10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 10:81–82

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

اور جب انہوں نے ڈال دیاتو موسیٰ نے فرمایا کہ تم لوگ جو کچھ لائے ہو یہ جادو ہے۔ یقیناً اللہ اسے ابھی باطل کر دے گا۔ بیشک اللہ مفسدوں کے عمل کو کامیاب نہیں کرتا

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ تو حق کو حق ثابت کرتا ہے اپنے کلمات سے خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو

آیت 81 فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰی مَا جِءْتُمْ بِہِلا السِّحْرُ یعنی جادو وہ نہ تھا جو میں نے دکھایا تھا ‘ بلکہ جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ اللہ تعالیٰ ابھی تمہاری شعبدہ بازی کا باطل ہونا ثابت کردے گا ‘ اسے نیست و نابود کر دے گا ‘ ہَبَاءً مَنْثُوْرًا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیتا۔
Ayahs 10:83–84

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو کوئی ایمان نہیں لایا موسیٰ ؑ پر مگر چند نوجوان اس کی قوم میں سے ڈرتے ہوئے فرعون اور اپنے سرداروں سے کہ وہ ان کو مصیبت میں مبتلا نہ کردیں اور یقیناً فرعون زمین میں بہت سرکشی کر رہا تھا اور وہ یقیناً حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اب اسی پر توکلّ بھی کرو اگر تم واقعتا فرمانبردار بن گئے ہو

عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلاَءِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَہُمْ اس وقت مصر پر قبطی قوم حکمران تھی ‘ جسے قرآن نے ”آل فرعون“ کہا ہے اور اسرائیلی ان کے محکوم تھے۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے علمبردار تھے ‘ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل میں سے بھی صرف چند نوجوان لڑکوں نے ہی آپ کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ دراصل غلام ہونے کی وجہ سے وہ لوگ فرعون اور اس کے سرداروں کے مظالم سے خوف زدہ تھے۔ عام طور پر ہر محکوم قوم کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے کچھ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے حکمرانوں سے مل جاتے ہیں اور حکمران انہیں مراعات اور خطابات سے نواز کر ان کی وفاداریاں خرید لیتے ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل میں سے بھی کچھ لوگ فرعون کے ایجنٹ بن چکے تھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال قارون کی ہے۔ وہ حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر فرعون کا درباری اور اس کا ایجنٹ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کے خلاف سازشیں کرتا رہتا تھا اس کا تفصیلی ذکر سورة القصص میں ہے۔ بہر حال بنی اسرائیل کے عام لوگ ایسے مخبروں کے ڈر سے حضرت موسیٰ کے قریب ہونے سے گریز کرتے تھے۔ نوجوان چونکہ با ہمت اور پر جوش ہوتے ہیں ‘ اس لیے وہ اس طرح کی انقلابی آواز پر لبیک کہنے کا خطرہ مول لے لیتے ہیں ‘ جبکہ اسی قوم کے ادھیڑ عمر لوگ کم ہمتی اور مصلحتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ پورا فلسفہ اس آیت میں موجود ہے۔ ان آیات کے نزول کے وقت اہل مکہ میں سے بھی محمد رسول اللہ کا ساتھ دینے کے لیے جو لوگ آگے بڑھ رہے تھے وہ چند باہمت نوجوان ہی تھے ‘ نہ کہ مصلحت کوش بوڑھے۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ پر توکلّ کیا۔ اے ہمارے رب ! تو ہمیں ان ظالموں کے لیے تختۂ مشق نہ بنا دے۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور ہمیں اپنی رحمت سے اس کافر قوم سے نجات عطا فرما

آیت 85 فَقَالُوْا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَاج رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ اللہ پر توکل کرتے ہوئے ہم اپنا معاملہ اسی کے حوالے کرتے ہیں۔ پروردگار ! اب ایسا نہ ہو کہ ہمارے ذریعے سے تو ان کو آزمائے۔ جیسے ابو جہل اگر آل یاسر پر ظلم ڈھاتا تھا تو اللہ کے ہاں یہ اس کی بھی آزمائش ہو رہی تھی ‘ لیکن اس آزمائش میں تختۂ مشق حضرت یاسر اور حضرت سمیہ بن رہے تھے۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے وحی کی موسیٰ اور اس کے بھائی (ہارون) کو کہ تم اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھر معینّ کرلو اور بناؤ اپنے گھروں کو قبلہ رخ اور نماز قائم رکھو اور اہل ایمان کو بشارت دے دو

آیت 87 وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی وَاَخِیْہِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا ان گھروں میں جمع ہو کر تم لوگ اللہ کی عبادت کیا کرو۔ اسی طرح کا انتظام حضور نے بھی اپنی دعوت کے ابتدائی زمانہ میں کیا تھا جب آپ نے دار ارقم کو دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں کے لیے مختص فرمایا تھا۔ وَّاجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً فرعون کے ڈر سے وہ لوگ مسجد تو بنا نہیں سکتے تھے ‘ اس لیے انہیں حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں کو تعمیر ہی قبلہ رخ کرو تاکہ وہاں تم نمازیں پڑھا کرو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں بھی قبلہ معینّ تھا جبکہ بیت المقدس تو ابھی بنا ہی نہیں تھا۔ بیت المقدس تو حضرت موسیٰ کے زمانے سے ایک ہزار سال بعد حضرت سلیمان نے تعمیر فرمایا تھا۔ چناچہ حضرت موسیٰ اور آپ کی قوم کا قبلہ یہی بیت اللہ تھا۔ تورات میں ان کی قربان گاہوں کے خیموں کے بارے میں تفصیل ملتی ہے کہ یہ خیمے اس طرح نصب کیے جاتے تھے کہ جب کوئی شخص قربانی پیش کرتا تھا تو اس کا رخ سیدھا قبلہ کی طرف ہوتا تھا۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامان زیب وزینت اور اموال عطا کردیے ہیں دنیا کی زندگی میں پروردگار ! اس لیے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں تیرے راستے سے اے ہمارے رب ! اب ان کے اموال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں میں سختی پیدا کر دے کہ یہ ایمان نہ لائیں جب تک کہ یہ کھلم کھلا دیکھ نہ لیں عذاب الیم کو

رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ ان کے پاس طاقت ہے اقتدار ہے اختیار ہے دولت ہے جاہ وحشم ہے۔ لوگ ان کے رعب و دبدبے کے خوف اور مال و دولت کے لالچ سے گمراہ ہو رہے ہیں۔ پروردگار ! کیا تو نے انہیں یہ سب کچھ اس لیے دے رکھا ہے کہ وہ تیرے بندوں کو تیرے سیدھے راستے سے گمراہ کریں ؟ فَلاَ یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ اور جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر ان کا ایمان انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا کیونکہ اس وقت کا ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔ یہ حضرت موسیٰ کی آل فرعون سے بیزاری کی آخری حد ہے۔ اگرچہ نبی ایک ایک فرد کے لیے ایمان کا خواہش مند ہوتا ہے ‘ مگر فرعون اور اس کے سردار اہل ایمان کو ستانے اور اذیتیں دینے میں اس حد تک آگے جا چکے تھے کہ حضرت موسیٰ خود اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ! اب ان لوگوں کے دلوں کو سخت کر دے ‘ ان کے دلوں پر مہریں لگا دے ‘ تاکہ تیرا عذاب آنے تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ اس لیے کہ جو کچھ انہوں نے اللہ اور اہل ایمان کی دشمنی میں کیا ہے اس کی سزا انہیں مل جائے۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ (ٹھیک ہے) تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی اب تم دونوں بھی قائم رہو اور ان لوگوں کے راستے کی پیروی مت کرنا جو علم نہیں رکھتے

آیت 89 قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُمَا فَاسْتَقِیْمَا ایسا نہ ہو کہ وقت آنے پر تمہارا دل پسیج جائے اور پھر دعا کرنے لگو کہ اے اللہ اب ان کو معاف فرما دے !
Ayahs 10:90–91

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو پار اتار دیا سمندر (یا دریا) کے پھر ان کا پیچھا کیا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور زیادتی کی غرض سے یہاں تک کہ جب پا لیا اسے غرق نے کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں (اس کے) فرماں برداروں میں سے ہوں

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

کیا اب (تو ایمان لا رہا ہے) ؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا

حَتّٰیٓ اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ یعنی جب فرعون غرق ہونے لگا تو :
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

تو آج ہم تمہارے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک نشانی بنا رہے اور یقیناً بہت سے لوگ ہماری آیات سے غفلت ہی برتتے رہتے ہیں

آیت 92 فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً یعنی تمہارے جسم کو محفوظ رکھا جائے گا ‘ اس کو گلنے سڑنے نہیں دیا جائے گا تاکہ بعد میں آنے والے اسے دیکھ کر عبرت حاصل کرسکیں۔ چناچہ غرق ہونے کے کچھ عرصہ بعد فرعون کی لاش کنارے پر پائی گئی تھی ‘ صرف اس کے ناک کو کسی مچھلی وغیرہ نے کاٹا تھا ‘ باقی لاش صحیح سلامت تھی اور آج تک قاہرہ کے عجائب گھر میں موجود ہے
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت ہی عمدہ جگہ فراہم کردی اور ہم نے انہیں پاکیزہ روزی دی پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا یقیناً آپ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن جن چیزوں میں وہ اختلاف کرتے رہے تھے

فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰی جَآءَ ہُمُ الْعِلْمُ یعنی انہوں نے اس وقت اختلاف کیا اور تفرقے برپا کیے جبکہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ انہوں نے ایسا ناواقفیت کی بنیاد پر مجبوراً نہیں کیا تھا ‘ بلکہ یہ سب کچھ ان کے اپنے نفس کی شرارتوں کا نتیجہ تھا۔
Ayahs 10:94–95

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

پھر اگر آپ ﷺ کو کوئی شک ہے اس چیز کے بارے میں جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے تو پوچھ لیجیے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی تھی آپ سے پہلے اے نبی !) آپ کے پاس حق آیا ہے آپ کے رب کی طرف سے تو ہرگز نہ ہوجائیں آپ شک کرنے والوں میں سے

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور مت ہوجانا ان لوگوں میں سے جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ورنہ تم ہوجاؤ گے خسارہ پانے والوں میں سے

آیت 94 فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ یہاں خطاب بظاہر محمد رسول اللہ سے ہے ‘ لیکن اس بات کا تو قطعاً کوئی امکان نہیں کہ آپ کو اس میں کوئی شک ہوتا لہٰذا اصل میں روئے سخن اہل مکہ کی طرف ہے۔ بعض اوقات جس سے بات کرنا مقصود ہوتا ہے اس کے رویے کی وجہ سے اس سے اس قدر نفرت ہوجاتی ہے کہ اسے براہ راست مخاطب کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ ایسی صورت میں کسی دوسرے شخص سے بات کی جاتی ہے تاکہ اصل مخاطب بالواسطہ طور پر اسے سن لے۔ چناچہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اے مشرکین مکہ ! اگر تم لوگوں کو اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہے جو ہم نے اپنے رسول پر نازل کی ہے : لَقَدْ جَآءَ کَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ یہ اسی انداز تخاطب کا تسلسل ہے کہ حضور کو مخاطب کر کے مشرکین مکہ کو سنایا جا رہا ہے۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

یقیناً جن لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے

آیت 96 اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْہِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ جو لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے قانون خداوندی کی زد میں آ چکے ہیں اور ان کے دلوں پر آخری مہر لگ چکی ہے ‘ اب ایسے لوگوں کو ایمان نصیب نہیں ہوگا۔
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

اور چاہے ان کے پاس ساری ہی نشانیاں آجائیں (اب وہ ایمان نہیں لائیں گے) جب تک کہ عذاب الیم کو دیکھ نہ لیں

آیت 97 وَلَوْ جَآءَ تْہُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ جیسا کہ فرعون کا معاملہ ہوا کہ جب غرق ہونے لگا تب ایمان لایا۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

تو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی ایسی جو ایمان لاتی اور اسے اس کا ایمان نفع پہنچاتا سوائے قوم یونس کے جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ہٹا دیا ان سے دنیا کی زندگی میں وہ رسوا کن عذاب اور ایک وقت معین کے لیے ہم نے انہیں (فوائدِ دنیوی سے) بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا

آیت 98 فَلَوْلاَ کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِیْمَانُہَآ اِلاَّ قَوْمَ یُوْنُسَ حضرت یونس نینوا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ آپ کی دعوت کے مقابلے میں آپ کی قوم انکار پر اڑی رہی۔ جب آخری حجت کے بعد ان لوگوں پر عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو حضرت یونس حمیت دینی کے جوش میں انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے جاتے انہیں یہ خبر دے گئے کہ اب تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا ‘ جبکہ اللہ کی طرف سے آپ کو اپنی قوم کو چھوڑ کر جانے کی ابھی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ایسے مواقع پر رسول اپنی مرضی سے اپنی بستی کو نہیں چھوڑ سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باقاعدہ ہجرت کا حکم نہ آجائے نبی کا معاملہ اس طرح سے نہیں ہوتا۔ محمد رسول اللہ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا تھا مگر آپ نے خود اس وقت تک ہجرت نہیں فرمائی جب تک آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے با ضابطہ طور پر اس کی اجازت نہیں مل گئی تھی۔ سیرت کی کتابوں میں یہاں تک تفصیل ملتی ہے کہ حضرت ابوبکر نے دو اونٹنیاں اس مقصد کے لیے تیار کر رکھی تھیں اور روزانہ آپ سے استفسار کرتے تھے کہ حضور ! اجازت ملی یا نہیں ؟ بہر حال حضرت یونس کے جانے کے بعد جب عذاب کے آثار پیدا ہوئے تو پوری بستی کے لوگ اپنے بچوں ‘ عورتوں اور مال مویشی کو لے کر باہر نکل آئے اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر توبہ کی۔ اللہ کے قانون کے مطابق تو عذاب کے آثار ظاہر ہوجانے کے بعد نہ ایمان فائدہ مند ہوتا ہے اور نہ توبہ قبول کی جاتی ہے ‘ مگر حضرت یونس کے وقت سے پہلے ہجرت کر جانے کی وجہ سے اس قوم کے معاملے میں نرمی اختیار کی گئی اور ان کی توبہ قبول کرتے ہوئے ان پر سے عذاب کو ٹال دیا گیا۔ یوں انسانی تاریخ میں ایک استثناء exception قائم ہوا کہ اس قوم کے لیے قانون خداوندی میں رعایت دی گئی۔
Ayahs 10:99–100

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور (اے نبی !) اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ بھی ہیں سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کردیں گے کہ وہ ضرور ایمان لے آئیں

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

کسی جان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے اور وہ گندگی مسلط کردیتا ہے ان لوگوں پر جو عقل سے کام نہیں لیتے

آیت 99 وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعًا یہ مضمون سورة الانعام میں بڑے شد ومد کے ساتھ آچکا ہے۔ حضور کی شدید خواہش تھی کہ یہ سب لوگ ایمان لے آئیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہمارا اپنا قانون ہے اور وہ یہ کہ جو حق کا طالب ہوگا اسے حق مل جائے گا اور جو تعصب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے گا اسے ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ اگر لوگوں کو مسلمان بنانا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کے لیے یہ کون سا مشکل کام تھا۔ وہ سب کو پیدا ہی ایسے کرتا کہ سب مؤمن متقی اور پرہیزگار ہوتے۔ آخر اس نے فرشتے بھی تو پیدا کیے ہیں جو کبھی غلطی کرتے ہیں نہ اس کی معصیت۔ جیسا کہ سورة التحریم میں فرمایا : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ وہ اللہ کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ لیکن انسانوں کو اس نے پیدا ہی امتحان کے لیے کیا ہے۔ سورة الملک کے آغاز میں زندگی اور موت کی تخلیق کا یہی مقصد بتایا گیا ہے : خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا آیت 2 ”اس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون حسن عمل کا رویہ اختیار کرتا ہے“۔ لہٰذا اے نبی آپ اس معاملے میں اپنا فرض ادا کرتے جائیں ‘ کوئی ایمان لائے یا نہ لائے اس کی پروا نہ کریں ‘ کسی کو ہدایت دینے یا نہ دینے کا معاملہ ہم سے متعلق ہے۔ اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ اصل میں یہ ساری باتیں حضور کے دل مبارک کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ آپ ہر وقت دعوت و تبلیغ کی جدوجہدّ میں مصروف ہیں ‘ پھر آپ کو یہ اندیشہ بھی رہتا ہے کہ کہیں اس ضمن میں میری طرف سے کوئی کوتاہی تو نہیں ہو رہی۔ جیسے سورة الاعراف آیت 2 میں فرمایا : فَلاَ یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ کہ آپ کے دل میں فرائض رسالت کے سلسلے میں کسی قسم کی تنگی نہیں ہونی چاہیے۔ اور ان لوگوں کے پیچھے آپ اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

ان سے کہیے کہ دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے لیکن یہ نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کے کچھ کام نہیں آتے جو ایمان نہیں لانا چاہتے

آیت 101 قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیاں ہیں ‘ ان کو بنظر غائر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

تو کیا یہ منتظر ہیں اسی طرح کے دنوں کے جیسے ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں کہہ دیجیے کہ پس انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں

آیت 102 فَہَلْ یَنْتَظِرُوْنَ الاَّ مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْ رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں پر آنے والے عذاب استیصال والے دنوں کو قرآن حکیم میں ”ایام اللہ“ قرار دیا گیا ہے۔ تو کیا یہ لوگ ایسے دنوں کے منتظر ہیں جو قوم نوح یا قوم ہود علیہ السلام یا قوم صالح یا قوم لوط علیہ السلام کو دیکھنے پڑے تھے ؟
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم نجات دیتے رہے ہیں اپنے رسولوں کو اور اہل ایمان کو۔ اسی طرح ہمارے اوپر حق ہے کہ ہم اہل ایمان کو نجات دیں

آیت 103 ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ جیسے حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح کی قوموں میں سے جو لوگ ایمان لے آئے انہیں بچالیا گیا۔ عامورہ اور سدوم کی بستیوں میں سے کوئی ایک خوش قسمت بھی نہ نکلا کہ اسے بچایا جاتا۔ حضرت لوط صرف اپنی دو بیٹیوں کو لے کر وہاں سے نکلے تھے ‘ جبکہ ان کی اپنی بیوی بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ گئی اور عذاب کا نشانہ بنی۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے نبی !) کہہ دیجیے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین کے بارے میں کوئی شک ہے تو (جان لو کہ) میں ہرگز نہیں پوجنے والا ان کو جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا بلکہ میں تو پوجوں گا اسی اللہ کو جو تمہیں قبض کرے گا اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں ایمان لانے والوں سے ہوجاؤں

آیت 104 قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ اب سورة کے آخر میں فیصلہ کن انداز میں خطاب کیا جا رہا ہے کہ اے لوگو ! یہ جو تم مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہو ‘ کہ میں اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کرلوں یا تمہارے ساتھ کسی حد تک مداہنت compromise کا رویہ اختیار کروں ‘ تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہیں میرے دین کے بارے میں ابھی تک شک ہے۔ اگر ایسا ہے تو تم لوگ اپنا یہ شک دور کرلو :
Ayahs 10:105–107

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ آپ ﷺ اپنا رخ سیدھا رکھیے دین کی طرف یکسو ہو کر اور ہرگز نہ ہوں ان مشرکوں میں سے

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور مت پکاریئے اللہ کے سوا اس کو جو نہ تمہیں نفع دے سکے نہ نقصان اور اگر (بالفرض) آپ نے ایسا کیا تو پھر آپ بھی ظالموں میں سے ہوجائیں گے

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ آپ کو کوئی ضرر پہنچائے تو کوئی نہیں ہے اس کو دور کرنے والا سوائے اللہ کے اور اگر وہ ارادہ کرلے آپ کے ساتھ بھلائی کا تو اس کے فضل کو لوٹانے والا کوئی نہیں وہ پہنچاتا ہے اس (فضل) کو اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اور وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

آیت 105 وَاَنْ اَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا پورے حنیف یعنی یکسو ہو کر دین کی طرف متوجہ ہوں۔
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ اے لوگو ! تمہارے پاس حق آچکا ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ تو اب جو کوئی بھی ہدایت پائے گا وہ اپنے بھلے کو ہی ہدایت پائے گا اور جو کوئی بھٹک جائے گا تو وہ بھی اپنی جان پر ہی وبال لے گا۔ اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہو

آیت 108 قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ اس ہدایت کا فائدہ اسی کو ہوگا عاقبت اسی کی سنورے گی اور اللہ کی رحمت اس کے شامل حال ہوگی۔ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۭ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ مجھے تمہارے اوپر کوئی داروغہ مقرر نہیں کیا گیا۔ میں تمہارے بارے میں مسؤل نہیں ہوں۔ اللہ کے ہاں تمہارے بارے میں مجھ سے باز پرس نہیں ہوگی کہ یہ ایمان کیوں نہیں لائے تھے ؟ وَلاَ تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ البقرۃ اور آپ سے نہیں پوچھا جائے گا جہنمیوں کے بارے میں !“
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور (اے نبی !) آپ پیروی کرتے جایئے اس کی جو آپ کی طرف وحی کیا جا رہا ہے اور صبر کیجیے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے

آیت 109 وَاتَّبِعْ مَا یُوْحٰٓی اِلَیْکَ وَاصْبِرْ اپنے موقف پر جمے رہیے اور ڈٹے رہیے ‘ مشکلات کے دباؤ کو برداشت کیجیے۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم