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ
یہ احکام نوع انسانی کے لیے خزینہ حکمت ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن ثقافت اور اجتماعیت کے ان اصولوں پر کاربند ہو کر انسان اسی دنیا میں اپنی اجتماعی زندگی کو جنت بنا سکتا ہے۔
وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا
یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ان احکام میں اول و آخر توحید کا حکم دیا گیا ہے۔ آغاز میں وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا الآَّ اِیَّاہُ کے الفاظ آئے تھے ‘ جبکہ آخر میں اسی مضمون کو وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ کے الفاظ میں پھر دہرایا گیا ہے۔
Ayah 17:40آیت 40 اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًا
یہ اہل عرب کے اس عقیدے کا جواب ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ لوگ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ کی بنیاد پر ان سے سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہو اسے آخر کس منطق کے مطابق اللہ سے منسوب کرتے ہو ؟
Ayah 17:41آیت 41 وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا
ان کی نصیحت کے لیے ہم نے قرآن میں اسلوب بدل بدل کر حق کو واضح کیا ہے۔ اس سورة مبارکہ کے بارے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں قرآن کا لفظ اور ذکر بار بار آیا ہے۔ گویا اس سورت کے مضامین کا تانا بانا قرآن سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے آیت 9 میں فرمایا گیا : اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ ۔ آیت زیر نظر میں بھی قرآن کا ذکر ہے اور یہ ذکر اس انداز میں آئندہ آیات میں بھی بار بار آئے گا۔
وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا
یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ قرآن میں گوناگوں اسلوبوں میں حق واضح ہوجانے کے باوجود ان کی بیزاری اور نفرت ہی میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ حق سے اور زیادہ دور بھاگے جا رہے ہیں۔
Ayahs 17:42–43آیت 42 قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا
اگر واقعی اللہ کے ساتھ ساتھ دوسرے معبودوں کا بھی کوئی وجود ہوتا تو وہ ضرور سرکشی اور بغاوت کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں آنے کی کوشش کرتے۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے راجوں کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح کوشش کر کے مہاراجہ کی کرسی تک پہنچ جائیں اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ بغاوت تک کا خطرہ مول لے لیتے ہیں اسی طرح اگر اللہ کے بھی شریک ہوتے تو وہ بھی اللہ کے مقابلے میں ضرور مہم جوئی کرتے اور اگر ایسا ہوتا تو اس کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔
Ayah 17:44آیت 44 تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ
اس کائنات کی ایک ایک چیز چاہے جاندار ہو یا بظاہر بےجان وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ تسبیح کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کائنات کی ہرچیز اپنے وجود سے گویا اپنے خالق کی خلاقی اور اپنے صانع کی صناعی کا اعلان کر رہی ہے۔ جیسے ایک تصویر اپنے مصور کے معیارِ فن کا اظہار کرتی ہے لیکن تمام مخلوقات کا ایک طرز تسبیح قولی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو زبان عطا کر رکھی ہے اور وہ اپنی زبان خاص سے اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے۔
اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا
ہر چیز کا یہی انداز تسبیح ہے جس کا ادراک انسان نہیں کرسکتے۔ سورة حٰم السجدہ کی آیت 21 میں اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا ذکر ہے کہ اس نے ہرچیز کو قوت ناطقہ عطا کی ہے۔ روز محشر جب انسانوں کے اپنے اعضاء ان کے خلاف شہادت دیں گے تو وہ حیران ہو کر اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ یہ سب کیا ہے ؟ قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ ”ان کے چمڑے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا کی ہے جس نے ہرچیز کو بولنا سکھایا ہے۔“
Ayah 17:45آیت 45 وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا
اس آیت میں ایک دفعہ پھر قرآن کا ذکر آیا ہے۔ یہاں ایک غیر مرئی پردے کا ذکر ہے جو منکرین آخرت اور ہدایت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ ایسے لوگوں کے ہر عمل کا معیار و مقصود صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہے۔ وہ نہ تو آخرت کی زندگی کے قائل ہیں اور نہ ہی وہاں کے اجر وثواب کے بارے میں سنجیدہ۔ دنیا میں وہ ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“ کے نظریے پر زندگی بسر کر رہے ہیں اور قرآن کو یا ہدایت کی کسی بھی بات کو توجہ سے نہیں سنتے۔ ایسے لوگوں کو ان کے اسی رویے کی بنا پر ہدایت سے مستقلاً محروم کردیا جاتا ہے۔ اور چونکہ یہ اللہ کا قانون ہے اس لیے آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب کیا ہے کہ جب آپ انہیں قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ان کے غیر سنجیدہ رویے ّ کی بنا پر ہم آپ کے اور ان کے درمیان ایک غیر مرئی پردہ حائل کردیتے ہیں۔
Ayah 17:46وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا
یہ لوگ اپنے تعصب کی وجہ سے اکیلے اللہ کا ذکر بطور معبود برداشت ہی نہیں کرسکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کے معبودوں کا بھی کبھی کبھار ذکر ہوا کرے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ اکیلے اللہ کا ذکر سننے کو تیار نہیں ہیں۔ چناچہ وہ بدک کر نفرت کے ساتھ پیٹھ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔
Ayah 17:47آیت 47 نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ
قریش مکہ کی اس چال کا ذکر پہلے بھی ہوچکا ہے۔ ان کے بعض بڑے سردار اپنے عوام کو دھوکا دینے کے لیے رسول اللہ کی مجلس میں آتے اور بظاہر بڑے انہماک سے سب کچھ سنتے۔ پھر واپس جا کر کہتے کہ لو جی ہم تو بڑے خلوص اور اشتیاق کے ساتھ گئے تھے محمد کی محفل میں کہ وہ جو کلام پیش کرتے ہیں اس کو سنیں اور سمجھیں مگر افسوس کہ ہمیں تو وہاں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس طرح وہ کوشش کرتے کہ ان کے عوام بھی ان کے ہم نوا بن جائیں اور ان میں بھی یہ سوچ عام ہوجائے کہ یہ بڑے بڑے سردار آخر سمجھدار ہیں بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں محمد کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے مخلص بھی ہیں اور اسی اخلاص میں وہ خصوصی طور پر آپ کی مجلس میں بھی جاتے ہیں۔ اگر اس نئے کلام میں کوئی خاص بات ہوتی تو وہ ضرور ان کی سمجھ میں آجاتی۔ اب جب یہ لوگ وہاں جا کر اور اس کلام کو سن کر کہہ رہے ہیں کہ اس میں کچھ بھی خاص بات نہیں ہے تو یقیناً یہ لوگ سچ ہی کہہ رہے ہیں۔
وَاِذْ هُمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا
ان میں سے کسی کے دل پر جب قرآن کی کوئی آیت اثر کرتی ہے اور وہ اس کا اظہار اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں بھئی محمد نے آج جو فلاں بات کی ہے اس میں بہت وزن ہے اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تو ایسی صورت میں وہ فوراً اس کا توڑ کرنے کے لیے اپنے اس ساتھی کو سمجھانا شروع کردیتے ہیں کہ جی چھوڑو ! تم کہاں ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے چل پڑے۔ ان کی باتوں پر کوئی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 17:48آیت 48 اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ
کبھی وہ آپ کو سحر زدہ آدمی کہتے ہیں کبھی کاہن اور کبھی شاعر ! دیکھیں کیسی کیسی بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور اس میں بھی کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں کرسکتے۔
Ayahs 17:49–50آیت 49 وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا
یہ لوگ آپ سے بڑی حیرت سے سوال کرتے ہیں کہ آپ جو انسانوں کی دوبارہ زندگی کی بات کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے ؟ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور گوشت گل سڑ جائے گا تو اس کے بعد ہمیں پھر سے نئی زندگی کیسے مل سکتی ہے ؟ گویا ان کی سوچ کے مطابق ایسا ہونا بالکل محال اور ناممکن ہے۔
Ayah 17:51آیت 51 اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ
اے نبی ! ان سے کہیے کہ آپ تو ہڈیوں کی بات کرتے ہو اور اپنے جسموں کے ریزہ ریزہ ہو کر ختم ہوجانے کا تصور لیے بیٹھے ہو۔ تم اگر پتھر اور لوہا بھی بن جاؤ یا اپنی سوچ کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر کسی عجیب مخلوق کا روپ دھار لو تب بھی تمہیں ازسرنو اٹھا لیا جائے گا۔
فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ
لا جواب ہو کر اپنے سروں کو مٹکاتے ہوئے بولیں گے کہ چلو مان لیا کہ یہ سب کچھ ممکن ہے مگر یہ تو بتائیے کہ ایسا ہوگا کب ؟
قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا
عجب نہیں کہ تمہاری شامت کی وہ گھڑی آیا ہی چاہتی ہو زیادہ دور نہ ہو۔
Ayah 17:52آیت 52 يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ
جب وہ گھڑی آئے گی اور تمہارا خالق تمہیں قبروں سے باہر آنے کے لیے بلائے گا تو تمہاری ہڈیاں اور تمہارے جسموں کے بکھرے ذرات سب سمٹ کر پھر سے زندہ انسانوں کا روپ دھار لیں گے اور تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کی تعمیل میں بھاگے چلے جا رہے ہو گے۔
وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا
اس وقت تمہیں دنیا اور عالم برزخ قبر میں اپنا بیتا ہوا زمانہ ایسے لگے گا جیسے کہ چند گھڑیاں ہی تم وہاں گزار کر آئے ہو۔
Ayah 17:53آیت 53 وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ
یہاں وہ نکتہ ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی قبل ازیں وضاحت ہوچکی ہے کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ ان سے براہ راست تخاطب کا سلسلہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا تحویل قبلہ کے بعد شروع ہوا جب انہیں باقاعدہ امت مسلمہ کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کو رسول اللہ کی وساطت سے ہی مخاطب کیا جاتا رہا۔ چناچہ اسی اصول کے تحت یہاں بھی حضور سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ میرے بندوں مؤمنین کو میری طرف سے یہ بتادیں کہ وہ ہر حال میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں اور گفتگو میں کبھی ترشی اور تلخی نہ آنے دیں۔ اس طرح آپس میں بھی شیر و شکر بن کر رہیں اور مخالفین کے سامنے بھی بہتر اخلاق کا نمونہ پیش کریں۔ اقامت دین کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے مؤمنین کے سامنے بہت زیادہ رکاوٹیں ہیں۔ ان کے مخاطبین جہالت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے جاہلانہ اعتقادات نسلوں سے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح انہیں اپنے رسم و رواج سیاسی و معاشی مفادات اور غیرت و حمیت کے جذبات بہت عزیز ہیں۔ انہیں اس سب کچھ کا دفاع کرنا ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔ ان حالات میں داعیانِ حق کو تحمل بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اشتعال میں آکر اعلیٰ اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔
Ayah 17:54وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا
ہدایت کو قبول کرنا یا نہ کرنا ہر شخص کا ذاتی معاملہ اور ذاتی انتخاب ہے۔ آپ ان تک پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں انہیں ہدایت پر لانے کے مکلف نہیں۔
Ayahs 17:55–56وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ
یہاں اس فقرے کے سیاق وسباق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة بنی اسرائیل مکی دور کے آخری برسوں میں نازل ہوئی اور اس کا آغاز بھی بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہوا۔ اس سورة کے نزول سے پہلے نبی آخرالزماں کی بعثت اور قرآن کے بارے میں تمام خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ایک ایک بات اور ایک ایک خبر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ پھر عنقریب حضور خود بھی مدینہ تشریف لانے والے تھے۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ عقائد و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہونا تھا تو انبیاء کرام کے فضائل کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ناگزیر تھا کہ اگر محمد نبی ہیں تو آپ اور موسیٰ میں سے افضل کون ہیں ؟ یا یہ مسئلہ کہ محمد افضل ہیں یا عیسیٰ ؟ چناچہ اس حوالے سے یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات بیان فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں موجود اپنی تمام مخلوق کے احوال و کیفیات سے خوب واقف ہے اور اس نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 253 میں یہی بات یوں بیان فرمائی گئی ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ”یہ رسول ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“۔ ایسا نہ ہو کہ اس بحث میں پڑ کر آپ لوگ اپنے نبی کی فضیلت اس طرح بیان کریں کہ مخالفین کے منفی جذبات کو ہوا ملے اور وہ تعصب سے مغلوب ہو کر آپ کی بات ہی سننے سے انکار کردیں۔
یہ بہت نازک مسئلہ ہے اور اس کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ سب سے افضل ہیں مگر موقع و محل دیکھے بغیر اپنے اس عقیدے کا اس طرح سے چرچا کرنا درست نہیں کہ اس سے دوسرے مشتعل ہوں اور ان کے مخالفانہ جذبات و خیالات کو انگیخت ملے۔ اس ضمن میں حضور کی واضح حدیث ہے کہ لَا تُفَضِّلُوْا بَیْنَ اَنْبِیَاء اللّٰہِ ”اللہ کے نبیوں کے مابین درجہ بندی نہ کیا کرو“۔ آپ نے مزید فرمایا : لاَ یَنْبَغِیْْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی ”کسی شخص کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں محمد یونس بن متی ٰسے افضل ہوں“۔ آپ نے یہاں حضرت یونس کا ذکر شاید اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس واحد نبی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ گرفت ہوئی ہے۔ بہر حال آپ نے واضح طور پر اس سے منع فرمایا ہے کہ دوسرے انبیاء پر آپ کی فضیلت کا پرچار کیا جائے۔
وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا
اسی سیاق وسباق کی مناسبت سے یہاں بنی اسرائیل کے ایک نبی کا تذکرہ فرما دیا اور آپ کی فضیلت بھی بیان فرما دی کہ حضرت داؤد کو ہم نے زبور جیسی جلیل القدر کتاب عطا فرمائی تھی۔ یہاں پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ موقع و محل کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و رسل کے فضائل اور اعلیٰ مراتب کے ذکر سے ان کی عزت افزائی کرتا ہے۔
Ayah 17:57آیت 57 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ
لفظ ”وسیلہ“ بمعنی قرب اس سے پہلے ہم سورة المائدۃ آیت 35 میں پڑھ چکے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں اللہ کے بندے اللہ کے ہاں اپنے درجات بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں اسی طرح عالم غیب یا عالم امر میں بھی تقرب الی اللہ کی یہ درجہ بندی موجود ہے۔ جیسے فرشتوں میں طبقہ اسفل کے فرشتے پھر درجہ اعلیٰ کے فرشتے اور پھر ملائکہ مقربین ہیں۔
اللہ کی شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو بالکل خیالی ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن ان کے علاوہ ہر زمانے میں لوگ انبیاء اولیاء اللہ اور فرشتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک سمجھتے رہے ہیں۔ ایسی ہی شخصیات کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ چاہے انبیاء و رسل ہوں یا اولیاء اللہ یا فرشتے وہ تو عالم امر میں خود اللہ کی رضا جوئی کے لیے کوشاں اور اس کے قرب کے متلاشی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں متعدد بار ذکر ہوا ہے کہ ایسی تمام شخصیات جنہیں دنیا میں مختلف انداز میں اللہ کے سوا پکارا جاتا تھا قیامت کے دن اپنے عقیدت مندوں کے مشرکانہ نظریات سے اظہار بیزاری کریں گی اور صاف کہہ دیں گی کہ اگر یہ لوگ ہمارے پیچھے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہراتے رہے تھے تو ہمیں اس بارے میں کچھ خبر نہیں۔
Ayah 17:58آیت 58 وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا
یہ اشارہ ہے اس بہت بڑی تباہی کی طرف جو قیامت سے پہلے اس دنیا پر آنے والی ہے۔ سورة الکہف کی دوسری آیت میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : لِیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ۔ سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف کا آپس میں چونکہ زوجیت کا تعلق ہے اس لیے یہ مضمون ان دونوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے واضح ہوتا ہے۔ احادیث میں الملحمۃ العُظمٰی کے نام سے ایک بہت بڑی جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو قیامت سے پہلے دنیا میں برپا ہوگی۔ آیت زیر نظر میں اسی تباہی کا ذکر ہے جس سے روئے زمین پر موجود کوئی بستی محفوظ نہیں رہے گی۔ سورة الکہف میں زیادہ صراحت کے ساتھ اس کا تذکرہ آئے گا۔
اس وقت دنیا میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا امکان ہر وقت موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت ایسا سانحہ رونما ہوجاتا ہے تو ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے دنیا پر جو تباہی آئے گی اس کو تصور میں لانا بھی مشکل ہے۔ ان حالات میں الملحمۃ العُظمٰی کے بارے میں پیشین گوئیاں آج مجسم صورت میں سامنے کھڑی نظر آتی ہیں۔
كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا
یعنی یہ طے شدہ امور میں سے ہے۔ ایک وقت معین پر یہ سب کچھ ہو کر رہنا ہے۔
Ayah 17:59آیت 59 وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ
اللہ تعالیٰ نے حسی معجزات دکھانے صرف اس لیے بند کردیے ہیں کہ سابقہ قوموں کے لوگ ایسے معجزات کو دیکھ کر بھی کفر پر ڈٹے رہے اور ایمان نہ لائے۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الانعام اور اس کے بعد نازل ہونے والی مکی سورتوں میں تسلسل سے دہرایا جا رہا ہے۔
وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا
قوم ثمود کو ان کے مطالبے پر اونٹنی کا بصیرت افروز معجزہ دکھایا گیا مگر انہوں نے اس واضح معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی حضرت صالح پر ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی ہی کو مار ڈالا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کو مٹی سے زندہ پرندے بنانے اور ”قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ“ کہہ کر مردوں کو زندہ کرنے تک کے معجزات دیے گئے ‘ مگر کیا انہیں دیکھ کر وہ لوگ ایمان لے آئے ؟
وَمَا نُرْسِلُ بالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا
نشانیاں یا معجزے بھیجنے کا مقصد تو لوگوں کو خبردار کرنا ہوتا ہے سو یہ مقصد قرآن کی آیات بخوبی پورا کر رہی ہیں۔ اس کے بعد اب اور کون سی نشانیوں کی ضرورت باقی ہے ؟ اگلی آیت میں یہی بات تین مثالوں سے مزید واضح کی گئی ہے کہ یہ لوگ کس طرح قرآن کی آیات کے ساتھ بحث برائے بحث اور انکار کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور یہ کہ اللہ نے حسی معجزات دکھانا کیوں بند کردیے ہیں۔
Ayah 17:60آیت 60 وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ
قرآن حکیم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ‘ مثلاً : وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآءِہِمْ مُّحِیْطٌ البروج ”اور اللہ ان کا ہر طرف سے احاطہ کیے ہوئے ہے“۔ یہ لوگ جب ایسی آیات سنتے ہیں تو ڈرنے کی بجائے فضول بحث پر اتر آتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ کہاں ہے اللہ ؟ ہمارا احاطہ کیوں کر ہوا ہے ؟
اگر فلسفیانہ پہلو سے دیکھا جائے تو اس آیت میں ”حقیقت و ماہیت وجود“ کے موضوع سے متعلق اشارہ پایا جاتا ہے جو فلسفے کا مشکل ترین مسئلہ ہے اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا نہیں ہے یعنی ایک وجود خالق کا ہے وہ ہر جگہ ہر آن موجود ہے اور ایک وجود مخلوق یعنی اس کائنات کا ہے۔ اب خالق و مخلوق کے مابین ربط کیا ہے ؟ اس سلسلے میں کچھ لوگ ”ہمہ اوست“ Pantheism کے قائل ہوگئے۔ ان کے خیال کے مطابق یہ کائنات ہی خدا ہے خدا نے ہی کائنات کا روپ دھار لیا ہے جیسے خدا خود ہی انسانوں کا روپ دھار کر ”اوتار“ کی صورت میں زمین پر آجاتا ہے۔ یہ بہت بڑا کفر اور شرک ہے۔ دوسری طرف اگر یہ سمجھیں کہ اللہ کا وجود اس کائنات میں نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا وجود کہیں الگ ہے اور وہ نعوذ باللہ کہیں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا۔ ہمیں بس اس قدر سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ کا وجودمطلق Absolute ہے۔ وہ حدود وقیود زمان و مکان کسی سمت یا جہت کے تصور سے ماوراء وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے۔
وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ
یہاں پر لفظ ”رؤیا“ خواب کے معنی میں نہیں آیا بلکہ اس سے رُؤیت بصری مراد ہے۔ انسان اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتا ہے اس پر بھی ”رؤیا“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں حضور کو جو مشاہدات کرائے تھے اور جو نشانیاں آپ کو دکھائی تھیں ان کی تفصیل جب کفار مکہ نے سنی تو یہ معاملہ ان کے لیے ایک فتنہ بن گیا۔ وہ نہ صرف خود اس کے منکر ہوئے ‘ بلکہ اس کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے پوری شد و مد سے یہ پرچار شروع کردیا کہ محمد پر جنون کے اثرات ہوچکے ہیں معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ اس زمانے میں جب مکہ سے بیت المقدس پہنچنے میں پندرہ دن لگتے تھے یہ دعویٰ انتہائی ناقابل یقین معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شخص راتوں رات نہ صرف بیت المقدس سے ہو آیا ہے بلکہ آسمانوں کی سیر بھی کر آیا ہے۔ چناچہ انہوں نے موقع غنیمت سمجھ کر اس موضوع کو خوب اچھالا اور مسلمانوں سے بڑھ چڑھ کر بحث مباحثے کیے۔ اس طرح نہ صرف یہ بات کفار کے لیے فتنہ بن گئی بلکہ مسلمانوں کے لیے بھی ایک آزمائش قرار پائی۔
جب یہی ناقابل یقین بات ان لوگوں نے حضرت ابوبکر سے کی اور آپ سے تبصرہ چاہا تو آپ نے بلا توقف جواب دیا کہ اگر واقعی حضور نے ایسا فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے کیونکہ جب میں یہ مانتا ہوں کہ آپ کے پاس آسمانوں سے ہر روز فرشتہ آتا ہے تو مجھے آپ کا یہ دعویٰ تسلیم کرنے میں آخر کیونکر تامل ہوگا کہ آپ راتوں رات آسمانوں کی سیر کر آئے ہیں ! اسی بلا تامل تصدیق کی بنا پر اس دن سے حضرت ابوبکر کا لقب ”صدیق اکبر“ قرار پایا۔
وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ
اسی طرح جب قرآن میں زقوم کے درخت کا ذکر آیا اور اس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ اس درخت کی جڑیں جہنم کی تہہ میں ہوں گی الصافات : 64 اور وہاں سے یہ جہنم کی آگ میں پروان چڑھے گا تو یہ بات بھی ان لوگوں کے لیے فتنے کا باعث بن گئی۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگ اسے اللہ کی قدرت سمجھ کر تسلیم کرلیتے الٹے اس بات پر تمسخر اور استہزا کرنے لگے کہ آگ کے اندر بھلا درخت کیسے پیدا ہوسکتے ہیں ؟ انہیں کیا معلوم کہ یہ اس عالم کی بات ہے جس کے طبعی قوانین اس دنیا کے طبعی قوانین سے مختلف ہوں گے اور جہنم کی آگ کی نوعیت اور کیفیت بھی ہماری دنیا کی آگ سے مختلف ہوگی۔
وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا
قرآن میں یہ سب باتیں انہیں خبردار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں مگر یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ اللہ کی آیات سن کر ڈرنے اور ایمان لانے کی بجائے وہ مزید سرکش ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی سرکشی میں روز بروز مزید اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔
Ayahs 17:61–63قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا
حضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع 4 ‘ سورة الاعراف رکوع 2 اور سورة الحجر رکوع 3 میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔
Ayah 17:64آیت 64 وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ
عربی میں بکری کے ایسے نوزائیدہ بچے کو فزّ کہتے ہیں جو ابھی ٹھیک سے چلنے کے قابل نہ ہو اور کھڑا ہونے کی کوشش میں اس کی ٹانگیں لڑ کھڑاتی ہوں۔ اس مناسبت سے یہ لفظ محاورۃً اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کی ٹانگیں کسی معاملے میں لڑ کھڑا جائیں قدم ڈگمگا جائیں اور ہمت جواب دے دے۔
Ayahs 17:65–66آیت 65 اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ
تم انسانوں کو بہکانے اور پھسلانے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہو کرلو ان کے دلوں میں وسوسے ڈالو ان سے جھوٹے سچے وعدے کرو اور انہیں سبز باغ دکھاؤ۔ یہ تمام حربے تو تم استعمال کرسکتے ہو لیکن تمہیں یہ اختیار ہرگز نہیں ہوگا کہ تم میرے کسی بندے کو اس کی مرضی کے خلاف گمراہی کے راستے پر لے جاؤ۔
وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا
وہ بندے جو شیطان سے بچنا چاہیں گے اللہ ان کی مدد کرے گا اور جس کسی کا مدد گار اور کارساز اللہ ہو اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی وہی اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔
Ayah 17:67آیت 67 وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ
جب کشتی طوفان میں گھر جاتی ہے اور موت سامنے نظر آنے لگتی ہے تو :
ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ
اس وقت تمہیں اپنے ان معبودوں میں سے کوئی بھی یاد نہیں رہتا جنہیں تم عام حالات میں اپنا مددگار سمجھتے ہو۔ اس آڑے وقت میں تم صرف اللہ ہی کو مدد کے لیے پکارتے ہو۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آچکا ہے۔
Ayah 17:68آیت 68 اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ
جب تم جان بچا کر سمند رسے خشکی پر آتے ہو تو پھر اللہ کی نا شکری کرتے ہوئے اس سے منہ موڑ لیتے۔ کیا تمہیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ اگر اللہ چاہے تو تمہیں خشک زمین ہی کے اندر دھنسا دے ؟ کیا خشکی پر لوگوں کو موت نہیں آتی ؟
آسودۂ ساحل توُ ہے مگر شاید یہ تجھے معلوم نہیں
ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں !
اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا
تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ چاہے تو سنگریزوں والی خوفناک آندھی سے بھی تمہیں ہلاک کرسکتا ہے۔
Ayah 17:69فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا
پھر ایسا نہیں کہ کوئی ہم سے باز پرس کرسکے کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ کیوں کیا ؟
Ayah 17:70آیت 70 وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ
یہ آیت بہت واضح انداز میں اس حقیقت کا اظہار کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج climax انسان ہے۔ اس فلسفے کی وضاحت سورة النحل کی آیت 40 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکی ہے۔ وہاں میں نے بہت تفصیل سے کائنات اور انسان کی تخلیق کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز اللہ تعالیٰ کا امر کن ہے۔ حرف کن سے خنک نور کا ظہور ہوا اس نور سے ملائکہ اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی پھر Big Bang کے نتیجے میں حرارت کا گولا وجود میں آیا جس کے متحرک ذرات سے کہکشائیں ستارے اور سیارے بنے۔ اسی دور میں اس حرارت سے جنات کی تخلیق ہوئی۔ دوسرے بیشمار ستاروں اور سیاروں کی طرح ہماری زمین بھی ابتدا میں بہت گرم تھی۔ یہ آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی۔ پھر اس پر ہزاروں برس مسلسل بارش برستی رہی جس سے زمین پر ہر طرف پانی پھیل گیا۔ اس کے بعد زمین پر نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد پھر تمام مخلوق کے بادشاہ ”انسان“ کی تخلیق عمل میں آئی۔ اس پورے فلسفے کو مرزا بیدل نے اپنے اس شعر میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے :
ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی
اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش !
اس خوبصورت شعر کا مفہوم و مطلب بھی سورة النحل کی مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت بیان کیا گیا ہے۔
وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
یہاں ”ہم“ سے اللہ تعالیٰ کا نظام قدرت مراد ہے جس کے تحت بحر و بر میں انسانوں کی مختلف نوعیت کی سرگرمیاں ممکن بنا دی گئیں ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہ معاون اور دوستانہ ماحول انسان کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے ہے۔
Ayah 17:71آیت 71 يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ
پھر ذرا اس دن کا خیال کرو جس دن تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے لیے اس طرح بلایا جائے گا کہ ہر گروہ اپنے راہنما یا لیڈر کے ساتھ حاضر ہوگا۔ پچھلی آیات میں تمام مخلوق پر انسان کی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ جب انسان کو اس کائنات میں اس قدر اعلیٰ مقام اور مرتبے سے نوازا گیا ہے تو پھر اس کا محاسبہ بھی ہونا چاہیے : ”جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے !“
Ayah 17:72آیت 72 وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا
جس شخص نے اس دنیا میں اپنی پوری زندگی حیوانوں کی طرح گزار دی جس کا دیکھنا اور سننا حیوانوں کا سا دیکھنا اور سننا تھا جس نے نہ تو انفس و آفاق میں بکھری ہوئی اللہ تعالیٰ کی اَن گنت نشانیوں کو چشم بصیرت سے دیکھا نہ ان کے ذریعے سے اپنے خالق ومالک کو پہچانا اس نے اپنی زندگی گویا اندھے پن میں گزار دی۔ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ وہ اندھا ہوگا۔ اسی اندھے پن سے بچنے کے لیے علامہ اقبال نے کیا خوب نصیحت کی ہے : ”دیدن دگر آموز شنیدن دگر آموز !“
Ayah 17:73آیت 73 وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ
یہ آیت اس بےپناہ دباؤ کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس کا سامنا رسول اللہ کو قریش کی طرف سے مکہ میں تھا۔ ایک طرف تو قریش مکہ آپ پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے کہ آپ قرآن کے غیر لچک دار احکام میں کچھ نرمی پیدا کریں اس کلام میں کچھ ترمیم کرلیں کچھ اپنی بات منوائیں اور کچھ ہماری مانیں۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة یونس آیت 15 میں بھی آچکا ہے : ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ ”اے محمد آپ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن پیش کریں یا پھر اس میں کچھ ردّوبدل کرلیں۔“
دوسری طرف وہ مسلسل یہ مطالبہ بھی کیے جاتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو نشانی کے طور پر ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں۔ ان کا یہ مطالبہ ان کے عوام تک میں بہت مقبول ہوچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حضور کی اپنی خواہش بھی یہی تھی کہ انہیں کوئی معجزہ دکھا دیا جائے ‘ مگر اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ انہیں کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔ اس سے پہلے سورة الانعام آیت 35 میں ہم اللہ تعالیٰ کا دو ٹوک فیصلہ بایں الفاظ پڑھ آئے ہیں : وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاۗءِ فَتَاْتِيَهُمْ بِاٰيَةٍ ”اور اگر آپ پر ان کی یہ بےاعتنائی گراں گزرتی ہے تو اگر آپ استطاعت رکھتے ہیں تو زمین میں کوئی سرنگ کھودیں یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگائیں اور لے آئیں ان کے لیے کوئی معجزہ !“ چناچہ ان دونوں پہلوؤں سے حضور کو شدید دباؤ کا سامنا تھا اور اسی دباؤ کا اظہار اس آیت میں نظر آ رہا ہے۔
وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ اس نوعیت کی مداہنت compromise کے عوض وہ لوگ آپ کو اپنا بادشاہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے۔
Ayah 17:74آیت 74 وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْهِمْ شَـيْــــًٔـا قَلِيْلًا
یہ بہت نازک اور اہم مضمون ہے۔ حضرت یوسف کے بارے میں سورة یوسف آیت 24 میں اسی طرح فرمایا گیا تھا : وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ یعنی عزیز مصر کی بیوی نے تو قصد کر ہی لیا تھا اور یوسف بھی قصد کرلیتے اگر وہ اللہ کی برہان نہ دیکھ لیتے۔ یعنی یہ امکان تھا کہ بر بنائے طبع بشری وہ بھی ارادہ کر بیٹھتے مگر اللہ نے انہیں اس سے محفوظ رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ حضور کے لیے بھی یہاں اسی طرح فرمایا کہ اگر ہم نے آپ کے پاؤں جما کر آپ کے دل کو اچھی طرح سے مضبوط نہ کردیا ہوتا تو قریب تھا کہ آپ کسی نہ کسی حد تک ان کی طرف مائل ہوجاتے۔ بہرحال ان الفاظ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ پر اس دور میں قریش مکہ کی طرف سے کس قدر شدید دباؤ تھا۔