11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا : اے لوط ؑ ! ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے (فرشتے) ہیں یہ لوگ آپ تک نہیں پہنچ پائیں گے پس آپ رات کے (اس بقیہ) حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جائیں اور کوئی بھی آپ میں سے پیچھے مڑکر نہ دیکھے سوائے آپ کی بیوی کے اس پر بھی وہی مصیبت آئے گی جو سب پر آنے والی ہے ان کے وعدے کا وقت صبح کا ہے کیا صبح قریب نہیں ہے

آیت 81 قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ فرشتوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے آپ کو تسلی دی کہ آپ اطمینان رکھیں یہ لوگ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔ پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ ہلایا تو وہ سب نابکار اندھے ہوگئے۔ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ یعنی یہاں سے جاتے ہوئے آپ لوگوں کو پیچھے رہ جانے والوں کی طرف کسی قسم کی کوئی توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِلَّا امْرَاَتَكَ ۭ اِنَّهٗ مُصِيْبُهَا مَآ اَصَابَهُمْ یعنی جب آپ اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکلیں گے تو اپنی بیوی کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے۔ آپ علیہ السلام کی اس بیوی کا ذکر سورة التحریم میں حضرت نوح کی مشرک بیوی کے ساتھ اس طرح ہوا ہے : ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ۭ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْــــًٔا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ 10 ”اللہ کافروں کے لیے مثال بیان کرتا ہے نوح کی بیوی اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی۔ وہ دونوں عورتیں ہمارے دو برگزیدہ بندوں کے تحت تھیں لیکن انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی چناچہ ان کے شوہر انہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکے۔ اور ان دونوں عورتوں سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ۔“ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ اب آپ لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ آپ فوری طور پر اپنی بچیوں کو لے کر یہاں سے نکل جائیں صبح ہوتے ہی ان بستیوں پر عذاب آجائے گا۔ اور صبح ہونے میں اب دیر ہی کتنی ہے !
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے اس کے اوپر (کے حصے) کو نیچا کردیا اور (مزید) ہم نے ان پر بارش برسائی تہہ بر تہہ کنکریوں کی

آیت 82 فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا یعنی ان بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا۔ جب عمارتیں تباہ ہوتی ہیں تو چھت زمین بوس ہوجاتی ہے اور دیواریں اس کے اوپر گرتی ہیں بنیادیں بھی اوپر آجاتی ہیں۔ وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ سِجِّیل اصل میں فارسی لفظ ہے۔ فارسی میں یہ ”سنگ گل“ تھا جو عربی میں آکر سِجِّیل کا تلفظ اختیار کرگیا۔ سنگ کے معنی پتھر اور گل کے معنی مٹی کے ہیں۔ یعنی مٹی کے پتھر جو گیلی مٹی کے دھوپ میں گرم ہو کر پختہ ہوجانے کے بعد بنتے ہیں جیسے اینٹوں کو بھٹے میں پکایا جاتا ہے۔ ان بستیوں پر عذاب دو صورتوں میں آیا ایک زمین کے اندر کوئی زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں زبردست زلزلہ آیا اور یہ بستیاں الٹ پلٹ ہوگئیں۔ پھر اوپر سے کنکریوں کی بارش ہوئی اور اس طرح انہیں ان پتھروں کے اندر دفن کردیا گیا۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

وہ نشان زدہ تھے تمہارے رب کی طرف سے اور یہ ان ظالموں سے کوئی زیادہ دور نہیں

آیت 83 مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ یعنی ہر پتھر ایک آدمی کے لیے نشان زدہ اور مخصوص تھا۔ وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ یعنی مشرکین مکہ سے قوم لوط علیہ السلام کی یہ بستیاں زیادہ دور نہیں ہیں۔ قریش کے قافلے جب فلسطین کی طرف جاتے تھے تو پہلے قوم ثمود اور قوم مدین کے علاقے سے گزرتے تھے پھر قوم لوط کی بستیوں کے آثار بھی ان کے راستے میں آتے تھے۔
Ayahs 11:84–85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی شعیب کو آپ نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود نہیں اس کے سوا اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں لیکن (اگر تم لوگ ان غلط کاریوں سے باز نہ آئے تو) مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک ایسے دن کے عذاب کا جو تمہیں گھیر لے گا

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! پورا پورا دیا کرو پیمانہ اور تول عدل اور انصاف کے ساتھ اور مت کم دیا کرو لوگوں کو ان کی چیزیں اور نہ ہی زمین میں فساد مچاتے پھرو

آیت 84 وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا اس قوم کے بارے میں ہم سورة الاعراف کے مطالعہ کے دوران پڑھ چکے ہیں کہ یہ لوگ بنی قطورہ میں سے تھے اور خلیج عقبہ کے دا ہنی مشرقی طرف کے علاقہ میں آباد تھے۔ اس علاقہ میں یہ لوگ ایک بڑی مضبوط قوم بن کر ابھرے تھے۔ یہ علاقہ اس وقت کی دو بہت اہم بین الاقوامی شاہراہوں کے مقام انقطاع intersection پر واقع تھا۔ ایک شاہراہ شمالاً جنوباً تھی جو شام سے یمن جاتی تھی اور دوسری شرقاً غرباً تھی جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ چناچہ تمام تجارتی قافلے یہیں سے گزرتے تھے جس کی وجہ سے یہ علاقہ اس زمانے کا بہت بڑا تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ نتیجتاً یہاں کے لوگ بہت خوشحال ہوگئے تھے ‘ مگر ساتھ ہی ناپ تول میں کمی اور راہزنی جیسے قبیح جرائم میں بھی ملوث تھے۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ کی عطا کردہ بچت ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مؤمن ہو لیکن میں تمہارے اوپر کوئی نگران نہیں ہوں

آیت 86 بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو ‘ اور لوگوں کی چیزوں میں کمی کر کے ان کی حق تلفی نہ کیا کرو۔ اگر تم لوگ دیانتداری سے تجارت کرو ‘ اور اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں جو منافع عطا کریں اسی پر قناعت کرو تو یہ تمہاری دنیا و آخرت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔ وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ میں تو تمہیں سمجھا سکتا ہوں نیکی کی تلقین کرسکتا ہوں تم پر میرا کوئی زور نہیں ہے۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں اس بات کا حکم دیتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں ان کو جن کو پوجتے آئے ہیں ہمارے آباء و اَجداد یا (تمہاری نماز یہ سکھاتی ہے کہ) ہم اپنے اموال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں ہاں ایک تم ہی تو ہو جو بڑے باوقار اور نیک چلن ہو

آیت 87 قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآ اگرچہ حضرت شعیب کی گفتگو میں ان کے شرک کا تذکرہ نہیں ہے ‘ مگر ان کے اس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ بنیادی طور پر اس مرض شرک میں بھی مبتلا تھے جو تمام گمراہ قوموں کا مشترک مرض رہا ہے۔ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُا یعنی ہماری ملکیت میں جو سامان اور مال ہے کیا ہم اس کے استعمال میں بھی اپنی مرضی نہیں کرسکتے ؟ یہ وہی تصور ہے جو آج کے جدید زمانے میں sacred right of ownership کے خوبصورت الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ اسلام میں ملکیت کا ایسا تصور نہیں ہے۔ اسلام کی رو سے ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور دنیا کا یہ مال اور ساز و سامان انسانوں کے پاس اللہ کی امانت ہے ‘ جس میں اللہ کی مرضی کے خلاف تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لہٰذا اسلام ملکیت کے کسی ”مقدس حق“ کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ : ایں امانت چند روزہ نزد ماست درحقیقت مالک ہر شے خدا ست یعنی یہ مال و دولت ہمارے پاس چند دن کی امانت ہے ‘ ورنہ حقیقت میں ہر شے کا مالک حقیقی تو اللہ ہی ہے۔ بہر حال جب انسان خود کو مالک سمجھتا ہے تو پھر وہ وہی کچھ کہتا ہے جو حضرت شعیب کی قوم نے کہا تھا کہ ہمارا مال ہے ہم جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں ! اِنَّکَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ قوم کا حضرت شعیب کو حلیم اور رشید کہنا کسی تعظیم اور تکریم کے لیے نہیں تھا بلکہ طعن اور استہزا کے طور پر تھا۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

آپ نے فرمایا : اے میری قوم کے لوگو ! ذرا سوچو کہ اگر میں (پہلے بھی) اپنے رب کی طرف سے بیّنہ پر تھا اور اللہ نے اپنے پاس سے مجھے اچھا رزق بھی عطا کیا ہے اور میں ہرگز نہیں چاہتا کہ جس چیز سے تم لوگوں کو منع کروں خود وہی کام کروں میں تو کچھ نہیں چاہتا سوائے اصلاح کے جس قدر مجھ میں استطاعت ہے اور میری توفیق تو اللہ ہی کی طرف سے ہے اسی پر میں نے توکلّ کیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں

آیت 88 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ حضرت شعیب نے وہی بات فرمائی جو دوسرے انبیاء و رسل اپنی اپنی قوم سے فرماتے آئے تھے کہ تمہارے درمیان رہتے ہوئے میرا کردار اور اخلاق پہلے بھی مثالی تھا ‘ میں اس معاشرے میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان کے طور پر معروف تھا۔ وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا یعنی پھر مجھے اللہ نے نبوت اور رسالت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ میرا مقصد تم لوگوں کی اصلاح ہے اور اس سلسلے میں جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں وہ اللہ کی توفیق ہی سے کر رہا ہوں۔ اسی نے مجھے ہمت اور استقامت سے نوازا ہے۔
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! (دیکھو) میری دشمنی تمہیں اس انجام تک نہ لے جائے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائے جیسا کہ آیا تھا قوم نوح قوم ہود ؑ یا قوم صالح پر اور قوم لوط ؑ تو تم سے زیادہ دور بھی نہیں ہے

وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْکُمْ بِبَعِیْدٍ حضرت شعیب سے پہلے ان چار قوموں پر عذاب استیصال آچکا تھا۔ اور یہ جو فرمایا گیا کہ قوم لوط تم سے ”بعید“ نہیں ہے یہ زمانی اور مکانی دونوں اعتبار سے ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے خلیج عقبہ کے مشرقی ساحل سے متصل علاقے میں قوم مدین آباد تھی۔ اس علاقے سے ذرا ہٹ کر مشرق کی جانب بحیرۂ مردار ہے جس کے ساحل پر عامورہ اور سدوم کی وہ بستیاں تھیں جن میں حضرت لوط مبعوث ہوئے تھے۔ زمانی اعتبار سے بھی ان دونوں اقوام میں ہزاروں سال کا نہیں بلکہ صرف چند سو سال کا بعد تھا۔ بہر حال مجھے ان مفسرین سے اختلاف ہے جو حضرت شعیب کو حضرت موسیٰ کے ہم عصر سمجھتے ہیں۔ اس ضمن میں مجھے ان علماء کی رائے سے اتفاق ہے جن کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ مدین میں جس شخص کے مہمان بنے تھے اور جن کی بیٹی کے ساتھ بعد میں آپ نے نکاح کیا تھا وہ مدین کے ان لوگوں کی نسل سے کوئی نیک بزرگ تھے جو حضرت شعیب کے ساتھ عذاب استیصال سے بچ گئے تھے۔ دوسرا اہم نکتہ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ بعض اوقات کسی داعی کے ساتھ ذاتی عناد اور دشمنی کی بنیاد پر کوئی شخص یا کوئی گروہ اس کی اصولی دعوت کو بھی ٹھکرا دیتا ہے۔ یہ انسانی رویے کا ایک بہت خطرناک پہلو ہے کیونکہ اس میں اس داعی کا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا مگر صرف ذاتی تعصب کی بنیاد پر اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے خود کو برباد کرلیتے ہیں۔
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور استغفار کرو اپنے رب سے پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ یقیناً میرا رب رحیم بھی ہے محبت فرمانے والا بھی

آیت 90 وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ۭ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو اور اس کی طرف پلٹ آؤ۔ اس کی عبادت اور اطاعت شعاری اختیار کرو تو تم اس کے دامن رحمت کو اپنے لیے وسیع پاؤ گے۔ وہ انتہائی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے محبت رکھنے والا ہے۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اے شعیب ! تم جو کچھ کہتے ہو اس میں سے اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تو دیکھتے ہیں تمہیں اپنے درمیان ایک کمزور آدمی۔ اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تمہیں (کبھی کا) سنگسار کرچکے ہوتے اور تم ہم پر غالب نہیں ہو

آیت 91 قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ جب ذہنوں کے سانچے بگڑ جائیں اور سوچوں کے زاویے بدل جائیں تو پھر سیدھی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ جس زمانے میں جو سورت نازل ہوئی ہے اس میں نبی اکرم اور آپ کے صحابہ کرام کو پیش آنے والے معروضی حالات کے ساتھ تطابق پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی گزشتہ اقوام کے واقعات جو مختلف سورتوں میں تواتر کے ساتھ بار بار آئے ہیں یہ تکرار محض نہیں ہے ‘ بلکہ حضور کی دعوت و تحریک کو جس دور میں جن مسائل کا سامنا ہوتا تھا اس خاص دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں ان مسائل کی مناسبت سے پچھلی اقوام کے حالات و واقعات سے وہ باتیں نمایاں کی جاتی تھیں جن میں حضور اور اہل ایمان کے لیے راہنمائی اور دلجوئی کا سامان موجود ہوتا۔ چناچہ آیت زیر نظر میں حضرت شعیب کے خاندان اور قبیلے کی حمایت کی بات اس لیے ہوئی ہے کہ ادھر مکہ میں حضور کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا تھا۔ اس زمانے میں بنو ہاشم کے سردار آپ کے چچا ابو طالب تھے جنہیں حضور سے بہت محبت تھی اور آپ نے اپنے بچپن کا کچھ عرصہ ان کے سایہ عاطفت میں گزارا تھا۔ انہی کی وجہ سے آپ کو پورے قبیلہ بنی ہاشم کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اگر اس وقت بنوہاشم کی سرداری کہیں ابولہب کے پاس ہوتی تو آپ کو اپنے خاندان اور قبیلہ کی یہ حمایت حاصل نہ ہوتی اس طرح مشرکین مکہ کو آپ کے خلاف معاذ اللہ کوئی انتہائی اقدام کرنے کا موقع مل جاتا۔ لہٰذا یہاں حالات میں تطابق اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آج مکہ میں بنو ہاشم کی حمایت سے محمد رسول اللہ کو ایک محفوظ قلعہ مہیا فرما دیا ہے ‘ بالکل اسی نوعیت کی حفاظت اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب کو ان کے خاندان کی حمایت کی صورت میں بھی عطا فرمائی تھی۔
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

آپ نے فرمایا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا میرا خاندان تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے اور اس (اللہ) کو تو تم نے اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال رکھا ہے یقیناً میرا رب تو اس سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

آیت 92 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ حقیقت میں میرا پشت پناہ تو اللہ ہے۔ تم اللہ سے نہیں ڈرتے لیکن میرے خاندان سے ڈرتے ہو۔ کیا تمہارے نزدیک میرا خاندان اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟ وَاتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَاۗءَكُمْ ظِهْرِيًّا یعنی اللہ کو تو تم لوگوں نے بالکل ہی بھلا چھوڑا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگرچہ آج ہم بھی اللہ کو اپنا خالق مالک اور معبود ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ساتھ ہی دنیا اور اس کے جھمیلوں میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ اللہ کا تصور مستحضر نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کاروبار دنیا میں حقیقی مسبب الاسباب کو بھلا کر اسباب و حقائق cause and fact کی منطقی بھول بھلیوں میں گم رہتے ہیں : کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق ! یہاں حضرت شعیب کا اپنے خاندان کے مقابلے میں اللہ کا ذکر کرنا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ لوگ اللہ کو بخوبی جانتے تھے ‘ اسی طرح مشرکین مکہ بھی اللہ کو مانتے تھے۔ گویا اللہ کا معاملہ ایسے لوگوں کے نزدیک آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا ہوتا ہے۔ اسی لیے تو حضرت شعیب نے فرمایا تھا کہ تم لوگ میرے خاندان سے ڈرتے ہو مگر اللہ سے نہیں ڈرتے ! حضرت شعیب کے اس جواب میں قریش کے لیے یہ پیغام مضمر ہے کہ تمہیں بھی محمد رسول اللہ کی طرف سے یہی جواب ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ اللہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا گھیراؤ کیے ہوئے ہے۔ تم اس کی گرفت سے نکل کر کہیں نہیں جاسکتے ہو۔
Ayahs 11:93–94

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! تم کرو جو کچھ کرسکتے ہو اپنی جگہ پر میں بھی کر رہا ہوں جو میں (اپنی جگہ پر) کرسکتا ہوں عنقریب تم جان لو گے کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کون ہے جو جھوٹا ہے تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے نجات دے دی شعیب ؑ کو اور ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے اور ظالموں کو آپکڑا ایک زبردست کڑک نے تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

آیت 93 وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ تم میرے خلاف جو بھی ریشہ دوانیاں کرسکتے ہو جو بھی چالیں چل سکتے ہو ‘ اور جو اقدامات بھی کرسکتے ہو کر گزرو۔ اپنے طور پر جو کچھ میں کرسکتا ہوں ‘ جو کوشش مجھ سے بن آرہی ہے میں کررہا ہوں۔ یہ چیلنج کرنے کا انداز سورة الانعام سے چلا آ رہا ہے۔ یہ گویا مکہ کے حالات کے ساتھ تطابق کیا جا رہا ہے۔ مکہ میں حق و باطل کی کشمکش بھی اب انتہا کو پہنچ چکی تھی اور اس کی وجہ سے آپ کی طبیعت کے اندر ایک طرح کی بیزاری پیدا ہوچکی تھی کہ اب جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو !
Ayahs 11:95–97

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

جیسے کہ وہ کبھی ان میں آباد ہی نہیں تھے۔ آگاہ ہوجاؤ پھٹکار ہے مدین پر جیسے کہ ثمود پر پھٹکار ہوئی تھی

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح سند کے ساتھ

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف لیکن انہوں نے فرعون ہی کی پیروی کی۔ حالانکہ فرعون کا معاملہ راستی والا نہیں تھا

آیت 95 كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ اہل مدین بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار کا نشانہ بن کر اسی طرح ہلاک ہوگئے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوئی تھی۔ اب آخر پر بہت مختصر انداز میں حضرت موسیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 11:98–99

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

قیامت کے دن وہ آئے گا آگے چلتا ہوا اپنی قوم کے پھر وہ آگ کے گھاٹ پر انہیں اتار دے گا۔ اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتارے جائیں گے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ بہت ہی برا ہے وہ انعام جو ان کو ملنے والا ہے

آیت 98 يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ دنیا کی طرح قیامت کے دن بھی اسے قیادت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ وہ آگے آگے ہوگا اور اس کی قوم پیچھے پیچھے آرہی ہوگی جیسے وہ لوگ دنیا میں اس کے پیچھے چلتے تھے۔ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ جس طرح جانوروں کا کوئی گروہ پانی پینے کے لیے گھاٹ پر آتا ہے اور ان کا لیڈر آگے آگے جا رہا ہوتا ہے ‘ ایسے ہی فرعون اپنی قوم کو جہنم کے گھاٹ پر لا اتارے گا۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ ہیں ان بڑی بڑی بستیوں کی کچھ اہم خبریں جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں ان میں ایسی بھی ہیں جو ابھی قائم ہیں اور ایسی بھی ہیں جو بالکل ختم ہوگئیں

آیت 100 ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ حَصِیْدٌ کا لفظ اس کھیت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی فصل کاٹ لی گئی ہو۔ فصل کے کٹنے کے بعد کھیت میں جو ویرانی کا منظر ہوتا ہے اس کے ساتھ عذاب استیصال سے تباہ شدہ بستیوں کو تشبیہہ دی گئی ہے۔ پھر ان بستیوں میں کچھ تو ایسی ہیں جن کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے مگر بعض ایسی بھی ہیں جن کے آثار کو باقی رکھا گیا ہے۔ مثلاً قوم عاد کی آبادیوں کا کوئی نشان تک نہیں ملتا جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ قوم کہاں آبادتھی اگرچہ حال ہی میں سیٹلائٹ کے ذریعے ان کے شہر اور شداد کی جنت کے کچھ آثار زیر زمین ملنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ دوسری طرف قوم ثمود کے مکانات کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں۔
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھایا تو ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے جب آپ کے رب کا حکم آپہنچا اور انہوں نے کچھ اضافہ نہیں کیا ان کے حق میں مگر بربادی ہی کا

وَمَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب استیصال کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ان کی ہلاکت و بربادی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔
Ayahs 11:102–103

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور (اے نبی !) ایسے ہی ہوتی ہے پکڑ آپ کے رب کی جب وہ پکڑتا ہے بستیوں کو جبکہ وہ ظالم ہوتی ہیں یقیناً اس کی پکڑ بڑی دردناک بھی ہے اور بڑی سخت بھی

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہوں وہ ایک ایسا دن ہے جس میں لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور وہ دن ہے پیشی کا

آیت 102 وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ جب کسی بستی میں گناہ اور معصیت کا چلن عام ہوجاتا ہے تو وہ گویا ”ظلم“ کی مرتکب ہو کر عذاب کی مستحق ہوجاتی ہے۔ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ اللہ کی پکڑ کے بارے میں سورة البروج میں فرمایا گیا : اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ ”یقیناً تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔“
Ayah 11:104

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اسے ایک وقت معین تک کے لیے مؤخر کیے ہوئے ہیں

آیت 104 وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ اس کے آنے کی ایک گھڑی معین ہے جس کو باقاعدہ گن کر اور حساب لگا کر طے کیا گیا ہے۔
Ayah 11:105

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جب وہ دن آجائے گا تو کوئی متنفس بات نہیں کرسکے گا مگر اللہ کے اذن سے تو ان (انسانوں) میں سے کچھ شقی ہوں گے اور کچھ سعید

آیت 105 يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ یعنی کچھ انسان بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔
Ayah 11:106

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

تو وہ لوگ جو بدبخت ہیں وہ آگ میں ہوں گے جس میں انہیں چیخنا ہے اور دھاڑنا ہے

فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ وہ لوگ درد اور کرب کی وجہ سے چیخ و پکار کریں گے اور پھنکارے ماریں گے۔
Ayah 11:107

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ رہیں آسمان اور زمین سوائے اس کے جو تیرا رب چاہے بیشک آپ کا رب جو ارادہ کرے اسے کر گزرنے والا ہے

آیت 107 خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے۔ یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں خٰلِدِیْنَ فِیْہَا کے ساتھ کچھ استثنات بھی آئے ہیں۔ جہنم اور جنت کب تک رہیں گی یا جہنمی اور جنتی لوگ ان میں کب تک رہیں گے ؟ اس کے بارے میں فرمایا : مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے۔ اس سے مراد ابدیت بھی ہوسکتی ہے اور اس طرح کا کوئی اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید کبھی کوئی ایسا وقت آئے جب زمین و آسمان کا وہ نظام بدل بھی جائے اور کوئی دوسرا نظام اس کی جگہ لے لے۔ واضح رہے کہ اس ”زمین و آسمان“ سے مراد بھی موجودہ زمین و آسمان نہیں ہوسکتے ‘ اس لیے کہ ازروئے الفاظ قرآنی یہ تو قیامت کے روز بدل ڈالے جائیں گے اور یہاں قیامت کے بعد پیش آنے والے حالات و واقعات کا ذکر ہو رہا ہے۔ پھر اس میں بھی ایک استثناء بیان کیا گیا ہے : اِلاَّ مَا شَآءَ رَبُّکَ ”سوائے اس کے جو تیرا رب چاہے“۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ خود ہی کسی کے عذاب میں تخفیف کرنا چاہے یا کسی کو ایک مدت تک عذاب دے کر جہنم سے نکالنے کا فیصلہ فرمائے تو اسے اس کا پورا اختیار ہے۔ جزا و سزا کے بارے میں بھی اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار مطلق ہے ‘ لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا طے شدہ فیصلہ ہے کہ کفار کے لیے جہنم ابدی ٹھکانہ ہے۔ واللہ اعلم !
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو لوگ نیک بخت ہوں گے وہ جنت میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش جب تک رہیں آسمان اور زمین سوائے اس کے جو آپ کا رب چاہے یہ ایسی بخشش ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی

عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ان آیات میں جنت اور جہنم کا جو موازنہ کیا گیا ہے اس میں جنت کے لیے عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ کے الفاظ اضافی طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس طرح کے لفظی فرق و تفاوت کا جب علماء و مفسرین باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو ان سے بڑے بڑے فلسفیانہ نکات پیدا ہوتے ہیں۔ چناچہ جنت اور جہنم کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ اور شیخ ابن عربی دونوں نے ایک رائے پیش کی ہے جو اہل سنت کے عام اجماعی عقیدے سے مختلف ہے۔ ان دونوں بزرگوں کے درمیان اگرچہ بڑا نظریاتی بعد ہے امام ابن تیمیہ بعض اوقات شیخ محی الدین ابن عربی پر تنقید کرتے ہوئے بہت سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں مگر اس رائے میں دونوں کا اتفاق ہے کہ جنت تو ابدی ہے مگر جہنم ابدی نہیں ہے۔ ایک وقت آئے گا ‘ چاہے وہ ارب ہا سال کے بعد آئے ‘ جب جہنم ختم کردی جائے گی۔ اس کے برعکس اہل سنت کا اجماعی عقیدہ یہی ہے کہ جنت اور جہنم دونوں ابدی ہیں۔ واللہ اعلم !
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

پس (اے نبی !) آپ کسی شک میں نہ رہیں ان کے بارے میں جن کی یہ لوگ پوجا کر رہے ہیں یہ لوگ نہیں پوجا کر رہے ہیں مگر ایسے ہی جیسے کہ ان کے آباء و اَجداد پوجا کرتے رہے ہیں اس سے پہلے اور یقیناً ہم ان کو دینے والے ہیں ان کا حصہ بغیر کسی کمی کے

مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ یہ تو بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں۔
Ayahs 11:110–111

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور موسیٰ کو ہم نے کتاب دی تھی پھر اس میں اختلاف پیدا کردیے گئے اور اگر طے نہ ہوچکی ہوتی ایک بات تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی سے تو ان کے مابین فیصلہ کردیا جاتا اور (اب تو) یہ لوگ اس (تورات) کے بارے میں الجھا دینے والے شک میں مبتلا ہوگئے ہیں

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور (اے نبی !) آپ کا رب ان سب کو ان کے اعمال کا لازماً پورا پورا بدلہ دے گا یقیناً وہ باخبر ہے اس سے جو عمل یہ لوگ کر رہے ہیں

وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ یہ بات سورة الشوریٰ میں وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ ہر رسول کی امت اپنی الہامی کتاب کی وارث ہوتی ہے۔ پھر جب اس امت پر زوال آتا ہے تو اپنی اس کتاب کے بارے میں بھی ان کے ہاں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں کہ واقعتا یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے بھی یا نہیں !
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

تو (اے نبی !) آپ ڈٹے رہیں جیسا کہ آپ کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جنہوں نے توبہ کی ہے آپ کے ساتھ اور تم لوگ حد سے تجاوز نہ کرو یقیناً وہ تم لوگوں کے سب اعمال دیکھ رہا ہے

آیت 112 فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ آپ کے ساتھ وہ لوگ بھی صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے رہیں جو شرک سے باز آئے ہیں جنہوں نے کفر کو چھوڑا ہے اور آپ کے ساتھ ایمان لائے ہیں۔ وَلاَ تَطْغَوْا تجاوز کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ منکرین حق پر جلد عذاب لے آنے کی خواہش کریں اور یہ بھی کہ چاروں طرف سے ان لوگوں کی مخالفت کے سبب کسی لمحے غصے میں آجائیں اور حلم و بردباری کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال بھی دیکھ رہا ہے اور جو کچھ تمہارے مخالفین کر رہے ہیں ان کی تمام حرکتیں بھی اس کے علم میں ہیں۔ اس لیے اس کے ہاں سے تمہیں تمہارا اجر وثواب ملے گا اور ان لوگوں کو ان کے کرتوتوں کی سزاملے گی۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور کوئی جھکاؤ پیدا نہ کرنا ان لوگوں کی طرف جنہوں نے ظلم کیا اگر ایسا ہوا) تو تمہیں آگ پکڑ لے گی پھر تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی نہیں ہوں گے پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی

آیت 113 وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا یہ خالص حق اور باطل کی کش مکش ہے اس میں کہیں کوئی رشتہ داری کا معاملہ کوئی پرانے مراسم قبیلے کی محبت وغیرہ عوامل تم لوگوں کو کسی لمحے ان کی طرف جھکنے پر مائل نہ کریں۔
Ayahs 11:114–115

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور (اے نبی !) نماز کو قائم رکھیے دن کے دونوں سروں پر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں یقیناً نیکیاں بدیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ یاد دہانی ہے یاد رکھنے والوں کے لیے

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کیجیے یقیناً اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

آیت 114 وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ دن کے دونوں سروں پر فجر اور عصر کے اوقات ہیں جبکہ رات میں مغرب اور عشاء شامل ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ پانچ نمازوں کا موجودہ نظام گیارہ نبوی میں معراج کے بعد قائم ہوا ہے۔ اس سے پہلے مکی دور میں تقریباً ساڑھے دس برس تک نمازوں کے بارے میں جو احکام نازل ہوئے وہ اسی نوعیت کے ہیں۔ یہاں ایک نکتہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں کہ حضور سے اس انداز میں صیغۂ واحد میں جو خطاب کیا جاتا ہے وہ دراصل آپ کی وساطت سے امت کو حکم دینا مقصود ہوتا ہے۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی قوموں میں حق کے ایسے علمبردار ہوتے جو (اپنی اپنی قوموں کے لوگوں کو) روکتے زمین میں فساد مچانے سے مگر بہت تھوڑے لوگ ایسے تھے جنہیں ہم نے ان میں سے بچالیا اور پیچھے پڑے رہے وہ ظالم ان عیش و آرام کی چیزوں کے جو انہیں دی گئی تھیں اور وہ مجرم تھے

اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْہُمْ یہ بات قرآن میں بار بار دہرائی گئی ہے کہ حق کے علمبردار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حق ادا کرنے والے لوگ جہاں بھی ہوں جس قوم سے بھی ہوں اللہ تعالیٰ ہمیشہ انہیں اپنی رحمت خاص سے بچا لیتا ہے۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے جبکہ ان میں بسنے والے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں

آیت 117 وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی علاقے کسی ملک یا شہر میں اچھے کردار کے حامل اپنی اور دوسروں کی اصلاح میں سرگرم لوگوں کی اکثریت ہو اور اللہ پھر بھی اس بستی پر عذاب بھیج دے۔
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام نوع انسانی کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ تو اختلاف کرتے ہی رہیں گے

آیت 118 وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ جہاں کہیں بھی لوگ اکٹھے مل جل کر رہ رہے ہوں گے ان میں اختلاف رائے کا ہونا بالکل فطری بات ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہے ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے اور اس کے لیے اپنا اپنا استدلال ہے۔ اسی کے مطابق ان کے نظریات ہیں اور اسی کے مطابق ان کے اعمال و افعال۔ جب تک یہ استدلال علم اور قرآن وسنت کی بنیاد پر ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ‘ بشرطیکہ یہ اختلاف کی حد تک رہے اور تفرقہ کی صورت اختیار نہ کرے اور ”من دیگر م تو دیگری“ والا معاملہ نہ ہو۔ اس نکتہ کو یوں بھی سمجھنا چاہیے کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما دونوں نے قرآن و سنت سے استدلال کیا ہے ‘ مگر بعض اوقات دونوں بزرگوں کی آراء میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مگر ایسے اہل علم حضرات کے ہاں ایسا اختلاف کبھی بھی نزاع اور تفرقہ بازی کا باعث نہیں بنتا۔ ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو دنیا کی رونق اور خوبصورتی بھی اسی تنوع اور اختلاف سے قائم ہے۔ گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن اے ذوق اس چمن کو ہے زیب اختلاف سے ! اگر دنیا میں یکسانیت monotany ہی ہو تو انسان کی طبیعت اس سے اکتا جائے۔
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

سوائے اس کے کہ جس پر آپ کا رب رحم فرما دے۔ اور اسی لیے اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہو کر رہے گی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر کر رہوں گا

آیت 119 اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کے اندر یہ اختلاف اور تنوع خود رکھا ہے۔ دنیا میں اربوں انسان ہیں مگر ان میں کوئی سے دو انسانوں کے مزاج شکل و صورت اور آواز حتیٰ کہ انگلیوں کے نشانات آپس میں نہیں ملتے۔ لہٰذا اللہ انسانوں کو پیدا ہی اسی انداز پر کرتا ہے کہ ان میں تنوع اور انفرادیت قائم رہے۔ ایک حدیث نبوی کی رو سے انسان بھی معدنیات کی طرح ہیں۔ چناچہ جس طرح معدنیات کی بیشمار اقسام ہیں مگر ہر ایک کی اپنی خصوصیات اور اپنی پہچان ہے یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ یعنی تمام مشرک ‘ سرکش ‘ نافرمان اور گناہگار جنوں اور انسانوں کو اکٹھا کر کے جہنم کا ایندھن بناؤں گا اور یوں ان سے جہنم کو بھر دوں گا۔ اس نے جنت بنائی ہے تو اسے بھی آباد کرنا ہے اور جہنم بنائی ہے تو اسے بھی ایندھن فراہم کرنا ہے۔
Ayah 11:120

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور (اے نبی !) ہم رسولوں کی خبروں میں سے ہر ایک آپ کو سنا رہے ہیں (تاکہ) مضبوط رکھیں ہم اس کے ساتھ آپ کا دل اور اس میں آپ کے پاس حق آیا ہے اور مؤمنین کے لیے اس میں نصیحت اور یاد دہانی ہے

آیت 120 وَکُلاًّ نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآء الرُّسُلِ یہ ”انباء الرسل“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہوا ہے۔ حضرت نوح حضرت ہود حضرت صالح حضرت لوط حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ کے حالات ہم آپ کو بار بار اس لیے سنا رہے ہیں : مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ تا کہ ان واقعات کو سن کر آپ اور آپ کے ساتھیوں کے دلوں میں اطمینان بڑھے اور استقامت میں اضافہ ہو۔ ان واقعات کے ذریعے سے ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مکہ میں آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر مصائب کے جو پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوا اور اسے دعوت حق پیش کی تو اس کی مخالفت اسی شد ومد سے ہوئی۔ انبیاء ورسل اور ان کے ساتھیوں کو ہمیشہ ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جس طرح ہم نے ہر بار اہل حق کی مدد کی اور بالآخر کامیاب وہی ہوئے ‘ اسی طرح اب بھی حق و باطل کی اس جاں گسل کشمکش میں بول بالا حق ہی کا ہوگا اور آخر کار فتح آپ کی اور آپ کے ساتھیوں ہی کی ہوگی۔ وَجَآءَ کَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں یا ان واقعات میں حق اور باطل کو بالکل واضح کردیا گیا ہے اور مؤمنین کے لیے نصیحت اور یاد دہانی کا سامان بھی فراہم کردیا گیا ہے۔