Ayahs 21:71–75لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75
نجینا ہم نے نجات دی۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ نافلۃ عطیہ، ضرورت سے زائد۔ ائمۃ (امام) رہنما، پیشوا۔ فعل الخیرات بھلائیوں کے کام، نیک کام۔ حکم حکمت، نبوت۔ الخبائت گندگیاں، بدکاریاں۔
تشریح :- آیت نمبر 71 تا 75
گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مشرکین نے آگ کے الاؤ میں جھونک دیا تھا اور اتنی زبردست آگ میں پھینکنے کے بعد وہ اس سے مطمئن تھے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا دیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے گل و گلزار بنا دیا تھا۔ بعض روایتوں کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سات دن تک اس آگ میں رہے۔ پھر نہایت خاموشی سے انہوں نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی چونکہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام پر اس وقت تک ایمان لانے والے دو ہی افراد تھے آپ کی اہلیہ حضرت سارہ ؓ اور حضرت ابراہیم کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام، ہجرت کے وقت حضرت ابراہیم کے ساتھ یہی دونوں افراد تھے جن کو لے کر انہوں نے فلسطین میں جا کر قیام فرمایا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو نمرود اور اس کی قوم سے نجات عطا فرمائی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تو فلسطین میں قیام فرمایا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو جب اللہ نے نبوت عطا فرمائی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو سدوم کے عاقے میں بھیج دیا۔ موجودہ زمانہ میں سدوم اردن اور اس اسرائیل کے درمیان کا وہ علاقہ ہے جس کو بحرمیت سے کہا جاتا ہے۔ یہاں سدوم اور عمورہ کی سات بستیاں تھیں جن کو شدید گناہوں کی سزا میں اس طرح تباہ و برباد کردیا گیا اور بستیوں کو الٹ دیا گیا کہ ” آج ان بستویں کی جگہ ایک ایسا سمندر ہے جس کو بحرمیت یا بحر مردار کہا جاتا ہے یہاں کی زمین سطح سمندر سے کئی سو فٹ نیچے چلی گئی ہے اس سمندر میں کوئی کشتی تک نہیں چل سکتی یہاں تک کہ اس کے پانی میں چھوٹے سے چھوٹا جانور جیسے بیکٹیریا وغیرہ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اس سر زمین پر پوری قوم ایسی بد اخلاقی اور برائیوں میں مبتلا تھی جوان سے پہلے ساری دنیا میں کوئی قوم بھی اس برائی میں مبتلا نہیں ہوئی تھی اس قوم کے مزاج میں بدچلنی ، بد اخلاقی ، سرکشی، تکبر اور غرور کے ساتھ غیر فطری عمل کی محبت رچ بس گئی تھی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے بعد ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو ایسی سر زمین کی طرف بھیج کر بچا لیا جس سر زمین میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت ہی برکت رکھی ہے۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے اسحاق (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا کیا اور انعام کے طور پر یعقوب (علیہ السلام) جیسا پوتا عنایت کیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا اس لئے ان کے بارہ بیٹوں کو اللہ نے اس کثرت سے اولاد عطا کی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کہلانے لگے اور بارہ بیٹے بارہ قبیلے اور خاندان بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل اور حضرت سارہ کے بطن سے اٹھارہ اسل بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو پیدا کیا جو بہت نیک اور صالح تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو نبوت اور رسالت کے ساتھ ساری دنیا کی پیشوائیت اور امامت بھی عطا فرمائی تھی جو اللہ کے حکم سے لوگوں کی ہدایت کا سامان کیا کرتے تھے۔ فرمایا کہ ہم نے انہیں وحی کے ذریعہ اس بات کی تعلیم دے دی تھی کہ وہ ہمیشہ نیکیاں اور بھلائیاں کرتے رہیں۔ نماز قائم کرتے اور زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتیر ہیں چناچہ وہ اللہ ہی کی عبادت اور بندگی کرتے تھے۔ فرمایا کہ اس طرح ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو علم و حکمت اور دانئای سے نوازا تھا اور ان کو اس بستی سے بچا لیا تھا جو ہر طرح کی بدکاریوں میں مبتلا ہو کر اپنی آخرت کو برباد کر رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قوم لوط صرف اسی فعل میں مبتلا نہیں تھی بلکہ ان میں اور بھی بہت سے عیب تھے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر فطری عمل یعنی مردوں کا مردوں کے ساتھ بد فعلی کرنا تمام برائیوں کی جڑ ہے اس کے بعد بہت سی برائیاں خود بخود پیدا ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) پر خصوصی رحم و کرم نازل فرمایا اور وہ خود بھی انتہائی نیک انسان تھے۔ جس بستی میں وہ تھے صرف اس کو بچا لیا گیا باقی سب بستیوں کو برباد کردیا گیا تھا۔
جیسا کہ تشریح میں عرض کیا گیا ہے کہ خلاف فطرت (لواطت) بدکاری اس قدر شدید فعل ہے کہ اس سے قومیں تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہیں اور ایسی قوموں کا اللہ کے عذاب سے بچنا ممکن ہی نہیں ہے۔ موجودہ دور میں نام نہاد ترقی یافتہ قومیں جس طرح اس فعل بد کو قانونی تحفظ دیتی چلی جا رہی ہیں اس کے اثرات تو ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور طرح طرح کی بیماریوں نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور ہر روز کوئی نہ کوئی بیماری کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر قوموں نے اس فعل سے توبہ نہ کی تو دنیا میں کوئی ایسی خطرناک اور ناقابل تصور بیماری پھیلے گی جس سے کروڑوں لوگ مر جائیں گے یا ہمیشہ کے لئے اپاہج ہوجائیں گے کیونکہ اس عمل بد کا یہ لازمی نتیجہ ہے۔ جس سے کسی حالت میں بچنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ پوری انسانیت کو آنے والے عذاب سے محفوظ فرمائیں اور ایسے قوانین سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائیں جس سے ساری انسانیت کے تباہ ہوجانے کا امکان ہے کیونکہ جب کسی قوم پر اللہ کا عذاب بھڑک اٹھتا ہے تو اس کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اللہ ساری انسانیت کو ظالموں کے ظلم سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)
Ayahs 21:76–93لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 93
الکرب العظیم بہت بڑی بےچینی۔ قوم سوء برے لوگ۔ یحکمان فیصلہ کرنے لگے۔ الحرث کھیتی، کھیت۔ نفثت چر گئیں۔ غنم بکریاں۔ فھمنا ہم نے سمجھ عطا کی۔ الطیر پرندے۔ صنعۃ بنانا۔ لبوس لباس۔ تحصن تمہیں بچاتی ہے۔ باس سختی، جنگ۔ عاصفۃ تیز ہوا، آندھی۔ یعوضون غوطہ لگاتے ہیں۔ مسنی مجھے پہنچا۔ کشفنا ہم نے کھول دیا۔ مغاضباً غصہ میں بھرا ہوا۔ لاتذرنی تو مجھے نہ چھوڑنا۔ فرد تنہا۔ اصلحنا ہم نے درست کردیا۔ یسرعون دوڑتے ہیں۔ رغب امید۔ رھب ڈر۔ خوف۔ خاشعین ڈرنے والے۔ احصنت اس نے حفاظت کی۔ نفخنا ہم نے پھونک ماری۔
تشریح :- آیت نمبر 76 تا 93
سورۃ الانبیاء کی ان آیت میں گیارہ نبیوں اور رسولوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ حضرت نوح، حضرت داؤد، حضرت سلیمان حضرت ایوب، حضرت ادریس، حضرت ذوالکفل، حضرت ذوالنون، صحضرت یونس) حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور ابن مریم حضرت عیسیٰ (علیہم السلام)
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے دنیا بھر کے سرکشوں نافرمانوں اورف سادیوں اور ظالموں کو راہ راست پر لانے کے لئے اپنے پاکیزہ نفوس انبیاء کرام کو اس اصولی اور بنیادی نصیحت کے ساتھ بھیجا ہے کہ اگر انہوں نے گناہوں کو نہ چھوڑا تو ان کو عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ اللہ کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ اس نے اپنے خاص بندوں کو تو بچا لیا لیکن ظالموں کو ان کی تہذیب کو ان کی ترقیات کو اس طرح ملیا میٹ کردیا کہ آج ان کی عمارتوں کے کھنڈرات عبرت و نصیحت کا نشان بنے ہوئے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تک امت کی رہنمائی فرمائی لیکن جب پوری قوم نے (کئی اور نسلوں نے) ان کی نصیحت کو نہیں سنا اور ہمیشہ ان کی مخالفت کرتی رہی تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی کہ الٰہی یہ لوگ میری بات اور نصیحت کو سننے کے لئے تیار نہیں ہیں اب یہ ایسے گلے سڑے بازو یا جسم کی طرح ہوچکے ہیں جس کو کاٹ کر پھینک دینا ہی بہتر ہے ان کی اصلاح ممکن نہیں ہے اے اللہ ان کو اور ان کے گھروں کو ویران کر دے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کر کے ان کے ماننے والوں اور اہل خانہ (سوائے ان کے بیٹے کے) کو اس کشتی کے ذریعہ بچا لیا جو انہوں نے اللہ کے حکم سے تیار کی تھی بقیہ ساری قوم پر پانی کا اتنا زبردست طوفان مسلط کیا گیا کہ اس میں ہر شخص ڈوب کر ختم ہوگیا صرف اہل سفینہ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی والے بچ گئے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے پیغمبر جو اپنی امت اور ساری انسانیت کے سب سے بڑے مخلص ہوتے ہیں اگر وہ اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر اللہ سے کوئی درخواست کرتے ہیں تو ان کی پکار کو اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتے۔ ان آیات میں کفار مکہ سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ اور ان کے جاں نثاروں کو اتنا نہ ستائیں کہ نبی کریم ﷺ کے دل سے کوئی آہ نکل جائے اور وہ کفار تباہ اور برباد ہو کر رہ جائیں۔
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ ال سلام کا ذکر فرمایا ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اگرچہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے صاحبزادے تھے۔ جب حضرت داؤد نے ایک فیصلہ سنایا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دوسرا فیصلہ کیا اس معقول فیصلے کو سن کر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنا فیصلہ بدل لیا اور اپنے فیصلے پر ضد اور بڑائی کا انداز اختیار نہیں کیا۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ ایک مرتبہ کسی شخص کی بکریاں کسی دوسرے کے کھیت میں گھس آئیں اور انہوں نے بھرے کھیت کو اجاڑکر رکھ دیا۔ کھیت والے نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے دربار میں عدل و انصاف کی فریاد پیش کی۔ حضرت دئاود (علیہ السلام) نے ظاہری صورت حال کو دیکھ کر یہ فیصلہ فرما دیا کہ جس کا کھیت برباد ہوا ہے وہ ان ساری بکریوں کو لے کر ان سے فائدہ اٹھائے۔ یہی فریاد جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کی گئی تو انہوں نے اللہ کے حکم سے نہایت ذہانت کا یہ فیصلہ فرما دیا کہ کھیت والا ساری بکریاں اپنے پاس رکھے۔ ان سے فائدہ اٹھائے۔ پھر بکریوں والے سے کہا کہ وہ اس کا اجڑا ہوا کھیت دوبارہ آباد رکے۔ جب کھیت تیار ہوجائے تو وہ اپنی بکریاں واپس لے جائے اور کھیت اس کے مالک کے حوالے کر دے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضرت داؤد حضرت سلیمان کے والد محترم ہیں۔ وقت کے بادشاہ ، ذہین ترین نبی اور رسول ہیں جب وہ زبور کی آیات تلاوت فرماتے تھے پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ جھومنے لگتے تھے اور اللہ کی تسبیح کرتے تھے۔ اتنی خوبصورت پر تاثیر آواز کے مالک تھے کہ ان کے پڑھنے کو لحن داؤدی کہتے ہیں اللہ نے ان کے لئے لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا تھا جس سے وہ جنگ کی حالت میں استعمال کئے جانے والے لوہے کا لباس تیار کرتے تھے جس کو زرہ کہتے ہیں۔ اللہ نے ان کو فہم و فراست اور علم و حکمت سے بھی نوازا تاکہ اتنے عظیم انسان اور پیغمبر کے سامنے جب ان کے بیٹے کا بہتر فیصلہ آیا تو انہوں نے فوراً ہی اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور کسی طرح اس کو اپنی انا یا ضد کا مسئلہ نہیں بنایا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں اور رسول نہیں ہیں اور اللہ نے ان کو بھی بہت سی وہ عظمتیں عطا فرمائی تھیں جو لائق ذکر ہیں۔ اللہ نے ان کو علم و حکمت، ذہانت اور بات کی تہہ تک پہنچنے کی بڑی زبردست صلاحیتیں عطا کی تھیں ہوا کو اس طرح ان کے تابع کردیا تھا کہ اس کو جاں اور جیسے حکم دیتے ہوا وہی کرتی تھی، چرند، پرند، درند، جنات اور طاقتور انسان ہر وقت ان کے دربار میں حاضر رہتے تھے ان کے ہر حکم کی تعمیل کرتے تھے۔ چونکہ حضرت داؤد عل یہ السلام اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد عدل و انصاف کے نظام کو قائم کرنا تھا اس لئے اس میں اپنی ذاتی انا اور ضد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ درحقیقت کفار مکہ کو شرم دلائی جا رہی ہے کہ یہ دونوں باپ بیٹے وقت کے عظیم پیغمبر اور بہت زیادہ قوت اور طاقت کے مالک تھے مگر وہ ہر سچائی کو ہر وقت قبول کرنے کے لئے تیار رہتے تھے اور کفار مکہ کا یہ حال ہے کہ معمولی معمولی سرداریوں کو لئے بیٹھے ہیں اور غرور وتکبر کے پیکر بنے ہوئے ہیں اور نبی کریم ﷺ جس سچایء اور عدل و انصاف کی تعلیمات کو لے کر آئے ہیں ان سے منہ پھیر رہے ہیں۔
صبر و شکر کے پیکر حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ نے ان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نواز رکھا تھا وہ ہر وقت اللہ کے سامنے شکر گزاری کے جذبے کے ساتھ جھکے رہتے تھے اور جب ان کو ایسی شدیدبیماری اور تکلیف سے واسطہ پڑا کہ ان کی بیوی کے علاوہ ہر شخص ان کے قریب جاتا ہوا گھبراتا تھا۔ فرمایا کہ اس حال میں وہ انتہائی صبر سے کام لیتے تھے۔ ایک مرتبہ جب ان کی بیماری اس درجے کو پہنچ گئی جہاں ان سے وہ برداشت نہ ہو کسی تو انہوں نے اپنے اللہ کو آواز دی۔ الٰہی میری تکلیف اور بیماری حد درجہ بڑھ گئی ہے اور تمام رحم کرنے والوں میں آپ ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی فریاد کو سنا اور ان کو نہ صرف شدید بیماری اور تکلیف سے نجات عطا فرما دی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ اچھی صحت، مال و اہل اور اولاد کی نعمتوں سے ان کو نواز دیا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر و شکر ایک بہترین مثال ہے دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کو جب بھی دل سے پکارا جاتا ہے وہ ایسا مہربان اور کریم ہے کہ وہ ہر شخص کی فریاد کو سنتا ہے اور اس کو ہر طرح کی تکلیفوں سے نجات عطا کردیتا ہے۔
حضرت نوح، حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد حضرت اسماعیل حضرت ادریس، حضرت ذوالکفل ، حضرت ذوالنون، (مچھلی والے) کے متعلق فرمایا کہ یہ سب کے سب انتہائی نیک صالح اور پرہیزگار تھے جنہیں اللہ نے اپنی بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام لئے بغیر ان کو ” ذوالنون “ فرمایا یعنی وہ جو مچھلی کے پیٹ میں بھی زندہ رہے تھے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نینوا اور بابل کے نافرمانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے مبعوث فرمائے گئے تھے۔ وہ پانی قوم کو ہر طرح سمجھاتے تھے مگر وہ راہ ہدایت پر نہ آتے تھے۔ آخر ایک دن ان نافرمانوں سے مایوس ہو کر یہ دعا فرمائی الٰہی یہ قوم سدھرنے والی نہیں ہے اب آپ ان کا فیصلہ فرما دیجیے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) یہ سوچ کر کہ اللہ اپنے نبی کی دعا کو ضرور سنتا ہے اللہ کی طرف سے فیصلے کا انتظار کئے بغیر وہاں سے کسی دوسرے ملک کے لئے بیوی بچوں کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ چونکہ اللہ کے نبی بڑی شان والے ہوتے ہیں اور وہ ہر شخص کے لئے ایک مثال ہوتے ہیں اس لئے ان کی ذرا سی بات پر بھی گرفت ہوجاتی ہے۔ اللہ نے ان کی بیوی اور بچوں کو ان سے کسی طرح جدا کردیا ۔ وہ تنہا ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ وہ کشتی ایک بھنور اور طوفان میں پھنس گئی سب لوگوں کے ڈوبنے کا اندیشہ تھا۔ کسی نے کہا کہ ہم میں ضرور کوئی ایسا غلام ہے جو اپنے اقٓا کی رضا اور مرضی کے بغیر بھاگا ہوا ہے۔ قرعہ اندازی کی گئی ہر مرتبہ حضرت یونس کا نام نکلا حضرت یونس (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ وہ بھاگا ہوا غلام میں ہی ہوں۔ حضرت یونس کو پانی میں پھینکا گیا ایک بہت بڑی مچھلی جو منہ کھولے تیار تھی یہ اس مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے (مچھلی کے پیٹ میں) اس اندھیری کوٹھری میں بھی ان کو زندہ رکھا۔ پھر حضرت یونس (علیہ السلام) کو اندازہ ہوا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ، اس لئے یہ سزا دی گئی۔ انہوں نے اسی وقت اللہ کی بارگاہ میں ندامت و شرمندگی کے ساتھ کہا الٰہی آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے زیادتی ہوگئی ہے۔ اللہ نے ان کو معاف فرما دیا عرصہ تک مچھلی کے پیٹ میں رہے اور صحیح سالم اس مچھلی نے ان کو دریا کے کنارے اگل دیا۔ اللہ نے وہاں بھی ان کی صحت و عافیت اور رزق کا انتظام فرما دیا۔ ادھر جب پوری قوم یونس (علیہ السلام) نے دیکھا کہ حضرت یونس اس شہر سے چلے گئے ہیں اور انہوں نے عذاب الٰہی کے آثار بھی دیکھے تو پوری قوم نے اللہ سے اپنے کفر و شرک سے پناہ مانگی جن کو معاف کردیا گیا ۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ عذاب کے آثار آنے کے بعد اگر کسی قوم کو معاف کیا گیا ہے تو وہ صرف قوم یونس تھی۔ اللہ کے حکم سے حضرت یونس (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں واپس آ گئیا ور ان کے بیوی بچے اور سب کچھ بلکہ اس سے بھی زیادہ ان کو عطا کردیا گیا۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے بڑھاپے کی انتہائی عمر اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود جب اللہ تعالیٰ سے بیٹے کی تمنا کی اور اللہ کا پکارا تو اللہ نے ان کی اہلیہ کو بھی اولاد کے لئے صلاحیت عطا کر کے ان کو ماں بنا دیا اور اس طرح حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسا نیک، پاکباز اور نبی صالح عطا فرمایا۔ ان کو اس نعمت کے عطا کرنے کی وجہ یہ فرمائی گئی کہ وہ ہر ایک کا بھلا چاہتے تھے اور نیکی و پرہیز گاری میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ بتانا یہ ہے کہ اللہ اپنی قدرت کاملہ سے جس طرح اور جب بھی کسیک ام کو کرنا چاہتا ہے تو اس کو اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی اور اللہ اپنے بندوں کی ہر پکار کو سن کر ان کو وہ سب کچھ عطا فرماتا ہے جو ایک بندے کی خواہش ہوتی ہے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ایک نئے انداز سے فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ وہ (مریم) جو پاکیزگی، عفت و عصمت کی پیکر تھیں جو اپنی آبرو کی حفاظت کرنے والی تھیں اللہ نے اپنی قدرت سے ان کے رحم میں روح کو پھونکا اور ساری دنیا کو اپنی قدرت کا یہ کمال دکھا دیا کہ وہ اللہ ایسی قدرت والا ہے کہ جس طرح بغیر ماں باپ کے حضرت آدم اور حضرت حوا کو پیدا فرما دیا۔ ایک سو دس سال کی عمر میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ایک بیٹا عطا فرما دیا اور اسی طرح بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو پیدا فرما دیا۔ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔
ان آیات میں گیارہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ کی نظر میں سارے انسان برابر ہیں وہ ہر ایک کی فریاد سنتا اور اس کی تمنا کو پورا کرتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے ساری دنیا کے لوگوں کو ایک ہی امت اور جماعت بنایا تھا اور وہ ان کی رہبری اور رہنمائی کے لئے اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجتا رہا جو ان کو بھٹکنے سے بچانے کی جدوجہد کرتے تھے۔ فرمایا کہ اب خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی تشریف لا چکے ہیں۔ ساری دنیا کے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے ان کو بھیجا گیا ہے اب آپ کے آنے کے بعد قیامت تو آئے گی لیکن کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ لہٰذا ساری دنیا کے انسان نبی کریم ﷺ کی اطاعت کریں گے تو ان کو اس دنیا کی اور آخرت کی ساری کامیابیاں اور عظمتیں عطا کی جائیں گی۔ دوسری بات یہ ارشاد فرما دی گئی کہ اس اللہ کو جب بھی اور جس جگہ بھی پکارا جاتا ہے تو وہ اللہ فریاد کرنے والے کی فریاد کو سنتا ہے۔ سارے نبیوں نے ہر مشکل کے وقت صرف اللہ ہی کو پکارا۔ اس نے ان کی فریاد کو سنا اور ان کی ہر خواہش کو پورا کیا۔ کیونکہ اللہ کا ہر نبی اور رسول اس بات کو جانتا ہے کہ مشکل کشا صرف اللہ کی ذات ہے۔ وہی ہر ایک کی فریاد سن کر اس کی مشکلات کو دور کرتا ہے۔
Ayahs 21:94–103لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103
لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 94 تا 103
فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ رہے ہیں۔ اب جن بستیوں کے رہنے والوں کو ان کے برے اعمال اور کردار کی وجہ سے (عذاب یا موت سے ) تباہ کیا جا چکا ہے ان کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ کسی عمل کے لئے اس دنیا میں لوٹ کر واپس آئیں اور بہتر عمل کی کوشش کرسکیں۔ قیامت کی علامتیں بتاتے ہوئے فرمایا کہ جب یاجوج ماجوج کی قوم جو سدذوالقرنین کی وجہ سے رکی ہوئی ہے وہ دنیا پر ٹوٹ پڑے گی اور وہ لوگ ایک سیلاب کی طرح ہر بلندی سے پہاڑوں سے آ رہے ہوں گے جیسے وہ اونچائی سے پھسل رہے ہیں وہ لوگوں کا بےدریغ قتل عام کریں گے اور ہر طرف بربادی مچا کر رکھ دیں گے۔ وہ اتنی بڑی طاقت ہوں گے کہ ان کو روکنا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کی بد دعا سے قوم یاجوج وماجوج تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ فرمایا کہ جب تم یہ دیکھو کہ یاجوج ماجوج کا فتنہ عام ہوگیا ہے تو سمجھ لینا کہ اب قیامت بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ قیامت کیا ہے ؟ قیامت ایک ایسا ہیبت ناک دن ہوگا۔ جب کافر اس کی ہولناکیوں کو دیکھیں گے تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ ہر طرف کفار اور مشرکین کے لئے تباہی اور بربادی کا سامان ہوگا۔ اب وہ پچھتائیں گے، چلائیں گے اور کہیں گے کہ ہماری شامت آگئی ہے۔ وہ اس بات پر افسوس کریں گے کہا نہوں نے پوری زندگی اس غفلت میں گذار دی اور اپنے اس انجام کی طرف کبھی دھیان دینے کا موقع ہی نہ ملا اور اس پر شرمندہ ہوں گے کہ انہوں نے اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی ان تعلیمات کا کیوں انکار کیا جو ان کی ہدایت کے لئے وہ پیش کرتے تھے۔ فرمایا جائے گا کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں اور کافر ہستیوں کی عبادت و بندگی کرتے تھے وہ سب کے سب آج جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔ وہ تمہیں جہنم سے کیسے بچا سکتے ہیں جب کہ وہ خود ہی دوزخ میں جلا دیئے جائیں گے۔ اگر وہ معبود ہوتے تو ان کی یہ درگت نہ بنتی۔ فرمایا جائے گا کہ اب ان سب کو اس جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے وہ روئیں گے، چلائیں گے اور اس شور شرابے میں کچھ بھی سن نہ سکیں گے۔ اس کے برخلاف جن لوگوں کے لئے اللہ نے بھلائی کا فیصلہ کردیا ہے وہ ان سے بہت دور ہوں گے۔ وہ آہٹ بھی نہ سنیں گے کہ جہنمیوں پر کیا گذر رہی ہے۔ وہ جنت کی ان نعمتوں اور راحتوں میں گذار رہے ہوں گے جہاں ہر چیز ان کی خواہش اور تمنا کے مطابق ہوگی۔ ہر طرف گھبراہٹ اور ہولناکی کا ڈیرہ ہوگا۔ لیکن یہ اہل جنت کسی طرح سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں گے۔ فرشتے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہیں گے کہ آج تمہارا وہ مبارک دن ہے جس میں تمہیں وہ سب کچھ دے دیا گیا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔
ان آیت کے سلسلے میں چند باتیں۔
1- اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان شخص کی ہر جدوجہد اور اکوشش کو پوری طرح قبول فرمائیں گے اور ان کی کوئی نیکی ضائع نہ کی جائے گی ان کے ایک ایک عمل کو فرشتے لکھ رہے ہیں اللہ اپنے نیک بندوں کی اس طرح قدر فرمائیں گے اور ان کو اتنا کچھ عطا فرمائیں گے جس کی وہ تمنایا آرزو کرسکتے تھے۔
2- قیامت کا دن ایک ہولناک اور ہیبت ناک دن ہوگا۔ جہاں کوئی کسی کو نہ پوچھے گا اور ہر ایک کو اپنی نجات اور اعمال کی فکر دامن گیر ہوگی۔
3- یہ ناممکن ہے کہ اللہ نے جن بستیوں، اس کے رہنے والوں اور بد عمل لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے وہ دوبارہ اس دنیا میں واپس آسکیں گے۔ کیونکہ جب کفار کو اپنا برا انجام سامنے نظر آئے گا وہ کہیں گے الٰہی ! ہم سے بہت بڑی غفلت ہوگئی ہے اگر ہمیں دنیا میں جانے کا ایکا ور موقع دے دیا جائے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اب ہم ہر وہ کام کریں گے جو آپ کا حکم ہوگا۔ لیکن اللہ کی طرف سے اعلان ہوگا۔ کہ عمل کرنے کی مہلت ختم ہوچکی ہے ہے اب صرف فیصلے کا دن ہے کسی کو دوبارہ اس کا موقع نہیں دیا جائے گا موت کے فرشتے نظر آنے سے پہلے پہلے جس نے توبہ کرلی اس کی نجات ہونے کا امکان ہے لیکن جس نے پوری زندگی غفلت میں گذار دی ہو اس کا برا انجام اس کے سامنے ہوگا۔ ۔
Ayahs 21:104–106لغات القرآن آیت نمبر 104 تا 106
نطوی ہم لپیٹ دیں گے۔ طی لپیٹ دینا۔ ال سجل لکھے ہوئے کاغذ کا بنڈل۔ بدانا ہم نے ابتدا کی تھی۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ یرت وارث ہوگا۔ ، مالک ہوگا۔ بلغ پہنچا دینا۔
تشریح : آیت نمبر 104 تا 106
گزشتہ آیات میں قیامت کے ہولناک دن کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ان آیات میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن ہم اس آسمان کو جو دنیا والوں کو بہت بڑا نظر آتا ہے اس طرح لپیٹ کر رکھ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے کاغذوں کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور جس طرح اللہ نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا تھا اسی طرح اس کو دوبارہ تخلیق فرما دیں گے یہ اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اس کی قدرت کے سامنے اس کام کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ فرمایا کہ اللہ کا ایک وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔
ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زبور میں اور اس کے بعد آنے والی کتابوں میں بھی لکھ دیا ہے کہ روئے زمین کے وارث اللہ کے نیک اور صالح بندے ہوں گے اور اللہ کی عبادت اور بندگی کرنے والوں کے لیئے یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔
علما مفسرین نے اس بات پر غور و فکر کیا ہے کہ اس میں خاص طور پر زبور کا ذکر کیوں کیا گیا ہے۔ کیا اس سے مراد صرف زبور ہی ہے اس کے لئے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ زبور سے مراد تمام آسمانی کتابیں ہیں اور ذکر سے مراد قرآن کریم ہے۔ اس کا مطالب یہ ہوا کہ اللہ نے اپنے نیک بندوں سے ہر زمانہ میں اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ جب بھی وہ نیکی اور پرہیز گاری کا کردار پیش کریں گے تو ان کو زمین کا وارث بنا دیا جائے گا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ زمین سے مراد جنت کی زمین ہے۔ بعض کا خیال یہ ہے کہ کفار کی سر زمین ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ پیشین گوئی فرما دی تھی کہ بہت جلد اہل ایمان کو کفار کی سر زمین پر غلبہ عطا کیا جائے گا۔ بہرحال اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جب بھی اہل ایمان اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے ان کو ہر جگہ سربلندی نصیب ہوگی اور یہی چیز ان کو جنت کی راحتوں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی ہوگی۔