36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 36:33–44

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

مردہ زمین ان کے لئے ایک نشانی ہے جس ہم نے ( بارش کے ذریعہ) زندہ کیا اور اس سے ہم نے غلہ (اناج) نکالا جسے وہ کھاتے ہیں

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات لگائے اور ہم نے اس میں پانی کے چشمے بہا دیئے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تا کہ وہ اس کے ثمرات (پھلوں) کو کھائیں ( حقیقت یہ ہے کہ) ان سب چیزوں کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے نہیں بنایا پھر کیا وجہ ہے کہ وہ شکر ادا نہیں کرتے۔

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

وہ ذات پاک ہے جس نے سب چیزوں کے جوڑے بنائے ان میں سے بھی جنہیں زمین اگاتی ہے۔ خود ان کے اپنے نفسوں ( جانوں) میں سے اور ان میں سے بھی جن کو وہ نہیں جانتے۔

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

ان کے لئے رات بھی ایک نشانی ہے کہ جب ہم دن ( کی روشنی کو) کھینچ نکالتے ہیں تو وہ اچانک اندھیروں میں رہ جاتے ہیں ۔

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج ( بھی ایک نشانی ہے جو) اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے۔ اور یہ اس اللہ کا لگا بندھا مقرر نظام ہے جو زبردست ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند (بھی ایک نشانی ہے جس کی) ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی شاخ۔ نہ سورج کی طاقت ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ راست دن سے پہلے آسکتی ہے۔ یہ سب ( اپنے مرکز کے گرد) اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں ۔

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ان کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا۔

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لئے اس کشتی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ۔ پھر (وہاں) نہ تو کوئی فریاد سننے والا ہوگا اور نہ وہ بچائے جاسکیں گے

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

سوائے اس کے کہ ہماری رحمت ہو ۔ اور یہ ( اللہ کا فیصلہ ہے کہ) ایک متعین وقت تک ان کو فائدہ پہنچانا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد) تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی ۔ ہر انسان دیکھتا ہے کہ ایک زمین بالکل خشک اور سوکھی پڑی ہے جو ویران سی لگتی ہے لیکن جیسے ہی بارش برستی ہے تو اس سوکھی اور مردہ سی زمین میں زندگی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں اور کچھ دنوں میں وہ زمین ہری بھری دکھائی دینے لگتی ہے۔ درختوں پر ایک رونق سی آجاتی ہے ، کھجوریں اور انگور اگ آتے ہیں ۔ پھر انسانوں اور نباتات کو سر سبز و شاداب رکھنے کے لئے جگہ جگہ پانی کے چشمے بہنے لگتے ہیں جن کے ذریعہ کھیتوں ، درختوں اور بیلوں کے ذریعہ انسانوں اور تمام جان داروں کے رزق کا انتظام کردیا جاتا ہے۔ اللہ نے انسان کو یہ طریقہ سکھایا ہے کہ وہ زمین کو تیار کر کے اس میں بیج ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سوال کیا ہے کہ کھیتوں کو تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ اس کی وضاحت نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے کہ انسان تو کھیتی باڑی میں ایک کام کرتا ہے لیکن نناوے کام تو اللہ کی قدرت سے ہوتے ہیں انسان اللہ کی پیدا کی ہوئی نعمتوں کو تربیت دیتا ہے لیکن وہ خود ان چیزوں کا خالق نہیں ہوتا ۔ خالق صرف اللہ ہی ہے اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ایک کھلی ہوئی نشانی ہے کہ زمین ، ہوا ، پانی سب ایک ہی فضاء میں ہیں لیکن ان سے پیدا ہونے والی چیزیں بالکل مختلف ہیں ، مزا مختلف ، شکل صورت مختلف ، کوئی پھل میٹھا ہے کوئی کھٹا ، کوئی نمکین ہے تو کوئی کڑوا ۔ اسی طرح انسانوں میں بھی یہی صورت ہے کہ ماں باپ اور گھر کا ماحول ایک جیسا لیکن صورت ، شکل اور مختلف ذہنوں اور مزاجوں میں اولاد پیدا ہوتی ہے۔ کوئی گورا کوئی کالا کوئی پیلا تو کوئی سرخ ۔ فرمایا کہ اسی طرح اللہ کی نشانیوں میں سے رات اور دن کا آنا جانا ہے۔ جب رات پر دن کی روشنی چھا جاتی ہے تو وہ روشن ہوجاتی ہے اور جب دن کی روشنی پر رات کی تاریکی چھا جاتی ہے تو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوجاتا ہے۔ سورج اپنے مقرر راستے پر چل رہا ہے اور چاند اپنی رفتار اور انداز سے اپنی منزلیں طے کرتا ہے کبھی وہ گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے کبھی وہ اس طرح ہوجاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی شاخ مڑ کر کمان بن جاتی ہے۔ چاند ، سورج اور ستارے سب کے سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح کنٹرول کر رکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے تک نہیں پہنچ سکتے۔ سورج اپنے مدار اور دائرے سے نکل کر چاند کے دائرے میں نہیں جاسکتا اور چاند اپنے مدار کو چھوڑ کر سورج کی طرف نہیں جاسکتا ۔ ایسے ہی جتنے بھی سیارے اور ستارے ہیں اللہ نے ان کے دائرے مقرر کردیئے ہیں وہ اب اللہ کی حمد وثناء تسبیح کرتے ہوئے اپنے اپنے دائرے میں گھوم رہے ہیں ۔ کروڑوں سال سے یہ نظام اسی طرح چل رہا ہے جو اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ فرمایا کہ خود انسان کی اپنی ذات میں بیشمار نشانیاں موجود ہیں ۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر پانی کا عذاب آیا تو اس وقت کی معلوم دنیا اس پانی میں غرق ہوگئی اور سوائے سفینہ نوح (علیہ السلام) کے جو انسانوں اور جانوروں سے بھرا ہوا تھا ایک جان دار بھی زندہ رہ سکا لیکن اللہ کی قدرت سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے لوگ اور جان داروں کے جوڑے اس کشتی میں سوار کرا دیئے گئے تھے وہی بچ سکے ان کے علاوہ سب کے سب غرق کردیئے گئے ۔ اس طرح نسل انسانی کا سلسلہ باقی رہ سکا ۔ پھر وہی نسل انسانی پھیلتی اور بڑھتی چلی گئی ۔ فرمایا کہ اللہ نے اپنی قدرت کا ملہ سے انسانوں کے لئے ایسی ایسی سواریاں پیدا کیں اور آئندہ زمانے میں انسانی ضرورتوں کے لحاظ سے مختلف سواریاں پیدا کی جاتی رہیں گی ۔ سمندر میں ایک جہاز ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا مگر اللہ تعالیٰ نے پانی اور ہواؤں کو انسان کے اس طرح تابع کردیا کہ وہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اپنی ضرورت کا سامان اور لوگوں کو پہنچانے کا کام کرتے ہیں ۔ اسی طرح خشکی میں بھی اس نے طرح طرح کی سواریاں پیدا کی ہیں ۔ موجودہ دور میں انسانی ترقی کا راز فضاء ، ہوا ، سمندر اور خشکی پر چلنے والی سواریاں ہی ہیں جن سے ساری دنیا ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہیں لیکن ان فضاؤں ، خشکی اور تری کو انسان کے تابع کس نے کردیا ہے۔ یقینا اسی ایک اللہ نے جو کائنات کی ساری چیزوں کا خالق اور بنانے والا ہے۔ وہی شکر اور عبادت و بندگی کے لائق ہے ۔ اگر کوئی شخص ان کھلی نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود اور کار ساز اور مشکل کشا مانتا ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی بھول اور بد نصیبی ہے۔
Ayahs 36:45–54

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ( اس عذاب سے ) ڈرو جو تمہارے آگے ہے اور جو کچھ تمہارے پیچھے ہے۔ تا کہ تم پر رحم و کرم کیا جائے

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے رب کی طرف سے جب بھی کوئی نشانی آتی ہے تو وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرو تو وہ کافر ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے ہیں کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسے لوگوں کو کھلائیں جن کو اگر اللہ چاہتا تو ان کو بہتر طریقے سے کھلا دیتا تم تو کھلی گمراہی میں ہو ۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ ( قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

بس یہ تو ایک چنگھاڑ ( صور کی آواز) کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کو آپکڑے گی اور وہ آپس میں جھگڑتے ہی رہ جائیں گے ۔

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

اس وقت وہ نہ تو کوئی وصیت ہی کر پائیں گے اور نہ اپنے گھروں کی طرف لوٹ سکیں گے۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور جب صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک قبروں سے ( اٹھ کر) اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہائے ہماری بد نصیبی کہ ہماری قبروں سے ہمیں کس نے اٹھا دیا۔ ( اس وقت کہا جائے گا کہ) یہ وہی ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے صحیح کہا تھا

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

وہ چنگھاڑ ( ہیبت ناک آواز) ہوگی ۔ پھر اچانک وہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیئے جائیں گے۔

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پس آج کے دن کسی شخص کے ساتھ بےانصافی نہ ہوگی اور تمہیں اس کا ( پورا پورا ) بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔ تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر کے بےنیازی دکھایا کرتے تھے۔ جب ان سے یہ کہا جاتا کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس کو جائز طریقے پر خود بھی استعمال کرو اور اپنے ان غریب بھائی ، بہنوں ، رشتہ داروں اور ضرورت مندوں پر بھی خرچ کرو اور ان کے کھانے پینے کا بندوست کرو جو غریب و مفلس ہیں تو وہ اپنے اوپر سے باٹ ٹالنے اور مذاق اڑانے کے لئے کہتے کہ جس کو اللہ ہی نے بھوکا رکھا ہے ہم کون ہوتے ہیں کہ اس کو کھلائیں پلائیں ۔ وہ جانے اس کا رب جانے ہم سے ایسی گمراہی کی باتیں نہ کرو ۔ جب سب کا رازق اللہ ہے تو وہی ان کا پیٹ بھرے گا ۔ ان لوگوں نے اتنی بڑی بات کہتے وقت یہ نہ سوچا کہ اگر کوئی آدمی دوسرے کو کچھ دے کر اس کی مدد کرتا ہے یا بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے تو وہ اس کا رازق نہیں بن جاتا بلکہ وہ اللہ کے رق میں سے دوسرے کو دینے کا واسطہ بن جاتا ہے جس پر اس کا اجر وثواب ملتا ہے۔ اگر اللہ چاہے تو اس کو براہ راست بھی دے سکتا ہے جس طرح وہ حیوانات کے بغیر کسی واسطے کے دیتا ہے۔ ہر جان دار زمین کے مختلف گوشوں سے اپنا رزق حاصل کرتا ہے۔ وہ اپنا رزق حاصل کرنے میں کسی کارخانے اور دکان کا محتاج نہیں ہوتا جب کہ انسان کی ضروریات کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ہر شخص اپنا رزق روزی حاصل کرنے میں دوسرے کا محتاج ہے۔ اگر غریب اور ضرورت مند آدمی مال داروں کے کارخانوں اور دوکانوں وغیرہ میں کام نہ کرے تو دولت مندوں کو عیش و آرام کے اسباب کہاں سے مل سکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر صاحب حیثیت اور مال دار کو غریبوں اور حاجت مندوں کی ضرورت نہ ہو تو وہ غریب اپنا پیٹ کہاں سے بھریں گے ۔ اللہ نے ایسا نظام بنا دیا ہے کہ ہر شخص اپنے راحت و آرام کے اسباب اور رزق حاصل کرنے میں ایک دوسرے کا محتاج ہے۔ اسی طرح جب ان سے کہا جاتا تھا کہ لوگو ! قیامت تم سے دور نہیں ہے۔ اس کا آنا یقینی ہے جس میں اللہ و رسول کے نافرمانوں کو سخت ترین عذاب دیا جائے گا ۔ تم اس عذاب سے بچنے کی تدبیریں کرو اور تم نے دنیا میں جو کچھ اعمال کئے ہیں ان کا حساب کتاب لیا جائے گا ۔ اس کی تیاری کرو ۔ اگر تمہارے اعمال درست ہوئے تو اس دن تم پر رحم و کرم کیا جائے گا ورنہ ابدی جہنم کے انگاروں پر تڑپنا ہوگا ۔ وہ یہ سب باتیں سن کر بےپروائی سے منہ پھیر کر چل دیتے اور کہتے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ سنتے سنتے ہمارے کان پک گئے ہیں ۔ اگر واقعی قیامت آنے والی ہے تو اس کو لے آئو تا کہ یہ روز روز کا جھگڑا ہی ختم ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے اس جاہلانہ جواب پر یہ نہیں فرمایا کہ قیامت کب آئے گی بلکہ یہ فرمایا کہ تم اس مسئلہ میں جھگڑ رہے ہو گے اور قیامت اچانک آجائے گی تو پھر کسی کو ذرا بھی مہلت نہیں دی جائے گی ۔ فرمایا کہ ایک کرخت ، سخت اور ہیبت ناک آواز کے ساتھ اس طرح قیامت تمہارے سروں پر آپہنچے گی کہ تمہیں اس سے چند لمحے پہلے تک کچھ خبر نہ ہوگی ۔ فرمایا کہ جب پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو ساری دنیا ایک لمحہ میں اس طرح ختم ہوجائے گی کہ نہ کسی کو وصیت کرنے کا موقع ملے گا اور نہ گھر لوٹنے کا اور جب دوسری مرتبہ صور میں پھونک ماری جائے گی تو مردے بھی اپنی اپنی قبروں سے نہایت خوف اور بد حواسی کی حالت میں اٹھ کر اللہ کی طرف دوڑنا شروع ہوجائیں گے۔ جب ان کو آخرت کا ہیبت ناک عذاب نظر آئے گا تو وہ اپنی قبروں کے عذاب کو بھی بھو ل کر کہیں گے کہ وہ عذاب قبر تو کچھ بھی نہ تھا یہ عذاب بڑا سخت ہے اس عذاب کے مقابلے میں اگر ہمیں عذاب قبر ہی میں رہنے دیا جاتا تو زیادہ بہتر تھا۔ ہمیں ہماری قبروں سے کس نے اٹھا کھڑا کیا ۔ اس پر کہا جائے گا کہ یہی وہ میدان حشر ہے جس کا تم سے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور اسی دن کے عذاب سے بچنے کے لئے اللہ کے تمام رسولوں نے خبردار اور آگاہ کیا تھا اور اس سچائی کو بیان کیا تھا ۔ دوسرا یہ صور در حقیقت ایک چنگھاڑ یا دھماکہ ہوگا جس کے بعد ہر شخص کو اللہ کے سامنے حاضر کیا جائے گا ۔ یہ وہ انصاف کا دن ہوگا کہ جہاں پر نیکی کرنے والے کو اس کی ہر نیکی پر اجر وثواب عطاء کیا جائے گا اور جس نے کوئی گناہ یا خطاء کیا ہوگا اس کو انصاف کے ساتھ اس کا بدلہ دیا جائے گا ۔ ان آیات کی وضاحت نبی کریم ﷺ کے ارشادات سے اس طرح ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ لوگ راستوں پر چل رہے ہوں گے ، بازاروں میں خریدو فروخت کی جا رہی ہوگی ، لوگ اپنی محفلوں میں بیٹھے گفتگو اور باتیں کر رہے ہوں گے کہ اچانک صور پھونکا جائے گا ۔ کوئی کپڑا خرید رہا تھا تو ہاتھ سے کپڑا نیچے رکھنے کی نوبت نہ آئے گی ، کوئی جانوروں کو پانی پلانے کے لئے پانی کا حوض بھر رہا ہوگا وہ پانی نہیں پلائے گا کہ اچانک قیامت آجائے گی ۔ کوئی کھانے بیٹھا ہوگا اور لقمہ اٹھا کر منہ تک لے جانے کی بھی اس کی مہلت نہ ملے گی ۔ ( بروایت حضرت عبد اللہ ابن عمرو ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم ہوجائے گی حالانکہ آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دوھ رہا ہوگا برتن اس کے منہ تک پہنچے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی ۔ اور دو آدمی کپڑے کی خریدو فروخت کر رہے ہوں گے ۔ ابھی ان کی گفتگو جاری ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور کوئی اپنا پانی کا حوض درست کر رہا ہوگا اور ابھی ہٹا نہ ہوگا کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ ( مسلم شریف)
Ayahs 36:55–68

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

بیشک آج کے دن اہل جنت (خوش و خرم) اپنے مشغلوں میں مصروف ہوں گے ۔

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں سائے دار مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

اور ان کے لئے ان جنتوں میں میوے اور ہر وہ چیز موجود ہوگی جو وہ مانگیں گے

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

مہربان پروردگار کی طرف سے سلام (کہلایا جائے) گا

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور کفار و مشرکین سے کہا جائے گا اے مجرمو ! آج ( تم اہل ایمان سے) الگ ہو جائو۔

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے اولاد آد م (علیہ السلام) کیا میں نے تمہیں ( اپنے رسولوں کے ذریعہ سے) اس بات کی تاکید نہ کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت ( اطاعت) نہ کرنا بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے ۔

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ تم میری ہی عبادت و بندگی کرنا یہی سیدھا راستہ ہے ۔

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے (شیطان نے) تم میں سے بہت سوں کو گمراہ کردیا کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے ہو ؟

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

اب اپنے کفر کے بدلے اس میں داخل ہو جائو

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے جو کچھ یہ لوگ کیا کرتے تھے۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھوں کو ملیا میٹ کردیتے پھر وہ راستے کی طرف دوڑتے تو انہیں کہاں سجھائی دیتا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ہی ان کی صورتیں بدل ڈالیں جن سے نہ وہ چل سکیں گے اور نہ لوٹ سکیں گے

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور ہم جس کی عمر زیادہ کردیتے ہیں تو اس کو اوندھا کردیتے ہیں کیا وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو) تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس کی خوبصورتی اور حسن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کیونکہ اس کو کسی محسوس مثال میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے جنت کی خوبصورتی اور راحت و آرام کے متعلق فرمایا ہے کہ جنت اتنی حسین ہوگی کہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ ہوگی ، نہ کسی کان نے سنی ہوگی اور نہ کسی کے دل پر اس کا تصور اور گمان بھی گزرا ہوگا ۔ جب اہل جنت میدان حشر میں پہنچیں گے تو ان کو روک کر نہیں رکھا جائے گا بلکہ شروع ہی میں ہلکے پھلکے حساب کتاب کے بعد جنت میں بھیج دیا جائے گا جہاں ہر طرح کی راحتیں ان کی منتظر ہوں گی ۔ تمام پریشانیوں اور مشکلات سے بےغم ہر طرح کے عیش و آرام اور راحت و نعمتوں میں مشغول ہوں گے ۔ ان جنتیوں میں نہ عبادت کی مشقیں ہوں گی نہ پیٹ بھرنے کے لئے بھاگ دوڑ اور محنتیں ہوں گی ۔ ان کی بیویاں اور ہم عمر خوبصورت حوریں ہوں گی جو درختوں کے گھنے سائے میں مسہریوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بےغم اور بےفکر اللہ کی مہمان دری سے خوشی اور مسرت محسوس کر رہے ہوں گے ۔ ہر طرح سر سبزی و شادابی ہوگی لہلہاتے کھیت ، خوبصورت و بلند بالا عمارتیں ہر طرف بہتی نہریں ہوگی ، اہل جنت کا بہت قیمتی ریشمی لباس ہوگا وہ ایسا سلامتی کا گھر ہوگا جس میں کوئی لغو ، فضول اور بےہودہ بات نہ سنائی دے گی ، چھلکتے جام ہوں گے ان جسمانی لذتوں کے ساتھ ساتھ روحانی ترقیاں بھی نصیب ہوں گی اور ان کا سب سے بڑا اعزاز واکرم یہ ہوگا کہ ان کو اللہ کی طرف سے سلام پہنچایا جائے گا یا خود اللہ تعالیٰ اہل جنت کو سلام ارشاد فرمائیں گے ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے جنت کی ابدی راحتوں کا ذکر کرتے ہوئے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایسی جنتوں میں جانے کا خواہش مند ہے کیا اس کے لئے تیاریاں کرنے والا ہے ؟ جس میں کوئی رنج و غم اور خوف نہ ہوگا ۔ رب کعبہ کی قسم وہ جنتیں نور ہی نور ہوں گی جن میں بیحد تازگیاں ہوگی ۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہوگا ۔ اس کے بالا خانے مضبوط و مستحکم اور بلند وبالا ہوں گے ۔ اس میں رواں دواں نہریں ہوگی ، اس کے پھل پکے ہوئے ذائقہ دار ہوں گے اور بہت کثرت سے ہوں گے ۔ اس میں ان کے لئے خوبصورت حوریں ہوں گی ۔ ان کا لباس نہایت قیمتی اور ریشمی ہوگا اور یہ ساری نعمتیں وہ ہوں گی جنہیں کبھی زوال نہ آئے گا ۔ جنت سلامتی کا گھر اور سبزہ اور تازہ پھلوں کا باغ ہوگا ۔ اس کی نعمتیں بہت کثرت سے اور بہتریں ہوگی ۔ اس میں بلند وبالا محل ہوں گے جو زیب و زینب سے آراستہ ہوں گے ۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام ؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم اس کے لئے تیار ہیں اور اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ آپ نے فرمایا کہ انشاء اللہ کہو ۔ سب نے انشاء اللہ کہا ۔ آپ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی اپنی جنتوں کی راحتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا ۔ یہ سب لوگ اپنا سر اوپر اٹھا کر دیکھیں گے تو اللہ کا نور دیکھنے کا شرف حاصل کریں گے وہ اللہ کو بغیر کسی حجاب اور پردے کے براہ راستہ دیکھیں گے اور اللہ ان کو دیکھے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ” السلام علیکم یا اھل الجنۃ “ اس وقت اہل جنت اس نور کو دیکھنے میں اس طرح محو ہوجائیں گے کہ وہ جنت کی کسی نعمت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں گے ۔ یہاں تک کہ ایک پردہ حائل ہوجائے گا اور نور و برکت ان اہل جنت کے پاس رہ جائے گی ۔ ( سنن ابن ماجہ) جب کفار و مشرکین اور اللہ کے فرماں بردار مومنین قبروں سے اٹھیں گے تو سب کے سب ایک ساتھ ہوں گے مگر میدان حشر میں ان دونوں کو اور کفار کی گندگیوں اور مومنین کی نیکیوں کو الگ الگ کردیا جائے گا ۔ یہ دن جہاں اہل جنت کے لئے ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کی خوش خبری اور راحت و آرام کا پیغام ہوگا وہیں کفارو مشرکین کے لئے حسرت و افسوس کا دن ہوگا جب ان کے بنائے ہوئے گھر وندے اور خواب فضاء میں بکھر جائیں گے اور انہیں ہر طرف عذاب ہی عذاب نظر آئے گا ۔ سب سے پہلے کفار و مشرکین مجرمین سے کہا جائے گا کہ آج تم ہمارے فرماں بردار بندوں سے الگ ہو جائو تمہارے اعمال کے مطابق تم سے معاملہ کیا جائے گا اور جنت کی راحتوں اور عیش و آرام میں تمہارا کوئی حصہ نہ ہوگا ۔ اب تمہیں اپنی ذاتی حیثیت میں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ بہت سے لوگ مومن و کافر ہوں گے مگر ان میں رشتہ داریاں بھی ہوں گی فرمایا جائے گا کہ تمہارا رشتہ ناطہ اور دوستیوں کا تعلق دنیا تک تھا اب وہ ختم ہوچکا ہے ۔ تم ایک دوسرے سے الگ ہو جائو تا کہ جنت والے جنت کی راحتوں کا لطف اٹھا سکیں۔ اس کے بعد تمام بنی آدم (علیہ السلام) کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے اپنے رسولوں کے ذریعہ تمہیں پہلے ہی اس سے آگاہ اور خبر دار نہیں کردیا تھا کہ دنیا ایک دن ختم ہوجائے گی اور پھر ہمارے پاس آ کر تمہیں زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا ۔ میں نے تمہیں اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اس بات سے بھی آگاہ کردیا تھا کہ تم شیطان کے بہکائے میں آ کر اس کے راستے پر نہ چلنا اور نہ اس کی عبادت ( اطاعت) کرنا مگر تم نے ان باتوں کی پرواہ نہیں کی اور ہمیشہ پیغمبروں اور اصلاح کرنے والوں کی طرف سے تم نے منہ پھیرے رکھا لہٰذ آج تم ان ہی نافرمانیوں کی سزا بھگتو۔ جب میدان حشر میں نیک اور صالح لوگوں سے کفار و مشرکین کو الگ کردیا جائے گا اور وہ کفار و مشرکین اللہ کے خوفناک عذاب کو اپنی طرف آتا ہوا محسوس کریں گے تو کفر و شرک اور جھوٹ کی بھر پور زندگی گزارنے والے اپنی غلط فطرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ الٰہی ! ہم نے شرک نہیں کیا تھا وہ تو ہم وقتی طور پر بہک سے گئے تھے ہمیں نہیں معلوم کہ آپ کے فرشتوں نے ہمارے اعمال کو کس طرح لکھا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کفار و مشرکین کی زبانوں ، کانوں ، آنکھوں پر مہریں لگا کر خود ان کے اعضاء کو بولنے کی طاقت عطاء فرما دیں گے اور وہی اعضاء جو کل تک اس کے ہر حکم کی تکمیل کرتے تھے اس کے دشمن بن جائیں گے اور ایک ایک عضو یہاں تک کہ ان کی کھال بھی بتا دے گی کہ ان لوگوں نے ان اعضاء کا کس طرح استعمال کیا تھا ۔ بد عمل کفار و مشرکین کو ان کا یہ عذر اور انکار کوئی فائدہ نہ دے گا کیونکہ جن باتوں کو یہ زبان سے جھٹلا رہے تھے ان کے اعضاء ایک ایک بات کو بیان کردیں گے ۔ اصل میں یہ تمام اعضاء جو زندگی بھر اس کے کہنے پر چلتے رہے ہیں یہ اس کے نہیں ہیں بلکہ اللہ کی ایک امانت ہیں زندگی بھر جن اعضاء پر وہ بھروسہ کرتا رہا ہے اللہ جب بھی چاہیں گے ان اعضاء کو اس کے خلاف استعمال فرما لیں گے چناچہ قیامت کے دن یہی اعضاء انسان کی ایک ایک حرکت کو بیان کردیں گے ۔ اور انسان ان باتوں کا انکار نہ کرسکے گا ۔ فرمایا کہ یہ انسان ان اعضاء پر بھروسہ اور اعتماد تو کرتا رہا مگر اس نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اس کے اعضاء میں جو انقلابات آ رہے ہیں وہ خود ایک سبق ہے ، کیونکہ اس کے وہ مضبوط اعضاء جو کبھی اس کو بد مست کردیتے تھے بتدریج کمزور ہوتے جا رہے ہیں ۔ انسان بڑھاپے میں پھر اسی طرح کمزور اور دوسرے کے سہاروں کا محتاج ہوجاتا ہے جس طرح بچپن میں تھا لیکن انسان نے ان اعضاء کے مالک اللہ پر بھروسہ کرنے کی بجائے ان آنکھوں ، ہاتھوں ، پاؤں اور کھالوں پر اعتماد کیا جو قیامت میں خود اس کے خلاف ہو کر اس کے گناہوں کو بیان کردیں گے