43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 43:41

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو ؟ یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہو ؟ اور جو صریح گمراہی میں ہو اسے (راہ پر لاسکتے ہو) ؟

تفسیر 40۔ ، افانت تسمع الصم اوتھدی العمی ومن کان فی ضلال مبین، یعنی ان کا فروں کو جن پر عذا ب کا حکم ثا بت ہوچکا کہ وہ ایمان نہ لائیں گے ۔
Ayah 43:42

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

41، فاما نذبھن بک، بایں طور کہ ہم آپ (علیہ السلام) کو موت دے دیں۔ ان کو عذاب دینے سے پہلے ۔ ، فانا منھم منتقمون ، آپ (علیہ السلام) کے بعد قتل کے ذریعے۔
Ayahs 43:43–44

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

یا (تمہاری زندگی ہی میں) تمہیں وہ (عذاب) دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

42، اونرینک ، آپ (علیہ السلام) کی زندگی میں ، الذی وعدناھم، فانا علیھم مقتدرون، قادر ہیں ۔ جب ہم چاہیں ان کو عذاب دیں اور اس سے مشرکین مکہ مراد ہیں کہ ان سے غزوہ بدر کے دن انتقام لیا اور یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے امت محمد یہ ﷺ کے اہل اسلام مراد ہیں اور تحقیق نبی کریم ﷺ کے بعد آپ (علیہ السلام) کی امت میں بڑی سخت لڑائی ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) کا اکرام کیا کہ ان کو دنیا سے لے گئے اور ان کو امت کی صرف وہی چیزیں دکھائیں جوان کی آنکھوں کو ٹھنڈک دیں اور لڑائیوں کو ان کے بعد کے لیے باقی رکھا اور روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو وہ مصائب دکھائے گئے جو آپ (علیہ السلام) کے بعد آپ (علیہ السلام) کی امت کو پہنچے تھے تو اس لیے آپ (علیہ السلام) کو کشادگی سے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کی روح قبض کرلی۔
Ayah 43:45

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو ! ) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

44، وانہ ، یعنی قرآن ، لذکرلک، یعنی اعزاز ہے آپ کے لیے ۔ ولقوم مک ، قریش میں سے۔ اس کی نظیر ، لقد انزلناالیکم کتابافیہ ذکر کم ، یعنی تمہاراعزاز ہے۔ ، وسوف تسئلون، اس کے حق اور اس کے شکر ادا کرنے کے بارے میں۔ ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے جب پوچھا جاتا کہ آپ (علیہ السلام) کے بعد یہ امر کس کے لیے ہوگا ؟ تو آپ (علیہ السلام) کچھ جواب ارشاد نہ فرماتے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر اس کے بعد جب پوچھاجاتا کس کے لیے یہ ہوگا ؟ تو آپ (علیہ السلام) فرماتے قریش کے لیے۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ امرہمیشہ قریش میں باقی رہے گا جب تک دوآدمی بھی باقی ہوں۔ حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ امرقریش میں ہوگا ۔ ان سے اس میں جو شخص دشمنی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اس کے منہ کے بل گرادیں گے جب تک وہ قریش دین کو قائم رکھیں گے۔ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ قوم سے مراد عرب ہیں۔ پس قرآن کے لیے اعزاز ہے کہ ان کی لغت میں نازل ہوا ہے۔ پھر یہ اعزازعرب میں سے خاص لوگوں کے ساتھ خاص ہوتا گیا حتی کہ اس اعزاز کا اکثر حصہ قریش اور بنی ہاشم کے لیے ہوگیا اور کہا گیا ہے کہ یہ اعزاز آپ (علیہ السلام) کے لیے اس وجہ سے ہے کہ آپ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے حکمت دی اور آپ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایمان لانے والوں کے لیے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے ہدایت دی اور عنقریب نم سوال کیے جاؤ گے قرآن اور جو تمہیں اس کے حق کے ساتھ قائم ہونا لازم تھا اس کے بارے میں۔
Ayahs 43:46–47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو کیا ہم نے (خدائے) رحمن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کہ عبادت کی جائے

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں

45، واسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا اجعلنا من دون الرحمنالھۃ یعبدون، ان مسئو لین کی تعیین میں اختلاف ہوا ہے۔ عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو معراج کرایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد میں سے جن کو رسول بنا کر بھیجا ان رسولوں کو اٹھا یا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے اذان دی ، پھر اقامت کہی اور کہا اے محمد ! (ﷺ) آگے آئیں اور ان کو نماز پڑحائیں۔ پھر جب آپ (علیہ السلام) نماز سے فارغ ہوئے تو آپ (علیہ السلام) کو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا، سل یامحمد من ارسلناقبلک من رسلنا، آیت پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، میں نہیں پوچھتا تحقیق میں نے اکتفاء کرلیا۔ اور یہی زہری ، سعید بن جبیر اور ابن زید رحمہم اللہ کا قول ہے ۔ ان حضرات نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کے لیے رسولوں کو جمع کیا جس رات آپ (علیہ السلام) کو معراج کرایا گیا اور آپ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ان سے پوچھیں ۔ پس آپ (علیہ السلام) نے شک نہیں کیا اور کچھ نہیں پوچھا اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ آپ (علیہ السلام) اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں سے پوچھیں جن کی طرف میں نے رسولوں کو بھیجا کہ نہیں آئے ان کے پاس رسول مگر توحید لے کر ؟ اور یہی ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ تمام روایات میں اور مجاہد (رح) ، قتادہ، ضحاک ، سدی حسن اور مقاتل رحمہم اللہ کا قول ہے ۔ اس پر عبد اللہ اور ابی رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی قرأت دلالت کرتی ہے۔ ، واسئل الذین ارسلنا الیھم قبلک رسلنا، اور سوال کا حکم دینے کا معنی قریش کے مشرکین کو تقریرکرنا ہے کہ نہ کوئی رسول اور نہ کوئی کتاب ایسی آئی ہے جو اللہ عزوجل کے غیر کی عبادت کا حکمے۔
Ayah 43:48

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

جب ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے

47، فلما جاء ھم بایاتنا اذا ھم منھا یضحکون، استہزاء کرتے ہوئے۔
Ayah 43:49

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں

48، وما نریھم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا، اپنی قرین و ساتھی سے جو اس سے پہلے تھی۔ ، واخذ ناھم بالعذاب، قحط، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون اور مٹادینا۔ پس یہ تمام موسیٰ (علیہ السلام) کی دلیلیں اور ان کے لیے عذاب تھے۔ پس ان میں سے ہر ایک اس سے بڑی ہے جو اس سے پہلے تھی۔ ، لعلھم یرجعون ، اپنے کفر سے۔
Ayahs 43:50–51

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اے جادوگر ! اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک ہم ہدایت یاب ہوں گے

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

سو جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے

49، وقالوا، موسیٰ (علیہ السلام) کو جب انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کیا۔ ، یایھا الساحر، اے عالم کامل ماہر اور انہوں نے یہ ان کی تعظیم کے لیے کہا۔ اس لیے کہ جادوان کے نزدیک بڑاعظمت والا علم اور قابل تعریف صفت تھا اور کہا گیا ہے کہ اس معنی یہ ہے کہ اے وہ آدمی جو ہم پر اپنے جادو کے ذریعے غالب آگیا اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خطاب اس وجہ سے کیا کہ اس سے پہلے ان کے سامنے آپ (علیہ السلام) کو جادوگرکانام دیا گیا تھا۔ ، ادع لنا ربک بما عھد عندک ، یعنی جو آپ (علیہ السلام) نے ہمیں خبردی کہ اس نے آپ (علیہ السلام) سے عہد کیا ہے کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو وہ ہم سے عذاب کو دور کردے گا۔ پس آپ (علیہ السلام) اس سے سوال کریں کہ وہ ہم سے عذاب کو دور کردیں۔ ، اننا لمھتدون، مؤمن ہیں ۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) کا فرمان ، فلما کشفنا عنھم العذاب اذا ینکثون، وہ اپنا عہد توڑتے ہیں اور اپنے کفر پر ڈٹے رہتے ہیں۔
Ayah 43:52

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں ؟ ) کیا تم نہیں دیکھتے

تفسیر 51۔ ، ونادی فرعون فی قومہ قال باقوم الیس لی ملک مصر وھذہ الانھار، نیل کی نہریں۔ تجری من تحتی ، میرے محلوں کے نیچے سے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ نہریں میرے سامنے میرے باغوں میں چلتی ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ میرے حکم کے ساتھ۔ ، افلا تبصرون، میری عظمت اور میری بادشاہت۔
Ayah 43:53

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

بیشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں

52، ام انا خیر، بلکہ میں بہترہوں۔ ، ام، بل کے معنی میں ہے اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے قول پر حرف عطف نہیں ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ، ام، پر وقف ہے اور اس میں اضمار ہے۔ اس کی اصل عبارت، افلاتبصرون ام تبصرون، ہے ۔ پھر ابتداء کی اور کہا، انا خیرمن ھذا الذی ھو مھین، کمزور، حقیر یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔ ، ولا یکادیبین ، اپنی زبان کی لکنت کی وجہ سے فصیح کلام نہیں کرسکتا۔
Ayah 43:54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اتارے گئے ؟ یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے

53، فلولاالقی علیہ، اگر وہ سچا ہو۔ ، اسورۃ من ذھب، حفص اور یعقوب رحمہما اللہ نے ، اسورۃ، مسوار کی جمع پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے، اس اورۃ، پڑھا ہے، اسورۃ، کی جمع اور یہ جمع الجمع ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جب وہ لوگ کسی کو سردار بناتے تھے تو اس کو کنگن پہناتے تھے اور گردن میں سونے کے ہار ڈالتے تھے یہ اس کی سرداری کی دلیل ہوتی تھی تو فرعون نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) کے رب نے ان پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے۔ اگر وہ سردار ہیں اور ہم پر ان کی اطاعت واجب ہے۔ ، اوجاء معہ الملائکۃ مقترنین، لگاتار ایک دوسرے کے پیچھے جو اس کی سچائی کی گواہی دیتے اور ان کی مدد کرتے ۔
Ayah 43:55

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی اور انہوں نے اس کی بات مان لی بیشک وہ نافرمان لوگ تھے

54، فاستخف قومہ، یعنی فرعون نے اپنی قوم قبط کو ہلا سمجھا یعنی ان کو بڑاجاہل پایا اور کہا گیا ہے کہ ان کو جہالت پر مجبور کردیا۔ کہاجاتا ہے، استخفہ عن رابہ، جب کوئی کسی کو جہالت پر مجبورکردے اور درستگی سے ہٹادے۔ ، فاطاعوہ، موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب پر۔ ، انھم کانواقوما فاسقین،
Ayahs 43:56–57

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور سب کو ڈبو کر چھوڑا

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنادیا

(55۔ 56) ۔۔۔۔۔۔۔ ، فلما اسفونا، انہوں نے ہمیں غصہ دلایا۔ ، انتقمنا منھم فاغرقنا ھم اجمعین، فجعلنا ھم سلفا، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے، سلفا، سین اور لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں یہ سلیف کی جمع سلف لام کے پیش کے ساتھ سیلف سے یعنی جو آگے چلا گیا اور دیگر حضرات نے سین اور لام کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے سالف کی جمع جیسے حارس اور حرس ، خادم اور خدم، راصد اور رصد۔ اور یہ دونوں امتوں میں گزرے ہوئے لوگ جو آگے چلے گئے ۔ کہا جاتا ہے سلف یسلف جب وہ گزرجائے اور السلف جو آباء میں سے مقدم ہوچکے ، پس ہم نے ان کو بنادیا آگے جانے والے تاکہ ان کی وجہ سے دوسرے لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ، ومثلالل خرین، عبرت اور نصیحت ان کے لیے جوان کے بعد باقی رہیں اور کہا گیا ہے کہ اس امت کے کفار کے لیے جہنم کی طرف سلف اور ان لوگوں کیلئے مثال جوان کے بعد آئیں گے۔
Ayah 43:58

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چلا اٹھے

57، ولما ضرب ابن مریم مثلا، ابن عباس ؓ اور اکثر مسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عبد اللہ بن زبعری کے نبی کریم ﷺ کے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں مجادلہ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا قول انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم نازل ہوا اور تحقیق ہم نے اس کو سورة انبیاء (علیہم السلام) میں ذکر کیا ہے۔ ، اذا قوم منہ یصدون، اہل مدینہ اور اہل شام اور کسائی رحمہم اللہ نے، یصدون، صاد کے پیش کے ساتھ یعنی وہ اعراض کرتے ہیں۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ، یصدون عنک صدودا، ہے اور دیگر حضرات نے صاد کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کے معنی میں ان کا اختلاف ہے۔ کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دولغتیں ہیں یعرشون اور یعرشون اور شد علیہ یشد اوریشد اور نم بالحدیث اور ینم کی طرح اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے وہ دھاڑتے ہیں اور سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ وہ چیختے ہیں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ بلند آواز کرتے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ واو یلا کرتے ہیں۔ ، ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون، تو وہ کہنے لگے کہ محمد ﷺ کا یہی ارادہ ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں اور اس کو معبود بنالیں جس طرح نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کی۔
Ayah 43:59

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ عیسیٰ میرے سامنے انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو

تفسیر 58۔ ، وقالواء الھتنا خیرام ھو، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ، ام ھو، سے ان کی مراد محمد ﷺ تھے کہ ہم اس کی عبادت کریں اور اس کی اطاعت کریں اور ہم ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں گے اور سدی (رح) اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ ام ھو سے عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں وہ کہنے لگے کہ محمد ﷺ گمان کرتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ جس کی عبادت کی گئی ہے۔ وہ جہنم میں ہوں گے پس ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود عیسیٰ اور عیزیز (علیہما السلام) اور فرشتوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ماضربوہ، یعنی اس مثال کو، الا جدلا، باطل جھگڑا اور تحقیق وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول ، وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، سے مراد ان کے بت ہیں۔ ، بل ھم قوم خصمون ، حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی قوم اس ہدایت کے بعد جس پر وہ ہوں گے گمراہ نہیں ہوتی مگر ان کو جھگڑادے دیاجاتا ہے۔ پھر پڑھا، ماضربوہ لک الا جدلابل ھم قوم خصمون،
Ayah 43:60

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو (اپنی قدرت کا) نمونہ بنادیا

59، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکرکر تے ہوئے فرمایا، ان ھو، نہیں ہے وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، الاعبد انعمنا علیہ ، منبوت کے ساتھ۔ ، وجعلناہ مثلا، آیت اور عبرت ، لنبی اسرائیل ، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پہچانیں کہ جو چاہے کرتا ہے کہ ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔
Ayah 43:61

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے

60، ولو نشاء لجعلنا منکم ملائکۃ، یعنی اور اگر ہم چاہتے تو ہم تمہیں ہلاک کردیتے اور تمہارے بدلہ فرشتے بناتے۔ ، فی الارض یخلفون، جو تمہارے خلیفہ ہوتے، زمین کو آباد کرتے اور میری عبادت کرتے اور میری ہی اطاعت کرتے اور کہا گیا ہے کہ وہ ایک دو وسرے کے نائب ہوتے۔
Ayah 43:62

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور وہ قیامت کی نشانی ہیں تو (کہہ دو کہ لوگو ! ) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو یہی سیدھا راستہ ہے

61، وانہ، یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، لعلم للساعۃ، یعنی ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے جس کے ذریعے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہوگا اور ابن عباس ؓ ، ابوہریرہ ؓ اور قتادہ (رح) نے، انہ لعلم للساعۃ، لام اور عین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی علامت۔ اور ہم تک نبی کریم ﷺ سے روایت پہنچی ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ قریب ہے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے، عادل حاکم بن کر صلیب کو توڑدیں گے اور خنز یرکوقتل کریں گے اور جزیہ مقرر کریں گے اور ان کے زمانہ میں اسلام کے سواتمام ادیان ہلاک ہوجائیں گے اور روایت کیا گیا ہے کہ ارض مقدس کی ایک وادی پر اتریں گے اور ان پر دو چادریں ہوں گی اور ان کے سرکے بالوں پر تیل لگا ہوگا اور ان کے ہاتھ میں نیز ہ ہوگا جس کے ذریعے دجال کو قتل کریں گے۔ پس وہ بیت المقدس تشریف لائیں گے اور لوگ عصر کی نماز میں ہوں گے ۔ پس امام پیچھے ہٹنے لگے گا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو آگے کردیں اور اس کے پیچھے محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق نماز پڑھیں گے۔ پھر خنزیروں کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور عیسائیوں کے گرجوں کو توڑیں گے اور نصاری کو قتل کریں گے ۔ سوائے ان کے جو ان پر ایمان لے آئے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس وقت کیسے ہوگے جب تم میں ابن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے اور تمہارامام تم ہی میں سے ہوگا ؟ اور حسن (رح) اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ، وانہ، یعنی بیشک قرآن، لعلم للساعۃ، قیامت کا علم ہے جو تمہیں قیامت کے قائم ہونے کی تعلیم دے رہا ہے اور تمہیں اس کے احوال اور ہولنا کیوں کی خبردے رہا ہے۔ ، فلاتمترن بھا، پس تم اس میں شک نہ کرو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کی تکذیب نہ کرو۔ ، واتبعون، تموحیدپر، ھذا، جس پر میں ہوں۔ ، صراط مستقیم،
Ayah 43:63

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور (کہیں) شیطان تم کو (اس سے) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے

تفسیر 62۔ ، ولا یصدنکم، نہ پھیردے تم کو، الشیطان، اللہ کے دین سے۔ ، انہ لکم عدومبین،
Ayahs 43:64–66

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے

63، ولما جاء عیسیٰ بالبینات قال قدجئتکم بالحکمۃ، نبوت کے ساتھ۔ ، ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ، توریت کے احکام میں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ان فرقوں کا اختلاف جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ پر کئی گروہ بن گئے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) انجیل میں لائے وہ اس کا بعض ہے جس میں ان کا اختلاف ہوا اور انجیل کے علاوہ میں ان کے لیے وہ کچھ بیان کیا گیا جس کی ان کو حاجت تھی۔ ، فاتقوا اللہ واطیعون،
Ayah 43:67

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو

66، ھل ینظرون، نہیں وہ انتظار کرتے ۔ ، الا الساعۃ، یعنی وہ ان کے پاس آئے گی یقینا پس گویا کہ وہ اس کا انتظار کررہے ہیں۔ ، ان تاتیھم بغتہ، اچانک، وھم لایشعرون،
Ayah 43:68

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار

تفسیر 67۔ ، الاخلائ، دنیا میں معصیت پر، یومئذ، قیامت کے دن۔ ، بعضھم لبعض عدوالا المتقین، مگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے باہم محبت کرنے والے اللہ تعالیٰ کی طاعت پر ابو اسحاق (رح) سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ دومؤمن دوست اور دو کافر دوست ۔ پس ان مؤ منوں میں سے ایک گیا تو اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک فلاں مجھے تیری اطاعت اور تیرے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا تھا اور خیر کا حکم کرتا اور مجھے شر سے روکتا تھا اور مجھے خبردیتا تھا کہ میں تجھ سے ملوں گا۔ اے میرے رب ! تو اس کو میرے بعد گمراہ نہ کرنا اور اس کو بھی ویسے ہدایت دے جیسے تو نے مجھے ہدایت دی اور اس کا ایسے اعزاز کرنا جیسے تونے میرا اعزازکیا ۔ پس جب اس کامؤمن دوست مرگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جمع کردیا۔ پھر کہا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی تعریف کرے، پس وہ کہے گا اچھا بھائی ہے اور اچھا دوست اور اچھا ساتھی ہے۔ پھر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ دو کافروں میں سے ایک مرجائے گا توک ہے گا اے میرے رب ! بیشک فلاں مجھے تیری اطاعت اور تیرے رسول کی اطاعت سے روکتا تھا اور مجھے شرکا حکم دیتا اور مجھے خیر سے روکتا تھا اور مجھے خبردیتا تھا کہ میری تجھ سے ملاقات نہ ہوگی ۔ پس وہ کہے گا برابھائی اور برادوست اور برا ساتھی ہے۔
Ayah 43:69

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

(کہ باہم دوست ہی رہیں گے) میرے بندو ! آج تمہیں نہ تو کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہو گے

68، یاعباد، یعنی پس ان کو کہاجائے گا اے میرے بندو ! خوف علیکم الیوم ولاانتم تحزنون، معتمربن سلیمان نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ جب لوگ اٹھائے جائیں گے تو کوئی شخص ایسانہ ہوگا جس کو گھبراہٹ نہ ہو، پھر ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا۔ ، یاعباد لاخوف علیکم الیوم ولا انتم تحزنون، پس تمام لوگ اس کی امید کریں گے ۔ پس اس کے پیچھے چلیں گے۔
Ayah 43:70

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرماں بردار ہوگئے

69، الذین امنو ابایاتنا وکانوامسلمین، پس غیر مسلم لوگ اس سے ناامید ہوجائیں گے۔
Ayah 43:71

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (و احترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ

70، پھر ان سے کہاجائے گا، ادخلوا الجنۃ انتم وازواجکم تحبرون، خوش ہوتے ہوئے۔
Ayahs 43:72–73

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

ان پر سونے کی پرچوں اور پیالیوں کا دور چلے گا اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دئیے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے

71، یطاف علیھم بصحاف، صحفۃ کی جمع ہے اور وہ وسیع پیالہ کو کہتے ہیں۔ ، من ذھب واکواب ، کو ب کی جمع ہے اور وہ گول برتن جس کے کڑے نہ ہوں ۔ ، وفیھا، یعنی جنت میں ۔ ، ماتشتھیہ الانفس، اہل مدینہ اور اہل شام اور حفص رحمہم اللہ نے، تشتھیہ الانفس، پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے اور دیگر حضرات نے ھاء کے حذف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، وتلذالاعین وانتم فیھا خالدون، عبدالرحمن بن سابط (رح) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا جنت میں گھوڑ ہوں گے ؟ کیونکہ مجھے گھوڑے پسند ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تجھے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کردیں گے تو اگر تو یہ چاہے گا کہ تو سبزیاقوت کے گھوڑے پر سوار ہوکر اور وہ تجھے اڑاکرجس جنت میں توچا ہے لے جائے تو ایسا ہوجائے گا اور ایک بدونے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا جنت میں اونٹ ہوں گے ؟ کیونکہ میں اونٹوں کو پسند کرتاہوں تو آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا اے بدو ! اگر تجھے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کردیں تو تو وہاں وہ کچھ پائے گاجوتیرانفس چاہے گا اور تیری آنکھ لذت لے گی۔
Ayahs 43:74–77

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

(اور کفار) گنہگار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گے

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہی ّ (اپنے آپ) پر ظلم کرتے تھے

73، لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ ومنھا تاکلون، اور حدیث میں ہے کہ کوئی آدمی جنت کا پھل نہیں توڑے گا مگر اس کی جگہ اس کی مثل اور اگ آئے گا۔
Ayah 43:78

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

اور پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے

77 ، ونادوایامالک، جہنم کے داروغہ کو پکاریں گے۔ ، لیقض علینا ربک، چاہیے کہ تیرارب ہیں ماردے توہم راحت پائیں تو مالک ان کو ایک ہزار سال کے بعد جواب دے گا۔ ، قال انکم ماکثون، عذاب میں رہوگے۔ عبد اللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ بیشک جہنمی لوگ مالک کو پکاریں گے۔ پس وہ ان کو چالیس سال جواب نہ دے گا، پھر ان کو جواب دے گا کہ تم ٹھہرنے والے ہو۔ فرمایا کہ قسم ! ان کے مالک کو اور مالک کے رب کو پکار ناذلیل ہوگیا۔ پھر وہ اپنے رب کو پکاریں گے اور کہیں گے، ربنا غلبت علینا شقوتنا وکنا قوماضالین ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فان ظالمون، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے دنیا کی مقدار دومرتبہ خاموش رہیں گے۔ پھر ان کو جواب دیں گے تم اس میں دفع ہوجاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو، فرمایا اللہ کی قسم ! وہ قوم اس کے بعد ایک کلمہ بھی نہ کہہ سکے گی اور گی اور صرف جہنم کی آگ میں زفیرو شہیق ہی ہوگی۔ ان کی آوازیں چھوٹے گدھے کی آوازوں کے مشابہ ہوں گی اس کی ابتدائی آواززفیر اور آخری شہیق ہے۔
Ayah 43:79

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

ہم تمہارے پاس حق لے کر پہنچے لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے

78، لقد جئناکم بالحق، فرماتے ہیں کہ اے قریش کی جماعت ! ہم نے تمہاری طرف اپنے رسول کو حق کے ساتھ بھیجا۔ ، ولکن اکثرکم للحق کارھون،
Ayah 43:80

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں

79، ام ابرموا، انہوں نے پختہ کرلیا۔ ، امرا، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکر کرنے میں ، فانا مبرمون، ان کو جزادینے میں امرکوپختہ کرنے والے ہیں ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں اگر وہ شر کرتے ہیں تو میں اس کی مثل ان کے ساتھ کروں گا۔