50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 50:41–45

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور سنو ! جس دن پکارنے والا قریب ہی سے پکارے گا

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

اور اس دن یقینا سب لوگ اس چیخ کو (صور پھونکے جانے کو) سن لیں گے یہ ان کے قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا۔

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

بیشک ہم ہی زندگی دیتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور سب کو ہماری طرف لوٹنا ہے۔

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

اس دن جب زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اس کے اند سے نکل کر دوڑ رہے ہوں گے ان سب کو جمع کرلینا ہمارے لئے آسان ہے۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ یہ لوگ جو باتیں بنا رہے ہیں ہم انہیں خوب جانتے ہیں اور آپ ان پر زبردستی کرنے والے تو ہیں نہیں (لہٰذا) آپ اس قرآن کے ذریعہ ہر اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب سے ڈرتا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ المناد (ندا دینے والا ۔ آواز دینے والا ) ۔ تشقق (پھٹ پڑے گی) ۔ جبار (زبردستی کرنے والا) ۔ یخاف وعید (جو میرے ڈرانے سے ڈرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر (41 تا 45 ) ۔ ” غفلت وکوتاہی کے ساتھ زندگی گذارنے والے قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ دنیا آخر کار ایک دن ختم ہوجائے گی اور پھر سب کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر زندگی میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ چناچہ جب صور پھونکا جائے گا تو کائنات کی ابتداء سے انتہا تک جتنے بھی لوگ ہوں گے وہ اپنی قبروں سے دفن کی گئی یا جلائی گئی جگہوں سے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہونا شروع ہوجائیں گے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جب اللہ کے حکم سے حضرت اسرافیل صور میں پھونک ماریں گے تو اس ہیبت ناک آواز کو دور اور نزدیک والے اس طرح سنیں گے جیسے ان کو قریب ہی سے آواز دی گئی ہے۔ حضرت اسرافیل کہیں گے کہ ” اے گلی سڑی ہڈیو ! ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے والی کھالو ! ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے والے گوشت کے ٹکڑو ! بکھر جانے والے ذروں سن لو کہ تمہیں اللہ یہ حکم دیتا ہے کہ حساب کے لئے جمع ہوجاؤ۔ “ (بغوی) حضرت اسرافیل کے اس اعلان کے بعد تمام مردے زندہ ہو کر میدان حشر کی طرف درڑنا اور بھاگنا شروع کردیں گے۔ اس طرح زمین و آسمان اور وقت کا نقشہ بدل جائے گا سب لوگ ایک ایسی نئی دنیا میں آنکھ کھولیں گے جہاں ساری دنیا کے لوگ جمع ہوں گے اور اس میدان میں ہر شخص سے زندگی میں کئے ہوئے کاموں کا حساب لی جائے گا۔ انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوگا ؟ اللہ نے فرمایا کہ وہ اللہ جس کے ہاتھ میں انسان کی زندگی اور موت کا نظام ہے اس کے لئے خاک میں مل جانے والے ذروں کو جمع کرکے پھر سے ان کو انسانی شکل میں لے آنا کوئی دشوار اور مشکل بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا ہے کہ یہ سب کچھ ایک سچائی ہے آپ اس پیغام حق کو ہر اس شخص تک پہنچا دیجئے جو نصیحت حاصل کرتا اور میرے عذاب سے ڈرتا ہے۔ آپ کا کام اس بات کو محبت و خلوص سے ہر سخص تک پہنچانا ہے کسی پر زبردستی کر کے ٹھونسنا نہیں ہے کیونکہ ہم نے آپ کو اس پیغام کے پہئچانے پر مامور کیا ہے آپ اپنا کام کرتے رہیے جو بھی سعادت مند ہے وہ اس بات پر دھیان دے گا اور اپنی آخرت سنوار لے گا لیکن بد بخت انسانوں کو بہت جلد اپنے برے انجام کا خود ہی پتہ چل جائے گا۔ واخر دعو انا ان الحمد للہ رب العالمین